اللہ تعالیٰ نےانسان کو انتہائی قیمتی نعمتوں سے نوازا ہے۔ان میں سے ایک نعمت زبان ہے۔جس کا صحیح استعمال انتہائی خوشگوار نتائج پیدا کرتا ہے۔لیکن اگر اسے غلط استعمال کیا جائے تو ہر قسم کے فساد اور خرابی کی جڑ بن جاتی ہے۔لہذا اللہ تعالیٰ نے اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے زبان کی حفاظت پر بہت زور دیا ہے۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہےکہ:

﴿وَلا تَقفُ ما لَيسَ لَكَ بِهِ عِلمٌ ۚ إِنَّ السَّمعَ وَالبَصَرَ‌ وَالفُؤادَ كُلُّ أُولـٰئِكَ كانَ عَنهُ مَسـٔولًا ﴿٣٦﴾... سورةالإسراء

"کسی ایسی چیز کے پیچھے نہ لگو جس کا تمھیں علم نہ ہو یقیناً۔آنکھ،کان،اور دل،سب سے باز پرس ہوگی۔"

دوسرے مقام پر فرمایا:

﴿مَا يَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ إِلَّا لَدَيْهِ رَقِيبٌ عَتِيدٌ ﴿١٨﴾... سورة ق

کہ"کوئی لفظ زبان سے نہیں نکلتا سے محفوظ کرنے کے لئے ایک حاضر باش نگران موجود نہ ہو۔"(یعنی جو لفظ بھی زبان سے نکلتا ہے،اسے ضبط کرنے والا ایک حاضر باش نگران موجود ہوتا ہے)

ایک اور مقام پر یوں ارشاد ہوا:

﴿قَد أَفلَحَ المُؤمِنونَ ﴿١﴾ الَّذينَ هُم فى صَلاتِهِم خـٰشِعونَ ﴿٢﴾ وَالَّذينَ هُم عَنِ اللَّغوِ مُعرِ‌ضونَ ﴿٣﴾...سورة المؤمنون

"یقیناً فلاح پائی ایمان والوں نے جو اپنی نماز میں خشوع اختیار کرتے اور لغویات سے دور رہتے ہیں۔"

اب اس سلسلے میں ر سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات ملاحظہ ہوں:

1۔حضرت ابو موسیٰ اشعری ر ضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ۔میں نے عرض کی،"یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کونسامسلمان بہترین ہے؟"

فرمایا:"جس کے ہاتھ اور زبان سے مسلمان سلامت رہیں۔"(بخاری۔مسلم۔نسائی)

اسی معنٰی کی روایت بخاری ؒ ومسلمؒ نے حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے بھی روایت کی ہے۔

2۔حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا،"اے اللہ کے رسول(صلی اللہ علیہ وسلم) سب سے بہترین عمل کونسا ہے؟ارشاد ہوا۔"وقت پر نماز کی ادائیگی:،۔میں نے عرض کی،"اس کے بعد کونسا؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،"یہ کہ لوگ تیری زبان سے محفوظ رہیں۔"(امام طبرانی نے اسے صحیح سند سے روایت کیا ہے)

3۔حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں۔میں نے عرض کی،"اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) راہِ نجات کیا ہے؟"فرمایا"یہ کہ تو اپنی زبان کو قابو میں رکھے،اپنے گھر پر قناعت کرے اور اپنے گناہوں پر روئے۔"(ابو داؤد،ترمذی،بیہقی)

اس کے معنیٰ کی حدیث طبرانی نے حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے اور طبرانی وبیہقی نے حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے بھی روایت کی ہے۔

4۔حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کرتے ہیں،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:"جو مجھے زبان اور شرمگاہ کی حفاظت کی ضمانت دے ،میں اسے جنت کی ضمانت دیتا ہوں۔"(بخاری وترمذی)

5۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشا د فرمایا"جسے اللہ تعالیٰ نے زبان اور شرمگاہ کے شر سے محفوظ کردیا وہ جنت میں داخل ہوگیا۔"(ترمذی۔۔۔۔ابن حبان)

