التوافق بين كتابه الحديث وكراهتها والتطابق بين الاحاديث المتعارضة

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بخاری شریف کی اس حدیث سے معلوم ہوا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک دور میں باقاعدہ فوجیوں کے نام درج کر کے ان کو جنگوں میں لڑنے کے لیے بھیجا جاتا تھا۔ یہ کام بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی موجودگی میں کرایا۔ اس کے علاوہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خطوط اور معاہدات ہیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دیگر قوموں سے کیے۔ وہ بھی گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اپنے لکھائے ہوئے تھے۔ ممانعت کی صورت میں ان کے لکھوانے کا جواز ہی نہیں تھا۔

عن ابن عباس رضي الله عنهما، أنه: سمع النبي صلى الله عليه وسلم، يقول: «لا يخلون رجل بامرأة، ولا تسافرن امرأة إلا ومعها محرم»، فقام رجل فقال: يا رسول الله، اكتتبت في غزوة كذا وكذا، وخرجت امرأتي حاجة، قال: «اذهب فحج مع امرأتك»(صحيح البخاري ح3006

"حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے، کوئی آدمی کسی غیر محرم عورت سے تنہائی میں نہ ملے اور نہ عورت اکیلی سفر کرے۔ جب بھی عورت سفر کرے ساتھ محرم ہو۔" ایک آدمی کھڑا ہو گیا کہنے لگا، "یا رسول اللہ میرا نام فلاں غزوہ میں درج کیا گیا ہے، اور میری بیوی حج کرنے چلی گئی۔" آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "جا اور اس کے ساتھ حج کر"

(8)حضرت مِسور بن مخرمہ اور مروان کی حدیث:

حضرت مسور بن مخرمہ اور مروان دونوں سے صلح حدیبیہ کی طویل حدیث مروی ہے۔ اس میں آگے جا کر لکھا ہے کہ سہیل بن عمرو نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا، "ہمارے مابین آپ تحریر کر دیں۔" آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بلایا اور فرمایا، " لکھو بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ سہیل نے کہا، "رحمن تو اللہ کی قسم میں نہیں جانتا" آپ لکھیں، بأسمك اللهم اس پر مسلمانوں نے کہا، "بخدا ہم تو پوری بسم اللہ لکھیں گے" لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، "لکھیں بأسمك اللهم پھر فرمایا هذا ماقاضى عليه محمد رسول الله (یہ وہ چیز ہے جس پر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صلح کی) سہیل نے کہا، "اللہ کی قسم اگر ہم آپ کو رسول تسلیم کر لیں تو نہ ہم آپ کو بیت اللہ سے روکتے اور نہ ہی ہم آپ سے لڑتے۔ آپ محمد بن عبداللہ صلی اللہ علیہ وسلم لکھیں" آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، "خدا کی قسم، میں ضرور اللہ کا رسول ہوں۔ اگرچہ آپ لوگوں نے مجھے جھٹلایا ہے۔ لکھو "محمد بن عبداللہ صلی اللہ علیہ وسلم" (بخاری ج1،ص379)

اس حدیث کی مزید تشریح ایک اور حدیث میں ہے:

عن أبي إسحاق، قال: سمعت البراء بن عازب رضي الله عنهما، قال: لما صالح رسول الله صلى الله عليه وسلم أهل الحديبية، كتب علي بن أبي طالب بينهم كتابا، فكتب محمد رسول الله، فقال المشركون: لا تكتب محمد رسول الله، لو كنت رسولا لم نقاتلك، فقال لعلي: «امحه»، فقال علي: ما أنا بالذي أمحاه، فمحاه رسول الله صلى الله عليه وسلم بيده، وصالحهم على أن يدخل هو وأصحابه ثلاثة أيام، ولا يدخلوها إلا بجلبان السلاح، فسألوه ما جلبان السلاح؟ فقال: القراب بما فيه (بخارى ح:2698)

"ابی اسحاق سے روایت ہے، انہوں نے براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے سنا کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اہلِ حدیبیہ سے صلح کی تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے تحریر لکھی۔ انہوں نے لکھا "محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں" مشرکوں نے کہا "محمد صلی اللہ علیہ وسلم رسول اللہ" نہ لکھیں، اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم رسول ہوتے تو ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہ لڑتے۔" آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کہا کہ اسے مٹا دیں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں اس کو نہیں مٹا سکتا۔ تب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اپنے ہاتھ سے مٹا دیا اور ان سے صلح کر لی۔"

یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اپنی موجودگی میں تحریر لکھوائی۔ اگر لکھنا ناجائز ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ رضی اللہ عنہم کو بتا دیتے۔ یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سیاسی تحریر تھی، جو اہل مکہ اور مسلمانوں کے درمیان لکھی گئی۔ قرآن کے علاوہ اگر ہر چیز کے لکھنے کی ممانعت ہوتی تو اس معاہدے کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم زبانی ہی رکھتے۔۔۔ یہ حدیث کتبِ حدیث میں بھی موجود ہے۔ مثلا صحیح مسلم ج2، ص104

(9) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو خطوط لکھوائے ان کا ذکر بھی بخاری شریف میں ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قیصرِ روم کو خط لکھا۔ جس کی تحریر یہ تھی:

