صوبیدار شیر علی الرحیمی گلگت سے لکھتے ہیں:

مکرمی و محترمی، السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ،

امیدِ واثق ہے آپ بعافیت ہوں گے۔ امام بعد، راقم ایک ذہنی پریشانی میں مبتلا ہے۔ یہاں گلگت و بلتستان میں کوئی ایسا مستند موحد عالم دین نہیں، جس سے مسئلہ پوچھ سکوں۔ لہذا یہ الجھن آپ کی خدمت میں پیش کر رہا ہوں۔ امید ہے آپ جواب باصواب سے ضرور مطلع فرمائیں گے، میں خدا تعالیٰ کو حاجر ناظر جان کر مسئلہ کی صحیح صورت تحریر کر رہا ہوں۔

میں فوج میں بحیثیت صوبیدار ملازمت کر رہا ہوں۔ اور نوکری کا بیسواں سال چل رہا ہے۔ سئہ 1971ء کی جنگ کے دوران سائل کے گاؤں مع آبادی پر بھارت کا گاصبانہ قبضہ ہوا۔ لہذا والدین، بیوی بچے، بھائی بہن الغرج سبھی رشتہ دار اسی گاؤں میں رہ گئے اور اب بھی بفضلِ خدا زندہ ہیں جن سے خط و کتابت ہوتی رہتی ہے۔

میں کوشش کر رہا تھا کہ بیوی اور بچی کو پاکستان سے لے آؤں۔ اس کے لیے دونوں حکومتوں سے درخواست بھی کی۔ لیکن پچھلے دو سال سے میری اہلیہ اور بھائی عبدالکریم کی جانب سے لگاتار خطوط پہنچے کہ بیوی کو طلاق دے دوں۔ نیز یہ کہ والدین اور سسرال والوں کی جانب سے بھی طلاق کی گزارش ہے۔ لہذا میں نے اپنے والدین اور بھائی کی خواہش کا احترامِ کرتے ہوئے اپنی بیوی کو طلاق دے دی۔ میرا طلاق نامہ ابھی گھر میں پہنچا نہیں تھا کہ محلہ میں افواہ پھیل گئی ، عبدالکریم (چھوٹا بھائی) بڑے بھائی سے طلاق حاصل کرنے کے بعد اس کی مطلقہ سے شادی کرنے والا ہے۔ لہذا میرے والد نے مجھے خط لکھا کہ طلاق فی الحال مت بھیجو، کیونکہ تمہارے بھائی عبدالکریم کی نیت ٹھیک نہیں ہے۔ لیکن ادھر ان کو میرا طلاق نامہ مل گیا۔

جب والد صاحب کو یہ معلوم ہوا کہ عبدالکریم میری مطلقہ بیوی سے شادی کرنے والا ہے۔ تو والد صاحب نے گاؤں کے نمبردار کے ذریعہ میرے بھائی کو یہ پیغام بھیجا کہ ایسی شادی جائز نہیں ہے۔ کیونکہ تم نے اپنی بھابھی سے ساز باز کر کے طلاق لی ہے۔ لیکن بھائی عبدالکریم نے والدین کی مرضی اور اجازت کے بغیر نکاح پڑھوا لیا۔

نکاح کے موقع پر نہ میرے والدین اور رشتہ دار شامل ہوئے اور نہ میری بیوی کے والدین، بھائی اور چچا میں سے کوئی بطور ولی یا گواہ شامل ہوا۔ نکاح کے دونوں گواہ بھی تارک الصلوۃ اور عادل نہیں۔

لہذا آپ سے درخواست ہے کہ اس شادی کی شرعی نوعیت کے بارے میں فتویٰ صادر فرما کر شکریہ کا موقع دیں۔

الجواب:

والد کے خط ملنے پر عدت کے اندر اندر آپ نے اگر رجوع کر لیا اور ان کو اپنے فیصلہ کی اطلاع کر دی تھی تو دوسرا نکاح جائز ہی نہیں ہو گا، وہ آپ کے نکاح میں تصور کی جائے گی ورنہ ان کا نکاح جائز ہو گا۔ اسی طرح اگر والدین کی موجودگی میں ان کی مرضی کے برعکس اس نے دوسرے سے نکاح کر لیا ہے تو بھی وہ نکاح جائز نہیں ہو گا۔ کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "لَانِكَاحَ اِلَّا بِوَلِىٍّ"

پہلی صورت تو بالکل متفق علیہ ہے، رہی دوسری صورت (ولی کے بغیر نکاح نہیں ہوتا؟) سو امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ:

حضرت عمر رضی اللہ عنہ، حضرت علی رضی اللہ عنہ، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ اور حضر ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا یہی مذہب ہے، رئیس التابعین حضرت سعید بن المسیب رحمۃ اللہ علیہ، حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ، قاضی شریح امام نخعی رحمۃ اللہ علیہ، عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ وغیرہ بھی یہی فرماتے ہیں، امام سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ، امام اوزاعی رحمۃ اللہ علیہ، امام مالک رحمۃ اللہ علیہ، امام ابن مبارک رحمۃ اللہ علیہ، امام چافعی رحمۃ اللہ علیہ، امام احمد رحمۃ اللہ علیہ اور امام اسحاق رحمۃ اللہ علیہ کا بھی یہی مسلک ہے، (ترمذی باب ما جاء لانکاح الا بولی) اس کے باوجود اگر نکاح کر لیا گیا تو ان کے درمیان تفریق کر دی جائے اور مہر مثل وصول کر لی جائے۔ ہذا ماعندی واللہ اعلم بالصواب۔