یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ پاکستان میں جب بھی طرز حکومت کاسوال زیر بحث آتا ہے توبراہ راست کتاب وسنت میں غور کرنے کی بجائے عموما دنیا میں جونظام رائج ہیں ان میں سے کسی ایک کو کھینچ تان کر مسلمان بنانےکی کوشش کی جاتی ہے۔اس دور کے دو مشہور نطام جمہوریت اورآمریت ہیں۔چناں چہ جہاں اکثر مسلمانوں کی کوششین جمہوریت کو مشرف بہ اسلام کرنے میں صرف ہوتی وہاں بعض من چلے امریت کو اسلام کی مطابق قرار دے ڈالتےہیں..... گو اسلام سےتھوڑی بہت مناسبت دونوں ہی نظاموں میں مل جاتی ہے۔یعنی اگر اسلام کی مرکزیت دیکھی جائے تو اسلام امریت سے زیادہ نظر آتا ہے..... اوراگر اس بات کومحلوظ رکھا جائے کہ اسلام میں عوام کےاعتماد کوبھی اہمیت دی گئی ہے تو پھر اسلام کوایک جمہوری نظام کی شکل میں پیش کرنازیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان نظاموں میں سلام سےمناسبت کا کوئی پہلو تلاش کربھی لیاجائے پھر بھی اسلام اپنے امتیازات کی بناء پر ان دونوں نظاموں سےالگ تھلگ رہتا ہے.... اور یہ امتیازات بحثییت نظام ہی نہیں بلکہ اسلام کی اصل روح بھی ان دونوں سے یکسر مختلف ہے۔ نظام حکومت میں بنیادی حیثیت تصور حاکمیت کوحاصل ہے۔چنانچہ جمہوریت میں عوام کی حاکمیت بنیادی چیز ہے توامریت میں کسی فرد یاپارٹی کی حاکمیت اصل اہمیت رکھتی ہے.... جبکہ اسلام کاہم اگر مغرب سےنہیں بلکہ کتاب وسنت سےجائزہ لیں توہمیں معلوم ہوگا کہ اسلام میں نہ فرد کی حاکمیت ہے بلکہ اسلام صرف اورصرف خداتعالیٰ کی حاکمیت کانعرہ لگاتا ہے..... یہ بھی نہیں کہ اسلام میں اللہ تعالیٰ حاکم اعلیٰ ہیں بلکہ حاکمیت ہے ہی صرف اللہ رب العزت کی کسی اورکے لیے اس کاسوال ہی پیدا نہیں ہوتا... یہی اسلام کاپہلا امتیاز ہےکہ وہ حاکمیت کےسلسلہ میں توحید کاقاتل ہےاوراس کی حاکمیت میں وہ کسی کوشریک کرناپسند نہیں کرتا۔ پھر اسلام کایہ تصور حاکمیت فی نفسہ بھی جمہوریت اورآمریت کے تصور حاکمیت سےمختلف ہےچنانچہ علم سیاست میں جولوگ سوجھ بوجھ رکھتے ہیں اورجن لوگوں نےمفکرین کےافکار کامطالعہ کیاہےوہ جانتے ہیں کہ حاکمیت کےجتنےلوازمات ان مفکرین نے بیان کیےا ن لوازمات کو وہ کسی حاکم اعلی میں آج تک جمع نہیں کرسکے مثلا (یہاں ہم ان میں دوکاذکر کرتے ہیں)

1۔حاکمیت مطلق ک العنان ہونی چاہیے یعنی ایک حاکم کایہ خاصہ ہوکہ اس کےاوپر کسی قسم کی کوئی پاپندی نہ ہو اور وہ اپنی مرضی سےجاچاہےکرے اوردنیا میں ایسی حاکمیت پائی نہیں جاتی کہ یہ خاصہ صرف اللہ تعالیٰ کاہے:

﴿لا يُسـَٔلُ عَمّا يَفعَلُ وَهُم يُسـَٔلونَ ﴿٢٣﴾... سورة الأنبياء

کہ اللہ جو چاہے کرے اس سے کوئی مواخذہ اورسوال نہیں ہوسکتا۔اور اس کےعلاوہ سب سے پوچھاجاسکتا ہے(اورپوچھاجائےگا)

