جامعۃ العلوم الاسلامیہ کے فاضل اور مفتی مولانا ولی حسن صاحب ٹونکی "بینات" میں ایک مضمون "اس دور کا ایک عظیم فتنہ" کے نام سے تحریر فرما رہے ہیں، علامہ موصوف نے تازہ قسط (ذوالحجہ 1404ھ مطابق اکتوبر 1904ء)" ہندوستان میں حدیث کی آمد" میں تحریر فرمایا ہے کہ:

"ولی اللہی خاندان کے بعد حق و صداقت، علم و عرفان، صدق و صفا اور علومِ دینیہ خصوصا قرآن کریم و حدیثِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم و تدریس اور درس و افادہ کی خلافت حضرات علماء دیوبند و سہارنپور کی طرف منتقل ہوئی۔ حضرات علماء دیوبند و سہارنپور نے سو سال تک تجدید کا کام کیا۔" (ماہنامہ بینات کراچی، ذوالحجہ 1404ھ)

ولی اللہی تعلیم اور مستفیدین:

ولی اللہی خاندان کے ذریعے جو علمی دولت تقسیم ہوئی، وہ بحرِ بے کنار کی طرح چار سو پھیلی، لیکن ہر ایک نے اپنے اپنے خصوصی مزاج اور افتادِ طبع کے مطابق اس سے کسبِ فیض کیا اور اسے اپنے اپنے مزاج کے مطابق ڈھال لیا۔ بالکل اسی طرح جس طرح صفراوی مزاج کا آدمی دودھ پیتا ہے تو وہ صفرا بن جاتا ہے، بلغمی افراد کے معدہ میں جا کر بلغم میں اضافہ کر دیتا ہے، ولی اللہی تعلیم اور فکر سے جب مقلدین نے استفادہ کیا تو انہوں نے ولی اللہی کر کے ہر پہلو سے تقلید کشید کی، بریلویوں کو موقعہ ملا تو اس کے ہر شوشہ سے بریلویت اخذ کی، سوشلسٹ نے اس سے سوشلزم ، ہرجائیوں نے اس کی تعلیم سے "سب ٹھیک" منکرینِ حدیث نے انکار حدیث کے جراثیم اور سیاسئینِ سو نے بے خدا سیاست کا مواد حاصل کیا
فکرِ ہرکس بقدر ہمت است

حد ہو گئی

یہ سن کر آپ حیران ہوں گے کہ دیوبندی مقلدین کے ایک فاضل نے شاہ ولی اللہ پر ایک خاص نمبر نکلا تو اس میں شاہ ولی اللہ کو مقلد اور مقلد گر ثابت کرنا بھی ضروری سمجھا۔۔۔ اور اس کے لیے ایک مقلد سے اس پر مضمون لکھوایا۔ بہرحال "تجدید" کی یہ ایک انوکھی قسم ہے، حالانکہ تقلید تو ایک ایسی ارزاں چیز ہے کہ جو جتنا جاہل ہوتا ہے، اس کا وہ اتنا ہی بہتر نمونہ ہوتا ہے۔ مجدد آ کر اس سے بہتر اس کا نمونہ کیا پیش کرے گا۔۔۔ یہ عجیب مجدد ہے کہ دنیا کو آنکھیں دینے کے بجائے ان کو اپنی آنکھیں پھوڑ دینے کا درس دیتا ہے۔۔ سچ ہے
ساون کے اندھے کو ہرا ہی ہرا سوجھتا ہے

ولی اللہی فکر و نظر کے وارث:

یہ دعوٰی بھی محل نظر ہے کہ ولی اللہی علم و حکمت کے وارث صرف علماء دیوبند بنے ہیں۔ کیونکہ ولی اللہی فکر و نظر کی صحیح جانشینی کی اگر بات ہے تو اس کا حق صرف حضرت سید نذیر حسین محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کو پہنچتا ہے۔ لیکن یہ بات اس وقت تک سمجھ میں نہیں آئے گی جب تک ولی اللہی نظریہ اور بنیادی فکر کی تعیین نہ کر لی جائے۔

وللی اللہی نظریہ اور تعلیم:

حضرت شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ نے وصیت فرمائی کہ:

اعتقاد اور عمل کتاب و سنت کے موافق ہو اور ان میں غور کرتے رہنا اور مناسب حصہ دونوں کا پڑھتے رہنا چاہئے:

"اول وصیت ایں فقیر چنگ زدن است بکتاب و سنت در اعتقاد و عمل و پیوستہ بتدبیر ہر دو مشغول شدن و ہر روز حصہ از ہر دو خواندن۔" (رسالہ مقالۃ الوصیۃ فی النصیحہ والوصیۃ۔ اول وصیت)

پھر فرمایا: فروع میں ان محدثین کی پیروی کرنا جو تفقہ اور حدیث کے جامع ہوں اور فقہی تفریعات کو کتاب و سنت پر پیش کرتے رہنا، موافق کو قبول کرنا اور خلاف کو ان کے منہ پر دے مارنا۔

"ودر فروع پیروی علماء محدثین کہ جامع باشند بیانِ فقہ و حدیث کردن و دائما تفریعات فقہیہ را بر کتاب و سنت عرض نمودن، آنچہ موافق باشد در چیز قبول آوردن والا کالائے بدبریش کاوند دادن۔" (ایضا)

نیز فرمایا: اگر اپنے نبی پر ایمان رکھتے ہو تو اس کا ہی اتباع کیجئے، (تمہارے) مذہب کے خلاف ہو یا موافق:

"اِنْ اٰمَنْتُمْ بِنَبِيِّكُمْ فَاتَّبِعُوهُ خَالَفَ مَذْهَبًا اَوْ وَافَقَهُ"

فرمایا: محض اللہ کے لیے اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ ایک ایسے شخص کے بارے میں جس سے خطا اور صواب کا صدور ہو سکتا ہے، یہ عقیدہ رکھنا کہ اس کی اطاعت فرض ہے، حالانکہ شریعتِ حقہ اس سے بہت پہلے وجود میں آ چکی ہے، وہ منکرِ حق ہے:

"وَاَشْهَدُ لِلِه بِاللهِ اَنَّهُ كُفْرٌ بِاللهِ اَنْ يُّعْتَقَدَ فِى رَجُلٍ مِنَ الْاُمَّةِ مِمَّنْ يُخْطِئُ وَيُصِيْبُ اَنَّ اللهَ كَتَبَ عَلَىَّ اتِّبَاعَهُ حَتْمًا..... وَلٰكِنَّ الشَّرِيْعَةَ الْحَقَّةَ قَدْ ثَبَتَ قَبْلَ هٰذَا الرَّجُلِ بِزَمَانٍ"(تفهيمات ج1ص211)

شاہ شہید رحمۃ اللہ علیہ کا نظریہ:

حضرت شاہ شہید فی سبیل اللہ نے اس سے بھی زیادہ کھل کر لکھا ہے، فرماتے ہیں:

"تقلید کے معاملہ میں لوگوں نے غلو کیا ہے اور متعین شخص (امام) کی تقلید کے التزام میں ہٹ دھرمی کی ہے، یہاں تک کہ اجتہاد اور جزوی مسائل میں اپنے امام کے ماسوا دوسرے کی تقلید سے منع کیا ہے، یہ وہ سخت بیماری ہے جس نے شیعوں کا بیڑا غرق کیا اور ان (مقلدین) کا بیڑا بھی غرق ہونے کو ہے۔ شیعہ اور مقلدین میں صرف اتنا فرق ہے کہ شیعہ امام کے قول کے مقابلے میں نصوص کر رد کر دیتے ہیں۔ اور مقلدین مشہور روایات میں تاویل کر کے امام کے قول کی طرف پھیر پھار کر لاتے ہیں۔ حالانکہ ہونا اس کے برعکس چاہئے تھا۔ ان کے الفاظ یہ ہیں:

"وقد غلا الناس فى القليد وتعصبوا فى التزام نقليد شخص معين حتى منعوا الاجتهاد فى مسئلة ومنعوا تقليد غيره- فى بعض المسائل وهذا هى الداء العضال التى اهلكت الشيعة فهؤلاء ايضا اشرفوا على هلاك الا ان الشيعة قد بلغوا اقصاها فجوزوا ترك النصوص بقول من يزعمون تقليده وهؤلاء اخذوا فيها واولوالروايات المشهورة الى قول امامهم والحق تاويل قول الامام الى الروايات ان قبل والا فاترك"(تنوير العينين ص25)

شخصِ معین کی تقلید مین نصرانیت اور شرک کا شائبہ پایا جاتا ہے:

"فى اتباع شخص معين شوب من النصرانية"(ايضا ص27)

"شوب من النصرانية حظ من الشرك"(ايضا)

نظریہ اہل حدیث اور شیخ الکل:

ولی اللہی خاندان کا یہ وہ نظریہ ہے جو بعینہ اہل حدیث کا نظریہ ہے۔ ولی اللہی سلسلے کے نامور محدث شیخ الکل مولانا سید نذیر حسین محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو خود بیان فرمایا ہے، چنانچہ موصوف معیار الحق میں تحریر فرماتے ہیں:

"بنا بریں اس کے اس عاجز نے واسطے اظہارِ حق اور خیرخواہی عوام مومنین کے، کہ افراط و تفریط میں نہ پڑیں، درباب اعتقاد رکھنے حقیقتِ تقلید مذاہب اربعہ وغیرہم رحمہم اللہ تعالیٰ کے مطابق تحقیق جناب شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ والد ماجد جناب مولانا شاہ عبدالعزیز اور موافق تقریر دلپذیر مولانا محمد اسماعیل شہید علیہ الرحمۃ والرضوان، اور جس طرح سے کتبِ اصولِ حنفیہ اور مالکیہ اور شافعیہ وغیرہ میں دلیلِ شرعی کے ساتھ معمول بہ نزدیک علماء محققین مصنفین کے چلا آتا ہے، بے کم و کاست لکھ دیا۔" (معیار الحق ص4)

ہم آہنگی نہ ہو تو تنہا تلمذ کچھ نہیں:

شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کے ارشد تلامذہ میں سے شاہ محمد اسحاق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ (متوفی 1262ھ) کا نام بھی آتا ہے۔ جنہوں نے 20 برس تک شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کے مدرسہ میں درسِ حدیث دیا۔ ان کے شاگردوں کی تعداد اکتالیس کے لگ بھگ ہے، (تراجم علمائے حدیثِ ہند) ان میں سے مولانا احمد علی سہارنپوری، جنہوں نے دارالعلوم سہارنپور میں درسِ حدیث دیا، اور مولانا شاہ عبدالغنی، جو دارالعلوم دیوبند کے بانی مولانا قاسم نانوتوی کے استاد تھے۔ لیکن افسوس! حدیث جیسا قدرتی دودھ یہاں بھی تقلید کے سوداوی خلط میں اضافہ کا باعث بنا۔ حدیث سے پہلے اگر مقلد اندھیرے میں تھا تو اب وضوحِ حدیث کے بعد تصلب اور تثبت علی التقلید کی وجہ سے مرضِ تقلید نے مزید ترقی کی۔ "فزادهم الله مرضا" اس لیے یہاں شاہ اسحاق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کے درس سے علمی حد تک ان کا دماغ روشن ہوا مگر دل کی دنیا میں کوئی صالح انقلاب نہ آیا۔ درسِ حدیث کے بعد تقلید پر جمود فہم میں نہ آنے والی بات ہے۔

سید نذیر حسین محدث دہلوی رحمہ اللہ تعالیٰ:

عظیم محدث اور فقیہ شیخ الکل، شیخ العرب والعجم حضرت سید نذیر حسین محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے 13 سال آپ کی درس گاہ میں رہ کر ان سے صحاح ستہ، جلالین، بیضاوی، کنزالعمال، جامع صغیر للسیوطی سبقا پڑھیں اور وہاں رہ کر شاہ اسحاق رحمہ اللہ سے جتنا اور جیسا کچھ انہوں نے حاصل کیا اور کسی کو اتنا موقع کم ملا۔ اس کے علاوہ حضرت شاہ اسحاق رحمۃ اللہ علیہ کی موجودگی میں حضرت شیخ الکل فتوے دیا کرتے تھے اور حضرت شاہ صاحب اس سے فرحت محسوس کیا کرتے تھے۔ بلکہ بعض اوقات حضرت شاہ صاحب، سید صاحب سے مشکل سوالات کر کے ان کا امتحان بھی لیتے رہتے تھے۔ چنانچہ آپ کی خصوصی صلاحیتوں کی بناء پر حضرت شاہ صاحب کو جو اطمینان اور اعتماد حاصل ہوا اس کی بناء پر سئہ 1258ھ میں سید صاحب کو سند عطا کی۔ جب شاہ صاحب حجاز تشریف لے گئے تو ان کو علم حدیث کی اشاعت کے لیے اپنا خلیفہ بنایا۔ (مقدمہ 11 غایۃ المقصود شرح ابی داؤد)

