نبی کریمﷺ کی بار بار اہانت کی کوششیں جہاں اہل مغرب کے تعصّب کی نشاندہی کر رہی ہیں، وہاں مسلمانوں کے جذبات میں تلاطم پیدا کررہی ہیں۔ایسے حالات میں ہر اُمّتی اپنا کچھ نہ کچھ کردار ادا کرنا چاہتا ہے تاکہ وہ حمایتِ مصطفیٰﷺ کی سعادت اور آخرت میں ان کی شفاعت سے محروم نہ رہے۔اس سلسلے میں عربی کتابچے100وسیلة لنصرة المصطفٰی ﷺ (ناشر دار القاسم، الر یاض) کا ترجمہ ہدیۂ قارئین کیا جا رہا ہے۔

اسلام كے اہم اركان میں سے پہلا ركن كلمہ شہادت ہے:

«أَشْهَدُ أَنْ لَّا اِلٰهَ إِلَّا اللهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللهِ»

''میں گواہی دیتا ہوں كہ اللّٰہ كے سوا كوئی معبود نہیں اور محمد اللّٰہ كے رسول ہیں۔''

اس كلمے كے جز یعنی «أن محمّد الرسول الله» كے كچھ تقاضے ہیں جو حسبِ ذیل ہیں:

1. نبی كریمﷺ نے جو كچھ ارشاد فرمایا ،اس كی تصدیق كرنا۔ تصدیق میں بھی سب سے پہلے اس کی تصدیق ہے كہ آپﷺ اللّٰہ كے رسول ہیں اور آپ كو تمام جن و انس كی طرف مبعوث كیا گیا ہے۔ تاكہ آپﷺقرآن و سنت كی صورت میں نازل ہونے والی وحی دوسروں تك پہنچائیں۔ اور قرآن و سنت دین اسلام ہی كا دوسرا نام ہے جس كے سوا اللّٰہ كسی اور دین كو قبول نہیں فرمائے گا۔

2. رسول اكرمﷺ كی اطاعت اور آپ كے فیصلوں پر دل و جان سے رضا مندی اور اُنہیں مكمل بلا تردد وتوقف طور پر قبول كرنا، سنت كی پیروی كرنا اور اس كے سوا جو كچھ ہے اسے ترك كرنا۔

3. اللّٰہ كے رسولﷺ سے محبت كا ایسا تعلق جو والدین، اولاد حتیٰ كہ اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز ہو۔ اس تعلق میں بھی آپﷺ كی تعظیم، عظمت، توقیر، نصرت اور دفاع كی مكمل پاسداری شامل ہو۔

4. آپ نے جس جس کام سے منع كیا ہے یا وعید سنائی ہے، اس سے رك جانا، اور اللّٰہ كی عبادت اس طریقے كے مطابق كرنا جو آپﷺ نے بتایا ہے۔

مسلمان كے لیے ضروری ہے کہ وہ كلمہ توحید كے اس دوسرے حصے كے مذكورہ مفہوم كے لیے كوشاں رہےتاكہ اس كا ایمان معتبر ہو اورمحمد ﷺ كی گواہی اس کے حق میں قبول ہو۔

دیكھئے! منافقین بھی كہا كرتے تھے كہ آپﷺ اللّٰہ كے رسول ہیں جیسا كہ اللّٰہ نے فرمایا:

﴿ نَشهَدُ إِنَّكَ لَرَ‌سولُ اللَّهِ ۗ وَاللَّهُ يَعلَمُ إِنَّكَ لَرَ‌سولُهُ وَاللَّهُ يَشهَدُ إِنَّ المُنـٰفِقينَ لَكـٰذِبونَ ﴿١﴾... سورةالمنافقون

''ہم گواہی دیتے ہیں كہ اپ اللّٰہ كے رسول ہیں اور اللّٰہ جانتا ہے كہ آپ اللّٰہ كے رسول ہیں، اور اللّٰہ گواہی دیتا ہے كہ منافقین جھوٹے ہیں۔''

رسالت كی گواہی منافقین كے لیے اس بنا پر سود مند نہ ہوئی كہ اُنہوں نے اس كے مفہوم كے تقاضوں كو پورا نہ كیا۔

