پس منظر اور تعارف

الحمدالله رب العالمين والصلوة والسلام على سيدالمرسلين وعلى اله واصحابه اجمعين امابعد-

یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے۔ کہ جو قوم اللہ کے د ین کی سربلندی اور کفر کے انسداد کے لئے سر بکف ہوجاتی ہے۔اس قوم کی اللہ تبارک وتعالیٰ ضرور مدد کرتا ہے۔ اگرچہ تمام باطل قوتیں اس قوم اور جماعت کو دنیا سے مٹانے کے لئے متحد ہوجائیں اس پُر خلوص اور کفن بردوش قوم کو شکست نہیں دے سکتیں۔ہاں اس قوم کو بظاہر جب بھی کسی شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے تو وہ یا تو اس وجہ سے کہ انہی کا لبادہ اوڑھنے والے لوگ انہیں دھوکہ دیتے رہے یا مسلمان نما حاسدوں کے حسد کی وجہ سے انہیں نقصان پہنچا تاریخ گواہ ہے کہ جب سے شرار بولہبی،چراغ مصطفوی صلی اللہ علیہ وسلم سے ستیزہ کار رہا ہے۔ اس وقت سے آج تک یہ چراغ پھونکوں سے بجھایا نہیں جاسکا۔ ﴿وَاللَّهُ مُتِمُّ نُورِهِ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ﴾

اور جب بھی طاغوتی قوتوں نے اللہ کی سر زمین پر بغاوت کا علم بلند کیا تو اس بغاوت کے استحصال کے لئے قرآن وحدیث کے متوالے اپنی جانوں کو ہتھیلی پر رکھ کر میدان میں نکل آئے اور اللہ تبارک وتعالیٰ نے یقیناً ان کی مدد فرمائی۔اور جب بھی کسی ملک میں طاغوتی قوتوں نے سر اٹھایا تو کتاب وسنت کے علم بردار اس کی سرکوبی کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے اور ہر طرف سے "جَاھِدُوا" کی صدائے دلنواز آنے لگی۔

تاتاریوں نے اقوام عالم پر ظلم وبربریت کا آغاذ کیاتو امام ابن تیمیہ ؒ سے یہ ظلم وعدوان دیکھا نہ جاسکا۔انہوں نے مسلمانوں کو خواب غفلت سے بیدار کیا اور انکے دلوں میں جہاد کا ایک نیا ولولہ پیدا کرکےانہیں عملی میدان میں لے آئے ۔جس نے تاتاریوں کےعالمگیر خواب کو خاک میں ملا کر رکھ دیا۔

جب ترکوں نے حرمین شریفین میں شرک وبدعت پھیلا کر لوگوں کے دلوں سے اللہ کی کبریائی اور وحدت کو نکال کر قبروں اور غیر اللہ کی بڑائی جاگزین کردی تو شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب ؒ نے نجد کے ریگستانوں میں لوگوں کے دلوں میں اللہ کی توحید وعظمت کا نقش قائم کرنے کے لئے شب وروز جدوجہد کی اور جانگسل کارنامے سر انجام دئیے۔بے سروسامانی کے باوجود اللہ کی مدد سے ترکوں کے مشرکانہ غرور کو توڑ کر اللہ تعالیٰ کی وحدت کا علم سربلند کردیا۔جب ہندوستانی مسلمانوں پر مرہٹوں،سکھوں،انگریزوں اور فرانسیسیوں کے چارگونہ ظلم وستم نے جینا تنگ کردیا تو مسلمانوں کو مذکورہ بالا اقوام کے ظلم وستم سے نجات دلانے کے لئے سید احمد شہید ؒ اور سید اسماعیل شہید ؒ میدان جہاد میں نکلے اور مسلمانوں میں اسلام کی سر بلندی کے لئے ایک نئی روح پھونک دی۔

اسی طرح افغانستان میں جب سامراجی نظام اپنے ظلم واستبداد کے پنجے گاڑ ر ہا تھا،اس وقت سے علماء حق توحید ورسالت کے پروانوں کے دلوں کو کتاب وسنت کے نور سے منور کرنے میں کوشاں تھے۔اور سامراجی قوتیں اس نور کو بجھانے میں مصروف رہیں ان طاقتوں کی معنی کشمکش میں بالآخر روسی دیو استبداد نے افغانستان کو آدبوچا۔تو پھر کتاب وسنت کے پروانے روس سے ٹکرانے کے لئے بے خطر میدان جہاد میں کود پڑے۔

چنانچہ نورستان کی پہاڑیوں اور درہ پیچ کی وادیوں سے کتاب وسنت کے یہی علمبردار اٹھے اور روس کی طاغوتی طاقت کے سامنے سینہ سُپر ہوگئے۔تاریخ گواہ ہے کہ افغانستان پر یلغار کرنے والی طاغوتی طاقت کے سامنے سب سے پہلے نورستان کے جاں نثار ہی سینہ سپر ہوئے۔درہ ویگل نورستان کے لوگوں نے انقلاب کے چوبیسویں دن سامراجی طاقت کے سامنے آواز اٹھائی اور شرقی نورستان کے لوگ انقلاب کے پانچویں مہینے افغانستان سوشلسٹ حکومت کے خلاف میدان جہاد میں اُتر آئے۔ان کے علاوہ پورے افغانستان کے مسلمان اس عمل جہاد میں حصہ لینے پر مبارکبار کے قابل ہیں۔اللہ تعالیٰ ان کی نصرت اور مدد فرمائے۔آمین!

