اُمت ِمسلمہ میں آج ہر طرف بے چینی اور انتشار ہے، عرب مسلمان انقلاب کے لئے نکل کھڑے ہوئے ہیں۔ ہمارے حکمرانوں کے کیسے رویّوں سے مسلم عوام تنگ ہیں، اس کی ایک جھلک ذیل کے مضمون میں ملاحظہ فرمائیے۔ ح م
آج اُمت ِمسلمہ نہ صرف اپنے ربّ سے دوری اور دین سے محرومی کا شکار ہے بلکہ دنیا بھی اس کے ہاتھوں سے جاتی رہی ہے۔ آج مسلمانوں کی غالب اکثریت جوکروڑوں تک جاپہنچتی ہے ، تنگ و ترش زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ خستہ حالی ان کامقدر بنی ہوئی ہے اور ان کی معیشت تباہی کا شکار ہے۔ قریب ہے کہ ان کی حالت اس فرمانِ نبویﷺ کے مواقع ہوجائے جسے سیدنا ابوسعید خدریؓ روایات کرتے ہیں کہ
«إن أشقٰی الأشقیاء من اجتمع عليه فقر الدنیا و عذاب الأخرة»
''بلا شبہ بدبخت و بدنصیب ترین آدمی ہے وہ جس پر فقر دنیا اور عذابِ آخرت جمع ہوجائیں۔'' (رواہ ابن ماجہ و صححہ الحاکم،مجمع الزوائد 10/267)
آج مسلمانوں کی اکثریت اسی حالت کو جاپہنچی ہے،اِلا من رحم اللہ! آئندہ سطور میں ہم ان اہم وجوہات و اسباب کا جائزہ لیں گے جن کے سبب مسلمان آج اپنی دنیابھی کھو بیٹھے ہیں۔
ملت ِاسلامیہ معدنی و زمینی وسائل سے مالا مال ہے!
اُمت مسلمہ کے تمام علاقے طرح طرح کے قدرتی وسائل سے مالا مال ہیں جن میں سرفہرست پٹرول ہے۔ ہر کوئی جانتا ہے کہ آج اگر دنیا میں بڑے پیمانے پر پٹرول کا ذخیرہ کہیں پایا جاتا ہے تو وہ خلیج عرب ہے۔ جدید تحقیقات کے مطابق زمین میں پٹرول کا پہلا ڈیم بھی یہی ہے۔ اس کا علاوہ بحر قزوین سے قوقاز تک پھیلے ہوئےعلاقے اور عراق و شام میں بھی پٹرول وافر مقدار میں موجود ہے۔ وسطی ایشیا کے یہ ذخائر عالمی سطح پر نہایت اہمیت کے حامل ہیں۔ اسی طرح جنوبی سوڈان، افریقہ کی چوٹیوں اور مصر سے الجزائر تک پھیلے ہوئے طویل علاقے میں بھی پٹرول کے متعدد ذخائر پائے جاتے ہیں جن کی اہمیت بھی محتاجِ بیان نہیں۔ یہ تمام علاقے جدید دنیا میں دولت کے اساسی ذخائر ہیں او ریہی وہ ذخائر ہیں جو ہر میدان میں ،چاہے سیاسی ہو، اقتصادی یا تزویراتی قوت و طاقت کا سرچشمہ ہیں۔
پھر انہی کے ساتھ عالم اسلام کا وہ حصہ بھی واقع ہے جو مشرق میں افغانستان، پاکستان، مشرقی فلپائن سے لے کر بحراطلس کے کنارے تک اور مغرب کی سمت مغربی ساحلوں سے ملتا ہوا موریطانیا اور مغرب سنیگال تک پھیلا ہوا ہے جبکہ شمال میں یہی علاقہ وسطی ایشیا قوقاز، بلقان اور شمالی افریقہ تک اور جنوب میں جنوبی ایشیا ، انڈونیشیا اور وسطی افریقہ تک کے وسیع وعریض علاقے پر محیط ہے۔ ان تمام علاقوں پر ایک طائرانہ نگاہ ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ عالم اسلام مختلف قدرتی معدنیات کی عظیم دولت سے مالا مال ہے جو تزویراتی اعتبار سے بے پناہ اہمیت کی حامل ہیں۔ ان ممالک میں سے اکثر نہ صرف اہم صنعتی معدنیات کا ذخیرہ اپنے اندر سموئے ہوئے ہیں بلکہ ساتھ ہی ساتھ وہ سامانِ خوردونوش اور زرعی پیداوار میں بھی متموّل ہیں۔
اس پر مستزاد یہ کہ یہ اسلامی ممالک اہم ترین بحری، برّی اورفضائی آمدورفت کے راستوں پر وسیع اختیارات رکھتے ہیں۔ حیران کن بات یہ ہے کہ دو چار اہم ترین مختصر بحری راستے؛ (1) ہرمز (2)بابِِ مندب (3) نہر سویز اور (4) جبل طارق؛ جن پر عالمی معیشت کا کلی انحصار ہے، اُمت مسلمہ ہی کے پاس ہیں۔ یہ چاروں مختصر بحری راستے ایسی فضائی شکل بناتے ہیں جو دنیا کے نظامِ مواصلات کو چہار اطراف سے باہم ملائے ہوئے ہے۔