گویا اسلام میں حاکمیت کاتصور یہ نہیں کہ اس کی حاکمیت دوسری حاکمیتوں مختلف ہےبلکہ اسلام نے حاکمیت کی اصل تکمیل کی ہے اور ایسا تصور حاکمیت صرف اللہ رب العزت کی ذات میں آکر مکمل ہوتا اسی لیے فرمایا:

﴿إِنِ الْحُكْمُ إِلَّا لِلَّهِ﴾

کہ اللہ تعالیٰ کےعلاوہ کوئی حاکم ہےہی نہیں اور نہ کسی اورکاحکم چل سکتا ہے۔

ہمارےہاں حاکمیت کاتصور پایا جاتا ہےاس کاترجمہ عموما اقتدار اعلیٰ سےکیا جاتا ہے۔حالانکہ حاکمیت کی دوقسمیں ہیں:

پہلی قسم تکوینی حاکمیت ہےاورعموماہمارے ہاں جب حاکمیت کی بحث چلتی ہے تو اللہ تعالیٰ کی اس تکوینی حاکمیت کو سامنے رکھ لیا جاتا ہے۔حالانکہ تکوینی حاکمیت کا کوئی مسئلہ نہ ہی قرآن مجید نے اگرچہ اس کاتصور دیا ہےلیکن وہ اس پر کوئی تفصیلی بحث نہیں کرتا اورنہ ہی قرآن مجید کی نظر میں یہ اصل مقصود ومطلوب ہے۔تکوینی حاکمیت کے یہ معنی ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہرشے کےخالق ومالک ہیں اوراللہ رب العزت کی اجازت اورحکم کےبغیر کوئی چیز حرکت تک نہیں کرسکتی؟..... اور یہ چیز ایسی ہےکہ جس پر کچھ کہنایا زیر بحث لانا تحصیل حاصل ہے۔

اس لیے ساری کی ساری کائنات اللہ تعالیٰ کےسامنے تکوینی اعتبار سے مجبور ہے۔قرآن مجید میں فرمایا:

﴿وَلَهُ مَن فِى السَّمـٰوٰتِ وَالأَر‌ضِ كُلٌّ لَهُ قـٰنِتونَ ﴿٢٦﴾... سورة الروم

کہ زمین وآسمان کی ہرشے اللہ ہی کی ملکیت ہے(وہی سب کاحاکم اورسبھی اس کےتابع فرمان ہیں۔

دوسر جگہ مزید وضاحت سےارشاد فرمایا:

﴿وَلَهُ أَسلَمَ مَن فِى السَّمـٰوٰتِ وَالأَر‌ضِ طَوعًا وَكَر‌هًا... ﴿٨٣﴾... سورةآل عمران

کہ اس کائنات میں بسنے والاہر صاحب عقل اللہ تعالیٰ کےتابع فرمان ہے۔

خوش سےیا ناخوش سےچاہے یا نہ چاہےہر چیز اس کےسامنے سرتسلیم خم کرنے پرمجبور ہے۔

اسلام کااصل مسئلہ اورقسم کی حاکمیت ہےجسے ہم تشریعی حاکمیت کہیں گے(اورموجودہ کانفرنس کی مناسبت سےاسے ہم قرآن حاکمیت کانام دے سکتے ہیں جس کامطلب یہ ہےکہ ہم اپنی منشا چھوڑ کر ابنی ہواہشات سےدست بردار ہوکر نہیں اللہ تعالیٰ کی منشا اورخواہش کےتابع کردیں۔اسے موجود اصطلاح میں حاکم اعلیٰ () کی منشاء() کہہ سکتے ہیں۔..... اگر دنیا اسے مانتی ہےتوپھر دنیا نےواقعی اللہ تعالیٰ کی حاکمیت کوتسلیم اوراگر دنیا اس قرآنی حاکمیت کوتسلیم نہیں کرتی توپھر اس نےاللہ تعالیٰ کے سامنےعبد محض بن جائیں اور اس کےکسی حکم میں چوں چرانہ کریں...ہم بلاخیل وحجت اللہ تعالیٰ کےہر حکم کوماننےکےلیے نہ صرف تیار ہوں بلکہ ہم اسے مان بھی لیں.. اوریہی حاکمیت ہےکہ اگر کوئی مملکت اسے تسلیم کرلیتی ہے تووہ اسلامی مملکت بن جاتی ہے.. گویا ہمارے پیش نظر آج کل اقتدار اعلیٰ کی بخث ہےجبکہ قرآن کےپیش نظر اطاعت خداوندی اور اس کےسامنے جکھنےکی بحث ہے۔

