فقہ کے لغوی معنی مطلق فہم ہے لیکن شرعی اصطلاح میں اس سے مراد وہ فروعی علم ہے جو بعض شرعی احکام پر غور و خوض کرنے اور اس سے استدلال پکڑنے کے بعد حاصل ہوتا ہے۔ اسلامی فقہ سے مراد دین کا وہ علم ہے جو کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر غوروفکر کرنے کے بعد حاصل ہوتا ہے اسلامی فقہ کی بنیادیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مسعود میں ہی رکھی گئی تھیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کو پیش آمدہ مسائل، کتاب و سنت کی روشنی میں حل کرنے کی اجازت مرحمت فرمائی تھی۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے دور میں اسے مزید استحکام حاصل ہوا حتی کہ تین صدی ہجری تک لوگ اسلامی فقہ کے سوا کسی فقہ سے متعارف نہیں تھے۔ بعد ازاں لوگ مختلف ائمہ کی پیروی کرنے میں ضد بازی اور تعصب سے کام لینے لگے اور اپنے امام کے اقوال کو اس کے نام کی فقہ سے موسوم کیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ فقہ اپنی حقیقت بدل گئی اور اپنے اصلی روپ میں نہ رہی، اس سے پہلے لوگ مسائل کا حل قرآن و حدیث سے تلاش کرتے تھے۔ اب اپنے اپنے امام کے اقوال سے اس کا حل تلاش کرنے لگے، کوئی امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کا پیروکار بن گیا، کسی نے امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے اقوال کی پیروی کو اپنے لیے فرض قرار دیا اور کوئی احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ اور امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کے پیروکاروں میں شامل ہوا۔ ہر ایک نے اپنے اپنے امام کے اقوال پر اعتماد کیا اور اسے اس امام کی فقہ کے نام سے موسوم کیا۔ بناء بریں چوتھی صدی ہجری میں متعدد ائمہ کی فقہ نے رواج پایا۔ اب عوام کے لیے ہر امام کی پیروی کرنا ناممکنات میں سے تھا۔ بدیں وجہ اس وقت کے علماء نے تقلید شخصی کا فتویٰ صادر کیا اور اسے فرضِ عین قرار دیا اور کسی امام کی تقلید کے بغیر ایمان کو تشنہ قرار دیا۔ اپنے امام کے اقوال کو کتاب و سنت کا درجہ دیا اور عوام کو تقلید شخصی میں اس قدر جکڑا کہ وہ تقلید نہ کرنے والے پر کفر کے فتوے صادر کرنے لگے۔

اللہ تعالیٰ شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ کی قبر پر اپنی رحمتوں کی بارش برسائے، جنہوں نے تقلید شخصی کے جال سے مسلمانوں کو نکالنے کے لیے قلمی اور لسانی جہاد کیا اور لوگوں کو کتاب و سنت سے آشنا کیا۔ پھر حافظ ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ نے ان کے نظریہ کی خوب نشر و اشاعت کی اور تقلید شخصی کو اتباع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے انحراف کرنے کے مترادف قرار دیا۔ ان کے دور کے بعد پھر لوگ آہستہ آہستہ کتاب و سنت کے مسائل سے نا آشنا ہو گئے اور ائمہ کے اقوال کو قرآن و حدیث تصور کرنے لگے حتی کہ بارھویں صدی ہجری میں مکمل طور پر جمود اور تعطل چھا گیا اور لوگ کتاب و سنت کو چھوڑ کر اپنے اپنے امام کے اقوال پر قانع ہو گئے۔

اس زمانہ میں اللہ کا ایک اور بندہ کتاب و سنت کا چراغ لے کر لوگوں کی طرف بڑھا اور انہیں تقلید کے اندھیروں سے نکالا۔ یہ امام احمد بن عبدالوھاب رحمۃ اللہ علیہ کی شخصیت تھی، جنہوں نے یہ فتویٰ دیا کہ اجتہاد کا دروازہ نہ بند ہوا ہے، نہ تا قیامت بند ہو گا۔ نیز ائمہ اربعہ کی فقہ کو یکجا مدون کیا اور مسلمانوں کو چار حصوں میں بٹ جانے کے بجائے مسلکِ واحد میں پرونے کی کوشش کی۔