6۔حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ"اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے تین باتیں ناپسند فرمائی ہیں: (1) فضول باتیں کرنا(2) مال ضائع کرنا(3)بلا مقصد سوال کرتے رہنا۔"(بخاری۔مسلم۔ابوداؤد)

7۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا:"

"انسان کے اسلام کی خوبی یہ ہے کہ غیر متعلق باتیں چھوڑ دے۔"(ترمذی)

8۔حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے آنجناب صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا،"جو کچھ بھی ہم بولتے ہیں کیا وہ ہمارے نامہ اعمال میں لکھ دیا جاتا ہے؟"آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

"تیری ماں کا بھلا ہو،لوگ ا پنی زبانوں کی وجہ سے ہی اوندھے منہ جہنم میں ڈالے جائیں گے۔۔۔تیری سلامتی اس میں ہے کہ تو اکثر خاموش رہے۔۔۔جونہی تو نے بات کی،یا تیرے حق میں جائے گی یا تیرے خلاف!"(طبرانی)

زبان کی حفاظت اور کم سے کم گفتگو کے متعلق ذخیرہ حدیث میں کم وبیش ساٹھ حدیثیں پائی جاتی ہیں۔۔۔جن میں سے چند کا تذکرہ بطور نمونہ قارئین کے سامنے پیش کردیا ہے۔۔۔تاکہ وہ یہ فیصلہ فرمالیں کہ زیادہ گفتگو دنیا وآخرت کے لحاظ سے مفید ہے یا کم سے کم؟

مسلمان کی عزت:

مسلمان کی عزت کا کیا مقام ہے؟اللہ تعالیٰ کے آخری نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کیا مقام دیا ہے؟۔۔۔اس کے لئے مندرجہ زیل احادیث کا مطالعہ ضروری ہے۔

1۔حضرت ابی بکرۃ رضی اللہ عنہ نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو حجۃ الوداع کے موقع پر یہ فرماتے ہوئے سنا:

"بلاشبہ تمہارے خون،مال اور عزت تم پر اسی طرح محترم ہیں جیسے آج کا یہ دن ،اس مہینے میں اور اس شہر کے اندر۔۔۔آگاہ رہو،کہ میں نے یہ بات تم تک پہنچا دی ہے!"(بخاری،مسلم)

2۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ راوی ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

"مسلمان پر مسلمان کا خون،عزت،اور مال قابل احترام ہیں۔"(مسلم۔ترمذی)

3۔حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ:

"سود کی بہتر قسمیں ہیں۔سب سے چھوٹی قسم کا گناہ ایسا ہے جیسے آدمی اپنی والدہ کے پاس شہوت سے جائے۔۔۔اور بدترین قسم اپنے بھائی پر زیادتی کرنا ہے!"(طبرانی)

اسی معنٰی کی ایک روایت ابن ابی الدنیا نے "کتاب ذم الغیبۃ"میں حضرت انس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نقل کی ہے۔

4۔ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد نقل فرمایا ہے:"اللہ کے ہاں بدترین گناہ کسی مسلمان کی عزت سے کھیلنا ہے۔"پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی:

﴿وَالَّذينَ يُؤذونَ المُؤمِنينَ وَالمُؤمِنـٰتِ بِغَيرِ‌ مَا اكتَسَبوا فَقَدِ احتَمَلوا بُهتـٰنًا وَإِثمًا مُبينًا ﴿٥٨﴾... سورةالاحزاب

کہ"جو لوگ مومن مردوں اور عورتوں کو بے قصور اذیت دیتے ہیں۔انہوں نے ایک بڑے بہتان اور صریح گناہ کاوبال اپنے سر لے لیا ہے۔"(ابو یعلیٰ نے صحیح سند کے ساتھ اسے روایت کیا ہے)

5۔حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ قول نقل فرمایا:

"بدترین زیادتی کسی مسلمان کی عزت پر ناحق حملہ کرنا ہے۔"

