محوِ حیرت، پریشان و مضطرب، اپنے گرد و پیش کے واقعات پر نگاہیں دوڑاتے ہوئے فکر و نظر کے تانے بانے سلجھانا چاہتا ہوں، لیکن کوئی سرا ہاتھ نہیں آتا۔۔۔ عالمِ اسلام پر ایسا وقت تو کبھی نہ آیا تھا۔۔۔کہیں بے گور و کفن لاشیں ہیں تو کہیں مظلوموں کی چیخیں۔۔۔ اپنوں سے بے اعتنائی اور اغیار کی طرف اٹھے ہوئے ہاتھ، پھیلائی ہوئی جھولیاں۔۔۔ دوستوں سے سرد مہری اور دشمنوں سے دوستی کی پینگیں۔۔۔ ایک مسلمان جس سے زِک اٹھاتا ہے، دوسرا مسلمان اسی کی گود میں گِرا چاہتا ہے۔۔۔ مسلم اور ایک دوسرے کے خون کا پیاسا، مومن اور اپنے ہی بھائی کا گلا کاٹنے اور اس کی راہ مارنے کو دوڑے۔۔۔ یقین نہیں آتا، یہ وہی قوم ہے جس کے افراد دوسرے کے پاؤں میں کانٹے کی چبھن کو اپنے دل کی ٹیس محسوس کیا کرتے تھے۔۔۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو فرمایا تھا، مومن ایک سوراخ سے دو بار نہیں ڈسا جاتا، لیکن پاکستان اپنے اُس دشمن سے عدمِ جارحیت کے معاہدے کرنے پر تلا ہوا ہے جو اس پر دو بار حملہ آور ہو چکا، اس کا مشرقی بازو کاٹ چکا ہے اور آج بھی اس کی درجنوں ڈویژن فوجیں اس کی سرحدوں پر موجود آگ اور خون کی اس دیوی کے اشارے کی منتظر ہیں جس کے پاس اپنے ملک کی سیاسی بے چینیوں کا واحد حل ہی یہ ہے کہ عوام کی توجہ دوسری طرف ہٹانے کے لیے پاکستان پر حملہ کر دے۔۔۔ آج سے اٹھارہ برس قبل جب پاکستان کی فوجوں نے، رات کے اندھیرے میں چوروں کی طرح چھپ کر حملہ کرنے والے بھارتی مہاشوں کو انہی کی سرحدوں کے اندر دور تک دھکیل دیا اور انہیں اپنے زخم چاٹنے پر مجبور کر دیا تھا، میں سوچا کرتا تھا کہ مستقبل قریب میں پاکستان اسلام کا ایک ناقابلِ تسخیر قلعہ ثابت ہو گا۔۔۔ لیکن اس کے پانچ ہی سال بعد جب اس قلعہ کی نصف عمارتیں وَهِيَ خَاوِيَةٌ عَلَى عُرُوشِهَاکا منظر پیش کر رہی تھیں، اہلِ وطن کی آنکھوں میں آنسو تھے اور ان کے کان، اپنے نصفِ پاکستانی ریڈیو پر، شراب کے نشے میں دُھت، ٹوٹ ٹوٹ کر ابھرنے والی ایک بکھری بکھری سی آواز سن رہے تھے:

"مشرقی پاکستان والو، خاطر جمع رکھو، ہم آ رہے ہیں"