فضیلۃ الشیک الدکتور عبداللہ الزائد حفظہ اللہ کا یہ پُرمغز مقالہ اسلامی فقہ کے مختلف ادوار پر مشتمل ہے۔ جس میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ سے لے کر تیرھویں صدی ہجری تک، اسلامی فقہ میں جو جو تغیرات اور انقلابات رُونما ہوئے، سب کا تفصیلی اور تحقیقی ذکر ہے۔ غیر متعصب نگاہ پر اس کے مطالعہ سے حقیقت حال پوری طرح آشکارا ہو جاتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ائمہ کرام کی فقہ اور اسلامی فقہ میں فرق سمجھنے کی توفیق بخشے اور راہِ ہدایت پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

والله يرى من يشاء الى صراط مستقيم-واله الموفق

(مترجم)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جب ہم اسلامی فقہ اور اس کے مختلف ادوار اور حالات کے متعلق غوروفکر کرتے ہیں تو یہ بات اس امر کا تقاضا کرتی ہے کہ اس پر جو فکری، سیاسی، اجتماعی وغیرہ حالات اثر انداز ہوئے ہیں،ان سب کا ذکر کریں لیکن یہ کوئی معمولی کام اور باتیں ہاتھ کا کھیل نہیں، اس کے لیے کافی محنت اور وقت کی ضرورت ہے کیونکہ اس کے لیے کئی جلدیں تیار ہو سکتی ہیں۔ ایسا کٹھن اور مشکل کام پھر کسی طویل فرصت میں کروں گا۔ ان شاءاللہ

میں اللہ کی بارگاہ میں التجا کرتا ہوں کہ وہ میرے کام میں آسانی فرمائے۔ فی الحال اس بحث میں مختصر طور پر ان اہم حالات کا ذکر کروں گا جن سے اسلامی فقہ کا گزر ہوا۔ اس کے آغز سے لے کر موجودہ وقت تک اس میں جو جو انقلابات اور تغیرات رُونما ہوئے ان کو زیرِ بحث لاؤں گا لیکن اس بحث کو شروع کرنے سے پہلے چند باتیں بطورِ مقدمہ اور تمہید پیش کروں گا، جو مندرجہ ذیل چار امور پر مشتمل ہوں گی۔

1۔ فقہ کا مفہوم اور معانی کیا ہیں؟

2۔ فقہ کی ضرورت کیا ہے؟

3۔ اسلامی فقہ اور وضعی نظام میں کیا فرق ہے؟

4۔ اسلامی فقہ کی خصوصیات اور امتیازات کیا ہیں؟

1۔ فقہ کا مفہوم اور معانی:

فقہ کے لغوی معنی مطلق فہم ہے۔ (فقه يفقه) باب (فهم) کے ہم وزن اور ہم معنی ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿وَإِن مِن شَىءٍ إِلّا يُسَبِّحُ بِحَمدِهِ وَلـٰكِن لا تَفقَهونَ تَسبيحَهُم...﴿٤٤﴾... سورةالإسراء

یعنی "زمین و آسمان کی ہر شے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کرتی ہے لیکن تم ان کی تسبیح و تحمید سمجھنے سے قاصر ہو۔"

نیز اللہ عزوجل کا یہ فرمان کہ:

﴿حَتّىٰ إِذا بَلَغَ بَينَ السَّدَّينِ وَجَدَ مِن دونِهِما قَومًا لا يَكادونَ يَفقَهونَ قَولًا ﴿٩٣﴾... سورةالكهف

"چلتے چلتے وہ دو پہاڑوں کے درمیان پہنچ گیا، وہاں پر ایسے لوگوں کو دیکھا جو اس کی بات نہیں سمجھتے تھے۔"

