امریکی 'نمک خواروں'کے ایک مخصوص ٹولے کے بس میں نہیں کہ کس طرح فوری طور پر دو پاکستانیوں کے قاتل ریمنڈ ڈیوس کو امریکا کے حوالے کردیا جائے۔بےغیرتی کی موٹی کھال اوڑھے ہوئے یہ طبقہ کس طور امریکا کو ناراض کرنےکے لیے تیار نہیں او رپاکستانی قوم اور حکومت سے یہ توقع رکھتا ہے کہ چاہے قانون جو مرضی کہے، جرم کتنا سنگین کیوں نہ ہو اور عدالتیں خواہ جو مرضی کہیں پاکستان کو ہر حال میں امریکی قاتل کو فوری امریکا کے حوالے کردینا چاہیے۔ ہمیں ڈراوا دیا جارہا ہے کہ اگر ہم نے ایسانہ کیا تو امریکا ہماری امدادبند کردے گا او رہمارا جینا دو بھر ہوجائے گا۔ابھی تک خود امریکا ریمنڈڈیوس کے معاملے میں کئی پینترے بدل چکا ہے مگر امریکا کے یہ نمک خوار پاکستانی اس بات پربضد ہیں کہ امریکی قاتل کو سفارتی استثنیٰ حاصل ہے!
یہاں سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اُصول، انصاف اورقومی حرمت کی خاطر اپنی وزارت کوقربان کرتے ہوئے اس معاملہ پر واشگاف انداز میں امریکا کو بتا دیا ہے کہ اُن کی خواہش پر ریمنڈ ڈیوس کونہیں چھوڑا جاسکتا۔ یہاں امریکا نے خود بار ہا کہا کہ ڈیوس لاہور میں امریکی قونصلیٹ کا ممبر ہے۔ امریکہ کے اس اعتراف /موقف کی بنیاد پر اگر وہ سفارتکار ثابت بھی ہوتا ہے تو اس کے باوجود اس کو دو افراد کے قتل کے مقدمے میں استثنیٰ نہیں دیا جاسکتا۔ یہاں یہ بھی واضح ہے کہ سفارتکاری کی تاریخ میں اور ویانا کنونشن کے بعد یہ پہلا واقعہ ہے جہاں ایک'سفارتکار' (اگر ریمنڈ ڈیوس کو ایک لمحہ کے لیے سفارتکار مان بھی لیا جائے) نے اس انداز میں دو افراد کو قتل کیا کہ جس کی تاریخ میں کوئی نظیر نہیں ملتی۔ یہاں یہ بھی ثابت ہوچکا کہ پنجاب پولیس کو تفتیش کے دوران ریمنڈڈیوس نے اپنے آپ کو لاہور قونصلیٹ میں تعینات بتایا۔ یہاں یہ بھی سامنے آچکا کہ ڈیوس نے اپنے بچاؤ کےلیے نہیں بلکہ طیش میں انتہائی بےدردی سے دو پاکستانیوں کے خون سے ہاتھ رنگا جبکہ اس کی مدد کے لیے آنے والی گاڑی نے ایک اور نوجوان کو روند ڈالا۔ اس سب کے باوجود امریکی 'نمک خواروں' کا یہ حال ہے کہ امریکا کی وکالت کرتے نہیں تھکتے اور قومی غیرت کا مظاہرہ کرنے والوں کو جذباتی اور کم عقل سمجھتے ہیں!!