چونکہ سید صاحب رحمۃ اللہ علیہ سلیم الفطرۃ انسان تھے، تقلید کے چرکوں سے ان کا قلب و دماغ مجروح نہیں ہو پایا تھا۔ اس لیے حدیث کے اس صالح دودھ نے اتباعِ حدیث کے جذبہ کو مزید نکھارا اور جلاِ پکڑی (رحمۃ اللہ علیہ رحمۃ واسعۃ) سید صحب تقریبا ساٹھ سال تک درسِ حدیث دیتے رہے (علمِ حدیث میں پاک و ہند کا حصہ ص202) آپ کے تلامذہ کا حلقہ اتنا وسیع ہے کہ اس کا احاطہ آسانی سے ممکن نہیں ہے۔ عرب و عجم کے ہر ملک اور ہر طبقہ سے مستفیدین آئے اور کسبِ فیض کے بعد واپس جا کر تدریس و تصنیف و تالیف کے ذریعے کتاب و سنت کی اشاعت کی۔ تفسیر اور شروحِ حدیث کے انبار لگا دیے۔ پاک و ہند میں آپ کے حلقہ کے افاضل نے مدارس کی اس قدر داغ بیل ڈالی ہے کہ آج ان کا شمار مشکل ہو رہا ہے۔

غور فرمائیے! ولی اللہی مکتبِ حدیث کے جن تقلیدی سلسلوں کا فاضل ٹونکی نے ذکر کیا ہے۔ ان کو سید نذیر حسین دہلوی رحمۃ اللہ علیہ جیسے وقیع سلسلہ کے ذکر کی توفیق نہ ہوئی۔ "انا لله وانا اليه راجعون" ہمارے نزدیک ولی اللہی مکتبِ حدیث کے اصلی اور سچے وارث شیخ العرب والعجم حضرت شید نذیر حسین محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کی ذاتِ گرامی اور آپ کے مستفیدین ہیں، باقی رہے مقلدین کے حلقے، وہ دیوبند ہوں یا سہارنپور وغیرہ، تو وہ ان کی خانقاہوں کے مجاور تو ضرور ہیں لیکن ان کا نام بیچ کر تقلید کا کاروبار کرتے ہیں کیونکہ مقلد عامی (ان پڑھ) کہلاتے ہیں۔ خواہ وہ کتنا پڑھ جائیں وہ اہل علم شمار نہیں ہوتے۔ کیونکہ علمی مشعلوں سے کام نہیں لیتے۔ آنکھیں بند کر کے کسی کی ڈنگوری پکڑ کر چلنا جانتے ہیں۔ ان کو علمی مکتب کا وارث کہلانا ولی اللہی مکتب علم حدیث اور حدیث کی توہین ہے۔
میراث میں آتی ہے انہیں مسندِ ارشاد
زاغوں کے تصرف میں عقابوں کے نشیمن

تجدیدی نمونہ:

فاضل ٹونکی کا یہ کہنا کہ : حضرات علماء دیوبند و سہارنپور نے سو سال تک تجدید کا کام کیا۔" بڑا عجیب لطیفہ ہے، کیونکہ تجدید اُن خوش قسمت حضرات کا حصہ ہوتا ہے جو فکر و نظر کی حریت کے حامل ہوتے ہیں اور دینی دائرہ کے اندر قلب و نگاہ کے عمل کا احترام دینی فریضہ تصور کرتے ہیں اور جو مقلد ہوتا ہے وہ اپنے امام کی لکیر کا فقیر ہوتا ہے، اسے کیا خبر کہ حریتِ فکر و نظر خدا کا کتنا بڑا انعام ہے۔ گو یہ بڑے خواندہ لوگ ہیں لیکن قلب و نگاہ کی غلامی نے اس اکسیر کو خاک سے کمتر بنا کر رکھ دیا ہے:
وہ فریب خوردہ شاہیں کہ پلا ہو کرگسوں میں
اسے کیا خبر کہ کیا ہے رہ و رسمِ شاہ بازی

ہمارا ایمان ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی کے سوا بندہ مومن کے لیے دوسری ہر غلامی توہینِ انسانیت ہے۔۔ بہرحال تجدید کا کام وہ نفوس قدسیہ انجام دے سکتے ہیں جو غور و تفکر اور تدبر سے کام لیتے ہیں، جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی راہ اختیار کرتے ہوئے کسی دوسرے کی ذہنی غلامی کی بریکیں توڑ کر سفر جاری رکھ سکتے ہوں۔ گو دیوبندی علماء کے سلسلے میں ہم حسنِ ظن رکھتے ہیں کہ علمی حد تک اہلِ رسوخ لوگ ہیں لیکن آہ تقلید نے ان کو اپنے علم و فہم سے استفادہ نہیں کرنے دیا۔

