Pages from Mohaddis-127-Nov-1984

میرے پسندیدہ۔۔

اس صفحہ کو پسند کرنے کے لیے لاگ ان کریں۔

بندہ اتحادِ اسلامی مجاہدین افغانستان کی اصلاحی کمیٹی کا ممبر ہے۔ دولتِ انقلابی اسلامی افغانستان کے بارے میں چند استفسارات پیشِ خدمت ہیں۔ آپ ازراہ نوازش ان کے جوابات عنایت فرمائیں۔ شکریہ

سوال نمبر 1:

آپ لوگوں نے افغانستان کی دیگر احزاب سے جُدا ہو کر "دولتِ انقلابی اسلامی افغانستان" کے نام سے الگ حکومت کی بنیادی رکھی ہے، اس کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی؟

جواب:

محترم آپ کے سوالات معلوم ہوئے، تفصیلِ درج ذیل ہے۔

جب افغانستان میں کفر و الحاد اور اشتراکیت کے تسلط کی وجہ سے کتاب و سنت کی حاکمیت اور اسلامی قوانین کلی طور پر ختم ہو گئے تو اہلِ اسلام پر فرض تھا کہ وہ کتاب و سنت کی حاکمیت کے لیے کفر والحاد سے آزاد علاقوں میں ایک تنظیم بنائے جو کتاب اللہ اور سنتِ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے تقاضوں کے مطابق ہوتی۔ یہ فرائضِ اسلام میں سے ایک اہم فریضہ تھا۔ بس اسی لیے دولت انقلابی اسلامی افغانستان کی بنیاد رکھی گئی۔ نورستان کی آزادی بھی مجاہدین افغانستان کی اس جدوجہدِ آزادی کی مرہون منت ہے جو انہوں نے سُرخ روسی سامراج کی کٹھ پتلی حکومت کے خلا شروع کی۔ جسے بنیادی اسلامی تنظیم، دولتِ انقلابی اسلامی، حکومتِ اسلامی، خلافتِ اسلامی یا امارتِ اسلامی سے موسوم کیا جاتا ہے۔۔اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿ أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ﴾

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:

«مَنْ مَاتَ وَلَيْسَ فِي عُنُقِهِ بَيْعَةٌ، مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً»(مسلم ص139ج2)

«وعن عمر بن الخطاب قال لا اسلام الا بجماعة ولا جماعة الا بامارة ولا امارة الا بالطاعة»

اس دولت کے قیام کے محرکات درج ذیل ہیں:

ہم نے کبھی افغانستان کی سیاسی جماعتوں سے مقاطعہ نہیں کیا اور نہ ہی کسی قسم کی عداوت رکھی ہے۔ ہاں! ان کے بعض فتنہ پرور افراد کی طرف سے "دولتِ انقلابی اسلامی افغانستان" سے تعلق رکھنے والے مجاہدین کے ساتھ چھیڑچھاڑ ہوئی ہے، اس میں ہماری جوابی کاروائی خالصتا دفاعی ہے۔ صورت حال یہ ہے کہ جب افغان پناہ گزین پاکستان چلے گئے تو ہم اپنے آزاد کرائے ہوئے علاقوں پر اسلامی تقاضوں کے مطابق ایک دولت کے قیام میں کوشاں ہو گئے اور افغانستان کے آزاد علاقوں میں باقی ماندہ لوگوں کو دعوت کا سلسلہ شروع کر دیا۔ دیگر مہاجرینِ افغانستان کی نوعیت ذرا مختلف ہے۔ ان کے نزدیک، قوانینِ اسلام پر مبنی حکومت کی ضرورت تو رہی ایک طرف، شریعت کی مبادیات کا قلع قمع کرنا زیادہ اہم ہے۔ اور ان کے لیے ان کو پناہ دینے والے ملک کی حاکمیت کو تسلیم کرنا بھی ضروری ہے۔ اس کی مثال یوں سمجھیے کہ چار پانچ بھائیوں پر مشتمل ایک خاندان ہو، اس پر دشمن دھاوا بول دیں، چند بھائی تو دفاع کے لیے سینہ سپر ہو جائیں اور باقی جان بچاتے ہوئے راہِ فرار اختیار کرنے میں ہی عافیت سمجھیں۔ صورتِ مفروضہ میں صاحبِ عقل کا فیصلہ یہی ہو گا کہ راہِ فرار اختیار کرنے والے ہی قطع تعلق کرنے والے ہیں اور گھر کی ملکیت مقابلہ کرنے والوں کا حق ہے۔ شرعی اعتبار سے ان کا واپس افغانستان جانا بھی ہجرت کے مناقضات میں سے ہے۔

