اس سلسلہ کی ابتداء یوں ہوئی ،جن دنوں وحدت الوجود،وحدت الشہور وغیرہ سے متعلق میرے مضامین، "ترجمان الحدیث" میں چھپ رہے تھے اور اُن میں ضمناً رُوح اور ہندوؤں کا مسئلہ تناسخ کا ذکر بھی آگیا۔تو ایک صاحب جناب غلام رسول صاحب نے روح اور تناسخ سے متعلق چند سوالات لکھ بھیجے جن کا جواب میں نے زرا تفصیل سے لکھا اور یہ جواب"الاستفتاء" کے عنوان کے تحت"ترجمان الحدیث" کی اشاعت ستمبر 1982ء میں چھپا۔اب اس استفتاء پر مزید دو حضرات (جناب عبدالقادر صاحب سومرو،کراچی اور محمد احسان الحق صاحب،یاردخیل۔میانوالی) کی طرف سے سوالنامے آئے جن میں ان کے تفصیلی جواب کے متعلق لکھا گیا تھا۔

ان سوالات کےجوابات میں میں نے ایک طویل مقالہ لکھا ،جو کافی عرصہ بعد ماہنامہ "محدث" کی دو قسطوں دسمبر 1983ءاور جنوری 1984ء میں شائع ہوا۔خیال یہ تھا کہ یہ طویل مقالہ لکھنے کے بعد شائد مزید استفسارات کی ضرورت باقی نہ رہے گی۔وجہ یہ تھی کہ ان سوالناموں میں میرے نذدیک سب سے اہم سوال یہ تھا کہ جب قرآن میں صرف دو بارکی موت اور دو بار کی زندگی ہی کا ذکر ہے تو اس عرصہء موت میں برزخ کی زندگی کہاں سے آگئی جو اس قدر مشہور ہے؟اور اس سوال کاجواب کافی تفصیل سے لکھ دیا گیا تھا۔اسی ضمن میں عذاب قبر اور سماع موتیٰ کے مسائل بھی زیر ِ بحث آئے۔

اس مقالہ کے رد عمل کےطور پر تین طرح سے اظہار خیال کیا گیا ایک طبقہ نے کہا کہ امام ابن تیمیہ ؒ اور امام ابن قیم ؒ کو خوامخواہ صوفیاء کے طبقہ میں شمار کیا گیا ہے اور نیز یہ کہ کتاب الروح امام ابن قیم ؒ کی اپنی تصنیف ہے ہی نہیں۔بلکہ کسی دوسرے نے تصنیف کرکے اسے امام ابن قیم ؒ سے چسپاں کردیا ہے۔دوسرا طبقہ وہ ہے جو اس مقالہ کی روش اعتدال پر اتنا خوش ہوا کہ اس نے تقاضا کیا کہ اس مقالہ کو پمفلٹ کی صورت میں الگ چھاپ کر شائع کرنا اور عوام میں مفت تقسیم کرنا چاہیے۔ جبکہ تیسرا اس قدر متشدد ہے کہ وہ سماع موتیٰ کے سلسلہ میں کسی بھی استثنائی صورت کو برداشت نہیں کرتا۔اور میں نےاس استثنائی صورت کے سلسلہ میں جو چند احادیث صحیحہ پیش کی تھیں۔ ان میں سے کسی روایت کوتو مجروح یا موضوع ثابت کیا اور جن روایات میں ایسی گنجائش نظر نہ آئی ۔ا ن کی تاویل کرکے قرآن کریم کے اس واضح ارشاد"کہ مُردے سن نہیں سکتے"کے مطابق ڈھال لیا اور استثناء کی صورت کو ختم کردیا۔اور اس مطابقت کی صورت یہ پیش کی کہ قبر سے مراد یہ زمینی یا مادی یا حسی قبر یا زمینی گڑھا ہے ہی نہیں۔بلکہ قبر کے حقیقی معنی وہ برزخی قبر ہے جو برزخی اور یا مرحلہ نمبر3 میں روحوں کا مستقر ہے۔اس سلسلے میں مجھے تین حضرات کی طرف سے خطوط بھی موصول ہوئے۔ان میں سے نسبتاً مختصر خط جناب ڈاکٹر محمد اسحاق صاحب (ص ب2558۔مدینہ منورہ)کا ہے۔انہوں نے چند حوالوں کے ساتھ میری توجہ اس طرف دلائی ہے۔کہ میں نے علامہ وحید الزمان کی تصنیف"لغات الحدیث" کے حوالہ سے جو حدیث«خذواشطر دينكم من الحميراء»درج کی تھی۔وہ موضوع ہے۔میں ڈاکٹر صاحب کا مشکور ہوں کہ انہوں نے یہ وضاحت فرمائی۔تاہم یہ حدیث صرف تائید کے طور پر پیش کی گئی تھی۔لہذا اس حدیث کے موضوع قرار پانے کے بعد بھی موقف میں فرق نہیں پڑتا۔علامہ مذکور کے حوالہ سے ایک ہی حدیث درج کی تھی وہ بھی موضوع نکلی۔باقی دو خطوط تیسرے طبقہ کے حضرات سے تعلق رکھتے ہیں اور خاصے طویل ہیں۔ان کا مرکزی نقطہ نظر وہی ہے جو اوپر درج کیا گیا ہے۔پھر اسی نقطہ نظر کے مطابق کچھ سوالات،کچھ اشکالات،کچھ اعتراضات پیش کئے گئے ہیں۔ان خطوط کو من وعن درج کرنا تو بہت طوالت کاباعث ہوگا۔میں مختصراً ان کے سوالات یا اشکالات کو پیش کروں گا اس احتیاط کےساتھ کے ان کا اصل مفہوم اوجھل نہ ہونے پائے پھر ان کے جوابات عرض کروں گا۔وماتوفیقی الا باللہ.