لیکن انتہائی تعجب کی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ان تمام انعامات و احسانات کے باوجود مسلمانوں کے بیشتر ممالک بھوک و افلاس او رجہالت و پسماندگی کے شکار ممالک کی فہرست میں شامل ہیں۔ پٹرول کی دولت سے مالا مال ان ممالک میں سے بیشتر عالمی ادارہ 'اوپیک' کے ممبر بھی ہیں، تاہم اس کے باوجود ان ممالک کی اکثریت خط ِغربت سے بھی نیچے کی زندگی گزار رہی ہے۔ مسلمانوں کے وسائل کی بہتات کا اندازہ کرنے کے لیے یہ ایک مثال ہی کافی ہے کہ یورپ کی 65 فیصد قدرتی گیس کی کھپت الجزائر سے آتی ہے۔ یہ بھی جانتے چلئے کہ اسلام کے آنگن اور اس کے گھر جزیرۂ عرب میں جو مسلمانوں کے سب سے اہم قدرتی سرمایہ کا حامل ہے، دنیا کے 75 فیصد پٹرول کا ذخیرہ پایا جاتا ہے ۔ وہاں ایک کروڑ 60 لاکھ بیرل پٹرول یومیہ نکالا جاتا ہے۔ علاوہ ازیں جو ذخائر جنوبی عراق میں پائے جاتے ہیں، وہ پانچ ملین بیرل پٹرول ایک دن میں نکالنےکی صلاحیت رکھتے ہیں۔ واضح رہے کہ گیس کا استخراج اس کے علاوہ ہے۔ نیز پٹرول و گیس کے محفوظ ذخائر جو ایران، الجزائر، شام اور سوڈان میں پائے جاتے ہیں، وہ بھی مشہور و معروف ہیں۔ ایسے ہی پٹرول کا دوسرا بڑاذخیرہ بحرقزوین کے گرد وپیش میں پایا جاتا ہے۔سبحان اللہ! کیسا تعجب خیز اتفاق ہے کہ خطۂ ارض کی امیر ترین قوم آج دنیا کی فقیر ترین قوم بن چکی ہے۔
ہمارے دشمن ہمارے ہی مال کے ذریعے ہمارے خلاف لڑ رہے ہیں
اس سےبھی تعجب خیز بات مغربی اقوام،جن کا سرغنہ امریکہ ہے، کی وہ تاریخ ساز چوریاں ہیں، جن کا تجربہ وہ مختلف اسلامی ممالک میں کرچکے ہیں۔ یہ ہمارے وہی صلیبی اور صہیونی دشمن ہیں جنہوں نے آج ہم پر چہار اطراف سے چڑھائی کررکھی ہے۔ افسوس! یہ لوگ ہمارے ہی مال سے ہمیں ہلاک کرتے اور بہت سہولت و بلا تکلیف ہمارا مال لے جاتے ہیں،پھر اسے ہمیں ہی نیست و نابود کرنے میں استعمال کرتے ہیں۔ یہ دشمن اپنے جنگی جہازوں، ٹینکوں اور بکتر بند گاڑیوں کو چلانے کے لیے ہم ہی سے پٹرول لیتے ہیں، پھر اس کے ذریعے ہمارے ہی بچوں اور عورتوں کو قتل کرتے ہیں۔ آج مسلمانوں کے اس پٹرول سے مسلمانوں کی بجائے خود اسلام کے صہیونی دشمنوں کو فائدہ پہنچ رہا ہے اور وہ اسے اپنی تعیّشات میں اور ہمیں برباد کرنے میں کھپا رہے ہیں۔
ہمارا سرمایہ تو پہلے سرچشموں ہی سےچوری ہوجاتاہے!
دراصل ہمارا قیمتی سرمایہ ہمارے مصادر ہی سے چوری ہوجاتا ہے۔ یہ اس طرح کہ ہمارے صلیبی دشمن مختلف کمپنیوں کی صورت میں تیل اور پٹرول کے نکالنے، اس کی خریدوفروخت، تجارت اور تمام چھوٹے بڑے مراحل کی خود نگرانی کرتے ہیں او رپھر اس کی آمدنی ملکی بینکوں کا چکر کاٹتے ہوئے انہی کے بینک کھاتوں میں اضافے کا باعث بنتی ہے۔ ذیل میں ہم اس تاریخی چوری کے اہم مراحل پر ایک نگاہ ڈالتے ہیں:
چوری کا پہلامرحلہ: چوری کا پہلا مرحلہ تیل نکالنے والی مغربی کمپنیوں کے ساتھ ہمارے خائن حکمرانوں اور افسران کے معاہدوں کی صورت میں شروع ہوتاہے۔ مسلمانوں کے یہ ظالم حکمران ان معاہدوں کے ذریعے 40 تا60 فیصد آمدنی اپنے ذاتی اموال میں لے جاتے ہیں جبکہ بقایا منافع ان کمپنیوں کے حصے میں آتے ہیں جبکہ بیچاری اُمت خالی ہاتھ بیٹھے تماشہ دیکھتی ہے۔
چوری کا دوسرا مرحلہ: چوری کا دوسرا مرحلہ خارج شدہ کیمیکل میں دھاندلی کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ چونکہ ان تمام مراحل کی نگرانی یہ کمپنیاں خود ہی کرتی ہیں لہٰذا ان کے لیے اپنے انجینئر اور ماہرین کے ذریعے دھاندلی کرنا نہایت آسان ہوتا ہے۔نیز اگر کہیں نگرانی پر مامور ماہرین مقامی حکومتوں میں سے ہوں تو اُنہیں رشوت کے ذریعے خاموش کرالیا جاتا ہے۔ اس طرح یہ کمپنیاں متعدد ممالک میں جعل سازی کرنے میں کامیاب رہی ہیں۔
چوری کا تیسرا مرحلہ: اب آتا ہے چوری کا تیسرا مرحلہ، جس میں اس مواد کی حد بندی، اس کی قیمت کا تعین اور عالمی سطح پر اس کی خریدوفروخت کی جاتی ہے۔ اس مرحلے پر اس مواد کی انتہائی کم قیمت لگائی جاتی ہے (جو بذاتِ خود وسائل چوری کرنے کا ایک جدید انداز ہے)۔ سمجھنے کے لیے بس ایک مثال ہی کافی ہے کہ خود مغرب کے 26 عالمی اقتصادی تعلیمی اداروں کے مطابق ایک بیرل خام پٹرول اور اس سے نکلنے والے صنعتی مواد کی اصل تصور شدہ قیمت کم از کم 260 ڈالر فی بیرل ہونا ضروری ہے جبکہ حقیقت حال یہ ہے کہ اب تک پوری تاریخ میں کبھی بھی یہ قیمت 45 ڈالر سے تجاوز نہیں کرسکی۔ اکثر اوقات تو اس کی قیمت 20 ڈالر کے ہی ارد گرد رہی حتیٰ کہ بسا اوقات یہ قیمت 10 ڈالر تک بھی جاگری ہے!!!
