التوابين كتابه الحديث وكراهتهاوالتطابق بين الاحاديث المتعارضه
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم شریعتِ اسلامیہ کا دوسرا قانونی ماخذ ہے۔ قرآن مجید پڑھنے سے کئی مقامات پر حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اہمیت کا علم ہوتا ہے۔ قرآن مجید کی طرح اس کی حیثیت بھی مسلم ہے۔ اس کا انکار گویا قرآن مجید کا انکار ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

﴿وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ ﴾

"وہ انہیں کتاب اور حکمت سکھاتے ہیں۔"

حکمت سے یہاں حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی مراد ہے۔ اکثر ائمہ حدیث اور علمائے سلف نے یہی مراد لی ہے۔ چنانچہ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ اپنی کتاب "الرسالۃ" میں لکھتے ہیں:

ففرض الله على الناس اتباع وحيه وسنن رسوله.فقال في كتابه: " رَبَّنَا وَابْعَثْ فِيهِمْ رَسُولًا مِنْهُمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِكَ، وَيُعَلِّمُهُمْ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ، وَيُزَكِّيهِمْ. إِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ (جزء اول ص 73)

سات آیات ایسی درج کر کے، جن میں حکمت کا لفظ ہے، امام صاحب رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

فذكر الله الكتاب، وهو القُرَآن، وذكر الحِكْمَة، فسمعتُ مَنْ أرْضى من أهل العلم بالقُرَآن يقول: الحكمة سنة رسول الله. (جزء اول ص 73)

"اللہ تعالیٰ نے لوگوں پر وحی کی اطاعت فرض کی ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی اتباع ضروری قرار دی ہے۔ آیات قرآنی﴿رَبَّنَا وَابْعَثْ فِيهِمْ رَسُولًا ﴾میں اللہ تعالیٰ نے جس کتاب کا ذکر کیا وہ قرآن مجید ہے اور جس حکمت کا ذکر فرمایا۔ میں نے قرآن کا بہت زیادہ علم رکھنے والوں سے سنا ہے، کہتے تھے کہ یہاں حکمت سے مراد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت (حدیث) ہے۔"

ایک مقام پر فرمایا:

﴿وَما يَنطِقُ عَنِ الهَوىٰ ﴿٣﴾ إِن هُوَ إِلّا وَحىٌ يوحىٰ ﴿٤﴾... سورةالنجم"وہ اپنی مرضی سے نہیں بولتے وہ تو ایک پیغام ہے جو ان کی طرف بھیجا جاتا ہے۔"

ایک اور جگہ یوں ارشاد ہے:

﴿وَما ءاتىٰكُمُ الرَّ‌سولُ فَخُذوهُ وَما نَهىٰكُم عَنهُ فَانتَهوا...﴿٧﴾... سورةالبقرة

"اور جو کچھ تمہیں رسول صلی اللہ علیہ وسلم دیں اس کو لے لو اور جس چیز سے تم کو منع کریں رک جاؤ۔"

اس قسم کی اور کئی آیات قرآنی سے احادیث رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کی حیثیت متعین ہو جاتی ہے۔

منکرین احادیثِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی انداز سے احادیثِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر تنقید کی ہے۔ ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خود احادیث کو لکھنے سے منع فرما دیا تھا حالانکہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا تھا تو وہ بھی احادیث ہیں، ان احادیث کی حیثیت کیا ہو گی۔۔۔ انہیں کیونکر تسلیم کر لیا جاتا ہے؟ ۔۔۔ سچ ہے

"دروغ گو را حافظہ نباشد"

محدثینِ عظام اس بات کے قائل ہیں کہ احادیثِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کتابت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے حکم سے شروع ہو گئی تھی۔

اس مضمون میں پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے کراہتہِ کتابتِ حدیث اور اباحۃِ کتابتِ حدیث سے متعلق ارشادات درج کئے گئے ہیں اور ان پر فنی نکتہ نگاہ سے بحث کی گئی ہے اور ان پر تبصرہ کر کے دونوں حکموں میں تطبیق دی گئی ہے۔ سب سے پہلے ہم وہ احادیث درج کرتے ہیں۔ جن میں کتابت کے بارے میں کراہت پائی جاتی ہے:

حدیثِ ابوسعید رضی اللہ عنہ:

1. عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا تَكْتُبُوا عَنِّي، وَمَنْ كَتَبَ عَنِّي غَيْرَ الْقُرْآنِ فَلْيَمْحُهُ، وَحَدِّثُوا عَنِّي، وَلَا حَرَجَ، وَمَنْ كَذَبَ عَلَيَّ - قَالَ هَمَّامٌ: أَحْسِبُهُ قَالَ - مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ "(صحيح مسلم حديث 3004)

"حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا، "مجھ سے سن کر قرآن کے علاوہ اور کوئی چیز نہ لکھو۔ جس کسی نے قرآن کے علاوہ کوئی چیز لکھی ہو وہ مٹا دے۔" ھمام کا خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ یعنی "جس نے جان بوجھ کر مجھ پر جھوٹ باندھا، تو وہ پنا ٹھکانا دوزخ بنا لے۔"

حدیث کی دیگر کتابوں میں تھوڑے سے فرق کے ساتھ یہ حدیث ہے:

لاتكتبو عنى شيئا الاالقرآن فمن كتب عنى شيئا غيره فليحمه

"مجھ سے قرآن کے علاوہ کچھ نہ لکھو، جس نے کچھ لکھا ہو وہ متا دے۔"

(دارمی کے اصل الفاظ شيئا غير القران فليمحه ہیں)

عدمِ کتابتِ حدیث کی سب سے بڑی دلیل مندرجہ بالا حدیث ہے۔ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور دیگر محدثین اس کو حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کا قول بتاتے ہیں۔ فتح الباری میں ہے:

منهم من اعل حديث ابى سعيد وقال الصواب وقفه على ابى سعيد قال البخارى(فتح الباري ج1 ص 185)

"کچھ لوگوں نے حدیث ابی سعید رضی اللہ عنہ کو معلول قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ صحیح یہ ہے کہ یہ ابی سعید رضی اللہ عنہ پر موقوف ہے۔"

اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ حدیث مرفوع نہیں ہے اور اگر بالفرض یہ بات نہ ہو، تو بھی الفاظِ حدیث پر غور سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کا مطلب ہے، قرآن کے ساتھ ملا کر کسی بھی چیز کو نہ لکھا جائے تاکہ خلط ملط نہ ہو جائے۔

مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس سلسلے میں حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی دیگر احادیث بھی بیان کر دی جائیں:

2. عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الخُدْرِيِّ، قَالَ: «اسْتَأْذَنَّا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الكِتَابَةِ فَلَمْ يَأْذَنْ لَنَا»: «وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ هَذَا الوَجْهِ أَيْضًا عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ» رَوَاهُ هَمَّامٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ

(جامع الترمذي ج2ص102)

"حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ہم نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے لکھنے کی اجازت طلب کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت نہ دی۔ اس کے علاوہ یہ حدیث زید بن اسلم سے بھی مروی ہے۔"

یہی حدیث اور مقام پر الفاظ کی ذرا تبدیلی سے حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ ہی سے مروی ہے کہ:

«اسْتَأْذَنَّا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ان يكتبواعنه فَلَمْ يَأْذَنْ لَنَا» "آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے انہوں نے لکھنے کی اجازت مانگی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اجازت نہ دی۔"

دارمی کے حاشیہ پر اس کے متعلق لکھا ہے:

وقد قيل انمها نهى ان تكتب الحديث مع القرآن فى صفحه واحدة فيختلط به فيشتبه(دارمى جلد1 ص99)

کہ "حدیث کو قرآن مجید کے ساتھ ایک ہی صفحہ پر لکھنے سے منع فرمایا تاکہ اشتباہ پیدا نہ ہو جائے۔"

علامہ خطابی نے بھی اسی رائے کا اظہار کیا ہے، ان کے الفاظ یہ ہیں:

انا نهى ان يكتب الحديث مع القران فى صفحه واحدة لئلا يختلط به ويشتبه على القارئ (معالم السنن ج 1ص246)

کہ "ایک صفحہ میں قرآن کے ساتھ حدیث لکھنے سے اس لیے منع فرمایا تاکہ التباس نہ ہو اور قاری پر مشتبہ نہ ہو۔"

خود حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ نے ابو نضرہ کے سوال کا جواب دیتے ہوئے ایک دفعہ فرمایا:

قال اردتم ان تجعلو قرآنا؟لالا-(جامع بيان العلم ج ص 64)

"کیا تمہارا یہ خیال ہے کہ تم اسے قرآن بنا لو؟ نہیں، نہیں"؟

ایک اور روایت ابونضرہ ہی سے ہے کہ انہوں نے حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے کہا، جو کچھ ہم آپ سے سنتے ہیں اس کو لکھ لیا کریں؟ تو آپ نے فرمایا:

(اتريدون ان تجعلو هامصاحف؟ايضا

"تم اس کو مصاحف بنانا چاہتے ہو؟"

تعلیق علوم الحدیث کے صفحہ 9 پر حدیثِ ابو سعید رضی اللہ عنہ پر تبصرہ اس طرح کیا گیا ہے کہ:

فاحسبه انه كان متنوعااول الهجرة وحين كان لايئومن الاشتغال به عن القرآن

"میرا خیال ہے کہ آغازِ ہجرت میں ممنوع تھا، بالخصوص اس وقت جب کہ اس میں لگ کر قرآن سے ہٹ جانے کا امکان تھا۔"

ایک اور حدیث نے ان احادیث کی مزید وضاحت کی ہے کہ ممانعت اس وجہ سے تھی کہ قرآن مجید کے ساتھ اختلاط حدیث نہ ہو۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت تشریف لائے جب ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں لکھ رہے تھے۔ فرمایا، "کیا لکھ رہے ہو؟" ہم نے کہا، "وہ باتیں جو ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہیں۔" آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "تم کتاب اللہ کے سوا کوئی اور کتاب چاہتے ہو؟ تم سے پہلی امتوں کو اس کے سوا کسی چیز نے نہیں گمراہ کیا کہ انہوں نے کتاب اللہ کے ساتھ دیگر کتابیں بھی لکھ لیں۔" (مسند احمد عن ابی ھریرۃ رضی اللہ عنہ)

صحیفہ ہمام بن منبہ کے مقدر (ص 72-76) میں ڈاکٹر حمیداللہ نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔ کہ یمن سے نو مسلموں کی جماعت آئی ان میں سے کچھ نے احادیث کو اپنے ان اوراق پر لکھ لیا جن پر قرآن مجید کی سورتیں لکھی تھیں، تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قرآن کے علاوہ (جو کچھ لکھا ہے) اس کو مٹا دو۔ یہ بات واضح ہی ہے کہ نومسلم لوگ اس اختلاط سے الجھ جاتے ہیں۔

علاوہ ازیں حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ کی حدیث پر اور بھی کئی طرح سے تبصرہ کیا گیا ہے۔ مثلا اہل عرب کا حافظہ بہت معروف تھا۔ اس وجہ سے اس شخص کو لکھنے سے روکا جس کے حافظے پر اعتماد تھا۔ ہم اس حقیقت کی طرف بھی اشارہ کر دیں کہ بعض محدثین کے نزدیک یہ منسوخ ہے۔ (علوم الحدیث اور امام اعظم از مولانا محمد علی ص86)

علامہ احمد شاکر نے بھی حدیث ابی سعید رضی اللہ عنہ کو بالکل ابتداء میں بیان کیا ہے اور کتابت کے متعلق لکھا ہے کہ پوری امت کا مجتمع ہونا اس بات کی نشانی ہے کہ فیصلہ یہی ہے اور اجتماع تواتر سے ثابت ہے، اگر حدیث ابی سعید ان (کتابت) احادیث کے بعد ہوتی تو تمام صحابہ رضی اللہ عنہ کو پتہ ہوتا۔ (الباعث الحثیث ص123)