دولتِ اسلامی کے قیام کے لیے پانچ شرائط ہیں:

1۔ آزاد سرزمین کا مالک ہونا۔

2۔ جماعت کا موجود ہونا۔

3۔ امیر کا ہونا

4۔ قوانینِ شریعت کی عملداری۔

5۔ اس کی مثال نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ حسنہ سے یوں ہے کہ ان کی سرزمین یثرب (مدینہ) میں ان کی جماعت انصار اور مہاجر تھے۔ ماخذِ قانون شریعت تھی۔ کسی دوسرے کا تسلط نہ تھا اور امارت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں تھی۔ اسی طرح "دولتِ انقلابی اسلامی افغانستان" بھی انہی شرائط پو پورا اُترتی ہے۔ ان کے علاوہ تنظیمیں بنانا فرقہ بازی اور اسلام سے دوری ہے۔

سوال نمبر 2:

دولتِ انقلابی اسلامی افغانستان کی تاسیس کو کتنا عرصہ ہوا ہے؟

جواب:

اس کی تاسیس کی تاریخ 13/11/1359ھ ہے اور خدا کے فضل سے آج تک قائم و دائم ہے۔ اس سے پہلے آمریت عمومی نورستان شرقی کے نام سے تنظیم موجود تھی۔

سوال نمبر 3:

اتنی مدت تک آپ لوگوں نے حکومتِ ملحد ببرک کارمل پر حملہ کیوں نہیں کیا؟

جواب:

دولتِ انقلابی اسلامی افغانستان کے مجاہدین اعلاء کلمۃ اللہ کے لیے دولت کی حدود میں ہمہ وقت مستعد رہا کرتے تھے۔ نسا اوقات تصادم کی صورت پیدا ہو جایا کرتی تھی۔ جس کی واضح مثال یہ ہے کہ 12 میزان 1357سے لے کر ایک سال تک مسلسل حکومت دہریہ سے دست بدست جہاد جاری رہا۔ اس وقت سے اب تک ذمہ دارانِ دولتِ انقلابی اسلامی افغانستان مختلف مقامات مثلا بدخشان، لغمان،کُنرہار اور دوسرے علاقوں میں اپنی ذمہ داری کو جہاد کی صورت میں نبھا رہے ہیں۔ اس کے دستاویزی ثبوت دولتِ انقلابی اسلامی کے مرکزی دفتر میں موجود ہیں۔

ہاں دولتِ انقلابی کے آزاد شدہ علاقوں میں مکمل امن ہے، احکامِ شرعی کا نفاذ ہے اور یہ جہاد کا بدیہی نتیجہ ہے۔

بقول مولانا محمد ابراہیم صاحب "جہاد کا مقصد"ويكون الدين كله لله" میں مضمر ہے۔ یعنی جہاد کو جاری رکھتے ہوئے اور اسلامی قوانین کا نفاذ کرتے ہوئے مزید علاقوں میں دعوتِ الہی (دینِ حق) پہنچانا ہے، نہ کہ اس دیوث مرد کی طرح جو کہ اپنی منکوحہ کو نکاح کے بعد دشمن کے حوالے کر دیتا ہے۔"

یہ ایک حقیقت ہے کہ دولتِ انقلابی اسلامی نے آزاد کردہ علاقوں سے مقبوضہ علاقوں پر حملہ کے لیے مجاہدین کے دستے تشکیل دیے تو بعض شرپسند احزابِ افغانستان نے دولت کے خلاف اپنے مکروہ پروپیگنڈے کا راز کھلنے کے خوف سے دولت کے علاقوں پر حملہ کیا تاکہ ہم جو دولت کے خلاف حکومتِ پاکستان یا عرب ممالک میں غلط تاثر قائم کر چکے ہیں کہ "دولت والے کمیونسٹ ہیں اور روسی ایجنٹ ہیں" کا راز نہ کھل جائے۔ نیز یہ کہ اگر ایک آزاد ریاست کا تعارف غیر ممالک میں ہو گیا تو ان کی تمام ہمدردیاں اور امداز کا رُخ اس آزاد ملک کی طرف ہو جائے گا جس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ ان کو ایک آزاد ریاست یعنی دولتِ انقلابی اسلامی افغانستان کا محتاج ہونا پڑے گا جس کو یہ لوگ گوارا نہیں کر سکتے۔

