ان القبر اول منزل من منازل الاخرة(الحديث)

پُر رونق اور زندگی سے بھر پور بستیوں میں سے رہنے والوں میں سے شائد ہی کوئی شخص ایسا ہوگاجس نے کسی شہر خموشاں کا نظارہ نہ کیا ہوگا۔۔۔۔اورشائد ہی کوئی بستی ایسی ہوگی،جس کے دامن میں مشاغل حیات سے لا تعلق اور زندگی کے ہنگاموں سے بے نیاز،مہیب اورجامد سناٹوں کے درمیان ہُو کے عالم میں،لیکن زبان حال سے﴿مِنها خَلَقنـٰكُم وَفيها نُعيدُكُم وَمِنها نُخرِ‌جُكُم تارَ‌ةً أُخر‌ىٰ ﴿٥٥﴾... سورة طه

کی عبرت ناک صدائیں بلند کرنے والے مٹی کے کچے پکے ڈھیر موجود نہ ہوں،جو ایک طرف اگر اس بات کا ثبوت ہیں کہ ان زمینی گڑھوں میں مدفون یہ لوگ بھی، کبھی زندگی کی مسرتوں سے آشنا اور اس کی سرگرمیوں میں بھر پور حصہ لیا کرتے تھے، تو دوسری طرف اس ناقابل تردید حقیقت اور اٹل پروگرام کے مظہر اور خاموش ترجمان بھی کہ:

﴿كَيفَ تَكفُر‌ونَ بِاللَّهِ وَكُنتُم أَمو‌ٰتًا فَأَحيـٰكُم ۖ ثُمَّ يُميتُكُم ثُمَّ يُحييكُم ثُمَّ إِلَيهِ تُر‌جَعونَ ﴿٢٨﴾... سورةالبقرة

" تم اللہ رب العزت سے کیوں انکار ی ہو،حالانکہ تم مردہ تھے تمھیں اس نے زندگی بخشی،پھر تمھیں مارے گا،پھر زندہ کرے گا۔۔۔اور پھر تم اس کی بارگاہ میں حاضر کردیئے جاؤ گے!"

۔۔۔"قریب سے گزرنے والو دیکھو کہ جو لوگ کبھی سر بفلک محلات کے مکین تھے آج ان تنگ وتاریک، وحشتناک گڑھوں میں بسیرا کرنے پر مجبور ہیں!۔۔موت ایک اٹل حقیقت ہے،لہذا تم بھی رخت سفر باندھو اور تیار ہو۔۔۔زندگی کی ان مہلتوں سے جو آج تمھیں حاصل ہیں، فائدہ اٹھاتے ہوئے گھر کے گھپ اندھیروں میں روشنی کے سامان مہیا کرلو فرش وفروش سے عاری اس مقام میں کسی آرام دہ بستر کا انتظام کرلو، وحشت وتنہائی کے اس ماحول کےلئے کسی ساتھی کو تیار کرلو۔۔۔اور ا پنی زندگی کو ایسے اعمال سے مزین کرلو، جو اس مدفن کے مہیب عذابوں سے تمہارے تحفظ دامن کا باعث بن جائیں!"

۔۔۔لیکن قریب سے گزرنے والوں میں سے اکثر یوں گزر جاتے ہیں،جیسے وہ کچھ بھی نہ سمجھ پائے ہوں،انھوں نے کچھ دیکھا ہی نہ ہو،کچھ بھی نہ سنا ہو:

﴿لَهُم قُلوبٌ لا يَفقَهونَ بِها وَلَهُم أَعيُنٌ لا يُبصِر‌ونَ بِها وَلَهُم ءاذانٌ لا يَسمَعونَ بِها ۚ أُولـٰئِكَ كَالأَنعـٰمِ بَل هُم أَضَلُّ ۚ أُولـٰئِكَ هُمُ الغـٰفِلونَ ﴿١٧٩﴾... سورةالاعراف

"وہ دل والے ہیں مگر سمجھتے نہیں،آنکھیں رکھتے ہیں مگر دیکھتے نہیں،کان موجود ہیں مگر ان سے سنتے نہیں،یہ لوگ تو چوپائے ہیں بلکہ ان سے بھی گئے گزرے ۔۔۔(آہ)یہ لوگ( تو بالکل ہی) غافل ہیں!"