نورستان اور درہ پیچ کے مسلمان اس وقت روسی طاقت سے نبردآزما تھے،جبکہ ان کو کھانے پینے کے لئے کسی طرف سے کسی قسم کی امداد میسر نہیں تھی۔یہ مجاہد بے سروسامانی کے عالم میں فقط خداوند قدوس کی نصرت پر ایک سپر طاقت کے ساتھ شب وروز جہاد میں مصروف تھے۔چنانچہ آج ہم دیکھتے ہیں کہ افغانستان کی سرزمین پر ایک مملکت بنام دولت انقلابی اسلامی افغانستان قائم ہوچکی ہے۔جو بحمداللہ بہ احسن وخوبی اپنے فرائض سر انجام دے رہی ہے۔اب تک اس کی امداد پاکستان کے اہل حدیث بھائیوں نے کی ہے۔چنانچہ راقم الحروف کے توسط سے نورستان شرقی وغربی اور درہ پیچ جو نورستان وسطی کی ابتدا ہے،درہ نور وغیرہ تک نقدی کپڑے ادویات۔۔۔مورچوں میں کھانے کے لئے چینی ،چائے،گڑ اور دریا عبور کرنے کے لئے جالوں اور ٹیوب وغیرہ کی امداد پہنچائی گئی ہے۔میں ان تمام معاونین حضرات کا شکر گزار ہوں بالخصوص مولانا محمد یوسف صاحب مرحوم گکھڑوی،جناب مولانا محمد خالد صاحب گھرجاکھی،جناب قاری محمد یحییٰ خاں صاحب اور حکیم محمود صاحب وغیرہ کاتہہ دل سے شکر گزار ہوں کہ انہوں نے جہاد فی سبیل اللہ نیز اپنے مسلک کی اعانت واشاعت کے لئے اپنے شب وروز ایک کرکے کسی قسم کی امداد سے دریغ نہیں کیا۔

یہ بھی یاد رکھنے کی بات ہے۔ کہ کتاب وسنت کے علمبرداروں کو کسی قسم کی امداد نہیں دی گئی جو دوسرے ملکوں سے ان مفلوک الحال افغانیوں کی امداد کے لئے آرہی ہے۔ان کی نگاہیں صرف اورصرف اللہ تعالیٰ کی اعانت اور اپنے سلفی بھائیوں کی پر خلوص دعاؤں کی منتظر ہیں۔

ہم بھی دعا گو ہیں کہ رب کائنات سرزمین افغانستان کو روس اور روس کی ہمنوا حکومت کے تسلط سے پاک کرکے اس سرزمین کی مکمل زمام اقتدار قرآن وحدیث کے عاملین کے ہاتھوں میں دےدے۔اور دنیا کے کونے کونے میں جہاں مسلمان کسی بھی غیر مسلم ظالموں کے شکنجے میں کسے ہوئے ہیں،ان کو نجات دے کر تمام عالم کی زمام حکومت قرآن وحدیث کے عاملین کے ہاتھ میں دےدے۔آمین یا رب العالمین (ابو عمر عبدالعزیز النورستانی)

تعارف:


نورستان کا محل وقوع:

نورستان ،صوبہ بدخشاں کے جنوب میں صوبہ کنڑ اور پغمان کی شمالی تین وادیوں پر مشتمل ہے۔نورستان کے مغرب کی طرف پنج شیر(صوبہ کاپیسا) اور مشرق کی طرف پاکستان کا علاقہ چترال اور دیر ملا ہوا ہے۔یہ علاقے زیادہ تر پہاڑوں پر مشتمل ہیں اور مشہور سلسلہ کوہ ہندوکش کے دامن میں واقع ہیں۔تینوں وادیوں کی مشرقی وادی کو شرقی نورستان،درمیانی وادی کو وسطی نورستان اور غربی وادی کو غربی نورستان کہتے ہیں۔وسطی نورستان کے تین حصے ہیں۔ایک کو پاروں دوسرے کو کنیتوا اور تیسری وادی کو وائیکل کہتے ہیں۔جبکہ غربی نورستان چار چھوٹی چھوٹی وادیوں میں بٹا ہوا ہے۔پہلی وادی کو کلم دوسری کا نام شوک تیسری کا نام پوشال اور چوتھی کو پاردیش کہا جاتا ہے۔

نورستانی قوم:

نورستانیوں کا دعویٰ ہے کہ وہ نسلاً خاندان قریش سے تعلق رکھتے ہیں۔ان کی تہذیب وتمدن ،عادات اور مزاج اس بات پر شاہد ہیں کہ یہ آبائی طور پر عرب کے مہاجرین ہیں۔اس دعویٰ پر ایک قرینہ یہ بھی ہے کہ اپنی تہذیب کے لحاظ سے یہ قوم اپنے ارد گرد کے قریبی علاقوں کی قوموں سے بالکل مختلف ہے۔فتح مکہ کےوقت اسلام سے فرار ہوکر عراق میں داخل ہوئے۔صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین نے تعاقب کیا تو بھاگتے ہوئے کابل تک پہنچ گئے۔حضرت عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی کمان میں کابل تک مجاہدین آئے تو انہوں نے جلال آباد کے نواح میں حکامہ نامی جگہ پر پناہ لی۔کچھ عرصہ بعد مقامی لوگوں سے تعلقات خراب ہونے پر مذکورہ بالا وادیوں میں پناہ لے کر یہیں کے ہورہے۔

تہذیب وتمدن:

تمام نورستان میں لوگوں کا ذریعہ معاش کھیتی باڑی،بھیڑ بکریاں اور گائے پالنا ہے۔دوسرے علاقوں سے بلند پہاڑوں کی وجہ سے کٹا ہونے کی بناء پر افغانستان کی کرنسی بھی وہاں بہت کم چلتی ہے۔زیادہ ترلین دین گئے بکری اور بھیڑوں کے ذریعہ سے کرتے ہیں۔پسماندگی کا یہ حال ہے کہ کپڑا ،جوتا،چینی،نمک،ماجس،مٹی کا تیل اور دیگر تمام مصنوعی اشیائے صرف چترال(پاکستان) سے درآمد ہوتی ہیں۔داؤد کے دور میں کابل سے برگ متال تک سڑک آتی تھی جو مسلسل سوشلسٹ لشکروں کی تباہی کی وجہ سے کچھ تو ٹوٹ گئی اور کچھ مجاہدین نے مزید خطر سے بچنے کے لئے رکاوٹوں سے بند کردی ہے۔نورستان کو چترال سے ملانے والے دوراسے(گرم چشمے والا اور بمبرت والا)دسمبر سے اپریل تک ہر قسم کی آمدورفت کے لئے برف باری کی وجہ سے بند رہتے ہیں۔ننگر ہار سے ایک راستہ روسی چوکی کےقریب سے گزر کرجاتا ہے۔جو کچھ وجوہات کی بنا ء پر دو سال بند رہنے کے بعد اب کھلا ہے۔یہ راستہ سارا سال کھلا رہتا ہے۔مگر جب روسی چوکی کے قریب سے گزرنا ہوتاہے تو کسی بھی اچانک حملے کے پیش نظر پُر خطر بھی ہے۔نورستان کے بعض پہاڑوں میں نیلم،بیروج اور لاجورد قسم کا قیمتی پتھر پایا جاتا ہے۔جسے بغیر ڈریل مشینوں کے نکالنا جان جوکھوں کاکام ہے اور مشنری وہاں بالکل ناپید ہے۔لوگ مٹی کاتیل روشنی کے لئےبڑی مشکل سے لیکر جاتے ہیں کجا یہ کہ مشینیں مہیا کریں۔