سوال نمبر 4:

حزب اسلامی کا مدیش (نورستان) اور حزب، اسلامی کا نتور پر دولتِ انقلابی اسلامی کے حملے کی کیا حقیقت ہے؟

جواب: دولتِ انقلابی اسلامی نورستان کا قیام علمائے حق کی رہبری میں کتاب و سنت کے مطابق شرعی مسئولیت پر ہوا۔ ایک ہی تنظیم کی اولین شرط کے مطابق جہادِ اسلامی جاری تھا اور تمام مجاہدین ایک امیر کی بیعت اور کماند ان کی قیادت میں مصروف جہاد تھے۔ ایک سال گزرنے کے بعد بعض نفس پرستوں نے ذاتی منفعت کے پیشِ نظر شرعی خیانت کی اور نبی علیہ السلام کے اس فرمان کی خلاف ورزی کرتے ہوئے امیر کی بیعت توڑ دی:

«مَنْ خَلَعَ يَدًا مِنْ طَاعَةٍ، لَقِيَ اللهَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَا حُجَّةَ لَهُ»(مسلم ص128ج2)

یہ باغی گروہ مختلف احزاب میں بٹ گیا اور دولت، جو کہ بدستور اسلامی رہنماؤں کی قیادت میں مصروفِ کار تھی، اس کے مجاہدین پر وحشیانہ اور جارحانہ حملے کرتے ہوئے علاقے کے امن کو درہم برہم کر دیا۔ اس طرح جہاد اسلامی جیسے مقدس کام کو فتنہ قومی میں بدل کر رکھ دیا۔ پھر ہم نے رہبرِ کامل (صلی اللہ علیہ وسلم) کے اس فرمان پر غور کرتے ہوئے کہ:

«مَا مِنْ نَبِيٍّ بَعَثَهُ اللهُ مِنْ أُمَّتِهِ قَبْلِي إِلَّا كَانَ فِيْ أُمَّتِهِ حَوَارِيُّونَ، وَأَصْحَابٌ يَأْخُذُونَ بِسُنَّتِهِ وَيَقْتَدُونَ بِأَمْرِهِ، ثُمَّ إِنَّهَا تَخْلُفُ مِنْ بَعْدِهِمْ خُلُوفٌ مَنْ جَاهَدَهُمْ بِيَدِهِ فَهُوَ مُؤْمِنٌ وَمَنْ جَاهَدَهُمْ بِلِسَانِهِ فَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَمَنْ جَاهَدَهُمْ بِقَلْبِهِ فَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلَيْسَ وَرَاءَ ذَلِكَ مِنَ الْإِيمَانِ حَبَّةُ خَرْدَلٍ مِّنَ الْاِيْمَانِ-الحديث»(مشكوة ص39)

فساد ختم کرنے اور امن قائم کرنے کے لیے ان کے مقابلے میں دفاعی حکمتِ عملی اختیار کی۔ دولت کے متعلقین کی طرف سے ان پر کسی قسم کا حملہ نہیں کیا گیا۔ یاد رہے کہ دولت کے مجاہدین پر یہ ناجائز الزامات اور محض جھوٹے ہیں۔ ناقابلِ سماعت او ناقابلِ یقین ہیں۔

سوال نمبر 5:

ہم نے سن رکھا ہے کہ اس دولت کا بانی الحادی اور دہریہ حکومت کا منصب دار تھا جس کا نام سرور ہے، یہ ایک معروف اور جانی پہچانی شخصیت ہے جو پہلے کمیونسٹ رہ چکا تھا؟