قارئین کرام ! نبی كریمﷺ سے محبت كے تقاضوں كو پورا كرنے اور آپ كے حقوق كی پاسداری كرنے كے لیے چند تجاویز اور مشورے پیش خدمت ہیں۔ موجودہ حالات میں اس كی ضرورت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے كہ اغیار مختلف ہتھكنڈوں سے شانِ رسالت مآب میں ہرزہ سرائی كوششیں کر کے محرومیوں اور بد نصیبیوں كا شكار ہو رہے ہیں۔ اس سلسلے میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق ركھنے والے افراد كی بھی مختلف ذمہ داریاں ہیں، ہم انہیں ان ذمہ داریوں سے آگاہ کرنے كی بھر پور كوشش كرتے ہیں۔

ایك مسلمان كی بنیادی ذمہ داری

1.نبوت كے دلائل پر غور و فكر اور اُنہیں تلاش كرنا۔ اس سلسلے میں قرآن و سنت كے دلائل كے ساتھ ساتھ دیگر دلائل كی جستجو كرنا۔

2.قرآن و سنت اور اجماع كی روشنی میں آپﷺ كے اتباع اور اطاعت كے دلائل كے متعلق جاننا۔

3.اس پر یقین كہ اللّٰہ تعالیٰ نے قرآن مجید كے ساتھ ساتھ نبی كریم ﷺ كی سنت كی حفاظت

كا ذمہ لیا ہے، جیسا كہ اس نے فرمایا:

﴿إِنّا نَحنُ نَزَّلنَا الذِّكرَ‌ وَإِنّا لَهُ لَحـٰفِظونَ ﴿٩﴾... سورةالحجر

''بے شك ہم نے ذكر كو نازل كیا اور بے شك ہم ہی اس كی حفاظت كرنے والے ہیں۔''

قدیم دور سے لے كر آج تك اور آج سے قیامت تك اللّٰہ تعالیٰ ایسے لوگ پیدا فرماتا رہا ہے اور پیدا فرماتا رہے گا جو سنت كی حفاظت كرتے رہیں گے۔ صحیح اور ضعیف كو علیحدہ كرتے رہیں گے اور جمع و تدوین اور تالیف كرتے رہیں گے۔

4.آپﷺ كے حسن و جمال، صفات اور اعلیٰ كردار كا تذكرہ كر كے دلوں میں محبتِ رسولﷺ كا شعور جاگزیں كرنا۔ اسی طرح اس مقصد كے لیے آپﷺ كی خصوصیات اور خوبیوں كا مطالعہ كرنا اور یہ یقین ركھنا كہ روئے زمین پر آپ ہی كامل بشر ہیں اور آپ ہی اخلاق كے سب سے بلند رتبے پر فائز ہیں۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

﴿وَإِنَّكَ لَعَلىٰ خُلُقٍ عَظيمٍ ﴿٤﴾... سورةالقلم

''بے شك آپ اخلاق كے بلند درجے پر فائز ہیں۔''

5. آپﷺ كے احسانات ہم میں سے ہر ایك كے ذہن میں ہر دم تازہ ہوں كہ آپ نے حق رسالت بڑے اچھے انداز سے ادا كیا اور اُمت كی بہترین خیر خواہی كی اورتبلیغ كا حق ادا كر دیا۔

6. اللّٰہ كے فضل و كرم كے بعد ہر دینی اور اُخروی فائدے کو آپﷺ كی طرف منسوب كرنا كیونكہ آپﷺ ہی نے اس خیروبھلائی كی طرف ہماری راہ نمائی فرمائی۔ اللّٰہ تعالیٰ آپ كو انبیا و رسل سے بڑھ كر اس كی بہترین جزا عطا فرمائے۔

7. اس بات كا اعتراف كہ آپﷺ اپنی اُمّت پر سب سے زیادہ شفقت كرنے والے، مہربانی كرنے والے اور سب سے زیادہ اُمت کی فلاح وصلاح کے خواہاں ہیں، فرمانِ باریٰ ہے:

﴿ النَّبِىُّ أَولىٰ بِالمُؤمِنينَ مِن أَنفُسِهِم...﴿٦﴾... سورةالاحزاب

''نبی ﷺ مؤمنوں پر ان كی جانوں سے بھی زیادہ حق ركھتے ہیں۔''

8.ان آیات اور احادیث كو جاننا جن میں اللّٰہ تعالیٰ نے اپنے ہاں آپﷺ كے مقام اور مرتبے كا اظہار فرمایا ہے اور وہ اپنے رسولﷺ سے كس قدر محبت فرماتا ہے اور آپ كے اكرام كا كس قدر خیال ركھتا ہے!!