یہاں پر يَفْقَهُونَ بفتح یائ وقاف ہے۔ ایک قرائت بضمہ یاء و کسرہ قاف ہے۔

بعض علماء کے نزدیک فقہ سے مراد امورِ دقیقہ و پیچیدہ کا فہم ہے۔ ان کا استدلال یہ ہے کہ عام طور پر یوں کہتے ہیں کہ "میں نے آپ کے کلام کو سمجھ لیا ہے" اور یوں نہیں کہتے کہ "میں نے زمین و آسمان کو سمجھ لیا ہے" لیکن ان کا یہ استدلال درست نہیں، کیونکہ﴿ لَا يَكَادُونَ يَفْقَهُونَ قَوْلًا﴾ میں قول کا لفظ نکرہ ہے۔ یہ نفی کے سیاق میں واقع ہوا ہے جو عمومیت کا فائدہ دیتا ہے اور اس سے ہر قسم کی بات مراد ہو سکتی ہے۔ اب رہا یہ سوال کہ ہم یوں نہیں کہتے کہ "میں نے زمین و آسمان کو سمجھا، تو یہ استدلال درست نہیں، کیونکہ آپ غور فرمائیں فقہ کا تعلق الفاظ سے نہیں بلکہ معانی سے ہے۔

فقہ کے اصطلاحی معنی:

فقہ کی اصطلاحی تعریف میں علماء نے مختلف عبارتیں بیان کی ہیں لیکن ہم ان میں سے امام آمدی کے قول کو ترجیح دیتے ہیں کیونکہ اس پر بنسبت دوسروں کے کم اعتراض ہوئے ہیں۔ چنانچہ انہوں نے اس کی تعریف مندرجہ ذیل عبارت سے کی ہے:

"فقہ کے اصطلاحی معنی وہ فروعی علم ہے جو بعض شرعی احکام پر غوروخوض کرنے کے بعد اور ان سے استدلال لینے کے بعد حاصل ہو۔"

تشریح:

اب ہم اس کی تھوڑی سی تشریح کرتے ہیں۔ علم کا لفظ بولنے سے شرعی احکام سے جو ظن پیدا ہوتا ہے وہ خارج ہو گیا۔ کیونکہ اگرچہ عرفِ عام میں اس پر فقہ کا اطلاق ہوتا ہے، لیکن عرفِ لغوی اور اصولی میں اسے فقہ سے تعبیر نہیں کر سکتے، کیونکہ فقہ ایک ایسا علم ہے جو شرعی احکام سے حاصل ہوتا ہے یا ایسا عمل ہے جو قابلِ عمل ہو، اس کی وجہ یہ ہے کہ اسے اس مسئلہ کا قطعی علم ہو چکا ہے خواہ وہ فی الحقیقت ظنی اور غیر یقینی ہو۔

جملہ کے لفظ سے دو امور خارج ہو گئے۔

1۔ شریعت کے تمام احکام کا علم ہونا کیونکہ یہ اس کی تعریف میں شامل نہیں۔

2۔ ایک یا دو احکام کا علم ہونا کیونکہ عرفِ عام میں اسے فقہ سے تعبیر نہیں کرتے۔

"الاحکام الشرعیہ" کی قید لگانے سے وہ امور خارج ہو گئے جو غیر شرعی ہیں جیسے عقلی اور حسی امور۔ "الفرعیہ" (فروعی) کے لفظ سے وہ علم خارج ہو گیا جو دلائل اور حجت پر مبنی ہے کیونکہ اصطلاح میں اسے فقہ سے تعبیر نہیں کیا جاتا۔

"النظر(غوروخوض) واستدلال" ان الفاظ کی قید لگانے سے اللہ کا علم، حضرت جبرئیل علیہ السلام کا علم اور آں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا علم خارج ہو گیا کیونکہ ان کے علم کو فقہی اصطلاح میں فقہ نہیں کہا جاتا خواہ صحیح فقہ کی بنیاد ان کے علم پر مبنی ہے۔