۔۔۔ پھر اس کے بعد یہ آواز سنائی نہ دی ۔۔۔ایک شرابی کی مدہوشی سے قبل یہ آخری سسکاری تھی، اس کے بعد پورا آدھا ملک اس شرابی کی شراب میں بہہ نکلا تھا۔۔۔اس سیلاب میں بری طرح غوطے کھانے والوں کی آوازیں عرش کو تو ہلا گئیں، لیکن اپنے بھائیوں کو تڑپا نہ سکیں ۔۔۔اور اگر کوئی مچلا بھی، کوئی دل دکھا بھی، کوئی سینہ شق اور جگر چاک ہوا بھی تو اس کے لیے مرہم یہ تجویز کیا گیا کہ "بھول جاؤ اس بات کو کہ مشرقی پاکستان والے کبھی تمہارے بھائی تھے اور ان کے ملک کو تمہارے ملک سے کوئی نسبت تھی" ۔۔۔حالانکہ یہ انہی کا پاکستان تھا، جس کی خاطر انہوں نے سینکڑوں جسمانی اور روحانی اذیتیں برداشت کی تھیں ۔۔۔آہ! کہاں تاریخِ اسلام کا یہ روشن باب کہ مسلمان مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ گئے تو چند ہی سال بعد انہوں نے مکہ فتح کر لیا۔۔۔اور کہاں تاریخِ پاکستان کا یہ سیاہ ورق کہ ہندوستان سے پاکستان آنے والے، اپنی توانائیاں بحال کرنے کے بعد ہندوستان توکیا فتح کرتے۔ الٹا پاکستان ہی فتح ہو گیا۔۔۔ اور طرفہ تماشا یہ کہ وقت کا حاکم اپنے عوام کو سنگینوں کی نوک پر رکھ کر یہ مشورہ دے رہا تھا کہ "تسلیم کرو مشرقی پاکستان کبھی مشرقی پاکستان نہ تھا، بنگلہ دیش تھا" ۔۔۔ چنانچہ ملک کے طول و عرض میں "بنگلہ دیش نا منظور" کا نعرہ لگانے والوں کو آنسو گیس کے گولے اور لاٹھی چارج کی سرسراہٹیں یہی پیغام دے رہی تھیں۔

یہ وہ وقت تھا جب پاکستان میں "پاکستان زندہ باد" اور "قائداعظم زندہ باد" کے نعرے بھی لگ رہے تھے، اور عوام کو یہ باور بھی کرایا جا رہا تھا کہ وہ لوگ بے وقوف تھے جنہوں نے پورے پاکستان کا نہ صرف مطالبہ کیا، بلکہ اس کے حصول کے لیے سرتوڑ اور کامیاب کوششیں بھی کی تھیں۔۔۔اسی پر بس نہیں، "لا الہ الا اللہ" کی بنیادوں پر قائم ہونے والے اس ملک میں اسلام کو سوشلزم کے بغیر بیکار قرار دیتے ہوئے "اسلامی سوشلزم" کے نعرے بھی لگے۔۔۔اور سب سمجھتے ہیں کہ اس کے بعد کے چند سالوں میں "فساد فی الارض" کے جو افسوس ناک واقعات رونما ہوئے، پاکستان میں اسی نعرہ کی عملی تعبیر اور اس کا لازمی نتیجہ تھے۔

۔۔۔ لیکن پھر اچانک ہی، نہ جانے کس نے اس خاکستر میں سے کوئی چنگاری کرید نکالی جس نے رفتہ رفتہ ایک آتشیں الاؤ کی شکل اختیار کر کے ایک طرف اگر سوشلزم اور اس کے علمبرداروں کو بھسم کر دیا، تو دوسری طرف اسلام کی شمع کو فروزاں کرنے کے سامان بھی مہیا کر ڈالے ۔۔۔اب ملک کے طول و عرض میں یہ آواز واضح طور پر سنائی دے رہی تھی:

"اسلام کا نعرہ ہر دور میں لگایا جاتا رہا ہے، لیکن اب وہ وقت آ گیا ہے کہ اس ملک میں کتاب و سنت کی حکمرانی ہو گی"