9. نبی كریمﷺ سے محبت کو اللّٰہ تعالیٰ نے لازم قرار دیا ہے، حتیٰ كہ اپنی جان سے بھی بڑھ كر آپ سے محبت ركھنی ہے جیسا كہ آپ نے فرمایا:

«لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ وَالِدِهِ، وَوَلَدِهِ، وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ»

''تم میں سے كوئی ایك اس وقت تك مؤمن نہیں ہو سكتا جب تك وہ مجھے اپنے والد، اولادتمام لوگوں سے بڑھ كر محبوب نہیں بنا لیتا۔''

10. اللّٰہ تعالیٰ كا اس بات كا خصوصی حكم فرمانا كہ اُمتی آپﷺ كے ادب اور آپ كی سنتوں كا احترام ملحوظ ركھیں، اللّٰہ تعالیٰ كا ارشاد ہے:

﴿يـٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا لا تَر‌فَعوا أَصو‌ٰتَكُم فَوقَ صَوتِ النَّبِىِّ وَلا تَجهَر‌وا لَهُ بِالقَولِ كَجَهرِ‌ بَعضِكُم لِبَعضٍ أَن تَحبَطَ أَعمـٰلُكُم وَأَنتُم لا تَشعُر‌ونَ ﴿٢﴾... سورةالحجرات

''اے اہل ایمان اپنی آوازوں كو نبیﷺ كی آواز سے بلند نہ كرنا اور جیسے تم ایك دوسرے كو بلند آواز سے پكارتے ہو آپﷺ كو نہ پكارنا، كہیں تمہارے اعمال ضائع نہ ہو جائیں اور تمہیں شعور تك نہ ہو۔''

اسی طرح اللّٰہ تعالیٰ نے یہ بھی فرمایا ہے:

﴿لا تَجعَلوا دُعاءَ الرَّ‌سولِ بَينَكُم كَدُعاءِ بَعضِكُم بَعضًا...﴿٦٣﴾... سورةالنور

''رسول اللّٰہﷺ كو اس طرح نہ پكارو جس طرح تم ایك دوسرے كو پكارتے ہو۔''

11. نبی كریمﷺ كے دفاع اور حمایت و نصرت كے متعلق حكم الٰہی كو تسلیم كرنا،جیسا كہ اللّٰہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ﴿لِتُؤمِنوا بِاللَّهِ وَرَ‌سولِهِ وَتُعَزِّر‌وهُ وَتُوَقِّر‌وهُ...﴿٩﴾... سورةالفتح

''تاكہ تم اللّٰہ اور اس كے رسولﷺ پر ایمان لاؤ، آپ كی نصرت و حمایت كرو اور توقیر كرو۔''

12. آپﷺ كی نصرت و حمایت كا جذبۂ صادقہ ہمیشہ تازہ ركھنا۔

13. اس بات كا پورا یقین ركھنا كہ جس نے صحیح معنوں میں آپ سے محبت كی، اسے آخرت میں بہترین جزا آپ كی رفاقت كی صورت میں ملے گی۔ كیونكہ ایك شخص نے آپ كے سامنے یہ اعتراف كیا تھا كہ میں اللّٰہ اور اس كے رسولﷺ سے محبت كرتا ہوں تو آپ نے فرمایا : «أَنْتَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ» ''تو اس كے ساتھ ہوگا، جس سے تو محبت كرتا ہے۔''

14. رسول اكرمﷺ كا جب بھی ذكر ِخیر ہو، آپ پر درود بھیجنے كا خصوصی اہتمام كرنا۔ علاوہ ازیں اذان كے بعد، جمعے كے دن اور عام اوقات میں درود پڑھنا چاہیے تاكہ اس كے بہترین بدلے سے ہمیں نوازا جائے اور آپ كا یہ حق ہم ادا كرنے كی كوشش كرتے رہیں۔

15. سیرتِ نبوی كا مطالعہ اور اس سے حاصل ہونے والے فوائد اور اسباق سے آگاہی حاصل كرنا اور اسے اپنے ذاتی حالات اور زندگیوں پر منطبق كرنا۔

16. حدیث و سنت كا مطالعہ كرنا، اُنہیں سیكھنا، ان میں سے صحیح روایات پر عمل كرنا۔ ان كا فہم حاصل كرنا۔ اور یہ تعلیمات نبویہ جن احكامات، بلند اخلاق اور اللّٰہ كی غلامی كے ضابطوں پر مشتمل ہیں، اُنہیں قبول كرنا ۔

