قانونی اختلافات سے عافیت کتاب وسنت کی دستوری حیثیت تسلیم کرنے میں ہے

اللہ رب العزت کا ارشاد ہے:

﴿ما فَرَّ‌طنا فِى الكِتـٰبِ مِن شَىءٍ...﴿٣٨﴾... سورةالانعام

کہ"ہم نے اس کتاب (شریعت )میں کوئی کمی نہیں چھوڑی!"

قرآن مجید بلاشبہ ایک مکمل دستورحیات ہے۔اور اگر کسی مسئلے کی صراحت میں قرآن مجید میں نہیں ملتی،تو اس سے اس کا دستوری کمال مجروح نہیں ہوتا۔کیونکہ قرآن مجید تنہا نہیں آیا،بلکہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوا اوراس کی تشریح وتبیین کے لئے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہی مقرر کیا گیا۔چنانچہ قرآن مجید میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا منصب یہ بیان ہوا ہے کہ:

﴿وَأَنزَلنا إِلَيكَ الذِّكرَ‌ لِتُبَيِّنَ لِلنّاسِ ما نُزِّلَ إِلَيهِم...﴿٤٤﴾... سورةالنحل

"(اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم)ہم نے آپ(صلی اللہ علیہ وسلم) کی طرف ذکر نازل فرمایا تاکہ آپ لوگوں کے لئے اس چیز کی وضاحت کریں جو ان کی طرف نازل کی گئی ہے!"

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ بیان سنت ہے جو قرآن مجید کی واحد متعین تعبیر ہے۔چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو سلے ہوئے کپڑوں میں طواف کرتے ہوئے دیکھا تو آپ رضی اللہ عنہ نے انہیں منع فرمایا،جس پر اس شخص نے کہا،"قرآن مجید میں یہ ممانعت کہاں مذکور ہے؟"تو آپ رضی اللہ عنہ نے اسے قرآن مجید کی یہ آیت پڑھ کر سنائی:

﴿وَما ءاتىٰكُمُ الرَّ‌سولُ فَخُذوهُ وَما نَهىٰكُم عَنهُ فَانتَهوا ۚ...﴿٧﴾... سورةالحشر

کہ"رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) جو کچھ تمھیں دیں وہ لے لو،اور جس سے منع فرمائیں،اس سے باز رہو"

اس مختصر سے واقعہ سے کتاب وسنت کی حیثیت واضح ہوجاتی ہے کہ مسلمانوں کا دستور حیات قرآن مجید ہے اور سنت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) اس کی آخری تعبیر!۔۔۔لہذا قرآن مجید کی موجودگی میں کسی بھی دستور سازی کی نہ گنجائش ہے اور نہ ہی ہمیں اس کا حق پہنچتا ہے۔۔۔یہی وہ حقیقت ہے جس کو ایک مدت سے ہم"محدث" کے انہی صفحات میں مختلف انداز سے پیش کرتے چلے آرہے ہیں!

روزنامہ "نوائے وقت" نے اپنی 7 مئی 84ء کی اشاعت میں قصاص ودیت کے موضوع پر" ایوان وقت" کے زیر اہتمام ایک مذاکرہ کی تفصیلات شائع کی ہیں۔اس مذاکرہ میں چند خواتین کے علاوہ علامہ محمود احمد رضوی اور مفتی محمد حسین نعیمی بھی شامل تھے۔۔۔خواتین کا یہ موقف تھا کہ عورت کی دیت مرد کے مقابلہ میں آدھی نہیں بلکہ مرد کے برابر ہونی چاہیے جبکہ علامہ صاحب اور مفتی صاحب کا موقف یہ تھا کہ عورت کی دیت مرد کے مقابلہ میں نصف ہوگی!۔۔۔قطع نظر اس سے کہ صحیح موقف کیا ہے:۔۔۔

۔۔۔ہم قارئین کے نوٹس میں چند ایسی باتیں لانا چاہتے ہیں جو دوسروں کے علاوہ خود علامہ صاحب اور مفتی صاحب کو بھی دعوت فکر دیتی ہیں اور جو بے ساختہ اس مذاکرہ کے دوران ان کی زبان سے نکل گئی ہیں۔۔۔بے ساختہ اس لئے کہ" صاحبین" کا تعلق اس مکتب فکر سے ہے،جن کے نذدیک پاکستان میں نفاذ اسلام کے سلسلہ کا شارٹ کٹ یہ ہے کہ یہاں فقہ حنفی نافذ کردی جائے بلکہ وہ اس کے علمبردار بھی ہیں لیکن اس موقع پر انہوں نے صرف اور صرف قرآن وسنت کی بات کی ہے!