ویانا کنونشن 1963ء کے مطابق قونصلیٹ کے کسی بھی عہدیدار، چاہے وہ اعلیٰ ترین سفارتکار ہو، کو قتل جیسے سنگین جرم میں سفارتی استثنیٰ نہیں دیا جاسکتا مگر امریکا کے نمک خواروں کی یہ حالت ہے کہ وہ کسی منطق کو مانتے ہیں اور نہ کوئی دلیل سننے کے لیے تیار ہیں۔ وہ تو ہر صورت میں قاتل امریکی کو امریکا کے حوالے کرنے کا راگ اَلاپ رہے ہیں۔ وزارتِ خارجہ کے ریکارڈ میں ڈیوس ایک سفارتکار یا ایمبیسی کے اہلکار کے طو رپر رجسٹرڈنہ تھا اور نہ ہی اس کو وزارت خارجہ کا ڈپلومیٹک شناختی کارڈ دیا گیا۔ اس دہرے قتل کے بعد اب یہ وزارت سخت دباؤ کا شکار ہے کہ ڈیوس کو ایمبیسی کا سفارتکار دکھا کر اس کو ایک ایسے سنگین جرم میں استثنیٰ دیا جائے جس کی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی اور جس کی وجہ سے تین جانیں ضائع ہوئیں۔
امریکی ویزے، ڈالروں کے بدلے اور کچھ اپنے دوسرے شوق کی خاطر ملک و قوم کی عزت کا سودا کرنے والے تو کچھ سمجھنے سے قاصر ہیں، اس لیے میں یہاں عام قارئین کی خدمت میں کچھ حقائق پیش کررہا ہوں:
1. ریمنڈ کے اپنے بیان کے مطابق وہ لاہور قونصلیٹ میں تعینات تھا۔ تفتیشی حکام نے اس سے بارہا اس بات کی تصدیق کی۔ منظرعام پر آنے والی ایک ویڈیو میں تو تفتیش کا عمل شرو ع ہونے سے پہلے جونیئر پولیس آفیسرز نے اُس سے یہاں تک پوچھا کہ ''آیا تم امریکی ایمبیسی میں تعینات ہو؟'' تو ریمنڈ نے واضح طور پر کہا: نہیں، میں امریکی قونصلیٹ لاہور میں تعینات ہوں۔
2. لاہور قونصلیٹ کے حکام نے باقاعدہ جاری کی گئی ریلیز میں عین وقوعہ کے دن ریمنڈ ڈیوس کو قونصلیٹ کا ملازم قرار دیا۔
3. قونصلیٹ میں تعینات کسی بھی عہدیدار کے لیےبھی Vienna Convention on Diplomatic Relations 1961 لاگو نہیں ہوتا۔ جبکہ قونصلیٹ میں کام کرنے والے اہلکاروں کے لیے Vienna Convention on Consulor Relation 1963لاگو ہوتا ہے جس کے آرٹیکل (1)41 کے تحت قونصلیٹ کے کسی بھی رکن کو قتل جیسے سنگین جرائم پر استثنیٰ حاصل نہیں ہے۔
4. یہ صورتِ حال واضح ہونے کے بعد واقعے کے تیسرے روز امریکی سفارت خانے نے باقاعدہ پریس ریلیز کے ذریعہ یہ 'وضاحت' کی کہ ریمنڈ 'دراصل' اسلام آباد کی امریکی ایمبیسی میں تعینات تھا۔ صاف ظاہر ہے کہ یہ بیان اس لیے جاری کیا گیا کہ کس طریقے سے ریمنڈ کے کیس پر1961ء کا سفارتی تعلقات کا ویانا کنونشن نافذ ہو۔ دوسری طرف محترم شاہ محمود قریشی نے تصدیق کردی کہ واقعے کے اگلے روز 28/جنوری 2011ء کو امریکی سفارت خانے نے حکومت ِپاکستان کو باقاعدہ خط میں ریمنڈ کا نام سفارت خانے کے ملازمین میں شامل کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کرنے کا کہا جس سے جھوٹ کا بھانڈا پھوٹ گیا ۔ کیونکہ25 جنوری کو جاری کی جانے والی فہرست میں ریمنڈ کا نام شامل نہیں تھا۔