17. آپﷺ كی تمام سنتوں كو درجہ بدرجہ اپنانا۔

18. آپﷺ كی ایسی سنتوں كو بھی كم از كم زندگی میں ایك دفعہ اپنانا جو مستحب كا درجہ ركھتی ہیں۔ اس كا مقصد یہ ہو كہ ہر كام میں آپﷺ كی اقتدا كا جذبہ موجود ہے۔

19. سنتِ نبویؐ كے ساتھ استہزا اور حقارت سے ازحد محتاط رہنا۔

20. لوگوں میں سنت كے اثرات دیكھ كر فرحت محسوس كرنا۔

21. كچھ لوگوں كا سنت كے ساتھ منفی رویہ دیكھ كر دل میں قلق اور اضطراب پیدا ہونا۔

22. نبی كریمﷺ یا آپ كی پیاری سنتوں پر تنقید كرنے والے كے لیے بغض ركھنا۔

23. رسولِ اكرمﷺ كی ازواج و اولاد سے محبت كرنا، اور آپ كے اقارب كے ذریعے اللّٰہ كا تقرب حاصل كرنا اور آپ كی آل میں سے جو راہِ ہدایت سے دور ہوں، دوسروں كی نسبت ان كی ہدایت كی بہت زیادہ خواہش ركھنا۔ جیسا كہ سیّدنا عمر نے رسول اللّٰہﷺ كے چچا سیّدنا عباس سے عرض كی تھی: «یا عباس!لإسلامك یوم أسلمت كان أحبّ إلي من إسلام الخطاب، وما لي إني قد عرفت أن إسلامك كان أحب إلى رسول اللهﷺ من إسلام الخطاب»

''عباس ! جب آپ اسلام لائے تو آپ كا اسلام لانا مجھے میرے والد خطاب كے اسلام لانے سے زیادہ اچھا لگا۔ میرے نزدیك اس كی وجہ صرف اور صرف یہ ہے كہ میں جانتا تھا كہ اللّٰہ كے رسولﷺ خطاب كی نسبت آپ كے اسلام لانے كو زیادہ پسند كرتے تھے۔''

24. نبیﷺ كی اپنے اہل بیت كے متعلق وصیت كی لاج ركھنا۔ جو وصیت آپ نے ان الفاظ سے كی: «أُذْكِّرُكُمُ اللهَ فِيْ أَهْلِ بَیْتِیْ»

''اپنے اہل بیت كے بارے میں تمہیں اللّٰہ یاد دلاتا ہوں... ''

25. صحابہ كرام سے محبت ركھنا، ان كی عزت و توقیر كرنا اور بعد والوں سے ان كی فضیلت كا عقیدہ ركھنا كہ علم و عمل اور اللّٰہ كے ہاں مقام و مرتبے میں وہ بہت بڑھ كر تھے، اور جو كوئی صحابہ پر طعنہ زنی كی كوشش كرے یا ان كی تنقیص كرے، اُس سے بغض ركھنا۔

26.علماے دین سے محبت كرنا اور ان كی قدر كرنا۔ ان كے مقام كی وجہ سے ان کی قدر کرنا اور میراثِ نبوت سے ان كی وابستگی كی وجہ سے بھی، كیونكہ علما انبیاء﷩ كے وارث ہیں۔

نبی كریمﷺ كی نصرت و حمایت خاندان اور معاشرے كی سطح پر

27. رسول اللّٰہﷺ كی محبت پر بچوں كی تربیت اور ذہن سازی

28. تمام حالات میں اتباعِ رسولﷺ كا درس

29. كتبِ سیرت كی طرف بھرپور توجہ

30 .سیرت النبیﷺ پر كیسٹ اور سی ڈیز سے استفادہ

31 . بچوں كے لیے سیرت كے عنوان پر كہانیاں اور كتابچے فراہم كیے جائیں۔

32 . فیملی كے تمام افراد كم از كم ہفتے میں ایك بار سیرتِ نبوی پر درس كا اہتمام كریں۔

33 . خاوند اپنی بیوی سے سلوك كرتے ہوئے اُسوۂ نبوی سے بھر پور راہ نمائی لے۔

34 . بچوں كو مسنون اذكار و دعائیں یاد كرائی جائیں اور متعلقہ اوقات میں اُنہیں پڑھنے پر اُبھارا جائے۔