کیا اس کے بعد بھی کسی مسلمان کا دل یہ گوارا کرے گا کہ وہ کسی مسلمان کی عزت نفس) کو نشانہ بنا کر اس سے کھیلتا رہے؟یہاں یہ چند احادیث پیش کی گئی ہیں ورنہ ذخیرہ حدیث اس طرح کے احکام سے مالا مال ہے۔

غیبت کیا ہے؟

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین سے دریافت کیا۔"تمھیں معلوم ہے غیبت کیا ہے؟" انہوں نے جواب دیا ،"اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) بہتر جانتے ہیں۔"آپ نے ارشاد فرمایا کہ تم اپنے بھائی کا تذکرہ اس طرح کرو جو اسے ناپسند ہو۔"

کسی نے پوچھا"جو کچھ میں کہہ رہا ہوں اگر میرے بھائی کے اندر یہ بات موجود ہو؟" آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔"جو کچھ تم کہہ رہے ہو اگر تمہارے بھائی میں موجود ہے تو تم نے غیبت کی اور اگر وہ بات اس میں موجود نہیں تو تم نے اس پر بہتان باندھا۔"(مسلم۔ابو داؤد۔ترمذی۔نسائی)

لہذا غیبت کی تعریف یہ ہوئی کہ"کسی مسلمان کا اس انداز میں تذکرہ کرنا جو اسے ناپسند ہو اور اس سے اس کی تحقیر مقصود ہو۔"

غیبت کی حُرمت:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿يـٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنُوا اجتَنِبوا كَثيرً‌ا مِنَ الظَّنِّ إِنَّ بَعضَ الظَّنِّ إِثمٌ ۖ وَلا تَجَسَّسوا وَلا يَغتَب بَعضُكُم بَعضًا ۚ أَيُحِبُّ أَحَدُكُم أَن يَأكُلَ لَحمَ أَخيهِ مَيتًا فَكَرِ‌هتُموهُ ۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ ۚ إِنَّ اللَّهَ تَوّابٌ رَ‌حيمٌ ﴿١٢﴾... سورةالحجرات

کہ"اے لوگو جو ایمان لائے ہو!بہت گمان کرنے سے پرہیز کرو کیونکہ بعض گمان گناہ ہوتے ہیں۔تجسس نہ کرو۔اور تم میں سے کوئی کسی کی غیبت نہ کرے۔کیا تمہارے اندر کوئی ایسا ہے جو اپنے مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھانا پسند کرے؟دیکھو تمھیں خود یہ ناپسند ہے۔(پس ) اللہ سے ڈرو،اللہ بڑا توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے!"

توجہ طلب:

اس فقرے میں اللہ تعالیٰ نے غیبت کو مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھانے سے تشبیہ دے کر اس فعل کے انتہائی گھناؤنا ہونے کا تصور دلایا ہے۔مردار کا گوشت کھانا بجائے خود نفرت کے قابل ہے،کجاکہ وہ گوشت بھی کسی جانور کا نہیں بلکہ انسان کا ہو۔اور انسان بھی کوئی اور نہیں خوداپنا بھائی ہو۔پھر اس تشبیہ کو سوالیہ انداز میں پیش کرکے اور زیادہ موثر بنا دیا گیا ہے۔تاکہ ہر شخص اپنے ضمیر سے پوچھ کر فیصلہ کرے کہ آیا وہ اپنے مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھانے کےلئے تیار ہے؟اگر نہیں ہے اور اس کی طبیعت اس چیز سے گھنِ کھاتی ہے تو آخر وہ کیسے یہ بات پسند کرتا ہے کہ اپنے ایک مومن بھائی کی غیر موجودگی میں اس کی عزت پر حملہ کرے جہاں وہ اپنی مدافعت نہیں کرسکتا اور جہاں اس کو یہ خبر تک نہیں ہے کہ اس کی بے عزتی کی جارہی ہے؟اس ارشاد سے یہ بات معلوم ہوئی کہ غیبت کے حرام ہونے کی بنیادی وجہ اس شخص کی دل آزاری نہیں ہے جس کی غیبت کی گئی ہو ،بلکہ کسی شخص کی غیر موجودگی میں اس کی بُرائی بیان کرنا بجائے خود حرام ہے۔قطع نظر اس سے کہ اس کو اس کا علم ہو یا نہ ہو اور اس کو اس فعل سے اذیت پہنچے یا نہ پہنچے۔ظاہر ہے کہ مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھانا اس لئے حرام نہیں ہے کہ مُردے کو اس سے تکلیف ہوتی ہے۔مُردہ بے چارہ تو اس سے بے خبر ہوتا ہے کہ اس کے مرنے کے بعد کوئی اس کی لاش کو بھنبھوڑ رہا ہے۔مگر یہ فعل بجائے خود ایک گھناؤنا فعل ہے۔اسی طرح جس شخص کی غیبت کی گئی ہو اس کو بھی اگر کسی ذریعہ سے اس کی اطلاع نہ پہنچے تو وہ عمر بھر اس بات سے بے خبر رہے گا۔کہ کہاں کس شخص نے کب اس کی عزت پر کن لوگوں کے سامنے حملہ کیا تھا اور اس کی وجہ سے وہ کس کس کی نظر میں وہ ذلیل وحقیر ہوکر رہ گیا ہے؟اس بے خبری کیوجہ سے اسےاس غیبت کے سرے سےکوئی اذیت نہ پہنچے گی مگر اس کی عزت پر بہر حال اس سے حرف آئے گا،اس لیے یہ فعل اپنی نوعیت میں مُردہ بھائی کا گوشت کھانے سے مختلف نہیں ہے۔(تفہیم القرآنج5۔ص94)

