میرے پسندیدہ۔۔

اس صفحہ کو پسند کرنے کے لیے لاگ ان کریں۔

تعارف،خصوصیات، نقائص اور تقابل
خدمتِ حدیث کے پس پردہ محرکات
قرآنِ مقدس اور اَحادیثِ نبویہؐ دین اسلام کی اَساس ہیں جن پرشریعت ِاسلامیہ کی پوری عمارت استوار ہے۔ دین حنیف پر اللہ تعالیٰ کی خاص عنایت ہے کہ یہ تحریف وتنسیخ،اِفراط وتفریط،تغیر و تبدل، گمراہ واعظوں کی چیرہ دستیوں،حیلہ باز وں کی من پسند تاویلوں اورابن الوقت دین فروشوں کی ہلاکت خیز شرانگیزیوں سے مامون و محفوظ ہے۔ اس کااصل سبب تو یہ ہے کہ اللہ مالک الملک نے کتاب و سنت کی حفاظت کا ذمہ خود لیا ہے۔ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
﴿إِنّا نَحنُ نَزَّلنَا الذِّكرَ‌ وَإِنّا لَهُ لَحـٰفِظونَ ٩ ﴾.... سورة الحجر
''بلا شبہ ہم ہی نے ذکر (قرآن و حدیث) نازل کیا اوریقیناً ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔''
کتاب وسنت کی حفاظت كى اس عہد ِضمانت کا نتیجہ يہ بھی ہے کہ گمراہ فرقے کتاب وسنت میں تاویل و تحریف کے ذریعے کتاب و سنت کےدلائل کو اپنےاغراض و مقاصد کے لیے استعمال کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکے، بلکہ جس دور میں بھی باطل پرست قوتوں نے کتاب وسنت کو اپنا نشانہ بنانےکی کوشش کی یا احادیثِ نبویہؐ میں من گھڑت اور بے سروپا روایات داخل کرنے کی جسارت کی؛ محدثین کرام  اور علمائے حق نے ان کے ان خطرناک منصوبوں کی قلعی کھول دی اور ایسے مقتدیانِ دین کو ہمیشہ کے لیے روسیاہ کردیا۔
حفاظتِ حدیث اور اشاعتِ حدیث کا کی دوسری اہم وجہ نبی ﷺ کو کتاب و سنت کی نصوص کو کھول کر بیان کرنے کا حکم ربّانی تھا۔ جس کی اتباع میں نبی کریمﷺ نے کتاب و سنت کو پوری ذمہ داری سے اَدا کیااور اس فرض کی ادائیگی میں کوئی لمحہ بھی فروگزاشت نہیں کیا۔ جیسا کہ اس پر یہ آیات واحادیث شاہد عدل ہیں:
1. ﴿وَأَنزَلنا إِلَيكَ الذِّكرَ‌ لِتُبَيِّنَ لِلنّاسِ ما نُزِّلَ إِلَيهِم .... ٤٤ ﴾.... سورة النحل
''اور ہم نے آپؐ کی طرف ذکر نازل کیا تاکہ آپؐ لوگوں کو وہ چیز (شریعت) کھول کر بیان کریں جو ان کی طرف نازل کی گئی ہے۔''
2. ﴿وَما أَنزَلنا عَلَيكَ الكِتـٰبَ إِلّا لِتُبَيِّنَ لَهُمُ الَّذِى اختَلَفوا فيهِ..... ٦٤ ﴾.... سورة النحل
''او رہم نے آپؐ کی طرف کتاب اس لیے نازل کی ہے کہ آپﷺ اپنے ان (لوگوں) کے لیے اس چیز کو کھول کر بیان کریں جس میں اُنہوں نے اختلاف کیا ہے۔''
ان آیات میں نبی ﷺ کو احکام وحی (کتاب و سنت) کو کھول کر بیان کرنے کی تاکید کی گئی ہے، چنانچہ حکم ربانی کی تعمیل میں آپؐ نے خود بھی کتاب و سنت کی خوب تبلیغ کی اور صحابہ کرام کو بھی کتاب و سنت کی ترویج کا پابند کیا جس کی صراحت درج ذیل اَحادیث سے عیاں ہے:
3. عبداللہ بن عمروؓسے روایت ہےکہ نبی ﷺنے فرمایا:
«بلغوا عنی ولو آیة» (صحیح بخاری:3461)
''میری طرف سے (لوگوں کو) پہنچاؤ خواہ ایک حدیث ہی ہو۔''
4. حجۃ الوداع کے موقع پر آپؐ نے صحابہ کرام  سے مخاطب ہوکر سوال کیا : کیا میں نے تمہیں دین پہنچا دیا ہے؟ اس پر صحابہ ؓنے اثبات میں جواب دیا تو آپؐ نےفرمایا: اے اللہ!گواہ ہوجا:
«فليبلغ الشاهد الغائب فرب مبلغ أوعٰى من سامع» (صحیح بخاری:1741)
''(میرے احکامات)حاضر شخص غائب کو پہنچائے،کیونکہ کچھ لوگ جنہیں بات پہنچائی جاتی ہے، وہ سننے والے سے زیادہ ذہن نشین کرلیتے ہیں۔''
5. پھر ان محرکات و تاکیدات کے سوا علمائے و محدثین کے لیے نبی ﷺ کی دعا بھی اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے جس میں خدام حدیث اور مبلغین کے لیے چہروں کی شادابی کی دعا کی گئی ہے۔عبداللہ بن مسعودؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا:
«نضر الله امراءً سمع منا حدیثا فبلغه فربّ مبلغ أحفظ من سامع»(جامع ترمذی:2657، سنن ابن ماجه:232)
''اللہ تعالیٰ اس آدمی کو شاداب رکھے جس نے ہم سے کوئی حدیث سنی،پھر اس کی تبلیغ کی،چنانچہ کتنے ہی لوگ ہیں جن کو بات پہنچائی جاتی ہے وہ سامع سے زیادہ یاد رکھتے ہیں۔''
مذکورہ بالا اَحکام کی اتباع میں صحابہ کرام رضوان اللہ اَجمعین نے کتاب و سنت کی تعلیمات کی تبلیغ کو مقصد ِحیات بنایا اور دین حنیف کی سربلندی اور تبلیغ دین کے لیے خود کو وقف کردیا۔پھر ان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے تابعین و تبع تابعین اور محدثین عظام نے سنتِ نبویﷺکی حفاظت کے لیےٹھوس اقدامات کیے اور اَحادیث نبویہ کومحفوظ کرنے کے لیے تعلیم و تعلّم کے ساتھ تدوین حدیث کو فروغ دیا۔ نیز محدثین کرام نے عوام الناس میں اَحادیث کا ذوق پیدا کرنے اور اَحادیث کی ترویج کے لیے قلم و قرطاس کا سہار ا لیا اور اشاعت ِحدیث کی خاطر تالیف و تصنیف کے مختلف اُسلوب اختیار کیے اور ہر مؤلف کی شدید خواہش تھی کہ اَحادیث کی تالیف و ترتیب کا وہ طریقہ اختیار کیا جائے جو انتہائی سود مند، نہایت سہل اورعوام الناس کی اِصلاح کیلئے مؤثر ترین ہو۔
ان اَہداف کے پیش نظر کتب ِاَحادیث کی تصنیف و ترتیب کے مختلف انداز اپنائے گئے چنانچہ بعض محدثین نے اپنی کتاب کو سنن و جوامع کی طرز پر ترتیب دیا۔کچھ نے مسانید کے طریقہ کو منتخب کیا۔بعض نے معجم کی ترتیب اپنائی اورکچھ نے سابقہ کتب کا اِستدراک واستخراج کیا۔ اس مضمون میں ہمارا موضوع اَحادیث کے مختلف وسیع ترین ذخائر اور عظیم مجموعے ہیں،جنہیں بعد کے علما و محدثین نے تمام اَحادیث ِنبویہ کو جمع کرنے کی غرض سے ترتیب دیا ہے، یا ان کا مقصد یہ رہا ہے کہ نبی کریم ﷺکی تمام قولی احادیث کو یکجا کردیا جائے اور کچھ مجموعے ایسے بھی ہیں جن میں مختلف کتب ِاحادیث کا تکرار ختم کرکے بغرضِ اختصار ترتیب دیا گیا ہے۔ چونکہ ان کتب کی جمع وتالیف اور اختصار کا اصل مقصد احادیث کی اشاعت و تبلیغ اور عامۃ الناس کی اصلاح ہے، اس لئے محدثین کی ان بیش بہا خدمات کو سراہتے اور عوام الناس میں ان کتب کاطرز ِترتیب مشتہر کرنےکے لیے کچھ کتب احادیث کا جائزہ قارئین کی خدمت میں پیش کیا جارہا ہے۔ ہماری یہ طالب علمانہ پیشکش طالبانِ حدیث ، شائقین علم اور فن احادیث سے وابستہ افراد کے لیے عظیم تحفہ ہوگی اور متلاشیانِ احادیث کی تشنگی کا کماحقہ مداوا کرے گی۔ نیز ہماری اس کاوش سے احادیث کی تحقیق و تخریج میں بہترین مدد ومعاونت حاصل ہوگی۔اِن شاء اللہ!