35 . بچوں كی روز مرہ كی مصروفیات كے ساتھ ساتھ ان میں احادیث پر عمل كا جذبہ پیدا كیا جائے۔ جیسے یتیم كی كفالت كا ثواب، كھانا كھلانے كی فضیلت اور ضرورت مندوں كی ضروریات پوری كر كے اس کا عملی اظہار كیا جائے۔

36 . نبی كریمﷺ نے مسلمانوں كی بابت جو مثالیں اور خوبیاں بیان فرمائی ہیں، مثلا:

«اَلْـمُؤْمِنُ كَیِّسٌ فَطِنٌ...» ''مؤمن دانا اور ذہین ہوتا ہے۔''

اسی طرح: «لَا یُلْدَغُ الْمُؤْمِنُ مِنْ جُحْرٍ وَاحِدٍ مَرَّتَیْنِ»

''مؤمن ایک سوراخ سے دوبار نہیں ڈسا جاتا۔''

اس قسم كے فرامین نبوی سنا كر بچوں كو اچھی عادات و خصائل كا عادی بنایا جائے۔

37.  گھروں میں سیرت كوئز پروگرام كرائے جائیں اور اُن پر انعام بھی دیا جائے۔

38 . رسولِ اكرمﷺ جس طرح اپنی گھریلو زندگی گزارا كرتے تھے، اس سے پورے خاندان كو متعارف كرایا جائے اور اسی انداز سے نظام چلانے كی كوشش كی جائے۔

تعلیم وتعلم سے وابستہ اَفراد میں نصرت و حمایتِ مصطفیٰﷺ

39 . طلباء و طالبات كے دلوں میں محبتِ رسولﷺ كے جذبے جاگزیں كیے جائیں اور اُمت پر آپ كے حقوق كا اظہار كیا جائے۔

40 . ایسے لیكچرز كا بكثرت اہتمام كیا جائے جو حیاتِ طیبہ كے تمام پہلوؤں كو شامل ہوں۔

41 . ڈاكٹریٹ اور دوسرے اعلیٰ تعلیمی مراحل میں سیرتِ نبوی كے مختلف پہلوؤں پر تحقیقات كرائی جائیں۔

42 . عالم اسلام اور یورپ كی نمایاں یونیورسٹیوں میں سیرت چیئر قائم كرنے كی طرف ذمہ داران كو مائل كیا جائے۔

43 . سیرت نبوی كے حوالے سے علمی اور تحقیقی مقالے پیش كیے جائیں اور اربابِ تحقیق كو مغازی اور شمائل پر علمی شہ پارے تیار كرنے پر آمادہ کیا جائے۔

44 . مدارس اور یونیورسٹیوں میں سیرت نمائش كا اہتمام كیا جائے۔ ان نمائشوں میں عہد نبوی كے جغرافیہ اور ماحول کے ماڈلز كا اہتمام وانتظام كیا جائے۔

45 . یونیورسٹیوں كی لائبریریوں میں رسولِِِ اكرمﷺ اور آپ كی سیرتِ مباركہ سے متعلقہ كتب كو علیحدہ كر كے نمایاں جگہ پر ركھا جائے اور موضوع پر مزید كتب اكٹھی كی جائیں۔

46 . سیرت كے موضوع پر انسائیكلو پیڈیاز كا اہتمام كیا جائے، اور پھر مختلف عالمی زبانوں میں اُن كا ترجمہ كیا جائے۔

47 . سیرت كے موضوع پر طلبا اور طالبات میں سالانہ مقابلے كرائے جائیں اور ان كے لیے فنڈ مختص كر كے بیش قیمت انعامات سے نوازا جائے۔

48 . كالجوں اور یونیورسٹیوں میں تربیتی وركشاپس كا انعقاد كیا جائے جن كی بدولت طلباء و طالبات میں محبتِ رسولﷺ كے جذبات پیدا ہوں اور سنّت سے آگاہی ہو۔

49 . تربیتی دوروں كا انعقاد كر كے ایسے راہ نما تیار كیے جائیں جو رسول اللّٰہﷺ كے طریقے كے مطابق راہ نمائی فراہم كریں۔

ائمہ كرام، داعیانِ دین اور طلباے علوم نبوت كی سطح پر نصرت و حمایتِ مصطفیٰﷺ

50 . رسولِ اكرمﷺ كی دعوت كے میدان میں اختیار كی جانے والی خصوصیات كا اظہار كیا جائے، اور لوگوں كو بتایا جائے كہ آپ كو سیّدنا ابراہیم كا دین دے كر بھیجا گیا ہے جو انتہائی آسان ہے، اور آپ كی دعوت كا بنیادی مقصد یہ تھا كہ تمام لوگ ہدایت پر آ جائیں اور صرف اور صرف اللّٰہ وحدہ لا شریک ہی كی عبادت كریں۔