" بسم الله الرحمن الرحيم، من محمد عبد الله ورسوله إلى هرقل عظيم الروم: سلام على من اتبع الهدى، أما بعد، فإني أدعوك بدعاية الإسلام، أسلم تسلم، يؤتك الله أجرك مرتين، فإن توليت فإن عليك إثم الأريسيين " و {يا أهل الكتاب تعالوا إلى كلمة سواء بيننا وبينكم أن لا نعبد إلا الله ولا نشرك به شيئا ولا يتخذ بعضنا بعضا أربابا من دون الله فإن تولوا فقولوا اشهدوا بأنا مسلمون}

"اللہ رحمن و رحیم کے نام کے ساتھ۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ھرقل روم کے بادشاہ کی طرف، اس پر سلام ہو جس نے ہدایت کی اتباع کی۔ اس کے بعد میں تمہیں اسلام کی دعوت دیتا ہوں۔ اسلام لے آؤ سلامت رہو گے۔ اسلام لے آؤ، اللہ تمہیں دوہرا اجر دے گا۔ اگر تو نے اعراض کیا تو رعایا کا گناہ بھی تجھ پر ہو گا۔ (پھر قرآن مجید کی آیت لکھی) "اے اہل کتاب ایک حکم کی طرف آجاؤ جو ہمارے اور تمہارے مابین مشترک ہے۔ یہ کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں اور ہمارا بعض بعض کو رب نہ بنائے، پھر اگر وہ پھر جائیں تو کہہ دیجئے گواہ رہو کہ ہم مسلمان ہیں"

اس کے علاوہ دیگر حکمرانوں کے نام بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خطوط ہیں۔ یہ بھی کتابتِ حدیث کا زندہ ثبوت احادیث کی کتب میں موجود ہے۔ (دیکھئے صحیح مسلم، ج2 ص 97، طبری ص1569، سیرتِ حلبیہ ج3 ص244)

10. عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: كُنْتُ أَكْتُبُ كُلَّ شَيْءٍ أَسْمَعُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُرِيدُ حِفْظَهُ، فَنَهَتْنِي قُرَيْشٌ وَقَالُوا: أَتَكْتُبُ كُلَّ شَيْءٍ تَسْمَعُهُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَشَرٌ يَتَكَلَّمُ فِي الْغَضَبِ، وَالرِّضَا، فَأَمْسَكْتُ عَنِ الْكِتَابِ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَوْمَأَ بِأُصْبُعِهِ إِلَى فِيهِ، فَقَالَ: «اكْتُبْ فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا يَخْرُجُ مِنْهُ إِلَّا حَقٌّ»

"حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جو چیزیں میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے سنتا لکھ لیتا تھا۔ ان کو یاد کرنا چاہتا تھا۔ قریش کے لوگوں نے مجھے روکا اور کہا، ہر چیز جو تو سنتا ہے لکھ لیتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انسان ہیں، خوشی میں اور غصہ میں بھی بات کرتے ہیں۔ چنانچہ میں لکھنے سے رک گیا۔ پھر میں نے اس بات کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلی سے اپنے منہ کی طرف اشارہ کر کے فرمایا، "لکھو" اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے، اس (زبان) سے صرف حق ہی نکلتا ہے۔"

یہ حدیث دیگر کتبِ حدیث میں بھی موجود ہے۔ مثلا جامع بیان العلم ج1 ص71 اور سنن دارمی ج1 ص103 پر یہ الفاظ ہیں:

ماخرج منه الاحق

مسند احمد ج2 ص162 میں یہ الفاظ ہیں:

ماخرج منى الاحق

یہ حدیث کتابتِ حدیث پر دال ہے۔ اس میں خصوصیت یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابی حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کو اس لیے اجازت دی کہ وہ دیگر کتابوں اور قرآن مجید میں فرق سمجھتے تھے۔ ابو محمد عبداللہ بن مسلم بن قتیبہ نے لکھا ہے کہ یا تو اس حدیث نے عدم کتابت کو منسوخ کر دیا یا پھر حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کو ماہر دیگر کتب ہونے کی وجہ سے اجازت دے دی:

أَنْ يَكُونَ خَصَّ بِهَذَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو، لِأَنَّهُ كَانَ قَارِئًا لِلْكُتُبِ الْمُتَقَدِّمَةِ، وَيَكْتُبُ بِالسُّرْيَانِيَّةِ وَالْعَرَبِيَّةِ وَكَانَ غَيْرُهُ مِنَ الصَّحَابَةِ أُمِّيِّينَ، لَا يَكْتُبُ مِنْهُمْ إِلَّا الْوَاحِدُ وَالِاثْنَانِ، وَإِذَا كَتَبَ لَمْ يُتْقِنْ، وَلَمْ يُصِبِ التَّهَجِّيَ. فَلَمَّا خَشِيَ عَلَيْهِمُ الْغَلَطَ فِيمَا يَكْتُبُونَ نَهَاهُمْ، وَلَمَّا أَمِنَ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ذَلِكَ، أَذِنَ لَهُ.(تاويل مختلف الحديث ص 286)

یعنی "ممکن ہے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کو خصوصی طور پر اس لیے اجازت دی ہو۔ کیوں کہ وہ کتبِ سابقہ پڑھ سکتے تھے اور سریانی اور عربی لکھنا جانتے تھے۔ بخلاف ان کے دیگر صحابہ رضی اللہ عنھم میں سے صرف ایک دو لکھ پڑھ سکتے تھے اور اس میں انہیں پوری مہارت حاصل نہ تھی۔ حروفِ تہجی بھی صحیح لکھنے پر قادر نہ تھے۔ چوں کہ ان کی تحریروں میں غلطی کا احتمال تھا اس لیے ان کو منع کر دیا اور حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کو اس لیے اجازت دے دی کہ یہاں اس قسم کا خدشہ نہ تھا۔"

11. عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو: أَنَّهُ أَتَى رَسُولَ اللهِ صَلى الله عَليهِ وسَلم فَقَالَ: يَا رَسُولَ الله إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَرْوِيَ مِنْ حَدِيثِكَ فَأَرَدْتُ أَنْ أَسْتَعِينَ بِكِتَابِ يَدِي مَعَ قَلْبِي إِنْ رَأَيْتَ ذَلِكَ؟، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلى الله عَليهِ وسَلم: إِنْ كَانَ قَالَهَ (1) عِ حَدِيثِي ثُمَّ اسْتَعِنْ بِيَدِكَ مَعَ قَلْبِكَ (سنن دارمى:ح524)

"حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا، "اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم، میں آپ کی احادیث بیان کرنا چاہتا ہوں۔ اگر آپ اجازت دیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، "میری احادیث کو یاد رکھنے کے ساتھ ساتھ لکھ لیا کرو۔"

یہ حدیث اوپر والی حدیث کی مکمل تائید کرتی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اس کے لکھنے کی اجازت دی۔ حاکم نے اس حدیث کو بیان کر کے لکھا ہے:

هذا حديث حسن صحيح الاسناد اصل فى نسخ الحديث يعنى الكتابه عن رسول الله صلى الله تعالى عليه وسلم!

المستدرك مع التلخيص كتاب العلم ج 1 ص105)

12۔ عَنْ أَبِي قَبِيلٍ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الله بْنَ عَمْرٍو قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ حَوْلَ رَسُولِ اللهِ صَلى الله عَليهِ وسَلم نَكْتُبُ إِذْ سُئِلَ رَسُولُ الله صَلى الله عَليهِ وسَلم: أَيُّ الْمَدِينَتَيْنِ تُفْتَحُ أَوَّلاً: قُسْطَنْطِينِيَّةُ أَوْ رُومِيَّةُ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلى الله عَليهِ وسَلم: لَا بَلْ مَدِينَةُ هِرَقْلَ أَوَّلاً(سنن الدارمى: ح525)

"ابی قبیل سے روایت ہے، میں نے عبدالرحمن بن عمرو رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے فرمایا، "ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اردگرد لکھ رہے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا کہ "دونوں شہروں میں سے کون سا شہر پہلے فتح ہو گا، قسطنطنیہ یا رومیہ"؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ "نہیں، بلکہ مدینہ ھرقل پہلے فتح ہو گا۔"

یہ تمام احادیث بخاری شریف کی حدیث کی تائید کرتی ہیں۔ جو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کے متعلق روایت کی ہے۔ اس لیے ان کے متعلق شک کرنے کی کوئی گنجائش ہی نہیں ہے۔ بلکہ اس سے یہ معلوم ہوا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ، صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کی محفل میں تشریف فرما ہوتے اور صحابہ رضی اللہ عنھم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد حلقہ باندھ کر لکھتے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم لکھواتے، صحابہ رضی اللہ عنھم لکھتے جاتے تھے۔ یہ املاء کی شکل تھی۔ وہ حدیث پیشِ نظر رہے جس میں بروایت حضرت انس رضی اللہ عنہ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر بات دو (2) تین (3) بار دہراتے تاکہ لوگوں کو سمجھنے میں سہولت ہو۔

13. عن عطاء عن عبدالله بن عمر وقلت يارسول الله أأقيدالعلم قال قيد العلم قال عطاء قلت وما تقيد العلم ؟ قال الكتاب

(جامع بيان العلم ج1 ص 73)

"حضرت عطاء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا، " کیا میں علم کو قید کر لوں (لکھ لوں)؟" علم کو قید کر لو۔" عطاء نے کہا، تقییدِ علم کیا ہے؟" حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے کہا، "لکھنا"

یہ حدیث بھی اوپر کی حدیث کی تائید کرتی ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو لکھنے کی اجازت دی۔ یہ حدیث حافظ نورالدین علی بن ابی بکر ھیثمی نے بھی لکھی ہے۔ ان کے الفاظ یہ ہیں:

فيه عبدالله بن المؤقل وثقه ابن معين وابن حبان وقال ابن سعدثقة قليل الحديث_(مجمع الزوائد ومنبع الفائد ج1)

کہ "اس میں عبدالہ بن مومل ہیں۔ ابنِ معین و ابنِ حبان نے انہیں ثقہ کہا ہے۔ ابنِ سعد بھی انہیں ثقہ قلیل الحدیث کہتے ہیں۔ اگرچہ بعض نے ان پر کلام کیا ہے۔ لیکن دوسرے محدثین انہیں ثقہ قرار دیتے ہیں اور یہ حدیث بھی دیگر احادیث کی تائید کرتی ہے اس وجہ سے حجت ہے۔"

14 حضرت عبداللہ (رضی اللہ عنہ) بن عمرو (رضی اللہ عنہ) بن عاص سے روایت ہے۔

مَا يُرَغِّبُنِي فِي الْحَيَاةِ إِلاَّ الصَّادِقَةُ وَالْوَهْطُ، فَأَمَّا الصَّادِقَةُ فَصَحِيفَةٌ كَتَبْتُهَا مِنْ رَسُولِ الله، وَأَمَّا الْوَهْطُ فَأَرْضٌ تَصَدَّقَ بِهَا عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ كَانَ يَقُومُ عَلَيْهَا.(سنن الدارمى :ح 535)