پیدا وار:

پورے نورستان میں برف کی وجہ سے سارے سال میں ایک فصل کی کاشت کی جاتی ہے صرف وادی وائیگل میں دو فصلیں کاشت کی جاسکتی ہیں۔شرقی نورستان میں زیادہ تر مکئی اور سبزیات میں سے آلو،حلوہ کدو،لوبیا اور مٹر کاشت کیاجاتا ہے۔سرد علاقے کا ہر قسم کا پھل وہاں پایا جاتا ہے۔مگر لوگ زیادہ تر توت۔اخروٹ۔خوبانی۔سیب۔انگور۔آلوچہ۔آڑو۔انار اور عناب وغیرہ کی باغبانی کرتے ہیں۔

وسطی نورستان میں زیادہ تر گندم کاشت کی جاتی ہے اور سبزیات میں سے آلو۔حلوہ کدو۔پھلوں میں سے مذکورہ پھلوں کے علاوہ خودروجنگلی بادام اور چلغوزہ تو بہت ہوتا ہے۔یہی صورت حال غربی نورستان کی ہے۔نورستان میں چلغوزہ تو بہت ہوتا ہے۔مگر لوگ ذخیرہ کرنے کے شوقین نہیں ہیں۔

یہ لوگ گرمیوں میں اپنے اپنے ریوڑ لے کر بلند چراگاہوں کی طرف نکل جاتے ہیں اور گھاس اگا کر سردیوں کے لئے ذخیرہ کرلیتے ہیں۔دودھ کی پیداوار بہت ہے جس سے پنیر گھی اور کروت تیار کرتے ہیں۔گرمیوں میں کروت اور پنیر سالن کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔اور سردیوں میں گوشت کثرت سے کھاتے ہیں۔جیسا کہ پہلے زکر کیا جاچکا ہے نورستان میں زیادہ تر علاقہ پہاڑی ہے۔اس کے نقشے سے آپ اس بات کا بخوبی اندازہ لگاسکتے ہیں کے آبادی کے قابل علاقہ کس قدر ہے؟ اور جو علاقہ آبادی کے قابل ہے۔اس میں سے بھی آبادی صرف ان علاقوں میں ہے جو چوڑائی میں دوسرے علاقوں کی نسبت زیادہ فراخ ہیں۔لوگ اپنے گھر نہایت مختصر اور خوب صورت بناتے ہیں۔جنگلوں میں دیار کی لکڑی عام پائی جاتی ہے۔پتھروں اور بڑے بڑے شہتیروں کی مدد سے دیواریں بناتے ہیں اور لکڑی کی نہات مضبوط چھتیں تیار کرتے ہیں۔جیسا کہ برصغیر کے دیہاتوں میں بیگار کا رواج ہے اسی طرح وہاں بھی رواج ہے مکان بناتے وقت صرف لکڑی کی مزدوری پ اخراجات اٹھتے ہیں۔

کفر سے اسلام تک:

آج سے تقریباً پون صدی قبل 1896ء تک یہ لوگ بت پرست تھے ۔جنات سے امداد طلب کرتے اور ان کے نام پر مال کی قربانی دیتے۔ہر وادی میں ایک جن کو ذمہ دار بناتے۔گویا جس طرح کےعرب قبائل مشرک اور بُت پرست تھے۔اور یہی حال ان کاتھا۔

اولاد نرینہ کو بہت پسند کرتے حتیٰ کہ اپنی لونڈیوں کو اظہار خوشی میں آزاد کردیتے،عورتوں کی خریدوفروخت کرتے۔اموال کی تقسیم میں بالاقلام کرتے۔دوسری قوموں کے ساتھ لڑائی میں غلام بنا کر ان سے جبری کام لیتے۔غرض کہ عقائد ۔سماج اورمعاش کی بُرائیوں میں اپنے آباءواجداد سے کسی طرح کم نہ تھے۔

1896ء میں امیر عبدالرحمٰن(والی افغانستان) نے ان قبائل کو زیر کرنے کے لئے غربی نورستان پر حملہ کردیا۔اگرچہ یہ نہتے تھے مگر امیر عبدالرحمٰن نے پھر حملہ کردیا۔اور راستوں کے مسدود ہوجانے ایک دوسرے کے ساتھ ر ابطہ نہ ہونے اور پھر نہتے ہونے کی وجہ سے یہ لوگ مغلوب ہوگئے والی افغانستان ان میں سے تقریباً سوا دو سو افراد اپنے ساتھ کابل لے گیا تاکہ انہیں دین سے آشنا کرواسکے۔آنے والے سال اس نے نورستان وسطی پر چڑھائی کرکےفتح کرلیا اور بہت سے مبلغین لا کر ان میں چھوڑ دیے۔پھر کچھ سال بعد شرقی نورستان پر یلغار کردی کافی جدوجہد کےبعد انھیں بھی مغلوب کرلیا گیا۔اور یہاں کچھ مبلغین بھیج دئیے گئے مگر بعض قبائل نے کچھ مبلغین کو قتل کیا اور پاکستانی علاقہ بمبرت اڑمبور گرم چشمہ گابور اور دروش کے علاقہ کو سدھار گئے اور وہیں آباد ہورہے۔بعد میں اپنے قبائل سے میل میلاپ کی وجہ سے انہوں نے بھی اسلام قبول کرلیا۔

امیر عبدالرحمٰن کے مذکورہ واقعہ کے بعد یہ تمام قبائل حنفی المسلک ہی چلے آرہے تھے مگر آج سے تقریبا تیس سال قبل ایک ایسی تحریک اٹھی جس نے ان لوگوں کی کایا پلٹ کررکھ دی۔اس سلفی تحریک کے مجددین میں سے سر فہرست مولانا محمد ابراہیم صاحب،مولانا محمد افضل صاحب، اور مولانا محمد اسحاق صاحب ہیں۔