51 . بلا امتیاز ہر طبقے اور میدان كے لوگوں كو اس دین كے قریب كیا جائے جسے لے كر آپ مبعوث ہوئے۔

52 .آپﷺ كے نبوت سے پہلے اور بعد كے اخلاق وكردار اور اَوصاف كو لوگوں كے سامنے ركھا جائے۔

53 .رسول اللّٰہﷺ كے اپنے اہل و عیال، ہمسایوں اور رفقا سے برتاؤ كو واضح كیا جائے۔

54 .نبی كریمﷺ یہود و نصاریٰ، مشركین اور منافقین سے كیسا برتاؤ كرتے تھے، اسے لوگوں كے سامنے ركھا جائے۔

55 .آپﷺ كے روزانہ كے معمولات كو واضح كیا جائے۔

56 .سیرت كے موضوع پر خطباتِ جمعہ كے علاوہ تمام خطبوں میں بھی سیرت النبیﷺ كے متعلقہ پہلوؤں پر روشنی ڈالی جائے۔

57 .نماز میں ان آیات كی تلاوت كریں جن میں آپﷺ كا كسی بھی پہلو سے تذكرہ ہے۔ اور نماز كے بعد 5، 7 منٹ میں ان آیات كی مختصر تفسیر بیان كر دیں۔

58 .مساجد اور مدارس میں حفظِ قرآن كی كلاسوں كے ساتھ ساتھ حفظِ حدیث كی كلاسوں كا بھی اہتمام كیا جائے۔

59 .عام لوگوں كے ذہنوں میں حدیث و سنّت كے متعلق جو اشكالات پائے جاتے ہیں، ان كی اصلاح كی جائے اور آپﷺ كے طریقہ و منہج كو اختیار كرنے كی تلقین كی جائے۔

60 .علما اور ائمہ كرام كے ایسے فتوے لوگوں كو بتائے جائیں جن میں اُنہوں نے شانِ رسالت مآبﷺ میں ہرزہ سرائی كرنے والوں كے متعلق فتوے دیے ہوں اور ایسا كرنے والوں سے بغض كا درس دیا ہو اور ان سے لا تعلقی كا اظہار کیاہو۔

61 .لوگوں كو دین كے قریب كرنا اور دین سے ان كا ناطہ جوڑنا۔

62 .عامۃ الناس كو رسولِ اكرمﷺ كی شان میں غلوّ سے دور ركھنا، اور اُنہیں نبی كریمﷺ كے ایسے فرامین یاد دلانا: «لَا تُطْرُونِيْ كَمَا أَطْرَتِ النَّصَارٰی ابنَ مَرْیَمَ»

''مجھے میرے مقام سے نہ بڑھانا جس طرح عیسائیوں نے عیسیٰ ابن مریمؑ كا مقام بڑھا دیا تھا۔''

اور اس كے ساتھ ساتھ اس بات كا اظہار كہ سچی محبت آپﷺ كی اتباع میں ہے اور لوگوں كو اہل بدعت اور خواہش پرستوں كے چنگل سے نكالنے كی جستجو كرنا ۔

63 . سیرت النبیﷺ كو بنیادی مصادر سے پڑھنے كی ترغیب دینا اور ان بنیادی كتب كے متعلق پوری وضاحت كرنا۔

64 . رسولِ اكرمﷺ كی ذاتِ مباركہ اور سیرتِ طیبہ كے متعلق كسی بھی نوعیت كے شبہات، خواہ وہ اشارةً ہوں یا صراحۃً، ان كا مكمل قلع قمع كرنا۔

صحافت اور ذرائع ابلاغ كی سطح پر نبی كریمﷺ كی نصرت و حمایت

65 . رسول اكرمﷺاور اُمّت كے خصائص كو متعلقہ مناسبتوں كی روشنی میں بھر پور طریقے سے میڈیا پر نشر كرنا۔

66 . كسی بھی ایسے پروگرام یا كالم كو نشر كرنے سے گریز جس میں آپﷺ كی سنّت كی بابت حقارت كا کوئی پہلو سامنے آتا ہو۔