دارالعلوم دیوبند اور سہارنپور میں تدریس:

اس میں کوئی شک نہیں کہ حضرت شاہ اسحاق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کے بعض تلامذہ کے کچھ شاگردوں نے دیوبند اور سہارنپور میں تدریس کا اہتمام کیا اور ان میں درسِ حدیث بھی جاری کیا گیا لیکن تدریس ولی اللہی نہیں رہی تھی بلکہ صرف دیوبندی اور سہارنپوری تھی، جن میں تقلید کے حضور نذرانے پیش کئے جاتے تھے اور احادیث کو حنفی بنانے کی کوشش کی جاتی تھی۔ چنانچہ بقول حضرت مولانا مفتی محمد شفیع رحمۃ اللہ علیہ، حضرت مولانا سید انور شاہ دیوبندی رحمۃ اللہ علیہ نے اخیر عمر میں اپنے اس تعامل پر غم میں ڈوب پر شدید افسوس کیا تھا۔ ملاحظہ ہو، "وحدتِ امت" مؤلفہ حضرت مولانا مفتی محمد شفیع دیوبندی رحمۃ اللہ علیہ۔

حضرت مولانا احمد علی سہارنپوری رحمۃ اللہ علیہ، جو سہارنپور میں بقولِ فاضل ٹونکی، ولی اللہی تدریس کے خلیفہ رہے، انہوں نے حضرت شاہ اسحاق رحمۃ اللہ علیہ سے صحیح بخاری کا صرف کچھ حصہ پڑھا تھا، اور کچھ سنا تھا۔ چنانچہ صحیح بخاری کے مقدمہ میں لکھتے ہیں:

"ثم قرأت ثانيا بعض الصحيح وسمعت بعضه بقراءة الغير على الشيخ المكرم"(مولانا محمد اسحاق)

بہرحال ان کے مقلدانہ تجدیدی کارنامہ کی ایک مثال نقل کرتا ہوں، اس کے بعد ان کی تجدید کی کیفیت کا خود ہی اندازہ فرما لیں کہ یہ حنفیت کی تجدید تھی یا حنفیت اور حدیث کی؟ حدیث میں آیا ہے کہ " جب نماز کی جماعت کے لیے تکبیر ہو جائے تو فرضی نماز کے بغیر اور کوئی نماز نہیں۔" (بخاری ص91/1) مگر احناف کا کہنا ہے کہ صبح کی سنتیں پڑھی جا سکتی ہیں، چنانچہ صحیح بخاری کے اسی مقام پر اپنے حاشیہ میں مولانا سہارنپوری رحمۃ اللہ علیہ نے تحریر فرمایا:

"وسمعت استاذى مولانا محمد اسحاق رحمه الله تعالى يقول ورد فى رواية البيهقى اذا اقيمت الصلوة فلاصلوة الا المكتوبة الا ركعتى الفجر"(حاشيه بخارى ج1ص91)

"میں نے اپنے استاذ مولانا محمد اسحاق رحمہ اللہ تعالیٰ کو یہ فرماتے سنا کہ بیہقی کی روایت میں آیا ہے کہ : "جب تکبیر کہی جائے تو فرضی نماز کے سوا اور کوئی نماز نہیں مگر صبح کی دو رکعتیں (یعنی سنتیں)۔"

امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ نے " الا ركعتى الفجر" ذکر کر کے فرمایا:

« وهذه الزيادة لااصل لها»(بيهقى ج2ص483

کہ "یہ جملہ بے اصل ہے"

اس میں دو راوی ہیں جو بالکل بے کار ہیں: حجاج بن نصیر فساطیطی، امام ابوداؤد فرماتے ہیں: محدثین نے اس کی حدیث ترک کر دی ہے، دوسرا عباد بن کثیر ثقفی ہے، یہ ایسی شخصیت ہے کہ جب انہوں نے وفات پائی ہے تو حضرت امام سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ نے اس کی نماز جنازہ تک نہیں پڑھی تھی اور فرماتے تھے، اس کی روایت سے بچو"احذروا حديثه" (میزان الاعتدال) امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ کا ارشاد ہے، "اس نے جھوٹی حدیثیں روایت کی ہیں۔" (اعلان اہل العصر)