ان میں سے پہلےمستفسر تو جناب شاہ فاروق ہاشمی صاحب (ٹیچر گورنمنٹ پرائمری سکول قائد آباد۔ضلع خوشاب) ہیں۔ان کا خط سب سے پہلے موصول ہوا اور سب سے زیادہ طویل ہے انہوں نے اپنے نظرئے کو دلائل سے پیش کیا ہے پھر میرے پیش کردہ نظریہ پر کچھ اشکالات پیش کئے ہیں۔اور دوسرے مستفسر جناب عبدالقادر سومرو صاحب (کیماڑی۔کراچی) ہیں۔ جو ہمارے پُرانے کرم فرما ہیں انہوں نے اس نظریہ کی تائید میں مندرجہ زیل کتابوں میں سے موضوع زیر بحث سے متعلقہ فوٹو سٹیٹ بھیجے ہیں۔اور ساتھ کچھ رجال کی کتابوں میں سے متعلقہ راویوں پر تنقید کے فوٹو سٹیٹ بھی ان کتابوں اور ان کے مؤلفین کے نام درج زیل ہیں

.(1)۔ندائے حق از محمد حسین نیلوی

(2)۔دعاء کرنے کااسلامی دستور از فضل الرحمٰن کاشمیری

(3)۔توحید خالص قسط نمبر 2 یہ قبریں یہ آستانے از ڈاکٹر مسعود عثمانی

4۔ہفت روزہ "الاسلام" کے ایک مضمون "مسئلہ سماعِ موتیٰ" سے چند اقتباسات ایسا معلوم ہوتا ہے کہ سومرو صاحب ایک طرف میرے پیش کردہ نظریہ سے متاثر ہیں۔دوسری طرف مذکورہ بالا کتب میں پیش کردہ نظریہ سے بھی متاثر ہیں لہذا وہ متذبذب ہیں اور قرآن وحدیث کی روشنی میں راہنمائی چاہتے ہیں۔سب سے پہلے ہم مستفسر نمبر1 کے دلائل اس کا جواب اور ان دلائل کاجائزہ پیش کریں گے:

1۔قبر کا اصل مقام:

اس دعوےٰ سے متعلق کہ"قبر سے مراد زمینی گڑھا یا حسی قبر نہیں" بلکہ برزخی قبر ہے"مستفسر نمبر1 کے دلائل یہ ہیں:

(الف) قرآن میں حضر ت نوح علیہ السلام کی قوم کے متعلق آیا ہے کہ﴿أُغْرِقُوا فَأُدْخِلُوا نَارًا﴾ اور فاتعقیب کے لئے آتی ہے ۔حالانکہ قوم نوح ؑ کو،اور اسی طرح قوم فرعون کو بھی، قبر نصیب ہی نہ ہوئی تھی اور قرآن یہ کلیہ بھی بتایا ہے کہ

﴿ثُمَّ أَماتَهُ فَأَقبَرَ‌هُ ﴿٢١﴾... سورة عبس

"اللہ نے انسان کو موت دی پھر اسے قبر میں داخل کیا"یعنی ان غرق ہونے والوں کو زمینی قبر تو نصیب ہی نہ ہوئی تھی۔لیکن عذاب مرنے کے ساتھ ہی شروع ہوگیا ۔پھر مرنے کے ساتھ قبر کا ذکر بھی موجود ہے۔لہذا قبر سے یہ زمینی گڑھا مراد لینا درست نہیں۔اور یہ گڑھا تو مجازی قبر ہے جو دنیا میں بہت کم انسانوں کو نصیب ہوتی ہے۔

(ب) حدیث میں آیا ہے:

إنما مر رسول الله صلى الله عليه وسلم على يهودية يبكى عليها فقال: «إنهم ليبكون عليها وإنها لتعذب في قبرها»(مشكوة باب البكاء على الميت)

"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک یہودیہ پر گُزرے جس پر رویا جارہا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:یہ لوگ اس پر رو تے ہیں جبکہ اسے اس کی قبر میں عذاب دیا جارہا ہے۔"

اس یہودیہ کے متعلق جس کا جنازہ دیکھ کر ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمادیا تھا کہ اسے اس کی قبر میں عذاب دیا جارہا ہے۔اس بات کی واضح دلیل ہے کہ قبر سے مراد زمینی گڑھا نہیں بلکہ برزخی قبر ہے۔جہاں وہ دفن ہونے سے پہلے ہی عذاب میں مبتلا تھی۔

(ج) جب روزِ قیامت مُردے اپنی قبروں سے جی اٹھیں گے تو اس وقت سے پہلے ہی موجودہ زمین وآسمان تو ختم ہوچکے ہوں گے۔پھر قبر سے مراد یہ زمینی گڑھا کیسے لیا جاسکتا ہے؟

2۔کیا عذاب قبر کا تعلق جسم سے بھی ہے؟

میں نے اپنے مضمون میں لکھا تھا کہ عذاب قبر سے کسی نہ کسی حد تک جسم بھی متاثر ہوتا ہے ۔خواہ یہ مقدار کتنی ہی کم یا گاہے گاہے ہو لیکن ہوتا ضرور ہے۔ اور اس پر دلیل یہ تھی کہ جیسے نیند میں بعض اوقات روح کو واردات رنج وراحت سے جسم بھی متاثر ہوتا ہے۔اسی طرح عذاب قبر سے جسم بھی متاثر ہوتا ہے۔اس پر آپ نے دو اشکال پیش کئے ہیں:

(الف) فرعون کا جسم دنیا میں موجود ہے اور اس کے لئے اللہ تعالیٰ نے یہ تصریح بھی فرمادی کہ ﴿فَاليَومَ نُنَجّيكَ بِبَدَنِكَ﴾ تو پھر عذاب میں جسم کی شمولیت کیونکر ہوئی؟

(ب) کافر قیامت کے دن کہیں گے:

﴿مَن بَعَثَنا مِن مَر‌قَدِنا﴾

"ہمیں ہماری آرام گاہ سے کس نے اٹھا دیا؟"

اب اگر اس زمینی گڑھے کو قبر،اور جسم سے عذاب کا تعلق بھی تسلیم کرلیا جائے تو یہ قبر عذاب گاہ ہوئی۔آرام گاہ کیسے ہوئی؟