67 . مغربی میڈیا كا بھر پور مقابلہ كرنا،خصوصاً جب وہ آپﷺ اور دین اسلام كے متعلق شبہات اور اتہامات كے دروازے كھولنا چاہیں۔

68 . میڈیا اورصحافت سے متعلقہ ان غیر مسلموں سے میٹنگیں جو تا حال انصاف كا دامن تھامے ہوئے ہیں اور ان كے سامنے نبی كریمﷺ كی سنت و سیرت كا اظہار

69 . مغرب كے انصاف پسند طبقے كی آپﷺ كے بارے میں آرا كا زیادہ سے زیادہ پرچار

70 . دنوں اور اوقات كی مناسبت سے سیرت كے متعلق پروگرام ترتیب دیے جائیں

71 . جدید ذرائع ابلاغ پر سیرت كے عنوان سے بڑے بڑے انعامی مقابلے كرائے جائیں۔

72 . سیرت پر مقالات، واقعات اور كالم لكھوائے جائیں۔

73 . اخبارات و رسائل كے چیف ایڈیٹرز كے ساتھ اس عنوان سے میٹنگ ركھی جائے كہ نبی كریمﷺ كی محبت واجب ہے اور آپ كی محبت اولاد، والدین اور تمام لوگوں سے بلكہ اپنی ذات سے بھی بڑھ كر ہونی چاہیے، اور آپﷺ كی محبت آپ كی توقیر و تعظیم كا تقاضا كرتی ہے اور آپ كی بات ہر ایك كی بات سے مقدم اور اعلیٰ ہے۔

74 . سافٹ ویئرز اورسی ڈیز تیار كرنے والی بڑی بڑی كمپنیوں كو اُبھارا جائے كہ وہ سیرت رسولﷺ پر سی ڈیز وغیرہ تیار كریں۔

75 . میڈیا كے ذمّہ داران كو اس بات پر اُبھارا جائے كہ وہ ایسے پروگرام نشر كریں جن میں رسول اكرمﷺ كے اوصاف اور اہم واقعات كا تذكرہ ہو۔

رفاہی تنظیموں كی سطح پر نصرت و حمایتِ مصطفیٰﷺ

76 . ایسی كمیٹیوں كا قیام جو رسول اللّٰہﷺ كی نصرت كا علم تھام لیں۔

77 . سیرت پر كانفرنسیں اور نمائشوں كے لیے محلے اور شہر كی سطح پر كچھ مقامات مختص كیے جائیں جہاں كتبِ سیرت كی نمائش كے ساتھ ساتھ ویڈیو اور آڈیو پروگرام نشر كیے جائیں جو رسالتِ محمدیہ علیٰ صاحبہا الصلوٰة والسلام كو نمایاں كریں۔

78 . ایسی مستقل جگہیں ہوں جہاں سے سیرت پر كتب اور سی ڈیز مل سكیں۔

79 . ماضی كی عظیم شخصیات میں سے ان پر سالانہ پروگرام كرائے جائیں جنہوں نے سنّت و سیرت پر گرانقدر خدمات انجام دیں، اور وہاں ملنے والے ایوارڈ كو انہی كے نام سے موسوم كیا جائے۔

80 . مختلف زبانوں سے سیرت پر كتب شائع كی جائیں اور اُنہیں مستشرقین سمیت بك سنٹرزاور یونیورسٹیوں اور لائبریریوں میں بھجوایا جائے۔

81 . ہر رفاہی تنظیم ایك میگزین كا اجرا كرے جس میں خصوصی طور پر سیرِت نبوی اور دین و اخلاق كے عنوان پر مضامین شائع ہوں اور اس امت كے اَوصاف كا تذكرہ ہو اور دین اسلام كی خوبیوں كا پرچار ہو۔

82 .لوگوں كو رسول ﷺ كی اعانت و نصرت پر مائل كرنے كیلیے فنڈ قائم كیا جائے، اوراسكے ذریعے سیرت پر تالیف و تصنیف كا كام كیا جائے اور اس كا ترجمہ كروا كر عالمی سطح پر پھیلایا جائے۔

سوشل میڈیا سے وابستہ لوگوں كی سطح پر نصرت و اعانتِ رسول ﷺ

83 .ایسے مقالات، مجموعے اور مضامین سوشل میڈیا پر اكٹھے كر كے لائے جائیں جن میں دینِ اسلام كی خوبیاں بھی ہوں اور اسلام كی نظر میں دیگر انبیاے كرام﷩ كے مقام و مرتبے اور محبت كا درس ہو، اور اسی طرح كے دیگر عنوانات بھی شامل ہوں۔

