قرآن کریم چشمہ ہدایت اور بھولے بھٹکے انسانوں کے لیے روشنی کا مینار ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے بنی نوع انسان کی ہدایت اور رہنمائی کے لیے نازل فرمایا۔ اس کے نزول کے علاوہ اللہ رب العزت نے بنی نوع انسان کو ایک اور عظیم الشان اور بیش بہا نعمت سے نوازا۔ یعنی ان میں ایک ایسے پیغمبر (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم) کو مبعوث فرمایا جو تمام انبیاء علیھم السلام سے افضل اور تمام بنی نوع انسان سے اعلیٰ ترین مرتبہ پر فائز ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو اللہ کی کتاب کی آیات پڑھ کر سناتے اور ان کا مفہوم اپنے اقوال و افعال سے واضح کرتے رہے تاکہ بعد میں آنے والی نسلوں کو اس کے معانی اور مفہوم سمجھنے میں کوئی دقت پیش نہ آئے۔ چنانچہ جب تک امتِ محمدیہ (علی صاحبہا الصلوۃ والسلام) نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات، ہدایات اور رہنمائی کی روشنی میں قرآن پاک کا مفہوم سمجھنے کی کوشش کی اور اپنی عقل اور دماغ سے اٹکل پچو نہیں لگائے اس وقت تک راہِ ہدایت پر قائم رہی، اور اتفاق و اتحاد سے مسلمانوں نے بڑے بڑے معرکے سر کئے۔۔۔ لیکن جب لوگ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاداتِ عالیہ اور تعلیمات سے روگردانی کر کے قرآن پاک کا مفہوم سمجھنے کے لیے اپنے اپنے رخشِ عقل پر سوار ہو گئے تو مذہبی خلفشار کا شکار ہو گئے اور متعدد فرقوں اور گروہوں میں بٹ گئے۔ ہر فرقے نے اپنے اپنے نظریہ اور عندیہ کے مطابق قرآن پاک کے مفہوم کو سمجھا اور اس میں تاویلات کا باب دیا۔

چنانچہ ایک گروہ اس نظریہ کا حامل ہوا کہ اللہ تعالیٰ بذاتہِ ہر جگہ اور ہر مقام پر موجود ہے اور ہر انسان کے اندر حلول کئے ہوئے ہے۔ یہ گمراہ فرقہ آج بھی موجود ہے یہ اپنے نظریے کی تائید مین قرآن پاک سے دلائل پیش کرتا ہے۔ مثلا:

﴿وَهُوَ مَعَكُمْ﴾ اور "﴿ وَنَحنُ أَقرَ‌بُ إِلَيهِ مِن حَبلِ الوَر‌يدِ ﴿١٦﴾... سورة ق" وغیرہ ایات سے استدلال پکڑتا ہے۔ حالانکہ ان لوگوں نے ان آیات کا مفہوم سمجھنے کے لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کی طرف توجہ مبذول نہیں کی۔ نیز قرآن پاک کی دیگر آیات جو ان کے نظریہ کو باطل قرار دیتی ہیں، ان پر غور و فکر نہیں کیا۔ اگر وہ قرآن پاک کی تمام آیات کو مدِ نظر رکھتے تو ایسا باطل اور فاسد عقیدہ ہرگز نہ رکھتے۔

چنانچہ سعودی عرب کے مایہ ناز عالم سماحۃ الشیخ عبدالعزیز بن باز حفظہ اللہ۔۔ڈائریکٹر جنرل ادارہ بحوث علمیہ، افتاء، دعوۃ اور ارشاد نے حلولیوں اور وجودیوں کے اس عقیدہ کو باطل اور فاسد قرار دیا ہے۔ زیرِ نظر مضمون میں اس کی تفصیل ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو صراطِ مستقیم پر چلنے کی توفیق بخشے۔آمین (مترجم)

حمد و صلوۃ کے بعد، مجھ سے اکثر لوگ یہ سوال کرتے ہیں کہ جو شخص یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر انسان کے وجود میں ہے اور کوئی انسان اللہ کے وجود سے علیحدہ نہیں۔ اس کے متعلق آپ کی کیا رائے ہے؟ یہ لوگ اپنے نظرئیے کی تائید میں کچھ قرآنی آیات بھی پیش کرتے ہیں۔ مثلا

﴿وَما كُنتَ بِجانِبِ الغَر‌بِىِّ ...﴿٤٤﴾... سورةالقصص

﴿وَما كُنتَ لَدَيهِم إِذ يُلقونَ أَقلـٰمَهُم...٤٤﴾... سورة آل عمران

﴿وَما كُنتَ لَدَيهِم إِذ يَختَصِمونَ ﴿٤٤﴾... سورة آل عمران

یہ لوگ کہتے ہیں کہ ان آیات میں جن واقعات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اس وقت حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں پر تشریف فرما نہیں تھے۔ لیکن اللہ تعالیٰ موجود تھا کیونکہ وہ ہر جگہ پر ہے۔