قرآنی حاکمیت کامطلب اس کاتصور توحید ہےیعنی صرف قرآن کی حاکمیت اورباقی سب کی نفی....اگر کوئی شخص قرآن کی حاکمیت کے ساتھ ساتھ کسی اورکی حاکمیت کابھی قائل ہےکچھ منشا بھی صرف میری ہو اوررضا بھی میر ہی ہو؟‎.. اس کے علاوہ جو تصور بھی موجود ہوگا توحیدی تصور نہ ہوگا شرکیہ ہوگا!

حاکمیت کےسلسلہ میں ایک اور اہم ترین بات یہ ہے کہ حاکمیت کسی کوتفویض نہیں کرسکتا حتیٰ کہ یہ حاکمیت اللہ تعالیٰ اپنے نبی کوبھی تفویض نہیں کرتے ... یہ مسئلہ چونکہ ہماری عقیدت سےمتعلق ہےاس لیے انتہائی نازل ہے لیکن اسی قدر اسلام میں تصور کوواضح بھی کیا گیا ہے۔

عموما انبیاء کےسلسلہ میں یہ بات ہمارے سامنے آتی ہےکہ ان کی اطاعت اللہ کی اطاعت ہےقرآن مجید نے بھی یہی بتلایا ہے:

﴿مَن يُطِعِ الرَّ‌سولَ فَقَد أَطاعَ اللَّـهَ ...﴿٨٠﴾... سورةالنساء

یہاں شائد بعض لوگوں کومغالطہ ہوکہ اللہ تعالیٰ نےحاکمیت نبی کوتفویض کیردی اوراپنی منشاء اورمرضی اس کودے دی لیکن قرآن مجید اس کی تردید کرتا ہےاور اس سلسلہ میں کافی آیات ہیں.... کسی آیت میں وضاحت سے اورکسی میں اشارتایہ بات بیان کی گئی ہےمثلا فرمایا:

﴿لَيسَ لَكَ مِنَ الأَمرِ‌ شَىءٌ أَو يَتوبَ عَلَيهِم أَو يُعَذِّبَهُم فَإِنَّهُم ظـٰلِمونَ ﴿١٢٨﴾... سورة آل عمران

کہ اےنبی آپ کومنشا الہی کےبارے میں کچھ اختیار نہیں اللہ ان کفار کی توبہ قبول فرمائے یا ان کوعذاب دے .... بیشک یہ ظالم ہیں!

اس آیت کاشان نزول یہ ہےکہ:

جنگ احد میں رسول اللہ ﷺ دشمنوں کےہاتھوں زخمی ہوگئے

جبیں مبارک پر زخم آیا دانت مبارک شہید ہوگئے۔آپ بہیوش ہوکر گرگئے۔حضرت سالم مولیٰ ابوحذیفہ نےآپ ﷺ کواٹھایا آپ ﷺ آئے توآپ ﷺ نےفرمایا :

كيف يفلح قوم ادمو وجه نبيهم!

کہ جس قوم نے اپنے نبی کی چہرہ کولہولہان کردیا وہ قوم کیونکر فلاح پائےگی؟

اس پر مندرجہ بالا آیت نازل ہوئی

...... کس قدر نازک مسئلہ ہےایک طرف رسول اللہ خون آلود ہیں دوسری طرف حاکمیت کی بےنیازی او ر اس سلسلہ میں قرآن وضاحت تاکہ حاکمیت کایہ تصور نہ بگڑے۔

رہا یہ سوال کہ اگر نبی ﷺ کواللہ تعالیٰ منشاومرضی نہیں دیتے توپھر نبی کی اطاعت اللہ کی اطاعت کیوں ہے؟