84 .سیرت النبیﷺ كے عنوان سے ویب سائٹس تیار كی جائیں اور سوشل میڈیا پر ایك حصّہ سیرت كے لیے مختص كیا جائے اور اس كے ذریعے آپ كی سیرت كو عالمی تناظر میں نمایاں كیا جائے۔

85 .دوسرے مذاہب كے لوگوں سے مكالمہ كیا جائے اور اُنہیں رسول اللّٰہﷺ اور آپ كےلائے ہوئے دین كے متعلق معلومات فراہم كی جائیں۔

86 . سوشل میڈیاپر نبی ﷺ كی سیرت اور وعظ ونصیحتِ نبوی اور احادیثِ مباركہ نشر كی جائیں۔

87 . مختلف ایام كی مناسبت سے آپﷺ كی سیرت كو جدید ذرائع ابلاغ پر لایا جائے، اور دعوتِ نبوی كے پہلو كو نمایاں كیا جائے۔ خصوصاً جب كوئی ہنگامی صورت پیش آئے تو اس كا ضرور اہتمام كیا جائے۔

88 . ان كتب اور لیكچرز كی نشاندہی كی جائے جو رسولِ اكرمﷺ كی سیرت سے متعلقہ ہوں۔

89 . نصرت وحمایتِ مصطفیٰﷺ کے موضوع پر ایسے چھوٹے چھوٹے جملے تیار؍جمع کیے جائیں، جنہیں میسج اور فیس بک وغیرہ پر دیا جا سکے۔

حكومتی اور بڑے بڑے مالدار لوگوں كی سطح پر رحمتِ دو عالمﷺ كی نصرت و دفاع كے پہلو

90 . سیرتِ نبویؐسے متعلقہ سرگرمیوں كو ہر سطح اور ہر انداز سے مكمل سپورٹ كیا اور اُنہیں سراہا جائے۔

91 . ان مقالوں اور تالیفات كو ملكی سطح پر شائع كیا جائے جو سیرت، احادیث اور نبیﷺ كے نصائح پر مشتمل ہوں۔

92 . حكومتی سطح پر سیرت كے عنوان سے تحقیق و ترجمے كے شعبے قائم كیے جائیں۔

93 . نبی كریمﷺ كی علمی وراثت اور كتبِ سیرت ڈسپلے كرنے كے لیے بڑے بڑے مكتبوں اور شورومز كا اہتمام كیا جائے۔

94 . سیرت اور سنت سے متعلقہ انٹرنیٹ پر حكومتی سطح پر كام ہو۔

95 . سیرت اور سنت كے موضوع پر كتب كی طباعت و اشاعت كا بھر پور اہتمام اور كیسٹیں اور سی ڈیاں تیار کی جائیں۔ جن كی مدد سے آپ كے اخلاق و شمائل كو مختلف زبانوں، خصوصاً انگریزی میں شائع كرایا جائے۔

96 . سیرت كے عنوان سے ملكی سطح پر انعامی مقابلے اور ان میں شریك ہونے والوں كی بھرپور حوصلہ افزائی۔

97 . سیٹیلائٹ چینل، ریڈیو اور اخبارات ورسائل میں سیرت النبیﷺ پر پروگرام نشر کیے جائیں اور مضمون شائع کروائے جائیں، انگلش زبان میں اس کا خاص اہتمام کیا جائے۔

98 . میڈیا کے مشہور ونامور چینلز سے کچھ وقت لے کر اس میں سیرت پر پروگرام نشر کیے جائیں۔

99 . مشورے ہم نے دیے، ایك مشورہ آپ یہاں اپنی طرف سے دیں اور پھر اس پر اور ان سب صورتوں پر عمل پیرا ہونے كی كوشش كریں۔

اللّٰہ تعالیٰ ہمیں رحمتِ عالمﷺ كی نصرت و اعانت كی توفیق نصیب فرمائے۔ آمین!
حوالہ جات

1. صحیح بخاری، حدیث:2783

2. صحیح بخاری، حدیث: ۳۶۸۸

3. المعجم الكبیراز طبرانی: ۸؍ ۱۱

4. صحیح مسلم، حدیث: ۲۴۰۸

5. موضوع حدیث ہے۔ ضعیف الجامع: ۵۹۰۴

6. صحیح بخاری:حدیث ۶۱۳۳

7. صحیح بخاری: 3445