یہ سارا مکروہ کھیل ہمارے ممالک پر قابض صلیبی سرمایہ دار اور عالمی تجارتی منڈی کے یہودی ساہوکار کھیلتے ہیں۔ ہمارے قیمتی سرمایہ اور ہمارے ممالک کی کرنسیوں کی قدر یہی گھٹاتے بڑھاتے ہیں۔ لیکن اس سے بھی المناک حادثہ یہ ہے کہ ہم پر قابض چور حکمران ، ان کے حکام و خدام، ان کے بھائی بیٹے اور معاونین و مصاحبین چند ٹکوں اورمحدود ذاتی مفادات کے حصول کی خاطر اس قیمتی دولت کو عالمی سطح پر مقرر کردہ حصص کے مقابلے میں بھی انہتائی ارزاں قیمت ، مثلاً 3 ڈالر فی بیرل تک میں بیچ دیتے ہیں۔ یوں نصف ملین بیرل پٹرول سے محض ڈیڑھ ملین ڈالر کی آمدنی حاصل ہوتی ہے جو اس حکمران طبقے کی آوارگی، عیاشی اورجوئے بازیوں کے چند ہفتوں کے اخراجات ہی کو کفایت کرپاتی ہے۔
چوری کا چوتھا مرحلہ: بات یہاں بھی ختم نہیں ہوتی، آگے چوری کا چوتھا مرحلہ آتا ہے ۔ اس مرحلے میں اس حاصل شدہ آمدنی کو ہماری خائن حکومتیں ہمارے بینک کھاتوں کے نام پر صلیبی بینکوں میں منتقل کردیتی ہیں۔ جو ہمارے لئے محض الیکٹرونک حساب و کتاب میں اعداد وشمار اور صفروں کی تعداد میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔ اس کے بعد ہمارے حکمرانوں کو بھی اس کی اجازت نہیں ہوتی کہ ان بینکوں سے اپنی ہی رقم ایک مقرر شدہ حصے سے زائد نکلوا سکیں تاآنکہ وہ اس رقم کااکثر حصہ مغرب ہی کی صنعتی مصنوعات او رانہی کے بنائے ہوے اسلحہ کو خریدنے میں لگا دیں۔
پھر یہ سامانِ حرب بھی اربابِ مغرب اپنی من پسند قیمت پر بیچتے ہیں۔ اس نکتے کو واضح کرنےکے لیے ہم ایک مثال پیش کرتے ہیں۔ کویت کے قومی اسمبلی کے ایک رکن کے امریکہ میں صرف کھانے کے اخراجات کروڑوں ڈالر تک پہنچتے تھے۔جہاں مصارفِ طعام میں 30 ڈالر تو صرف چند پتوں کی قیمت تھی جو بطورِ سلاد استعمال کئے جاتے ہیں۔
جو تھوڑا بہت حاصل ہوتا ہے ، وہ بھی ہمارے فاسق حکمران اُڑا دیتے ہیں! اب آخر میں دیکھئے کہ ہمارے قیمتی وسائل میں سے خود ہمارے ہاتھ کیا آتا ہے۔ حقیقی آمدنی کی مضحکہ خیز حد تک قلیل نسبت اور اس کابھی بیشتر حصہ ہمارے حکمران سوئٹرز لینڈ، امریکہ و یورپی ممالک کے بنکوں میں موجود اپنے خفیہ کھاتوں میں جمع کروا دیتے ہیں، جو حقیقت میں یہود ہی کے ادارے ہیں۔ یوں ہمارے 'بےحد و حساب وسائل' سے حاصل شدہ 'انتہائی کم آمدنی' ان حکمرانوں کے اپنے اخراجات اور بعض بنیادی منصوبوں کو ہی بمشکل پورا کر پاتی ہے اور عوام کے ہاتھ عملاً کچھ بھی نہیں لگتا۔
محض پٹرول ہی نہیں، تمام معدنی وسائل چوری کئے جاتے ہیں!