کہ "دو چیزوں کی وجہ سے مجھے زندگی عزیز ہے، ایک صحیفہ صادقہ کی وجہ سے اور دوسرے الوھط نامی اراضی کی بنا پر جو مجھے میرے والد نے عطا کی تھی۔"

معلوم ہوا کہ حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے خود یہ صحیفہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے سن کر لکھا اور اس کا ذکر انہوں نے خود لکھا۔ (تقیید العلم ص84 بحوالہ علوم الحدیث اردو ص45)

بقول ابن الاثیر، اس میں ایک ہزار احادیث تھیں (اسد الغابہ ج3 ص233) اگرچہ یہ اصالۃ ہمارے پاس نہیں۔ مسند احمد میں یہ جوں کا توں محفوظ ہے۔ (مسند احمد بن حنبل ج2 ص58 تا 226)

یہ صحیفہ اس بات کا قابلِ اعتماد ثبوت ہے کہ احادیث آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں لکھی جاتی تھیں۔ اس میں وہ فتویٰ بھی موجود ہے جو حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ سوالات پوچھتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں جوابات ارشاد فرماتے تھے۔ حافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ نے کہا ہے، یہی صحیفہ صادقہ آپ رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد آپ رضی اللہ عنہ کے پڑپوتے حضرت عمرو بن شعیب بن محمد بن عبداللہ کو ملا۔ (تہذیب ترجمہ عمرو بن شعیب) ۔۔۔ ظنِ غالب یہی ہے کہ عمرو بن شعیب متوفی سئہ 120ھ اس صحیفہ کو زبانی یاد کر کے اس سے حدیثیں روایت کرتے تھے۔ (تہذیب التہذیب ج8 ص45-55)

جلیل القدر تابعی حضرت مجاہد رحمۃ اللہ علیہ (متوفی سئہ 103ھ) کہتے ہیں۔ "یہ صیغہ میں نے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کے پاس دیکھا تھا۔" (تہذیب التہذیب ج8 ص82، الحدیث الفاصل ج4، ص2، طبقات ابن سعد، ج2، ص125)

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خود لکھواتے تھے۔ اس کے متعلق مزید مختصر شرح و تہذیب سنن ابی داؤد میں لکھا گیا:

وأذن لعبد الله ابن عمرو في الكتابة، وحديثه متأخر عن النهي، لأنه لم يزل يكتب، ومات وعنده كتابته وهي الصحيفة النبي - صلَّى الله عليه وسلم - كان يُسميها الصادقة ولو كان النص عن الكتابة متاخراً، لمحاها عبد الله، لأمر النبي - صلَّى الله عليه وسلم - ما كُتِبَ عنه غير القرآن، فلما لم يمحُها وأثبتها دل على أن الإذن في الكتابة متأخر عن النهي عنها، وهذا واضح والحمد لله. وكتب النبي - صلَّى الله عليه وسلم - لعمرو بن حزم كتاباً عظيماً، فيه الديات وفرائض الزكاة وغيرها، وكتبه في الصدقات معروفة مثل كتاب عمر بن الخطاب وكتاب أبي بكر الصديق الذي دفعه إلى أنس رضي الله عنهم. وقيل لعلي: هل خصكم رسول الله - صلَّى الله عليه وسلم - بشيء، فقال: لا، والذي فلق الحبة وبرأ النسمة إلا ما في هذه الصحيفة، وكان فيها العُقول وفِكاك الأسير، وأن لا يُقتل مسلم بكافر.

وإنما نهى النبي - صلَّى الله عليه وسلم - عن كتابة غير القرآن في أول الإسلام لئلا يختلط القرآن بغيره، فلما عُلِمَ القرآنُ وتميَّزَ، وأُفرِد بالضبط والحفظ، وأُمِنت عليه مفسدة الاختلاط، أُذِن في الكتابة.

وقد قال بعضهم: إنما كان النهي عن كتابة مخصوصة، وهي أن يجمع بين كتابة الحديث والقرآن في صحيفة واحدة خشية الالتباس، وكان بعض السلف يكره الكتابة مطلقاً.

وكان بعضهم يرخص فيها حتى يحفظ، فإذا حفظ محاها.

وقد وقع الاتفاق على جواز الكتابة وإبقائها، ولولا الكتابة ما كان بأيدينا اليوم من السنة إلا أقلَّ القليل.

یعنی "حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کتابت کی اجازت دی، ان کی حدیث ممانعت کتابت سے متاخر ہے، کیوں کہ وہ ہمیشہ لکھتے رہے۔ جب ان کی وفات ہوئی تو ان کا لکھا ہوا ان کے پاس تھا۔ یہ وہی صحیفہ ہے جس کو وہ "الصادقہ" کہتے تھے۔ اگر ممانعت کتابت سے متاخر ہوتی تو حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ ضرور مٹا دیتے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی وجہ سے، جو انہوں نے قرآن کے علاوہ لکھا، جب انہوں نے اس کو نہ مٹایا، بلکہ باقی رکھا تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ کتابت کی اجازت منع کرنے سے بعد کی ہے۔ اور یہ بات واضح ہے۔ سب تعریف اللہ کے لیے ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن پاک کے علاوہ کتابت کو ابتداء میں منع فرمایا تھا تاکہ قرآن مجید اپنے علاوہ کسی دوسری چیز سے ملتبس نہ ہو۔ جب قرآن مجید کو جان لیا گیا اور وہ ممتاز ہو گیا اور حفظ کر لیا گیا اور اس پر اختلاط سے تحفظ ہو گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتابت کی اجازت دے دی، اور بعض نے کہا ہے کہ ممانعت، خاص کتابت سے تھی، وہ یہ کہ حدیث اور قرآن کو ایک صفحے پر لکھنے سے التباس کا خطرہ تھا۔ کتابتِ (حدیث) اور اس کے باقی رکھنے پر اتفاق ہے۔ اگر احادیث کی کتابت نہ ہوتی تو آج ہمارے ہاتھوں میں سنت کا بہت ہی کم حصہ ہوتا۔"