حدیث حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ پر تبصرہ

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ زَيْدٍ، عَنِ [ص:319] الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْطَبٍ، قَالَ: دَخَلَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ، عَلَى مُعَاوِيَةَ، فَسَأَلَهُ عَنْ حَدِيثٍ فَأَمَرَ إِنْسَانًا يَكْتُبُهُ، فَقَالَ لَهُ زَيْدٌ: «إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَنَا أَنْ لَا نَكْتُبَ شَيْئًا مِنْ حَدِيثِهِ» فَمَحَاهُ

کہ "حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے۔ انہوں نے زید رضی اللہ عنہ سے کسی حدیث کے متعلق پوچھا اور کسی آدمی کو حکم دیا کہ وہ لکھے ۔ حضرت زید رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اپنی احادیث لکھنے سے منع فرمایا ہے۔ تو اُس نے اُن کو ہٹا دیا۔"

یہ روایت صحیح نہیں ہے۔ اس میں کثیر بن زید حزنی پر کلام کیا گیا ہے۔ (عون المعبود ج3، ص356)

اس کے علاوہ مطلب بن عبداللہ مرسل روایات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتا ہے۔ حالانکہ اس کی ملاقات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں ہوئی۔ حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ نے لکھا ہے:

كثير التدليس والارسال من الرابعه(تقريب التهذيب ج 2ص254)

اس حدیث پر مزید تبصرہ کرنے کی ضرورت ہی نہیں ہے کیونکہ اس میں دو راویوں پر کلام کیا گیا ہے۔

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کی حدیث پر تبصرہ

4۔ عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، يُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِنَّا أُمَّةٌ أُمِّيَّةٌ، لَا نَكْتُبُ وَلَا نَحْسُبُ، الشَّهْرُ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا» وَعَقَدَ الْإِبْهَامَ فِي الثَّالِثَةِ

"آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہم اُمی (ان پڑھ) امت ہیں نہ لکھتے ہیں نہ حساب کرتے ہیں۔ مہینہ (انگلیوں کے اشارے سے) اس طرح، اس طرح اور اس طرح ہے اور تیسری دفعہ انگوٹھے کو بند لیا (29 دن کی طرف اشارہ کیا)۔"

اس حدیث کا کتابتِ حدیث کے ساتھ کوئی تعلق ہی نہیں ہے۔ اس کو اگر کتابتِ حدیث پر لاگو کیا جائے تو قرآن مجید کی کتابت پر بھی اس کا اطلاق ہو گا۔ اصل میں یہاں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا ہے کہ ہمارے ہاں لکھنے کا رواج کم ہے۔ ہم مہینے کے دنوں کی گنتی اس طرح سے انگلیوں پر کر لیتے ہیں۔

زیادہ تر عرب لوگوں کا رجحان حافظے پر تھا۔ گھوڑوں کی نسلوں کے ان کو نسب یاد ہوتے تھے۔ لکھنے کو وہ انسان کے حافظے کی کمزوری کی علامت سمجھتے تھے۔ بلکہ یہ ان کی ضرب المثل تھی:

اكتبو ا على الحناجر ولو بالخناجر

"شہ رگوں پر لکھ لو خواہ خنجروں سے لکھنا پڑے۔"

حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے عمر بن ابی ربیعہ کا قصدیہ ایک دفعہ سن کر یاد کر لیا تھا جس کے ستر شعر تھے۔

قرآن مجید نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو نبی الامی کا لقب دیا ہے۔ (الاعراف:158) اور "﴿بعث فى الاميين رسولا﴾" کہا ہے (الجمعۃ: 2) لیکن اس کے باوجود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کاتبینِ وحی موجود تھے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خود قرآنِ مجید لکھواتے۔ اس کے علاوہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت سے قبل ہی عرب میں لکھنے کا رواج شروع ہو گیا تھا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ حدیث کتابت سے متعلق نہیں بلکہ ویسے مہینے کے دنوں کی گنتی کے متعلق ہے۔ اس کو کسی محدث نے بھی کتابتِ حدیث میں درج نہیں کیا۔

حدیث حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ

5. وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «" لَا تَكْتُبُوا عَنِّي إِلَّا الْقُرْآنَ، فَمَنْ كَتَبَ عَنِّي غَيْرَ الْقُرْآنِ فَلْيَمْحُهُ، وَحَدِّثُوا عَنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ وَلَا حَرَجَ»، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.

رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.(مجمع الزوائد منبع الفوائد ج1 ص151)

"حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت نے فرمایا، مجھ سے قرآن کے علاوہ کچھ نہ لکھو، جس نے مجھ سے قرآن کے علاوہ کچھ لکھا ہو وہ مٹا دے۔ بنی اسرائیل سے بیان کرو کوئی حرج نہیں۔" اس کو بزار نے روایت کیا ہے۔ اس میں عبدالرحمن بن زید بن اسلم ضعیف ہیں۔"

اس حدیث کی صحت پر مزید جرح کی ضرورت ہی محسوس نہیں ہوتی۔ جب کہ اس کا ایک راوی ضعیف ہے۔ تاہم اس پر غور کرنے سے معلوم ہو گا کہ یہ اس لیے ہے کہ قرآن کے ساتھ التباس نہ ہو۔ جس طرح کہ پہلے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث لکھی جا چکی ہے اس میں مطلق ممانعت نہیں بلکہ عام لوگوں کو روکا گیا ہے۔ جب کہ خاص لوگوں کو اجازت دی۔

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ - يَعْنِي الْخُدْرِيَّ - قَالَ: «كُنَّا قُعُودًا نَكْتُبُ مَا نَسْمَعُ مِنَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَخَرَجَ عَلَيْنَا فَقَالَ: " مَا هَذَا تَكْتُبُونَ؟ " فَقُلْنَا: مَا نَسْمَعُ مِنْكَ، فَقَالَ: " أَكِتَابٌ مَعَ كِتَابِ اللَّهِ؟ أَمْحِضُوا كِتَابَ اللَّهِ وَأَخْلَصُوهُ ". قَالَ: فَجَمَعْنَا مَا كَتَبْنَاهُ فِي صَعِيدٍ وَاحِدٍ، ثُمَّ أَحْرَقْنَاهُ بِالنَّارِ، فَقُلْنَا: أَيْ رَسُولَ اللَّهِ، نَتَحَدَّثُ عَنْكَ؟ قَالَ: " نَعَمْ، تَحَدَّثُوا عَنِّي وَلَا حَرَجَ، وَمَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ ". قَالَ: قُلْنَا: أَيْ رَسُولَ اللَّهِ، أَنَتَحَدَّثُ عَنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ؟؟ قَالَ: " نَعَمْ، تَحَدَّثُوا عَنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ وَلَا حَرَجَ، فَإِنَّكُمْ لَا تُحَدِّثُونَ عَنْهُمْ بِشَيْءٍ إِلَّا وَقَدْ كَانَ فِيهِمْ أَعْجَبَ مِنْهُ».

قُلْتُ: لَهُ حَدِيثٌ فِي الصَّحِيحِ بِغَيْرِ هَذَا السِّيَاقِ.

رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

"حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے جو سنتے تھے اس کو بیٹھ کر لکھ رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو پوچھا، یہ کیا لکھ رہے ہو؟" ہم نے کہا "جو کچھ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنتے ہیں" آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "کیا اللہ کی کتاب کے ساتھ اور کتاب لکھتے ہو؟ اللہ کی کتاب کو خالص رکھو۔" حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ نے کہا "جو کچھ ہم نے لکھا تھا اسے ایک میدان میں جمع کیا پھر اسے جلا دیا۔ ہم نے کہا "اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم، آپ سے ہم بیان کریں؟" فرمایا "ہاں مجھ سے بیان کرو کوئی حرج نہیں۔ جس نے جان بوجھ کر مجھ پر جھوٹ باندھا وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے۔" امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو روایت کیا ہے اس میں عبدالرحمن بن زید بن اسلم ضعیف ہیں۔"

