سیدنا حضرت ابو سعید بن صمہ خزرج کےمعزز ترین خاندان نجار سے ہیں ۔نسب نامہ یہ ہے۔

حارث بن صمہ بن عمروبن عتیک بن عمرو بن عامر(مبذول) بن مالک بن نجار۔

ہجرت نبوی سےقبل ہی ان کی فطرت سعید انہیں توحید کی طرف مائل کردیا ہےاورسن 11ہجری سے 13 نبوت کےدرمیان کسی وقت حلقہ بگوش اسلام ہوگئے ۔

سرور عالم ﷺ مدینہ منورہ تشریف لائے اورچند ماہ بعد مہاجرین اورانصار کےمابین مواخاۃ قائم کرائی حضرت حارث کوحضرت صہیب رومی کااسلامی بھائی بنایاگیا۔

رمضان المبارک سن 2ہجری میں رحمت عالم ﷺ غزوہ بدر کالیے مدینہ سےروانہ ہوئےتوحضرت حارث بھی حضور ﷺکےہمرکاب تھے۔راستے میں روحاء نام ایک مقام پر ان کوچوٹ لگ گئی اوروہ لڑنے کےقابل نہ رہے چنانچہ حضورﷺنےانہیں واپس مدینہ بھیج دیا تاہم انہیں بدر کےمال غنیمت سےحصہ مرحمت فرمایا اس لیے ان کاشمار اصحاب بدر میں ہوتا ہے۔

اگلے سال غزوہ احد میں جانبازانہ حصہ لیا اورشروع سے لے اخیر تک نہایت ثابت قدمی سےمیدان جنگ میں ڈٹے رہے۔اہل سیر نےانصار ثابت قدم میں ان کاصراحت سےلیا ہے۔اس لڑائی میں انہوں نےقریش کےایک بہادر عثمان بن عبداللہ بن مغیرہ کوقتل کیا۔حضور نےمقتول کاسامان ان کومرحمت فرمایا ان کے علاوہ حضورﷺ نےکسی مسلمان کوکسی کافر کاسامان نہیں دیا۔

ایک روایت میں ہےکہ جس وقت لڑائی پورے زور پرتھی حضرت حارث حضورﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے آپ ﷺ نے ان سے دریافت فرمایا تم عبدالرحمٰن بن عوف کودیکھا؟ انہوں نےعرض کیایارسول اللہ وہ پہاڑ کی طرف کفار کےنرغہ میں تھےمیں ان کی مدد کوجاناچاہالیکن آپ پڑ نظر پڑی تو ادھر آکیا۔ حضورﷺ نے فرمایا عبدالرحمن کوفرشتے بچارہے ہیں اس کےبعد حضرت حارث حضرت عبدالرحمن بن عوف کےپاس گئے تودیکھاکہ مشرکین کےسات لاشیں ان کےسامنےپڑی ہیں انہوں نے حضرت عبدالرحمن سےپوچھ کیا ان سب کو آپ نےقتل کیا ہے'؟ انہوں نےجواب دیاارطاط اورفلاں کو تو میں قتل میں ہلاک کیا باقی مشرکوں کےقاتل مجھ کونظر نہیں آئے۔یہ سن کر حضرت حارث پکار اٹھے

رسول اللہﷺ نے بالکل صحیح فرمایا تھاسن 4ہجری میں بئر معونہ کاالمناک سانحہ پیش آیا اس کےپس منظریہ تھاکہ کہ حضور نےابو براء عامر بن مالک کی درخواست پر ستر مبلغین کی ایک جماعت نجد کی طرف روانہ فرمائی حضرت حارث بن صمہ بھی اس پاکباز جماعت میں شامل تھے۔بئر معونہ کےمقام پروہ حضرت عمرو بن امیہ کےساتھ مویشی چرانے کےلیے گئے ہوئے تھے کہ بنو عامر کےسردار عامربن طفیل نجدی نےبعض مشرک قبائل کےساتھ لے کر مسلمانوں پر حملہ کردیا اورسب کوایک ایک کرکے شہید کرڈالا۔جب حضرت حارث اورعمر بن امیہ واپس آئے تواپنے ساتھیوں کی لاشیں خاک وخون میں غلطیاں دیکھیں۔حضرت حارث نےحضرت عمرو سے کہااب کیارائے ہے؟عمروبن امیہ نےکہاکہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت حاضر ہوکر تمام واقعہ بیان کرناچاہیے ۔

حارث بولے جہاں منذر مارے جائیں میں وہاں کس طرح ہٹ سکتاہوں۔ یہ کہہ کرتلوار سونت لی اورعمرو بن امیہ کوساتھ لےکرمشرکین پر ٹوٹ پڑے انہوں تیروں کی بوچھار کردی۔حضرت حارث کاجسم جھلپنی ہوگیا اورجام شہادت پی کر خلدبریں میں پہنچ گئےحضرت عمرو بن امیہ کومشرکین نےاسیر کرلیا ۔

ایک اورروایت میں ہےکہ حضرت حارث مشرکین پر حملہ آور ہوئے اور ان میں سے دو کو خاک وخون میں لوٹادیا۔اس پر انہوں نے نرغہ کرکے حارث اورعمرو دونوں کوگرفتار کرلیا ۔پھر انہوں نےحارث نےکہاتم مجھ کومنذر اور حرام بن ملحان کی جائے قتل پر پہنچادو۔مشرکین نے انھیں وہاں پہنچاکر چھوڑدیا۔حضرت حارث شوق شہادت سے سرشار تھے انہوں نےپھرکفار پر حملہ کردیا۔جب ان میں سےایک دومارےگئے تو انہوں نےحضرت حارث کوچاروں طرف سےبھالوں پر رکھ لیا اوریوں وہ اپنے خالق حقیقی کےحضورپہنچ گئے ۔

حضرت حارث نےاپنے پھیچھے دولڑکےچھوڑے ابوجہم اورسعد ان ان دونوں کوشرف صحابیت حاصل ہے۔

سانحہ بئر معونہ میں جواصحاب شہید ہوئے وہ نہایت پاکباز عبادات گزار اورفاضل لوگ تھآ اوراپنے شغف قرآن کی نسبت سےاقراء مشہور تھے۔حضرت حارث کےمرتبہ کااندازہ اسی سے کیا جاسکتا ہے۔بعض روایتوں میں ہے کہ وہ شعر شاعری میں درک رکھتے تھے !