۔۔۔چنانچہ آغاز گفتگو میں علامہ صاحب نے فرمایا!

1۔"اصول یہ ہے کہ قرآن وسنت اجماع امت یہ تین چیزیں بنیادی ہیں اس میں ہم اپنی رائے کا دخل نہیں دے سکتے!"

2۔یہ بات آپ کو تسلیم کرنی ہوگی کہ قرآن پاک میں نص قطعی سے ثابت ہے کہ میراث میں عورت کو نصف ملتا ہے اور مرد کو ڈبل ملتا ہے (لہذا دیت میں بھی یہی نسبت ہوگی!)"

اس پر ا یک خاتوں نےاس کی حکمت یہ بیان کی کہ:

"عورت کو آدھی جائداد اس لئے ملتی ہے کہ مرد پر مالی ذمہ داریاں ڈالی گئی ہیں اور عورت پر نہیں!"

تو علامہ صاحب نے ارشاد فرمایا!

3۔"یہ جو آپ نے وضاحت بیان کی ہے یہ اپنی طرف سے بیان کی ہے،آپ عالم کی کیا بات کرتی ہیں،ہم کسی عالم کو نہیں مانتے ہم تو آیت کو مانتے ہیں آیت میں یہ دیکھائیے کہ یہ کہاں ہے؟"

علامہ صاحب نے مذید فرمایا:

4۔"یہ طے ہے کہ ہر چیز کی تفصیل قرآن مجید میں نہیں ہے ۔قرآن نازل ہوا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر،اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کا متبین قرار دیا!" اس پر ایک خاتون نے کہا کہ:

"جب قرآن میں یہ چیزیں موجود نہیں ہیں تو پھر کہاں سے لی گئی ہیں؟"

ارشاد ہوا:

5۔"یہ حدیث سے لی گئی ہیں!"

حضرت علامہ صاحب کے یہ الفاظ جو ہم نے اوپر نقل کئے ہیں پکار پکار کر یہ اعلان کررہے ہیں کہ وہ قرآن کریم کو ہی اپنا دستور حیات تسلیم کرتے ہیں،نیز یہ کہ ان کے نزدیک کسی غیر نبی کی بات نہ تو حجت ہے اور نہ ہی کسی کو شریعت میں اپنی رائے کے ذریعہ دخل دینے کا کوئی حق حاصل ہے۔۔۔وہ یا تو آیت قرآنی کو دیکھتے ہیں،اور اگر آیت میں صراحت موجود نہ ہو تو قرآن کریم کے متبعین ،رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کو دیکھتے ہیں۔۔۔پھر ان سے کیا یہ پوچھا جاسکتا ہے کہ،حضرت وہ اقوال ابی حنیفہ ؒ کیا ہوئے،کہ جن میں آپ لوگوں کی طرف سے پوری شریعت کو منحصر جان لیا گیا ہے اور جن کو رد کرنے والے کی سزا ریت کے زروں کے برابر رب کی لعنت ہے؟

۔۔۔اور کیا اس اعلان کے بعد بھی آ پ تقلید کو باعث فخر خیال کرنے،غیر مقلد،لیکن متبع سنت کو مطعون کرنے۔۔۔نیز آپ کےساتھی 1973ء کے دستور کو صحیفہء آسمانی قرار دیتے پر اصرار جاری رکھیں گے؟۔۔۔یا ان کے نزدیک ملکی سیاست اور چیز ہے اور"ایوان وقت" کی سیاست اور؟

۔۔۔بہرحال:::::

نکل جاتی ہے جس کے منہ سے سچی بات مستی میں

فقیہ مصلحت بیں سے وہ رندِ بادہ خوار اچھا

اسی طرح جب ایک خاتون نے کہا کہ:

"دو احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ عورت کی پُوری دیت ہے!"