15۔ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَكْتُبُ [ص:300] كُلَّ مَا أَسْمَعُ مِنْكَ؟ قَالَ: «نَعَمْ» قُلْتُ: فِي الرِّضَا وَالْغَضَبِ؟ قَالَ: «نَعَمْ، فَإِنِّي لَا أَقُولُ فِي ذَلِكَ كُلِّهِ إِلَّا حَقًّا»(بيان العلم حديث:388)

"عمرو بن شعیب اپنے باپ، وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں (یعنی حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے) انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا، "جو چیز بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنوں، لکھ لیا کروں؟" فرمایا، "ہاں" میں نے کہا۔ "خوشی اور غصہ میں؟" فرمایا، "ہاں"۔ اس معاملہ میں میری ہر بات حق ہوتی ہے۔"

یہ حدیث بھی اوپر والی حدیث کی تائید کرتی ہے۔ حضرت عمرو بن شعیب اپنے دادا تک سند پہنچاتے ہیں۔ پہلے اور سند سے یہ حدیث گزر چکی ہے۔ گویا اس پر یہ تصدیق مزید ہے۔

16. عَنْ أَبِي رَاشِدٍ الحُبْرَانِيِّ، قَالَ: أَتَيْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ العَاصِ، فَقُلْتُ لَهُ: حَدِّثْنَا مِمَّا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَلْقَى إِلَيَّ صَحِيفَةً، فَقَالَ: هَذَا مَا كَتَبَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَنَظَرْتُ فِيهَا فَإِذَا فِيهَا: إِنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ عَلِّمْنِي مَا أَقُولُ إِذَا أَصْبَحْتُ وَإِذَا أَمْسَيْتُ، فَقَالَ: " يَا أَبَا بَكْرٍ قُلْ: اللَّهُمَّ فَاطِرَ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ......(سنن الترمذي حديث:3529)

"ابوراشد جرانی سے روایت ہے کہ میں عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا۔ "جو بات آپ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو، وہ بتائیں۔" انہوں نے مجھے ایک صحیفہ دیا اور کہا، "یہ ہے وہ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لیے لکھا (مجھ سے لکھوایا)"۔ ابوراشد کہتے ہیں، میں نے دیکھا اس میں لکھا تھا، ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا "اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم، مجھے سکھائیں جو میں صبح کے وقت اور شام کے وقت پڑھوں" آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، "اے ابوبکر رضی اللہ عنہ کہو: اللَّهُمَّ فَاطِرَ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ

17. عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ: " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَبَ إِلَى أَهْلِ الْيَمَنِ وَكَانَ فِي كِتَابِهِ «أَنَّ مَنْ اعْتَبَطَ مُؤْمِنًا قَتْلًا عَنْ بَيِّنَةٍ، فَإِنَّهُ قَوَدٌ إِلَّا أَنْ يَرْضَى أَوْلِيَاءُ الْمَقْتُولِ، وَأَنَّ فِي النَّفْسِ الدِّيَةَ مِائَةً"(سنن النسائى:ح4853)

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اہلِ یمن کو لکھا، "جس نے مسلمان کو قتل کیا اور اس پر دلیل مل گئی۔ اس کو قتل کیا جائے گا مگر اس صورت میں کہ مقتول کے ورثاء راضی ہو جائین۔ جان کے بدلے دیت ایک سو (100) اونٹ ہے۔"

یہ حدیث طویل ہے اور دارمی میں بھی ہے۔ اس کے حاشیے پر عبداللہ ہاشم یمانی المدنی نے لکھا ہے کہ اس حدیث کے متعلق حاکم نے لکھا ہے، "اس کی سند صحیح ہے" امام احمد نے کہا، "حدیث صحیح ہے۔" (سنن دارمی حاشیہ کتاب الزکوۃ ج1 ص320)

نسائی شریف کے حاشیہ (سلفیہ) پر لکھا ہے:

كتاب آل عمروبن حزم كتاب جليل كتبه النبى ﷺلاهل اليمن وارسل معه عمروبن حزم ثم وجد عنه بعض اله رووه عنه واخذ الناس عنهم ساقة الحاكم فى المستدرك وصحه(جلد 1ص397دارقطنى ص376كتاب الخراج يحيي بن ادم ومحلى ابن حزم)

کہ "آل عمرو بن حزم کی کتاب بڑی جلیل القدر ہے۔ جس کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اہلِ یمن کے لیے لکھ کر بھیجا۔ پھر اس کے اہل میں سے کسی کے پاس رہی۔ لوگوں نے اس کو آگے روایت کیا۔ مستدرک میں حاکم نے اس کو روایت کیا ہے اور اسے صحیح کہا ہے۔"