زندگی اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے۔اس نعمت کو لہو لعب میں ضائع کرنے والے کی مثال اسی شخص کی سی ہے ،جو کسی مقررہ تاریخ کوکسی متعین وقت میں،اچانک کسی جزیرہ پر نمودارہو،اس جزیرہ کے باسی اپنی پُرانی ریت کے مطابق اس کو ہاتھوں ہاتھ لیں،نہلائیں دھلائیں،خوبصوررت لباس زیب تن کریں اور اس کے سر پر تاج ِ شاہی رکھ کر اسےتخت حکومت پر لا بٹھائیں۔۔۔اس کی ہر خوشی، ہر راحت کو مقدم سمجھیں،اس کا ہر حکم بجالائیں۔۔۔اور وہ عیش ونشاط کی ان گھڑیوں میں یہ بھی بھول جائے کہ وہ آیا کہاں سے تھا،اسے جانا کہاں ہے؟ اور اس سے یہ حسن ِ سلوک کس بنا پر ہے؟۔۔۔اور پھر کچھ مدت بعد، اچانک ہی اس کے یہ خدام باادب اسے تخت سے اتار کر فقیرانہ لباس پہنا دین،اس کو زنجیروں میں جکڑ دیں اور کشتی میں سوار کرکے کسی ایسے دور افتادہ جنگل میں پھینک دیں جہاں اس سے عیش ونشاط کی ان چند گھڑیوں کا سرسری سا حساب طلب کیا جائے، اور ناکامی کی صورت میں ایک اندھا اور بہرا جلاد اس پر مسلط کردیا جائے جو لوہے کے گرزوں سے مار مار کر اس کی ہڈیوں کاسرمہ بنادے۔۔۔ہرطرف بدبو کے بھنبھوکے اٹھیں،جن سے اس کا دماغ پھٹ جائے۔۔۔باد سموم کے جکڑ چلیں اور وہ جھلس کے رہ جائے۔آگ کا لباس پہنا کراسے آگ ہی کے بستر پر لٹا دیا جائے۔اور وہ تڑپ تڑپ اٹھے۔سانپ بچھو اور کیڑے مکوڑے کلبلا رہے ہوں اور وہ ان کی ایک ایک شوخی پر بلبلا اٹھے،چیخے اور چلائے،مگر اس بلائے ناگہانی سے فرار کی کوئی راہ اسے نہ دیکھائی دیتی ہو۔۔۔اسے بندگان خُدا﴿وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ﴾ کے پروگرام کے واضح اعلان کے بعد، حیات مستعار کے ان چند لمحوں کو فضولیات میں ضائع کردینے کا انجام یہی ہوسکتا ہے!۔۔۔فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے:

(عربی) فينادي مناد من السماء أن كذب فأفرشوه من النار وألبسوه من النار وافتحوا له بابا إلى النار قال فيأتيه من حرها وسمومها قال ويضيق عليه قبره حتى تختلف فيه أضلاعه ثم يقيض له أعمى أبكم معه مرزبة من حديد لو ضرب بها جبل لصار ترابا قال فيضربه بها ضربة يسمعها ما بين المشرق والمغرب إلا الثقلين (مشكاة باب اثبات عندالقبر عن براءبن عازب)

کہ"(اس سرسری جانچ پڑتال میں ناکام رہنے کی صورت میں)آسمانوں سے ایک پکارنے والا پکارتا ہے۔،"اس (بدبخت) نے جھوٹ بولا(کہ اسے کسی بات کا کچھ علم نہیں)لہذا اس کے لئے آگ کا بستر مہیا کرو۔اسے آگ کا بستر پہناؤ اور اس کے لئے جہنم کی طرف ایک د روازہ کھول دو۔چنانچہ اس میں جہنم کی گرمی اور باد سموم کی جُھلس دینے والی لپٹیں آئیں گی۔اس کی قبر اس پر اتنی تنگ کردی جائے گی کہ اس کی پسلیاں باہم پیوست ہوکر مخالف سمت نکل جائیں گی،پھر اس پر ایک اندھا اور بہرا(جلاد) مقرر کردیا جائے گا جس کے ہاتھ میں لوہے کا ایسا گرز ہوگا کہ اگر اس کی ضرب پہاڑ پر پڑے تو وہ بھی مٹی بن جائے۔یہ جلاد اسے اس گرز کے ساتھ مارے گا جس کی آواز مشرق ومغرب کے درمیان ہر کوئی سنے گا سوائے جن وانس کے!"