(1) كتابِ رزین کا تعارف
مؤلّف : ابو الحسن رزین بن معاویہ بن عمار عبدری (م 535ھ)
اَحادیث ِرسولﷺکوایک مقام پر یکجا کرنے کی غرض سے ایک اہم کاوش امام رزینکی ہے۔ ابوالحسن رزین بن معاویہ عبدری نے کتبِ ستہ: صحیح بخاری، صحیح مسلم، سنن ابی داود، جامع ترمذی، سنن نسائی اور موطا امام مالک کو جمع کیا اور اختصار کی غرض سے مکرر احادیث کو حذف کردیا، اُنہیں صحیح بخاری کی طرز پر فقہی ابواب میں ترتیب دیا اور احادیث نبویہ ؐ مع اسناد ذکر کیں۔
کتاب ِرزین میں خامیاں
امام رزین  نے اپنی اس کتاب کو جدید اورمفید ترتیب پر مرتب کیا اور متونِ حدیث کے اہم مآخذ کو ایک کتاب کی شکل میں ترتیب دیا جس میں شائقین علوم حدیث کے لیے ایک کتاب میں جمع شدہ احادیث سےاستفادہ کرنا نہایت آسان تھا، لیکن اس کے ساتھ ساتھ کتاب رزین میں کئی نقائص تھے جن کا اِزالہ بڑاضروری تھا۔
1. احادیث کے اختصار کے باوجود مکرر احادیث کافی تھیں، دوسرے لفظوں میں امام رزین کتب ِستہ سے کلی تکرار ختم نہ کرپائے۔
2. کتبِ ستہ سے کئی اصل متون چھوٹ گئے تھے۔
3. احادیث کو فقہی ترتیب پر جمع کیا گیا تھا، لیکن بعض احادیث کو ان کے متعلقہ تراجم کے بجائے غیر متعلقہ تراجم میں داخل کیا گیا تھا جن کا ترجمۃ الباب سے کوئی تعلق نہ تھا۔
4. احادیث کی تبویب صحیح بخاری کے ابواب کے مطابق تھی لیکن بعض ابواب حذف کردیئے گئے تھے۔
ان نقائص اور خامیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے حافظ ابن اثیر نے اس کتاب کی تذہیب وتسہیل اور تہذیب کا ارادہ کیا اور کتابِ رزین کی تہذیب کو جامع الأصول سے موسوم کیا۔
(2) جامع الاصول فی احادیث الرسول؛ تعارف وتجزیہ
مصنف: ابو سعادات مبارک بن محمد شیبانی المعروف بابن اثیر الجزری (م 606ھ)
مجلدات:15 تعدادِ احادیث:9523
کتابِ رزین کی جامعیت و افادیت کے پیش نظر حافظ ابن اثیرنے اس کتاب کی تہذیب و تسہیل کا ارادہ کیا اور اسے جامع ترین کتاب بنانے کے لیے درج ذیل اقدامات کئے:
1. کتاب رزین سے بے جا اِختصار ختم کیا۔
2. اس میں کتب ِستہ کی جواصل احادیث چھوٹ گئی تھیں اُنہیں جامع الأصول میں شامل کیا۔
3. جامع الأصول کو مستقل فقہی ابواب پرمرتب کیا۔
4. بغرضِ اختصار احادیث کی اسانید حذف کردیں۔
5. غریب الفاظ کی توضیح و تشریح کی۔
6. تمام سند ذکر کرنے کے بجائے راوی حدیث صحابی یا تابعی کے نام پر اکتفا کیا، البتہ کسی خاص مقصد کے لیے کسی راوی کا نام ذکر کردیتے ہیں۔
7. متون میں محض مرفوع روایات اور آثارِ صحابہ تک اکتفا کیا جبکہ تابعین، تبع تابعین اور ائمہ وغیرہ کے اقوال شاذ و نادر ہی مذکور ہیں۔
8. کتاب کے آخر میں ایک مستقل باب میں حروفِ تہجی کے اعتبار سے راویوں کے اسماء اور مختصر تراجم کا بھی تذکرہ کیا گیا۔
9. کتابِ رزین میں درج شدہ صحیح بخاری و مسلم کی احادیث کی پڑتال کے لیے امام حمیدی کی کتاب 'الجمع بین الصحیحین' سے اس کا تقابل کیا اور باقی کتب: ابوداود، ترمذی، نسائی اور موطا امام مالک کااصل کتب سے موازنہ کیا۔ یوں کتابِ رزین میں جو کمی بیشی تھی، اس کا اِزالہ ہوگیا۔
10. احادیث کی ترقیم بندی کی، لیکن زائد الفاظ کو بغیر ترقیم کے ذکر کیا۔
11. اگر کوئی حدیث بخاری و مسلم سمیت دیگر کتب ِحدیث میں بھی موجود ہو تو بخاری و مسلم کے الفاظ پر اکتفا کیا گیا، البتہ دیگر کتب میں زوائد الفاظ ہوں تو وہ بیان کردیئے گئے ہیں۔
12. کتاب ِرزین سے جو احادیث کتبِ ستہ میں نہ مل سکیں، ان کے لیے رواه رزین کی اصطلاح وضع کی اور آخر میں لم أجده کہہ کر کتب ِستہ میں موجود نہ ہونےکی صراحت کردی۔
