اللہ تعالیٰ کا ہم پرفضل و احسان ہے کہ اس نے ہماری رُشد و ہدایت اور تبلیغ احکام کے لیے اپنے پیغمبر علیہ الصلاۃ والسلام کو مبعوث فرمایا۔ رسولِ اکرمﷺ نے فریضۂ تبلیغ کو بدرجہ اتم انجام دیا۔ ہر خیر و بھلائی کے کام پر اپنی اُمت کی راہنمائی فرمائی اور ہر بُرائی سے اُنہیں خبردار کیا اور خیرخواہی کا حق ادا کر دیا۔ ربّ کائنات نے اپنے پیغمبر کے شرفِ صحبت اور تحصیل علومِ شریعت کے لیے ایسے لوگوں کاانتخاب کیا جواس اُمت کے افضل او ربہترین افراد تھے۔ ان صحابہ ؓ نے براہِ راست آپﷺ سے علم حاصل کیا اور دنیا وآخرت میں سرفراز ہوئے۔ ذلك فضل الله يوتيه من يشاء والله ذو الفضل العظيم!
صحابہ کرام  کے شرف و فضیلت پر کتاب و سنت سے دلائل
رسولِ اکرم ﷺ کے بعد صحابہ کرامؓ نے فریضۂ تبلیغ کو سرانجام دیا، اس فریضہ کی انجام دہی میں ان کی مساعی قابل قدرہیں۔ صحابہ کرامؓ کے عالی مقام اور عظیم المرتبت ہونے کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ ایک طرف اُنہیں شرفِ صحبت اور رسولِ اکرمﷺ کے ساتھ اعلائے کلمۃ اللہ کے لیے جہاد کرنےکی فضیلت حاصل ہے اور دوسری طرف تبلیغ شریعت کے نتیجہ میں قیامت تک آنے والے مسلمانوں کے اَجروثواب اُن کامقدر ہیں، کیونکہ اُنہوں نے ہی رسولِ اکرمﷺ کے بعد اس اُمت کو رُشد و ہدایت کی راہ پر لگایا اور لسانِ رسالتؐ سے صادر ہونے والے اس عظیم مقام کو حاصل کیا:
«من دعا إلىٰ هدي کان له من الأجر مثل أجور من تبعه لا ینقص ذلك من أجورهم شیئا»1
''جو انسان دوسرے کو ہدایت کی دعوت دے تو اس داعی کو دعوتِ ہدایت کو اختیار کرنے والوں کا بھی اجر ملتا ہے او راُن کے اجور میں کوئی کمی نہیں ہوتی۔''
قرآن و سنت میں صحابہ کرامؓ کے فضل و شرف پر مندرجہ ذیل نصوص شاہد ہیں:
قرآنِ کریم
1. اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان قرآن کریم میں موجود ہے:
﴿وَالسّـٰبِقونَ الأَوَّلونَ مِنَ المُهـٰجِر‌ينَ وَالأَنصارِ‌ وَالَّذينَ اتَّبَعوهُم بِإِحسـٰنٍ رَ‌ضِىَ اللَّهُ عَنهُم وَرَ‌ضوا عَنهُ وَأَعَدَّ لَهُم جَنّـٰتٍ تَجر‌ى تَحتَهَا الأَنهـٰرُ‌ خـٰلِدينَ فيها أَبَدًا ذ‌ٰلِكَ الفَوزُ العَظيمُ ١٠٠ ﴾.... سورة التوبة
'' مہاجرین اور انصار سابق اور مقدم ہیں اور جتنے اخلاص کے ساتھ ان کے پیروہ ہیں اللہ ان سب سے راضی ہوا اور وہ سب اس سے راضی ہوئے۔اللہ نے ان کے لیے ایسے باغات تیار کر رکھے ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔''
2. ﴿مُحَمَّدٌ رَ‌سولُ اللَّهِ وَالَّذينَ مَعَهُ أَشِدّاءُ عَلَى الكُفّارِ‌ رُ‌حَماءُ بَينَهُم تَر‌ىٰهُم رُ‌كَّعًا سُجَّدًا يَبتَغونَ فَضلًا مِنَ اللَّهِ وَرِ‌ضو‌ٰنًا سيماهُم فى وُجوهِهِم مِن أَثَرِ‌ السُّجودِ ذ‌ٰلِكَ مَثَلُهُم فِى التَّور‌ىٰةِ وَمَثَلُهُم فِى الإِنجيلِ كَزَر‌عٍ أَخرَ‌جَ شَطـَٔهُ فَـٔازَرَ‌هُ فَاستَغلَظَ فَاستَوىٰ عَلىٰ سوقِهِ يُعجِبُ الزُّرّ‌اعَ لِيَغيظَ بِهِمُ الكُفّارَ‌ وَعَدَ اللَّهُ الَّذينَ ءامَنوا وَعَمِلُوا الصّـٰلِحـٰتِ مِنهُم مَغفِرَ‌ةً وَأَجرً‌ا عَظيمًا ٢٩ ﴾.... سورة الفتح
''محمد اللہ کے رسول ہیں اور جو لوگ ان کے ساتھ کافروں پر سخت ہیں آپس میں رحم دل ہیں، تو انھیں دیکھے گا کہ رکوع اور سجدے کر رہے ہیں اللہ تعالیٰ کے فضل اور رضا مندی کی جستجو میں ہیں،ان کا نشان ان کے چہروں پر سجدوں کے اثر سے ہے ان کی یہی مثال تو رات اور انجیل میں ہے۔''