ان مجددین کو ایسی حدیث کے پیش کرنے سے پرہیز کرنا چاہئے تھا، اگر تقلید کے ہاتھوں مجبور ہو گئے تھے تو اس کی اصلیت کا ذکر ہی کر دیتے۔ اگر یہ بات ذہن میں نہیں آتی تھی تو جب اس طرف توجہ دلائی گئی تھی تو پھر بھی اس کا احساس فرما لیتے مگر افسوس! ان سے یہ بھی نہ ہو سکا۔

حضرت مولانا شمس الحق عظیم آبادی (1329ھ) مصنف عون المعبود شرح ابی داؤد فرماتے ہیں کہ حضرت مولانا سید نذیر حسین رحمۃ اللہ علیہ نے 1293ھ میں حضرت مولانا سہارنپوری کو اس تسامح کی طرف توجہ دلائی تو آپ نے اس طرف دھیان نہ دیا بلکہ ایک صاحب کو میاں صاحب کا والا نامہ برائے جواب ارسال کر دیا، انہوں نے بھی چپ سادھ لی، الغرض حقیقی صورتِ حال کے وضوح کے باوجود جناب نے حاشیہ کی اصلاح نہ فرمائی اور نہ ہی مناسب جواب سے سرفراز کیا۔ (اعلام اہل العصر باحکام رکعتی الفجر ص134 طبع مکتبۃ العلمیۃ لاہور)

آخر اس بے توجہی کا سبب تقلیدِ ناسدید کے سوا اور کون سی مجبوری ہو سکتی ہے؟ یقین کیجئے! اکابرِ دیوبند کے اس اسلوبِ نظر اور تعامل کے باوجود ہم ان کے سلسلے میں سوء ظن نہیں رکھتے کہ وہ بدنیت ہیں یا جان کر وہ ایسا کرتے ہیں، بلکہ اصل وجہ اس کی یہ ہے کہ تقلید نے ان کو اس قدر خوش فہم بنا دیا ہے کہ اس قسم کے واضح تسامح کے باوجود سطحی سہاروں کے ذریعے وہ اپنے آپ کو بہلا لیتے ہیں۔ اور اسی کج ادا نے ان کے تقلیدی سلاسل کو دراز سے دراز کر کے استحکام بخشتا ہے۔

ہندو پاک میں غیر مقلدیت کی فتنہ انگیزیاں:

فاضل ٹونکی نے مندرجہ بالا غیر علمی عنوان کے تحت بیان فرمایا ہے کہ پاک و ہند میں جتنے علمی ظلمات نے اپنے سائے ڈالے ہیں یا فکری اور اعتقادی گمراہیوں نے اپنے پاؤں جمائے ہیں، ان کو غیر مقلدیت نے ہی زمین مہیا کی ہے، نورالدین قادیانی ہو یا مولوی چراغ علی، سرسید ہو یا اسلم جیراجپوری، یہ سب حضرات غیر مقلد تھے اور یہاں سے ادھر ادھر لڑھکتے چلے گئے ہیں۔۔۔ (خلاصہ بینات اکتوبر 84ء از ص8)

یہ ایک الگ موضوع ہے کہ یہ حضرات اصل میں کیا تھے اور کیا نہیں تھے؟ اس پر کسی اور فرصت میں روشنی ڈالی جائے گی۔ اس وقت ہم صرف یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ کیا واقعی وہ حضرات ایک اہل حدیث کی حیثیت سے بِدکے، یا اہل الرائے کی حیثیت سے فکری اور عملی گمراہیوں کو سینے سے لگایا؟