13. جو حدیث کسی معنی میں منفرد ہو، اسے اس کے متعلق خاص باب میں ذکر کیا گیا ہے۔البتہ ایسی احادیث جو کثیر المعنیٰ ہوں اور کوئی خاص یا غالب معنیٰ کشید نہ کیا جاسکتا ہو تو اسے کتاب کے آخر میں'کتاب اللواحق' میں ذکر کردیا گیاہے، جبکہ مختلف الجہت معانی پر مشتمل ایسی احادیث جو کسی معنیٰ میں خاص یا غالب ہو ،اسے اس خاص باب کے تحت ذکر کیا گیا ہے۔
14. تخریج احادیث کے لیے رموز استعمال کئے گئے ہیں۔
کتب و اَبواب بندی کا طریقۂ کار
1. صاحبِ جامع الأصول نے مسائل کو فقہی ترتیب پر،لیکن کتب وابواب کو حروفِ ابجدی کی ترتیب پر مرتب کیا ہے، مثلاً حرف ہمزہ کے تحت دس کتب بیان ہوئی ہیں:
1. کتاب الایمان والإسلام 2. کتاب الاعتصام بالکتاب والسنة3. کتاب الأمانة 4. کتاب الأمر بالمعروف 5. کتاب الاعتکاف 6. کتاب إحیاء الأموات 7. کتاب الإیلاء 8. کتاب الأسماء والکنیٰ 9. کتاب الآنية 10. کتاب الأمل والأجل
2. ابواب بندی میں اَوّلاً'کتاب'، ثانیاً 'ابواب'، ثالثاً 'فصول' پھر 'فروع'، پھر انواع کی ترتیب اختیار کی گئی ہے، لیکن یہ مستقل ترتیب نہیں، بلکہ بعض جگہ ابواب وغیرہ کو حذف بھی کردیا گیا ہے مثلاً:
 ٭ «الکتاب الأول: في الإیمان والإسلام وفيه ثلاثة أبواب»
الباب الأوّل: في تعریفهما حقیقةً ومجازًا وفيه فصلان:
الفصل الأوّل: في حقیقتهماوأرکانهما
الفصل الثاني: في المجاز
٭ الباب الثاني: في أحکام الإیمان والإسلام، وفيه ثلاثة فصول:
الفصل الأوّل: في حکم الإقرار بالشهادتین
الفصل الثاني: في أحکام البیعة
الفصل الثالث: في أحکام متفرقة
٭ الباب الثالث: في أحادیث متفرقة تتعلق بالإیمان والإسلام
پھر کچھ کتب ایک یا دو ابواب مع فصول و فروع اور انواع کے ہیں۔ کچھ کتب، فصول وانواع پر اورکچھ محض کتاب پر ہی موقوف ہیں۔ مثلاً الکتاب الثالث في الأمانة کے ابواب و فصول بالکل نہیں ہیں۔
3. ہر حرف میں شامل کتب کے اختتام پر اس حرف کے متعلقہ ان عنوانات کی وضاحت بھی کی گئی ہے جو اس حرف کے تحت درج نہیں کہ وہ عنوانات کن کتب کے تحت آئیں گے مثلاً وہ ابواب جن کا آغاز حرف ہمزہ سے ہوتا ہے، لیکن وہ حرفِ ہمزہ کے تحت مذکور نہیں:
1. الاحتکار في کتاب البیع من حرف الباء
2. الأمان في کتاب الجهاد من حرف الجیم
3. الإحرام في کتاب الحج من حرف الحاء
4. الأضحية في کتاب الحج
علیٰ ہذا القیاس بقیہ کتب کے آخر میں بھی وضاحت مذکور ہے۔
جامع الاصول کی کتب و اَبواب کی تفصیل
جامع الاصول کی کل کتب، ابواب، فصول و فروع اور اَنواع کی تفصیل درج ذیل ہے:
1. کل کتب : 130        2. کل ابواب : 124
3. کل فصول : 506         4. کل فروع : 352
5. کل انواع : 377
محقق جامع الأصول ایمن صالح شعبان کا طریقۂ تحقیق
جامع الاصول پر بعض تحقیقات بھی کی گئی ہیں، جن میں سے اہم فضیلۃ الشیخ ایمن صالح شعبان کی تحقیق و تخریج ہے ،جس میں انہوں نے درج ذیل اضافہ جات بھی کیے ہیں:
1. آیات ،احادیث اور آثار کی تخریج کی اور اِعراب لگائے۔
2. احادیث کی اسنادبیان کیں، صحت و ضعف کا حکم لگایا اور تخریج احادیث میں کتب ِستہ کے علاوہ جو روایات مسند حمید ی، مسندعبد بن حمید، مسنداحمد، سنن دارمی، فی خلق افعال العباد، جزء رفع الیدین للبخاری، الادب المفرد اور شمائل ترمذی میں تھیں، ان کتب کی احادیثِ زوائد مع سند اور رقم الحدیث بیان کیں۔
3. ہر کتاب کے آخر میں کتب ِستہ کی تکمیل کی خاطر زوائد ابن ماجہ للبوصیری کا اضافہ کیا۔
4. تخریج حدیث کے بعد غریب الفاظ کی تشریح بیان کی۔
کتابِ ہذا میں نقائص اور خامیاں
جامع الاصول اپنی افادیت و اہمیت کے لحاظ سے ایک جامع اور نہایت مفید کتاب ہے۔ لیکن اس کے باوجود اس میں کئی نقائص ہیں:
1. اَحادیث کو جمع کرنے کے کوئی قواعد و اُصول مقرر نہیں کیے گئے اور نہ ہی احادیث کے اختصار میں کسی کتاب کو معیار مقرر کیا ہے بلکہ جو حدیث جس انداز میں جس جگہ مناسب ہوئی، منطبق کردی۔