تو علامہ صاحب نے فرمایا:

6۔"حدیث اور قول میں فرق ہوتا ہے!"

ہمیں افسوس ہے کہ ایک دوسری خاتون نے یہ کہہ کرکہ :" بحث کرنے سے کیا فائدہ،کوئی ٹھوس بات ہونی چاہیے!" علامہ صاحب کی بات کاٹ دی۔ورنہ ہمیں یقین ہے کہ اگر علامہ موصوف کو اس اجمال کی تفصیل بیان کرنے کا موقع مل جاتا ،تو اس میں خود ان کے علاوہ بہتوں کا بھی بھلا ہوتا!

اس کے بعد ایک خاتون نے عورت کی پوری دیت پر اصرار کرتے ہوئے یہ دلیل پیش کی کہ"آج کے دور میں عورت مرد کی طرح اپنے خاندان کی کفیل ہے"تو علامہ صاحب صاحب نے یہ کہہ کر اس کی تردید فرمائی کہ:

"جس فلسفے کی بنیاد پر آپ دیت کا تعین کرنا چاہتی ہیں،تو پھر نماز کی رکعات میں بھی اس فلسفے کی روشنی میں کمی کرلیں"کیونکہ"اب مشینی دور ہے،انسان کے پاس وقت کی بہت کمی ہے!"

جواب ملاکہ:

"چھوٹ تو دی گئی ہے کہ جب تھکے ہوئے ہو تو (نماز) کم پڑھ لو!"

تو علامہ صاحب نے فرمایا:

7۔"وہ تو مسافر کے لئے ہے اور قرآن مجید نے دی ہے،ہم نےاپنی طرف سے تو نہیں دی،ہزاروں مسائل اس قسم کے ہیں ۔یہ نفسیاتی اثر ہے کہ آپ کہہ رہی ہیں کہ دیت نصف ہوگئی ہے۔۔۔لیکن جہاں قرآن وسنت کی بات آجاتی ہے تو بحیثیت مسلمان ہمیں قرآن وسنت کی روشنی میں کام کرنا ہوگا!"
ع کفر ٹوٹا خدا خدا کرکے!

چنانچہ اس اصول کی بناء پر اگر یہ تسلیم کرلیا جاتا کہ اجتہاد کے دروازے آج بھی کھلے ہیں،اور اس طرح تقلید کے قلادہ دے اپنے تئیں آزاد کرکے کسی ایک فقہ پر اصرار بے معنی ہوکر رہ جاتا۔تو آج پاکستان میں شریعت کی عملداری کا معاملہ "ہنوزروز اول"کا نہ ہوتا۔۔۔کیا یہ حقیقت نہیں کے علامہ موصوف کے بھائی بندوں کی طرف سے اب تک یا تو فقہ حنفی کے نفاذ کی صدا بلند ہوئی ہے یا 1973ء کے آئین کی بحالی کے بعد آزادانہ انتخابات کی،ورنہ تحریک چلانے کی دھمکیاں دی گئی ہیں،لیکن نفاذ شریعت کے سلسلے میں قابل قدر ر ہنمائی سے،جو ان کا اولین فرض تھا،ان کا دامن تقریباً خالی ہے!۔۔۔پھر کیا پاکستان میں نفاذ شریعت کے مسلسل التواء کی افسوسناک صورتحال کےھ وہ ذمہ دار نہیں ہیں؟جبکہ سیاسی طور پر اس سلسلہ کی ناکامیوں کا پُورا وزن حکومت کے پلڑے میں ڈال دیا گیا ہےيَا لَيْتَ قَوْمِي يَعْلَمُونَ

مزید برآں،ایک خاتون نے اپنے موقف پر اصرار جاری رکھتے ہوئے کہا کہ!