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

افسوس، اس آواز کو بلند ہوئے چھ سال گزر گئے، بازگشت اب بھی سنائی دیتی ہے، لیکن آج تک کتاب و سنت کی حکمرانی کہیں دکھائی نہیں دیتی۔۔۔ ہاں یوں معلوم ہوتا ہے کہ پورا اسلام قبروں، عرسوں، میلوں، مزارات پر پھولوں کی چادروں، ڈھول ڈھکموں، بھنگڑوں، قوالیوں، چوری، ڈاکے، قتل و خوں ریزی، بے پردگی، بے حیائی، عریانی، فحاشی، بہانے بہانے سے ننگی تصویروں اور رشوت و بددیانتی کی گرم بازاری، البتہ زکوۃ و عشر کے گرد گھوم کر رہ گیا ہے۔۔۔پاکستان میں بے تحاشا قبریں بھی پوجی جا رہی ہیں اور اسلام بھی نافذ ہو رہا ہے۔۔۔یہاں اسلامی اقدار اس قدر "راسخ" ہو چکی ہیں کہ اسلامی ہجری سال تو اہلِ پاکستان کے لیے ماتم کے پیغامات لاتا ہے، لیکن انگریزی سال خوشیوں اور مبارک باد کے پیغامات وصول کرتا ہے۔۔۔ پھر بھی پاکستان میں عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم شایان شان طریقہ سے منائی جاتی ہے۔

۔۔۔اور اب کے تو سنا ہے، لاہور اور کراچی کے کلبوں میں نئے سال کی خوشی میں کپل ڈانس ہوئے، جس کی ایک ایک ٹکٹ کی قیمت بارہ سو روپے تھی، لیکن پچیس سو روپے میں بلیک ہوئی۔۔۔تاہم کچھ بیچارے رقص کے رسیا ٹکٹیں حاصل کرنے میں ناکام رہے اور محروم رہ گئے۔۔۔آہ! ان کی بےچارگی پر اقبال کی روح تڑپ اٹھی ہو گی جس نے کہا تھا

آتجھ کو بتاؤں میں تقدیرِ امم کیا ہے

شمشیر و سناں اول، طاؤس و رباب آخر

قرآن فرماتا ہے ﴿وَالعَصرِ‌ ﴿١﴾ إِنَّ الإِنسـٰنَ لَفى خُسرٍ‌ ﴿٢﴾... سورةالعصر"اور پاکستان کے اخبارات کہتے ہیں "یہ دیکھو 83ء کے آخری سورج ڈوبنے کا منظر، اب تمہیں نیا سال مبارک ہو"۔۔۔ ستم بالائے ستم، جو چادر و چار دیواری کے تحفظ کا ارادہ لے کر نکلے تھے، وہ اب شناختی کارڈ پر عورتوں کی تصاویر لازمی قرار دے رہے ہیں، تاکہ جو عفت مآب گھروں میں با پردہ بیٹھی ہیں، ہوسناک نگاہوں کو ان کا بھی چہرہ کیوں نظر نہیں آتا؟ ۔۔۔جی ہاں کتاب اللہ نے ان کو یہی بتایا ہے کہ عورتوں کے چہرے غیر مرد بھی دیکھ سکیں۔۔۔۔اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یہی تعلیم دی ہے کہ تصاویر اور وہ بھی بے پردہ عورتوں کی، نہ صرف جائز ہے، بلکہ نفاذِ اسلام کے لیے جمہوریت اور جمہوریت کے لیے خشتِ اول کی حیثیت رکھتی ہیں، تاکہ انتخابات میں دھاندلی نہ ہو۔۔۔دلیل یہ دی جا رہی ہے کہ "پھر حج کے لیے پاسپورٹوں پر تصاویر کیوں جائز ہیں؟ ۔۔۔ حالانکہ اگر پاکستان میں اب تک سب کام جائز ہی ہو رہے ہیں تو پھر نئے سرے سے اسلام نافذ کرنے کی ضرورت کیوں پیش آ رہی ہے؟ ۔۔۔ سنئے، اگر ختمِ نبوت پر ہمارا ایمان ہے، اسلام دینِ کامل اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تاقیامت ہماری راہنما ہے تو حج کے لیے فوٹو اور تصاویر کا استثنائی جواز سنت کے ذخیرہ میں کہیں نظر نہیں آتا، ہاں یہ فرمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ضرور پڑھنے کو ملتا ہے:

اثم عذبا يوم القيامة المصورون!