2. اختصار احادیث کے لیے نہ تو بخاری و مسلم کو مقدم کیا گیا ہے او رنہ ہی بقیہ کتاب سے حذف شدہ احادیث کی وضاحت ہے۔
3. تخریج کیلئے تو رموز استعمال کیے گئے ہین لیکن زوائد الفاظ کی تخریج و تحقیق نامکمل ہے۔
4. ایک معنی کی کئی روایات میں الفاظ کا تکرار باقی ہے۔
5. مسائل کی تبویب توفقہی ہے لیکن کتب کو حروفِ تہجی کی ترتیب سے مرتب کرنے کی وجہ سے احادیث و مسائل کی تلاش نہایت پیچیدہ اور مشکل ہوگئی ہے۔پھر حروفِ ہجائی کی ترتیب کے باوجود حروف کے متعلق کتنی ہی کتب و ابواب کو حذف کرکے کسی اور کتاب یا باب میں داخل کردیا گیا ہے، جس سے قارئین کے لیے حدیث و مسئلہ کی تلاش میں بہت مشکل پیدا ہوئی ہے۔
6. کتبِ ستہ کے مصنّفین کے عناوین ابواب حذف کرنے سے فقہی استدلال اور مسائل کے استنباط کا فائدہ مفقود ہوا ہے جس سے احادیث سے مسائل مستنبط کرنا مشکل ہوگیا ہے۔
7. کتب، ابواب، فصول، فروع اور انواع کی تقسیم کا قاعدہ کلیہ مقرر نہیں بلکہ کچھ کتب کے کئی ابواب، کئی فصول اور کئی فروع و انواع ہیں لیکن کچھ کتب ابواب، فصول اور فروع و انواع سے یکسر ہی خالی ہیں۔ کچھ کے ابواب ہیں، فصول نہیں اور فروع میں کچھ کتب ابواب سے خالی اور فصول و فروع پر مشتمل ہیں، اور کچھ فروع و انواع پر،خلاصہ یہ کہ کتب و ابواب کی تقسیم غیر معیاری ہے۔
(3) جامع السنن والمسانيد (مسند)
مصنف:حافظ عماد الدین ابو الفداء اسماعیل بن کثیر قرشی دمشقی (م774ھ)
مجلدات: 40 تعدادِ احادیث:ایک لاکھ سے زائد
1. یہ حافظ ابن کثیر کی مایہ ناز کتاب اور عظیم علمی شاہکار ہے، جس میں اُنھوں نے حدیث کی دس بڑی کتب: 1. مسند احمد 2. صحیح بخاری 3.صحیح مسلم 4. سنن ابی داود 5.جامع ترمذی 6. سنن نسائی 7. سنن ابن ماجہ 8. معجم کبیر طبرانی 9. مسند بزار اور10.مسند ابویعلیٰ کو ایک کتاب میں جمع کیا ہے، البتہ کبھی کبھی ان کتب کے علاوہ دیگر کتب کی احادیث بھی نقل کردیتےہیں مثلاً حلية الأولياء لابی نعیم، کتاب الاصول لابن ابی الدنیا، اسد الغابۃ، الاصابۃ وغیرہ۔ ابن کثیر ان کتب کو جمع کرنے کے بعد اس کتاب کی افادیت واہمیت ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں:
''یہ دس کتابیں ایک لاکھ سے زائد مکرر اَحادیث پر مشتمل ہیں جن میں صحیح ،حسن، ضعیف اور موضوع روایات شامل ہیں او ریہ کتابیں بہت سے فقہی احکام ، تفسیر، تاریخ، رقائق اور فضائل و مناقب پر مشتمل ہیں۔'' (جس سے ان کتب کی جامعیت عیاں ہوجاتی ہے)
2. مسند کی طرز پر جمع شدہ اس عظیم کتاب کی حافظ ابن کثیر کی تیار کردہ جلدوں کی تعداد 37 اور اضافہ شدہ جلدوں کی تعداد تین ہے،کل جلدیں 40 بنتی ہیں۔
3. ڈاکٹر عبدالمعطی امین قلعجی نے جامع المسانید کی تحقیق و تخریج کی ہے۔
4. حافظ ابن کثیر نے مسند احمد کی اَحادیث کو مقدم رکھا ہے،پھر جو حدیث کتب ِ ستہ، مسندبزار، مسند ابی یعلیٰ، معجم کبیرمیں ہو وہ حدیث نقل کرنے کے بعد ان کتب کی طرف اشارہ کردیتے ہیں او راس روایت کی متعلقہ اَسانید ذکر کردیتے ہیں۔یوں متابعت و شواہد کی تلاش کے لیے یہ ایک بہترین اور انتہائی مفید کتاب ہے۔
5. حافظ ابن کثیر اس کتاب کی تکمیل کے قریب پہنچ گئے تھے۔مسند ابی ہریرہؓ زیر تکمیل تھی کہ قبل از تکمیل اللہ تعالیٰ کو پیارےہوگئے۔ پھر مسندابی ہریرہ ؓکو ابن کثیر کی طرز پر ابوعبداللہ عبدالسلام بن محمد بن عمر بن قلوش نے تین جلد میں مکمل کیا۔ یوں اس کتاب میں جو کمی رہ گئی تھی، اس کا اِزالہ ہوگیا۔
6. اَحادیث کو مسند کی طرز پر یعنی ہر صحابی کی علیحدہ روایات بنام صحابی حروفِ تہجی کے اعتبار سے جمع کی ہیں اور جن صحابہ سے روایت کرنے والے شاگردوں کی تعداد زیادہ ہے، اُنہیں معجم کی ترتیب پر جمع کیا ہے۔