مذکورہ آیت کی وضاحت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس انداز میں بیان فرمائی ہے:

1۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بنو اسلم قبیلے کا ایک آدمی(ماعزبن مالک الاسلمی)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔اپنے بارے میں زنا کا چار مرتبہ اقرار کرتے ہوئے کہا کہ"میں نے کسی عورت سے بدکاری کی ہے"ہر مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے رُخ پھیر لیا۔آخر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا:"تم یہ اقرار کیوں کررہے ہو؟"اس نے عرض کی،"میری خواہش ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے پا ک کردیں۔"چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سنگسار کا حکم دیا اور وہ سنگسار کردیا گیا۔

اس کے بعد حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک انصاری کو دوسرے سے یہ کہتے ہوئے سن لیا کہ:

"اسے دیکھو اللہ تعالیٰ نے اس پر پردہ ڈال رکھا تھا۔مگر اس کے نفس نے اس کا پیچھا نہ چھوڑا جب تک یہ کتے کی موت نہ مرگیا۔"

راوی کا بیان ہےکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے،پھر کچھ دیر چلتے رہے،آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک گدھے کی لاش سے گزرے جس کی پھولنے کے بعد ٹانگ بھی اٹھی ہوئی تھی۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا،"فلاں فلاں کہاں ہیں؟"انہوں نے کہا"ہم حاضر ہیں!"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں کو (غیبت کرنے والا اور سننے والا) حکم دیا کہ "اس گدھے کی لاش کھاؤ۔"انہوں نے عرض کی،"اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس کون کھا سکتا ہے؟"

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا"ابھی ابھی جو تم نے اپنے بھائی کی عزت پر حرف زنی کررہے تھے وہ اس گدھے کی بدبودار لاش کھانے سے زیادہ بُری ہے۔"(ابن حبان)

دیگر کتابوں میں بھی اس معنیٰ کی حدیث پائی جاتی ہے اگرچہ الفاظ میں کچھ کمی بیشی ہے۔میری گزارش ہے کہ اس حدیث کو دوبارہ سہ بارہ پڑھیں اور غور فرمائیں!!!!!