جہاں تک ہمارے دیگر معدنی وسائل کا تعلق ہے تو وہ بھی ایسے ہی ہتھکنڈوں سے بھاری مقداروں میں چوری کرلئے جاتے ہیں او ربالعموم دھاتوں، پتھروں اور خام مال کی صورت میں ہی برآمد کردیئے جاتے ہیں۔ نہ ہی اُنہیں اپنے یہاں صنعت میں لگایا جاتاہے اورنہ اپنے علاقوں کے لیے ان سے کوئی خاص فائدہ اُٹھایا جاتا ہے۔بیشتر مسلم ممالک مقامی ماہرین کو استعمال کرتے ہوئے یہ معدنیات اپنے یہاں ہی صنعتی استعمال میں لاسکتے ہیں، لیکن ہماری گمراہ حکومتوں کو سوائے ان قیمتی معدنیات کو کانوں سے نکالنے اور برآمد کردینے اورکچھ نہیں سوجھتا۔
چوری اور عیاری کی انہی تاریخ ساز وارداتوں کانتیجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو جو قدرتی وسائل اور عظیم نعمتیں عطا کی تھیں، وہ ان سے چھنتی چلی جارہی ہیں۔ آج مسلم سرزمینوں کی صورتِ حال یہ ہوچکی ہے کہ وہاں حکومت کے حصول، وسائل کی لوٹ مار اور مغربی آقاؤں کو ان وسائل کی حوالگی کے لیے ہر دم ایک سیاسی و عسکری کشمکش جاری رہتی ہے!جس کے نتیجے میں آنے والی ہر حکومت یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتی ہے کہ وہ اُمت کے وسائل لوٹنے اور اِن وسائل کو کفار کےحوالے کرنے میں سابقہ حکومتوں سے زیادہ مخلص او رچاق و چوبند ہے!! پھر آخر یہی کشمکش مغربی اقوام کے حملوں،حرص و ہوس پرمبنی خونی جنگوں، ہلاکتوں،خوف، بھوک اور افلاس کا سبب بنتی ہے۔
سرزمین حرمین پر امریکی اقدام
اس ظلم کی انتہا یوں ہوتی ہے کہ مسلمانوں کے ہی بعض حکمران مغرب کی آشیر باد سے آپس میں لشکر کشی کا آغاز کرکے، مغربی اقوام کو اپنے ہاں براجمان ہونے کی دعوت دیتے ہیں۔ اور امریکہ ہماری ہی سرزمینوں، بالخصوص اسلام کے آنگن اور اُمت کے قلب'جزیرہ عرب' پرچڑھائی کرتا ہے اورحملہ آور لشکر کو 'امن فوج' اورحملے کے مقصد کو 'عسکری امداد' کا نام دیتا ہے۔ دورِ حاضر کا استعمار اپنے صلیبی عزائم کو ان خوشنما ناموں میں ملفوف کرکے ہم پر حملہ کرتا ہے اور پھر اس مکروہ مہم کے مصارف واخراجات بھی ہماری ہی حکومتوں سے وصول کرتا ہے۔ چنانچہ امریکہ نے عاصفة الصحراء (آپریشن ڈیزرٹ سٹارم) کے اخراجات یعنی پانچ کڑوڑ ساٹھ لاکھ ڈالر بھی سعودی حکومت پر تھوپے۔ اس خطیر رقم کی ادائیگی کے سبب سعودی بجٹ خسارے میں پڑ گیا اور سعودی حکومت سُودی قرضے لینے پر مجبور ہوگئی۔جی ہاں! دنیا میں پٹرول کا سب سےبڑاذخیرہ رکھنے والاملک مقروض ہوگیا!! اور بلد ِنبویؐ عالمی سُودی امداد لینے پر مجبور ہوگیا... فیا للأسف!!
یہ تو انہی کے ذرائع ابلاغ کے چند انکشافات تھے۔ باقی جو کچھ ابھی تک مخفی ہے، وہ تو اور بھی تکلیف دہ اور ناقابل بیان ہوگا۔
عامّۃ المسلمین کی غربت اور فاسق حکمرانوں کی ثروت
یہ داستانِ غم، مسلمانوں کے بیت المال او ران کے وسائل و سرمایہ کی چوری تک محدود نہیں بلکہ اس سےبھی بڑی مصیبت یہ ہے کہ ہمارے سروں پرمسلط مغرب کے ایجنٹ حکام، ان کے مصاحبین و خدام، بہت سےبڑے بڑے تجار اور اس طاغوتی نظام کو سہارا دینے اور قائم رکھنے والے کارندےمسلمانوں کی بچی کھچی آمدنی میں ناحق تصرفات کرکے رہی سہی کسر بھی پوری کردیتے ہیں۔ جیسا کہ آپ کو معلوم ہوگاکہ خلیجی ممالک کی گیس اور پٹرول کی یومیہ آمدنی کڑوڑوں ڈالر سے بھی متجاوز ہے جسے یہ حکام جن کی تعداد بعض ممالک میں بیس سے زائد نہیں، اپنی عیاشیوں میں اُڑا دیتے ہیں۔اس طرح ان تمام ممالک پر قابض حکام جو مجموعی طور پر چند سو سے زائد نہیں، اسلام کے مفاد کے لئے مخصوص اور اُمت کا مال جو شرعاً تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے ، آپس میں بانٹ لیتے ہیں۔
ایک مثال ملاحظہ فرمائیے! ان حکام کی زندگیوں پر تحقیق کرنے والے اداروں کے مطابق ان میں سے بعض حکام کا صرف ایک دن کا خرچہ تیس لاکھ ڈالر (یعنی تقریباً 19 کڑوڑ روپے) تک پہنچتا ہے۔ یہ خطیر رقم اِن کے ان محلات کے روزمرہ مصارف پر خرچ ہوتی ہے جو امریکہ، مختلف یورپی ممالک اور مشرقی ساحلوں پر پھیلے ہوتے ہیں۔ نیز اسی رقم سے ان محلات میں ہونے والے لہو و لعب ، آوارگیوں، بدکاریوں، جوئے بازیوں اور فسادات کےاخراجات بھی پورے کئے جاتے ہیں۔ اسی ایک مثال پر آپ ملت اسلامیہ کے دیگر حکام کوبھی قیاس کرسکتے ہیں۔
ذرائع ابلاغ پرنشر ہونے والی ایسی ہی ایک دل سو ز خبر ایک عرب شہزادے فیصل بن فہد کی تھی جس نے جوئے کی ایک میز پر 10کھرب ڈالر (یعنی تقریباً چھ سو کھرب روپے) ہارے اور پھر اسی صدمے کی وجہ سے اس کی حرکت ِقلب بند ہوگئی اور وہ مرگیا۔