7. اسمائے رواۃ کی ترتیب میں اَوّلا اسماء، ثانیاً کنیٰ، ثالثاً مبہم رواۃ، رابعًا عورتوں کے نام ہیں۔ یہ سلسلہ سولہویں جلد تک ہے۔اس کے بعد مشہور صحابہ کرام سے روایات کا علیحدہ سلسلہ ہے۔ چنانچہ 17 جلد میں ابوبکر ؓ و عثمانؓ، 18 جلدمیں عمر بن خطابؓ، 19و 20 جلد میں علیؓ بن ابی طالب، 21، 22، 23 جلد میں انس بن مالکؓ، 24، 25 جلد میں جابر بن عبداللہؓ، جلد 26 میں عبداللہ بن عمرو بن العاصؓ،جلد 27 میں عبداللہ بن مسعودؓ، جلد28، 29 میں عبداللہ بن عمر ؓ، جلد30، 31، 32 میں عبداللہ بن عباسؓ، جلد 34 میں ابوسعید خدریؓ، جلد 35، 36، 37 میں عائشہؓ کی روایات ہیں پھر جلد 38، 39، 40 میں ابوہریرہ ؓکی روایات جمع کی گئی ہیں۔
8. صحابہ کرام کے مختصر و مطول تراجم ذکر کیے گئے ہیں۔
9. بعض راویوں سے کوئی روایت مروی نہیں، لیکن اسماء کی ترتیب میں اُنہیں بھی ذکر کردیا گیا ہے، مثلاً ابراہیم بن عبدالرحمٰن بن عوف، ابراہیم بن ابی موسیٰ اشعری اور ابراہیم نجار وغیرہ ان کی اس کتاب میں کوئی روایت نہیں ہے۔
10. اسی طرح ابراہیم بن محمدسےکوئی روایت تو منقول نہیں، لیکن ترتیب اسماء میں ان کے نام کے تحت ان کے فضائل و مناقب جمع کردیئے گئے ہیں۔
11. شدید ضعیف روایات پر جرح کرتے اور ضعیف راوی کا ضعیف بیان کردیتے ہیں۔
فوائد و محاسن
1. ذخیرہ اَحادیث کے اعتبار سے یہ کتاب اَحادیث کا نہایت بڑا ذخیرہ ہے جس میں نادر و نایاب اَحادیث درج ہیں اور احادیث کی کثیر تعداد پرمشتمل احادیث کا گراں مایہ گنجینہ ہے۔
2. کتاب مذکورہ میں ایسی نادر و نایاب کتب کی احادیث ہیں کہ محقق کا ان کتب تک رسائی حاصل کرنانہایت مشکل بلکہ بعض کتب پر تو اطلاع پانا بھی ناممکن ہے۔
3. احادیث کی ترتیب کاطریقہ انتہائی سہل ہے کہ تخریج و تحقیق کا ذوق رکھنے والوں کے لیے احادیث کی تخریج نہایت سہل ہے۔
4. اسناد کی بحث اورراویوں کے احوال کے بیان کے اعتبار سے یہ کتاب نہایت مفید ہے۔
نقائص و مؤاخذات
1. مؤلف نے کتاب کےمقدمہ میں تحریر کیا ہے کہ وہ ہر حدیث پراس کے موافق صحت وضعف کا التزام کریں گے ،لیکن وہ اس شرط کا التزام نہ کرسکے، کیونکہ کئی روایات ہیں جن کی تحقیق کا سرے ہی سےاہتمام نہیں۔
2. احادیث کی ترتیب نہایت مشکل ہے کہ عام آدمی کا اس کتاب سے احادیث تلاش کرنا بہت مشکل ہے کیونکہ جسے حدیث کے شروع کےالفاظ یاد نہ ہوں، اس کے لیے متعلقہ حدیث تک پہنچنا جوئے شیر لانےکےمترادف ہے۔
3. اگر کسی معین موضوع کی احادیث مطلوب ہوں تو انہیں تلاش کرنا تقریباً ناممکن ہے کیونکہ اس لیے پوری کتاب کھنگالنا لازم ہے جو انسانی بساط سے بالاتر ہے۔
4. مکرر احادیث بےشمار ہیں۔
مذکورہ بالا تینوں کتب کا تعلق مکرر احادیث کو یکجا کرنا اور ان میں تکرار کا خاتمہ کرنا ہے، جیسا کہ بعد میں آنے والی کتب کا مقصد بھی یہی ہے ، تاہم ا ن تین اور بعد میں آ نے والی چار کتب میں یہ فرق ہے کہ ان میں چند مخصوص کتابوں کی حد تک یہ کام کیا گیا ہے ، جبکہ بعد میں آ نے والی کتب میں اس مقصد کو تمام امکانی ذخیرہ حدیث تک توسیع دے دی گئی ہے۔
(4) الجامع الصغير و زيادته كا تجزیہ (مختصر قولی احادیث)
مؤلف:حافظ جلال الدین ابوالفضل بن ابی بکر بن محمد بن سابق سیوطی (م911ھ)
مجلدات:3 تعدادِ احادیث:14662
علامہ سیوطیکی حدیث پر گراں قدر تصنیف ہے، جسے علماے کرام نے شرفِ قبول بخشا اور یہ اپنی افادیت کے پیش نظر عوام وخواص میں معروف و مشہور ہے پھر اپنے وسیع ذخیرۂ حدیث کی وجہ سے اس کے چرچے اہل علم میں زبان زدِ عام ہیں اور تمام علما و فضلا اس کی حسن ترتیب و جمع اَحادیثِ کثیرہ کا کھلا اعتراف کرتے ہیں،جس وجہ سے یہ کتاب متونِ احادیث میں سے ایک جامع کتاب کی حیثیت اختیار کرچکی ہے۔