جواب: دولت بنیادی طور پر ایک اسلامی تنظیم ہے اور اسلامی ارکان میں سے ایک رکن ہے۔ جس کے شرائط اور ارکان کی تعمیر و تنفیذ ایسے اہلِ علم پر موقوف ہے جو کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حقائق کو سلفِ صالحین کے طریقے پر سمجھتے ہیں اور یاد رہے کہ اس اسلامی تنظیم کا نام ایسے علمائے کرام، جو کہ متبعینِ کتاب و سنت ہیں، کے مشوروں پر ہی "دولتِ انقلابی اسلامی افغانستان" رکھا گیا۔۔۔اور یہ بھی یاد رہے کہ محمد سرور خاں نورستانی دولتِ انقلابی اسلامی کے قواعد کی تاسیس میں کسی قسم کا دخل نہیں رکھتا۔ دولت کی امارت ابتدائی مرحلہ میں علماء کے ہاتھ میں رہی ہے اور دولت کی تشکیل، تنظیم اور تاسیس بھی علماء کے ہاتھ میں رہی ہے۔ ہاں! موصوف یعنی محمد سرور خاں درہ سین کے راستے حکومتِ پاکستان کی پولیس کے ہمراہ آیا اور پولیس اسے دولت کے مجاہدین کے حوالے کر کے سندِ وصولی لے کر چلی گئی اور آنے کے بعد علاقہ میں اس کا قومی اور نسبی رشتے سے نیز ازراہِ مہمانی خیال رکھا گیا۔ پرانے دوستوں اور عزیز و اقارب سے ملاقات کے بعد خورضابطہ (افغانی اصطلاح میں فوجی منصب کا نام) اور تمام لوگ، جو کہ سپاہِ انقلابی حزبِ داؤدی سے تعلق رکھتے تھے، خصوصا محمد غازی اور عباداللہ، موصوف کے آنے پر اپنے گاؤں چپو اور میردیش سے سواری لے کر موصوف کے استقبال کے لیے روانہ ہوئے اور پذیرائی کی۔ مہمان کی ضیافت سے عزت افزائی کی اور اس طرح مہمان کو رخصت کیا موصوف نے دولت سے کسی قسم کا فائدہ نہیں اٹھایا پھر کیسے اور کیونکر موصوف دولت کے ساتھ منسوب ہوا اور کس طرح عباداللہ کا دشمن گنا جانے لگا؟

﴿ وَإِنَّهُمْ لَيَقُولُونَ مُنْكَرًا مِنَ الْقَوْلِ وَزُورًا..﴿٢﴾... سورة المجادلة" کتنا بڑا جھوٹ ہے جو کہ غلط پروپیگنڈا کرنے والوں کی طرف سے پھیلایا جا رہا ہے:

«قال النبىﷺ وهل يكب الناس على مناخرهم الا حصائد السنتهم-الحديث»

موصوف کو عزت اور احترام کی نظر سے دیکھا جاتا ہے اور اس کے سابقہ عقائد اور اخلاق بھی غیر اسلامی نہیں ہیں۔ بلکہ خدمتِ خلق اور رفاہی کاموں میں اس کی خدمات بہت نمایاں اور قابلِ قدر ہیں:

سوال نمبر 6:

ہم نے سنا ہے کہ آپ دہریہ کارمل حکومت کے ساتھ رابطہ رکھتے ہیں؟

جواب:

﴿ سُبْحَانَكَ هَذَا بُهْتَانٌ عَظِيمٌ ، إِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ كُلُّ أُولَئِكَ كَانَ عَنْهُ مَسْئُولًا﴾

بحمداللہ نہ تو ہم ملحد ہیں اور نہ مشرک اور نہ بدعتی اور نہ فاسق، کہاں ہم اور کہاں ببرک کارمل ور اس کے حواری؟ غور فرمائیں، ببیں تفاوتِ راہ کجا است تابہ کجا، ﴿ وَمَنْ يَكْسِبْ خَطِيئَةً أَوْ إِثْمًا ثُمَّ يَرْمِ بِهِ بَرِيئًا فَقَدِ احْتَمَلَ بُهْتَانًا وَإِثْمًا مُبِينًا ﴿١١٢﴾... سورةالنساء

سوال نمبر 7:

اگر حکومتِ دہریہ سے رابطہ نہیں ہے تو آپ اپنے فوجی اور ملازمین کو ماہانہ وظیفہ کہاں سے دیتے ہیں؟ آپ کے اخراجات کہاں سے پورے ہوتے ہیں اور کیا وجہ ہے کہ حکومتِ دہریہ آپ سے تعرض نہیں کرتی؟

جواب:

جو لوگ اسلام کے مقدس حقائق اور شرائط و کوائف سے آگاہ ہیں، ان کی اور راہِ حق کے مجاہدین کی نگاہ میں یہ مسئلہ بالکل سادہ اور معمولی ہے، البتہ احمقوں اور جاہلوں کا اعتراض اس پر ہو سکتا ہے۔۔ تمام ارکانِ اسلام میں سے اسلام کا ایک مالی نظام بھی ہے جو کہ زکوٰۃ معینہ، صدقاتِ نفلیہ اور تمام قسم کے مالی تعاون سے عبارت ہے۔ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:

﴿ الَّذِينَ آمَنُوا وَهَاجَرُوا وَجَاهَدُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ...﴿٢٠﴾... سورةالتوبة

اسی طرح قولِ تعالیٰ ہے:

﴿ إِنَّ اللَّهَ اشْتَرَى مِنَ الْمُؤْمِنِينَ أَنْفُسَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ بِأَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ ...﴿١١١﴾... سورة التوبة

اسلامی تنظیم کو مستحکم اور مضبوط کرنے کے لیے جیسا کہ صدرِ اول یعنی خیرالقرون میں ہوتا تھا، اسلمی تنظٰم عزر، زکوۃ اور صدقۃ الفطر اور تمام قسم کے صدقاتِ نفلیہ، علاوہ ازیں چھ ہوٹلوں سے بھی، جو کہ دولت کے تحت ہیں دولت کے مصارفِ ضروریہ پورے کیے جاتے ہیں۔

ان كنت لا تدرى فتلك مصيبة

وان كنت تدرى فالمصيبة اعظم

رہا یہ اعتراض کہ حکومت دہریہ، مجاہدینِ دولت پر حملہ کیوں نہیں کرتی/ تو اس کی وجہ یہ ہے کہ جاں نثاری مجاہدین دولت، آزاد علاقوں کے مختلف مقامات پر ان سے گوریلا طریقہ سے جھڑپیں جاری رکھتے ہیں اور دشمن وہیں مصروف رہتا ہے۔ اسے فرصت ہی نہیں ملتی کہ آزاد علاقوں پر حملہ کرے۔ علاقوہ ازیں یہ اعتراض اس لیے بھی مہمل ہے کہ بہت سے دیگر آزاد علاقے بھی ایسے ہیں جو حزبِ اسلامی یا جمیعت اسلامی کے زیر کنٹرول ہیں، ان سے حکومت دہریہ تعرض کیوں نہیں کرتی؟ مثلا درہ پیچ، کنرہار وغیرہ۔

علاوہ ازیں تعرض نہ کرنے والی بات سرے سے ہی غلط ہے۔ کیونکہ حکومت دہریہ طیاروں اور ہیلی کاپٹروں کے ذریعے مختلف مقامات پر، نیز عام رہگزروں پر بارودی سرنگیں پھینکتی رہتی ہے۔ جس کے نتیجے میں کئی نوجوان شہید اور زخمی ہو چکے ہیں۔

سوال نمبر 8:

ہم نے سنا ہے کہ آپ کی انتظامی اور انقلابی شورٰی میں کچھ ایسے افراد بھی شامل ہیں جو پہلے کمیونسٹ رہ چکے ہیں؟

جواب:

"دولتِ انقلابی اسلامی افغانستان" کی شوریٰ کے ارکان اور انتظامی امور کے عہدیداران کے نام درج ذیل ہیں:

1۔ مولوی محمد اسحاق قریہ پل رستم

2۔ مولوی محمد رستم ساکن قریہ پل رستم

3۔ حاجی جمعہ خاں ساکن قریہ برگ مٹال

4۔ مولوی محمد کبیر ساکن قریہ چاسک

5۔ حاجی محمد ابراہیم ساکن قریہ پشاور

6۔ ملک میاں گل ساکن قریہ اولدگل

7۔ قاری عبدالحمید ساکن قریہ اٹٹی

8۔ وزیر شاہ ساکن قریہ شدگل

یہ لوگ تمام کے نزدیک جانے پہچانے ہیں اور سب کو معلوم ہے کہ ناپسندیدہ عناصر میں سے نہیں ہیں۔

سوال نمبر 9:

وزیر شاہ جمیعت اللہ خاں اور عزیز اللہ خان کے بارے میں آپ کیا رائے رکھتے ہیں اور ان کا سابقہ ریکارڈ کیا ہے؟

جواب:

وزیر شاہ جمیعت اللہ اور عزیز اللہ سابقہ حکومت یعنی ظاہر شاہ اور داؤدی دور میں حکومت کے مامورین میں سے تھے۔ ان کے سابقہ کردار سے کوئی خیانت ثابت نہیں ہے۔ ظاہری گفتار اور کردار میں بھی یہ کتاب اللہ اور سنتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے متبع ہیں۔ البتہ عزیز اللہ کسی شبہ کی بنا پر چند ماہ دولت کی جیل میں رہا۔ کچھ دنوں کے بعد اس کو جیل سے رہا کر دیا گیا۔ اب وہی عزیز اللہ حزبِ اسلامی میں عملا شامل ہے۔ (واللہ اعلم بحقیقتہ)