دبئی، متحدہ عرب امارت کی ذیلی ریاستوں میں سے ایک اہم ریاست ہے۔ اس ریاست کےاقتصادی معاملات کو یہاں کا حاکم 'مکتوم خاندان' اپنے ذاتی کاروبار کے طور پر چلاتا ہے۔ حالانکہ یہ اسلام اور اہل اسلام کی سرزمین ہے جس کے شرعی طورپر یہ حکمران محض مفاد اسلامیہ کے تحفظ اور نفاذ اسلام کے لئے نگران سے زیادہ کچھ نہیں۔ جبکہ اس کے برعکس دبئی بطورِ 'دبئی کارپوریشن لمیٹڈ' (Dubai Inc.) کام کرتا ہے۔ یہاں کا سربراہ محمد بن راشد المکتوم دبئی کوسرمایہ کاروں اور سیاحوں کی جنت بنانے او راپنی دولت بڑھانے کی خواہش میں کروڑوں اربوں ڈالر کی لاگت سے نت نئے تعمیراتی منصوبے شروع کرتا رہتا ہے۔
دبئی میں محمد بن راشد کی خاص فرمائش پر تعمیر کردہ مشہور 'برج العرب' ہوٹل پایا جاتا ہے جودنیا کا واحد 'سیون سٹار' ہوٹل ہے۔ اس ہوٹل کی تعمیر سے قبل ساحل سے ذرا ہٹ کر پانی میں ایک چھوٹا سا مصنوعی جزیرہ بنایا گیا او راس جزیرے پر ہوٹل کی عمارت کھڑی کی گئی۔ اس ہوٹل میں کوئی کمرہ کرایہ پر لینا ممکن نہیں، کیونکہ یہاں اکیلے کمرے کا تصور ہی نہیں ہے۔ اس میں تو دو دو منزلہ رہائش گاہیں ہی دستیاب ہیں جن میں ہر قسم کی عیاشی کا سامان میسر ہے۔ ان میں سے سستی ترین رہائش گاہ کا کرایہ بھی آج سے دو سال قبل 4،5 ہزار ڈالر (یعنی تین سے 4 لاکھ روپے) یومیہ سے شروع ہوتا تھا، جبکہ خصوصی رہائش گاہوں کا کرایہ 13 ہزار ڈالر (یعنی 9 لاکھ روپے سے زائد) یومیہ تھا۔ اس ہوٹل میں آنے والوں کی خدمت کے لیے سربراہِ دبئی کی خاص فرمائش پر 16 رولز رائس گاڑیاں کمپنی سے خصوصی طور پر تیار کروائی گئیں جن سب کا رنگ باہر سے سفید ہے اور گاڑیوں کے اندر ہر شے نیلے رنگ کی ہے۔ یادرہے کہ یہ ہوٹل مکتوم خاندان کی ذاتی ملکیت ہے۔
پھر سربراہ دبئی کو ایک نیا شوق سوجھا۔ اس نےدبئی میں دنیا کی سب سے اونچی عمارت بنانے کا فیصلہ کیا۔چنانچہ چند سال قبل'برج دبئی' پر کام شروع کیا گیا جو ایک سو ساٹھ منزلوں پر مشتمل 700 میٹر بلند عمارت ہے اور جس کی تعمیر پر دوسو کھرب ڈالر (یعنی 14 ہزار کھرب روپے) سے زائد لاگت آئی ہے۔ نیز اس کی خاص بات یہ ہے کہ اس کی تعمیر اس انداز سے کی گئی ہے کہ ضرورت پڑنے پر اس میں مزید منزلوں کا اضافہ کیاجاسکے۔ تاکہ اگر کوئی دوسرا ملک اس سے اونچی عمارت بنالے تو پھر بھی اسے پیچھے چھوڑنا ممکن ہو۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق دوسرے عرب حکمرانوں سے یہ برداشت نہیں ہوا کہ دبئی کو آگے نکلتا دیکھیں، چنانچہ وہ برج دبئی سے بھی اونچی عمارت بنانے کا منصوبہ رکھتے ہیں۔ دیکھتے ہیں کہ دنیا کی شان وشوکت اور مانگے کی کھوکھلی چمک دمک کے اس مقابلے میں کون زیادہ آگے نکلتا ہے۔
دبئی کے سربراہ کا ایک اور ذاتی منصوبہ 'دبئی شاپنگ مال' ہے۔ یعنی 12 ملین مربع فٹ پر محیط ایک بازار اور تجارتی مرکز، جس نے دبئی میں پہلے سے موجود 30 سے زائد وسیع وعریض بازاروں کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ اسی طرح سیاحوں کی تفریح کے انتظام کے لیے دنیا کی سب سے بڑی زیرچھت برف کی مصنوعی پہاڑی بنانے کامنصوبہ بھی شروع ہوچکا ہے، جس کا درجہ حرارت ہر وقت منفی 2 درجہ سنٹی گریڈ سے کم رہے گا، چاہے باہر کی دنیا میں 60 درجہ سینٹی گریڈ گرمی ہو۔ انہی دیوہیکل تعمیراتی منصوبوں کے سبب دبئی جیسے چھوٹے سے جزیرے میں دنیابھر کی تعمیراتی مشینوں کا پانچواں حصہ مصروفِ عمل ہے۔
پھر سیاحوں ہی کو دبئی کی طرف کھینچنے کی خاطر دبئی میں گھڑ دوڑ کے عالمی مقابلے (World Cup) کا انعقاد کیا گیا۔ یہ مقابلہ جیتنے والےکو ساٹھ لاکھ ڈالر (یعنی 14؍ ارب روپے سے زائد ) انعام دیا گیا اور یہ جیتنے والابھی محمد بن راشد المکتوم کاسگا بھائی ہی نکلا۔ دبئی کے سربراہ کا گھوڑے پالنے کا شوق تو ویسے بھی معروف ہے۔ اس کے پاس 400 ذاتی گھوڑے ہیں اور اس مقابلے کے انعقاد سے قبل اس نے امریکہ سے چار کھرب ڈالر (یعنی تقریباً 280 کھرب روپے) کے ستائیس اعلیٰ نسل کے گھوڑے خریدے۔ دیکھئے کہ مسلمانوں کا سرمایہ کیسےلٹایاجارہا ہے؟