مولانا محمد افضل صاحب کے مختصر حالات:

آپ کا آبائی گاؤں نیک موک (سابقہ نام بدھ موک) شرقی نورستان میں برگ متال سے کامدیش کی طرف ایک گھنٹہ کے پیدل فاصلہ پر واقع ہے۔آپ کے والد کا نام سید محمد تھا،(سول جج)ہیں۔جب آپ تقریباً د س سال کے ہوئے تو آپ کے والد نے آپ کو دینی تعلیم کے لئے آپ کے بڑے بھائی مولانا محمد نور صاحب کے پاس بھیج دیا ۔تین سال تک ابتدائی فنون کی کتابیں پڑھتے رہے۔پھر پاکستان کے شمالی علاقہ منگورہ اور سوات کے مختلف مدارس میں تین سال تک ابتدائی کتابیں پڑھتے رہے۔مدرسہ سے چھٹیاں ہونے پر وطن واپس آئے۔اور پھر کچھ عرصہ گھر رہنے کے بعد لوگو اور کابل کے مدارس کو روانہ ہوئے ۔دو اڑھائی سال کے بعد دوبارہ پاکستان کو چل نکلے۔اورپشاور مردان کے مختلف مدارس میں زیر تعلیم رہے۔اور پھر آٹھویں سال دارالعلوم حقانیہ اکھوڑہ خٹک میں دورہ حدیث مکمل کرلیا۔اس دوران صرف کتاب وسنت کا ہی مطالعہ کیا۔

تعلیمی عرصہ کے دوران مولانا محمد ابراہیم صاحب سے آپ کی ملاقاتیں ہوتی رہیں۔مولانا محمد ابراہیم چونکہ مولانا موصوف سے قبل سلفی عقیدے کا زیور پہن چکے تھے۔اس لئے آپس کی ملاقاتوں سے مولانا موصوف دورہ حدیث کے دوران ذاتی مطالعہ اور کچھ بحث وتمحیص سے سلفی عقیدہ اپنا چکے تھے۔مولانا محمد افضل صاحب جب تعلیم سے فارغ ہوکر وطن واپس آ ئے تو آبائی گاؤں نیک موک میں فرداً فرداً تبلیغٖ کا کام شروع کردیا۔حقیقت پسندی کا وہ جذبہ جو دل میں پیدا ہوچکا تھا۔پروان چڑھ گیا اورسلفی عقیدہ میں اس قدر بیگانہ ہوگئے کہ جس کسی سے بحث کرتے لاجواب کردیتے۔

مولانا محمد ابراہیم کے مختصر حالات:

آپ نورستان کے سرحدی گاؤں پشاور میں 1933ء میں پیدا ہوئے۔والد کا نام خان محمد تھا جو علمی لحاظ سے حنفیت میں صرف سوجھ بوجھ رکھتے تھے۔بیس سال کی عمر سے قبل اپنے ماموں محمد اسلم سے فقہ میں ہدایہ تک تعلیم مکمل کرلی۔پھر پاکستان کے شہر پشاور کے نواح میں واقع گاؤں تر نو کے مدرسہ میں دو سال تک صرف ونحو اور ابتدائی منطق کی کتب پڑھنے کے بعد وطن واپس آگئے۔آئندہ سال تہکال بالا میں مولانا عبدالہادی کے والد ماجد مولانا عبداللہ جان کے پاس قرآن مجید کا ترجمہ مع تفسیر اور مشکواۃ کا کچھ حصہ تین ماہ میں پڑھا۔مولانا عبداللہ جان صاحب سے عقیدہ سلف میں زانوئے تلمذ تہ کرنے کے بعد فرط مسرت میں جذیہ حق گوئی کے ساتھ وطن واپس ہوئے اور خوب دعوت حقی دینی شروع کردی۔کچھ عرصہ کے بعد دوبارہ تعلیم کے لئے کراچی میں مولانا عبدالستار صاحب کے پاس دو سال تک حدیث پڑھتے رہے۔پھرگوجرانوالہ میں شیخ الحدیث والتفسیر حافظ محمد صاحب سے تین ماہ تک بخاری پڑھتے رہے۔اس کے بعد سوات میں تین سال تک منطق حکمت ریاضی اور علم ادب پڑھتے رہے اور پھر وطن واپس لوٹ آئے۔آبائی گاؤں میں درس حدیث شروع کردیا۔جب لوگوں نے درس حدیث سنا اور فقہ حنفی کی کارفرمائیاں واضح ہوئیں تو گاؤں کے پیش امام ملا جان محمد ترکستانی کو سوالیہ نظروں کا سامنا کرنا پڑا اور اس نے مسجد سے چراغ اٹھوالیا تاکہ درس جاری نہ رہ سکے۔مولانا موصوف نے اپنے چند شاگردوں سے چترال سے تیل اور چراغ منگوا کر درس جاری رکھا۔جب پیش امام نے کام بنتا نہ دیکھا تو آبائی علاقہ ترکستان کو فرار ہوگیا۔ادھر شرپسندوں نے ضلعی حکام پھر صوبائی حکام کو مولانا کی رپورٹیں دینی شروع کردیں جن کے ایماء پر آپ کو جیل بھیج دیا گیا۔کافی صعوبتیں جھیلنے کے بعد اس شرط پر رہا کردئے گئے۔کہ آئندہ درس حدیث سے باز آئیں گے وگرنہ پھانسی پر لٹکا دیا جائے گا۔گاؤں واپس آنے کے بعد خفیہ طور پر درس جاری رکھا مگر جب دوبارہ کابل رپورٹ کردی گئی کہ یہ شخص باز نہیں آتا تو آپ اپنے عزیز واقارب کی جانوں کے خوف سے ہجرت کرکے پارون(نورستان وسطی) کو چل دیئے اور اس وادی کے مشہور گاؤں اشٹیو میں درس حدیث کا سلسلہ جاری کردیا مقامی عوام کی طرف سے دوبارہ کابل رپورٹ ہونے پر پولیس کی ایک کار گرفتار کرنے کو پہنچ گئی۔پولیس کی آمد سے قبل آپ کو اطلاع ہوچکی تھی۔آپ مسجد میں درس حدیث دے رہے تھے کہ ایک مخبر حالات کا جائزہ لینے کے لئے آیا آپ کو درس حدیث میں مصروف پا کر چل دیا ادھر مولانا موصوف نے بھی اس کے پیچھے چلنا شروع کردیا۔مخبر نے انسپیکٹر کی راہ لی مگر مولانا موصوف نے اپنا راستہ ایک اونچی چٹان کی طرف کرلیا اور اس پر بیٹھ کر پولیس کے گھیراؤ کا نظارہ کرنے لگے پولیس نے مسجد کے گھیراؤ کے بعد جب مسجد کی تلاشی لی تو مولانا موصوف کے علاوہ صرف شاگردوں کو محو مطالعہ حدیث پایا۔شاگردوں کو گرفتار کرنے کے بعد پورے گاؤں کا محاصرہ کرلیاگیا صبح کے وقت جب گاؤںمیں آپ کونہ پایا گیا تو گاؤں سے نکلنے والے راستوں کی ناکہ بندی کردی مولانا موصوف نے ایک انتہائی پر خطر راستے سے دوسری وادی کینتوا کی ر اہ لی۔پولیس جب آپ کو گرفتار کرنے میں ناکام رہی تو ناکامی کا بدلہ رپورٹیں دینے والے لوگوں کی گرفتاری اور پٹائی کی صورت میں دیا۔آخر جب رہا ہوئے تو انہوں نے آئندہ شکایت کرنے سے توبہ کرلی آپ حالات معمول پر آنے کے بعد دوبارہ واپس آگئے۔