یہ تو ہیں فاروق صاحب کے دلائل!۔۔۔اور سومرو صاحب نے جو کتابوں سے فوٹو سٹیٹ بھیجے ہیں۔ان سے بھی اس نظرئیے کی تائید ہوتی ہے۔بس انداز بیان الگ الگ ہے۔میرے خیال میں یہ حضرات دوسری انتہا کو پہنچ گئے ہیں سماع موتیٰ کے قائلین اس انتہا کو پہنچے کہ قبر میں مرُدہ ہر واقف کار کا سلام سنتا اور پھر اس کا جواب دیتا ہے۔"یا یہ کہ من فی القبور سے مراد مُردہ دل لوگ ہیں ۔جب کہ ہمارے یہ کرم فرما اس انتہا کو پہنچے کہ قبر کا معنیٰ ہی بدل دو،پھر سلام کیا،اس کا سننا اور جواب دینا کیسا؟نہ رہے بانس نہ بجے بانسری تاہم ہمیں یہ تسلیم ہے کہ ان حضرات نے کو کچھ تاویل وتعبر کی ہے وہ اس لئے کہ ہے کہ شرک کے اس سب سے بڑے چور دروازے کی جڑ ہی کٹ جائے۔ان کا یہ خلوص نیت درست اور مبارک مگر ہمیں افسوس ہے کہ حقائق اس کی تائید نہیں کرتے۔بھلا سوچئے،اگر قبر سے مُراد یہ زمینی گڑھا نہ ہو بلکہ برزخی مستقر ہو تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بدر کے کنوئیں پر جاکر ان مُردہ کفار کو مخاطب کرنے کی کیا ضرورت تھی؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی جگہ پر بیٹھے یا کھڑے ہی یہ خطاب فرمادیتے؟اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم بقیع میں جاکر کیوں دعائے مغفرت فرماتے تھے؟اور آخر قبرستان میں جا کر ہی کیوں آپ"السلام علیکم یا اہل البقور" کہتے ہیں؟ اب میں اپنے نظریہ کی تائید میں چند مزید احادیث صحیحہ پیش کروں گا:

پہلی حدیث:

عن ابن عباس رضي الله عنهما، مر النبي صلى الله عليه وسلم على قبرين فقال: «إنهما ليعذبان وما يعذبان من كبير» ثم قال: «بلى أما أحدهما فكان يسعى بالنميمة، وأما أحدهما فكان لا يستتر من بوله» قال: ثم أخذ عودا رطبا، فكسره باثنتين، ثم غرز كل واحد منهما على قبر، ثم قال: «لعله يخفف عنهما ما لم ييبسا»(بخارى حديث :1378)

"ابن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دو قبروں پر گزرے جنھیں عذاب ہورہاتھا تو آ پ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،"ان دونوں قبر والوں کو عذاب دیا جارہا ہے اور کسی بڑے گناہ کی پاداش میں بھی نہیں۔ایک تو پیشاب سے بچاؤ نہیں کرتاتھا۔اور دوسرا چغلی کھاتا پھرتاتھا،،پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور کی ایک ہری ڈالی لی اور اُس کو بیچ میں سے چیر کر دو ٹکڑے کئے اور ہر قبر پر ایک ایک کو گاڑ دیا۔لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کس لئے کیا؟"آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔"جب تک یہ ڈالیاں نہ سوکھیں شائد ان کا عذاب ہلکا ہو۔"

اب دیکھئے اس حدیث سے مندرجہ بالا دونوں اشکالات ختم ہوجاتے ہیں۔وہ یوں کہ:

(1)لفظ مر بقرين اس بات کا متقاضی ہے کہ قبر سے مراد یہی زمینی گڑھے ہیں نہ کہ برزخ میں روح کا مستقر

(2) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی قبر پر ہری ڈالی گاڑی جس میں جسم مدفون تھے اور فرمایا کہ شائد اس سے عذاب ہلکا ہو۔یہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ جسم بھی عذاب سے متاثر ہوتا ہے۔

دوسری حدیث:

عن أبي أيوب رضي الله عنهم، قال: خرج النبي صلى الله عليه وسلم وقد وجبت الشمس، فسمع صوتا فقال: «يهود تعذب في قبورها» (بخارى كتاب الجنائز باب التعوذ من عذاب القبر حديث:1375)

"ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (مدینہ سے) باہر نکلے اور اس وقت سورج غروب ہونے کو تھا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آواز سنی تو فرمایا:"یہودیوں کو ان کی قبروں میں عذاب ہورہا ہے۔"

اگر قبر سے مراد برزخی قبر لی جائے تو لفظ "خَرَجَ" بے کار ہے۔مدینہ میں رہ کر بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ بات بیان فرماسکتے تھے۔آخر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبروں کے پاس جا کر کیوں ایسے فرمایا؟

تیسری حدیث:

عن أبي هريرة رضي الله عنه: أن أسود رجلا - أو امرأة - كان يكون في المسجد يقم المسجد، فمات ولم يعلم النبي صلى الله عليه وسلم بموته، فذكره ذات يوم فقال: «ما فعل ذلك الإنسان؟» قالوا: مات يا رسول الله، قال [ص:90]: «أفلا آذنتموني؟» فقالوا: إنه كان كذا وكذا - قصته - قال: فحقروا شأنه، قال: «فدلوني على قبره» فأتى قبره فصلى عليه(بخاري كتاب الجنائز باب الصلوة على القبر بعد مايدفن حديث:1337)

"ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ:ایک کالا مرد(یا کالی عورت) مسجد میں جھاڑودیاکرتاتھا۔وہ مر گیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کے مرنے کی خبر نہ ہوئی۔ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے یاد فرمایا اور پوچھا کہ"وہ کدھر ہے،اسے کیا ہوا؟لوگوں نے عرض کیا"یا رسول اللہ !وہ تو مر گیا ہے۔"آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا"تو پھر تم نے مجھے کیوں خبر نہ دی؟" لوگوں نے عرض کیا کہ"یوں ہوا اور یوں ہوا۔"غرض اس کا قصہ بیان کیا اور کہا کہ اسے در خور اعتنا نہ سمجھتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی موت کی اطلاع دینا مناسب نہ سمجھا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا"مجھے اس کی قبر پر لے چلو" راوی کہتا ہے کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی قبر پر آئے اور اس پر نماز جنازہ پڑھی۔"