"ہم یہ کہتے ہیں کہ اسلام کی ایسی تاویل کی جائے جو موجود زمانے کے مطابق ہو!" تو علامہ صاحب نے فرمایا:

8۔"اسلام کی تاویل کرنے کا ہمیں یا آپ کو کیا حق ہے؟قرآن پاک کی تفسیر کرنے کا حق اللہ تعالیٰ نے سوائے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی کو نہیں دیا۔"مزید ارشاد ہوا:

9۔علماء اپنی مرضی سے کچھ بھی نہیں کہہ سکتے۔یہ تو آپ کا اپنا نظریہ ہے اور آپ اپنے عقیدے اور مسلک کی مالک ہیں۔آ پ پر کوئی جبر نہیں اور نہ ہی آپ کسی پر جبر کر سکتی ہیں۔۔۔سوا ل یہ ہے کہ قرآن وسنت کی روشنی میں کیا فیصلہ ہونا چاہیے!"جناب علامہ صاحب فقہ حنفی کو آپ سے بجا طور پر یہ شکوہ ہے کہ آپ نے اپنی پوری گفتگو میں اسے بُری طرح نظر انداز فرمایا ہے،البتہ حاملین کتاب وسنت آپ کے شکر گزاار ہیں کہ آپ نے تمام علماء کو کتاب وسنت کا پابند کردیا ہے۔اور اس طرح تقلید کی جڑیں ہلاکررکھ دی ہیں!۔۔۔جزاکم اللہ خیرا!"تاہم آپ کی اس جبر والی بات سے ہمیں اختلاف ہے۔کیونکہ دین کسی کا پرائیویٹ معاملہ نہیں۔اور جس قرآن وسنت کی آپ بات کررہے ہیں۔خود قرآن مجید ہی میں یہ آیات موجود ہیں:

﴿وَمَن لَم يَحكُم بِما أَنزَلَ اللَّـهُ فَأُولـٰئِكَ هُمُ الكـٰفِر‌ونَ ﴿٤٤﴾... سورة المائدة

کہ"جس نے"( بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ)"کےمطابق فیصلہ نہ کیا تو یہ لوگ کافر ہیں!"

نیز فرمایا:

﴿وَمَن يُشاقِقِ الرَّ‌سولَ مِن بَعدِ ما تَبَيَّنَ لَهُ الهُدىٰ وَيَتَّبِع غَيرَ‌ سَبيلِ المُؤمِنينَ نُوَلِّهِ ما تَوَلّىٰ وَنُصلِهِ جَهَنَّمَ ۖ وَساءَت مَصيرً‌ا ﴿١١٥﴾... سورةالنساء

کہ"جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مخالفت کی ٹھانی بعد اس کے کہ اس پر ہدایت واضح ہوچکی اور وہ مومنوں کی راہ چھوڑ کر کسی اور راہ پرنکل کھڑا ہوا تو ہم اسے اسی طرف پھیر دیں گے جس طرف کہ اس نے منہ اٹھا لیا ہے(مزید برآں)ہم اسے جہنم میں داخل کریں گے جو کہ بہت ہی بُری جگہ ہے!"

۔۔۔چنانچہ یہی بات سمجھانے کےلئے آپ "ایوان وقت" میں تشریف لے گئے تھے ،پھر یہ مداہنت کیونکر؟

علامہ محمود احمد رضوی کے خیالات سے مستفید ہونے کے بعد "نوائے وقت" نے تجویز پیش کی کہ "مفتی نعیمی صاحب بھی موجود ہیں،ان کو بھی اظہار خیال کا موقع دیں ۔چنانچہ مفتی صاحب میدان میں آئے،خوب گرما گرم بحث ہوئی۔ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ مفتی صاحب نے بعض باتیں بہت خوبصورت کہیں،بالخصوص ایک بات تو انہوں نے ایسی کہی کہ ہم اس پر انہیں مبارکباد پیش کرنا چاہتے ہیں۔۔۔انہوں نے فرمایا:

10۔"اچھا میں آپ کی بحث ختم کرنے کے لئے ایک خوشخبری سنا دوں،ہم نے راجہ ظفر الحق صاحب کی زیرصدارت نیا مسودہ بنایا ہے ۔کیونکہ یہ جھگڑا ختم نہیں ہوپاتا تھا۔اس پر تمام کمیٹیوں نے بیٹھ کر یہ مسودہ تیار کیا ہے اور یہ سپریم کورٹ میں بھی بھیج دیا گیا ہے۔۔۔دیت قرآن وسنت کے مطابق طے کی جائے گی۔مگر اس کی مقدار کتنی ہوگی،یہ سپریم کورٹ پر چھوڑ دی گئی ہے اور ہمارے خیال میں آپ کو قبول ہوگا!"