چونکہ اس نظریہ کے قائل نے ان آیات سے غلط مفہوم اخذ کیا ہے اور سراسر غلطی کا ارتکاب کیا ہے اور قرآن و حدیث کے مطابق جو مسلمانوں کا عقیدہ ہے اس کی خلاف ورزی کی ہے اور امت محمدیہ (علی صاحبہا الصلوۃ والسلام) کے سلف صالحین کے عقیدہ کے برعکس ہے۔ بنا بریں میں نے محسوس کیا کہ حق کی وضاحت کروں اور اس فاسد نظریہ کے قائل پر جو بات مخفی رہی ہے اس کو واضح کر دوں۔

یہ عقیدہ صفات باری تعالیٰ اور اسمائے الہی کے متعلق ہے۔ ان صفات کے متعلق اللہ تعالیٰ نے خود اپنی صفت بیان فرمائی ہے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ان صفات کا ذکر فرمایا ہے جیسا کہ اس کی بزرگی اور جلال کے لائق ہے۔ ان کی کیفیت اور تمثیل وغیرہ کا کوئی ذکر نہیں اور نہ ہی ان صفات میں تحریف و تعطیل کا کوئی دخل ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:

﴿لَيسَ كَمِثلِهِ شَىءٌ ۖ وَهُوَ السَّميعُ البَصيرُ‌ ﴿١١﴾... سورة الشورىٰ

"اللہ کی مثل (زمین و آسمان میں) کوئی شے نہیں۔ وہ (ہر بات کو) سننے والا اور (ہر شے کو) دیکھنے والا ہے۔"

جو کچھ قرآن پاک اور حدیث سے ثابت ہوتا ہے اور جو امت کے سلف کا عقیدہ ہے وہ یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق سے بلند و بالا ہے۔ ان سے علیحدہ ہے اور عرش پر قائم ہے۔ اس کا عرش آسمانوں کے اوپر ہے۔ اس کا عرش پر استواء ایسا ہے جیسا اس کی ذات کے لائق ہے۔ وہ استواء اور بلند ہونے کی صفت میں اپنی مخلوق سے مشابہ نہیں۔ اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کے ساتھ ہے یعنی اس کا علم اپنی مخلوق کو محیط ہے۔ ان کا کوئی معاملہ اس سے پوشیدہ نہیں۔ قرآن پاک کی آیات سے یہی مفہوم واضح ہوتا ہے۔ اس کی عبارت بالکل واضح اور بلیغ ہے۔ صحیح احادیث بھی اسی مفہوم پر دلالت کرتی ہیں۔

قرآن پاک کے دلائل

اس مسئلہ میں سب سے پہلے قرآن پاک کے دلائل پیش کیے جاتے ہیں۔

1۔ سورہ فاطر میں اللہ عزوجل نے ارشاد فرماای:

﴿إِلَيهِ يَصعَدُ الكَلِمُ الطَّيِّبُ وَالعَمَلُ الصّـٰلِحُ يَر‌فَعُهُ...﴿١٠﴾... سورة فاطر

"پاکیزہ کلمات اس (اللہ) کی طرف اوپر چڑھتے ہیں اور (مومن کا) نیک عمل ان کو اوپر لے جاتا ہے۔"

2۔ حضرت عیسی علیہ السلام کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

﴿إِنّى مُتَوَفّيكَ وَر‌افِعُكَ إِلَىَّ﴾

"(اے عیسی علیہ السلام) میں تمہیں فوت کرنے والا ہوں اور اپنی طرف اوپر اٹھانے والا ہوں۔"

3۔ فرشتوں اور اہل ایمان کی ارواح کے متعلق اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:

﴿تَعْرُجُ الْمَلَائِكَةُ وَالرُّوحُ إِلَيْهِ﴾

"فرشتے اور (اہل ایمان کی) ارواح اللہ کی طرف اوپر چڑھتی ہیں۔"

4۔ سورہ فرقان میں اللہ تعالیٰ نے اپنی صفت بیان کرتے ہوئے فرمایا:

﴿ثُمَّ اسْتَوَى عَلَى الْعَرْشِ﴾

" (زمین اور آسمان اور ان میں رہنے والی مخلوقات کی تخلیق کے بعد) اللہ تعالیٰ عرش پر بلند ہوا۔ وہ (اپنی مخلوق پر) نہایت مہربان ہے۔"

5۔ سورہ ملک میں اپنی قو کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا:

﴿ءَأَمِنتُم مَن فِى السَّماءِ أَن يَخسِفَ بِكُمُ الأَر‌ضَ ... ﴿١٦﴾... سورةالملك

"کیا تم اس ذات سے (اللہ تعالیٰ سے) بے خوف ہو گئے ہو جو آسمان پر ہے۔ اگر وہ چاہے تو تم کو زمین میں دھنسا دے۔"

6۔ اللہ آسمان سے تم پر پتھر برسانے کی قدرت بھی رکھتا ہے۔"

﴿أَم أَمِنتُم مَن فِى السَّماءِ أَن يُر‌سِلَ عَلَيكُم حاصِبًا...﴿١٧﴾... سورةالملك