متحدہ عرب امارت کی معروف ہوائی جہاز کمپنی 'یو اے ای ایئرلائنز' بھی مکتوم خاندان کی ذاتی ملکیت ہے۔ یہ کمپنی حاکم دبئی کے چچا احمد بن سعید المکتوم کی زیر سرپرستی چلتی ہے۔ چند سال قبل سیاحت کو مزید فروغ دینے اور دبئی آمدورفت آسان بنانے کی نیت سے اس کمپنی نے 'بوئنگ' طیارہ سازکمپنی کو 7ء9 کھرب ڈالر کی ادائیگی کرکے 42عدد بوئنگ 777 مسافر طیارے خریدے۔ نیز اس خرید کے ساتھ ہی 45 عدد ایئربس،380 طیارے خریدنے کا معاہدہ بھی کرلیا گیا، جن کی کل لاگت 12 کھرب ڈالر سے زائد بنتی تھی۔ پھر اتنے جہازوں کو سنبھالنے اور اہل دنیا پراپنی برتری جتانے کے لیے دبئی میں دنیا کے سب سے بڑے ہوائی اڈّے کی تعمیر بھی شروع کردی گئی جس میں ایک ارب چار کروڑ پچاس لاکھ مسافر سالانہ سنبھالنے کی گنجائش رکھی گئی۔ حالانکہ دنیا کا بڑے سے بڑا ہوائی اڈہ بھی ایک ارب مسافر سالانہ سے زائد بوجھ اٹھانے کا تصور نہیں کرسکتا۔
دوسری طرف سربراہِ دبئی کے بھتیجے ،39 سالہ مکتوم ہاشم مکتوم المکتوم نے اپنے پسندیدہ مشغلے،یعنی گاڑیاں چلنے اور گاڑیوں کی دوڑ میں شریک ہونے کو ایک باقاعدہ کاروبار کی شکل دینےکا فیصلہ کیا۔ اس نے دبئی میں دنیا کا پہلا 'گاڑیوں کی دوڑ کا ورلڈکپ'(Motor Sport Grand Prix A1 Series) منعقد کروایا جس میں دنیا کے 25 ممالک کے 25 ڈرائیور شریک ہوئے۔ اس مقابلے کے انعقاد پر اُمت کے اَموال میں سے چار کھرب ڈالر (یعنی تقریباً 280 کھرب روپے) کی لاگت آئی۔ مکتوم ہاشم نے محض اپنی ذاتی گاڑیوں کو کھڑا کرنے کے لیے دنیا کی مہنگی زمین پر ایک عالی شان گھر تعمیر کروایاجو دو سال کے عرصے میں مکمل ہوا۔
متحدہ عرب امارت ہی کی ایک اور ریاست ابوظہبی کے شاہی خاندان سے تعلق رکھنے والے حماد بن حمدان نہیان کے پاس بھی مسلمانوں کی وافر دولت اور انوکھے شوق ہیں۔ اس کے خاندان کی کل دولت 20 کھرب ڈالر کے قریب پہنچتی ہے۔ یہ شخص عوام میں Rainbow (رنگین شیخ) کے طور پربھی جانا جاتا ہے کیونکہ اس نے 1984ء میں اپنی شادی کے موقع پر خصوصی فرمائش سے ہفتے کے سات دنوں کے لیے سات مختلف رنگوں کی گاڑیاں بنوائیں۔ گاڑیوں کے شوق میں یہ بھی کسی سے پیچھے نہیں۔ اس نے دو سو کے قریب نادر ونایاب، قدیم و جدید گاڑیاں اکٹھی کررکھی ہیں اوراُنہیں کھڑا کرنے کے لیے ابوظہبی کے صحرا میں اہرامِ مصر کے طرز پر دنیا کامہنگا ترین گیراج بنایا ہے۔ لیکن اس کی پسندیدہ ترین گاڑی مشہور امریکی فوجی گاڑی 'ہمر'(Hummer)کا 'ایلفا' ماڈل ہے جو کل تین سو عدد بنائی گئی تھیں او ران میں سے صرف دو امریکہ سے باہر نکلی ہیں۔ جن میں سے ایک اس کے استعمال میں ہے۔ اس گاڑی کو ابوظہبی کا یہ شیخ صحرا کی سیر کے لیے استعمال کرتا ہے اور اس کی قیمت ڈیڑھ لاکھ ڈالر یعنی ایک کروڑ روپے سے زائد ہے۔
حماد بن حمدان کو ایک اور انوکھا شوق بھی ہے۔ گاڑیوں کو کشتیوں میں تبدیل کرنا۔ اس کی پسندیدہ کشتی کے بیچوں بیچ ایک گاڑی نصب کی گئی ہے اور بظاہر انسان گاڑی کی سیٹ پر بیٹھ کر بعینہٖ گاڑی ہی چلا رہا ہے لیکن عملاً سمندر میں کشتی چل رہی ہوتی ہے ۔اسی گاڑی نما کشتی میں سوار ہوکر حماد اپنے ذاتی جزیرے تک جاتا ہے جہاں اس کا عظیم الشان محل ہے اور دو سو خدام ہر وقت اس کی خدمت کو موجود ہوتے ہیں۔
پھر حماد کا دل چاہے کہ وہ اپنے اہل وعیال سمیت صحرا کی سیر کو نکلے تو اس کے لیے بھی ایک علیحدہ انتظام کرلیاگیا ہے۔ ایک تو حماد نے ایک بڑے سے ٹرک میں دو منزلہ متحرک گھر بنوایا ہے، جس میں دو تین خواب گاہیں، ایک مطبخ، بیت الخلا، صحن او رہیلی کاپٹر کے اُترنے کی جگہ بھی موجود ہے۔ پھر یہ سوچ کر کہ میرا خاندان تو بڑا ہے او ریہ کمرے ناکافی.... حماد نے ایک اور اہتمام کرنےکا فیصلہ کیا۔ اُس نے کرۂارض کی طرز پرایک گول 50 ٹن وزنی گیند نما گھر بنوایا ہے جسے سات لاکھ ڈالر (تقریباً پانچ کروڑ روپے) مالیت کاحامل 20 ٹن وزنی ٹرک کھینچتا ہے۔ اس گیند نما گھر کے نیچے جو پہیے لگوائے گئے، ان میں سے ہر ایک کی قیمت 17 ہزار ڈالر (بارہ لاکھ روپے) ہے۔ اس گیند کے اندر موجود چار منزلہ گھر میں 9 عدد خواب گاہیں ہیں جن میں سے ہر ایک کے ساتھ ایک بیت الخلا او رحمام ہے۔ جبکہ مہمانوں کاکمرہ ان کے علاوہ ہے۔ اس گیند میں 24 ٹن پانی اُٹھانے کی ٹینکی بھی موجود ہے۔ یہ متحرک گھر دنیا میں اپنی طرز کا واحد عجوبہ ہے۔
ایک طرف مسلمانوں کے حکام اوران کے چیلوں کا یہ حال ہے اور دوسری طرف تحقیقی اداروں کی رپورٹ کے مطابق اکثر اسلامی ممالک کے مسلمان خط ِغربت سے بھی نیچے کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔ بلا شبہ یہ دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے اور سینہ پارہ پارہ ہوجاتا ہے کہ اَموال کی اس غیر منصفانہ تقسیم نے اُمت کو کس حال تک پہنچا دیا ہے!