تحریک کی ابتداء وآزمائش:

نورستان وسطی میں مولانا ابراہیم صاحب آوازہ محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے اپنا تن من دھن وقف کئے ہوئے تھے۔ادھر مولانا محمد افضل صاحب اپنے گاؤں میں دعوت حق دیئے جارہے تھے ۔اور تیسرے مرد مجاہد مولانا محمد اسحاق صاحب اپنے آبائی گاؤں پپڑوک میں فرض کی ادائیگی میں کوشاں تھے۔قرآن وحدیث کا یہ فیضان دیکھ کر جامد قسم کی تقلید تلملا اٹھی۔جسمانی تکالیف اور اذیت سے آزمائش شروع ہوگئی۔قتل کی دھمکیاں دی گئیں۔مساجد سے دھکے دے کر نکال دیا گیا۔اور پھر جب علاقہ کے بڑے بڑے علماء حنفیہ آواز حق کی تاب نہ لاسکےتو گورنر کے پاس جا پہنچے اور شکایت کی کہ تین ملحدین (نعوذ باللہ) ملک کے سرکاری مذہب کے خلاف آواز اٹھا کر آئے دن لوگوں کو ملحد بنا رہے ہیں۔گورنر کے فوری حکم پر تینوں مبلغین کو آناً فاناً حاضر کردیا گیا۔ مگر اس نے جب یہ محسوس کیا کہ وہ اپنے اندر حقائق کو ٹھکرانے کی جرائت نہیں پاتا تو یہ مقدمہ کابل روانہ کردیا ۔چونکہ انہوں نے سرکاری مذہب کے خلاف آواز اٹھائی تھی۔ اس لئے ان کے خلاف کابل سپریم کورٹ میں توہین عدالت کا مقدمہ دائر کرکے جیل بھیج دیا گیا۔ جب عدالتی کاروائی ہوئی تو گورنمنٹ افغانستان کی نگرانی میں کئی مناظرے بھی ہوئے جس میں بڑے بڑے شہ زور علماء احناف کو دلائل کی تاب نہ لانے پر سخت پشیمانی کا سامنا کرنا پڑا بار بار موصوفین کو پکڑا گیا زدو کوب کیا گیا مگر حق کا جذبہ دبایا نہ جاسکا۔

احناف کے احساسات:

اسی دوران مولانا محمد ابراہیم صاحب کو ظاہر شاہ نے کہا کہ ملک کے دستور کے مطابق ہر سربراہ مملکت کے لئے ضروری ہے کہ وہ مسلکاً حنفی ہو ۔مولانا موصوف نے فرمایا کہ ایسا کرنا سربراہ مملکت کے لئے ضروری ہے۔ میں تو سربراہ نہیں ہوں۔آخر جب گورنمنٹ نے موصوفین کے دلائل مضبوط پائے اور تو کوئی سزا نہ دے سکے۔مگر اشٹام پر یہ لکھوالیا گیا۔آئندہ تم لوگ آواز حق بلند نہیں کرو گے۔ورنہ پھانسی کے پھندے تمہارے لئے تیار ہیں۔اسی وجہ سے موصوفین اپنا علاقہ چھوڑ کر دوسرے علاقوں میں منتقل ہوگئے۔ ایک سال پردیس میں گزارنے کے بعد جب حالات نے پلٹا کھایا تو اپنے اپنے گاؤں میں واپس آگئے۔اب چونکہ افرادی قوت بڑھ چکی تھی اور خُدا کی مدد سے حمایت میں لوگ پیش پیش تھے۔اس لئے اب پہلے سے زیادہ سرگرمی سے قرآن وحدیث کی تبلیغ شروع کردی۔ابتدائے تحریک میں موصوفین کی سخت مخالفت کی گئی تھی۔مگر ایک دور ایسا بھی آیا کہ بعض علمائے احناف نے بھی شرک وبدعت ٖغیر اسلامی رسومات کے خلاف موصوفین کا بھر پور ساتھ دیا اور اب تک اعلاء کلمۃ اللہ کے لئے ان کے تعاون میں کوشاں ہیں۔

انقلاب:

ظاہر شاہ کے دور میں ہر سو علمائے حق سلفی دعوت کی اشاعت میں مصروف تھے۔اسی طرح بعض حق قسم کے علمائے احناف بھی شرک وبدعت کے خلاف ان کے ساتھ اتحاد کرچکے تھے۔تو اس وقت ظاہر شاہ کی منافقانہ پالیسیوں سے نمٹنے کے لئے تمام شرقی نورستان کے علماء اکھٹے ہوئے اور مولانا افضل صاحب کو اصلاح احوال کےلئے اپنا مشترکہ امیر چن لیا۔کام جاری تھا کہ داؤد خلق اور پرچم کی شہ کرسی اقتدار پر براجمان ہوا تو علمائے اسلام کو فکر ہوئی کہ خوانخواستہ یہ انقلاب سوشلسٹ زور نہ پکڑ جائے۔انہوں نے دوبارہ اجلاس میں مولانا محمد افضل صاحب کو اپنا امیر مقرر کرکے تجدید عہد کیا اور عوام میں زور شور سے کام شروع کردیا۔اور اچانک نور محمد ترہ کیئ کرسی اقتدار پر نمودار ہوا تو اس نے کھلم کھلا ملحدانہ کام کرنا شروع کردیئے اور روسی مشیروں کو آزادانہ عمل دخل کی اجازت دے دی۔اس پر میزان 1357شمسی ہجری میں شرقی نورستان کے تمام علمائے سلف اور احناف اکھٹے ہوئے اور مولانا محمد افضل کے ہاتھ پر بیعت کرتے ہوئے یہ عہد کیا کہ ہم ان شاء اللہ تعالیٰ افغانستان میں اسلامی جھنڈا بلند کرتے ہوئے کتاب وسنت کے نفاذ کا عملی قدم اٹھائیں گے۔اور پھر باقاعدہ منصوبہ بندی شروع ہوگئی ابھی یہ تحریک انھی مراحل میں تھی کہ کابل میں اطلاع ہوگئی کہ بغاوت ہونے والی ہے تو گورنمنٹ نے وہ گاؤں جو کامدیش چھاونی کے متصل تھا اور جہاں سے بغاوت کی ابتداء ہونے والی تھی تہس نہس کرنے کا پروگرام بنا لیا۔خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ یہ خبر علماء کو پہنچ گئی۔تو پیشتر اس کے کہ روسی ایجنٹ اور کمیونسٹ وحشی گورنمنٹ حملہ کرتی مجاہدین نے تحصیل کامدیش پر حملہ کردیا اور ساتھ ہی مذکورہ چھاؤنی کی شاخ برگ ستال پر بھی ہلہ بول دیا۔

اسی اجمال کی مکمل تفصیل یوں ہے کہ کامدیش چھاؤنی پر حملہ کرتے وقت مولانا عبداللہ طویل کی کمان میں مجاہدین کی تعداد تقریباً چار سو تھی۔ان کے پاس صرف ایک سو عدد درے کی بنی ہوئی نہایت پُرانے ماڈل کی ایک فائر کرنے والی رائفلیں تھیں اور باقی مجاہدین کے پاس کلہاڑے،بیلچے،اور ڈنڈے اور کچھ مجاہدین کےپاس دستی بم تھے۔ادھر چھاؤنی کے اندر چار سو سے زائد افراد کلاشن کوفوں۔مشین گنوں۔راکٹ لانچروں۔ہلکی مشین گنوں اور بکتر بند گاڑیوں سے مسلح تھے۔تین دن مجاہدین نے چھاؤنی کا گھیراؤ رکھا۔اور خوب مقابلہ ہوتا رہا۔آخر تیسری رات کو دو مجاہدین دستی بموں سے لیس ہوکر چھاؤنی کے اندر گھس گئے پھر خوب گھمسان کا رن پڑا اور ایک سو ستر سوشلسٹ تمام اسلحہ بلیس مقتولین اور کچھ زخمی چھوڑتے بھاگتے بنے۔اور بعض کو گرفتار کرلیاگیا ادھر برگ متال میں جن میں سپاہیوں اور سوشلسٹوں کی تعداد تین سے کے لگ بھگ تھی اور جو ہر قسم کے ہلکے اسلحے سے مسلح تھے ان کو صرف اڑھائی سو مجاہدین نے مذکورہ رائفلوں اور دستی بموں سے ایک رات میں مغلوب کرلیا۔

جب مجاہدین نے مذکورہ دونوں چھانیوں کو فتح کرلیا۔ تو شرقی نورستان کی آخری حدود میں واقع سوشلسٹ افغانستان کے صوبہ کنڑھ کی سب سے بڑی چھاؤنی کو چل دیئے ابھی راستے میں ہی تھے کہ جلال آباد سے بہت بڑا بکتر بند دستہ مجاہدین کی سرکوبی اور کامدیش کو بچانے کےلئے پہنچ گیا۔نہایت تنگ وادی میں مجاہدین اور ان کے درمیان ایک دن رات مسلسل زبردست لڑائی ہوتی رہی آخر یہ دستہ تین مقتولین اور بہتر قیدیوں کو مع اسلحہ مجاہدین کے ہاتھوں چھوڑ کر بھاگتا بنا۔ادھر افغانی حکومت کے دارالحکومت میں سخت افراتفری پھیل چکی تھی۔پھر انہوںنے جلال آباد سے لے کر صوبہ کنڑ تک کے تمام علاقے کو لوگوں کی حمایت حاصل کرتے ہوئے تقریباً پچیس ہزار مسلح افراد کے ساتھ مجاہدین پر حملہ کردیا۔اسی مذکورہ تنگ وادی میں تین ماہ زبردست معرکہ ہوتا رہا جس میں مجاہدین کا بھی بہت جانی نقصان ہوا۔آخر اسلحہ کی قلت اور مسلسل جنگ کی تھکاوٹ نے مجاہدین کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کردیا تو انھوں نے دوبارہ کامدیش چھاؤنی پر قبضہ کرلیا۔ دوبارہ منظم تیاری کے بعد مجاہدین نے جلال آباد سے کامدیش کو آنے والے راستہ بند کرکے کامدیش چھاؤنی کی امداد روک دی۔جب افغان سوشلسٹ فوج نے اپنا ناطقہ بند ہوتا دیکھا۔تو جلال آباد سے ایک اور لشکر ان کی امداد کے لئے روانہ کیا چونکہ مجاہدین نے راستہ مسدود کردیا تھا۔اور مذکورہ آنے والی کمک کی گھات لگائے بیٹھے تھے جونہی لشکر ان کی زد میں آیا انہوں نے اچانک حملہ کردیا۔چالیس کے لگ بھگ فوجی گاڑیاں تباہ کردیں بیس سوشلسٹوں کو قتل کیا ایک سو بیس کو گرفتار کیا اور باقی راہ فرار اختیار کرگئے۔جب محصور فوج نے یہ صورت حال دیکھی۔تو بغیر پسپا ہوئے بن نہ پڑی۔اس کے بعد صوبہ کنڑ کی بہت بڑی چھاؤنی بری کوٹ درہ پیچ اور اسماء پر یکے بعد دیگرے حملے شروع کردیئے۔آئندہ سال برج جوزا 1358شمسی ہجری میں صوبہ بدخشاں کو وسطی نورستان سے مولانا امیر عالم کی امارت اور مولانا عبدالحئی سلفی (جو شہید ہوچکے ہیں)کی کمان میں دو سو افرادروانہ ہوئے ۔ابھی یہ دستہ حق نونامی گاؤں میں پہنچا تھا کہ سوشلسٹ فوج نے گاؤں کا گھیراؤ کرلیا۔ایک دن کے زبردست معرکے کے بعد مجاہدین نے ان کا محاصرہ توڑدیا۔ اور ان کاتعاقب کرتے ہوئے وادی منجان اور کران کو فتح کرلیا۔پھر لاجوردپتھر کی کان جو گورنمنٹ کے کنٹرول میں تھی پر حملہ کرکے دو سو سوشلسٹ افراد کو قتل کردیا۔بعد ازاں شرقی نورستان سے تین سو افراد کا لشکر بھی ان کے پاس پہنچ گیا اور پھر انہوں نے جرم زیباک اور بارک وغیرہ کو فتح کرلیا۔مجاہدین تھکاوٹ کی وجہ سے واپس آرہے تھے کہ سوشلسٹ فوج نے دوبارہ جرم پر قبضہ کرلیا۔بعد ازاں شرقی نورستان سےمولانا حمداللہ صاحب کی کمان میں دوسو افراد کا دستہ برف باری کا موسم وہاں گزارنے کے لئے پہنچ گیا۔تاکہ مفتوحہ علاقے کی حفاظت کرسکے۔موصوفین سارے صوبے کو فتح کرتے ہوئے مرکز صوبہ بدخشاں فیض آباد تک پہنچ گئے۔اس دوران ایک ہوائی حملہ سے مولانا حمداللہ صاحب شہید ہوگئے اور یہ دستہ صوبہ بدخشاں کا تمام چارج جمعیت اسلامی افغانستان کو دے کر واپس ہوگیا۔ابھی واپس ہوہی رہاتھا کہ سوشلسٹوں کو اطلاع ملی کہ نورستانی مجاہدین واپس جاچکے ہیں تو ا نہوں نے دوبارہ اپنے چھینے ہوئے علاقوں پر قبضہ کرلیا۔