2۔ فقہ کی ضرورت

جب سے بنی نوعِ انسان کی تخلیق ہوئی ہے، اس وقت سے لوگ حوائج، زندگی اور لوازمِ حیات کی خاطر کچھ نہ کچھ کرتے چلے آئے ہیں۔ ہر آدمی اپنی زندگی کی تمام ضروریات کو خود پورا کرنے سے قاصر ہے بلکہ ان کی تکمیل کے لیے اسے اپنے ہم جنس بنی نوع انسان کی ضرورت پڑتی ہے کیونکہ ہر کام کو خود کرنے کی اسے نہ ہمت ہے نہ اس میں اہلیت ہے۔ اگر لوگوں کے باہمی امور اور معاملات کے لیے کوئی قاعدہ یا ضابطہ نہ ہو تو ان کے آپس کے تعلقات میں استواری نہ رہے۔ ہر شخص کی اپنی اپنی خواہش ایک دوسرے سے ٹکرا جائے اور ضروریاتِ زندگی کی تکمیل میں الجھن پیدا ہو جائے۔ نیکی کے راستہ کو لوگ بھول جائیں۔ طاقتور، کمزوروں اور ناتوانوں کا ناک میں دم کر دیں۔ اس صورت میں زندگی میں اضطراب کی لہر دوڑ جائے، امن غائب ہو جائے اور سکون و سلامتی دیکھنے کو دنیا ترسنے لگے کیونکہ ایسا کرنا فطرتِ انسانی کے خلاف بغاوت کرنے اور انسانی تعلقات کو منقطع کرنے کے مترادف ہے۔

بنا بریں لوگ اس امر کے محتاج تھے کہ ان میں سے ہر ایک کے حقوق و فرائض مقرر کیے جائیں۔ یہ بھی یقینی امر ہے کہ کسی انسان کے لیے ممکن نہیں کہ اس معاملہ میں خود کوئی ضابطہ مقرر کرے کیونکہ اس کی عقل محدود ہے خواہ اس کا محدود فکرونظر کہاں تک پہنچ جائے۔ چہ جائیکہ شریعت الہی میں قانو سازی کا کام شروع کرے۔ شریعت الہی انسانی عقل و فکر سے باہر ہے، یہ انسان کی قلبی طہارت اور ضمیر کو بیدار کرتی ہے۔ یہ بہت طاقتور اور مستحکم ہے۔ اس کے برعکس بندوں کے وضع کردہ قوانین غیر مستحکم اور زوال پذیر ہیں۔ اللہ کے احکام ایسے ہیں کہ ان سے بھاگنے کی انسان کے لیے کوئی گنجائش نہیں اور ان میں حیلہ سازی بھی کام نہیں دیتی، بخلاف ان قواعد کے جو انسان کے وضع کردہ ہیں کہ ان میں ہر قسم کی حیلہ سازی کے لیے موقعہ مل جاتا ہے۔

بناء بریں اور دیگر اسباب کی بناء پر شریعت الہی کے احکام کی پابندی ضروری ہے کیونکہ یہ بنی نوع انسان کی حاجتوں اور لوازمِ زندگی کا کفیل ہے۔ مزید برآں اس کے احکام کی پابندی ہر مقام اور ہر زمانہ کے لوگوں کے لیے سعادتِ حقیقی ثابت کرتی ہے، چنانچہ ارشاد خداوندی ہے:

﴿وَنَزَّلنا عَلَيكَ الكِتـٰبَ تِبيـٰنًا لِكُلِّ شَىءٍ وَهُدًى وَرَ‌حمَةً وَبُشر‌ىٰ لِلمُسلِمينَ ﴿٨٩﴾... سورة النحل