کہ "روزِ قیامت سب سے سخت عذاب، تصویریں بنانے والوں کو ہو گا"

الغرض، توقع یہ کی جا رہی تھی کہ پاکستان میں کتاب و سنت کی حکمرانی ہو گی تو بازاروں میں بے پردہ اور بے مقصد گھومنے والیوں کو ﴿وَقَرْنَ فِي بُيُوتِكُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ﴾ کا قرآنی حکم سنا دیا جائے گا، مگر اس اسلام کا تو باوا آدم ہی نرالا نکلا کہ جو گھروں میں بیٹھی ہیں، وہ بھی باہر آ جائیں۔۔۔ اسلامی قانونِ شہادت کے خلاف بعض مغرب زدہ عورتوں کا مظاہرہ ہی کیا کم تھا کہ اب "اہلِ اسلام" کے گھروں سے "ایک ہی عورت کی گواہی کافی ہونے" کے فتوے منظرِ عام پر آنے لگے ہیں۔۔۔ اور اہلِ اسلام خود اگر ایک طرف ریڈیو، ٹیلی ویژن پر نفاذ، اسلام کے پختہ وعدے کرتے اور یقین دلاتے سنائی دیتے ہیں تو دوسری طرف اخبارات میں چینی ثقافتی طائفہ کے ڈانس دیکھنے میں منہمک نظر آتے ہین ۔۔رہے امراء و وزراء تو وہ یا تو اسی ثقافتی طائفہ پر مشتمل لڑکیوں کے جھرمٹ میں گھرے ہوئے یا کسی فلم کی رسمِ افتتاح کے موقع پر "فنکاروں" کے درمیان مسکراتے دکھائی دیتے ہیں۔۔۔روزنامہ "جنگ" کے مطابق ایک ایسا ہی ثقافتی طائفہ پاکستان بھی برآمد کر رہا ہے، جو چین میں جا کر اسلامی غیرتوں کو للکارے گا اور اس کے علمبرداروں کی شرافتوں کا خون کرے گا

