احباب واقرباء ہیں تر زندگی کےساتھ
اترا نہیں ہے قبر میں کوئی کسی کےساتھ
ہوتی نہیں خوشی کی کبھی قدرت ومنزلت
احساس غم نہ ہواگر شامل خوشی کےساتھ
آرام سےرہیں گے ہمیشہ بہشت میں
دکھ دور میں رہے جو ہمیشہ نبی ﷺ کےساتھ
برسوں رہے ہیں چشمہ زم زم سےفیضیاب
لوٹے ہیں ہم لوٹے ہیں تشنہ لبی کے ساتھ
دشمن کسی ولی کابلا سےہوسب جہاں
خلاق دوجہاں ہےخود اپنےولی کےساتھ
نیکی کی راہ الگ ہے بدی کی ہے راجدا
نیکی کبھی چلی نہیں ہرگز بدی کےساتھ
دنیا میں جس کے ساتھ رہی جس کی دوستی
اٹھے گا یوم حشر وہ انساں اسی کے ساتھ
ہم معترف توسب ہیں مگر یہ بتائیے
عامل ہےکون دین سنجیدگی کےساتھ
ساغر ملے تو ساقی کوثر کےہاتھ سے
بجھ جائے دل کی پیاس بھی تشنہ لبی کےساتھ
رکھتا ہے ہر قدم پہ قدم پھونک پھونک کر
چلتا ہےدوقدم ہے ہر اک متقی کےساتھ
گلچیں کا خوف بھی ہے خزاں بھی ہتے تاک میں
سہما ہوا ہے گل بھی چمن کلی کے ساتھ
تحریر ہورہا ہے ہر اک نیک وبد عمل
کاتب ہیں دو خدا کے ہر اک آدمی کےساتھ
تجھ کو جوموت وقبر وقیامت کےفکر ہو
وابستہ تیرا دل نہ ہو پھر دل لگی کےساتھ
مذموم بخل بھی ہےتو اسراف بھی برا
تو زندگی گزار میانہ روی کےساتھ
عجزبشر میں اوج بشر کانہاں ہےراز
عاجز کاربط یونہی عاجزی کےساتھ