"ہم نے آپ پر اپنی کتاب کو نازل کیا، یہ (دینی دنیاوی) ہر امر کی وضاحت کرتی ہے، مسلمانوں کے لیے ہدایت، رحمت اور خوشخبری کی موجب ہے"

اسلامی فقہ اور وضعی نظام میں فرق

ان کا آپس میں کئی امور میں فرق ہے۔ ہم ان میں سے چند اہم امور احاطہ تحریر میں لاتے ہیں:

1۔ کسی قاعدہ یا ضابطہ وضع کرنے کے لیے امداد حاصل کرنا۔

اسلامی فقہ اپنے اصول و قواعد کا استنباط وحی الہی سے کرتی ہے۔ جب ہم فقہ کے احکام پر غوروفکر کریں گے تو ہمیں دو قسم کے لوگ نظر آئیں گے۔

ا۔ ایسے لوگ جو شرعی نصوص کے تفصیلی دلائل میں، جو جزئی وارد ہوتی ہے، اس سے استنباط کرتے ہیں۔

ب۔ ایسے لوگ جو شرعی نصوص میں جو اصول و قواعد مذکور ہیں ان سے استنباط کرتے ہیں خواہ شرعی نصوص براہِ راست ان پر دلالت نہ کریں۔ اس کے برعکس وضعی نظام وہ ہے جو چوہدری یا حکمران، لوگوں کی عادتوں اور تجربوں کی بناء پر خود وضع کرتے ہیں خواہ وہ آسمانی وحی کے مطابق ہو یا نہ ہو، اس میں ہر آدمی اپنی خواہش اور مرضی کے مطابق فیصلہ کرتا ہے۔

2۔ اسلامی فقہ کے قواعد و ضوابط اور بنیادی قوانین حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ہی پایہ تکمیل کو پہنچ گئے تھے، چنانچہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿اليَومَ أَكمَلتُ لَكُم دينَكُم وَأَتمَمتُ عَلَيكُم نِعمَتى وَرَ‌ضيتُ لَكُمُ الإِسلـٰمَ دينًا...٣﴾... سورة المائدة

"آج میں نے تمہارے لیے تمہارے دین کی تکمیل کر دی اور تم پر اپنی نعمت کا اتمام کر دیا اور تمہارے لیے دینِ اسلام کو پسند کیا۔"

کسی نے اس تکمیل کی غایت سے تجاوز نہیں کیا، ہاں البتہ اپنی ضروریات اور زندگی کے تقاضوں کے مطابق اس سے استنباط کیا۔ تاہم شرعی قواعد و ضوابط میں ترمیم یا اضافہ کی جراءت نہیں کی۔ اس کے برعکس وضعی نظام ناقص ہے اور صدیوں سے ناقص چلا آرہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس میں آئے دن تغیر و تبدل اور ترمیم و اجافہ ہوتا رہتا ہے۔

3۔ اسلامی فقہ وضعی نظام کی نسبت عام ہے۔ بدیں وجہ یہ تمام مسائل زندگی پر حاوی ہے اور اس میں ان کا حل موجود ہے۔ یہ انفرادی اور اجتماعی تنازعات کو ختم کرتی ہے لیکن وضعی نطام ان امور سے تشنہ ہے۔ یہ لوگوں کے مسائل حل نہیں کر سکتا۔ مزید برآں یہ وضعی نظام ہر زمان اور مکان کے باشندوں کے لیے موزوں اور مطابق نہیں کیونکہ مختلف اوقات اور مقامات میں سوسائٹی اور ماحول میں تغیر و تبدل ہوتا رہتا ہے۔

4۔ اسلامی فقہ میں قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرنے والوں کی سزا بہ نسبت وضعی نظام کے زیادہ سخت اور معصیت کے ارتکاب سے روکنے والی ہے کیونکہ وضعی نظام میں صرف دنیاوی سزا ہوتی ہے جبکہ فقہ اسلامی کی سزا دنیوی اور اخروی دونوں سزاؤں پر مشتمل ہوتی ہے۔