اصل بات یہ ہے کہ رسول اللہ تعالیٰ کانمائندہ ہوتا ہےنائب نہیں ہوتا.... نائب وہ ہوتا جسے اصل منصب پر بٹھا کر منشا ومرضی کامالک بنا دیا جائے اور نمائندہ وہ ہوتا جسے کسی خاص مقصد کےلیے مقرر کیاجائے ۔رسول کےمعنی عربی زبان میں نمائندے (1) نائب کےنہیں.... رسول اختیار استعمال کرتا ہےاللہ تعالیٰ کواپنی مشاہیر ومرضی نہیں دیتے جیسےکہ قرآن مجید فرمایا:

﴿ما كانَ لِبَشَرٍ‌ أَن يُؤتِيَهُ اللَّـهُ الكِتـٰبَ وَالحُكمَ وَالنُّبُوَّةَ ثُمَّ يَقولَ لِلنّاسِ كونوا عِبادًا لى مِن دونِ اللَّـهِ...﴿٧٩﴾... سورةآل عمران

کسی ایسے انسان کو جسے اللہ تعالیٰ کتاب وحکمت اور نبوت دے، یہ ﻻئق نہیں کہ پھر بھی وه لوگوں سے کہے کہ تم اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر میرے بندے بن جاؤ، بلکہ وه تو کہے گا کہ تم سب رب کے ہو جاؤ، تمہارے کتاب سکھانے کے باعﺚ اور تمہارے کتاب پڑھنے کے سبب۔

...............................................................

(1)قرآن کریم میں رسول کالفظ انبیاء کےلیے اورفرشتوں کے لیے استعمال ہوا ہےکیونکہ بعض تکوینی امور کےلیے اللہ تعالیٰ فرشتوں کومقرر کرتے ہیں جیسے جان قبض کرنے کےلیے عزرائیل کومقررکیاگیا ہے اسی طرح انبیاء تشریعی امور میں اللہ کےنمائندے ہوتےہیں چونکہ شریعت کی پیروی اختیار سے کی جاتی ہے اس لیے اس بارہ میں مقرر نمائندے بھی بااختیار ہوتا ہے لیکن اس اختیار کےساتھ ساتھ نمائندے صحیح ہونے کےلیے اس کی حفاظت ضروری ہےلہذا اللہ تعالیٰ انبیاء کی حفاظت کرتے ہیں۔یہی عصمت کے معنی ہیں۔انبیاء کے اختیار کواسی تشریعی اختیار کومعنی کومیں لیاجاتاہے جس میں وہ اپنی منشا ء کی بجائے شریعت ساز اللہ تعالیٰ کی منشاء کی تعمیل ہی کراتے ہیں جبکہ تکوینی طور پر وہ بے اختیار ہی ہوتے ہیں۔قرآن کریم جواختیارات کاحصہ اللہ کی ذات میں ملتا ہےوہاں مراد تکوینی اختیار ہے۔زیر بحث موضوع کی مناسبت سےمنشاء() اسی اختیار سےمتعلق ہے۔

.............................................................

کسی کابندہ بن جانے کےمعنی یہ ہیں کہ اپنی منشاء اورخواہشات کوکسی دوسرے کی مرضی اور منشاء کاپابند بنالیا جائے جبکہ مرضی اورمنشاء صرف اللہ کی چلتی ہے:

مشہور واقعہ ہےکہ اللہ تعالیٰ نےقرآن مجید میں حضرت عائشہ کی بریت میں آیات نازل فرمائیں توصدیق اکبر فرمانےلگے:

اے عائشہ رسول اللہ ﷺ کی تعریف کر!

لیکن حضرت عائشہ نےفرمایا:میں تو اللہ کی تعریف کروں گی۔

مقصدیہ تھاکہ میری بریت میں مؤثر اللہ کی منشا اور مرضی ہے۔اگر رسول اللہ ﷺ کی منشاء مؤثر ہوتی تو وہ ایک مہینہ قبل بھی میر ی بریت کرسکتے تھے۔

اس سلسلہ میں اکی واقعہ مشہور ہے کہ:

حضرت بریرہ لونڈی کوحضرت عائشہ صدیقہ نےکچھ رقم دےکر آزاد کرایاتھا....مسئلہ یہ ہےکہ جس لونڈی کوآزادی مل جائے اسے اختیار مل جاتا ہے ہےکہ اگر اس کاخاوند غلام ہو توچاہے تو اس کےنکاح میں رہے چاہے نہ رہے...بریرہ نے اپنایہ اختیار استعمال کیا۔رسول اللہﷺ جب مغیث کی یہ حالت دیکھی کہ وہ گلیوں میں مارا پھر تا ہےتوآپ نےبریرہ کے پاس مغیث کی سفارش کی اے بریرہ مغیث کی حالت دیکھ یہ تجھ سےاتنی محبت کرتا ہے تواس کےگھر میں رہناقبول کرلے بریرہ نےکہااے اللہ کےرسول اللہﷺ یہ آپ کامشورہ ہےیایہ اللہ تعالیٰ کاحکم ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا یہ میرامشورہ ہے.....بریرہ نے کہاتوپھر میں پابند نہیں اور بریرہ اس کےمغیث کےنکاح میں رہیں۔

ان دو واقعات سے یہ حاصل ہوتا کہ مرضی اورمنشاء رسول اللہﷺ کی نہیں چلتی صرف اللہ تعالیٰ کی چلتی ہے.... اللہ تعالیٰ نےرسول اللہﷺ کواختیار دیاہے رسول کامنصب ہی اس کااختیار ہےکہ اس منصب کےمطابق اپنا اختیار استعمال کرے..... لیکن وہ اپنی مرضی نہیں چلاسکتا..... مندرجہ ذیل قرآنی جس سےمنشاء الہی کی جلالت شان اس حدتک آشکار ہےکہ تمام غلط تصورات محو ہوکر رہ جاتے ہیں ... فرمایا

﴿وَلَو تَقَوَّلَ عَلَينا بَعضَ الأَقاويلِ ﴿٤٤﴾ لَأَخَذنا مِنهُ بِاليَمينِ ﴿٤٥﴾ ثُمَّ لَقَطَعنا مِنهُ الوَتينَ ﴿٤٦﴾... سورةالحاقة

''کہ اگر یہ رسول اپنی طرف سےکوئی بات کرے توہم اسےداہنے ہاتھ سے پکڑکر اس کی شہ رگ کاٹ ڈالیں

عربی زباں میں نائب کےلیے خلیفہ کالفظ آتا ہےاورنیابت کےسلسلہ میں وضاحت کےلیے صحیح مسلم کی ان دو احادیث پیش نظر رکھنا بھی ضروری ہے:

1۔رسو ل اللہﷺ نےفرمایا:

اگر دجال میری زندگی میں آیا تومیں اس کامقابلہ کروں کا لیکن اگر موجود نہ ہواتو:

والله خليفتى على كل مسلم

پھر ہر مسلمان پر اللہ میرا خلیفہ ہوگا

2۔صحیح مسلم میں سفر کی مشہور دعاء یوں مذکور ہے:

الهم انت الصاحب فى السفر والخليفة فى الاهل

کہ اللہ توسفر میں میرا ساتھی ہےاورمیرے اہل میں میراخلیفہ ہے۔

گویا ان احادیث میں نیابت بجائے اس کے کہ نبی کوملے نیابت اللہ تعالیٰ کومل رہی ہے۔

اس لیے نبی کی منشاء بھی اللہ تعالیٰ ہی کےہاتھ میں ہوتی ہے۔

پس نبیﷺ اللہ تعالیٰ کانائب ہوسکتا ہےیا منشا مرضی اور حاکمیت کسی کو تفویض ہوسکتی ہےاسلام اس کاتصور کی مخالف کرتا ہے ۔یہی وجہ ہےکہ قانون سازی اوردستور سازی کااختیار اللہ تعالیٰ نےنبی ﷺکوبھی نہیں دیا اور نبی ﷺ اللہ کےدستور وقانون کاپابند ہے... قرآن مجید نبی پر حاکم ہے.... یہ الگ بات ہےکہ نبی قرآن مجید کی تشریح کرتا ہےوہ بالاآخر اللہ کی منشاء ہوتی ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نےنبی ﷺکومعصوم بنایاہےاوراگر اس سےکوئی چھوٹی موٹی لغزش ہوجاائےتواس کی رہنمائی کردی جاتی ہے...جنگ بدر کےقیدیوں کوآزاد کردینے کاواقعہ اس سلسلہ میں بطور مثال پیش کیاجاسکتا ہے۔