"کیا تم اس ذات (اللہ تعالیٰ) سے بے خوف ہو گئے ہو جو آسمان پر ہے۔ اگر وہ چاہے تو تم پر پتھروں کی بارش بھیج دے۔"

7۔ ایک اور مقام پر اپنے استواء کا یوں ذکر فرمایا:

﴿الرَّ‌حمـٰنُ عَلَى العَر‌شِ استَوىٰ ﴿٥﴾... سورة طه

"اللہ بہت ہی میربان ہے، وہ عرش پر بلند ہے۔"

8۔ جب حضرت موسی علیہ السلام نے فرعون کو بتلایا کہ میرا رب آسمانوں پر ہے تو وہ کہنے لگا تم جھوٹے ہو۔ پھر اپنے وزیر ہامان کو بلا کر حکم دیا:

﴿يـٰهـٰمـٰنُ ابنِ لى صَر‌حًا لَعَلّى أَبلُغُ الأَسبـٰبَ ﴿٣٦﴾ أَسبـٰبَ السَّمـٰو‌ٰتِ فَأَطَّلِعَ إِلىٰ إِلـٰهِ موسىٰ وَإِنّى لَأَظُنُّهُ كـٰذِبًا...﴿٣٧﴾... سورة المؤمن

"اے ہامان میرے لیے ایک پختہ مکان تیار کرو تاکہ میں آسمانوں پر جانے کا راستہ پا سکوں اور وہاں پر حضرت موسی علیہ السلام کے رب کو دیکھ سکوں لیکن میرا خیال ہے کہ (حضرت) موسی (علیہ السلام) اس معاملہ میں جھوٹے ہیں۔" (معاذاللہ)

سنت کے دلائل

اس مسئلہ میں صحیح اور حسن احادیث کثرت سے وارد ہیں۔ ان کا احاطہ کرنا مشکل کام ہے بنا بریں چند احادیث بیان کرنے پر اکتفا کروں گا۔

1۔ معراج کاواقعہ۔ چنانچہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب معراج کے لیے تشریف لے گئے تو بیت المقدس سے اوپر آسمان کی طرف تشریف لے گئے۔ پھر ساتوں آسمانوں کو عبور کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ سے ہم کلامی کا شرف حاصل ہوا۔

2۔ ایک حدیث میں دم جھاڑ کا ذکر آیا ہے جو ابوداؤد نے بیان کی ہے۔ اس میں یہ دعا مذکور ہے:

ربنا الله الذى فى السماء تقدس اسمك امرك فى السماء ولارض

"ہمارا پروردگار اللہ ہے جو آسمان پر ہے۔ الہی تیرا نام مقدس ہے۔ تیرا حکم زمین و آسمان میں چلتا ہے۔"

3۔ ایک حدیث میں اعمال کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا:

والعرش فوق ذالك والله فوق عرشه وهو يعلم ماانتم عليه

"اس کے اوپر اللہ کا عرش ہے اور اللہ کا عرش اس کے اوپر ہے۔ تم جو کچھ کرتے ہو وہ اس سے پوری طرح باضبر ہے۔" (احمد، ابوداؤد)

4۔ ایک صحیح حدیث میں ایک لونڈی کا واقعہ مذکور ہے۔ اس میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے دریافت فرمایا "اللہ کہاں ہے؟" اس نے جواب دیا "وہ آسمان پر ہے۔" پھر اس سے پوچھا "میں کون ہوں؟" اس نے جواب دیا "آپ اللہ کے رسول ہیں" آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "یہ مومن عورت ہے اسے آزاد کر دو۔" (صحیح مسلم)

ان کے علاوہ اور کئی احادیث ایسی مذکور ہیں جن سے اس بات کا یقینی علم ہو جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ آسمانوں پر ہے اور اس کا عرش آسمانوں کے اوپر ہے جیسے اللہ نے اسے پیدا کیا۔ اہلِ عرب و عجم کا دورِ جاہلیت اور دورِ اسلام میں یہی عقیدہ رہا ہے۔ ہاں البتہ جسے شیطان نے بہکا دیا اور راہِ راست سے ہٹا دیا تو وہ کہتا ہے کہ اللہ ہر جگہ ہے اور ہر انسان میں ہے۔

سلف کی رائے: پھر سلف صالحین کے اقوال اس مسئلہ میں اس قدر آئے ہیں کہ اگر ان تمام کو جمع کیا جائے تو سینکڑوں بلکہ ہزاروں سے تجاوز کر جائیں۔ پھر کتاب اللہ میں نہ سنتِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں، نہ صحابہ رضی اللہ عنھم سے نہ تابعین رحمۃ اللہ علیھم سے اور نہ ائمہ کرام رحمۃ اللہ علیھم سے ایسا کوئی قول ثابت ہے جو اس صریح نص کے خلاف ہو۔ کسی امام یا عالم سے بھی یہ بات نہیں سنی گئی کہ وہ اللہ کے آسمان پر ہونے کا انکار کرتا ہو یا یہ کہتا ہو کہ اللہ تعالیٰ عرش پر نہیں ہے یا یہ کہتا ہو کہ اللہ ہر جگہ ہے اور (یہاں کیا لفظ ہے سمجھ نہیں آئی؟) اس کے لیے برابر ہیں۔ وہ نہ مخلوق سے علیحدہ ہے اور نہ اس میں شامل ہے۔