صوبہ بدخشاں کے معرکہ کے دوران پندرہ سو سو شلسٹ جہنم رسید ہوئے اور ساٹھ سو مجاہدین نے د رجہ شہادت پایا۔اس علاقہ میں جتنے بھی شرک کے مراکز اور مقبرے مجاہدین کے راستہ میں آئے۔انہوں نے ان کو زمین بوس کردیا۔ان چند واقعات کے علاوہ چھوٹے بڑے ایسے حیرت انگیز اور رُوح پرور واقعات ہیں جن کا تحریر میں لانا مشکل ہے۔

علاقہ کی مکمل کامیابی کے بعد امیرا لمومنین مولانا محمد افضل صاحب نے 1359ہجری میں دولت انقلابی اسلامی افغانستان کے امور کی طرف توجہ دی۔بہت بڑے اجلاس میں علمائے سلف اور احناف نے کتاب وسنت کو اپنی اجتماعی اور انفرادی زندگی کے لئے ماخذ تسلیم کیا اور پھر کتاب وسنت کے عین مطابق امیر المومنین نے ایک مکمل اسلامی سلطنت کا اعلان کردیا۔اجتماعی اور انفرادی زندگی کے تمام مسائلکا حل کتاب وسنت کی روشنی میں پیش کیا گیا جیسا کہ اہداف الدولۃ الانقلابیہ الاسلامیہ الافغانیہ میں تمام نکات پر اجمالاً روشنی ڈالی گئی ہے۔

ابتدائے تحریک سے قبل:

سلفی تحریک سے قبل پورے علاقہ میں کوئی بھی موحد نہ تھا۔ہر طرف شرک وتوہمات کا دور دورہ تھا۔جامد قسم کی حنفیت پھیلی ہوئی تھی۔کتاب وسنت کی بجائے ہر طرف شرک کے اڈے بنے ہوئے تھے۔پورے معاشرہ میں عملاً غیر اسلامی رسم ورواج کا زور تھا۔جاہلیت کے طور طریقے عام تھے۔جیسے تعویذ گنڈے،جھاڑ پھونک وغیرہ عورتوں اور مردوں کا دین سے بے بہرہ ہونا ،گانے باجے کا عام ہونا،شادی کے لئے حق مہر کے نام پر لاکھوں ر وپے وصول کرنا،پسندیدہ عورتوں کا اغوا کرنا،چوری کرنا،بدکاری کرنا،اکثر کاداڑھی منڈوانا،منشیات کا عام استعمال کرنا،بے پردگی کا عام ہونا،صاحب حیثیت کااپنے سے کمزور پر ظلم کرنا،غرض یہ کہ پورے کا پورا معاشرہ انتہائی بگاڑ کا نقشہ پیش کررہا تھا۔