مذکورہ ضعف کی بنا پر اس پر تبصرہ مناسب نہیں۔ تاہم حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ کی حدیث گزر چکی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے عام لوگوں کو قرآن کے ساتھ لکھنے سے منع فرما دیا تھا تاکہ التباس نہ ہو۔ لیکن جب اس التباس کا خدشہ نہ رہا تو اجازت دے دی۔

مقدمۃ ابن الصلاح میں اس طرح ہے:

ولَعَلَّهُ - صلى الله عليه وسلم - أَذِنَ في الكِتَابَةِ عنهُ لِمَنْ خَشِيَ عليهِ النِّسْيانَ (6)، ونَهَى عَنِ الكِتَابَةِ عنهُ مَنْ وَثِقَ بحِفْظِهِ، مَخَافَةَ الاتِّكَالِ عَلَى الكِتابِ، أوْ نَهَى عَنْ كِتابَةِ ذلكَ عنهُ حينَ خَافَ عليهِم اخْتِلاَطَ ذلكَ بصُحُفِ القُرآنِ العَظيمِ وأَذِنَ في كِتَابَتِهِ حِيْنَ أَمِنَ مِنْ ذَلِكَ(مقدمه ابن الصلاح لعلوم الحديث ص71)

اب ہم ان احادیث کا جائزہ لیتے ہیں جن میں احادیث کی کتابت کا حکم ہے یا جن کی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کتابت ہوئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے مستحسن قرار دیا:

1۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ قبیلہ خزاعہ نے اسے اپنے ایک مقتول کے بدلے میں فتح مکہ کے سال، بنو لیث کا ایک آدمی قتل کر دیا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا پتہ چلا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی سواری پر سوار ہو کر خطبہ دیا۔ "اللہ تعالیٰ نے مکہ سے قتل (یا اصحابِ) فیل کو روک لیا (امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کو شک ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فیل کا لفظ استعمال کیا یا قتل کا) رسول اللہ کو اور اہل ایمان کو اہل مکہ پر مسلط کر دیا۔ حرم کو نہ مجھ سے پہلے کسی کے لیے حلال کیا گیا اور نہ میرے بعد کسی کے لیے حلال کیا جائے گا۔ میرے لیے دن کے چند گھنٹوں کے لیے حلال کیا گیا اور پھر حسبِ سابق حرام ہو چکا ہے۔ حدودِ حرم میں نہ(لفظ؟؟؟) کو توڑا جائے نہ درختوں کو کاٹا جائے نہ یہاں کی گری ہوئی چیز اٹھائی جائے۔ البتہ اس شخص کو اجازت ہے جو گری ہوئی چیز کو شہرت دینا چاہتا ہو۔ جس قوم کا کوئی شخص مارا جائے اس کو دو ہاتھوں میں سے ایک کا اختیار ہے یا تو قاتلوں سے قصاص لے لیں یا دیت لے لیں۔"

اس پر اہل یمن میں سے ایک شخص ابوشاہ نے عرض کی:

اكتب لى يارسول الله

"یا رسول اللہ (یہ اباتیں) میرے لیے لکھ دیجئے

تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

اكتبو لابى شاه

"ابوشاہ کو لکھ دو۔"

حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے کہا، "صرف اذخر کی اجازت دے دیں، اس کو ہم گھروں اور قبروں میں استعمال کرتے ہیں" آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دے دی۔

امام اوزاعی رحمۃ اللہ علیہ سے "(اكتب لى يارسول الله)" کے متعلق پوچھا گیا، تو انہوں نے بتایا کہ:

هذه الخطبة التى سمعها من رسول الله

(صحيح بخاري ج )

کہ "یہ وہ خطبہ ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے انہوں نے سنا تھا۔"

یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے کتاب العلم اور کتاب اللقطۃ دونوں میں کچھ تغیرِ الفاظ سے لکھی ہے۔ دونوں کو ملا کر یہاں درج کی گئی ہے۔

حافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث پر یوں تبصرہ کیا ہے:

بهذا تظهر مطابقة هذا الحديث للترجمهة (فتح البارى ج ص 154)

"اس سے اس حدیث کے باب سے مطابقت ظاہر ہوتی ہے۔"

مولانا عبدالرحمن مبارک پوری رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:

هذا دليل صريح على جواز كتابة الحديث(تحفة الاحوذي ج 3ص 375)

"یہ کتابتِ حدیث کے جواز پر صریح دلیل ہے۔"

یہ حدیث صحیحین کے علاوہ دیگر کتبِ حدیث میں بھی ہے۔ (مثلا جامع بیان العلم ص21۔ ابوداؤد)

اور اس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا دیگر صحابہ رضی اللہ عنھم کو یہ حکم کہ "ابوشاہ کو لکھ دیں" اس بات کی دلیل ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اگرچہ ابتداء میں قرآن مجید سے اشتباہ کی بناء پر کتابتِ حدیث سے روکا تھا لیکن بعد میں اجازت دے دی تھی۔ سئہ 8ھ میں مکہ فتح ہوا۔ یہ اُس کے بعد کا واقعہ ہے۔

2۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:

مامن اصحاب النبى احد اكثر حديثا منى الا ماكان من عبدالله بن عمر فانه كان يكتب والااكتب(صحيح بخارى ج1ص 22)

کہ "حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے علاوہ کوئی اور صحابی رضی اللہ عنہ مجھ سے زیادہ حدیثیں بیان نہ کرتا۔ وہ لکھتے تھے۔ میں نہیں لکھ سکتا تھا۔"

یہ حدیث بھی دیگر کتب احادیث میں ہے۔ ترمذی ج2 ص107 پر یہ الفاظ ہیں:

وكنت لااكتب(هذا حديث حسن صحيح)

کہ "میں نہیں لکھتا تھا۔" یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

علاوہ ازیں دیکھئے سنن دارمی ج1 ص103، جامع بیان العلم ص70، شرح السنۃ ج2 ص؟)

یہ حدیث صحیح ہے۔ اس کے تمام راوی ثقہ ہیں۔ معلوم ہوا کہ کتابت حدیث آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ہوئی تھی۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے صحابی لکھتے تھے۔ ممانعت ہوتی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم منع فرما دیتے۔

فتح الباری میں اس کے متعلق یوں لکھا ہے کہ:

"یہ روایت صحیح مسلم والی ابوسعید رضی اللہ عنہ کی روایت کے متعارض ہے۔ ان میں تطبیق اس طرح سے ہے کہ نہی نزولِ قرآن کے التباس کی وجہ سے کی گئی ہے۔ التباس کا خطرہ نہ رہا تو اجازت دے دی۔ یا ایک صفحہ پر قرآن مجید کے ساتھ کسی چیز کے لکھنے سے نفی خاص ہے اور الگ اجازت تھی۔ یا نہی مقدم ہے اور اذن ناسخ ہے یا نہی اس کے لیے ہے جو صرف کتابتِ حدیث پرتکیہ کرے اور حفظ کو چھوڑ دے دوسرے کو اجازت ہے۔۔۔ روایت ابوسعید رضی اللہ عنہ کو موقوف بھی کہا گیا ہے۔" (فتح الباری ج1 ص185)

بخاری کے علاوہ دیگر حدیث کی کتابوں میں حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے اسی طرح کی حدیثیں بیان کی گئی ہیں۔ جو کہ اس حدیث کو مزید تقویت دیتی ہیں۔ اگرچہ اس کی اپنی حیثیت بھی مسلم ہے۔

3۔ حدیث ابی جحیفہ رضی اللہ عنہ

عن أبي جحيفة، قال: قلت لعلي بن أبي طالب: هل عندكم كتاب؟ قال: " لا، إلا كتاب الله، أو فهم أعطيه رجل مسلم، أو ما في هذه الصحيفة. قال: قلت: فما في هذه الصحيفة؟ قال: العقل، وفكاك الأسير، ولا يقتل مسلم بكافر "