اللہ کی طرف انگلی سے اشارہ

یہ بھی کسی نے نہیں کہا کہ اللہ کی ات کی طرف انگلی سے اشارہ کرنا منع ہے۔ بلکہ اس کے برعکس صحیح حدیث سے ثابت ہے کہ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجہ الوداع کے موقع پر میدانِ عرفات میں ایک عظیم الشان خطبہ ارشاد فرمایا۔ اس موقع پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کا ایک جمِ غفیر جمع تھا۔ خطبہ ارشاد فرمانے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے دریافت کیا، "کیا میں نے تمہیں اللہ کا پیغام پہنچا دیا؟" سب نے یک زبان ہو کر کہا "ہاں"۔ پھر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلی آسمان کی طرف اٹھائی اور فرمایا "الہی! تو اس بات پر میرا گواہ رہنا۔" آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے متعدد مرتبہ اپنی انگلی آسمان کی طرف اٹھائی اور اللہ سے گواہ رہنے کی درخواست کی۔

اس کی مثل اور کئی واقعات کا ذکر احادیث میں آیا ہے۔ جیسا کہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے فتاویٰ میں جلد نمبر 5 صفحہ نمبر 14 پر ذکر کیا ہے۔

الغرض یہ فاسد اور گندہ عقیدہ جہمیہ کا ہے جو اللہ کو صفات سے معطل کرتے ہیں اور ان اہلِ بدعت کا ہے جو ان کے طریقے پر چلتے ہیں، یہ مصیبت کا باعث ہے اور اللہ کی شان میں تنقیص کا موجب ہے۔ ہم اللہ کی پناہ میں آتے ہیں اس بات سے کہ ہمارے دلوں میں ٹیڑھا پن پیدا ہو جائے یا کجی پیدا ہو جائے۔

حلولیوں کے دلائل کی تردید:

اس گمراہ مذہب کے بطلان اور تردید پر کتاب و سنت کے کافی دلائل موجود ہیں۔ ایک صحیح العقل اور فطرتِ سلیمہ کا مالک انسان اس مذہب کو تسلیم کرنے سے انکار کرتا ہے، چہ جائیکہ شرعی دلائل سے اس کی تردید کی جائے۔

رہی یہ بات کہ انہوں نے مذکورۃ الصدر آیات سے استدلال پکڑا ہے، یہ بالکل غلط اور باطل ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جب حضرت موسی علیہ السلام کا واقعہ اور دیگر واقعات پیش آئے تو اس وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم وہاں پر تشریف فرما نہیں تھے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ وہاں پر موجود تھا۔ یہ نظریہ کتاب و سنت کی روشنی میں غلط ہے۔ اس نظریہ کے حامل کو اس بات کا علم ہونا چاہئے کہ معیت کی دو قسمیں ہیں۔ معیتِ خاصہ اور معیتِ عامہ۔

معیتِ خاصہ:

معیتِ خاصہ کا ذکر مندرجہ ذیل آیات میں ہے:

1. ﴿إِنَّ اللَّهَ مَعَ الَّذينَ اتَّقَوا وَالَّذينَ هُم مُحسِنونَ ﴿١٢٨﴾... سورةالنحل

"اللہ کی مدد ان لوگوں کے ساتھ ہے جو پرہیزگار ہیں اور نیک کام کرتے ہیں۔"

 2. ﴿لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللَّهَ مَعَنَا﴾

(جب غار ثور میں کفار کو دیکھ کر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کچھ پریشانی کا اظہار کیا تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا) "آپ کو پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں کیونکہ اللہ کی مدد ہمارے شامل حال ہے۔"

3۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسی علیہ السلام سے فرمایا، جاؤ فرعون اور اس کے ساتھیوں کو توحید کی دعوت دو۔ فرعون سے ڈرنے اور گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں کیوں کہ:

﴿إِنَّنى مَعَكُما أَسمَعُ وَأَر‌ىٰ ﴿٤٦﴾... سورة طه

"میری مدد یقینا تمہارے ساتھ ہے۔ میں (سب باتوں کو) سنتا اور (ہر شے کو) دیکھتا ہوں۔"

تو مذکورہ آیات اور ان جیسی دیگر آیات میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مدد ساتھ ہے۔ کیوں کہ اللہ تعالیٰ انبیاء علیھم السلام، صلحاء اور دیگر نیک بندوں کی مدد کرتا ہے۔ وہ اللہ کی مدد، نصرت اور توفیق حاصل کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی نگرانی فرماتا ہے اور ان کو راہِ راست پر چلنے کی توفیق بخشتا ہے، جیسا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