محوِ حیرت ہوں کہ دنیا کیا سے کیا ہو جائے گی

۔۔۔۔ ان حالات میں کیا یہ خدشہ بے جا ہو گا کہ آدھا پاکستان تو شراب میں بہہ گیا تھا اور بقیہ آدھا حصہ طاؤس و رباب اور رقص و موسیقی کی شوریدہ سر لہروں کی لپیٹ میں آنے کے لیے بےتاب ہو رہا ہے؟۔۔۔العیاذباللہ۔۔۔ اللهم انا نعوذبك من شرور انفسنا ومن سيئات اعمالنا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حکومت کے ایوانوں سے ہٹ کر اگر ملت کے ہونہار سیاست دانوں کی طرف دیکھا جائے، تو ان کے پاس ان سوالات کا کوئی جواب نہیں ہے کہ انہوں نے آج تک اسلام کی کیا خدمت کی ہے؟ ۔۔۔ جمہوریت کے نعرے تو انہوں نے بے حد و حساب لگائے لیکن نفاذِ شریعت کے لیے انہوں نے آج تک کس قدر تجاویز پیش فرمائی ہیں؟ ۔۔۔ اذانیں تو بہت دیں، نمازیں کتنی پڑھی ہیں؟ ۔۔۔عوام سے ووٹ تو کئی مرتبہ لے چکے، ان سے کیے گئے وعدے کتنی مرتبہ پورے کیے ہیں؟ ۔۔۔اتحاد بن بن کر ٹوٹے اور ٹوٹ ٹوٹ کر بنے، یہ سارے جھمیلے آخر کس لیے ہیں؟ ۔۔۔کرسی تو اس کو ملے گی جسے مالک الملک عطا فرمائیں گے، لیکن اپنی عاقبت کے سامان انہوں نے کس قدر فراہم کیے ہیں؟ ۔۔۔ کیا انہوں نے کبھی یہ سوچا کہ مستقبل کا مؤرخ ان کی اس سیاسی دھماچوکڑی کو کن الفاظ سے ذکر کرے گا؟ ۔۔۔ کیا اہالیانِ پاکستان کو ان سے یہ پوچھنے کا حق نہیں کہ جس ملک کے ایوانہہائے اقتدار تک پہنچنے کے لیے تم اس قدر بے قرار ہو، اس کی سلامتی اور تحفظ کے لیے تم نے آج تک کیا کیا ہے؟ ۔۔۔اس آخری سوال کا جواب دینے سے پہلے انہیں کئی مرتبہ یہ سوچ لینا چاہئے کہ ان کی سیاسی زندگی کی تاریخ میں کتنی بیواؤں کے سہاگ، کتنی دوشیزاؤں کی عصمتیں، کتنی جوان بہنوں کے دوپٹے، کتنے معصوم بچوں کی سسکیاں، کتنی ماؤں کے کلیجے اور کتنے شہیدوں کی بے گور و کفن لاشیں بکھری پڑی ہیں؟ ۔۔۔ کسی کی جان گئی، آپ کی ادا ٹھہری، خدارا، اب تو یہ خونیں ڈرامے بند کر دو۔۔۔ تمہیں سیاست بھگارنے کے علاوہ اور کوئی کام نہیں تو عوام الناس کا اس میں کیا قصور؟ ۔۔۔کیا اس فارغ ہی فارغ وقت میں تم ان عوام الناس کی بھلائی کے لیے، ان کی اخروی فلاح کے لیے کچھ نہیں سوچ سکتے جن کو نہ جانے کتنی مرتبہ تم نے سبز باغ دکھلائے ہیں؟

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

الغرض، میرے سامنے وہ علماء بھی ہیں جو لوگوں کا مال ہڑپ کر جانے کو نت نئی بدعت ایجاد کرتے ہیں۔۔۔ جنہوں نے مسلمان تو شاید کسی ایک کو بھی نہیں لیکن اپنی کافر گر مشینوں سے نہ جانے کتنوں کو کافر اور منافق بنا ڈالا ہو گا۔۔۔ چنانچہ وہ ان لوگوں کی تعداد خود بھی نہیں جانتے ہوں گے جن کو انہوں نے اسی دنیا میں رہتے ہوئے جہنم میں پہنچا دیا ہے۔۔۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام کا کھانے والے یہ وہ لوگ ہیں، جن کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک ایک سنت سے بَیر اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی عمل بھی ان کی نظروں میں محبوب نہیں ہے، تاہم جہاں تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر صدقے، واری اور قربان جانے کا تعقل ہے، کوئی بھی ان کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔

ان لوگوں کو یہ شعور ہی نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے علماء کو انبیاء علیھم السلام کا وارث بتلایا ہے۔۔۔اور چونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد تا قیامت کوئی نبی یا رسول نہیں آئے گا، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کو لوگوں تک پہنچانے کی گرانبار ذمہ داری انہی لوگوں کے سر ہے، لیکن اب اس کا کیا کیا جائے کہ ہر برائی کی راہ ہموار کرنے کے لیے لوگ انہی "علماء" کی حرکتوں سے سندِ جواز لاتے ہیں، جس کی بناء پر مخلص علماء دین بھی بدنام ہو کر رہ گئے ہیں۔۔۔نہ صرف ہر پھبتی، مذاق اور طعن و تشنیع کا ہدف ہیں بلکہ معاشرہ میں نِکو بن کر منہ چھپاتے پھرتے ہیں۔۔۔ ان حالات میں ان کی آواز پر لبیک کہنے کو کون تیار ہو گا؟ ۔۔۔قوموں کی زندگی میں یہ وقت انتہائی نازک ہوتا ہے، ایک تو اس لیے کہ جب راہنما ہی لوگوں کی راہ مارنے لگیں تو خیر فلاح کی توقع ممکن نہیں رہتی۔۔۔اور دوسرے اس لیے کہ اگر کچھ مخلص لوگ اصلاحِ احوال کے علمبردار بن کر میدان میں اترتے بھی ہیں، تو شرکی قوتوں کو ان کے راستے کا روڑا بننے میں بھی مشکل پیش نہیں آتی۔۔۔ ان کے لیے صرف یہ کہہ دینا کافی ہوتا ہے کہ دوسروں کو تبلیغ کرنے والے، اپنے گریبانوں میں کیوں نہیں جھانکتے؟ ۔۔۔ ان چراغوں تلے تو خود اندھیرا ہے۔۔۔نتیجہ طغیان، سرکشی، بغاوت اور عصیانِ خداوندی کی صورت میں نکلتا ہے اور جس کی پاداش میں بالآخر پوری قوم صفحہ ہستی سے مٹ جایا کرتی ہے۔۔۔ ماضی میں کسی بھی قوم کے زوال اور تباہی و بربادی کی داستانیں ایسے ہی عنوانوں سے عبارت ہیں۔

مختصرا اگر یہ لوگ اپنے منصب کو پہنچانتے، تو آج ملک کے حالات یکسر مختلف ہوتے ۔۔۔ لیکن آج اگر انہوں نے اس فریضہ سے آنکھیں بند کر لی ہیں، تو یہ اپنے کئے کی سزا خود ہی بھگت بھی رہے ہیں۔۔۔ اور آئندہ بھی قدرت ان کو مایوس نہیں کرے گی، نہ اس دنیا میں، نہ آخرت میں ﴿إِلَّا الَّذينَ تابوا وَأَصلَحوا وَبَيَّنوا فَأُولـٰئِكَ أَتوبُ عَلَيهِم ۚ وَأَنَا التَّوّابُ الرَّ‌حيمُ ﴿١٦٠﴾... سورةالبقرة

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اور جب میں عوام کی طرف نگاہ اٹھاتا ہوں، تو ان کی ایک کثیر تعداد مجھے دن رات، چوبیس گھنٹے، آٹھوں پہر گانے سنتی نظر آتی ہے۔ چنانچہ اب یہ اسے عبادت سمجھنے لگے ہیں۔۔۔سینما ہالوں میں، تھیٹروں میں، ڈراموں میں، اسٹیجوں کے سامنے، کھیل کے میدانوں میں ان کے ٹھٹھ کے ٹھٹھ موجود ہوتے ہیں۔۔۔لیکن مسجدیں؟

مسجدیں مرثیہ خواں ہیں کہ نمازی نہ رہے

شیطان نے ان کے اعمال کو ان کی نظروں میں اس قدر مزین کر ڈالا ہے کہ گناہ کے گناہ ہونے کا تصور ہی دھندلا کر رہ گیا ہے۔۔۔ شرک کے اڈے ان کے دم قسم سے آباد ہیں، بدعت کی رونقیں ان کی شمولیت سے عروج پاتی ہیں۔۔۔ سیاست دانوں کے یہ آلہ کار، جھوٹے پیروں کے یہ مرید، حکام کا یہ کھلونا، علماء سوء کا یہ پیٹ بھرنے والے، ۔۔۔ ہر برائی کے گاہک، ہر نیکی سے گریزاں، ہر رہزنِ دین و ایمان کے عاشق، ہر کاروبار کے تاجر، ہر کھیل کے رسیا، ہر مداری کا جھمگٹا اور ہر تماشے کا تماشائی۔۔۔ نہ خدا ن کو یاد ہے نہ خدا کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ اور آخرت پر سے تو ان کا ایمان ہی اٹھ گیا ہے۔۔۔ "بابر بہ عیش کوش کہ عالم دوبارہ نیست" ان کی زندگی کا وہ پروگرام ہے، جسے مرتے دم تک یہ نباہنا چاہتے ہیں۔۔۔ الا ماشاءاللہ