﴿لِيَغيظَ بِهِمُ الكُفّارَ‌﴾کے الفاظ ان لوگوں کے لیے شدید وعید اور خطرناك ہیں جو صحابہ کرامؓ کے متعلق ناراضگی رکھتے ہیں اور جن کے دلوں میں صحابہ کرامؓ کے بارے کینہ اور بغض و عداوت موجود ہے۔
3. ﴿لا يَستَوى مِنكُم مَن أَنفَقَ مِن قَبلِ الفَتحِ وَقـٰتَلَ أُولـٰئِكَ أَعظَمُ دَرَ‌جَةً مِنَ الَّذينَ أَنفَقوا مِن بَعدُ وَقـٰتَلوا وَكُلًّا وَعَدَ اللَّهُ الحُسنىٰ وَاللَّهُ بِما تَعمَلونَ خَبيرٌ‌ ١٠ ﴾.... سورة الحديد
'' تم میں سے جن لوگوں نے فتح سے پہلے اللہ کے راستے میں خرچ کیا اور قتال کیا ہے وہ دوسروں کے برابر نہیں بلکہ ان سے بہت بڑے درجے کے ہیں جنہوں نے فتح کے بعد خیراتیں دیں اور جہاد کیے ہاں بھلائی کا وعدہ تو اللہ کا ان سب سے ہے جو کچھ تم کر رہے ہواس سے اللہ خبردار ہے۔''
4. مالِ فے کے مصارف کے بارے میں ارشادِ ربانی ہے:
﴿لِلفُقَر‌اءِ المُهـٰجِر‌ينَ الَّذينَ أُخرِ‌جوا مِن دِيـٰرِ‌هِم وَأَمو‌ٰلِهِم يَبتَغونَ فَضلًا مِنَ اللَّهِ وَرِ‌ضو‌ٰنًا وَيَنصُر‌ونَ اللَّهَ وَرَ‌سولَهُ أُولـٰئِكَ هُمُ الصّـٰدِقونَ ٨ ﴾.... سورة الحشر
''(فے کا مال) ان مہاجر مسکینوں کے لیے ہے جو اپنے گھروں سے اور اپنے مالوں سے نکال دیئے گئے ہیں وہ اللہ کے فضل اور اس کی رضامندی کے طلب گار ہیں اور اللہ کی اور اس کے رسول کی مدد کرتے ہیں یہی راست باز لوگ ہیں۔''
سورۃ الحشر کی ان تینوں آیات میں سے پہلی مہاجرین او ردوسری انصار کے فضائل پرمبنی ہے جبکہ تیسری ان لوگوں کے بارے میں ہے جو صحابہ کرامؓ کے بعد آئے؛ جو صحابہ کرام کے لیے استغفار کرتے ہوئے پروردگار سے اس بات کے خواستگار رہے کہ ان کےدلوں میں کبھی اصحابِ رسول کے لیے کینہ و بغض پیدا نہ ہو۔ آیات میں مذکور ان تین اقسام (مہاجرین و انصار اور دیگرصحابہ کرام ؓسے محبت کرنےوالوں) کے علاوہ دیگر لوگ شیطان کے جھانسے میں گرفتار ہوکر ذلت و رسوائی سے ہم کنار ہوتے ہیں۔
5. اسی طرح کے گمراہ لوگوں کے لیے سیدہ عائشہ ؓ نے سیدنا عروہؓ بن زبیر سے فرمایا:
«أمروا أن یستغفروا لأصحاب رسول الله ﷺ فسبوهم»2
''ان لوگوں کو اصحابِِ رسول کے لیے استغفار کا حکم تھا ،لیکن اُنہوں نے ان کو بُرابھلا کہا...''
سورۃ الحشر کی ان آیات کے تذکرے میں امام نووی نے لکھا ہے :
''امام مالک نے اسی سے دلیل لی ہےکہ جو آدمی صحابہ کرامؓ کو بُرا بھلا کہے، اس کا مالِ فے سے کوئی حق نہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مالِ فے کا استحقاق صحابہؓ کرام کے بعد آنے والوں کےلیے اس شرط کے ساتھ رکھا ہےکہ وہ اُن کے لیے استغفار کرنے والے ہوں۔''3
انہی آیات کی تفسیر میں امام ابن کثیر لکھتے ہیں :
''امام مالک  نے کیا خوب استدلال کیا ہے کہ وہ رافضی جو صحابہ کی گستاخی کا مرتکب ہوتا ہے، وہ مالِ فے کا حق دار نہیں ٹھہرتا،کیونکہ وہ ان اوصاف سے متصف نہیں جن کا اس آیت ﴿رَ‌بَّنَا اغفِر‌ لَنا وَلِإِخو‌ٰنِنَا الَّذينَ سَبَقونا بِالإيمـٰنِ...١٠ ﴾.... سورة الحشر" میں ذکر ہے۔
اَحادیث وآثار
6. رسولِ اکرمﷺ کا ارشادِ گرامی ہے کہ
«خیر الناس قرني ثم الذین یلونهم ثم الذین یلونهم»4