بلادِ اسلامیہ میں امیر اور غریب ممالک کی تفریق
اسی طرح ہماری کوتاہیوں اور سامراج کی کوششوں کی بدولت خود بلادِ اسلامیہ میں بھی دولت مند اور غریب و پسماندہ ممالک کی تفریق پیدا ہوچکی ہے۔ بعض اسلامی ممالک مثلاً بنگلہ دیش،افغانستان اور افریقہ کے بعض مسلم ممالک میں فی کس سالانہ آمدنی اوسطاً 100 ڈالر یعنی یومیہ ایک ڈالر کا چوتھائی حصہ ہے جبکہ دوسری جانب خلیجی ممالک میں عام فرد کی اوسط آمدنی بیسیوں ہزار ڈالر سالانہ ہے ۔ حتیٰ کہ کویت و قطر جیسے بعض ممالک میں عام فرد کی مالی خوشحالی کی سطح دنیاے کفر کے مقابلے میں بھی نہایت اعلیٰ ہے۔
پھر بعض مسلم ممالک کی عمومی غربت کے باوجود، ان پر قابض طبقے کی حالت یہ ہے کہ محض ان کے گھر ہی کروڑوں ڈالر مالیت کے ہیں جبکہ بعض گھروں کی قیمتیں اس سے بھی تجاوز کرجاتی ہیں۔ ان کےگھروں کاشمار دنیاکے مہنگے ترین گھروں میں ہوتا ہے جبکہ ان کی رعایا کی اکثریت بے روزگار اور بھوکوں مررہی ہے۔ افسوس صد افسوس!
اُمت کے مال میں تمام مسلمانوں کا حق ہے!
اُمت ِمسلمہ کے سرمایہ میں تمام مسلمان حصہ دار ہیں۔ ہم میں سے ہر کوئی جانتا ہے کہ ہمارے دین کی اساسی تعلیمات اور اس کے بنیادی اُصولوں میں سے ایک یہ ہے کہ اُمت مسلمہ ایک اُمت ہے۔ اس کی حفاظت و عہد کا ذمہ ایک ہے۔پوری اُمت جسد ِواحد کی طرح ہے۔ آقائے دو عالمﷺ نے تو یہاں تک فرمایا کہ
«لیس المؤمن الذي یشبع و جاره جائع» (الأدب المفرد للبخاري:112)
''وہ مؤمن ہی نہیں جس نے خود تو سیر ہوکر رات گزاری جبکہ اس کا ہمسایہ بھوکا رہا''
اس اُمت کی ثروت،اثاثہ جات اور سرمایہ ان کے فاسق وظالم حکمرانوں کی بجائے تمام مسلمانوں کی ملکیت ہوتے ہیں، یعنی اُمت ِمسلمہ کی دولت اور سرمایہ جات کسی خاص طبقے کے لیے نہیں بلکہ تمام مسلمانوں کے لیے ہیں۔ لیکن آج مغربی سامراج نے ہمیں 57 ملکوں کی صورت میں تقسیم کردیا ہے اور ان ممالک کے حکمران مسلمانوں کے ثروت و سرمایہ کو لوٹنے اور غربت عام کرنے میں مصروف ہوگئے ہیں۔ دیکھئے کہ اسلام کے قرونِ اولیٰ کی نسبت آج اُمت کا حال کیا ہوچکا ہے!!