5. ریمنڈ کے بیان، امریکی اہلکاروں کی تصدیق کہ ریمنڈ قونصلیٹ کارکن ہے او رجناب شاہ محمود قریشی کے انکشافات نے یہ واضح کردیا کہ ریمنڈ پر Vienna Convention 1963لاگو ہوگا او راسے اسی کنونشن کے آرٹیکل (1)41 کے تحت استثنیٰ حاصل نہیں ہے،کیونکہ اس کا جرم سنگین نوعیت کا ہے۔
6. اگر یہ تسلیم بھی کر لیا جائے کہ Vienna Convention on Diplomatic Relation 1961کو ریمنڈ کو مکمل سفارتی استثنیٰ کے حوالے سے نافذ کیا جائے تاکہ امریکا خوش ہوجائے تواس معاملہ میں اس کنونشن کا آرٹیکل (1)10 اہم ہے۔ اس آرٹیکل کی روشنی میں سفارتکار بھیجنے والے ملک کا یہ استحقاق ہے کہ وہ اپنے کسی اہلکار کے لیے خصوصی استثنیٰ کا مطالبہ کرے مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ صرف اور صرف میزبان ملک کی وزارتِ خارجہ ہی اسStatusکو کنفرم کرسکتی ہے اور سب سے اہم یہ کہ 1961ء کے سفارتی تعلقات ویانا کے کنونشن کے تحت استثنیٰ کا دعویٰ صرف اس صورت میں کیا جاسکتا ہے، جب اس کنونشن کے آرٹیکل (1)10 کے تحت ایسے سفارت کار یااہلکار کو میزبان ملک کی وزارتِ خارجہ باقاعدہnotify کردے۔ امریکا میں تو باقاعدہ دفتر خارجہ سفارتی کارڈ جاری کرتا ہے جن پر اگر استثنیٰ ہو تو اس حوالے سے تصدیق بھی درج ہوتی ہے۔ اس سلسلے میں امریکی دفتر خارجہ کا ستمبر 2010ء کا جاری کردہ کتابچہ دیکھا جاسکتا ہے جس میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو واضح ہدایت دی گئی ہے کہ جن سفارتکاروں کے پاس یہ کارڈ نہ ہو یا کارڈ کے اوپر استثنیٰ کے حوالے سے واضح ہدایات درج نہ ہوں، اُنہیں کسی بھی صورت کسی بھی جرم کے حوالے سے استثنیٰ نہ دیا جائے بلکہ یہاں تک درج ہے کہ ایسا کارڈ موجود ہونے اور اس پر استثنیٰ کے واضح اندراج کے باوجود یہ ضروری ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے متعلقہ اہلکار دفتر خارجہ کو فون کرکے باقاعدہ تصدیق کردیں گے غرض ویانا کنونشن کے تحت حاصل استثنیٰ میزبان ملک کی وزارت خارجہ کو Notify کرنےسے منسلک ہے۔
7. 1961 کے اسی ویانا کنونشن کے استثنیٰ کے لیے اہلیت کی شرائط بھی موجود ہیں۔ واقعے کے تیسرے ہی دن امریکی دفتر خارجہ نے سرکاری طور پر کہا کہ امریکی قاتل کا نام 'ریمنڈ ڈیوس' نہیں ہے۔ آج کے دن تک اس سرکاری بیان کی تردید نہیں کی گئی۔ قریشی صاحب تصدیق کرچکے ہیں کہ ریمنڈ کی استثنیٰ کی درخواست پاکستانی وزارتِ خارجہ نے آج تک notify نہیں کی۔ فرض کریں کہ ایسا کر بھی دیا گیا ہوتا تب بھی جب امریکی حکومت سرکاری طور پر اعلان کررہی ہے کہ اس شخص کا نام ریمنڈ نہیں تو استثنیٰ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، کیونکہ ویانا کنونشن کے تحت جس شخص کو بھی استثنیٰ حاصل ہوگا، اس کے نام سے میزبان ملک کی وزارتِ خارجہ کا نوٹیفیکیشن جاری ہونا ضروری ہے۔