سوال نمبر 10:

(ا)آپ کی دولت نورستان تک محدود ہو گی یا آپ اس کی توسیع کا ارادہ بھی رکھتے ہیں؟

(ب) اگر توسیع کا ارادہ ہے تو اب تک آپ کا مدیش اور کنتوا کو زیرِ اثر نہیں کر سکے۔ پھر دولت کی مزید توسیع کیسے ممکن ہے؟

(ج) اگر آپ کا مدیش کو بزورِ قوت یا صلح کے ساتھ زیرِ اثر نہیں کر سکے تو کیا آئندہ یہ ممکن ہے؟ اور درہ سین کے افراد آُ کی دولت کی موافقت کریں گے، مزاحمت ترک کر دیں گے؟

جواب:

(ا)دولت کے نام۔ یعنی دولتِ انقلابی اسلامی افغانستان سے ہی توسیع کا ارادہ ظاہر و باہر ہے۔ جب موقع ملا، ربِ کریم کی نصرت سے یہ آخری سرحدوں تک پہنچ جائے گی۔

(ب) اسلامی تنظیم کے مقاصد کی تکمیل، تدریج کے ساتھ ہو گی۔ اس کے لیے نمونہ اور مثال خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کی تنظٰم ہے۔

(ج) دولتِ انقلابی اسلامی افغانستان کی بنیاد اسلامی اصولوں پر ہے۔ ایسے میں ہم اپنے رب کے فضل سے مخلصین کی صف اور ان کی قطار میں شمولیت کی توقع رکھتے ہیں اور اللہ تبارک و تعالیٰ کے وعدہ پر یقین رکھتے ہیں:

﴿ إِنْ تَنْصُرُوا اللَّهَ يَنْصُرْكُمْ وَيُثَبِّتْ أَقْدَامَكُمْ﴾ وقوله تعالى! ﴿إِذا جاءَ نَصرُ‌ اللَّهِ وَالفَتحُ ﴿١﴾ وَرَ‌أَيتَ النّاسَ يَدخُلونَ فى دينِ اللَّهِ أَفواجًا ﴿٢﴾﴾... سورة النصر

سوال نمبر 11:

سرزمینِ افغانستان دو صورتوں سے خالی نہیں (الف) یا تو مسلمان، جو کہ احزاب سیاسی افغانستان کی صورت میں ہیں، غالب آجائیں۔ اس صورت میں آپ ابھی دوسرے مسلمانوں سے اتفاق کیوں نہیں کر لیتے؟ (ب) اگر اللہ نہ کرے، حکومت دہریہ غالب آ جائے تو بھی دو ہی صورتیں ہیں۔ سرِ تسلیم خم کرنا یا پھر مزاحمت۔

پہلی صورت کی آپ سے امید نہیں ہے، دوسری صورت میں آپ دیگر مسلمانوں مثلا حزبِ اسلامی اور دیگر احزاب کے ساتھ مل کر حکومتِ دہریہ کا مقابلہ کیوں نہیں کرتے؟

جواب:

(ا)احزابِ اسلامی افغانستان کے غلبے کی صورت میں، اگر ان میں اسلامی شرائط اور اہلیت موجود ہو گی، تو موافقت کی گنجائش ہے۔ لیکن اہلیت اور اسلامی شرائط کی عدم موجودگی میں ان کا تسلط بالجبر ہو گا۔ اس صورت میں موافقت کی قطعی گنجائش نہیں ہے۔«قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم - : « إِذَا وُسِّدَ الأَمْرُ إِلَى غَيْرِ أَهْلِهِ، فَانْتَظِرِ السَّاعَةَ ، لا طاعة لمخلوق في معصية الخالق انما الطاعة فى المعروف-الحديث»

لیکن موجودہ صورت میں، چونکہ ان میں کتاب و سنت کے مطابق اسلامی تنظیم یعنی صرف ایک تنظیم نہیں، اس لیے انہیں تسلیم کرنے کی گنجائش نہیں ہے۔ افغانستان کی موجودہ اضطراری صورتِ حال ختم ہو جانے کے بعد متعدد امارتیں اور متعدد امراء شرعا ناجائز ہوں گے۔

قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا بُويِعَ لِخَلِيفَتَيْنِ، فَاقْتُلُوا الْآخَرَ مِنْهُمَا»مسلم ج3ص128

