باوجود دردِ پیہم دل کا ماتم کیا کریں
خستگی تیری رضا ہے چشمِ پُرنم کیا کریں
تیرے سنگِ آستاں پر جھک گئی اپنی جبیں
اب کسی در پر سر شوریدہ کو خم کیا کریں
ناز فرما ہیں ہماری جان پر اغیار بھی
تجھ سے ہر دم شکوہ بیدادِ پیہم کیا کریں
عشق رُسوا ہو رہا ہے خیر تیرے حُسن کی
تو ہے غم نا آشنا مانا مگر ہم کیا کریں
جو گزرتی ہے دلوں پر سب تجھے معلوم ہے
اشک افشانی سے رُسوا اب ہوا غم کیا کریں
بے نیازی کا تیری شکوہ بھی گر ممکن نہیں
سرنگوں ہوتا ہے تیرے دیں کا پرچم کیا کریں
گلشنِ ہستی میں ہر جا اب خزاں کا دور ہے
ہو گیا رخصت بہارِ جاں کا موسم کیا کریں
گرچہ ہے سوزِ مسلسل امتحانِ ضبطِ غم
مدعائے دل بیاں ہر لمحہ ہر دم کیا کریں
رشتہ الفت سے جن کے دل تھے وابستہ کبھی
ہو گئے ہیں خون کے پیاسے وہ باہم کیا کریں
ضبط کرتے ہیں بہت اسرار سوزِ دل کو ہم
پھر بھی ہو جاتی ہیں آنکھیں غم سے پُرنم کیا کریں