نیز فرمایا:

عن أبي سعيد الخدري قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «يسلط على الكافر في قبره تسعة وتسعون تنينا تنهشه وتلدغه حتى تقوم الساعة ولو أن تنينا منها نفخ [ص:49] في الأرض ما أنبتت خضرا» . مشكاة باب اثبات عذاب القبر عن ابى سعيد)

کہ "کافر پر اس کی قبر میں نناوے اژدھا مسلط کردیے جاتے ہیں جو اسے (مسلسل) روز قیامت تک کاٹتے اور ڈستے رہیں گے(اوریہ اژدھا ایسے ہیں)کہ اگر ان میں سے کوئی ایک اژدھا زمین پر پھونک ما ر دے تو زمین سبزہ اگانا بھول جائے!"اعاذنا اللہ منہ!

اور اس کے برعکس،ان لمحات زندگی کو قیمتی خیال کرنے والے کی مثال اس عقلمند اور زیرک شخص کی سی ہے،جو اچانک ہاتھوں ہاتھ لئے جانے اور تخت حکومت پر متمکن ہوجانے کی وجہ جاننے کے لئے بے قرار ہوجائے،اور اس ٹوہ میں لگ جائے کہ اس کی یہ ناز برداریاں کس لئے ہیں؟۔۔۔پھر اس راز سے واقفیت حاصل کرنے کے بعد،کہ عنقریب اسے تخت سے اتار کر پابند سلاسل کسی دور افتادہ ویران اور وحشتناک مقام پر پھینک دیا جائے گا،وہ اسی مقام پر اپنے خدام کی ایک کھیپ روانہ کردے جو اس کے لئے اس جگہ کو صاف کرکے وہاں حد نگاہ تک فراخ، فراخ ایک خوبصورت محل تعمیر کریں،اس کے ارد گرد پھولوں کی کیاریاں آراستہ کریں،اس کے آرام کے لئے مخملیں بستر ترتیب دیں۔۔۔اور پھر جب وہ حرماں اقتدار، بیڑیوں میں جکڑ بند اس میں داخل ہو،تو پہلے سے بھیجے ہوئے اس کے یہ خادم اس کے استقبال کے لئے وہاں موجود ہوں،جوآنکھیں فرشِ راہ کردیں۔۔۔کمال ادب واحترام سے،اس کو زنجیروں سے آزاد کرکے،خوشبوؤں میں بسائے ہوئے نرم مخملیں بستر پر بٹھادیں کہ لم كنوم العروس کی حقیقت اس پر آشکارا ہوجائے۔اور خُدا کے سچے پیغام بر (صلی اللہ علیہ وسلم) کے بیان کردہ اس حسین مستقبل کا نظارہ وہ اپنی آنکھوں سے کرلے:

فينادي مناد من السماء أن قد صدق فأفرشوه من الجنة وألبسوه من الجنة وافتحوا له بابا إلى الجنة " قال: «فيأتيه من روحها وطيبها ويفسح له في قبره مد بصره»مشكاة باب اثبات عذاب القبر عن براء بن عازب)

کہ(جب مومن قبر میں اتارے جانے کے بعد منکر نکیر کے سوالوں کے جوابات صحیح صحیح دے دیتا ہے تو) ایک پکارنےوالا آسمانوں سے پکارتا ہے،کہ میرے بندے نے سچ کہا،اس کےلئے جنت میں بستر مہیا کرو،اس کو جنتیوں کا لباس پہنادو اور اس کے لئے جنت کی طرف ایک دروازہ کھول دو،جو کہ کھول دیا جاتا ہے تو اس میں سے جنت کی ہوائیں اور اس کی خوشبوئیں اسے ڈھانپ لیتی ہیں اور مومن کی قبر حد نگاہ تک فراخ ہوجاتی ہےاللهم اجعلنا منهم