دارقطنی، کتاب الخراج محلی ابنِ حزم میں بھی اس کو بیان کیا گیا ہے کہ اس کی صحت کے بارے میں شک کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، پیغمبر علیہ الصلوۃ والسلام نے خود لکھوا کر حضرت عمرو بن حزم کو بھیجا، اس صحیفہ کے متعلق اور بھی کئی باتیں معلوم ہوتی ہیں۔ اس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے زکوۃ و صدقات اور خون بہا کے احکام پوری تشریح کے ساتھ درج فرمائے (شرح معانی الآثار جلد 2 ص417)

اس کی نقول حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور عمرو بن حزم کے خاندان میں اور متعدد شخصوں کے پاس موجود تھیں۔ (سنن دارقطنی ج2 ص117)

حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے دورِ خلافت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاداتِ صدقات کی تلاش میں اہلِ مدینہ کے پاس آدمی بھیجا تو یہ مجموعہ احکامِ صدقات عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ صحابی کے لڑکوں کے ہاں سے لے لیا گیا۔ (حوالہ ایضا ) ۔۔۔ اس پوری سند سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کے صحیح ہونے میں ذرا برابر بھی شک نہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خود پوری شرح و بسط سے احکام لکھ کر بھجوائے۔

18. عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: كَانَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ يَجْلِسُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيَسْمَعُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الحَدِيثَ فَيُعْجِبُهُ وَلَا يَحْفَظُهُ، فَشَكَا ذَلِكَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَسْمَعُ مِنْكَ الحَدِيثَ فَيُعْجِبُنِي وَلَا أَحْفَظُهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اسْتَعِنْ بِيَمِينِكَ»، وَأَوْمَأَ بِيَدِهِ لِلْخَطِّ وَفِي البَابِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو: «هَذَا حَدِيثٌ إِسْنَادُهُ لَيْسَ بِذَلِكَ القَائِمِ» وَسَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيلَ، يَقُولُ: «الخَلِيلُ بْنُ مُرَّةَ مُنْكَرُ الحَدِيثِ»(جامع ترمذى ج 2ص 107)

"حضرت ابوہریرۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک انصاری آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیثیں سنتا تھا۔ حدیثیں اس کو اچھی لگتی تھیں۔ لیکن یاد نہیں رکھ سکتا تھا۔ اس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں سنتا ہوں جو مجھے اچھی لگتی ہیں لیکن یاد نہیں کر سکتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، "اپنے دائیں ہاتھ سے مدد لو"۔ اور اپنے ہاتھ سے لکھنے کا اشارہ فرمایا ۔۔۔ اس سلسلہ میں عبداللہ بن عمرو کی حدیث ہے، جس کی سند ٹھیک نہیں ہے۔ میں نے محمد بن اسماعیل سے سنا، فرماتے تھے کہ خلیل بن مرہ منکر الحدیث ہے۔ ابوحاتم نے کہا ہے کہ خلیل بن مرہ شیخ مجہول ہے۔ میں اس کو نہیں جانتا۔" (الجرح والتعدیل ابوحاتم بحوالہ تحفۃ الاحوذی ج3 ص375)

تحفۃ الاحوذی میں حافظ عبدالرحمن نے لکھا کہ حدیث ضعیف منکر ہے لیکن اس حدیث کی ایک سند ایسی ہے۔ جس میں خلیل بن مرہ نہیں ہے (تقیید العلم ص66 بحوالہ علوم الحدیث ص39)

اس لیے اس حدیث سے انکار نہیں کیا جا سکتا کیوں کہ اس حدیث کے تمام طرق ضعیف نہیں ہیں۔ علاوہ ازیں دیگر صحیح احادیث اس کے صحیح ہونے کی شاہد ہیں۔

19۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ تشریف لے گئے تو اوس، خزرج اور یہود کے قبائل بنو نظیر، بنو قریظہ اور بنو قینقاع وغیرہ کئی ٹکڑوں میں منقسم رہتے تھے اور ان میں عام طور پر لڑائی ہوتی رہتی تھی۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں، یہودیوں اور غیر مسلموں (غیر مسلم عربوں) سے مشورہ کے بعد ایک تحریری اعلامیہ نشر فرمایا۔ جس میں حاکم و محکوم دونوں کے حقوق و فرائض کی تفصیل تھی۔ اس کے ابتدائی الفاظ یہ ہیں:

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ هذا كتاب محمد النبى رسول الله)بين المؤمنين والمسلمين من قريش واهل يثرب ومن اتبعهم فلحق لهم....الخ

۔۔۔ پھر اس میں یہود کا ذکر ہے۔ 48 دفعات کے اس اعلامیہ میں پانچ 5 مرتبہ اهل هذا الصحيفة- کے الفاظ دہرائے گئے۔ اس سے معلوم ہوا کہ یہ ایک تحریر تھی ورنہ صحیفہ کا اطلاق اس پر نہیں ہو سکتا۔" (ابن کثیر، بخاری، مسلم بحوالہ وثائق سیاسیہ از ڈاکٹر حمیداللہ ص40)

اس کے علاوہ بھی کئی معاہدات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی موقعوں پر کیے جن کی تحریر مدون موجود ہے۔

20۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو ان کے ماں باپ نے مدینہ منورہ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر کیا اور کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے وقف ہے۔ اور ساتھ ہی یہ بھی کہا:

يارسول الله هذا ابنى وهو غلام كاتب(اسد الغابه ج1ص 128)

"اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم، یہ میرا بیٹا ہے، بچہ ہے لیکن فنِ کتابت جانتا ہے۔"

حضرت انس رضی اللہ عنہ ہمیشہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس رہتے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ کا خود بیان ہے:

خدمت رسول الله عشر سنين فما لى اف ولالم صنعت ولاالاصنعت(مشكاة ص 518)

کہ "میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دس (10) سال خدمت کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی بھی (ڈانٹتے ہوئے) اُف کا کلمہ نہ کہا اور نہ کبھی فرمایا "یہ کیوں کیا؟" اور نہ ہی یہ فرمایا "یہ تم نے کیوں نہ کیا۔"

حضرت انس رضی اللہ عنہ کے والدین نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتا دیا تھا کہ یہ بچہ کتابت سے آشنا ہے، چنانچہ وہ حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث لکھتے۔ صرف احادیث لکھتے ہی نہیں تھے۔ بلکہ لکھ کر ان کو پیغمبر علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں پیش بھی کرتے، ان کی اصلاح اور تصحیح کرا لیا کرتے تھے۔

سعید بن ھلال سے روایت ہے کہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے ہم زیادہ اصرار سے کہتے تھے، تو وہ احادیث لاتے اور کہتے تھے یہ وہ حدیثیں ہیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہیں اور جن کو میں نے لکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا ہے۔ (مستدرک حاکم بحوالہ "کتابتِ حدیث عہدِ نبوی میں")

حضرت انس رضی اللہ عنہ کا یہ اپنا بیان انتہائی اہم ہے۔ ان سے موجودہ کتب احادیث میں دو ہزار چھ سو چھیاسی (2686) احادیث مروی ہیں، ان کی احادیث کو مختلف لوگوں نے قلمبند کیا ہے۔ ابان تابعی کا بیان ہے کہ ہم حضرت انس رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھ کر احادیث لکھا کرتے تھے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ اور دیگر صحابہ رضی اللہ عنھم نہ صرف احادیث لکھتے بلکہ اپنے بچوں کو نصیحت کرتے کہ احادیث کو قلمبند کریں۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بچوں سے کہا:

يابنى قيدو هذا العلم-(دارمى ج1 ص 105)

"میرے بچو، اس علم کو ضبطِ تحریر میں لے آؤ۔"

مستدرک حاکم میں قيدوالعلم بالكتاب کے الفاظ ہیں۔ (ج1 ص106)

حضرت انس رضی اللہ عنہ نے خلوص و محبت سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے شب و روز کی باتوں کو ضبطِ تحریر میں لا کر اور پھر ان کی خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے تصدیق کراکر امت پر احسان کیا کہ یہ لوگ احادیثِ مبارکہ لوگوں تک پہنچائیں۔ پھر چراغ سے چراغ جلتا گیا۔

21۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ کو بحرین کا عامل بنا کر بھیجا تو واجباتِ حکومت سے متعلق ایک تحریر لکھ کر دی۔ اس کی ابتداء اس طرح سے ہوتی ہے:

بسم الله الرحمن الرحيم هذه فريضة الصدقة التي فرض رسول الله صلى الله عليه وسلم على المسلمين، والتي أمر الله بها رسوله، (بخارى ج ص 195)

امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے کتاب الزکوۃ کے تین ابواب میں اس نوشتہ کی روایات کو درج کیا ہے۔ سنن دارمی میں ہے:

عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلى الله عَليهِ وسَلم كَتَبَ الصَّدَقَةَ فَلَمْ تخْرَجْ إِلَى عُمَّالِهِ حَتَّى قُبِضَ النَّبِيُّ صَلى الله عَليهِ وسَلم (2)، فَلَمَّا قُبِضَ أَخَذَهَا أَبُو بَكْرٍ فَعَمِلَ بِهَا مِنْ بَعْدِهِ، فَلَمَّا قُبِضَ أَبُو بَكْرٍ أَخَذَهَا عُمَرُ, فَعَمِلَ بِهَا مِنْ بَعْدِهِمَا(سنن الدارمي حديث1773)

کہ "حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ کی تحریر لکھوائی۔ لیکن عمال کو نہ بھیجی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی۔ اس پر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اس تحریر پر عمل درآمد کرایا۔ پھر آگے بھی حدیث ہے۔۔۔ امام ابوداؤد رحمۃ اللہ علیہ نے اس صحیفہ کو حدیث کے مشہور امام حماد بن سلمہ رحمۃ اللہ علیہ سے روایت کیا ہے۔ جس پر حماد بن سلمہ خود تصریح کرتے ہیں کہ میں نے خود اس نوشتہ کو حاصل کیا۔" (ابوداؤد ص18)

امام حاکم نے بھی یہ دستاویز نقل کی ہے۔ (مستدرک حاکم ج1 ص309)

حافظ ابوجعفر طحاوی نے بھی یہ دستاویز بحوالہ حماد بن سلمہ لکھی ہے۔ اس میں حماد بن سلمہ کی یہ تصریح بھی موجود ہے کہ مجھے ثابت بنانی نے یہ دستاویز لینے ثمامہ بن عبداللہ کے پاس بھیجا۔ انہوں نے مجھے یہ دستاویز دے دی، میں نے دیکھا:

فاذا عليه خاتم رسول الله (شرح معانىالاثار ص 416)

کہ "اس پر جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مہر تھی"

22۔ حضرت عبداللہ بن حکیم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک تحریر ہمارے قبیلہ جہنیہ میں پہنچی جس میں مختلف احادیث تھیں (ترمذی ج1 ص206)

23۔ حضرت وائل بن حجر رحمۃ اللہ علیہ حضر موت کے شہزادوں میں سے تھے۔ یہ سئہ 9 ھ میں مدینہ منورہ تشریف لائے اور مسلمان ہوئے۔ ان کی آمد سے قبل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی آمد کی خوش خبری دے دی تھی اور فرمایا تھا:

راغبا فى الله عزوجل وفى رسوله وهو بقية ابناء الملوك(مشكوة ص621)

"وہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں رغبت رکھتے ہیں۔ بادشاہوں کے بیٹوں میں سے باقی وہ ہیں۔"

یہ کچھ دیر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر رہے۔ جب جانے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ایک صحیفہ لکھوا کر دیا۔ جس میں نماز، روزہ، شراب اور سود وغیرہ کے احکام تھے۔ (طبرانی صغیر ص241)

24۔ مندرجہ بالا تحریروں کے علاوہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سینکڑوں کی تعداد میں خطوط اور وثیقے ہیں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف اوقات میں بادشاہوں کو بھیجے اور قبیلوں اور سرداروں کو لکھے اور ان پر اپنی مہر ثبت کی۔ اس قسم کے خطوط اور وثائق کو ڈاکٹر حمیداللہ نے جمع کیا ہے۔ یہ مجموعہ الوثائق السياسية للعهد النبوى والخلا فة الراشدة کے نام سے شائع ہوا، پہلی دفعہ سئہ 1941ء میں قاہرہ سے شائع ہوا۔ تیسری مرتبہ بیروت سے سئہ 1969ء میں شائع ہوا، اس مجموعہ میں 281 خطوط اور وثائق، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے متعلق ہیں۔ ان خطوط میں سے ایک خط وہ ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقوقس شاہِ مصر کو لکھا۔ یہ خط مصر کے آثارِ قدیمہ کی کھدائی سے برآمد ہوا ہے اور آج بھی مصر میں موجود ہے۔ (مجموعہ وثائق سیاسۃ ص50)

یہ خط حدیث کی مستند کتابوں میں منقول ہے، برآمد شدہ خط احادیث کی روایت کے عین مطابق ہے اور یہ مطابقت کتب حدیث کے مستند ہونے کی واضح دلیل ہے۔

ان تمام حقائق کے باوجود اگر کتابتِ حدیث کا عہد نبوی میں ہونے کا انکار کیا جائے تو اس کے لیے رازی وقت حضرت مولانا عبدالرحمن محدث مبارک پوری کا یہ قول نہایت موزوں ہے:

قداظن بعض الجهلة فى هذا الزمان ان الاحاديث النبوية لم تكن مكتوبة فى عهد رسول اللهﷺ ولا فى عهد الصحابة وانما كتبت وجمعت فى عهد التابعين قلت ظن بعض الجهلة هذا فاسد مبنى على عدم وقوفه على حقيقة الحال)

کہ"اس دور کے بعض جاہلوں کا گمان ہے کہ احادیث نہ تو عہد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں لکھی گئیں نہ عہد صحابہ رضی اللہ عنہم میں بلکہ تابعین رحمۃ اللہ علیہ کے دور میں لکھی گئیں اور جمع کی گئیں۔ میں کہتا ہوں کہ جاہلوں کا یہ گمان فاسد ہے اور حقیقت حال سے عدم واقفیت کی بناء پر وہ ایسا کہتے ہیں"

الغرض جہاں تک عدم کتابت احادیث کا تعلق ہے، ان کی اسناد سے معلوم ہو گیا کہ صرف ایک حدیث کے علاوہ باقی سب کمزور ہیں اور اس ایک کی حقیقت بھی یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن مجید اور احادیث نبوی کو ایک صفحہ پر لکھنے سے منع فرمایا، تاکہ قرآن مجید اور احادیث میں التباس نہ ہو۔ (شرح السنۃ بغوی، ج1 ص295) ۔۔۔ الگ الگ لکھنے کی اجازت میں بعض نے اس قسم کی احادیث، جن میں ممانعت تھی، منسوخ قرار دی ہیں۔ جب کہ لکھنے کی اجازت والی احادیث ناسخ ہیں۔ (تاویل مختلف الحدیث ص286)

بعض نے یہ لکھا ہے کہ یہ ممانعت اس کے لیے ہے جو صرف کتابت پر اعتماد کرتا تھا اور حفظ کرنے کو بھول جاتا ہے۔ (حاشیہ شرح السنۃ ج1 ص295)

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری حکم بلاشبہ کتابت حدیث کا تھا۔ کیونکہ خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم احادیث لکھواتے رہے اور صحابہ رضی اللہ عنھم کو اس کی ترغیب دیتے تھے، روکنا صرف ایک ہی کاغذ پر اکٹھا قرآن مجید کے ساتھ لکھنے کی وجہ سے تھا۔ چنانچہ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی حدیث سے معلوم ہو گیا کہ جب قرآن و حدیث کا فرق صحابہ رضی اللہ عنھم پر واضح ہو گیا یا جن صحابہ رضی اللہ عنھم کو پہلے ہی اس کا بخوبی علم تھا، مثلا حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ، ان صحابہ رضی اللہ عنھم کو لکھنے کی عام اجازت مل گئی تھی اور صحابہ رضی اللہ عنھم نے احادیث قلمبند کیں۔

پس جو لوگ احادیث کو ویسے ہی نہیں مانتے، ان کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ ممانعت کتابت حدیث کا احادیث سے استدلال کریں، کیوں کہ وہ ویسے ہی احادیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے منکر ہیں۔
حوالہ جات

سنن نسائی حاشیہ مع تعلیقات سلفیہ ج2 ص247