یہ حدیث بھی اپنے مضمون میں صاف ہے کہ(1) قبر سے مراد یہی زمینی گڑھا ہے ورنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی قبر پر کیوں تشریف لے گئے؟(2) یہ کہ قبر پر آکر دعائے استغفار کرنے یا نماز جنازہ پڑھنے سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ اس قبر میں جو جسم پڑا ہے اس کا عذاب وثواب قبر اسے تعلق ضرور ہے۔علاوہ ازیں قرآن مجید میں ہے ۔﴿ وَلَا تَقُمْ عَلَى قَبْرِهِ إِنَّهُمْ﴾

مستفسر نمبر1 کے دلائل کا جائزہ:

اب ہم فاروق صاحب کے دلائل پر تبصرہ کرتے ہیں:

1۔یہ مفروضہ کہ " یہ دنیاوی (حسی) قبر تو کم ہی لوگوں کو نصیب ہوتی ہے"درست نہیں۔جن اقوام پر خدا کا عذاب آیا اور قرآن میں مذکور ہے۔اگر صرف ان کا تناسب نکالا جائے تو بھی یہ مفروضہ درست ثابت نہیں ہوتا۔جبکہ بے شمار ایسی اقوام ہیں جن پر عذاب نہیں آیا۔وہ لوگ اپنی طبعی موت مرتے رہے اور زمین میں دفن ہوتے رہے اور یہ سلسلہ ابتدائے نوع انسان سے جاری ہے۔یعنی جب قابیل نے ہابیل کو مارڈالا جو اس دنیا میں پہلا قتل بھی تھا اور پہلی موت بھی تو اسے اللہ کی طرف سے مردہ کو دفن کرنے کاطریقہ سکھایا گیا اور یہی طریقہ تمام انبیاء ؑ سیکھاتے رہے۔لہذا قاعدہ کلیہ کے طور پر یہی بات کہی جاسکتی ہے کہ انسان مرنے کے بعد قبر میں دفن ہوتا ہے۔اب اگر آل فرعون یا قوم نوح غرق ہوگئے یا اہل سبا پر سیلاب آیا یا دنیا بھر میں سے ایک قوم (ہندو) اپنے مردوں کو دفن کرنے کے بجائے جلادیتی ہے تو یہ سب باتیں مستثنیات میں شمار ہوں گی اور آج اگر کوئی چاہے تو خود یہ اندازہ کرسکتا ہے کہ قبر میں دفن ہونے والوں کی تعداد ڈوبنے یا جلنے والوں کی تعداد سے بہت زیادہ ہے۔لہذا عام قاعدہ کے طور پر جو بات کہی جاسکتی ہے وہ یہی ہے کہ ثُمَّ أَمَاتَهُ فَأَقْبَرَهُ باقی سب استثناء کی صورتیں ہیں جیسا کہ عذاب قبر بذات خود ایک استثنائی صورت ہے۔ جس کی تفصیل میں پہلے بیان کرچکا ہوں۔کہ یہ دور قرآن کی زبان میں موت کا دور ہے نہ کہ زندگی کا۔

2۔آپ نے جو حدیث اپنے دعویٰ کے ثبوت میں پیش فرمائی ہے اس کےالفاظ ہیں: «إنما مر رسول الله صلى الله عليه وسلم على يهودية» یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک یہودیہ پر گزرے جس پر لوگ رو رہے تھے۔"اس حدیث میں قطعاً یہ وضاحت نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے جنازے سے یا میت پر گزرے یا اس کی قبر پر؟ اغلب گمان یہی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی قبر سے گزرے تھے جیسا کہ اس مشکواۃ کے ترجمہ سے بھی ظاہر ہے۔ترجمہ کےالفاظ یہ ہیں:

"گزرے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نزدیک قبر ایک عورت یہودیہ کے کہ رویا جاتا تھا اس پر"(مشکواۃ)باب البکاء علی المیت مطبوعہ مکتبہ اثریہ سانگلہ ہل ص 182)

3۔تیسری دلیل یہ تھی کہ جب زمین ہی بدل جائے گی تو یہ زمینی گڑھا کہاں رہے گا؟سو گزارش ہے کہ زمین بدل ضرور جائے گی لیکن نیست ونابود یا فنا نہیں ہوجائے گی۔قرآن کریم کے الفاظ ﴿يَوْمَ تُبَدَّلُ الْأَرْضُ غَيْرَ الْأَرْضِ﴾بہرحال اس وقت بھی کوئی نہ کوئی زمین ضرور ہوگی جو اگرچہ یہ موجودہ زمین نہ ہوگی تا ہم اسی زمین کی بدلی ہوئی شکل ہوگی ۔تو اس سے اتنا ہی واضح ہوتا ہے کہ قبر جدث کے معنوں میں چلی جائے گی۔

4۔جسم کے عذاب سے بے تعلق ہونے کی دلیل جو لفظ مرقد(خواب گاہ یا آرام گاہ) سے لی گئی ہے۔یہ بھی وضاحت کے لحاظ سے سود مند نہیں۔ان کفار کا یہ قول تو صرف انسانی فطرت کا مظہر ہے جب کوئی شخص کسی مصیبت میں گرفتار ہو۔پھر اس سے بڑی مصیبت یا آفت اس پر آن پڑے تو اسے یہ چھوٹی مصیبت کا زمانہ آرام کا زمانہ ہی معلوم ہوتا ہے۔لہذا جب کافر "اشد العذاب" کو دیکھیں گے تو انہیں یہ کم عذاب والی جگہ اس کے مقابلہ میں مرقد ہی معلوم ہوگی۔اب خواہ یہ عذاب حسی یا مادی قبر میں ہورہا ہویا برزخی قبر میں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔

5۔رہا یہ سوال کہ فرعون کو مرنے کے وقت سے لے کر عذاب ہورہا ہے مگر اس کا جسم بمصداق ارشاد باری تعالیٰ عذاب کےاثرات سے محفوظ ومامون ہے ۔تو یہ محض ایک استثنائی صورت ہے جس کی دوسری کوئی مثال نہیں ۔اس سے یہ نتیجہ نکالنا کہ کسی بھی انسان کا جسم خواہ وہ نیک ہو یا بد،عذاب وثواب قبر سے کلیۃً اور کبھی بھی متاثر نہیں ہوتا ،درست نہ ہوگا۔اوپر درج شدہ احادیث ہمارے اس خیال کی تائید میں پوری رہنمائی کرتی ہیں۔

3۔روحوں کی ملاقات:

اس سوال میں آپ نے کئی اشکالات کا اظہار فرمایا ہے ،مثلاً:

1۔خواب میں جب روح کی بدن سے علیحدگی ہوگئی تو اسی انفکاک روح ہی کا نام تو موت ہے۔پھر اگر جسم کو بھی عذاب وثواب میں شریک سمجھ لیا جائے تو یہ زندگی ہوئی موت تو نہ ہوئی؟

2۔خواب میں کسی شخص کی روح جب کسی مرے ہوئے ظالم انسان کی روح سے جو سجین میں مقید ہے،ملتی ہے تو کیا اس سونے والے شخص کی رُوح وہاں پہنچ جاتی ہے یا اس ظالم اورڈاکو انسان کی رُوح وہاں سے آزاد ہوکر اسے خواب میں آکر ڈراتی دھمکاتی ہے؟وہ ضابطہ الٰہی کو توڑ کر اس دنیا میں کیسے آجاتی ہے؟

3۔ایک ہی خواب میں ایک روح کئی آدمیوں کو خواب میں ملتی ہے تو کیا ایک ہی روح سب کو ملتی ہے یا علیحدہ کوئی رُوح ؟

ان سوالوں کا جواب دینے کی بجائے میں فاروق صاحب کو یہ مشورہ دوں گا کہ میرے مضمون کا متعلقہ حصہ دوبار غور سے پڑھ لیں،خصوصاً ص24 کا یہ پیرا کہ:

"یہ ایسے بدیہی مشاہدات ہیں جن سے ہر شخص کو سابقہ پڑتا ہے ۔اب اگر انسان ان تجربات ومشاہدات کی وجوہ یا اسباب وعلل تلاش کرنا شروع کردے تو وہ اس میں ناکام ہی رہے گا۔یہی وہ حقیقت ہے جس کی وضاحت اللہ تعالیٰ نے یوں فرمائی کہ﴿ وَمَا أُوتِيتُمْ مِنَ الْعِلْمِ إِلَّا قَلِيلًا﴾

لہذا میرا مخلصانہ مشورہ ہی ہے کہ آپ ایسی باتوں کے پیچھے کیوں پڑ رہے ہیں جن کا سمجھنا انسان کی عقل سے ماوراء ہے۔نہ ہم ان باتوں کے سمجھنے کے مکلف ہیں اور نہ ایسی باتیں اعتقادات میں کوئی مقام رکھتی ہیں۔

4۔جدث اور قبر:

جدث اور قبر کا فرق میں نے یہ بیان کیا تھا کہ قبر وہ ہے جس کے نشانات موجود ہوں اور جدث وہ ہے جس کا سرے سے کوئی نشان ہی نہ تھا یا نہ ہو۔اس پر آپ نے یہ اعتراض اٹھایا ہے کہ قیامت کے دن مُردوں کے قبروں سے جی اٹھنے کے متعلق قرآن نے جیسے جدث کا لفظ استعمال فرمایا ویسے ہی قبر کا بھی فرمایا ہے۔حالانکہ اس وقت یہ زمین ہی بدل چکی ہوگی تو ان میں فرق کیا ہوا؟

چنانچہ جہاں میں نے یہ فرق بتلایا تھا وہاں یہ بھی واضح کردیا تھا کہ یہ میرا اپنا فہم ہے اور مجھے اپنے فہم کو دوسروں سے تسلیم کروانے پر قطعاً کوئی اصرار نہیں۔تاہم یہ حقیقت ہے کہ اس پر اہل لغت کا اتفاق بھی ہے کہ دو مترادف الفاظ میں کچھ نہ کچھ ذیلی فرق ہوتا ضرور ہے۔ورنہ ایک کے بعد دوسرے لفظ کے وجود میں آنے کی کوئی وجہ نہیں اب میرے اس فہم کی مذید وضاحت یوں سمجھئے کہ قبر کا لفظ عام ہے۔اور جدث خاص ہے۔ہر جدث قبر ضرور ہوتی ہے مگر ہر قبرجدث نہیں ہوتی۔امید ہے اب آپ یہ فرق اچھی طرح سمجھ گئے ہوں گے۔

5۔سماع موتیٰ:

اس مسئلہ میں فاروق صاحب کا رویہ شدید اور انتہا پسندانہ ہے۔آپ پوچھتے ہیں کہ جب قرآن کی رُو سے سماع موتیٰ ثابت نہیں ہوتا تو پھر سماع موتیٰ کا قائل مومن یا کافر؟ نیز یہ کہ قلیب بدر کے واقعہ کے فہم میں جب حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا مقام بلند تر ہے تو پھر جو شخص بلند تر سے کم ترکی طرف رجوع کرے اس کے متعلق آپ کا فتویٰ کیا ہے؟

اس سلسلہ میں میں کوئی فتوےٰ دینے کے حق میں نہیں،البتہ یہ مشورہ دے سکتا ہوں کہ آپ اتنے متشدد نہ ہوں رہا یہ سوال کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ اگر سماع موتیٰ کے قائل تھے تو اس کا حوالہ یا ہے؟سواس کے حوالہ کے لئے دیکھئے"جمع الفوائد" ج2،ص679،طبع 1381ہجری مطابق 1961ء مطبوعہ مدینہ منورہ۔الفاظ یہ ہیں:

عبد الله بن دينار: «رأيت ابن عمر يقف على قبر النبي - صلى الله عليه وسلم - فيصلي على النبي - صلى الله عليه وسلم - وأبي بكر وعمر». لمالك.

