میرے پسندیدہ۔۔

اس صفحہ کو پسند کرنے کے لیے لاگ ان کریں۔

'فتنہ 'کہنے کو تو ایک چھوٹا سا لفظ ہے مگر اپنے اثرات اور مفہوم کے اعتبار سے بہت گہرا ہے۔ فتنہ گھر بار اور اہل و عیال میں بھی ہو سکتا ہے،ملک اور روئے زمین پر بھی۔ اس لیے اس کے مفہوم کو جاننا، اس کی وسعت کو سمجھنا اور اس سے بچنے کی تدابیر کرنا اور فتنہ آ جانے کی صورت میں محتاط طرزِ عمل اپنانا انتہائی ضروری ہے۔

'فتنہ' لغت کے آئینے میں

لغوی طور پر فتنہ کے معنی ہیں: امتحان اور آزمائش۔ اس بھٹی کو بھی فتنہ کہتے ہیں جس میں سونے چاندی کے میل کچیل کو علیحدہ کیا جاتا ہے۔ گویا کہ آزمائش کے لمحات سے گزر کر ایک مسلمان کندن بن جاتا اور دوسرا شخص میل کچیل کی طرح علیحدہ ہو جاتا ہے۔ علاوہ ازیں مصیبت، مشکل، سزا، سختی، گناہ، فسق و فجوراور کفر بھی فتنے کے مفہوم میں داخل ہیں۔

فتنے کا مفہوم ... قرآن وسنت میں

قرآن مجید میں فتنے کا مفہوم کئی معانی میں استعمال ہوا ہے۔ کہیں آزمائش ، کہیں سزا کے معنی میں، اورکہیں کفر ،کہیں فساد کے معنی میں۔ گویا کہ لفظ فتنہ کا استعمال اور اس کے معانی کو پہچاننا بھی بہت بڑا امتحان ہے۔

حدیث میں بیان کردہ فتنے کا مفہوم زیادہ تر باہمی فساد، خانہ جنگی اور باہمی کشمکش کی ایسی صورتِ حال پر بولا گیا ہے جب کچھ واضح نہ ہو پائے اور اخلاقیات کی سطح اس قدر گر جائے کہ معاملات سدھرنے کی بجائے اُلجھتے چلے جائیں۔اردو دان طبقے کے ہاں فتنے کا بھی تقریباً یہی مفہوم ہے اور زیرِ نظر تحریر میں اسی کے متعلق بات کی جائے گی۔

فتنے کے متعلق چند قابل غور پہلو ... مذکورہ تعریف کی روشنی میں

1. فتنہ، مسلمانوں کے باہمی خلفشار کا مفہوم دیتا ہے۔ غیر مسلموں کے ساتھ محاذ آرائی فتنے کے مفہوم میں داخل نہیں۔ اسی لیے بعض احادیث میں تو واضح الفاظ ہیں: «إِذَا کَانَتِ الْفِتْنَةُ بَیْنَ الْـمُسْلِمِیْنَ...» ''جب فتنہ مسلمانوں کے درمیان ہو...''

2. فتنہ، ذاتی یا نجی صورتِ حال میں بھی پیش آ سکتا ہے لیکن وہ محض لفظی استعمال کی سطح تک ہے مگر جسے فتنہ کہہ سکتے ہیں جس کے متعلق بہت سے احکام بیان ہوئے ہیں، وہ ایسا فتنہ ہے جو بہت سے لوگوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔ اسے آپ سیدنا حذیفہ بن یمانؓ کی بیان کردہ حدیثِ صحیحین سے بخوبی سمجھ سکتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ

سیدنا عمر نے کہا: فتنے کی بابت تم میں سے حدیثِ نبوی کسی کو یاد ہے؟ میں نے کہا: مجھے یاد ہے۔ سیدنا عمر نے پوچھا: كیسے؟ حذیفہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: آدمی کو پیش آنے والا فتنہ اس کے گھر میں بھی ہو سکتا ہے، اس کی اولاد میں بھی اور اس کے ہمسائے کی طرف سے بھی ہو سکتا ہے اور نماز، صدقہ، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر اور ایسے کام فتنے کی اس شکل کا کفارہ بن جاتے ہیں۔ سیدنا عمر فرمانے لگے: میری مراد یہ نہیں۔ میں تو اس فتنے کی بات کر رہا ہوں جو سمندر کی موجوں کی طرح اُٹھے گا۔ سیدنا حذیفہ کہنے لگے: امیر المومنین! آپ کو اس کی فکر کی ضرورت نہیں۔ آپ کے اور اس فتنے کے درمیان ایک بند دروازہ ہے۔ سیدنا عمر پوچھنے لگے: وہ دروازہ توڑا جائے گا یا کھولا جائے گا؟ میں نے کہا: نہیں بلکہ توڑا جائے گا۔ سیدنا عمر نے کہا: جب اسے توڑ دیا گیا تو وہ تو پھر بند نہیں ہو گا۔''