'' بہترین زمانہ میرا ہے پھر اس سے متصل زمانہ اور پھر اس کے بعد کا زمانہ ہے۔''
صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہؓ کی روایت کے الفاظ اس سے کچھ مختلف ہیں۔
«خیر أمتي القرن الذي بعثتُ فیهم ثم الذین یلونهم ثم الذین یلونهم» والله أعلم ذکر الثالث أم لا»5
'' میری اُمت کے بہترین لوگ اس زمانہ کے ہیں جس میں میری بعثت ہوئی، اس کے بعد وہ لوگ جو ان کے بعد کے دور میں ہوں گے اور ان کے بعد وہ لوگ جو اس دوسرے زمانہ کےبعد میں آئیں گے۔راوی کا کہنا ہے کہ واللہ اعلم آپؐ نے تیسرے زمانے کا ذکر کیا یا نہیں؟''
صحیح مسلم میں ہی حضرت عائشہ ؓ کی روایت ان الفاظ کے ساتھ بھی ہے:
«قالت: سأل رجل النبي ﷺ أي الناس خیر؟ قال: «القرن الذي أنا فيه ثم الثاني ثم الثالث»
''حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ ایک آدمی نے رسولِ اکرمﷺ سے سوال کیا کہ بہترین لوگ کون ہیں؟ آپ ؐ نے جواب دیا کہ میرے زمانے کے لوگ، پھر دوسرے اور پھر تیسرے زمانے کے لوگ۔ ''
7. صحیحین میں حضرت ابوسعید خدریؓ سے روایت ہے كہ رسول اکرمﷺ نے فرمایا:
«یأتي علىٰ الناس زماني فیغزو فئام من الناس فيقال: هل فيكم من صاحب رسول الله ﷺ؟ فيقولون: نعم، فيفتح لهم، ثم يأتي على الناس زمان فيغزو فئام من الناس فيقال: هل فيكم من صاحب أصحاب رسول اللهﷺ؟ فيقولون: نعم، فيفتح لهم، ثم يأتي على الناس زمان فيغزو فئام من الناس فيقال لهم: هل فيكم من صاحب من صاحب أصحاب رسول اللهﷺ؟ فيقولون:نعم، فيفتح لهم »6
'' لوگوں پر ایک وقت آئے گا کہ کچھ گروہ جہاد کریں گے تو کہا جائے گا کہ کیا تم میں رسولِ اکرمﷺ کا کوئی صحابی موجود ہے، جواب اثبات میں ملے گا تو اللہ تعالیٰ لوگوں کو فتح سے ہم کنار فرمائے گا۔ پھر لوگوں پر ایک وقت آئے گا کہ ان کے کچھ گروہ جہاد کریں گے تو پوچھا جائے گا کہ کوئی ایسا ہے جو صحابہ کرامؓ کی صحبت سے فیض یاب ہوا ہو (یعنی تابعی)۔ تو تابعی کی موجودگی پر اُنہیں فتح مل جائے گی پھر لوگوں پرایک وقت آئے گا کہ کچھ گروہ جہاد کی راہ پر نکلیں گے تو استفسار ہوگا کہ کیا تم سے کوئی تابعی کے شرفِ صحبت کا حامل (یعنی تبع تابعی) موجود ہے تو اس کی موجودگی کی وجہ سے فتح مقدر بن جائے گی۔''
8. امام ابن تیمیہ نے منهاج السنة میں ابن بطہ سے صحیح سند سے روایت کیا ہے كہ سیدنا عبد اللہ بن عباس فرماتے ہیں:
«لا تسبوا أصحاب محمد ﷺ فلمقام أحدهم ساعة یعني مع رسول الله ﷺ خیر من عمل أحدکم أربعین سنة»7
''اصحابِِ رسول کو بُرا بھلا مت کہو، ان کی رسولِ اکرمﷺ سےایک گھڑی شرفِ صحبت، تمہارے چالیس سال کے عمل سے بہتر ہے۔''
وکیع کی روایت کے الفاظ ہیں:
«خیر من عمل أحدکم عمرہ»8
'' تم میں سے کسی ایک کے عمر بھر کے اعمال سےبہتر ہے۔''
9. حضرت سعید بن زید نے عشرہ مبشرہ صحابہؓ کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا:
«والله لمشهد رجل منهم مع رسول الله ﷺ یغبر فیه وجهه خیر من عمل أحدکم ولو عمر عمر نوح»9
''اللہ کی قسم، صحابہ کرام میں سے کسی کی ایک بھی غزوہ میں رسول اکرمﷺ کے ساتھ حاضری تم میں سےکسی کے اعمال سے بہتر ہے اگرچہ وہ عمر نوح ہی پالے۔''
10. حضرت جابرؓ سے روایت ہے:
''حضرت عائشہؓ سے کہا گیا کہ کچھ لوگ اصحابِ رسول حتیٰ کہ حضرت ابوبکر وعمر کی شان میں گستاخی کے مرتکب ہوتے ہیں، حضرت عائشہؓ فرمانے لگیں، تمہیں اس سے تعجب کیوں ہے؟ ان اصحابِِ رسول کے اعمال تو (ان کی وفات کے ساتھ) منقطع ہوگئے، لیکن اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ ان کااجر منقطع نہ ہو۔''10
٭ حضرت عائشہؓ کے اس قول کی شہادت اس عمومی روایت سےبھی ہوتی ہے کہ رسول اکرمﷺ نےفرمایا:
«إن المفلس من أمتی یأتی یوم القیامة بصلاة وصیام وزکوٰة ويأتي وقد شتم هذا، وقذف هذا، وأكل مال هذا، وسفك دم هذا، وضرب هذا، فيعطي هذا من حسناته، وهذا من حسناته، فإن فنيت حسناته قبل أن يقضي ـ ما عليه أخذ من خطاياهم فطرحت عليه ثم طرح في النار»
''میری اُمت سے مفلس وہ ہے کہ جو قیامت کے دن نمازوں، روزوں اور زکوٰۃ کی صورت میں اعمال لے کر آئے گا، لیکن اس نے کسی کو گالی دی، کسی پر تہمت لگائی، کسی کامال ہڑپ کیا، کسی کا خون بہایا او رکسی کو مارا۔ یہ تمام لوگ اپنے حقوق کے عوض اس ظالم کی نیکیاں لے جائیں گے، اگر ان کے حقوق کی ادائیگی سے قبل اس کی نیکیاں ختم ہوگئیں تو ان مظلوم لوگوں کے گناہ اس پر ڈال کر اسےجہنم رسید کردیا جائے گا۔''11
11. صحیح بخاری میں حضرت ابوسعید خدریؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:
«لاتسبوا أصحابي فلو أن أحدکم أنفق مثل أحد ذهبا ما بلغ مدّ أحدهم ولا نصیفه»12
''میرے صحابہ کو بُرا مت کہو۔ اگر تم میں سے کوئی اُحد پہاڑ کے برابر سونا اللہ کی راہ میں خرچ کرے تو وہ صحابہ کرام کے دو چلو یا ایک چلو بھر صدقہ کے برابر بھی نہیں ہوسکتا۔''
٭ صحیح مسلم میں حضرت ابوسعید خدریؓ سے ہی یہ روایت ان الفاظ سے ہے:
کان بین خالد بن ولید وبین عبدالرحمن بن عوف شيء فسبه خالد فقال رسول اللهﷺ:«لا تسبوا أحدا من أصحابي فإن أحدکم لو أنفق مثل أحد ذهبا مابلغ مد أحدهم ولا نصیفه»13
''حضرت خالد بن ولید اور عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہما کے درمیان کچھ جھگڑا ہوا، حضرت خالدنے حضرت عبدالرحمن بن عوف کوبُرا بھلا کہا تو رسول اکرمﷺ نے فرمایا، میرے کسی صحابی کو بُرا مت کہو، اگر تم میں سے کوئی اُحد پہاڑ کے برابر سونا صدقہ کرے تو اُن میں سے کسی کے دو چلو یا ایک چلو بھر صدقہ کے برابر نہیں ہوسکتا۔''
ذرا غور کیجئے کہ اگر حضرت خالد بن ولید جیسے صحابی، (جو صلح حدیبیہ کے بعد مسلمان ہوئے) اس قدر بڑا عمل (اُحد پہاڑ کے برابر سونے کا صدقہ) کرنے کے باوجود عبدالرحمٰن بن عوف جیسے (قدیم الاسلام مہاجر) صحابی کے قلیل عمل (ایک مد صدقہ) کونہیں پہنچ سکتے حالانکہ دونوں ہی شرفِ صحبت رکھتے ہیں تو جنہیں شرفِ صحابیت حاصل نہیں، انہیں اُن افضل الامہ افراد سے کیونکر نسبت ہوسکتی ہے؟ یہاں تو زمین و آسمان کا فرق ہے، زمین کی خاک کو ثریا سے کیا نسبت ہوسکتی ہے؟
﴿ذ‌ٰلِكَ فَضلُ اللَّهِ يُؤتيهِ مَن يَشاءُ وَاللَّهُ ذُو الفَضلِ العَظيمِ ٤ ﴾.... سورة الجمعة
صحابہ کرامؓ نیکی و تقویٰ اور امانت و دیانت کے اعلیٰ مقام پرفائز ہیں۔
صحابہ کرام ؓکے تقویٰ و عدالت پر قرآن و سنت شاہد ہیں۔اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ کی طرف سے ان کی مداح سرائی کسی سے مخفی نہیں۔
ائمہ اسلاف کے اَقوال
12. امام نووی التقریب میں رقم طراز ہیں:
''صحابہ کرام ؓتمام عادل ہیں خواہ جن کا فتنوں سےپالا پڑا یا جو ان فتنوں سےمحفوظ رہے اور اس پراُمت کے معتبر لوگوں کا اجماع ہے۔''14
13. حافظ ابن حجر الإصابة في تمييز الصحابة میں نقل کرتے ہیں:
''اہل السنّہ کا اس بات پر اتفاق ہے کہ تمام صحابہ کرام عادل ہیں۔ صرف بدعتی اور ناقابل اعتبار لوگوں نے اس بات کی مخالفت کی ہے۔''15
اسی لیے سند حدیث میں اگر صحابی کانام مجہول بھی ہو تو کوئی حرج نہیں۔اگر تابعی یوں کہے:عن رجل صحب النبیﷺ تو اس سے روایت کی صحت پر کوئی اثر نہی پڑتا کیونکہ صحابی کے نام کاتذکرہ نہ بھی ذکر ہوتو کوئی نقصان نہیں۔ یہ صحابہ کے عدالت و امانت کے اعلیٰ مقام پر فائز ہونے کی وجہ سے ہے۔
14. خطیب بغدادیلکھتے ہیں:
''متصل حدیث کی قبولیت میں بھی راویوں کا عادل ہونا شرط ہے۔ صحابہ کرام کے علاوہ باقی راویانِ حدیث پر بحث ضروری ہے تاکہ رواۃ حدیث کی عدالت ثابت ہوسکے، لیکن صحابہ کرام کے حالات کی چھان بیان ضروری نہیں، اس لیے اس کی عدالت وامانت اور طہارت و رفعت منزلت خود ربِ کائنات کی طرف سے ثابت ہے۔''
ان کلماتِ فاضلہ کے بعد خطیب بغدادی نے صحابہ کرام ؓکی فضیلت و عظمت میں بعض آیات و احادیث کا تذکرہ کرنے کے بعد ان کی شان یوں بیان کی:
''اگر اللہ تعالیٰ اور سول مکرمﷺ سے صحابہ کرامؓ کی فضیلت سے متعلق کچھ منقول نہ بھی ہوتا تب بھی ان کے اپنے ایمانی حالات، ہجرت، جہاد اور دین کی سربلندی کے لیے جان و مال اور اولاد کی قربانی ان کی عدالت و امانت اور عقیدہ و عمل کی پاکیزگی و طہارت ان کےمابعد عظمت و شان کا اعتراف کرنےوالوں سےکہیں زیادہ بڑھ کر ہے۔ابو زرعہ سے روایت ہے کہ جب آپ کسی کو صحابہ کرام کی شان میں گستاخی کرتے ہوئے دیکھیں تو جان لیں کہ وہ زندیق ہے۔ اس لیے کہ رسولِ اکرمﷺ کی ذات اور قرآن کریم ہمارے ہاں برحق ہیں، ہم تک قرآن اور سنت رسول پہنچنےکاذریعہ اصحاب رسول ہی ہیں۔یہ زندیق او رملحد لوگ ہمارے گواہان شریعت پرجرح کرکے کتاب و سنت کو معطل کرنا چاہتے ہیں او رحقیقت میں یہی زندیق جرح کے حق دار ہیں۔''16
صحابہ کرام ؓکے بارے میں اہل السنّہ والجماعہ کا عقیدہ
اہل السنہ صحابہ کرام ؓکے بارے میں افراط و تفریط سے بالاتر ہوکر میانہ روی اور اعتدال پر مبنی موقف رکھتے ہیں۔ صحابہ کرامؓ کی عظمت میں غلو کرتے ہوئے اُنہیں اللہ یا رسول اللہﷺ کامقام دے دینا یا اُنہیں ان کےمنصب سےگرا کر طعن و تشنیع او رسب و شتم کانشانہ بنانا اہل السنّہ کے منہج کے منافی ہے۔اہل السنّہ افراط و غلو اور تفریط و تنقیص سے بالاتر ہوکر صحابہ کرام سے محبت رکھتے ہیں اور عدل و انصاف کے ساتھ اُنہیں ان کا صحیح مقام دیتے ہیں، ان کی شان میں غلو کرتے اور نہ ہی کوتاہی و گستاخی کے مرتکب ہوتے ہیں۔ اہل السنّہ کی زبانیں صحابہ کرام کی مدح سرا اور ان کے دل حُب ِصحابہ سے سرشار ہیں۔
صحابہ کرامؓ کے درمیان جو غلط فہمیاں اور اختلافات رونما ہوئے، اس میں صحابہ نے اپنے اجتہادات کی روشنی میں طرزِ عمل اختیار کیا، یہاں بھی ان کے لیے اجر ِاجتہاد مسلّم ہے۔درست ہونے پر دوہرا اجر اور خطا کی صورت میں ایک اجر اور غلطی معاف ہے۔یہ بات ذہن نشین رہے کہ وہ معصوم نہیں تھے بلکہ بشری تقاضے سے ان سے لغزشیں ہوتی تھیں،لیکن بہرحال دوسروں کی نسبت اُن کی غلطیاں کم اور خوبیاں زیادہ ہیں او ر اُن کے لیے اللہ عزوجل کی طرف مغفرت و رضوان کا پروانہ بھی ہے۔