وما يزال عبدي يتقرب إلي بالنوافل حتى أحبه، فإذا أحببته: كنت سمعه الذي يسمع به، وبصره الذي يبصر به، ويده التي يبطش بها، ورجله التي يمشي بها،

"میرا بندہ نوافل کے ذریعے میرا قرب حاصل کرتا ہے حتیٰ کہ میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں۔ جب میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں تو میں اس کا کان بن جاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے۔ اس کی آنکھ بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے۔ اس کا ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے اور اس کا پاؤں بن جاتا ہوں جس سے وہ چلتا ہے۔"

اب اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ اللہ تعالیٰ انسان کے اعضاء بن جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ایسی باتوں سے پاک اور مبرا ہے۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ انسان کے اعضاء کو راہ، ہدایت پر لگاتا ہے اور اسے اچھے کاموں کی توفیق بخشتا ہے۔

ایک اور روایت میں یوں آیا ہے:

فبى يسمع وبى يبصرونى يبطش وبى يمشى

"وہ میرے ساتھ سنتا ہے اور میرے ساتھ دیکھتا ہے اور میرے ساتھ پکڑتا ہے۔"

(یعنی اللہ کی مدد اس کے شامل حال ہوتی ہے)

تو اس حدیث میں كنت سمعه الخ حدیث کی وضاحت ہو گئی کہ اس سے مراد اس کو توفیق دینا اور سیدھے راہ پر چلانا ہے اور جو امور اس کے غیظ و غضب کا موجب بنتے ہیں، ان سے بچانا ہے۔

معیتِ عامہ: معیتِ عامہ سے مراد کسی شے کا مکمل علم ہونا اور اس کا احاطہ کرنا ہے۔ اس معیت کا ذکر قرآن پاک کی کئی آیات میں مذکور ہے۔ مثلا اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿مَا يَكُونُ مِنْ نَجْوَى ثَلَاثَةٍ إِلَّا هُوَ رَابِعُهُمْ وَلَا خَمْسَةٍ إِلَّا هُوَ سَادِسُهُمْ وَلَا أَدْنَى مِنْ ذَلِكَ وَلَا أَكْثَرَ إِلَّا هُوَ مَعَهُمْ أَيْنَ مَا كَانُوا...٧﴾... سورةالمجادلة

"جب کوئی تین آدمی آپس میں سرگوشی اور کفیہ بات چیت کرتے ہیں تو چوتھا ان کے پاس اللہ ہوتا ہے۔ جب پانچ آدمی سرگوشی کرتے ہیں تو چھٹا ان کے پاس اللہ ہوتا ہے۔ اس تعداد سے کم یا زیادہ ہوں تب بھی اللہ ان کے ہمراہ ہوتا ہے۔ خواہ وہ کہیں ہوں "(یعنی اسے ہر بات کا علم ہوتا ہے)"

ایک اور آیت میں ارشاد فرمایا:

2. ﴿وَهُوَ مَعَكُمْ﴾

"تم جہاں کہیں بھی ہو وہ تمہارے ساتھ ہے۔"یعنی اسے تمہاری ہر بات کا علم ہے۔"

سورہ اعراف میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

3. ﴿فَلَنَقُصَّنَّ عَلَيْهِمْ بِعِلْمٍ وَمَا كُنَّا غَائِبِينَ﴿٧﴾... سورةالاعراف

"ہم اپنے علم کے ذریعے ان پر تمام واقعات کو یقینا بیان کر دیں گے اور ہم (کسی واقعہ سے) بے خبر نہیں۔"

سورہ یونس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا:

4. ﴿وَمَا تَكُونُ فِي شَأْنٍ وَمَا تَتْلُو مِنْهُ مِنْ قُرْآنٍ وَلَا تَعْمَلُونَ مِنْ عَمَلٍ إِلَّا كُنَّا عَلَيْكُمْ شُهُودًا إِذْ تُفِيضُونَ فِيهِ...٦١﴾... سورة يونس

"آپ کوئی کام کریں یا قرآن پاک کی تلاوت کریں اور تم سب جو کام کرتے ہو ہمیں اس کا علم اسی وقت ہو جاتا ہے جب تم اسے شروع کرتے ہو۔"

اللہ کا علم ہر شے پر حاوی ہے:

الغرض اللہ تعالیٰ عرش پر قائم ہے اس کیفیت کے مطابق جو اس کی ذات کے لائق ہے اور جو اس کے جاہ و جلال کے لیے موزوں ہے۔ وہ اپنے علم کے ذریعے اپنی تمام مخلوق کو گھیرے ہوئے ہے اور ان پر گواہ ہے۔ خواہ وہ کسی جنگل میں ہوں یا سمندر کی تہہ میں ہوں۔ رات کا سناٹا ہو یا دن کی روشنی ہو۔ کوئی گھر میں مخفی طور پر کوئی کام کرے یا سنسان جبگل میں ہو، وہ ان تمام امور اور افعال کو جانتا ہے اس کا علم سب حاوی ہے۔ اس کی نگاہ میں سب برابر ہیں۔ وہ سب کی باتیں برابر سنتا اور جانتا ہے۔ ان کی پوشیدہ سرگوشیوں اور خفیہ کاروائیوں سے بھی آگاہ ہے۔

جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:

﴿أَلَا إِنَّهُمْ يَثْنُونَ صُدُورَهُمْ لِيَسْتَخْفُوا مِنْهُ أَلَا حِينَ يَسْتَغْشُونَ ثِيَابَهُمْ يَعْلَمُ مَا يُسِرُّونَ وَمَا يُعْلِنُونَ إِنَّهُ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ﴿٥﴾... سورةهود

"(کافر لوگ جب اسلام کے خلاف باتیں کرتے ہیں تو) وہ اپنے سینوں کو جھکا لیتے ہیں تاکہ وہ اپنی باتیں اللہ سے پوشیدہ رکھیں۔ سنو جب وہ اپنے اردگرد کپڑے کر لیتے ہیں (تاکہ ان کی باتوں کو سننے نہ پائے) تو اللہ تعالیٰ اس وقت ان کی پوشیدہ اور ظاہر باتوں سے خوف واقف ہوتا ہے (ان کی یہ باتیں اللہ پر مخفی کیسے رہ سکتی ہیں؟) وہ تو دل کی باتوں کو بھی جانتا ہے۔"

سورہ رعد میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:

﴿سَوَاءٌ مِنْكُمْ مَنْ أَسَرَّ الْقَوْلَ وَمَنْ جَهَرَ بِهِ وَمَنْ هُوَ مُسْتَخْفٍ بِاللَّيْلِ وَسَارِبٌ بِالنَّهَارِ﴿١٠﴾... سورة الرعد

"تم میں سے کوئی شخص خواہ پوشیدہ بات چیت کرے یا علانیہ کرے، اللہ کے ہاں سب برابر ہیں۔ یعنی وہ سب باتوں کو سنتا اور جانتا ہے۔ رات کی تاریکی میں پوشیدہ ہو کر چلنے والے اور دن کے وقت چلنے والے (کی تمام حرکات) سے بخوبی واقف ہے۔"

سورہ طلاق میں ارشاد فرمایا:

﴿لِتَعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ وَأَنَّ اللَّهَ قَدْ أَحَاطَ بِكُلِّ شَيْءٍ عِلْمًا ﴿١٢﴾... سورةالطلاق

(اللہ نے زمین و آسمان اور اس میں تمام کائنات کو پیدا کیا ہے)" تاکہ تمہیں معلوم ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ ہر کام پر قدرت رکھتا ہے اور اللہ کے علم نے ہر شے کو گھیر رکھا ہے۔"

اللہ کے سوا کوئی معبود اور رب نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے معیتِ عامہ کی آیات کو علمِ کے ساتھ بیان کیا ہے اور علم پر ہی ختم کیا ہے تاکہ اس کے بندوں کو یہ بات معلوم ہو جائے کہ اس سے مراد تمام احوال اور تمام امور میں اس کا علم ہے، اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ اللہ ان کے ساتھ مختلط ہے اور ان کے وجود کے اندر ہے، اور ان کے گھروں میں ہے۔ یہ بات اللہ کی ذات کے ہرگز لائق نہیں کہ اسے ہر اچھی اور گندی جگہ پر تسلیم کیا جائے۔ یہ عقیدہ حلولیہ اور وجودیہ کا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ معیت سے مراد اللہ کا مخلوق کے ساتھ ہونا اور ان کے وجود میں شامل ہونا ہے۔ ان کا یہ عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ بذاتہِ ہر جگہ موجود ہے وہ اللہ کے استواء علی العرش کے قائل نہیں۔ وہ ہر گندی اور نجس جگہ پر بھی اللہ کو تسلیم کرتے ہیں۔ اللہ ان کا برا حال کرے اور ان کو ذلیل و خوار کرے۔ ائمہ سلف جیسے احمد بن حنبل، عبداللہ بن مبارک، اسحاق بن راہویہ، ابوحنیفہ بن نعمان رحمہم اللہ وغیرہ نے ان کے اس فاسد عقیدہ کی پوری طرح تردید کی ہے۔ ان کے بعد شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ علامہ ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ اور حافظ ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ وغیرہ نے بھی پرزور ان کی تردید کی ہے۔

"﴿وَهُوَ مَعَكُمْ﴾" کی وضاحت:

جب یہ بات واضح ہو گئی کہ "﴿وَهُوَ مَعَكُمْ﴾" اور دیگر ایسی آیات سے مراد یہ نہیں کہ اللہ ان میں شامل ہے اور ان کے وجود میں ہے۔ یہ معنی نہ حقیقتا مراد ہو سکتے ہیں نہ ظاہری الفاظ اس پر دلالت کرتے ہیں اور نہ لفظ "مع" اس معنی پر دلالت کرتا ہے۔ اس سے زیادہ سے زیادہ کسی امر میں اس کی موافقت اور مصاحبت ثابت ہوتی ہے اور یہ ہر موقعہ پر حسب حال ہو گی۔