دروازہ ٹوٹنے سے مراد سیدنا عمر کی شہادت تھی اور اُنہیں اس کا بخوبی اندازہ تھا۔ سیدنا عمر کی شہادت کے بعد مسلمانوں میں جو فتنہ کھڑا ہوا ،اس کا دائرہ چند ایک لوگوں تک محدود نہ تھا بلکہ اس سے خلافتِ اسلامیہ پر لرزہ طاری ہو گیا اور آج تک اُمت اس فتنے کا شکار ہے اور نہ جانے کب تک رہے گی۔ اس حدیث سے واضح ہوتا ہے كہ فتنہ بہت سے لوگوں كو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے اور اس كے اثرات ایك عرصے تك باقی رہتے ہیں۔

3. فتنہ، کینسر کی طرح آہستہ آہستہ اُمّتِ مسلمہ کے جسد میں سرایت کرتا ہے۔ یہ ایک دم سے نہیں اٹھ جاتا۔ دورِ حاضر میں رونما ہونے والے فتنوں کو دیکھ لیں یا قدیم دور میں کھڑے کیے گئے فتنوں كا جائزہ لے لیں، وہ تدریجاً تباہی کی طرف بڑھتے رہے اور انجام کار بہت سے لوگوں کو لپیٹ میں لے آئے۔ سیدنا عمر کے بعد اُٹھنے والا فتنہ بھی تدریجاً بڑھا اور پھیلتا چلا گیا۔ اسے پھیلنے میں تقریباً دس سال کا عرصہ لگا۔ کیونکہ اس دور میں میڈیا اتنا تیز نہیں تھا۔ مگر آج فتنے کی آگ میڈیا کے دوش پر جلد پھیل جاتی ہے۔

4.  فتنہ، کسی نہ کسی موقف، نظریے یا نقطۂ نظر ہی سے اُٹھتا ہے۔ مثلاً فلاں فلاں کافر ہے، فلاں فلاں واجب القتل ہے، فلاں زیادہ حق دار یا فلاں غاصب تھا۔ فرمانِ باری ہے:

﴿فَأَمَّا الَّذينَ فى قُلوبِهِم زَيغٌ فَيَتَّبِعونَ ما تَشـٰبَهَ مِنهُ ابتِغاءَ الفِتنَةِ ... ﴿٧﴾... سورة آل عمران

''تو رہے وہ لوگ جن كے دلوں میں ٹیڑھ ہے، وہ فتنہ پردازی كے لیے ان (آیات) كے پیچھے لگتے ہیں جو متَشابہ ہیں۔''

5. فتنہ، زیادہ تر اغیار کی طرف سے بھڑکایا جاتا ہے۔ اسلام دشمن اور دین دشمن طاقتیں ہی اس کی پشت پناہی کرتی ہیں۔ جیسا کہ عہد صحابہ میں اُٹھنے والے فتنے کی پشت پناہی ابن سبا نے کی۔ قرآنِ مجید میں منافقین کی ریشہ دوانیوں میں اس بات کا ذکر بھی کیا گیا ہے:

﴿ وَلَأَوضَعوا خِلـٰلَكُم يَبغونَكُمُ الفِتنَةَ... ﴿٤٧﴾... سورة التوبة

یہ بھی اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ فتنے کی آگ اغیار کی طرف سے بھڑکائی جاتی ہے۔ منافق بھی دراصل مسلم معاشرے میں کفار کے ایجنٹ ہوتے ہیں۔