2۔حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے روایت کی ہے کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے کہ اچانک بدبودار ہواآئی۔اسی وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سوال کیا،"تم جانتے ہو کہ یہ ہوا کیسی ہے؟ یہ ان لوگوں کی بدبو ہے جو لوگوں کی غیبتیں کرتے ہیں۔"(مسند احمد۔۔۔سند بالکل صحیح ہے)

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی مذکورہ حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ صرف غیبت کرنے والے بلکہ سننے والے کو بھی حکم دیا کہ وہ گدھے کی بدبودار لاش کھائیں کیونکہ جرم میں وہ دونوں برابر کے قصور وار ہیں۔

لہذا یہ ہر مسلمان کا فریضہ ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کی عزت کا محافظ بن جائے اور حتی الوسع اپنے بھائی کا دفاع کرے،جیسا کہ مندرجہ زیل احادیث سے معلوم ہوتا ہے:

1۔حضرت اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا،"جس نے اپنے بھائی کی عدم موجودگی میں اس کی عزت کا دفاع کیا،اللہ تعالیٰ کی ذمہ داری ہے کہ اسے آگ سے بری کردے(مسند امام احمد)

2۔حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

"جس نے اپنے بھائی کی عزت کا دفاع کیا،اللہ تعالیٰ روزِ قیامت اس کے چہرے کو آگ سے دُور رکھے گا۔"(ترمذی)

حضرت جابر بن ابی طلحہ الانصاری رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا،"اگر کوئی شخص کسی مسلمان کی حمایت ایسے موقع پر نہیں کرتا جہاں اس کی تذلیل کی جارہی ہو اور اس کی عزت پر حملہ کیا جارہا ہوتو اللہ تعالیٰ بھی اس کی حمایت ایسے موقع پر نہیں کرتا جہاں وہ اللہ کی مدد کاخواہاں ہو اور اگر کوئی شخص کسی مسلمان کی حمایت ایسے موقع پر کرتا ہے جہاں اس کی عزت پر حملہ کیا جارہا ہو اور اس کی تذلیل وتوہین کی جارہی ہو تو اللہ تعالیٰ بھی اس کی مدد ایسے موقع پر کرتا ہے جہاں وہ چاہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کی مدد کرے۔(ابو داؤد)

نوٹ:مذکورہ بالا احادیث اس حدیث کی تائید کرتی ہیں۔

غیبت سننا:

اگر کوئی مسلمان کسی دوسرے مسلمان کی غیبت کرے تو شریعت کی نگاہ میں یہ انتہائی قبیح اور گھناؤنا جرم ہے اسی طرح کسی کی غیبت سننا بھی شرعاً حرام اور ناجائز ہے۔حسب زیل شرعی دلائل پر غور فرمائیں اور نصیحت حاصل کریں۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿وَالَّذينَ هُم عَنِ اللَّغوِ مُعرِ‌ضونَ ﴿٣﴾... سورةالمؤمنون

"جو لوگ لغویات سے اعراض کرنے والے ہیں۔"

﴿وَلا تَقفُ ما لَيسَ لَكَ بِهِ عِلمٌ ۚ إِنَّ السَّمعَ وَالبَصَرَ‌ وَالفُؤادَ كُلُّ أُولـٰئِكَ كانَ عَنهُ مَسـٔولًا ﴿٣٦﴾... سورةالإسراء

کسی ایسی چیز کے پیچھے نہ لگو جس کا تمھیں علم نہ ہو یقیناً کان،آنکھ اور دل،سب ہی کی باز پرس ہونی ہے۔

﴿وَإِذا سَمِعُوا اللَّغوَ أَعرَ‌ضوا عَنهُ وَقالوا لَنا أَعمـٰلُنا وَلَكُم أَعمـٰلُكُم سَلـٰمٌ عَلَيكُم لا نَبتَغِى الجـٰهِلينَ ﴿٥٥﴾... سورةالقصص

"اور جب انہوں نے بے ہودہ بات سنی تو یہ کہہ کر اس سے کنارہ کش ہوگئے کہ ہمارے اعمال ہمارے لئے ،تمہارے اعمال تمہارے لئے۔تمھیں دُور سے ہی سلام ہے۔ہم جاہلوں کا سا طریقہ اختیار کرنا نہیں چاہتے"

1۔حضرت عتبان بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہوکر دریافت کیا،مالک بن الاخثم کہاں ہے؟ایک آدمی نے کہا،وہ منافق ہے،اسے اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی محبت نہیں۔"