قرآن مجید میں جابجا اس کاتصور کوحصر وتاکید کےساتھ واضح کیاگیاہےکہ مرضی اورمنشاء اللہ کےعلاوہ کسی کی نہیں چلتی اورحاکمیت صرف اللہ تعالیٰ کی ہے....مثلا:حکم صرف اللہ کاچلے گا:

إِنِ الْحُكْمُ إِلَّا لِلَّهِ

حاکمیت صرف اللہ کی ہے:

بيده الامر

اختیارات صرف اللہ تعالیٰ کےہاتھ میں ہے)

﴿يَقُولُونَ هَلْ لَنَا مِنَ الْأَمْرِ مِنْ شَيْءٍ قُلْ إِنَّ الْأَمْرَ كُلَّهُ لِلَّهِ﴾

یہ کہتے ہیں کہ ہمارے لیے بھی کچھ اختیار ہےآپ کہہ دیجیے (نہیں) اختیار صرف اللہ تعالیٰ کاہے:

حاکمیت کے کسی کوتفویض نہ ہونےکےسلسلہ میں ایک مغربی مفکر کاحوالہ دینابھی مناسب رہےگا:(مدنی صاحب نےاپنےخطاب میں اس مقام پر یہ وضاحت بھی فرمائی کہ قرآن مجید اپنے آپ میں بہت واضح ہےاورقرآن مجید کی تائید میں مغربی مفکرین کےحوالے دنیا میں بالکل پسند نہیں کرتا لیکن ہمارے ہاں عموماہوتایہ ہے کہ کسی بات کی تائید میں جب کسی مغربی فلاسفر یامفکر کاحوالہ پیش کردیا جاتا ہےتولوگوں کی فورا تسلی ہوجاتی ہے... اوریہ ہمارے ایمان کی کمزوری ہےورنہ کلام الہی)

روسو نےجمہوریت کی بات کرتے ہوئے اسمبلی کےبارے میں یہ بحث کی ہے کہ ایک طرف تو ہم کہتےہیں اقتدار اعلی کسی کوتفویض نہیں ہوتا اوردوسری طرف ہم دیکھتے ہیں آئینی طور پر حاکمیت اسمبلی کومل جاتی ہے... گویا حاکمیت تفویض ہوگئی... اصل بات یہ ہے کہ مرضی اورمنشاء اختیار واقتدار دو الگ الگ چیزیں ہیں مرضی اور منشا تواسمبلی کوتفویض نہیں ہوتی اختیار اسمبلی کومل جاتا ہے۔اصل حاکمیت عوام کی پاس ہوتی ہے.... اوریہی وجہ ہےکہ بعض دفعہ اسمبلی جب عوام کی مرضی اورمنشاء کی مخالف کرتی ہےتو عوام اس کےخلاف اٹھ کھڑے ہوتے ہیں ۔گویایہ لوگ بھی منشاومرضی اوراختیار واقتدار کافرق تسلیم کرتےہیں حاکمیت کےاس مفہوم کےقائل بھی ہیں روسو کےالفاظ یہ ہیں() پس قرآنی حاکمیت کادوسرا امتیاز یہ ہےکہ کسی دوسرےکوتفویض نہیں ہوتی.....اسی لیے دستور اسلام صرف قرآن مجید ہے۔قرآن مجید کافہم بھی اسلام کادستور نہیں ہےکہ وہ ہمارے ہےاورممکن ہے کہ ہم قرآن کوسمجھتے ہوئے اللہ کی منشاء صحیح طور پر نہ سمجھ سکیں۔

اگرچہ اس بارے میں علماء اختلاف کرتےہیں لیکن صحیح یہ ہےکہ اسلام کادستور خود قرآن مجید ہے۔قرآن مجید کےالفاظ بھی دستور ہیں حتی کہ قرآن مجید میں امم سابقہہ کےبیان کردہ حالات بھی

........................................................................