تاہم یہ وہ طبقہ ہے جو کسی حد تک قابلِ رحم بھی ہے، اس لیے کہ ان کو راہنما ہی وہ ملے ہیں، جن کے بارے میں کسی عربی شاعر نے کہا ہے

هل افسد الدين الاالملوك

واحبار سوء ورهبانها!

کہ "دین کو نہیں بگاڑا، مگر بادشاہوں ، بُرے عالموں اور درویشوں نے"

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ان حالات میں وہ لوگ غنیمت نظر آتے تھے جن کو قال الله وقال الرسول سے والہانہ لگاؤ ہے،جن کے اسٹیجوں سے۔۔۔ ممبر و محراب سے اب بھی یہ آواز سنائی دیتی ہے:

تركت فيكم امرين لن تضلو ماتمسكتم بها كتاب الله وسنت رسوله

"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (اے لوگو) میں تم میں دو چیزیں چھوڑ چلا ہوں، جن کو اگر تم نے مضبوطی سے تھامے رکھا تو کبھی گمراہ نہ ہو گے (ان میں سے ایک) کتاب اللہ (ہے) اور (دوسری) اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت۔

۔۔۔ اور یہ حقیقت بھی ہے، آج صرف پاکستان ہی نہیں، پورے عالمِ اسلام کے زوال کا باعث کتاب اللہ اور سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے دوری ہے، جب کہ اس کی دنیاوی اور اخروی سعادتوں کا حصول بھی انہی کے تمسک سے ممکن ہے۔۔۔چنانچہ قال الله وقال الرسول کے آواز سے بلند کرنے والوں نے یہ راز پا بھی لیا اور کتاب و سنت کے نشان زدہ راستوں پر وہ نکل بھی کھڑے ہوئے، مگر افسوس کہ منزل تک پہنچنے سے پہلے ہی ان کا شیرازہ اس بری طرح بِکھرا ہے اور وہ اس طرح توٹ کر رہ گئے ہیں کہ کرچیاں بھی نظر نہیں آتیں۔۔۔آہ! ان کے فکر و نظر کی بلندیوں نے انہیں آسمان کی بلندیوں سے آشنا کیا تھا، مگر ان کی سیاسی حماقتوں نے انہیں پاتال میں دھکیل دیا ہے۔۔۔ آج کہاں ہیں وہ ما انا عليه واصحابى کا فخریہ ذکر کرنے والے؟ ۔۔۔ کہاں ہیں وہ يدالله على الجماعة کا پرچار کرنے والے؟۔۔۔کہاں ہیں وہ داعی الی الخیر؟ ۔۔۔ کہاں ہیں وہ الامرون بالمعروف والناهون عن المنكر؟ ۔۔۔ باطل کے لیے تیغ بے نیام اور قاطعینِ شرک و بدعت۔۔۔آج اگر ان کو تلاش کیا جا سکتا ہے تو امامانِ شرک و بدعت کے قدموں میں۔۔۔ یا اس کے نام لیواؤں کی بھیڑ میں جو حدیثِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دشمن، علماء اسلام کو "مُلا" کہہ کر پکارا کرتا اور ان کی ہر بات کی تردید کو اپنا اولین فریضہ خیال کیا کرتا تھا