6. فتنہ جب اُٹھ رہا ہوتا ہے تو کم علم، ناسمجھ، عاقبت نااندیش اور نام کے مسلمان اس کا حصہ بن جاتے ہیں۔ عموماً جذباتی لوگ ہی اس كی بھینٹ چڑھتے ہیں۔اغیار ایسے ہی لوگوں کو استعمال کرتے ہیں اور کبھی مسلمان خود بھی اس کی لپیٹ میں آ جاتے ہیں۔ جیسا کہ کسی مسلمان کو کافر قرار دینے کا مسئلہ ہے جسے مسئلہ تکفیر کہتے ہیں۔ کتنے ہی مسلمان تکفیری بن چکے ہیں اور وہ مسلمانوں كے خون کو حلال سمجھنے لگے ہیں۔

7. فتنے کی صورت میں جنگ ہونا ضروری نہیں۔ یہ ایک اعصابی نوعیت کی کشمکش بھی ہو سکتی ہے۔ جس میں بہت محتاط چلنا پڑتا ہے اور آلۂ کار بننے سے مکمل اجتناب کرنا ہوتا ہے۔

8. فتنہ، اخلاقیات سے متعلق بھی ہو سکتا ہے۔ سیدنا عبداللہ بن عمروؓ کہتے ہیں کہ ہم نبی کریمﷺ کے آس پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ لوگ 'فتنے' کے متعلق بات کر رہے تھے۔ آپﷺ نے فرمایا:

«إِذَا رَأَیْتَ النَّاسَ قَدْ مَرِجَتْ عُهُوْدُهُمْ وَ خَفَّتْ أَمَانَاتُهُمْ وَاخْتَلَفُوْا وَ کَانُوْا هٰکَذَا ... وَ شَبَّـكَ بَیْنَ أَصَابِعِهِ ...»

''جب تم لوگوں کو دیکھو کہ ان کے ہاں عہد کی پاس داری نہیں رہی اور امانت کی اہمیت ان کے ہاں نہیں ہے اور وہ ایک دوسرے سے اختلاف کا شکار ہو گئے ہیں اور وہ اس طرح ہو چکے ہیں۔ اس موقع پر آپﷺ نے اپنی ایک ہاتھ کی انگلیوں کو دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈالا۔ (یعنی الجھی ہوئی صورتِ حال كی طرف اشارہ كیا تو یہ بھی فتنے ہی کی صورت ہے)''

عبداللہ بن عمروؓ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: اس وقت میں کیا کروں؟اس موقع پر آپ نے جو حل بتایا، وہ اگلے ذیلی عنوان میں آ رہا ہے، کیونکہ وہ فتنوں میں طرزِ عمل کے متعلق ہے۔

آپﷺ نے فتنوں کے تذکرے کے دوران اخلاقیات کے عمومی بگاڑ کا ذکر فرما کر واضح کر دیا کہ یہ بھی فتنے ہی کی ایک صورت ہے۔ جیسے بے حیائی کا عام ہو جانا، دھوکا دہی اور فراڈ کا عام ہو جانا۔ یہ بھی فتنے ہی کی صورتیں ہیں اور مسلمانوں میں اخلاقی گراوٹ اور اس كے اثرات كیا كسی فتنے سے كم ہیں؟

فتنوں میں مسلمان کا طرزِ عمل کیا ہونا چاہیے؟

احادیثِ مبارکہ میں فتنوں کے متعلق پیش گوئیوں کا اظہار اس بنا پر نہیں کیا گیا کہ ہم انتظار کرتے رہیں اور فتنے پورے ہوتے دیکھتے رہیں بلکہ اس لیے خبردار کیا گیا ہے تاکہ ہم محتاط رہیں اور آپ ﷺ کے بتائے ہوئے طرزِ عمل کو اختیار کریں۔ یعنی صرف مشکل سے آگاہ ہی نہیں كیا گیا بلکہ اس کا حل بھی بتا دیا گیا ہے۔ لیکن ان کے مطالعے کا قطعاً یہ مطلب نہیں کہ واقعی فتنوں کا دور شروع ہو چکا ہے اور ہمیں یہ طرزِ عمل اپنا لینا چاہیے بلکہ جس علاقے كے مسلمانوں كو جس نوعیت کے فتنوں کا جس قدر سامنا ہو، وہ اس میں محتاط طرزِ عمل اختیار كریں او رچوكنے رہیں، كیونكہ فتنہ اپنے آغاز میں اس نومولود كی طرح ہوتا ہے جس كے بارے میں كچھ بھی كہنا قبل از وقت ہوتا ہے۔

فتنوں میں مسلمانوں كا طرزِ عمل

۱۔ عبادت زیادہ سے زیادہ کرے:

سیدنا معقل بن یسار سے روایت ہے، رسول اللہﷺ نے فرمایا:

«اَلْعِبَادَةُ فِي الْهَرْ جِ کَهِجْرَةٍ إِلَيَّ»

''ہرج (فتنوں) کے دَور میں عبادت میری طرف ہجرت کرنے کے مترادف ہے۔''

احادیث میں'الہرج' کے معنی کثرتِ قتل بھی بتلائے گئے ہیں، مگر مذکورہ حدیث کی شرح میں امام نووی لکھتے ہیں:

''الہرج' سے یہاں مراد فتنہ ہے اور لوگوں کے معاملات کا اُلجھ جانا، اور فتنوں میں عبادت کی فضیلت اس لیے ہے کہ فتنوں میں لوگ عبادت سے غافل ہو کر ادھر اُدھر کے کاموں میں مشغول ہو جاتے ہیں اور بہت تھوڑے افراد ہی عبادت کرتے ہیں۔''

عبادت کی زیادہ تر نوعیت نماز، روزہ اور صدقہ و خیرات سے متعلق ہو جیسا کہ سیدنا حذیفہ کی حدیث گزر چکی ہے۔ دراصل فتنہ اپنے اندر کشش بھی رکھتا ہے۔ اب دیکھیں کہ بعض لوگوں کو پتا ہے کہ میں کسی پر حملہ کر کے اپنی زندگی سے ہاتھ دھو رہا ہوں مگر وہ اس کے لیے بھی تیار ہے۔ عبادت میں مصروف ہوگا تو ایسے افكار و خیالات سے نجات ملے گی جو شریعت كے منافی ہوں۔ اس لیے عبادت میں مشغول ہونے پر اتنے بڑے اَجر کی نوید سنائی گئی ہے۔

۲۔ فتنوں سے بچنے کی دعا کرے

رسول اللہﷺ کی ایک دعا ہے:

«...وَ إِذَا أَرَدْتَّ بِعِبَادِكَ فِتْنَةً فَاقْبِضْنِیْ إِلَیْكَ غَیْرَ مَفْتُوْنٍ»

''اور جب تو اپنے بندوں کے ساتھ فتنے کا ارادہ کرے تو فتنے میں مبتلا کیے بغیر مجھے اپنی طرف بلا لینا۔''

یہ وہ دعا ہے جو نبیﷺ نے خواب میں براہِ راست اللہ تعالیٰ سے حاصل کی۔فتنوں میں حصہ لینا تو دُور کی بات ہے ہمیں تو فتنوں سے بچنے کی دعا کرنی چاہیے۔ نبیﷺبھی اس امت کے فتنوں میں پڑنے سے پناہ مانگا کرتے تھے۔ جیسا کہ ایک حدیث میں آپﷺنے پانچ بڑی عمومی نوعیت کی خامیوں اور ان پر ملنے والی سزاؤں کا ذکر فرمایا لیكن ساتھ ہی یہ بھی فرما دیا:

«خَمْسٌ إِذَا ابْتُلِیْتُمْ بِهِنَّ، وَ أَعُوْذُ بِاللهِ أَنْ تُدْرِکُوْهُنَّ»

''پانچ خامیاں ہیں جب تمہاری ان کے ذریعے آزمائش ہوئی (تو تم ہلاکت سے دوچار ہو گے) اور میں اللہ سے پناہ مانگتا ہوں کہ تم ان خامیوں (کے دَور) کو پا لو۔''

۳۔ حکمرانوں کی جائز امور میں اطاعت کی جائے

سیدنا حذیفہ بن یمانؓ نے نبیﷺ سے خیر اور شر کے متعلق متعدد سوال کیے ... اسی دوران آپﷺ نے شر کے دور کے متعلق فرمایا:

''جہنم کے دروازوں پر کھڑے ہوئے داعی ہوں گے جو ان کی بات مان لے گا، وہ اسے جہنم میں گرا دیں گے۔''

حذیفہ نے عرض کی: ایسے لوگوں کے متعلق ہمیں بتائیں۔ فرمایا:

«هُمْ قَوْمٌ مِنْ جِلْدَتِنَا وَ یَتَکَلَّمُوْنَ بِأَلْسِنَتِنَا»

''وہ ایسے لوگ ہوں گے جو ہم میں سے ہی ہوں گے اور ہماری ہی زبان بولیں گے۔''