صحابہ کرامؓ کے بارے میں اَئمۂ سلف کے اقوال
1. امام طحاوی نے عقیدہ اہل السنّہ کی ترجمانی ان الفاظ سے کی ہے:
''ہم اصحابِِ رسول سےمحبت رکھتے ہیں، ان کی محبت میں کوتاہی نہیں کرتے اور نہ ہی ان میں سے کسی سے اظہارِ برات کرتے ہیں۔ صحابہ سےبغض رکھنے والوں اور ان کا ذکر خیرنہ کرنے والوں سے ہم بغض رکھتے ہیں، ان کا ذکرِ جمیل ہمیشہ ہماری زبانوں پر رہتا ہے۔ صحابہ سے محبت دین وایمان بلکہ خوبی اسلام ہے اوران سے بغض درحقیقت سرکشی اور کفر و نفاق ہے۔''17
2. ابن ابی زید قیروانی مالکی اپنے مشہور رسالہ میں اہل السنّہ کا موقف اس طرح بیان کرتےہیں:
''بہترین زمانہ رسول اکرمﷺ کے شرفِ صحبت سے فیض یاب ہونے والوں کا زمانہ ہے اور ان میں سے افضل ترین بالترتیب خلفاے راشدین حضرت ابوبکر صدیق، حضرت عمر فاروق، حضرت عثمان اور حضرت علی رضی اللہ عنہم اجمعین ہیں۔ صحابہ کرام کا ذکرِ خیر زبانوں پر رہے او ران کے درمیان اختلاف پر بحث نہ کی جائے۔ سب سے بڑھ کر انہی کا حق ہے کہ فتنوں و اختلافات کے واقعات میں ان کے لیے بہتر راہ نکالی جائے اور ان کے حق میں بہتر موقف اختیار کرنے کا تصور اپنایا جائے۔''18
3. امام احمد بن حنبل کتاب السنّہ میں لکھتے ہیں:
''اصحابِ رسول کے محاسن کا تذکرہ اور ان کے باہمی اختلافات پربحث کرنا مستحب ہے۔ جو صحابہ کرام میں سے کسی کو بھی بُرا کہے، وہ بدعتی اور رافضی ہے، ان سے محبت کرنا سنت، ان کی اقتدا اور اُن کے لیے دعا وسیلۂقربت اور ان کی عادات کو اختیار کرنا باعث ِفضیلت ہے۔''
امام احمد کا مزید کہنا ہے:
''کسی کےلیے صحابہ کرامؓ کا ذکرِ سو یا ان پرطعن و تشنیع کرنا جائز نہیں۔ حاکم وقت پر فرض ہے کہ ایسا کرنے والے کو سزا دے، کیونکہ یہ جرم ناقابل معافی ہے۔ سزا دینے کے بعد اس سے توبہ کروائی جائے، اگر توبہ کرے تو بہتر وگرنہ اسےدوبارہ سزا دی جائے اور اسے قید میں رکھا جائے جب تک کہ وہ توبہ کرکے اس فعل مذموم سے باز نہ آئے۔''19
4.امام ابوعثمان صابونی اپنی کتاب عقیدة السلف وأصحاب الحدیث میں لکھتے ہیں:
''اسلاف و محدثین ،صحابہؓ کے باہمی مشاجرات میں سکوت اختیار کرنے اور اُن کے عیوب و نقائص سے زبانوں کو پاک رکھنے کے نظریہ پر قائم ہیں۔ صحابہ کرامؓ کے لیے رحمت اللہ کا اظہار او ران سے محبت ان کا عقیدہ ہے۔''20
5. شیخ الاسلام ابن تیمیہ اپنی کتاب العقیدة الواسطية میں رقم طراز ہیں:
''اہل السنّہ والجماعہ کا اُصول ہےکہ صحابہ کرامؓ کے بارے میں زبانیں اوردل ہر طرح کی پراگندگی سے محفوظ رہیں جیسا کہ قرآنِ کریم میں ہے : ﴿وَالَّذينَ جاءو مِن بَعدِهِم يَقولونَ رَ‌بَّنَا اغفِر‌ لَنا وَلِإِخو‌ٰنِنَا الَّذينَ سَبَقونا بِالإيمـٰنِ وَلا تَجعَل فى قُلوبِنا غِلًّا لِلَّذينَ ءامَنوا رَ‌بَّنا إِنَّكَ رَ‌ءوفٌ رَ‌حيمٌ ١٠ ﴾.... سورة الحشر