"حضرت ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا، "کیا تمہارے پاس کوئی کتاب ہے؟" تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا، "نہیں لیکن اللہ کی کتاب یا فہم جو مسلمان آدمی کو مل جائے یا جو اس صحیفہ میں ہے۔" میں نے پوچھا "اس صحیفہ میں کیا ہے؟" حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا، "دیت اور قیدی کو آزاد کرنا اور مسلمان کو کافر کے بدلے میں قتل نہ کرنا"

اس حدیث کی صحت پر بھی گفتگو کی ضرورت نہیں ہے۔ بخاری کے علاوہ دیگر کتب احادیث میں بھی موجود ہے۔

4۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کی حدیث مروی ہے۔ اس میں سراقہ بن مالک مدلجی کا واقعہ ہے کہ اس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا تعاقب کیا۔ قریب گیا تو اس کا گھوڑا زمین میں دھنس گیا۔ پھر اس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے امان طلب کی اور امن کا خط لکھنے کو کہا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عامر بن فہیرہ کو حکم دیا، اس نے چمڑے کے ایک ٹکڑے پر لکھ لیا۔ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے۔ (صحیح بخاری ج1 ص554، مسند احمد ج4 ص176 مستدرک حاکم ج3 ص7)

یہ واقعہ مکہ اور مدینہ کے درمیان کا ہے، اگر کتابت کی بالکل ممانعت ہوتی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کیوں اس کو امن کا پروانہ لکھ کر دیتے؟ یہ حدیث کتابت حدیث پر صریح دلیل ہے۔ اس حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سراقہ بن مالک کو کسریٰ بن ہرمز کے کنگن پہنانے کی بھی پیش گوئی فرمائی ہے۔

5 «اكتبوا لي من تلفظ بالإسلام من الناس»، فكتبنا له ألفا وخمس مائة رجل، فقلنا: نخاف ونحن ألف وخمس مائة، رجل (بخاري حديث 3060)

"حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"لوگوں میں سے جو آدمی زبان سے اسلام کا اقرار کرتا ہے، اس کا نام لکھ لو۔ تعمیلِ حکم میں ہم نے ایک ہزار پانچ سو (1500) آدمیوں کے نام لکھے۔"

یہ حدیث مسلم میں بھی ہے۔ لیکن وہاں یہ الفاظ ہیں۔ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے شمار کرنے کا حکم دیا تو انہوں نے کہا:

اتخاف علينا ونحن مابين الست مائة الى السبع مائة

"آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے بارے میں ڈرتے ہیں جب کہ ہم چھ (600) سات (700) سو تک ہیں۔"

دونوں احادیث اپنی اپنی جگہ پر درست ہیں، مسلم شریف کی حدیث کے مطابق چھ سات سو صرف مدینہ کے آدمی تھے اور پندرہ سو کی تعداد میں مدینہ کے علاوہ ارد گرد کے مسلمان بھی شامل ہیں۔ (حاشیہ مسلم شرح نووی ج1 ص84، حاشیہ بخاری از مولانا احمد علی سہارنپوری ج1 ص430)

الغرض اس حدیث کی صحت کے بارے میں بھی شک کا کوئی امکان نہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے لکھنے کا حکم دیا اور پھر باقاعدہ لکھا گیا۔ اگر ممانعت ہوتی تو نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم حکم دیتے اور نہ صحابہ رضی اللہ عنھم لکھتے۔

6. وقال خارجة بن زيد بن ثابت، عن زيد بن ثابت: أن النبي صلى الله عليه وسلم أمره «أن يتعلم كتاب اليهود» حتى كتبت للنبي صلى الله عليه وسلم كتبه، وأقرأته كتبهم، إذا كتبوا إليه "حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہود کا خط سیکھنے کا حکم دیا۔ حتیٰ کہ میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خطوط لکھے اور جو وہ خط آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو لکھتے وہ انہیں پڑھ کر سناتا۔"

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خطوط آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کی حیثیت رکھتے تھے۔ یہ بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے ہوا۔ (جاری ہے)