غیرمقلدیت کے معنے مادرپدر آزاد سفر کرنے کے نہیں ہیں بلکہ صرف کتاب و سنت کی سنہری اور بصیرت افروز مشعلوں کے جلو میں سفرِ حیات جاری رکھنے کا نام ہے، اور غیر مقلد اسلاف کی تعبیر اور تعامل کے سنگِ میل کو سامنے رکھ کر اپنی منزل کی سمت کو متعین کرتا چلا جاتا ہے۔ جب ان شمعوں کو بجھا کر کوئی شخص کارزارِ حیات میں اترتا ہے تو وہ عموما فکر و نظر کے جاہلی اژدھا کے منہ میں چلا جاتا ہے اور نفس و طاغوت کے ایٹم بموں کے دھماکوں سے اپنی دنیوی عافیت اور اخروی شرف و عزت کی کائنات کو تہ و بالا کر کے رکھ دیتا ہے۔۔۔ اس حقیقت کبریٰ کے باوجود جو حضرات تلقید کو مقامِ معذرت کے بجائے فخر و مباہات کی کوئی سوغات تصور کر لیتے ہیں، تو ان کی مثال یوں خیال فرمائیں کہ ایک اندھا ہے جو اپنے اندھے پن پر فخر کرتا ہے اور اس مستعار ڈنگوری پر نازاں ہے جس کو پکڑ کر چہل قدمی کر پاتا ہے، قارئین غور فرمالیں کہ تقلید کوئی قابلِ فخر بات ہے یا مقامِ ندامت اور معذرت؟ فاصل ٹونکی تجاہل عارفانہ سے کام لے رہے ہیں ورنہ ان سے بہتر کون جانتا ہے کہ پاک و ہند میں جتنے فتنوں نے سر اٹھایا ہے، احناف کے امتیازی وصف، رائے و قیاس کے بل بوتے پر اٹھایا ہے۔ جب تک انہوں نے مسلک اہل حدیث کو چھوڑ کر رائے و قیاس کی زمین پر قدم نہیں رکھا، ان فتنوں نے ان کو اپنا شکار نہیں بنایا تو اس کی اصل ذمہ داری حنفی ذہنیت پر عائد ہوتی ہے جس نے ان کو قیاس و رائے کی ڈنگوری پکڑا کر بے راہ ہونے کی توفیق بخشی۔

اصل مرج رائے و قیاس کی حکمرانی ہے جو مسلکِ حنفی کا امتیازی وصف ہے کہ کتاب و سنت کی واضح ہدایات کے باوجود قیاس و رائے کے گھوڑے دوڑاتے رہتے ہیں۔ جب ایک شخص قرآن و حدیث کی پابندی کو اپنی آزادی کے لیے حریف تصور کرنے لگ جاتا ہے، اس وقت وہ جدھر چاہتا ہے، منہ اٹھا کر اٹھ دوڑتا ہے، یہ روگ اس وقت لاحق ہوتا ہے جب انسان مسلکِ حدیث کو چھوڑ کر اہل الرائے کی ڈگر پر چل دوڑتا ہے۔ فاضل ٹونکی اگر غور فرماتے تو ان کی بات آسانی سے سمجھ میں آ سکتی تھی کہ اصل قصور وار حنفی ذہنیت ہے جو قرآن و حدیث کی موجودگی میں قیاس و رائے پر قناعت کرتی ہے، یہی وجہ ہے کہ احناف کے زمرہ اور گروہ میں فقہی جزئیات کے حامل ایسے حضرات بھی شامل ہیں جو معتزلی بھی ہیں اور مرجئہ بھی اور دوسرے گمراہ فرقوں کے رہنما بھی۔۔۔ اسی طرح جتنے گمراہ فرقے پاک و ہند میں ابھرے ہیں وہ حنفی قیاس و رائے کے مریض ہیں۔

لیکن یہ فارمولا بھی کوئی معقول فارمولا نہیں ہے کہ چونکہ پہلے وہ فلاں فرقے سے تعلق رکھتا تھا، لہذا اب وہ یہاں سے چھلانگ لگا کر کسی دوسرے غلط راستہ پر پڑ گیا ہے، تو اس کی اصل ذمہ داری اس کے پہلے فرقے پر عائد ہوتی ہے، جہاں سے آ کر وہ اس میں شامل ہوا ہے۔ اگر یہ صحیح کلیہ ہے تو آپ ان کے متعلق کیا فرمائیں گے جو لوگ مسلمان ہو کر پھر مسیلمہ کذاب یا اسود عنسی جیسے دشمنانِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے متبع ہو گئے تھے اور سینہ سپر ہو کر صحابہ رضی اللہ عنھم سے لڑے اور کٹ مرے تھے۔ اسی طرح بے شمار مقلدین شیعہ، سوشلسٹ اور ملحد بھی ہو گئے، کیا ان کے جرائم اور حماقتوں کی ذمہ داری صحابہ رضی اللہ عنھم، دین نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور مقلدین پر عائد ہو گی؟ ۔۔۔ بھٹو کی گمراہ کن سوشلزم کو جنہوں نے قبول کیا ان کی اکثریت حنفی رہی ہے، اب حنفیت کی زمین کیسی رہی؟ اب یہ خود ہی بتائیں؟ ہم اگر عرض کریں گے تو شکایت ہو گی۔

اس کے علاوہ مرزائی یا کوئی شیعہ یا کوئی غیر مسلم، مسلمان ہو کر پھر اہل السنہ والجماعۃ میں شامل ہو جاتا ہے تو کیا یہ کہنا صحیح ہو گا کہ دراصل مرزائیت، شیعیت یا عیسائیت، یہودیت یا بدھ مت وغیرہ کی زمین مبارک ہے، جس سے یہ گل و لالہ اُگ سکے ہیں۔ چہ می فرمایند علمائے مقلدین بیچ اس مسئلہ کے؟