كسی بڑے مجموعہ میں تمام احادیث کو جمع کرنے کی یہ کوشش اس لحاظ سے انتہائی اہمیت کی حامل ہے کہ اس میں حدیثِ رسول ﷺکے بے شمارمصادر سے استفادہ کیا گیاہے، تاہم اس لحاظ سے یہ استفادہ اورجمع محدود بھی ہے کہ اس میں صرف ان احادیث کو لایا گیا ہے جو مختصر اورجامع قولی روایات ہیں، تفصیلی احادیث اور لمبے واقعات سے اجتناب کیا گیا ہے۔
کتاب کی ترتیب و انتخاب كاطریقہ
جلال الدين عبدالرحمٰن بن ابو بکر سیوطی نےنبی ﷺ کی تمام قولی اورفعلی احادیث میں سےمختصراور جامع روایات کو ایک کتاب میں جمع کرنے کا ارادہ کیا، جسے اُنہوں نے الجامع الکبیر المسمّٰی جمع الجوامع سے موسوم کیا اور پھر اسی کتاب کی دو قسمیں بنائیں۔ القسم الأوّل قولی احادیث پر مشتمل ہے اور اُنہیں حروفِ ہجائی کی ترتیب پر مرتب کیا۔ القسم الثاني احادیثِ فعلیہ پرمشتمل ہے اور اسے مسانیدِ صحابہ کی طرز پرمرتب کیا گیا ہے، لیکن یہ کتاب ابھی زیر تکمیل تھی کہ امام صاحب اس دارِفانی سے کوچ کرگئے۔ البتہ وفات سے چند سال قبل اُنہوں نے قسم اوّل یعنی قولی احادیث کو حروفِ تہجی کے اعتبار سے مرتب کیا،اور اس کانام الجامع الصغیر من حدیث البشیر النذیرﷺ رکھا، جس کی احادیث کی تعداد تقریباً10031 تھی ۔پھر اسی کتاب کی ذیل لکھی جس کا انتخاب الجامع الکبیراور دیگر احادیث کی کتب سے کیا گیا اوراسے زیادة الجامع سے موسوم کیا، اس ذیل کی ترتیب اور رموز بھی الجامع الصغیر کی ترتیب و رموز کے موافق تھی جس میں احادیث کی تعداد تقریباً 4440 ہے۔یہ دونوں کتابیں 'الجامع الصغیر' اور 'زیادۃ الجامع' باقاعدہ الگ الگ دو کتابیں تھیں جنہیں علامہ یوسف نبہانی نے یکجا کردیا۔ یوں یہ کتاب الجامع الصغیر و زیادته کے نام سے معروف ہوئی۔
اس کتاب میں احادیث کی ترتیب حروفِ ہجائی کے لحاظ سے ہے، البتہ حرف کاف سے شروع ہونے والی احادیث ذکر کرنے کے بعد لفظ 'کان' سے شرو ع ہونے والی احادیث کو الگ باب میں ذکر کیا ہے۔ حرفِ 'نون 'سے شروع ہونے والی احادیث کے خاتمے کے بعد باب المناهي کے نام سے وہ روایات نقل کی گئی ہیں جن کا آغاز لفظ 'نہی 'سے ہوتا ہے، تاہم حرف ِ'لام' کے تحت آنے والی روایات میں ان روایات کا ذکر نہیں جن کا آغاز کلمہ 'لا' سے ہوا ہے بلکہ اُنہیں ایک الگ باب میں حرف 'واؤ' کے اختتام پر حرف 'اللام الف 'کے تحت درج کیا ہے۔
اَحادیث کی تخریج میں استعمال کردہ رموز
اَحادیث کی تخریج میں اکثر رموز استعمال کئے گئے ہیں جو مصنف ِکتاب کی ذاتی اختراع ہے۔ رموز کاطریقۂ کار درج ذیل ہے:
1. خ صحیح بخاری        2. م صحیح مسلم
3. ق بخاری، مسلم     4. د سنن ابو داود
5. ت جامع ترمذی    6. ن سنن نسائی
7. ھ سنن ابن ماجہ
8. ع هؤلاء الأربعة (ابوداؤد،ترمذی،نسائی،ابن ماجہ)
9. 3 د، ت، ن 10.حم مسنداحمد
11. عم زوائدعبداللہ بن احمد12. ك مستدرک حاکم
13. خد الأدب المفرد 14. تخ التاریخ للبخاري
15. حب صحیح ابن حبان 16. طب طبرانی کبیر
17. طس طبرانی اوسط  18. طص طبرانی صغیر
19. ص سنن سعید بن منصور 20. ش مصنف ابن ابی شیبہ
21. عب مصنف عبدالرزاق 22. ع مسند ابو یعلیٰ
23. قط دارقطنی 24. فر مسند الفردوس از دیلمی
25. حل الحلية از ابو نعیم 26. ھب شعب الایمان ازبیہقی
27. ھق سنن بیہقی 28. عد الکامل از ابن عدی
29. عق الضعفاء از عقیلی 30. خط تاریخ بغداد
پھر کچھ کتب کے رموز کے بجائے اُن کتب کے پورے نام ذکر کئے گئے ہیں مثلاً: تاریخ ابن عساکر،الزهد للهناد، مسند الطیالسی، المختارة للضیاء المقدسي، الفوائد للسموية، طبقات ابن سعد، الألقاب للشیرازی، کتاب الصلاة لمحمد بن نصر، مسند بزار، ابن خزیمة، مکارم الأخلاق للخرائطي، قضاء الحوائج لابن أبي الدنیا، مؤطا مالك، الکنٰى للدولابي، طحاوی.