انسان اس دنیا میں آکر ناجانے کن مشاغل میں غرق ہوگیا ہے؟۔۔۔دن رات اس کے سر پر ایک ہی دھن سوار ہے،مال دولت،کوٹھیاں،کاریں اور محلات ،پھر ان میں طرح طرح کے سامان تعیش!۔۔۔وہ اپنے سامنے اپنے عزیز واقارب اور دوستوں کو خالی ہاتھ،فقیرانہ لباس پہنے اس دنیا سے رخصت ہوتے دیکھتا ہے،اپنے ہاتھوں انھیں لحد میں اتارتا ہے۔قبر کے گھور اندھیروں کو دیکھ کر جھر جھری لئے بغیر نہیں رہتا،تاہم یہ نہیں سوچتا کہ اسے خود بھی ایک دن کسی ایسے گڑھے میں دفن ہوجاناہے،کس قدر بدنصیب ہے وہ شخص جسے بھولے سے بھی یہ خیال نہیں آتا کہ اس تیرہ وتاریک ماحول کے لئے ،جہاں سے روز قیامت تک رہنا ہے،کچھ سامان مہیا کرلے،۔۔۔پھر اس پر بس نہیں ان القبر اول منزل من منازل الاخرة قبتو منازل آخرت میں سے پہلی منزل ہے،اس کے بعد اسے اس سے بھی مشکل ترین منازل کوعبور کرنا ہے،اپنے رب کے حضور دست بستہ حاضر ہونا ہے،جہاں اس کی زندگی کے ایک ایک لمحے کا حساب اس سے لیا جائے گا!۔۔۔آہ! ہم ایک طرف رب ذوالجلال کے بتائے ہوئے اس پروگرام﴿خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيَاةَ لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا﴾ کو پیش نگاہ رکھتے ہیں اور دوسری طرف اپنی غفلتوں،حال مست اور مال مست عاقبت نااندیشیوں کا حساب کرتے ہیں تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ ہم کسی ا ور ہی دنیا کے باسی،کسی اور ہی منزل کے راہی ہیں۔۔۔ہماری اس دنیا کو اس دنیاسے ،اور ہماری اس منزل کو اس راہ سے کوئی نسبت ہی نہیں اور جو اللہ رب العزت نے ہمارے لئے مقرر فرمائی اور جس کی نشاندہی اس کے سچے رسول حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی ہے!۔۔۔کیا ہمارے عوام اور ہمارے خواص،اپنے قیمتی وقت میں سے ایک لمحہ الگ کرکے یہ سوچنے کی زحمت گوارا فرمائیں گے کہ ہم آئے کہاں سے ہیں اور جانا کدھر کو ہے؟۔۔۔آئے ہیں تو کیوں آئے ہیں؟اور جانا ہے تو کیوں جانا ہے؟۔۔۔عین ممکن ہے،یہ ایک ہی لمحہ ہمیں ہماری زندگیوں کا رخ بدلنے پر مجبور کردےاور ہم اُن کھوئی ہوئی حقیقتوں کا سراغ پالینے میں کامیاب ہوجائیں، جن کی طرف اللہ کا قرآن اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم پکار پکار کر ہمیں دعوت دے رہے ہیں۔۔۔لیکن جن کی طرف توجہ دینے کی ہمارے پاس فرصت نہیں اور جن سے چشم پوشی کی سزا سے بڑھ کر اور کوئی سزا نہیں!

اللهم وفق لنا تحب وترضى


حاشیہ

اسی مٹی میں سے ہم نے تمھیں پیدا کیا،اسی میں ہم تمھیں لوٹائیں گے اور اسی میں سے ہم تھیں د وبارہ زندہ کرکے نکالیں گے۔