8. پاکستان کو یقیناً ایک ذمہ دار ملک کی طرح بین الاقوامی قوانین کا احترام کرناچاہیئے مگر ایک خودمختار ملک ہونے کے ناطے کسی طاقتور ملک کی دھونس دھمکیوں میں آکر ویانا کنونشن کی غلط تشریحات بھی قبول نہیں کی جاسکتیں۔ اگر ریمنڈ کو استثنیٰ حاصل ہوتا بھی تب بھی پاکستان کو ویانا کنونشن کے آرٹیکل 32 کے تحت امریکا سے یہ استثنیٰ واپس لینے کی درخواست کرنی چاہیے تھی کیونکہ ریمنڈ انتہائی خطرناک نوعیت کی مجرمانہ کارروائی میں ملوث پایا گیا ہے۔
9. ویانا کنونشن کے آرٹیکل 41 کے مطابق یہ ہر سفارتکار کی ذمہ داری ہے کہ وہ میزبان ملک کے قوانین کا احترام کرے۔ کیا ریمنڈ نے ایسا کیا....؟
10. امریکی دفتر خارجہ کی اپنی دستاویز کے مطابق:
"It should be emphasized that even at its highest leval, diplomatic immunity does not exempt diplomatic offecers from obligation of conforming with national and local laws and regulations. Diplomatic immunity is not intended to serve as license for persons to flout the law and purposely avoid liability for their actions. The purpose of these privileges and immunities is not to benefit but to ensure the efficient and effective performance of their official on behalf of their government."
حقیقت یہ ہے کہ ایک طبقہ ہمیں امریکا کی غلامی سے آزاد نہیں دیکھنا چاہتا۔ان کی کوشش یہ ہےکہ جس طرح ماضی میں اور کاص طو رپر مشرف دور میں پاکستانیوں اور دوسرے ممالک کے مسلمانوں کو امریکا کے حوالے کیا جاتا رہا اور امریکا کی مرضی کے مطابق یہاں سب کچھ کیا جاتا رہا، وہ سلسلہ اسی انداز میں جاری رہے۔ کوئی امریکا سے پوچھنے والا نہیں کہ مشرف دور میں 1961ء کے اسی ویانا کنونشن کے آرٹیکل 45،44،39 کی کس کس نے دھجیاں اُڑائیں، جب 2001ء میں پاکستان میں افغانستان کے سفیر ملا ضعیف کو شدید تشدد کے بعد پاکستان کے فوجی حکمرانوں نے امریکیوں کے حوالے کیا تھا۔ ملا ضعیف کی زبانی سنائی گئی کہانی کے بعد کم از کم امریکیوں اور اُن کے مشرف جیسے پاکستانی حواریوں کو 'ویانا کنونشن' کانام لیتے ہوئے بھی شرم آنی چاہیے۔
1961ء کے ویانا کنونشن کا ابتدائیہ اور آرٹیکل (1)41 پڑھ کر معلوم ہوتا ہے کہ اس کنونشن کا مقصد ہرگز ہرگز مجرموں اور جاسوسوں کا تحفظ نہیں تھا۔ امریکا کے حمایتیوں کا کہنا ہے کہ ہم نے بین الاقوامی معاہدہ کیا ہوا ہے او راگر ہم نے ریمنڈ کو امریکا کے حوالے نہ کیاتو پاکستان کے ساتھ بہت بُرا ہوگا۔ وہ کہتے ہیں ریمنڈ کو تو نارمل استثنیٰ حاصل ہے او ریہ کہ استثنیٰ کے بارے میں کوئی دوسری رائے نہیں ہوسکتی۔