(ب) اللہ تعالیٰ نہ کریں، حکومتِ دہریہ کے غلبہ کی صورت میں دو ہی راستے ہو سکتے ہیں۔ الاول مقابلہ حتی الاستطاعت۔ دوئم، استطاعت کے ختم ہونے اور خطرے کے احساس کی صورت میں اہلِ اسلام پر ہجرت فرض ہے۔ اور دہریہ حکومت کو تسلیم کرنے کی تو بالکل گنجائش نہیں ہے۔ البتہ احزابِ افغانستان کے ساتھ موافقت کا جواب نمبر 11 کے جز الف کے تحت گزر چکا ہے۔

سوال نمبر 12

انور کی شخصیت سب کو معلوم ہے کہ وہ ستمی ہے۔ اس کے ساتھ دولت کے اتحاد کس قسم کے ہیں؟

جواب: محمد انور ایک فعال گروہ کا کماندان ہے اور اس کے ستمی ہونے کا تاحال ہمارے ہاں کوئی ثبوت نہیں۔ البتہ دشمن کے مقابلہ میں اشتراک و الحاق کی اسلام میں گنجائش ہے۔

سوال نمبر 13:

کیا آپ کو معلوم ہے، حزبِ اسلامی افغانستان، کا مدیش میں یا کسی اور مرکز میں، ببرک کی حکومت دہریہ کے ساتھ رابطہ رکھتی ہے یا حکومتِ خلق تر کئی یا حفیظ اللہ کے ساتھ کوئی رابطہ تھا؟

جواب:

وہ لوگ جو حزب، اسلامی افغانستان کی طرف منسوب ہیں اور حکومت دہریہ کے ساتھ ارتباط رکھتے ہیں۔ خصوصا وہ لوگ جو بَری کوٹ کے گروہ میں ہیں۔ ہماری معلومات کے مطابق ان کے معزز ترین اشخاص حکومت دہریہ کے ساتھ رابطہ رکھتے ہیں جو مندرجہ ذیل ہیں:

1۔ شاہ محمد ولد علی محمد بموصوف کماندان جبھہ ملی بدر وطن کی معروف شخصیت ہے، یہ کچھ خاندان، کا مدیش اور پتیگل سے لے کر بری کوٹ، روسی چھاؤنی کے حوالہ کر چکا ہے۔

2۔ ملا صالح محمد بھی چند روز قبل بری کوٹ کی طرف گیا تھا اور کابل پہنچا دیا گیا۔ بعض اوقات نورستانی زبان میں پیش کیے جانے والے پروگراموں میں حصہ لیتا ہے۔ یہ حزبِ اسلامی کے لیے کام کرتا ہے۔

3۔ محمد داؤد ساکن قریہ کا مدیش حزبِ اسلامی میں شمار کیا جاتا ہے، لیکن جبھہ ملی بدر وطن کا آدمی ہے۔

مذکورہ دونوں اشخاص حزبِ اسلامی افغانستان میں کماندان کی حیثیت سے کام کر رہے ہیں۔

5۔ اسی طرح عبداللہ کے بیٹے اور چند افراد قریہ پتیگل سے، جیسے فضل کریم ،اس کے بھائی بیٹے اور دوسرے چند افراد قریہ کھر سے، تمام افراد فعلا حزبِ اسلامی کی طرف منسوب ہوتے ہیں اور اسی کے لیے کام کرتے ہیں۔ ان تمام لوگوں کی جائے اقامت معلوم شدہ ہے، مخفی نہیں۔

6۔ ملا رستم، عبداللہ کے بیٹوں کے ساتھ قوی رابطہ رکھتا ہے اور علاقے کے تمام لوگوں کو معلوم ہے کہ عبداللہ کے بیٹے حکومتِ دہریہ سے نو ہزار افغانستانی روپے ماہانہ وصول کرتے ہیں۔ یہ شخصیت بھی حزبِ اسلامی افغانستان کے کرتا دھرتا میں سے ہے۔

7۔ عبدالمتین ولد موسیٰ خاں ساکن قریہ منڈگل، جو فعلا حزبِ اسلامی میں سے ہے، کسی سے مخفی نہیں۔

سوال نمبر 14: آپ کے پاس کیا معلومات ہیں کہ حزبِ اسلامی افغانستان کا مدیش یا مرکز کی کوئی ایسی شخصیت ہے، جس کی پہلی زندگی دہریہ ہو اور اب وہ حزب، اسلامی میں کسی منصب پر فائز ہو؟