نہ کہیں جہاں میں اماں ملی،جو اماں ملی تو کہاں ملی؟

مرے جرم خانہ خراب کو ترے عفو بندہ نواز میں!

قارئین کرام فتلك عشرة كاملة۔۔۔(والحمدالله على ذلك)۔۔۔نوائے وقت جس نے مفتی صاحب اور علامہ صاحب کے ارشادات سننے سے قبل یہ کہا تھا کہ"اسلامی حکومت کو یہ اختیار ہے کہ وہ دیت جتنی چاہے مقرر کرے۔قرآن پاک نے اس کی حد مقرر نہیں کی!"۔۔۔آخر میں یہ اعلان کیاکہ:"۔۔۔ہمارا ایمان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (جو کچھ) فرمادیا،ہم نے مان لیا،اس میں تو کسی قسم کی گنجائش ہی نہیں!"

یہ خوشخبری ہمارے لئے بھی خوشخبری ہے کہ اس خوشخبری کو ان لوگوں نے خوشخبری کے نام سے موسوم کیا ہے،جو اس سے پیشتر فقہ حنفی کے نفاذ کے علاوہ کوئی بات سننے کے بھی روادار نہیں تھے۔لیکن آج وہ اپنے مسائل کا حل صرف اورصرف کتاب وسنت میں تلاش کررہے ہیں۔۔۔اور یہ ایک بہت بڑی حقیقت ہے آج سے تھوڑا عرصہ قبل جب خواتین کی طرف سے "دو عورتوں کی شہادت ایک مرد کی شہادت کے برابر ہے"کے خلاف شور اٹھا تھا،اخبارات میں ان بحثوں کا نہ ختم ہونےوالاطویل سلسلہ شروع ہوگیاتھا،اور ہر کس وناکس نے آیات قرآنی کو بچوں کا کھیل بنا لیا تھا،حتیٰ کہ یہ مسئلہ مجلس شوریٰ میں پہنچا تا بالآخر عافیت اسی میں نظر آئی کہ اس بحث کو ہی ختم کیا جائے کہ عورت کی گواہی آدھی ہے یا پوری؟اصل مسئلہ یہ ہے کہ کتاب وسنت اس بارے میں کیا کہتے ہیں،چنانچہ اس کا حل یہ پیش کیا گیا کہ اس مسئلہ میں کتاب وسنت کوقانونی حیثیت دی جائے۔۔۔اور قارئین جانتے ہیں کہ بے چینی کی ان شوریدہ سر لہروں کو کتاب وسنت کے اس ساحل سے ہمکنار ہونے پرہی سکون میسر آیا تھا۔

۔۔۔پس حالات چیخ چیخ کر اور پکار پکار کر یہ دعوت دے رہے ہیں کہ،اللہ کے بندو،قرآن مجید کو اپنا دستور حیات تسلیم کرکے اس کی واحد،متعین اور آخری تعبیر سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں اپنے دکھوں کا مداوا،مسائل کا حل،الجھنوں سے چھٹکارا،بے چینیوں کا سکون اور پریشانیوں سے نجات حاصل کرو۔۔۔اسلام دین کا مل ہے اور شریعت اسلامیہ عبارت ہے کتاب وسنت سے ،جو تاقیامت ہمارے لئے رہنما کی حیثیت رکھتی ہے۔۔۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نہ کوئی نبی آئے گا،نہ رسول ،نہ یہاں کوئی مرکز ملت کی گنجائش موجود ہے اور نہ ہی کوئی نئی شریعت آسمانوں سےنازل ہوگی۔یہی وہ شریعت ہے،یہی وہ دین ہے جس کو بالآخر تمام ادیان باطلہ پر غالب ہوکررہنا ہے﴿ وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ﴾