رسول ِمکرمﷺ کے اس فرمان کی اطاعت میں ان کے سرتسلیم خم ہیں کہ «لاتسبوا أصحابي فوالذي نفسي بیده لو أن أحدکم أنفق مثل أحد ذهبًا ما بلغ مد أحدهم ولا نصیفه».صحابہ کرامؓ کے فضائل میں درجات و مراتب پر اہل السنّہ ایمان رکھتے ہیں۔ لہٰذا صلح حدیبیہ اور فتح مکہ سے قبل جانی و مالی معاونت کرنے والوں کی فضیلت، مہاجرین کی انصارِ صحابہؓ پر برتری، غزوۂ بدر کے شرکا کے لیے اللہ تعالیٰ کی مغفرت کا حصول (اعملوا ما شئتم قد غفرت لکم) صلح حدیبیہ کےموقع پر درخت تلے بیعت کرنےوالوں پر نارِ جہنم کی حرمت بلکہ ان کے لیے اللہ تعالیٰ کی رضا و خوشنودی کے پروانے ﴿رَ‌ضِىَ اللَّهُ عَنهُم وَرَ‌ضوا عَنهُ﴾،عشرہ مبشرہ اور دیگر صحابہؓ مثلاً ثابت بن قیس بن شماس وغیرہم کے لیے جنت کی بشارتیں اہل السنّہ والجماعۃ کے عقیدہ کا حصہ ہیں۔
خلفاے راشدین میں بالترتیب حضرت ابوبکر ، ان کے بعد حضرت عمر، تیسرے حضرت عثمان اورچوتھے حضرت علی  اس اُمت کے بہترین افراد ہیں۔ حضرت ابوبکر و عمر کی تقدیم پراہل السنّہ میں کوئی اختلاف نہیں ۔البتہ بعض نے حضرت عثمان و علی کے درمیان درجات میں کچھ اختلاف کیا ہے۔حضرت عثمان و علی کے درمیان برتری کا مسئلہ ایسا نہیں کہ جس میں کسی فریق کوبھی گمراہ قرار دیا جاسکے البتہ رسول اکرمﷺ کے بعد استحقاقِ خلافت کا مسئلہ ایسا ہے کہ جس میں حضرت ابوبکر کے علاوہ کسی اور کے لیے یہ استحقاق سمجھنے والے کو گمراہ کہا جاسکتا ہے۔ اس لیے اہل السنّہ کا ایمان ہے کہ رسولِ اکرمﷺ کے خلیفہ حضرت ابوبکر ہیں، ان کے بعد بالترتیب خلفائے ثلاثہ (عمر و عثمان و علی) اور جو ان میں سے کسی کی خلافت پر بھی طعن و تشنیع کرے، وہ گدھے سے بھی زیادہ احمق و گمراہ ہے۔''21
اس کے بعد شیخ الاسلام نےاہل بیت النبیﷺ کے لیے اہل السنّہ کی محبت و مودّت ان کے بارے میں وصیت ِرسولؐ کا لحاظ، ازواجِ مطہرات کی عقیدت و عظمت اور مسلمانوں کا یہ ایمان کہ وہ یومِ آخرت کو بھی آپ کے شرفِ زوجیت سے وابستہ ہوں گی، کا تذکرہ کیا ہے۔
پھر لکھتے ہیں:
''اہل السنہ صحابہ سے بغض او رسب و شتم کا مظاہرہ کرنے والے روافض سے اور اپنے قول و عمل سے اہل بیت عظام کو ایذا دینے والے نواصب سے برات کا اظہار کرتے ہیں۔''22
صحابہ کرامؓ کے درمیان اختلافات و مشاجرات پر سکوت اختیار کرتے ہوئے اہل السنّہ کا موقف ہے کہ اصحابِ رسول کے عیوب و نقائص سےمتعلق روایات میں جھوٹ او ر الفاظ میں کمی و بیشی پائی جاتی ہے او رجو ان کے بارے میں صحیح روایات ہیں، وہ صحابہ کرام کی اجتہادی آرا ہیں جن میں بہ مطابق فرمان ِنبوی غلطی اورصحت ہر دو پر اللہ کے ہاں اجر موجود ہے۔ تاہم صحابہ کے بارے میں معصوم ہونے کا دعویٰ ہرگز نہیں کیا جاسکتا بلکہ بشری تقاضے سے ان سےبھی غلطی کا امکان ہے، البتہ ان کے فضائل اور سبقت اسلام کی وجہ سے وہ غلطیوں میں مغفورو مرحوم ہیں۔ ان کی نیکیوں کے بُرائیوں پرغلبہ کی وجہ سے اس قدر مغفرت و رحمت حاصل ہے، جو بعد میں آنے والے لوگوں کو حاصل نہیں۔رسول اکرم ﷺ نے ان کے لیے خیرالقرون ہونے کی بشارت دی اور اُن کے ایک مد صدقہ کو دوسروں کے اُحد پہاڑ کے برابر سونا خرچ کرنے سے افضل قرار دیا۔ اگر ان میں سے کسی نے کسی غلطی کاارتکاب کیا بھی تو توبہ کی بدولت، نیکیوں کے غلبہ اور سبقتِ اسلام کی وجہ سے، رسولِ اکرمﷺکی شفاعت یا دنیا میں کسی فتنہ و آزمائش میں مبتلا ہونے کے باعث صحابہ کرام کے لیے غفران کے اسباب موجود ہیں۔ یہ بات تو واقعاتی گناہوں کی حدتک ہے۔ البتہ اُمور اجتہادیہ میں درست ہوں یاغلط، ہر دو صورتوں میں وہ عنداللہ ماجور ہوں گے۔ مزیدبرآں یہ کہ صحابہ کرام کے فضائل و مناقب اور شرف و منزلت کےمقابلے میں ان کے قابل اعتراض معاملات بے حقیقت معلوم ہوتے ہیں۔ معترضین کو صحابہ کرامؓ میں مضبوط ایمان، علم و عمل، ہجرت، نصرتِ رسول اور جہاد فی سبیل اللہ جیسی خوبیاں بھی نظر آنی چاہیں۔