ابوعمر طلمنکی

ابوعمر طلمنکی بیان کرتے ہیں کہ:

"اہل سنت علماء کا اس بات پر اجماع ہے کہ ﴿وَهُوَ مَعَكُمْ"اينماكنتم﴾" اور اس جیسی دیگر آیات جو قرآن پاک میں مذکور ہین ان سے مراد اللہ کا علم ہے۔ اللہ تعالیٰ آسمانوں سے اوپر عرش پر بذاتہِ قائم ہے۔ جیسا کہ اللہ کی کتاب میں مذکور ہے۔ علمائے امت اور ائمہ سلف صالحین میں سے کسی نے بھی اس مسئلہ میں اختلاف نہیں کیا۔ سبھی اس بات کے قائل ہیں کہ اللہ تعالیٰ آسمانوں سے اوپر عرش پر بذاتِ خود قائم ہے۔

ابونصر سنجری کا بیان

ابو نصر سنجری کہتے ہیں:

"ہمارے ائمہ جیسے سفیان ثوری، امام مالک، حماد بن سلمہ، حماد بن زید، سفیان بن عیینہ، فضیل بن مبارک، احمد اور اسحاق رحمہم اللہ، سب اس مسئلہ میں متفق ہیں کہ اللہ تعالیٰ بذاتہِ عرش پر قائم ہے۔"

ابن عبدالبر کا عقیدہ

ابوعمر بن عبدالبر اس مسئلہ میں اپنے عقیدے کا اظہار یوں کرتے ہیں کہ:

"صحابہ کرام رضی اللہ عنھم اور تابعین رحمۃ اللہ علیھم جنہوں نے ان سے علم حاصل کیا اور مفہوم سمجھا سب کا اس بات پر اتفاق ہے کہ﴿ مَا يَكُونُ مِنْ نَجْوَى ثَلَاثَةٍ إِلَّا هُوَ رَابِعُهُمْ ﴾سے مراد یہ ہے کہ اللہ عرش پر قائم ہے اور اس کا علم ہر جگہ ہے۔ اس مسئلہ میں ان کی کسی عالم نے مخالفت نہیں کی۔"

ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ کی تفسیر: حافظ ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ آیت "وَهُوَ مَعَكُمْ " الخ کی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ:

"یعنی وہ تم پر نگہبان ہے۔ وہ تمہارے افعال پر شاہد ہے۔ تم کوئی کام یا کوئی بات کسی جنگل میں جا کر کرو یا سمندر کی تہہ میں کرو یا رات کی تاریکی میں اپنے گھروں میں بیٹھ کر کرو یا باہر سنسان جنگل میں جا کر کرو، اسے سب باتوں کا پوری طرح علم ہے۔ وہ تمہاری باتوں کو سنتا ہے اور جس جگہ پر تم کوئی اچھا یا برا کام کرتے ہو یا کوئی پردے کی بات کرتے ہو وہ سب کچھ دیکھتا اور سنتا ہے۔"

جیسا کہ اللہ نے اپنی مقدس کتاب میں ارشاد فرمایا:

﴿أَلَا إِنَّهُمْ يَثْنُونَ صُدُورَهُمْ لِيَسْتَخْفُوا مِنْهُ أَلَا حِينَ يَسْتَغْشُونَ ثِيَابَهُمْ يَعْلَمُ مَا يُسِرُّونَ وَمَا يُعْلِنُونَ إِنَّهُ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ﴿٥﴾... سورةهود

(کافر لوگ جب اسلام کے خلاف باتیں کرتے ہیں تو) وہ اپنے سینوں کو جھکا لیتے ہیں تاکہ اپنی باتوں کو اللہ سے پوشیدہ رکھیں۔ سنو! جب وہ اپنے اردگرد کپڑا کر لیتے ہیں (تاکہ ان کی بات کوئی سن نہ سکے تو) وہ اس وقت ان کی باتوں کو جو پوشیدہ کرتے ہیں اور جو ظاہر کرتے ہیں، سبھی جانتا ہے (ان کی باتیں اس پر مخفی کیسے رہ سکتی ہین) اسے تو ان باتوں کا بھی علم ہے (جو ابھی تک زبان پر نہیں لائے اور) جو ابھی تک ان کے دل ہی میں ہیں"

ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:

﴿سَوَاءٌ مِنْكُمْ مَنْ أَسَرَّ الْقَوْلَ وَمَنْ جَهَرَ بِهِ وَمَنْ هُوَ مُسْتَخْفٍ بِاللَّيْلِ وَسَارِبٌ بِالنَّهَارِ﴿١٠﴾... سورة الرعد

"تم میں سے کوئی پوشیدہ گفتگو کرے یا ظاہر کرے اللہ کے نزدیک سب برابر ہیں۔ کیونکہ وہ تمہاری ہر بات سے آگاہ ہے۔ وہ رات کی تاریکی میں چلنے والے کے افعال و اقوال سے اسی طرح آگاہ ہے جیسے روزِ روشن میں کام کرنے والے کے کام سے باخبر ہے۔