الحمدللہ،تحریک کے پچیس تیس سالوں میں خدا نے ان لوگوں کی کایا پلٹ کررکھ دی ہے۔عقیدتاً آپ ان لوگوں کو نہایت سلفی پائیں گے۔جہاں پہلے جاہلی رسم ورواج اور شرک وبدعت کاعروج تھا۔اب وہاں ان چیزوں کا نام ونشان تک نہیں بلکہ غیر مسنون قسم کے عادات واطوار تقریباً چھوڑے جاچکے ہیں۔تعویذ گنڈا خوب چلتا تھا۔اب آپ پُورے نورستان میں کسی ایک بچے کے گلے میں بھی تعویذ نہ ڈھونڈ پائیں گے۔شرقی نورستان میں اب اسی فیصد ،مرکزی نورستان کی وادی پارون میں سو فیصد اوروادی کتیوا میں نوے فیصد اہل حدیث ہیں۔اور وادی وائیگل میں پچاس فیصد اور غربی نورستان میں تقریباً چالیس فیصد اہلحدیث موجود ہیں ان تمام علاقوں میں جتنے بھی احناف ہیں وہ سب کے سب شرک سے پاک عقیدہ رکھتے ہیں۔ہر گاؤ ں میں صرف ایک مسجد اور ایک جماعت ہوتی ہے۔اور ہر مسجد میں جمعہ کا اہتمام ہوتا ہے۔ بعض مساجد میں عورتیں بھی نماز باجماعت ادا کرتی ہیں۔برف باری کے موسم میں اکثر مساجد میں روزانہ درس قرآن ہوتا ہے۔اسی وجہ سے اکثر لوگ قرآن کا فہم ضرور رکھتے ہیں اور بعض علاقوں میں عورتوں کی تعلیم کا انتظام ہونے کی بناء پر بلوغ المرام اور مشکواۃ کی عالمہ عورتیں پائی جاتی ہیں۔بیاہ شادی جان جوکھوں کا کام تھا۔اب دولت کے کنٹرول کی وجہ سے دس ہزار روپے سے زیادہ حق مہر کا تصور بھی نہیں ہے۔ہرقسم کے جرائم پر بھی حدود وتعزیرات قائم ہیں۔مثلاً یکم جمادی الاول 1404ہجری(مطابق 2 فروری 84) کو ایک شخص محمد عمر ولد حاجی محمد رحیم اور مسماۃ بی بی کبریٰ زنا کے مرتکب ہوئے لیکن ارتکاب جرم کے بعد احساس جرم اور بارگاہ الٰہی کی عدالت عظمیٰ کے رُو بُرو اپنے سنگین جرم کے ساتھ پیش ہونے کے خوف نے ان مرتکبین کو دولت انقلابی اسلامی افغانستان کی وادی کیتوا کے امیر مولانا عبداللہ بن فضل کے رُو برو پیش کردیا۔ اور مولانا کے کتاب وسنت کی روشنی میں کئے گئے فیصلے کے مطابق دونوں تائبین کو پوری وادی کے لوگوں کی عظیم تعداد نے رجم کردیا۔

حدود شرعی کے نفاذ کادوسرا واقعہ یوں رونما ہوا کہ 28 جمادی الاولیٰ 1404ہجری(مطابق 29 فروری1984ء) بروز بدھ ایک شخص بھلول دانا بن عبدالحمید ساکن منڈا گل اپنے ہی گاؤں کے ایک فرد یملی بن بہادر کو چھری سے قتل کرکے فرار ہوگیا۔دولت انقلابی اسلامی کی پولیس نے اسے گرفتار کرکے جیل میں بند کردیا۔مجلسِ قضاۃ کے سامنے گواہوں نے اپنا مشاہدہ بیان کیا۔بعد ازاں قاتل نے بغیر کسی جبرکے اقبال جرم کرلیا۔قاتل کے ورثاء نے دیت دینے کی بہت کوشش کی مگر وارثین مقتول کی رضا مندی نہ ہونے پر رئیس القضاۃ الدولہ مولانا محمد اسحاق صاحب نے کتاب وسنت کی روشنی میں فیصلہ کرتے ہوئے قاتل کو مقتول کے ورثاءکے حوالے کردیا ۔جنہوں نے بہت بڑے اجتماع میں اسی آ لہ کے ساتھ قاتل کو اس کے انجام تک پہنچادیا۔اسی طرح ایک فرد عبدالعزیز کو ایک لڑکی کے اغوا کرنے پر سو درے اور ایک سال جلاوطنی کی سزا دی جاچکی ہے۔ جبکہ دو افراد کو تہمت لگانے پر اسی اسی کوڑے لگائے جا چکے ہیں۔الغرض پہلے جو خطہ خدا کے عذاب کو دعوت دے رہا تھا اب وہاں رحمتیں برستی ہیں۔دولت کی طرف سے تمام نورستان میں نسوار اور سگریٹ کی ممانعت کے حکم نامے جاری کئے جاچکے ہیں۔اور عوام کو متنبہ کیا جاچکاہے کہ ان کے استعمال کا ترک نہ کرنے پر تعزیرات کا نفاذ کردیا جائے گا۔بلکہ اسلام پیٹ نامی گاؤں میں نسوار اورسگریٹ پینے پر درے بھی لگائے جاتے ہیں۔علاوہ ازیں پورے نورستان میں داڑھی منڈوانے کی سزا مقرر کی جاچکی ہے۔ صرف کٹوانے کی وبا عام ہے۔ جس کی وجہ بعض علمائے احناف کے وہ فتوے ہیں۔ جو انھوں نے داڑھی کٹوانے کے جواز میں دیئے ہیں۔ اور بعض مصلحتوں کی وجہ سے اس کے بارے میں ابھی پوری طرح سختی اختیار نہیں کی جاسکی بلکہ دولت اس مسئلہ میں یہ مؤقف اپنائے ہوئے ہے ۔کہ داڑھی کٹوانے والے کو کسی عہدہ پر فائز نہیں کرتی۔کوئی نووارد وہاں چلا جائے تو دیکھ کر حیران رہ جاتا ہے کہ اس دور میں بھی اس طرح کے معاشر ے والی دنیا ہے؟جہاں ہر طرح سے امن ،چوری،ڈاکہ ،قتل ،بُرائی اور بے حیائی سب ختم ہوچکی ہے۔مسجدیں آباد ہیں۔لوگوں کو رات کو بھی پہرہ داروں کی ضرورت نہیں ہوتی۔ایک آدمی نیک موک کاکہنا ہے کہ اس اسلامی مملکت کے وجود میں آنے سے پہلے میں نے اپنی دوکان کی چوکیداری کے لئے دو چوکیدار رکھے ہوئے تھے جو ر ات کو باقاعدہ چوکیدارہ کرتے۔لیکن جب سے یہ مملکت وجود میں آئی ہے ہمارے چوکیدارے کا خرچ ختم ہوگیا اور دنیا آرام وچین سے گھروں میں سوتی ہے۔کہیں کسی قسم کاڈر خطرہ نہیں ہے۔تمام لوگوں کے جان مال اورعزت کی ذمہ داری مملکت نے اٹھا رکھی ہے۔اور امن وسکون کا یہ عالم ہے۔کہ خلافت راشدہ کے دور کی یادتازہ ہوجاتی ہے۔

اللہ تعالیٰ سے دُعا ہے کہ تمام اسلامی ملکوں کو انہی جیسا امن وجذبہ عطاء فرمائے۔(آمین یا رب العالمین)