انا لله وانا اليه راجعون

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

انبیاء علیھم السلام کے علاوہ غلطیوں سے مبرا کوئی انسان نہیں ۔۔۔ یہ خاکسار بھی اک بندہ گناہگار، حقیر پُر تقصیر ہے، تاہم جو دوسروں سے مخاطب ہے، اطمینان رکھیے، اس نے اپنے آپ کو بھی نظر انداز نہیں کیا۔۔۔ وہ اپنے شب و روز سے بخوبی آگاہ ہے۔۔۔ لیکن اسے خامی کہیے یا اور کوئی نام دیجئے، وہ اپنے سینے میں ایک ایسا دل رکھتا ہے جو ملتِ اسلامیہ کی بدحالی پر کڑھتا ہے، تڑپتا ہے۔۔۔اس کے کانوں میں اکثر یہ آواز گونجتی رہتی ہے:

﴿فَهَل يَنتَظِر‌ونَ إِلّا مِثلَ أَيّامِ الَّذينَ خَلَوا مِن قَبلِهِم... ﴿١٠٢﴾... سورة يونس

کہ "کیا یہ لوگ ایسے ہی وقت کی انتظار میں ہیں، جیسا وقت ان سے پہلے لوگوں پر آیا تھا؟"

۔۔۔وہ یہ جانتا ہے کہ قدرت کسی قوم کی اجتماعی غلطیاں معاف نہیں کیا کرتی۔۔۔ جو قوم خودکشی کا ارادہ کر لے، قدرت اس کے ہاتھ سے خنجر نہیں چھینا کرتی۔۔۔ جس قوم کی بداعمالیاں اپنی انتہا کو پہنچ جائین ، وہ مٹ ہی جایا کرتی ہے۔۔۔یہی اللہ کا قانون ہے، یہی وہ سنت اللہ ہے جس کے بارے میں خود اللہ رب العزت نے فرمایا:

﴿فَلَن تَجِدَ لِسُنَّتِ اللَّهِ تَبديلًا ۖ وَلَن تَجِدَ لِسُنَّتِ اللَّهِ تَحويلًا ﴿٤٣﴾... سورة فاطر

۔۔۔ تاہم وہ ایک ایسے راز سے بھی وقف ہے، جو آج بھی گلستانِ اسلام کی خزاؤں کو بہاروں کا پیغام دے سکتا ہے۔۔۔اور یہ راز ہے، اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر کامل ایمان ۔۔۔ تمسک بالکتاب والسنۃ ۔۔۔ پس اے حکامِ وقت، اے علماء اسلام، اے راہروان راہِ سیاست، اے عوام الناس اور اے "قال اللہ وقال الرسول صلی اللہ علیہ وسلم" لے علمبردارو، ابھی وقت ہے، ابھی پانی سر سے نہیں گزرا، اللہ رب العزت کی بارگاہ میں اپنی گردنوں کو خم کر دو، اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر عمل پیرا ہونے کا عہد کرو، اپنی غلطیوں پر ندامت کا اظہار کرو، آئندہ کی بھلائیوں کے لیے اس سے توفیق طلب کرو اور مستعد ہو جاؤ۔۔۔ بہ خلوصِ نیت ۔۔۔ بصمیم قلب۔۔۔ لیکن دیر نہ ہونی چاہئے، ورنہ اندھیرا ہو جائے گا۔

کہیں دستِ ندامت اٹھے اٹھتے درِ توبہ مقفل ہو نہ جائے
گناہوں کی ہوائے تند ہی میں چراغِ زیست عاجز بجھ نہ جائے


حوالہ جات

ہاں مگر جن لوگوں نے توبہ کی، اپنی اصلاح کر لی اور (حق) بیان کیا تو میں (اللہ تعالیٰ) ایسے لوگوں کی توبہ قبول کر لیا کرتا ہوں، کیوں کہ میں توبہ قبول کرنے والا مہربان ہوں (البقرۃ: 160)

پوری آیت یوں ہے: ﴿فَهَل يَنتَظِر‌ونَ إِلّا مِثلَ أَيّامِ الَّذينَ خَلَوا مِن قَبلِهِم ۚ قُل فَانتَظِر‌وا إِنّى مَعَكُم مِنَ المُنتَظِر‌ينَ ﴿١٠٢﴾... سورة يونس