یہ دھمکی بھی دی جاتی ہے کہ امریکا بہت طاقتور ملک ہے، سپر پاور ہے۔ پاکستان بہت کمزور ملک ہے۔ پاکستان کی معیشت انتہائی کمزور ہے۔ پاکستان ریمنڈ کو حوالے نہ کرکے امریکی امداد سے ہاتھ دھو بیٹھے گا او رکسی بھی طورپر اپنی معیشت صحیح نہیں کرسکے گا، لیکن میرا سوال امریکی غلاموں سے یہی ہے کہ کیا غریب کی کوئی عزت نہیں ہوتی؟ کیا ایک کمزور ملک اپنی خود مختاری کو برقرار نہیں رکھ سکتا؟ کیا قرضے کے عوض اپنے گھر کے دروازے غیروں او رطاقتور غنڈوں کے لیے کھول دیئے جاتے ہیں؟ اگر ریمنڈ کے قتل کو ویانا کنونشن کی آڑ میں چھوٹ دے دی جائے تو کیا یہ ملک کے لیے آسان نہ ہوجائے گا کہ وہ اپنے دشمن ممالک میں اپنے سفارتکاروں کے ذریعے قتل وغارت کرادیں؟
('کس سے منصفی چاہیں؟' انصار عباسی،:14/فروری 2011ء )
(2) گہرا تاریک راز
دریا کی لہروں کے خلاف کب کون تیر سکا ہے؟ تاریخ میں جب طوفان اُٹھتے ہیں تو تنکے راہ نہیں روکتے! لاہور کا سانحہ تو بہت اذیت ناک ہے کہ شمائلہ سمیت چار زندگیاں چلی گئیں۔ ایسا لگتا ہے کہ اپنے انجام میں، لیکن یہ محض ایک المیہ نہ رہے گا۔
رنگ لائے گا لہو! پے درپے واقعات میں جن کا سان گمان تک نہ تھا،قدرت کے اشارے ہیں۔ کون کہہ سکتا تھا کہ ایک جواں سال خاتون جس کے سامنے پوری زندگی پڑی تھی، اس طرح جان ہارے گی کہ باقی رہنے والی ایک حیران کن داستان وجود پائے گی۔ اس کی موت ہمیشہ یاددلاتی رہے گی کہ اللہ کے نام پر وجود میں آنے والے ملک کی اشرافیہ کس قدر سفاک تھی! استعمار سے ایسا گٹھ جوڑ اُس نے کررکھا تھا کہ کتنا ہی سنگین سانحہ ہو، کسی کو انصاف کی اُمید نہ تھی! کون کہہ سکتا تھا کہ شاہ محمود قریشی ایسا آدمی جس کے اَجداد نے 1857ء میں ڈٹ کر انگریزوں کا ساتھ دیا او راحمد خان کھرل کے قتل میں شریک تھا، روٹھ کر وزارت ٹھکرا دے گا !!
استعمار اور اس کے پاکستانی کارندوں کے مقابل ہمیں سب سے زیادہ غیر متوقع اعانت مغربی اخبارات سے ملی۔ ملک میں تو ورنہ ایسے دانشور بھی کارفرما تھے جو حقیقت کو افسانہ اور افسانے کو حقیقت ثابت کرنے پر تلے تھے۔ ایسے شدومد کےساتھ کہ دانش دیکھتی اور حیران ہوتی اور حیا منہ چھپاتی تھی۔ بقول جوش ؏
بدی کرتا ہے دشمن او رہم شرمائے جاتے ہیں!

لندن کے معتبر اخبار 'گارجین' کے بعد 'واشنگٹن پوسٹ' نے بھی تصدیق کردی کہ ریمنڈ ڈیوس سی آئی اے کا ایجنٹ ہے۔ وقائع نگار Declan Walshکا جملہ یہ ہے:
Based On interviews in the US and Pakistan, the Guardian can confirm the 36 years old former special force soldier is employed by CIA.