۔۔۔پھر کیا آپ یہ پسند نہیں کرتے کہ اس مبارک مشن کی تکمیل میں آپ بھی اپنا حصہ بانٹ لیں اور ان مصائب وآلام سے بھی نجات حاصل کرلیں،جن کے باعث پورا عالم انسانی بے چین ہے اور جن کا یہی ایک حل ہے کہ:

﴿يـٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا أَطيعُوا اللَّـهَ وَأَطيعُوا الرَّ‌سولَ وَأُولِى الأَمرِ‌ مِنكُم ۖ فَإِن تَنـٰزَعتُم فى شَىءٍ فَرُ‌دّوهُ إِلَى اللَّـهِ وَالرَّ‌سولِ إِن كُنتُم تُؤمِنونَ بِاللَّـهِ وَاليَومِ الـٔاخِرِ‌ ۚ ذٰلِكَ خَيرٌ‌ وَأَحسَنُ تَأويلًا ﴿٥٩﴾... سورة النساء

کہ"اے ایمان والو !اللہ کی اطاعت کرو اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کی اطاعت کرو اور ا پنے اولی الامر کی بھی (لیکن) اگر کسی بات میں انزاع ہوجائے تو اس کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کی طرف لوٹادو۔(یعنی کتاب وسنت میں اس کا حل تلاش کرو)اگر تم اللہ اور روز ِ آخرت پر یقین رکھتے ہو۔یہی بھلائی ہے اور یہی انجام کار کے لحاظ سے بہترین (طریقہ) ہے!"

چنانچہ آج حالات وواقعات نے بھی اس کی گواہی دے دی ہے کہ قرآن مجید کی من مانی تاویل نہیں،بلکہ کتاب وسنت کی پابندی ہی ﴿وَأَحْسَنُ تَأْوِيلًا﴾ ثابت ہوئی ہے!

آخر میں کتاب وسنت کے علمبرداروں سے بھی یہ گزارش کرنا چاہتے ہیں کہ ایسے و قت میں،جبکہ فقہ حنفی میں ہی پورے اسلام کو منھر جاننے والے کتاب وسنت کی طرف متوجہ ہورہے ہیں، تو انہیں ان کی پُرانی روش کی دیکھا دیکھی،محض رفتار زمانہ کا ساتھ دینے کے شوق میں اس نعرہ کو نہ اپنانا چاہیے کہ 1973ء کے دستور کو بحال کیا جائے"کیونکہ ہمارا دستور قرآن مجید ہے،جس کی عملی تشریح وتعبیر ہمیں سنت ر سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملتی ہے۔لہذا انھیں چاہیے کہ اپنے دامن کے ان انمول موتیوں کو چھوڑ کر ان ٹکڑوں کی طرف نہ دیکھیں جو چند مغٖرب زدہ ذہنوں نے اہل مغرب سے مانگ کر اپنی گودڑی میں بھر لئے ہیں۔یہ دور تقلید کا دور نہیں اتباع سنت سے مالا مال ہونے کا ہے۔یہ وقت سونے کا نہیں جاگ کر رہنمائی کرنے کا ہے۔لوگ آپ کے مشن کی تکمیل کے لئے آپ کی طرف متوجہ ہورہے ہیں،انھیں مایوس ہوکر واپس نہ لوٹنا چاہیے۔آج سے آپ کا متفقہ مطالبہ صرف یہ ہونا چاہیے کہ ہمارے تمام مسائل کا حل صرف اور صرف کتاب وسنت میں مضمر ہے۔یاد رکھئے!آپ کی یہ آواز نعرہ بن جانی چاہیے کہ:

﴿وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا﴾

اور پھر اس مقدس مشن کی تکمیل کے لئے اپنی تمام ترصلاحیتیں میدان عمل میں لے آئیں۔والله المؤفق.... واخر دعونا ان الحمدالله رب العالمين
حاشیہ

۔یہ اس شعر کا ترجمہ ہے جو کسی حنفی عالم نے کہا ہے کہ

فلعنه ربنا اعدادرمل

على من رد قول ابى حنيفة