اس سلسلے میں عہد فاروقی ؓسے ایک مثال ملاحظہ فرمائیے:
صحابہ کرام کا طرزِ عمل ہمارے سامنے ہے۔ جب عراق کی فتح کے بعد مال و غنائم کی کثرت ہوئی توحضرت عمرؓ نے زمین کی وسعت و آسودگی کو دیکھتے ہوئے صحابہ کرامؓ کو جمع کرکےمشورہ لیا کہ میرے خیال میں عراق کے اطراف کی زمین مسلمانوں کے بیت المال کے لیے چھوڑ دینی چاہیے تاکہ بعد میں آنے والوں کے لیے بھی کچھ سرمایہ بچ جائے۔ باوجودیکہ بعض صحابہ نے اس سے اختلاف کیا اور یہ رائے دی کہ اس زمین کو مجاہدین میں تقسیم کردینا چاہیے، اور ان کے پاس اس بارے میں کتاب و سنت سے دلائل بھی تھے، تاہم حضرت عمرؓ کا موقف کچھ اور تھا۔ اس کے بارے میں درج ذیل آثار ملاحظہ کیجئے:
«عن أسلم قال: سمعت عمر یقول: اجمعوا لهذا المال، فانظروا لمن ترونه وإني قد قرأت آیات من کتاب الله، سمعت الله یقول: ﴿ما أَفاءَ اللَّهُ عَلىٰ رَ‌سولِهِ مِن أَهلِ القُر‌ىٰ﴾ إلىٰ قوله ﴿وَالَّذينَ جاءو مِن بَعدِهِم﴾ والله! ما من أحد من المسلمین إلا وله حق في هٰذا المال أعطی منه أو منع حتی راع بعَدن»
... فقد فکر رضی الله عنه في ﴿وَالَّذينَ جاءو مِن بَعدِهِم﴾، وقال رضی الله عنه: "والله لئن بقیت لهم لیأتین الراعي بجبل من صنعاء حظه من هذا المال وهو یرعی مکانه"»
... وقال رضي الله عنه: "ما علىٰ وجه الأرض مسلم إلا وله في هذا الفيء حق أعطیه أو منعه إلّا ما ملکت أیمانکم"» (کنز العمال: 11547)
''جناب اسلم کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا عمر ؓ کو فرماتےسنا کہ: ''(آؤ!) اس مال (کی تقسیم) کے حوالے سے اکٹھے ہوجاؤ او راپنی رائے دو کہ اسے کن میں تقسیم کرنا چاہیے؟ اور میں نے تو کتاب اللہ کی وہ آیات پڑھ رکھی ہیں جن میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: جو (مال بطورِ فے) اللہ بستی والوں سے اپنے رسولؐ کی طرف پلٹادے) سے لے کر ( او روہ لوگ جو اُن کے بعد آئے، اُن کا بھی اس مالِ فے میں حق ہے) اللہ کی قسم !اس مال میں ہر ایک مسلمان کا حق ہے، حتیٰ کہ اس چر واہے کا بھی جو عدن (یمن) میں رہتا ہے۔ چاہے اسے دیا جائے یااس سے روک لیا جائے۔''
..... آپؓ نے آیت کے ٹکڑے ''اور وہ لوگ جو اُن کے بعد آئے'' کےبارے میں سوچا اورپھر فرمایا: ''اللہ کی قسم! اگر میں باقی رہا تو صنعا کے پہاڑوں سے میرے پاس ایک چرواہا آئے گا اور اس مال میں اس کا بھی حق ہوگا چاہے وہ محض انہی (دور دراز) پہاڑیوں میں بکریاں ہی چراتا ہو (اور جہاد وغیرہ میں شرکت نہ کرتا ہو)۔''
..... اور آپؓ نے کہا: قطعہ زمین پر رہنے والے ہر مسلمان کا اس مالِ فے میں حق ہے، چاہے اسے دیا جائے یاروک لیا جائے، سوائے غلاموں او رلونڈیوں کے''
حضرت عمرؓ نے بطورِ مثال فتح عراق سے حاصل شدہ مال میں یمن کے رہنے والے فقیر کا بھی حق بیان کیا حالانکہ یمن مفتوحہ عراق سے بہت دور تھا۔ آپؓ نے بیت المال میں داخل کردہ دولت حتیٰ کہ اطرافِ عراق کی زمینوں میں سے بھی اہل یمن کے لیے حصہ مقرر کیا۔ شریعت کی اسی تعلیم کو سامنے رکھتے ہوئے بتائیے کہ ملت اسلامیہ کے علاقوں میں زیر زمین پائی جانے والی اس وافر دولت اور قدرتی وسائل کے اس عظیم ذخیرے کے ساتھ کیا معاملہ ہونا چاہیے؟ کیا پوری اُمت ان وسائل پر حق نہیں رکھتی؟
لیکن افسوس کہ اہل مغرب کی استعماری سیاست نے ہمیں وطنی ریاستوں National Statesمیں تقسیم کرکے پہلے اس اُمت کو کمزور کیا۔ پھر انہوں نے چوریوں، ڈاکوں کے ذریعے اس نحیف و ناتواں اُمت کے سرمایہ کے بڑے حصے پر قبضہ کرلیا او ربچے کھچے مال پر رسہ کشی کرنے کے لیے مسلمانوں پر مسلط حکمرانوں کو آزاد چھوڑ دیا۔ یقیناً یہ تاریخ انسانی میں غیر منصفانہ تقسیم اموال کی بدترین مثال ہے۔
اللہ ربّ العزت کےعطا کردہ یہ بیش بہا وسائل ہم سے ضائع ہونے کے نہایت خطرناک نتائج برآمد ہوئے۔ ہمیں اقتصادی، اجتماعی اور سیاسی سبھی میدانوں میں انتہائی تباہ کن اثرات کا سامنا کرنا پڑا۔بلاد اسلامیہ میں اسلام کے فروغ کے لئے اموال کی کمی کا رونا رویا گیا اور ہم پر مال ودولت کے ذریعے مغرب کی کافر انہ تہذیب مسلط کردی گئی۔مسلمانوں کے انہی رہن شدہ اموال کو قرضوں کی صورت میں ہمیں دے کر، اہل مغرب نے ہم پر اپنی پالیسیاں مسلط کیں۔ اللہ نے تو ملت ِاسلامیہ کو اموال وسائل سے کبھی محروم نہ کیا بلکہ سب سے بڑھ کر دیا، لیکن ہماری کوتاہیاں اور ہمارے حاکموں کی عیاشیاں امت کے لئے ذلت ورسوائی کو عام کر گئیں۔اپنے اَموال کے ضیاع اور غیروں کے دست ِنگر ہونے کا نتیجہ خلافت ِاسلامیہ کو کھونے کی شکل میں بھی برآمد ہوا۔ پھر خلافت سے محرومی کے سبب ہماری دنیا بھی ہاتھوں سے جاتی رہی او رہرمیدان میں اہل اسلام کی زندگی اجیرن ہوگئی۔ یہاں تک کہ مسلمان بالعموم ظلم و جبر، ذلت و نکبت، خوف و افلاس او رطرح طرح کی بیماریوں میں گھر کر رہ ذگئے۔
(2004ءمیں لکھا جانے والا مضمون جس میں ان سات سالوں میں بہت سا اضافہ ہوچکا !!)