''پاکستان اور امریکہ میں (باخبر افراد سے) ملاقاتوں کی بنا پر گارجین اس امر کی تصدیق کرسکتا ہے کہ سپیشل امریکی فورس کے 36 سالہ سابق ملازم کی خدمات اب سی آئی اے کو حاصل تھیں۔''
ممکن ہے انکل سام کا کوئی پاکستانی کارندہ توجیہ کرنے کی کوشش کرے کہ محض ملاقاتوں سے نتیجہ اخذ نہ کرنا چاہیے۔ دو باتیں مگر بے حد اہم ہیں:اوّل کہ صرف ذاتی نہیں اخبار نویس نے ادارے کی طرف سے ذمہ داری قبول کی ہے۔ ثانیاً جن اہم لوگوں سے وہ ملا ان میں ممتاز امریکی شامل ہیں۔ واشنگٹن پوسٹ کے مطابق '' وہ لاہور میں سی آئی اے کی ٹیم کا حصہ تھا جو اس شہر میں محفوظ ٹھکانے سے اپنی سرگرمیاں انجام دے رہی تھی۔'' کیا یہ محفوظ ٹھکانہ لاہور کا قونصل خانہ ہے یا کوئی اور ؟ وزیر قانون رانا ثناء اللہ کو وضاحت کرنی چاہیے۔ قومی تاریخ کے اس نازک موڑ پر رانا صاحب نے غیر معمولی جرات کے علاوہ جس کی اُمید کی جاتی ہے، حیران کن دانائی سے کام لیا جس کی توقع نہ کی جاتی تھی۔ تجربات سے آدمی سیکھتے ہیں او ربحرانوں میں اُن کے جوہر کھلتے ہیں۔ تاہم وزیراعلیٰ شہبازشریف کے پختہ فیصلے کے بغیر یہ ممکن نہ ہوتا۔ ایک حکمران کی ستائش پر طعنے سننا پڑتے ہیں مگرکیا کیجئے ستارے کوستارہ اور بادل کو بادل ہی کہنا ہوتا ہے۔
اگر کبھی جناب رحمٰن ملک بھی ایسا کوئی موقع ارزاں فرمائیں؟ وزیرداخلہ اور اُن کے سرپرست اُلجھ گئے۔ ایک تاریخی موقع اُنہوں نے گنوا دیا۔ یہ بات طے کرنے کے لئے کہ کیا ریمنڈ ڈیوس ایک سفارت کار ہے؟ زیادہ سے زیادہ ایک گھنٹہ درکار تھا۔ چار ہفتوں میں وہ فیصلہ نہ کرسکی۔ پنجابی محاورے کے مطابق سونے والے جگایا جاسکتا ہے مگر جاگتے کو کبھی نہیں۔ صدر زرداری او ران کے ساتھیوں نے تہیہ کررکھا ہے کہ امریکہ کے معاملے میں وہ سیاہ کو کبھی سیاہ نہ کہیں گے۔ وزیراعظم گیلانی نے ارشاد کیا کہ وہ لاہور کے سانحہ کی مذمت کرتے ہیں۔ مذمت تو وہ ڈرون حملوں کی بھی کیا کرتے ہیں ،لیکن ان کا اصل موقف کیا ہے؟ وکی لیکس کے طفیل سبھی جانتے ہیں!
کتنا دباؤ ہے، کس قدر شدید امریکی دباؤ کہ وزارتِ خارجہ مہلت پہ مہلت مانگ رہی ہے۔ سچائی آشکار ہے اور اتنی آشکار کہ شاہ محمود جیسا شخص بھی انحراف نہ کرسکا۔ ریمنڈ ڈیوس محض ایک قاتل اور جاسوس نہیں۔ معاملہ بہت پیچیدہ ہے ورنہ ذوالفقار مرزا کے ذریعے فساد کھڑا کرنے کی کوشش نہ کی جاتی۔ مرز ا کی بدن بولی (باڈی لینگوئج) ان کے الفاظ سے ہم آہنگ نہ تھی۔ دس نکاتی مذاکرات سے اُن کا کوئی تعلق نہ تھا۔ جس مقام پر اُنہوں نے خطاب فرمایا وہاں اس موضوع پر اظہارِ خیال ہی تعجب خیز ہے۔ دو دن قبل وہ ایم کیوایم کے سامنے سرجھکا کر آئے تھے۔ یہ دن سازگار نہ تھا کہ وہ شعلہ بیانی کرتے۔ اس کے باوجود اُنہوں نے خود کو داؤ پر لگا دیا۔ کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے؛