نیز مرعاۃ المفاتیح شرح مشکواۃ المصابیع ج2ص505،الفاظ یہ ہیں:

عمل ابن عمر لعبيد الله بن عمر فقال: ما نعلم أحداً من أصحاب النبي - صلى الله عليه وسلم - فعل ذلك إلا ابن عمر،

یعنی تمام صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین میں سے صرف عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر پر درود پڑھتے تھے۔دوسرا کوئی صحابی یہ کام نہ کرتا تھا۔

دوسرے مستفسر جناب سومرو صاحب نے مندرجہ زیل تین امور کی طرف توجہ دلائی ہے:

1۔قبر کا معنیٰ اور مقام:

اس سلسلہ میں پہلے ہی اپنا نقطہ نظر پیش کرچکا ہوں اور دلائل کا جائزہ بھی ان کے اس سوال کےلئے بھی وہی جواب کافی ہوگا۔ان شاء اللہ۔

2۔نقد احادیث:

اس سلسلہ میں آپ نے دو احادیث پر تبصرہ فرمایا ہے:

1۔سیاح فرشتوں والی حدیث(جو نسائی میں مذکورہ ہے) کے متعلق آپ نے لکھا ہے کہ اس میں ایک راوی "زاذان" ہے جو مجروح ہے اور شیعہ بھی ہے لہذا یہ حدیث موضوع ہے۔

2-رد الله على روحى (ابوداؤد بيهقي) کے متعلق لکھتے ہیں کہ اس کی سند میں دوراوی ابو صخر حمید بن زیاد اور یزید بن عبداللہ بن قسیط مجروح ہیں،لہذا یہ حدیث بھی مجروح یاموضوع ہوئی۔

پھر انھیں باتوں کی تحقیق کےلئے آپ نے مختلف کتب رجال سے فوٹو اسٹیٹ بھی بھیجے ہیں اور مذکورہ بالا کتابوں کے فوٹو سٹیٹ بھی۔تاکہ ان مصنفین کے تبصرہ کا بھی علم ہوسکے۔

حدیث پر تنقید کرنا ایک مستقل فن ہے جس کے لئے ضروری ہے کہ ناقد تمام رواۃ کے حالات زندگی اور ان کے باہمی روابط سے واقف ہونے کے علاوہ اصول حدیث سے بھی پوری واقفیت رکھتا ہو اور یہ کام ہرکس وناکس کے بس کا روگ نہیں ۔رجال کی کتابوں کے تبصرہ پر انحصار کرکے کسی حدیث پر تنقید کردینا بھی غیر محتاط روش ہے کیونکہ بسا اوقات کسی ایک راوی سے متعلق تبصروں میں اختلاف ہوتا ہے،جیسا کہ خود جناب محمد حسین صاحب نیلوی نے اپنی کتاب "ندائے حق"کے ص 195پر خود اس بات کا اعتراف کیا ہے وہ ابو صخر بن زیاد تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ:

"اسے واقعی کئی اصحاب جرح وتعدیل نے ثقہ لکھا ہے۔مگر بعض دوسرے محقیقن نے اس کی تصنیف بھی ہے۔"

اور اس کی دوسری وجہ یہ ہے کہ بعض دفعہ ایک محدث کسی راوی کو ضعیف قرار دینے کے باوجود اس حدیث سے روایت کرجاتا ہے اور اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ وہی حدیث بعض دوسرے طریقوں سے مذکورہ ہوتی ہے جس کے تمام رواۃ ثقہ ہوتے ہیں۔لہذا اندریں صورت حال محدث اس ضعیف راوی کی روایت کو بھی قبول کرلیتا ہے۔اسی بنا ء پر نیلوی صاحب کو اپنی کتاب "ندائے حق" کے ص 195 پر یہ فقرہ بھی لکھنا پڑا کہ کسی راوی کے متعلق"صرف اتنا کہہ دینا کہ صحیح مسلم کا راوی ہے لہذا قوی ہے مبنی برجہل ہے۔"(یہ فقرہ یزید بن عبداللہ بن قسیط پر تبصرہ کے ضمن میں آپ نے لکھا ہے) پھر اسی صورت حال میں کسی مسئلہ کے مخالف وموافق،دونوں،کھینچ تان کرکے اپنا اپنافائدہ اٹھاتے ہیں۔لہذا مسلک اعتدال یہی ہے کہ انسان غیر جانبدار ہوکر ان کتب کی طرف رجوع کرے اور اس سے زیادہ محتاط مسلک یہ ہے کہ کسی محدث کے تبصرہ پر قناعت کرے۔

لہذا ہم ان دونوں احادیث کو موضوع کہنے کے حق میں نہیں۔زیادہ سے زیادہ انہیں ضعیف روایات ہی قرار دیا جاسکتا ہے اور ضعیف روایت تائید کے طور پر پیش کی جاسکتی ہے ۔البتہ جب ایسی حدیث اپنے مضمون میں منفرد ہوتو اس سے احتجاج درست نہیں،بالخصوص اعتقادات میں!

اور یہ تبصرہ بھی ہم نے ان مصنفین حضرات کی تحقیق کو ملحوظ رکھ کر پیش کیا ہے ورنہ بہت سے محدثین سیاح فرشتوں والی حدیث کو صحیح قرار دیتے ہیں۔ملاحظہ ہو جمع الفوائد ج2 ص 679 حدیث 9575(مطبوعہ مدینہ منورہ طبع 1381ہجری) الفاظ یہ ہیں:

1-رواه ايضا احمد وابن حبان والحاكم وصححه واقره الذهبى وقال الهيثمي رجاله الصحيح وقال العراقى الحديث متفق عليه دون قوله سياحين كذا فى الفيض-

"اس حدیث کو احمد ،ابن حبان اور حاکم نے روایت کیا اوراُسے صحیح کہا،اور ذہبی نے اس روایت کو پائیداار سمجھا اور ہثیمی نے کہا کہ اس کے تمام راوی صحیح ہیں اور عراقی نے کہا کہ یہ روایت "سیاحین" کے لفظ کے علاوہ متفق علیہ ہے۔ایسا ہی فیض القدیر شرح جامع الصغیر میں بھی لکھا ہے۔"

(ردالله على روحى) والی روایت کو سیوطی نے ضعیف قراردیا ہے۔"(جامع الصغیر ج2ص 148)تاہم موجودہ دور کے محدث البانی نے اسے حسن قراردیا ہے گویہ حدیث صحیح کے درجہ کو نہیں پہنچتی۔تاہم حسن ہے ضعیف نہیں۔

ان تبصروں کے بعد اس تیسرے طبقہ کے حضرات کے تبصروں کو سامنے لایئے تو خود بخود یہ معلوم ہوجائے گا کہ پہلے انہوں نے ایک نظریہ قائم کیا کہ قبر سے مراد یہ زمینی گڑھا نہیں۔پھر ایسی احادیث کو مجروح یا موضوع ثابت کرنے کے لئے اعتدال کی راہ سے ہٹ کر کھینچ تان سے کام لیا ہے۔حقیقت وہی ہے جو میں پہلے پیش کرچکا ہوں کہ:

"قرآن سماع موتیٰ کی پر زور تردید کرتا ہے ،احادیث صحیحہ استثنائی صورت پیش کرتی ہیں۔ضعیف اور وضعی روایات اس کا جوازثابت کرتی ہیں۔اور بزرگوں کے اقوال اور فرامین قرآن کا رد پیش کرتے ہیں۔"

2۔تاویل حدیث:

سومرو صاحب لکھتے ہیں کہ:

"احادیث صحیحہ سے ثابت ہے کہ"مُردہ کو جب کندھوں پر اٹھایا جاتا ہے تو وہ کہتا ہے کہ مجھے جلدی لے چلو۔۔۔" اس حدیث سے بھی تو یہی ثابت ہوتا ہے کہ بعض دفعہ حدیث کا بعینہ وہی مطلب نہیں ہوتا جو اس کے ظاہری الفاظ سے ہوتا ہے۔ایسی صورت میں اس اشکال والی حدیث کا کسی دوسری اشکال والی حدیث کو ملحوظ رکھ کر مطلب سمجھا جائے گا۔پھر مثال کے طور پر جو دوسری اشکال والی حدیث آپ نے درج فرمائی وہ یہ ہے کہ:

"بندہ جب نوافل کے ذریعہ میرا تقرب حاصل کرلیتا ہے تو میں بھی اس سے محبت کرنے لگتا ہوں تا آنکہ میں اس کے کان بن جاتا ہوں جن سے وہ سنتا ہے اور آنکھ بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے اور ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے۔اور پاؤں بن جاتا ہوں جس سے وہ چلتا ہے"

یہ حدیث درج کرنےکے بعد سومرو صاحب لکھتے ہیں کہ"اگر کوئی وحدت الوجودی یا حلولی یہ کہہ دے کہ خدا تو خود کہتا ہے کہ میں اس کے اعضاء بن جاتا ہوں تو کیا اس سے یہ نہ کہا جائے گا کہ اس کے یہ معنی نہیں یہ تو انداز بیان ہے؟"

غور فرمائیے! کہ اگر کسی ایسے صوفی کو کہا جائے کہ یہ تو محض انداز بیان ہے تو کیا وہ آپ کے اس جواب سے مطمئن ہوجائے گا؟ہرگز نہیں،صرف انداز بیان کہنے سے وہ کبھی بھی مطمئن نہیں ہوگا بلکہ اس کے اطمینان کے لئے اسے حدیث کا مطلب سمجھانا پڑے گا اور اسی حدیث کے مطلب میں نظریہ حلول کا پُورا رد موجود ہے اور وہ یہ ہے کہ حلولی یا وحدت الوجودی عبد اور معبود ہونے کا قائل نہیں ہوتا۔وہ اپنے آپ کو خدا کاایک حصہ اور اس کا ہمسر تصور کرتا ہے جبکہ یہ حدیث شروع ہی یہاں سے ہوتی ہے کہ" جب میرا بندہ نوافل کے ذریعہ میرا تقرب حاصل کرلیتا ہے۔"گویا عبد اور معبود کا تصور ہی اس حدیث کی بنیاد ہے۔رہا اس کے اعضاء کا اللہ کے اعضاء بن جانے کا مسئلہ تو اس کو جب پہلے حصہ سے متعلق کیا جائےگا۔تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اس بندہ کے اعضاء سے منشائے الٰہی کے خلاف کوئی کام صادر ہی نہیں ہوسکتا۔یعنی جو کچھ خدا چاہتا ہے۔وہی کچھ اس کے اعضاء کرنے لگتے ہیں۔بالفاظ دیگر اس بندے کے اعضاء پر منشا ورضائے الٰہی اتنی محیط ہوجاتی ہے کہ منشائے الٰہی کی تنفیذ کے لئے اس کے اعضاء آلہ کار کا کام دینے لگتے ہیں اور یہی عبودیت کا بلند مقام ہے جو حلولی اوروحدت الوجودی نظریہ کی عین ضد ہے حلولی نظریہ میں عبادت کیسی اور تقرب الی اللہ کیسا؟پھر اس حدیث کے اگلے الفاظ یوں ہیں:

وإن سألني لأعطينه، ولئن استعاذني لأعيذنه،(بخارى حديث:6502)

"اور اگر وہ(میرا مقرب بندہ) مجھ سے کوئی چیز مانگتا ہے تو میں اسے دیتا ہوں اور اگر مجھ سے پنا ہ مانگے تو میں پناہ دیتا ہوں۔"

گویا اس حدیث کا پہلا حصہ بھی عبد اور معبود کے تعلق کو واضح کررہاہے۔اور آخری حصہ بھی اسی بات کی تائید کر رہا ہے تو پھر ہمیں اس حلولی کو محض انداز بیان کہہ کر مطمئن کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ہمیں تو اس حدیث سے اس کا پورا پورارد کرنا چاہیے اور یہ بھی بتلا دینا چاہیے کہ اس سیاق وسباق کے درمیان والی عبارت کا صرف یہی مطلب ہوسکتا ہے ،نہ وہ جو تم سمجھ رہے ہو۔پس یہ محض انداز بیان نہیں! اس حدیث کے درج کرنے سے غالباً آپ یہ واضح کرنا چاہتے تھے کہ جیسے اس اعضاء والی حدیث کے ظاہری الفاظ اور ہیں اور مطلب اور ہے اسی طرح اس مُردے کے کلام کرنے والی حدیث کے ظاہری الفاظ اور ہیں اور مطلب اور ہے اور وہ مطلب یہ ہے کہ ہم نہ تو مُردہ کے ہونٹ ہلتے ہوئے دیکھتے ہیں نہ ہی اس کی آواز سنتے دیکھتے ہیں۔مگر ظاہری الفاظ سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ مُردہ بولتا ہے اسی طرح عذاب قبر کے سلسلہ میں جو قبر کا ظاہری لفظ ہے۔اس سے مراد زمینی گڑھا لینا ضروری نہیں۔اس کا ہمارے خیال میں ہمیں اس مردہ کے بولنے والی حدیث میں بھی کسی قسم کی تاویل کی ضرورت نہیں۔اگرچہ ہم اس کا کلام سن یا سمجھ نہیں سکتے۔ارشاد باری تعالیٰ ہے:

﴿وَإِن مِن شَىءٍ إِلّا يُسَبِّحُ بِحَمدِهِ وَلـٰكِن لا تَفقَهونَ تَسبيحَهُم ... ﴿٤٤﴾... سورةالإسراء

"کوئی چیز ایسی نہیں جو اللہ تعالیٰ کی تسبیح کے ساتھ حمد بیان نہ کرتی ہو مگر تم ان کی تسبیح کو سمجھتے نہیں۔"

تو جب ہم اتنی کثیر التعداد اشیاء کی تسبیح کو سمجھ نہیں سکتے اور ہمارے اس نہ سمجھنے کی وجہ سے نہ تو ان کی تسبیح میں کوئی فرق آتا ہے۔نہ ہمیں اس کی تاویل کی ضرورت پیش آتی ہے۔تو پھر اگر ہم ایک مُردے کی بات سُن یا سمجھ نہ سکیں تو آخر اس مضر کی صورت اختیار کرتے ہوئے تاویل کی راہ کیوں سوچیں؟اور قبر کا معاملہ تو اس سے بھی خاص ہے ۔قبر ایک مادی اور حسی چیز ہے۔قبر کا لفظ بولنے سے فوراً ہر کوئی سمجھ جاتا ہے۔اور ذہن ا س طرف منتقل ہوجاتا ہے،تو پھر آخر اس قبر کو زمینی قبر ہی سمجھ لینے سے کیا چیز مانع ہے؟

ماحصل:مستفسرین کے سوالات واشکالات کا جواب دینے کے بعد مناسب سمجھتاہوں کہ اپنے نظریہ کی ایک بار پھر وضاحت کردوں جو اس طرح ہے:

1۔قبر سے مُراد یہی زمینی گڑھا ہے جس میں مُردہ کو دفن کیا جاتا ہے۔یہی کچھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین نے سمجھا تھا۔

2۔قبر کی نئی تعبیر کہ اس سے مراد زمینی گڑھا نہیں بلکہ برزخی قبر ہے با بعد کی پیدا وار ہے جو تفریط یا دوسری انتہا ہے اور یہ غالباً شرک کے اس چور دروازے کو بند کرنے کےلئےا ختیار کی گئی ہے۔

3۔مرنے کے بعد روح کو نیا جسم عطا نہیں ہوتا بلکہ روح کا اپنا بھی جسم اور شکل ہوتی ہے اور یہ اس دنیاوی زندگی میں بھی ہے خواب میں یہی شکل وصورت ہوتی ہے اور یہ شکل وصورت مرحلہ نمبر 1 میں بھی تھی۔اور اس کی شکل وصورت انسان کے ظاہری جسم کی شکل وصورت جیسی ہی ہوتی ہے اور اس کی مثال ایسی ہے جیسے زیتون کے درخت میں زیتون کا تیل یا کوئلہ میں

4۔مرنے کے فوراً بعد ہی روح کو عذاب وثواب سے دو چار ہونا پڑتا ہے۔خواہ ابھی مُردہ دفن نہ ہوا ہو اور یہ سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا۔

5۔مرنے کے ساتھ ہی فرشتے مُردہ کی روح کو آسمانوں کی طرف لے جاتے ہیں پھر اس وقت واپس لاتے ہیں جب مُردہ قبر میں دفن ہوچکتا ہے۔اس وقت اس سے سوال وجواب ہوتے ہیں اور وہ جانے والے آدمیوں کے جوتوں کی چاپ بھی سنتا ہے۔اور یہ سب اضطراری امور ہیں۔ان میں استثناء یہ ہے کہ جن لوگوں کو قبر نصیب ہی نہ ہو ان پر یہ واردات۔

6۔کبھی کبھار اس روح کے عذاب وثواب کا خفیف سا اثر اس جسم تک بھی پہنچ جاتا ہے جو قبر میں دفن ہوتا ہے(اگر ہوتو)جیساکہ خواب میں انسان کی روح تو رنج وراحت سے متاثر ہوتی ہی ہے،لیکن کبھی کبھار اس کا اثر انسان کے بستر پر پڑے ہوئے اور سوتے ہوئے جسم تک بھی پہنچ جاتا ہے۔

7۔جس طرح سونے والے شخص کے خواب میں دنیا اور جہان اس موجود دنیا جہان سے الگ ہوتے ہیں۔او ر وہ جاگنے والوں کے اعمال وحرکات اورآواز سے قطعاً بے خبر ہوتا ہے اسی طرح مرے ہوئے انسان کی بھی دنیاجہان اس موجود دنیا جہان سے الگ ہوتی ہے اور وہ ان کے اعمال وحرکات اورآواز سے قطعاً بے خبر ہوتا ہے۔لہذا قاعدہ کلیہ یہی ہے کہ جو مرُدے قبروں میں مدفون ہیں اور اسی طرح ان کی روحیں بھی ہم دنیا والوں کی آواز یا فریاد قطعاً سن نہیں سکتے اور اس میں استثناء یہ ہے کہ اگر اللہ چاہے تو کسی کو سنا بھی سکتا ہے۔

8۔ایسے سوالات یا اشکالات ،کہ خواب میں ایک انسان کی روح کسی مرے ہوئے کی روح یا زندہ کی روح سے کیسے ملتی ہے؟ان کا حل تلاش کرنا انسانی عقل سے ماورا ہے۔ان کے پیچھے پڑنے کا کوئی فائدہ نہیں نہ ہی ایسی باتوں کا عقائد سے کچھ تعلق ہے۔

9۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جہاں کہیں سے بھی درود پڑھا جائے وہ فرشتوں کے ذریعہ تک پہنچادیا جاتا ہے۔

10۔عالم برزخ فی الحقیقت موت کا عالم ہے کیونکہ اس میں روح اور جسم کا انفصال ہوتا ہے لیکن اس میں بھی استثنائی صورت موجود ہے تاہم اس میں موت کے اثرات ہی غالب ر ہتے ہیں۔جس طرح اس دنیا میں جو کہ عالم حیات ہے ۔استثنائی صورت خواب ہے اور اس خواب میں حیات کےاثرات غالب ہوتے ہیں۔واللہ اعلم