درحقیقت صحابہ کرام کی سیرت و اوصاف اور خوبی کردار کا مطالعہ کرنے والے اس بات کا ادراک رکھتے ہیں کہ وہ انبیاے کرام کے بعد خیرالخلق اور افضل البشر ہیں ۔ نبی اکرمﷺ کے بعد اُن جیسا کوئی آیا، نہ آسکتا ہے۔ اس اُمت کے خیر القرون(بہترین زمانہ) میں ان عظیم اوصاف کے حامل افراد نے اپنا عرصۂ حیات گزارا۔
صحابہ کرام پر طعن و تشنیع درحقیقت اسلام پر حملہ ہے!
صحابہ کرامؓ کی ذات پر حملہ درحقیقت اسلام پر طعنہ زنی کرنا ہے،کیونکہ اُنہیں کے ذریعے ہمیں اسلام پہنچا۔ حضرت امام ابوزرعہ کے قول میں یہ بات گزر چکی ہے :
«وانما أدیٰ إلینا هذا القرآن والسنن أصحاب رسول الله ﷺ وإنما یریدون أن یجرحوا شهودنا لیبطلوا الکتاب والسنة والجرح بهم أولى وهم زنادقة»23
''صحابہ کرامؓ نے ہی ہمیں قرآن و سنت کی تعلیمات سے روشناس کروایا ہے۔ یقیناً یہ صحابہ دشمن صحابہ کرام پر جرح کرکے ہمارے دین اور کتاب وسنت کو معطل وبے وقعت کرنا چاہتے ہیں درحقیقت یہی لوگ مجروح اور مکروہ ہیں او ریہ زندیق (دین دشمن ) ہیں۔''
صحابہ کرام کو طعن و تشنیع کا کوئی نقصان نہیں!
طعن و تشنیع کا صحابہ کو نقصان کی بجائے فائدہ ہے (جیسا کہ حدیث المفلس ، نكتہ نمبر10 میں یہ بات گزر چکی ہے)۔ درحقیقت یہ سب و شتم خود انہی دشمنانِ صحابہ کے لیے ضرر رساں ہے۔ جس دل میں صحابہ کرام کے لیے محبت او رزبان پر ان کا ذکرِ خیر ہے، اسے اس نعمت واحسان پر اللہ ربّ العزت کا شکرگزار ہونا چاہیے۔ اس عقیدت و مودّت پر ثابت قدمی کی دعا کرنی چاہیے،البتہ جس دل میں صحابہ کرامؓ کے خلاف حقد و بغض اور زبان پر سبّ و شتم ہے، اسے اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہوئے ان جرائم سےباز رہنا چاہیے اور اس وقت ندامت کے آنے سے پہلے تائب ہوجانا چاہیے، جب ندامت کا کوئی فائدہ نہ ہوگا۔
﴿رَ‌بَّنا لا تُزِغ قُلوبَنا بَعدَ إِذ هَدَيتَنا وَهَب لَنا مِن لَدُنكَ رَ‌حمَةً إِنَّكَ أَنتَ الوَهّابُ ٨ ﴾ ﴿رَ‌بَّنَا اغفِر‌ لَنا وَلِإِخو‌ٰنِنَا الَّذينَ سَبَقونا بِالإيمـٰنِ وَلا تَجعَل فى قُلوبِنا غِلًّا لِلَّذينَ ءامَنوا رَ‌بَّنا إِنَّكَ رَ‌ءوفٌ رَ‌حيمٌ ١٠ ﴾.... سورة الحشر
دعائے صحت كی درخواست
نامور مصنف و قلمکار، معروف عالم دین اور تفسیر احسن البیان کے مرتب مولانا حافظ صلاح الدین یوسف کئی ماہ سے عارضۂ شوگر اور گھٹنوں میں شدیددرد سے دوچار ہیں۔ قارئین سے ان کی صحت یابی اور شفائے عاجلہ وکاملہ کے لئے خصوصی دعا کی درخواست ہے۔ ادارہ
فاضل مدینہ یونیورسٹی، اُستاذ فقہ مقارن، جامعہ لاہور الاسلامیہ، لاہور

حوالہ جات
1مسند احمد:2/397

2صحیح مسلم:3022

3شرح نووی:1/399

4صحیح بخاری:2652

5رقم الحدیث:2534

6صحیح بخاری:3649،صحیح مسلم:2532

2/237

8سنن ابن ماجہ:167

9سنن ابوداؤد:4652

10جامع الاصول:6366

11صحیح مسلم:2581

12رقم الحدیث :3673

13رقم الحدیث:2541

14تدریب الراوی:2/214

1/615

116؍111

17عقیدہ طحاویہ:1/57

18رسالہ القیرانویہ:1؍23

19ص: 419

20مع شرح:1؍115

21عقیده واسطیہ: 1/28

22ایضاً

23الكفاية:1/111