زندگی پُر بہار ہوجائے
ہر نظر لالہ زار ہوجائے
ناطقہ دل کا ترجمان بنے
ہرنفس اک شرار ہوجائے
دشتِ طیبہ جنوں نواز بنے
خاکِ بطحیٰ مزار ہوجائے
زندگی اپنی جس قدر بھی ہے
ان کی خاطر نثار ہوجائے
ان کی الفت کے پھول گرنہ کھلیں
گلِ ترک نوک خار ہوجائے
نام ان کا اگر زباں پر ہو
جذبِ دل باوقار ہوجائے
نقشِ پا ان کے گرنہ روشن ہوں
زندگی خار زار ہوجائے
کیف ومستی کر ہر ادا بڑھکر
میری لوحِ مزار ہوجائے
ان کے در کی رسائی ہوممکن
ہر نفس بے قرار ہوجائے
ناز پرور تری مشیت ہے
کیوں نہ عالی وقار ہوجائے
میرے ذوقِ نظر کا ہر پردہ
اک گریباں کا تار ہوجائے