کچھ نہیں بہت کچھ...! افغانستان میں امریکی شہری آئے دن اغوا ہوتے ہیں اور دوسرے مضطرب ممالک میں بھی۔ امریکی قیادت حرکت میں ضرور آتی ہے، لیکن اس قدر پریشان تو وہ کبھی نہ تھی۔ نہ صرف ہیلری آگ بگولہ ہوئیں بلکہ صدر اوباما نے بھی خود کو جھونک دیا۔دلچسپ ترین یہ ہے کہ دونوں نے کوئی دلیل نہ دی، فقط شور مچایا۔ واشنگٹن میں پاکستانی سفارت خانہ بند کرنے او رامریکی امداد روک دینے کی افواہیں پھیلائی گئیں۔ بظاہر کیسے معتبر افراد اور اداروں کے ذریعے، آخر کیوں؟ کیا ریمنڈڈیوس کے پاس کوئی گہرا تاریک راز ہےجس کے آشکار ہوجانے کا خوف امریکی انتظامیہ کے اعصاب پر سوار ہے۔ کوئی ایسا گورکھ دھندا جو پاکستانی عوام کے علم میں آگیا تو تباہی آجائے گی؟
ریمنڈڈیوس پولیس کے تفتیش کرنے والوں کے سوالات کا جواب دینے سے انکار کیوں کرتا رہا؟ ظاہر ہے کہ لاہور کی قونصل جنرل کے مشورے سے جو تین تین گھنٹے اس سے گفتگو کیا کرتیں۔ کس چیز کے بارے میں وہ اس سے بات کرتی تھیں؟ کیا وہ اس کا حوصلہ بندھانے جاتی تھیں یا کسی حکمت ِعملی کی جزئیات پربحث کرنے؟ ایک ملزم کو وکیل کے مشورے کی ضرورت ہوتی ہے۔ سرپرست سفارت کار کو میدان میں بروئے کار آنا ہوتا ہے۔ وہ جیل کے اندر اتنا قیمتی وقت کیوں برباد کرتی رہیں؟ کیا اُنہیں اندیشہ تھا کہ وہ پاکستان میں زیرزمین پھیلے امریکی نیٹ ورک کی تفصیلات بتا دے گا یا کچھ اس سے بڑھ کر بھی؟
امریکیوں نے ریمنڈڈیوس کو مزنگ سے اُٹھا کر لے جانے کے لیے اتنا بڑا خطرہ کیوں مول لیا۔ رائفلیں اُٹھائے ان کے لوگ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایک معصوم جان کو کچلنے کے مرتکب ہوئے۔ پھر اس گاڑی کے سواروں کو ہر قیمت پر بچانے کی کوشش کی حتیٰ کہ ملک سے باہر بھیج دیا۔ پنجاب حکومت کی طرف سے چھ عدد خطوط لکھنے جانے کے باوجود کہ قونصل خانہ مجرموں کو پناہ دینے کا مرتکب ہے، مرکزی حکومت سوئی کیوں رہی؟ وزارتِ داخلہ نے اُن کے نام ای سی ایل میں کیوں شامل نہ کئے؟ ہوائی اڈوں پرنگرانی کیوں نہ ہوئی؟
ایک تاریک بھید ہے، ایک گہرا تاریخی بھید ! تاریخ مگر یہ بتاتی ہے کہ کوئی راز ہمیشہ راز نہیں رہتا۔ بات کھلے گی اور نتائج پیدا کرے گی۔وجدان یہ کہتا ہے کہ پاک امریکہ تعلقات کی نوعیت تبدیل ہونے کا وقت آپہنچا۔ سیاسی قیادت اگر نہ سمجھ پائی تو وہ عوامی طوفان کی نذر ہوسکتی ہے۔ دریا کی لہروں کے خلاف کب کون تیر سکا ہے؟ تاریخ میں جب طوفان اُٹھتے ہیں تو تنکے راہ نہیں روکتے!!
('ناتمام' از ہارون الرشید: 23 فروری 2011ء)

٭٭٭٭٭