ہندی مقلدین کا دعویٰ ہے کہ پاک و ہند میں پہلے صرف حنفی تھے، یہ غیرمقلد بعد میں پیدا ہوئے ہیں؟ اگر یہ دعویٰ صحیح ہے تو پھر سارے فتنوں کی اماں حوا حنفی مسلک ہوا، تو بہتر ہے کہ پہلے حنفی مسلک کے خلاف کوئی متفقہ قراردادِ مذمت پاس کی جائے کہ کسی طرح پہلے اس کی جڑ کے خلاف کوئی تبر چلایا جائے۔

ہندی مقلدین میں بریلویوں کا اضافہ بجائے خود اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ حنفی مسلک میں نقل کو کم دخل ہے۔ اس لیے رائے و قیاس سے جو بات کسی کوبھی معلوم ہوئی انہوں نے اسے دین و ایمان کا حسہ بنا لیا۔ خواہ کتاب و سنت اس کے متحمل ہوں یا نہ؟

ولی اللہی فکر کی تفصیل سامنے آ جائے تو ناچیز کا اندازہ ہے کہ حنفی مقلدین کی جعل سازی کھل کر سامنے آ جائے کہ کجا فکر ولی اللہی اور کجا مقلدین کی لن ترانی، چہ نسبت خاک رابہ عالم پاک؟ صرف جزئیات کی حد تک ہی دونوں کو باہم تو لا جائے تو آپ محسوس کریں گے کہ دیوبندی حنفیوں کو شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ سے وہی نسبت ہے جو بریلویوں کو شاہ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ سے ہے۔ جن علماء نے شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ کی "حجۃ اللہ البالغہ" کا مطالعہ کیا ہے وہ ابھی طرح جانتے ہیں کہ اس میں انہوں نے حنفی حضرات کی فقہی تخلیقات کی اتنی مخالفت کی ہے جتنی کتاب و سنت کا کوئی حامل شخص کر سکتا ہے۔ مجھے اچھی طرح یار ہے کہ حضرت مولانا انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ کے شاگردِ رشید اور "العرف الشذی" کے مؤلف اور میرے خصوصی کرمفرما حضرت مولانا محمد چراغ (گوجرانوالہ) دیوبندی مدظلہ العالی نے "حجۃ اللہ البالغہ" کے حاشیہ پر اپنے مبارک ہاتھوں سے ان مقامات کی نشاندہی کی ہے جہاں جہاں شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ نے حنفی مسلک کے برعکس فیصلہ دیا ہے۔۔۔اور ان کی تعداد اتنی ہے کہ اگر ان کو شمار کر لیا جائے تو ایک "جدید قدوری" تیار ہو سکتی ہے۔ اس لیے ہم چاہتے ہیں کہ اپنے مسلکی مفاد کے لیے حضرت شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ کا نامِ نامی استعمال کرنے سے پرہیز کریں کیونکہ ہند کے احناف اور ولی اللہی فکر و عمل میں خاصا تضاد اور بنیادی اصول کی حد تک دونوں کے کے مابین نمایاں اختلاف پایا جاتا ہے۔۔۔ اپنی چومکھی مصروفیات کی وجہ سے میں اس پوزیشن میں نہیں ہوں کہ فریقین کے ذہنی اور عملی تضاد کو نمایاں کرنے کے لیے تقابلی مطالعہ آپ کے سامنے رکھوں۔ اس لئے اگر جماعت اہل حدیث کے رہنماؤں کو توفیق ملے تو شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ کے ان افکار اور مرضیات کو جمع کیا جائے جن کے حریمِ ناز میں قدم رکھتے ہی حنفی مقلدین کے بالخصوص پَر جلنے لگتے ہیں۔ تاکہ پاک و ہند کے حنفی سامریوں کے وعدوں کی قلعی کھل جائے اور جو "عجل" (بچھڑا) انہوں نے اپنی شعبدہ بازی کے زور سے گھڑ کر عوام کے سامنے لا کھڑا کیا ہے، وہ اس ضرب، کلیمی سے پاش پاش ہو جائے جو کتاب و سنت کے طور سے اُبھرے اور مقلدانہ فسونِ سامری کو بے نقاب کر ڈالے۔