حذیفہ نے عرض کی: اللہ کے رسول! اگر یہ دور میرے ہوتے ہوئے آ جائے تو آپ کی کیا ہدایت ہے (کہ میں کیا کروں؟) فرمایا: ''مسلمانوں کی جماعت اور ان کے امام سے جُڑ جاؤ۔''

عرض کی: اگر مسلمانوں کی جماعت ہو اور نہ امام؟ فرمایا:

''تم تمام گروہوں سے کنارہ کش ہو جانا۔''

دوسری روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں:

«تَسْمَعُ وَ تُطِیْعُ لِلْأَمِیْرِ، وَ إِنْ ضُرِبَ ظَهْرُكَ وَ أُخِذَ مَالُـكَ»

''تم حکمران کی سمع و طاعت کرنا ،اگرچہ تمہیں سزا دی جائے اور تمہارا مال لے لیا جائے۔''

اس سے مسلمانوں کی کوئی خاص جماعت مراد نہیں ہے بلکہ عمومی طور پر مسلمان مراد ہیں۔

۴۔ گروہ بندی اور حزبیت سے بچا جائے

یہاں ایك سمجھنے والی بات ہے، وہ یہ كہ سیّدنا حذیفہ نے تو آپﷺ سے یہ سوال دریافت كیا:

«فَإِنْ لَّمْ یَكُنْ لَّهُمْ جَمَاعَةٌ وَلَا اِمَامٌ»

''تو اگر ان كی كوئی جماعت اور امام نہ ہو تو (كیا حكم ہے؟)۔''

تو آپﷺ نے یہ جو فرمایا: «فَاعْتَزِلْ تِلْكَ الفِرَقَ كُلَّهَا»

''تو تم ان سب گروہوں سے كنارہ كش ہو جانا۔''

سیّدنا حذیفہ نے یہ تو نہیں پوچھا تھا كہ مسلمانوں كی كئی جماعتیں ہوں بلكہ ان كا سوال تو مسلمانوں كی ایك جماعت اور امام كے متعلق تھا مگر جب ایك جماعت اور امام نہ ہو تو اس كا لازمی نتیجہ متعدد جماعتوں كی صورت میں نكلتا ہے۔ اس لیے آپ ﷺنے تمام جماعتوں اور گروہوں سے كنارہ كش رہنے كا حكم دیا ہے۔ لہٰذا فتنوں كے دور میں جماعتوں كے بت تراشنے كی بھی ضرورت نہیں۔ جب ان جماعتوں اور گروہوں سے دور رہنے كی تلقین كی گئی ہے تو پھر گروہ بندی كا جواز كیونكر ہو سكتا ہے۔

راقم كو اس بات پر اصرار نہیں كہ عین وہ دور آ چكا ہے كہ تمام جماعتوں سے علیحدہ ہوا جائے مگر موجودہ مسلمانوں كی جماعتی كشمكش بھی كسی فتنے سے كم معلوم نہیں ہوتی۔ موجودہ مسلمان گروہی تعصّبات میں بری طرح اُلجھے ہوئے ہیں۔ حتیٰ كہ گروہی اور جماعتی تعصّبات كے خلاف كسی آواز كو بھی وہ دین دشمنی تصور كرتے ہیں۔

۵۔ اسلحے پر مکمل پابندی ہو

فتنوں کے دور میں اسلحے کے کسی بھی طرح کے استعمال پر پابندی ہونی چاہیے۔ ہم تو آج اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ امن کے لیے اسلحے سے پاك ہونا ضروری ہے مگر ہمیں ۱۴۰۰ سال قبل بتا دیا گیا تھا۔ اس حوالے سے متعدد پہلو سے راہ نمائیاں موجود ہیں:

1. پہلے سے اسلحہ موجود ہو تو اسے ضائع اور بے کار کر دے۔ فرمان نبوی ہے:

«...فَلْیَعْمِدْ إِلٰى سَیْفِهِ فَلْیَضْرِبْ بِحَدِّهِ عَلٰى حَرَّةٍ ثُمَّ لِیَنْجُ مَا اسْتَطَاعَ النَّجَاءَ»

''...وہ اپنی تلوار کو لے کر اس کی دھار پتھر پر مار دے، پھر جس قدر (فتنے سے) نجات مل سکتی ہو اسے حاصل کرے۔''

