ہونٹوں پہ مِرے ذکر ترا صبح و مسا ہے
اک یاد تری میرے ہر اک غم کی دوا ہے
جس میں تری الفت ہے، وہ دل مجھ کو دیا ہے
یہ تیری عنایت ہے، محبت ہے عطا ہے
سلطاں ہو، شہنشاہ ہو، مفلس ہو، گدا ہو
بندے ہیں یہ سب اُس کے وہی سب کا خدا ہے
اللہ کی عبادت ہی ہے رحمت کا خزینہ
اللہ کی عبادت ہی دل و جاں کی غذا ہے
جو کچھ بھی ہوا ہے یہی قسمت میں لکھا تھا
ہو گا بھی وہی جو تری قسمت میں لکھا ہے
جس حال میں تو خوش ہے اسی حال میں خوش ہوں
میری بھی رضا ہے وہی جو تیری رضا ہے
بیمار دلوں کے لیے ہے نسخہ اکسیر
قرآن میں جو حرف ہے پیغام شفا ہے
جو ڈھونڈتا رہتا ہو ہر انساں کی برائی
انساں میں انساں وہ ہر انساں سے برا ہے
اللہ کی خلقت سے جو کرتا ہے بھلائی
اللہ کے نزدیک وہ انسان بھلا ہے
دنیا میں کوئی شخص نہ دل اپنا لگائے
دنیا میں کوئی شخص رہے گا نہ رہا ہے
سیلابِ الم، اور یہ طوفانِ حوادث
سب تیرے ہی اعمالِ قبیحہ کی سزا ہے
پائیں گے جو انعامِ سحر خیزی پیہم
عاجز وہ کسی شخص نے دیکھا نہ سنا ہے