دستور ہیں ہر ایت سےکئی کئی مسائل نکلتےہیں خواہ وہواقعات کےرنگ میں ہوں یافکر کی صورت میں..... اور اگر ہم صرف قرآن مجید کےدستور ہے توپھر اسلام کادستور کبھی ایک نہیں ہوسکتا.... اس لیے کہ فہم کبھی ایک نہیں ہوتا۔شریعت میںاورفقہ میں یہی فرق ہے کہ شریعت ایک ہےاورفقہ کئی ہیں.....ہمارے ہاں چار فقہیں مروج ہیں حنفی شافعی مالکی حنبلی ... شریعت کایہ فہم اماموں نےلیا ہےلیکن چار فقہیں بننےسے شریعتیں چار نہیں بنیں۔شریعت صرف ایک ہے اور وہ قرآن مجید ہے۔

یہاں ایک وضاحت ضروری ہےکہ ہمارے ہاں عموما یہ تصور پایا جاتا ہےکہ قرآن مجید کواگر ہم دستور کہیں توقرآن مجید میں توساست وریاست کے علاوہ اوربھی کئی چیزیں ہیں جوہمارے مذہب سےمتعلق ہیں... تویہ اصل میں مذہب اورسیاست کی تقسیم کانتیجہ ہےجوغلط ہے۔اسلام زندگی میں اس قسم کی تقسیم کاروا دار نہیں۔قرآن فرماتا ہےکہ اسلامی زندگی میں وحدت ہےپوری زندگی ایک دستور کےتحت ہےخواہ نظام حکومت معیشت نظام معاشرت ہو نظام معلاملات ہونظام عبادات ہویانظام عقائد .... سارے کےسارے ایک دستور میں داخل ہیں ..... یہ دستور قرآن مجید ہےاورقرآنی حاکمیت کے معنی یہ ہوں گے ایک انسان کی اسلامی زندگی پوری کی پوری اللہ تعالیٰ کی منشاء اورمرضی کےتابع ہوگی اوریہ بھی ایک ایسا امتیاز ہےجوقرآنی حاکمیت کودوسری تمام حاکمیتوں سےممتاز کرتا ہےخلاصہ یہ ہےکہ:

1۔قرآنی حاکمیت میں پائے صرف اللہ تعالیٰ کےلیے ہے۔اس کےلوازمات کسی دوسری حاکمیت میں نہیں پائے جاتے ۔

2۔قرآنی حاکمیت آزاد ہےاس کے کسی قسم کی کوئی پابندی نہیں ۔

3۔حاکمیت کسی دوسرے کوتفویض نہیں ہوسکتی۔خواہ وہ نبیﷺکی ذات ہی کیوں نہ ہو۔

ائمہ سےتائید:

اگرچہ ہم نےزیربحث مسئلہ میں قرآن وحدیث سےاستدلال کیاہےتاہم یہ کہا جاسکتا ہےکہ یہ آپ کااپنافہم ہےلہذا ضروری ہےکہ ہم آخر میں آئمہ کرام کی تائید اقوال بھی نقل کردیں :

شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ﷫فرماتے ہیں:

جس کا یہ عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی منشا اورمرضی کسی اورکسی دیتے ہیں تو اس کاکفر کیا۔

الفاظ یہ ہیں:من اعتقدان الانسان خليفة لله فقد كفر

2۔ایک اورجگہ لکھتے ہیں: من جعل لله خليفة فهو مشرك بالله-

جو کسی کواللہ کاخلیفہ بناتا ہے تو۔وہ اللہ کےساتھ شرک کرتا ہے!

فتاوى كبرى جلد دوم

علامہ ماوردی اپنی مشہور کتاب کتاب الاحکام السطانیہ میں بیان کرتے ہیں 3۔

جمہو ر علماء کایہ عقیدہ ہےکہ لوگ انسان کےلیے اللہ تعالیٰ کےخلافت کےقائل ہیں وہ لوگ فاسق وفاجر ہوتے ہیں!

حرف آخر:

جولوگ انسان کےلئے اللہ تعالیٰ کی خلافت کےقائل ہیں وہ اس کی تعبیر کرتے ہیں کہ خلافت کے معنی مرضی اورمنشا کے نہیں ہوتے بلکہ وہ اس کےمعنی کچھ اوربیان کرتے ہیں ہم ان پر واضح کردینا چاہتے ہیں کہ جوخلافت ہمارے زیر بحث ہےوہ مرضی اورمنشا کی خلافت ہے جس کادوسرا نام حاکمیت ہےاور حاکمیت کسی کوتفویض نہیں ہوسکتی!.......