2. فتنوں کے دَور میں اسلحہ نہیں خریدنا چاہیے۔ امام بخاری﷫ نے کتاب البیوع میں ایک باب قائم کیا ہے: "بَابُ بَیْعِ السِّلَاحِ فِي الفِتْنَةِ وَغَیْرِهَا" ''فتنوں کے دور میں اسلحہ خریدنا۔''

اور اس کے ضمن میں سیدنا عمران بن حصین کے بارے میں بتاتے ہیں کہ وہ فتنوں کے دور میں اسلحے کی خرید و فروخت کو ناپسند سمجھتے تھے۔اس باب كی وضاحت حافظ ابن حجر﷫ نے ان الفاظ سے كی ہے:

''گویا یہاں فتنے سے مراد وہ جنگیں ہوں جو مسلمانوں كے درمیان ہی بھڑك اُٹھتی ہیں كیونكہ یہ اسلحہ خریدنے والے كے ساتھ ایك تعاون كی صورت ہوگی۔ مگر یہ اس وقت ہے جب صورتِ حال غیر واضح ہو لیكن جب اس كا بات كا یقین ہو كہ فلاں گروہ باغی ہے تو اس وقت جو گروہ حق پر ہو، اس سے اسلحے كی خرید و فروخت جائز ہوگی۔''

اس باب كے تحت امام بخاری﷫ جو حدیث لائے ہیں، وہ بھی امام بخاری﷫ كی اعلیٰ فقہی بصیرت كی روشن دلیل ہے۔ وہ حدیث یہ ہے، سیّدنا ابو قتادہ كہتے ہیں:

''ہم رسول اللہﷺ كی معیت میں حنین كے موقع پر نكلے تو میں نے زرہ فروخت كر كے اس كے عوض ایك باغ خرید لیا.....''

امام بخاری﷫ نے یہ حدیث لا كر یہ ثابت كیا ہے كہ یہ جنگ مسلمانوں اور مشركوں كے درمیان تھی اور سیّدنا ابو قتادہ نے زرہ فروخت كی اور نبیﷺ نے اُنہیں اس بات سے روكا نہیں۔ یہ یقین سے كہا جا سكتا ہے كہ اُنہوں نے یہ زرہ كسی ایسے شخص كو فروخت نہیں كی ہوگی جو مسلمانوں كے خلاف برسرپیكار ہو۔ مگر یہی بیع مسلمانوں كے درمیان خانہ جنگی میں ناجائز ہو جاتی ہے۔ یعنی جس اسلحہ کو فروخت كرنے سے مسلمانوں كا نقصان ہو تو ایسی فروخت ناجائز ہے۔

3. بس علامتی اسلحہ ہو۔ فرمانِ نبوی ہے:

«إِذَا کَانَتِ الْفِتْنَةُ بَیْنَ الْـمُسْلِمِیْنَ فَاتَّخِذْ سَیْفًا مِنْ خَشَبٍ»

''جب فتنہ مسلمانوں کے درمیان ہو تو پھر لکڑی کی تلوار بنا لینا۔''

یہ حدیث سیّدنا اُہبان نے سیّدنا علی كو اس وقت سنائی تھی جب وہ بصرہ میں اُن كے ہاں تعاون كے سلسلے میں گئے تھے۔

۶۔ کسی صورت میں قاتل نہ بنے

نبیﷺ فتنوں کا ذکر فرما رہے تھے۔ اس دوران سیدنا سعد بن ابی وقاص نے عرض کی: اللہ کے رسول! کوئی فتنہ پرور میرے گھر آ جائے اور مجھے قتل کرنے کی پوری تیار کر لے (تو کیا کروں)؟ فرمایا:

''آدم کے (مقتول) بیٹے کی طرح ہو جانا۔''

۷۔ زبان اور قلم کو مکمّل کنٹرول میں رکھے

فتنوں کے دور میں اسلحے پر پابندی کے ساتھ ساتھ زبان اور اس سے زیادہ اثر انداز ہونے والے قلم پر بھی مکمل کنٹرول ہونا چاہیے کیونکہ اس کا ذرا سا غلط استعمال 'محرم'سے'مجرم' بنا دیتا ہے۔ فرمانِ نبویﷺ ہے: «وَاَمْلِكْ عَلَیْكَ لِسَانَـكَ»

''اور (فتنوں كے دور میں) اپنی زبان (اور تحریر) پر مکمل کنٹرول رکھو۔''