مَا يَكُونُ مِنْ نَجْوَى کی تفسیر: حافظ ابنِ کثیر رحمۃ اللہ علیہ سورہ مجادلہ کی آیت مَا يَكُونُ مِنْ نَجْوَى ثَلَاثَةٍ کی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ:

اى من سر ثلاثةیعنی تین آدمیوں کی پوشیدہ اور مخفی بات چیت"

پھر آگے﴿ رَابِعُهُمْ وَلَا خَمْسَةٍ إِلَّا هُوَ سَادِسُهُمْ وَلَا أَدْنَى مِنْ ذَلِكَ وَلَا أَكْثَرَ إِلَّا هُوَ مَعَهُمْ أَيْنَ مَا كَانُوا﴾کی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ:

"وہ ان پر اطلاع پانے والا ہے۔ ان کی بات چیت سنتا ہے۔ ان کی پوشیدہ سرگوشی اور مخفی باتوں کو بھی سنتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اس کے فرشتے (جو ان کے اعمال لکھنے پر اللہ نے مقرر کیے ہیں) بھی لکھتے ہیں۔ حالانکہ اللہ کو ان کی تمام باتوں کا علم ہوتا ہے اور ان کی تمام باتوں کو سنتا ہے۔"

جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

﴿أَلَمْ يَعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ سِرَّهُمْ وَنَجْوَاهُمْ وَأَنَّ اللَّهَ عَلَّامُ الْغُيُوبِ﴿٧٨﴾... سورة التوبة

"کیا ان کو اس بات کا علم نہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کے مخفی بھیدوں سے آگاہ ہے (اس سے کسی کا بھید یا پوشیدہ بات کیسے مخفی رہ سکتی ہے؟) وہ تو غیب کی باتوں کو خوب اچھی طرح جانتا ہے۔"

ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا:

﴿أَمْ يَحْسَبُونَ أَنَّا لَا نَسْمَعُ سِرَّهُمْ وَنَجْوَاهُمْ بَلَى وَرُسُلُنَا لَدَيْهِمْ يَكْتُبُونَ﴿٨٠﴾... سورةالزخرف

"کیا یہ وہ سمجھتے ہیں کہ ہم ان کی پوشیدہ باتوں اور سرگوشیوں کو نہیں سنتے؟ ایسی بات ہرگز نہیں (اگر بالفرض ہم ان کی باتوں کو نہیں سنتے تو) ہمارے فرستادہ فرشتے تو ان کے پاس ہمیشہ رہتے ہیں جو ہر بات کو نوٹ کرتے ہیں۔"

علماء کا متفقہ فیصلہ

بنا بریں تمام علماء اس بات پر متفق ہیں کہ اس آیت میں معیت سے مراد اللہ تعالیٰ کا علم ہے اور اس میں کوئی شک و شبہ نہیں۔ اس کے علم کے ساتھ اس کا کان بھی ان کی تمام باتوں کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ اس کی آنکھ سے بھی کوئی شے اوجھل نہیں۔ اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق سے پوری طرح باخبر ہے۔ اور ان کا کوئی فعل یا کوئی بات اس سے پوشیدہ نہیں۔ اس مسئلہ میں علمائے سلف کے اس قدر اقوال ہیں کہ ان کا احاطہ کرنا مشکل کام ہے۔

خلاصہ کلام:

الغرض یہ نظریہ کہ اللہ تعالیٰ بذاتِ خود ہر جگہ ہے اور "(وهو معكم)" سے مراد اللہ تعالیٰ بذاتہِ ان کے پاس ہے اور انگلی سے اس کی طرف اشارہ کرنا منع ہے، یہ نظریہ غلط ہے۔ جیسا کہ کافی صریح اور واضح دلائل سے اس کی تردید ہو چکی ہے۔ جن کا ذکر پہلے ہو چکا ہے۔ اسی طرح ائمہ اور اہلِ علم کے اقوال کا ذکر بھی اوپر ہو چکا ہے۔ ان سب کا اس مسئلہ میں اجماع ہو چکا ہے۔

اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ جو لوگ اس نظریہ کے قائل ہیں کہ اللہ تعالیٰ انسان میں حلول کر جاتا ہے اور جو ان کے ہمنوا ہیں، سب راہِ راست سے بھٹکے ہوئے ہیں اور حق و صداقت کے راستہ سے دور جا چکے ہیں۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے متعلق ایک غلط بات کو منسوب کیا ہے اور معیت کے سلسلہ میں جو آیات آئی ہیں، ان کا انہوں نے غلط مطلب اخذ کیا ہے۔ ہم اللہ کی پناہ میں آتے ہیں اس بات سے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے متعلق بغیر علم کے کوئی بات کہیں۔ ہم اللہ کی بارگاہ میں دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمیں حق و صداقت کے راستہ پر قائم رکھے اور راہ راست پر چلنے کی توفیق بخشے۔ آمین