جواب:

حزب، اسلامی افغانستان کے چند افراد محتاط معلومات کے مطابق نظر سے گزرے ہیں۔ جو کہ پہلے دہریت میں مبتلا تھے اور اس وقت حزبِ اسلامی میں شمار کیے جاتے ہیں۔ جسے جگڑن (کیپٹن) عمر قریہ کا مدیش، جو اب کا مدیش میں حزب، اسلامی مربوط ملا رستم کے دفتر میں منشی ہے۔ عبدالعزیز شامل ساکن قریہ اٹٹی حزبِ اسلامی کے مرکز میں پناہ گزین کی حیثیت سے زندگی گزارتا ہے۔

سوال نمبر 15:

آپ کو اس کے بارے میں کیا علم ہے کہ حزبِ اسلامی نے افغانستان میں اپنے علاوہ دوسرے مسلمانوں پر ابتداء تجاوز یا حملہ کیا ہے؟

جواب:

صحیح رپورٹوں کے مطابق حزب، اسلامی نے ماہِ رمضان المبارک (بمطابق 1361 ش) میں مختلف محاذوں پر بے گناہ مسلمانوں پر وحشیانہ حملے کیے اور سخت جانی اور مالی نقصان پہنچایا۔ اسی وجہ سے تمام افغانستان میں حزبِ اسلامی اب تمسخر کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہے۔

1۔ مثلا شرقی نورستان میں منڈگل کے علاقے میں دولت کے لشکر غنڈ نمبر 5 پر حملہ۔

2۔ علی سنگ صوبہ لغمان میں جمیعت اسلامی پر حملہ۔

3۔ تگاب اور تحراد میں حرکتِ انقلابی اور جمیعت کے مجاہدین پر حملہ۔

4۔ صوبہ ہروان کے حصہ استالیف میں جمیعت اسلامی کے مجاہدین پر حملہ۔

5۔ صوبہ بغلان علاقہ اندراب میں ایک فعال کماندان پر حملہ، جو کہ جمیعتِ اسلامی سے تعلق رکھتا تھا۔ اور اس حملہ میں اس کے خاندان کو ختم کر دیا۔ انا للہ وانا الیہ رجعون

اسی طرح دوسرے مختلف مقامات پر مذکورہ تاریخ کو چودہ علاقوں میں مجاہدین پر اچانک حملہ ہوا۔

سوال نمبر 15:

عباداللہ کماندان کو گرفتار کرنے کے بعد چھوڑ دینے کا سبب کیا تھا؟

جواب:

دولت کے سابقہ کماندان عباداللہ خوشیار کی گرفتاری، جرم اور خیانت کے اعتبار سے تھی۔ پہلی بیعت کو توڑنے کی وجہ سے اور دولت کے مجاہدین کے مقابلہ میں محاذ بنانے اور دولتِ انقلابی، جو کہ عوام کا حق تھا، کو ضائع کرنے اور خیانت کرنے کی وجہ سے اس کا خون بہانا بھی جائز تھا۔ مگر اس کی معافی اور رہائی صرف چشم پوشی اور رعایت کرتے ہوئے کی گئی تھی۔

سوال نمبر 16:

آپ لوگوں نے حزبِ اسلامی افغانستان کے لوگوں کو، جو کہ مدیش اور کانتوز کے تھے، کا مدیش اور کانتوز سے کیونکر نکال دیا اور ان کے مال و مویشی پر قبضہ کر کے خود لے گئے۔ اور اہل و عیال کو محصور کر دیا؟

جواب:

معاذاللہ! ہم ایسا کیوں کریں گے؟ ہاں جیسا کہ جواب میں ذکر کیا جا چکا ہے کہ اپنے گناہوں کی پاداش، نقضِ عہد، نقضِ بیعتِ اول اور ذاتی فائدہ کے پیشِ نظر ان لوگوں نے دولت سے کنارہ کیا ہے اور خود ہی اپنے اول وطن کو چھوڑ کر فرارین میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کے اہل و عیال بغیر کسی خطرے کے اپنے گھروں میں زندگی گزار رہے ہیں اور گھریلو ضروریات زندگی میں کسی قسم کا بھی کوئی فرق نہیں آیا۔ ان کے نقدی، مال و مویشی بالکل محفوظ ہیں۔ البتہ "لا بحق الاسلام" کی رُو سے ان کے اموال سے، استحقاقِ عامہ کی بنا پر مقررہ جرمانہ لیا گیا۔