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایسا مت کہو،تمھیں خبر نہیں کہ اس نے لاالہٰ الا اللہ صرف اللہ کی رضا کے لئے کہا ہے اور اللہ تعالیٰ نے آگ ہر اس آدمی پر حرام کردی ہے جس نے لاالٰہ الا اللہ اس کی رضا کے لئے کہا ہو۔"

غیبت کرنے والے کا حال قبر میں:

حضرت ابی بکرۃ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھا،ایک دوسرا آدمی بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بائیں طرف تھا۔اچانک ہمارے سامنے دو قبریں آگئیں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا"ان دونوں کو قبروں میں عذاب ہورہا ہے،اور ان کو کسی بڑی بات پر عذاب نہیں ہورہا۔جبکہ وہ اللہ کے ہاں عذاب کے لحاظ سے بہت بڑی ہیں۔"آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:" تم میں سے کون ایک شاخ لے کر آئے گا؟" ہم دونوں دوڑے اور میں آگے نگل گیا ۔میں ایک شاخ لے آیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دو ٹکڑے کیا اور ہر قبر پر ایک ایک ٹکڑا رکھ دیا۔مذید فرمایا:"جب تک یہ تروتازہ رہیں گی ان کو کم عذاب ملے گا:"

ایک کو محض غیبت اور دوسرے کو پیشاب کے چھینٹوں کی وجہ سے عذاب ہورہا تھا۔امام احمد ؒ نے اپنی مسند میں صحیح سند کے ساتھ اسے روایت کیا ہے اور دیگر کتب میں بھی یہ حدیث موجود ہے۔

غیبت کرنے والا میدان حساب میں:

حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین سے پوچھا،"تم جانتے ہو مفلس کون ہےَ"صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین نے عرض کی،"جس کے پاس مال ومتاع نہ ہو"آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا"میری امت میں مفلس وہ ہے جو نماز روزہ کی ادائیگی کے ساتھ روز قیامت حاضرہو (اور اس کے ساتھ ساتھ) کسی کو گالی دی،کسی پر بہتان لگایا،کسی کا مال کھایا،کسی کاخون بہایا،اورکسی کو مارا۔پھر ہر ایک کو اس کی نیکیاں اس کے حق کے مطابق بانٹ دی جائیں گی اور اگر حقوق ختم ہونے سے پہلے اس کی نیکیاں ختم ہوگئیں تو ان کی بُرائیاں لے کر اس کے ذمے ڈال دی جائیں گی۔پھر اسے آگ کے حوالے کردیا جائے گا۔"(صحیح مسلم،الترمذی)

غیبت کرنے والے کا عذاب:

1۔حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جس رات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج ہوئی،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آگ میں ایک ایسے گروہ کو دیکھا جو بدبودار لاش کھا رہا تھا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت جبرئیل علیہ السلام سے پوچھا،"یہ کون لوگ ہیں؟کہا"یہ وہ ہیں،جو لوگوں کی غیبتیں کرتے تھے؟"(صحیح سند کےساتھ امام احمد ؒ نے اسے ذکر کیا ہے)

2۔حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں ،رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا،" معراج کے موقع پر میں ایسی قوم کے پاس سے گزرا جن کے ناخن تانبے کے تھے،جن سے وہ اپنے سینوں اور چہروں کو نوچ رہے تھے میں نے پوچھا،"جبرئیل یہ کون لوگ ہیں؟" کہا"یہ وہ لوگ ہیں جو لوگوں کا گوشت کھاتے تھے(غیبت کرتے تھے) اور اُن کی عزت پر حملہ آور ہوتے تھے۔"(ابو داؤد)

غیبت کا کفارہ:

اگر کسی مسلمان سے اپنے بھائی کی غیبت سرزد ہوجائے تو اس کا کفارہ حسب ذیل ہوگا:

1۔جس آدمی کی غیبت ہوئی ہے اور وہ اس دنیا سے رخصت ہوچکا ہے تو غیبت کرنے والا اس کے حق میں اس قدر استغفار کرے کہ اس کااپنا دل مطمئن ہوجائے کہ میں نے اپنے بھائی کی حق رسی کردی ہے۔امت کے معتبر علماء کا یہی فتوےٰ ہے۔۔۔اور اس کے علاوہ کوئی صورت ممکن بھی نہیں۔

2۔اور اگر وہ زندہ ہے اور یہ ممکن ہے کہ اس سے معذرت کرلی جائے تو غیبت کرنے والا اس سے معذرت کرے۔

دلیل:

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا،"جس کسی کے ذمے اس کے بھائی کا حق ہو وہ اسے اس دن سے پہلے معاف کروالے جس دن نہ کوئی دینار ہوگا نہ درہم۔وہاں توصرف اس کی نیکیاں لی جائیں گی اور اگر نیکیاں نہ ہوئیں تو دوسرے کی بُرائیاں اسے سونپ دی جائیں گی۔"(بخاری ومسلم)

عفو ودرگزر:

ایک سچے مسلمان کا یہ مقام ہے کہ اگر اس سے کوئی بھی (خواہ مسلمان یا کافر) عفو ودرگزر کی درخواست کرے ت وہ اسے فورا ً خندہ پیشانی سے قبول کرے،کیونکہ اللہ احکم الحاکمین کا ارشاد ہے:

﴿خُذِ العَفوَ وَأمُر‌ بِالعُر‌فِ وَأَعرِ‌ض عَنِ الجـٰهِلينَ ﴿١٩٩﴾... سورةالاعراف

کہ" نرمی ودرگزر کا طریقہ اختیار کرو،معروف کی تلقین کئے جاؤ، اور جاہلوں سے نہ الجھو۔"

اور بندہ مومن کی اللہ تعالیٰ نے یہ صفت بیان فرمائی ہے:

﴿وَالكـٰظِمينَ الغَيظَ وَالعافينَ عَنِ النّاسِ ۗ وَاللَّهُ يُحِبُّ المُحسِنينَ ﴿١٣٤﴾... سورة آل عمران

"جو غصے کو پی جاتے ہیں اور دوسروں کے قصور معاف کردیتے ہیں،ایسے نیک لوگوں کو اللہ تعالیٰ بہت پسند کرتا ہے۔"مزید ارشاد ہوا ہے:

﴿وَلَمَن صَبَرَ‌ وَغَفَرَ‌ إِنَّ ذ‌ٰلِكَ لَمِن عَزمِ الأُمورِ‌ ﴿٤٣﴾... سورة الشورىٰ

اور جو شخص صبر سے کام لے اور درگزر کرے تو یہ بڑی اولوالعزمی کے کاموں میں سے ہے۔"

ایک مقام پر اللہ تعالیٰ نے دوسروں کو معاف کرنا اپنی طرف سے معافی کا ذریعہ اور سبب قرار دیا ہے:

﴿وَليَعفوا وَليَصفَحوا ۗ أَلا تُحِبّونَ أَن يَغفِرَ‌ اللَّهُ لَكُم ۗ وَاللَّهُ غَفورٌ‌ رَ‌حيمٌ ﴿٢٢﴾... سورةالنور

انہیں معاف کردینا چاہیے اور در گزر کرنا چاہیے کیا تم نہیں چاہتے کہ اللہ تعالیٰ تمھیں معاف کرے اور اللہ کی صفت یہ ہے، کہ وہ غفور اور رحیم ہے۔"

سنت مطہرہ کا مطالعہ کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ معاف کردینا ،درگزر کرنا اللہ تعالیٰ کے ہاں انتہائی پسندیدہ ہے اور رفع درجات کا موجب ہے۔

حضرت عیا ض رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا،"اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ انکساری سے کام لوں۔تم میں سے کوئی کسی پر زیادتی نہ کرے اور نہ کوئی کسی پر فخر جتلائے۔"(مسلم)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان تو یہ تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ذات کے لئے کبھی کسی سے انتقام نہیں لیا۔البتہ حدود اللہ کی خلاف ورزی پر اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے ضرور سزا دی ہے۔(بخاری ومسلم)