اگرچہ عام حالات میں بھی كنٹرول ہی ہونا چاہیے مگر فتنہ و فساد كے دور میں اس حوالے سے مكمل احتیاط برتنی چاہیے۔

۸۔ سرگرمیوں کو محدود کر دے

آپﷺ کا فرمان ہے:

''فتنوں کے دور میں لیٹنے والا، بیٹھنے والے شخص سے، بیٹھا ہوا کھڑے شخص سے، کھڑا ہوا چلنے والے سے اور چلنے والا دوڑنے والے سے بہتر ہے۔''

یعنی جو شخص جس حد تك دور رہے، اتنا اچھا ہے۔ اسی طرح فتنے کے دور میں گھر تک محدود رہنے کی بھی تلقین نبوی ہے۔

۹۔ عوام یا لوگوں کی فکر چھوڑ دے، بس اپنے آپ کو سدھارے

حدیثِ مبارکہ ہے:

«...وَ عَلَیْكَ بِأَمْرِ خَاصَّةِ نَفْسِكَ وَ دَعْ عَنْكَ اَمْرَ الْعَامَّةِ»

''اور (اس پرفتن دور میں) تم بس اپنے آپ کی خصوصی فکر کرو اور لوگوں کی گتھیاں سلجھانے کو چھوڑ دو۔''

۱۰۔'نہی عن المنکر' سے رک جائے

جب حالات اس قدر پرفتن ہو جائیں تو پھر اس حدیث پر بھی عمل کرنا چاہیے جس میں ہے:

«وَ خُذْ بِمَا تَعْرِفُ وَ دَعْ مَا تُنْکِرُ»

''اور جس اچھائی کو تو اچھا جانتا ہے، اسے اختیار کر لے اور جو تجھے ناپسند ہے اسے چھوڑ دے۔''

عمومی حالات میں'منكر' كو دیكھ كر روكنے كا حكم ہے مگر فتنوں میں'منكر' سے كنارہ كش ہو جانے كا حكم ہے۔ كیونكہ خدشہ ہے كہ برائی سے روكنے كے باعث اس سے بھی بڑا فتنہ و فساد پھیل جائے۔

مذکورہ اور اس سے ملتی جلتی مزید بھی راہ نمائیاں ہیں جو فتنوں کے دور سے متعلقہ ہیں۔ جیسا کہ پہلے عرض کیا کہ یہ ضروری نہیں کہ وہ دور آ چکا ہو مگر حفظِ ماتقدم کے تحت اور فتنوں سے دوچار ہونے سے قبل ان کے متعلق جاننا اچھا ہے۔ فتنوں سے دوچار ہو نے کے بعد اُن کا پتا چلے تو اس کا کیا فائدہ ...اسی لیے تو آپﷺ نے بہت پہلے ہی اظہار فرما دیا تھا تاکہ اُمّت فتنوں سے بچ کر رہے۔
حوالہ جات

1. سنن ابن ماجہ: ۳۹۶۰

2. صحیح بخاری، حدیث: ۱۴۳۵؛ صحیح مسلم، حدیث: ۱۴۴

3. سنن ابن ماجہ، حدیث: ۳۹۵۷، مسند احمد: ۳؍۴۳۱

4. صحیح مسلم، حدیث: ۲۹۴۸

5. صحیح بخاری، حدیث: ۸۵

6. شرح نووی علی صحیح مسلم: 18؍88

7. جامع ترمذی، حدیث: ۳۲۳۳

8. سنن ابن ماجہ، حدیث: ۴۰۱۹

9. صحیح بخاری، حدیث: ۳۶۰۶؛ صحیح مسلم، حدیث: ۱۸۴۷

10. صحیح مسلم، حدیث: (۵۲) ۱۸۴۷

11. سنن ابی داود، حدیث: ۴۲۵۶

12. فتح الباری، تحت الحدیث: ۲۱۰۰، ۴؍ ۴۰۸

13. صحیح بخاری، حدیث: ۲۱۰۰

14. السلسلۃ الصحیحۃ، حدیث: ۱۳۸۰

15. سنن ابی داود، حدیث: ۴۲۵۷

16. سنن ابی داود، حدیث: ۴۳۴۲

17. سنن ابی داود، حدیث: ۴۲۵۶

18. سنن ابی داود، حدیث: ۴۳۴۲

19. السلسلۃ الصحیحۃ از شیخ البانی، حدیث: ۲۰۵

20. سنن أبی داود، حدیث: ۴۳۴۳