وہ فرمائیں گے رحمت کی نظر آہستہ آہستہ
بنے گا غم ہمارا معتبر آہستہ آہستہ!
کبھی تو ہو ہی جائے گی صدائے غم کی شنوائی
جواب آئے گا نالوں کا مگر آہستہ آہستہ
حجابات نظر اٹھ جائیں گے روئے حقیقت سے
ابھر کر آئے گا نورسحر آہستہ آہستہ
دلوں میں روشنی پھیلے گی ان کے روئے تاباں کی
شب دیجور غم ہوگی بسر آہستہ آہستہ
پہنچتا ہے بہت مشکل سے راہی اپنی منزل پر
سفر رہتا ہے جاری عمر بھر آہستہ آہستہ
اگر ہوجذبہ صادق تو پھر مشکل نہیں کچھ بھی
مگر ہوتا ہے اس کابھی اثر آہستہ آہستہ
دل شوریدہ سر سے آرہی ہے یہ صدا پیم کہ
سر ہوں گے مقامات نظر آہستہ آہستہ
نہ ہومایوس تم اسرار اُس کی دل نوازی سے
دعاؤں میں اثر ہوگا مگر آہستہ آہستہ