كتب کی اس طویل فہرست سے جامع الصغیر وزیادتہ کی وسعت کا علم ہوتا ہے جس میں صرف ان کتب کی قولی احادیث کو جمع کیا گیا ہے۔نیزتخریج حدیث کے بعد صحابی کانام بیان کردیا گیا ہے۔
اَحادیث کی تحقیق کا طریقہ
1. پیش نظر کتاب میں اَحادیث کی تحقیق اور احادیث پر صحت و ضعف کا حکم لگانے کا انداز محدثین کے اُصول سےبالکل مختلف اور مصنف کی ذاتی ایجاد ہے۔ چنانچہ مصنف درج ذیل کتب:بخاری، مسلم ، ابن حبان، مستدرک حاکم، المختارۃاز ضیاء مقدسی، موطا مالک، ابن خزیمہ، مستخرج ابی عوانہ، ابن السکن، المنتقیٰ از ابن جارود اور مستخرجات کی احادیث کو صحیح قرار دیتے ہیں۔ اور سنن ابو داود کی وہ روایات جن پرامام ابوداودنے سکوت اختیار کیا ہے، کو حسن تسلیم کرتے ہیں۔
2. ترمذی، ابن ماجہ، ابوداود،مسندطیالسی، مسنداحمد، زوائد عبداللہ بن احمد،مصنف عبدالرزاق، سنن سعید بن منصور، مصنف ابن ابی شیبہ، مسندابی یعلیٰ، طبرانی کبیر، اوسط، دارقطنی، حلیۃ الاولیاء از ابو نعیم، سنن بیہقی اور شعب الایمان از بیہقی میں صحیح، حسن، ضعیف روایات ہیں جن کے حکم کی غالباً وضاحت کردی گئی ہے۔
3. البتہ مصنف کے ہاں مسنداحمد کی تمام روایات مقبول ہیں اور اس کی ضعیف روایات کو بھی حسن کے قریب کا درجہ دیا گیا ہے۔
4. الضعفاء ازعقیلی، کامل ابن عدی، تاریخ بغداد، تاریخ ابن عساکر، حکیم ترمذی، ابن نجار اور مسند الفردوس از دیلمی کی روایات مصنف کے ہاں ضعیف و ناقابل اعتبار ہیں۔لہٰذا ان کی طرف ضعف کی نسبت کو درخورِ اعتنا نہیں سمجھا گیا۔
احادیث پر یہ حکم امام سیوطی کی ذاتی اختراع ہے، جسے اُصولِ حدیث کے موافق نہ ہونے کی وجہ سے محدثین نے قبول نہیں کیا، بلکہ علامہ عبدالرؤوف المناوی نے 'الجامع الصغیر وزیادتہ' کی شرح فتح القدیر میں راویوں پر بحث کی ہے اور ضعیف و ناقابل اعتبار روایات کی اُصولِ حدیث کی روشنی میں وضاحت کی ہے۔ احادیث کی صحت وضعف پر مزید کام کی ضرورت کی بنا پر محقق العصر علامہ محمد ناصر الدین البانی نے اسی کتاب کی تحقیق کی ہے اوراُنہیں تین ضخیم جلدوں میں مرتب کیا ہے۔ دو جلدیں صحاح و حسان احادیث پر مشتمل ہیں اور ایک جلد ضعیف و موضوع روایات پر مشتمل ہے۔ نیز علامہ البانی نے احادیث کی تخریج میں مزید اضافہ بھی کیا ہے۔
کتاب ہذا کی احادیث کی تعداد
اس کتاب میں شامل کل احادیث کی تعداد 14662 ہے، جن میں سے صحیح و حسن روایات 8193 اور ضعیف و موضوع روایات 6429 ہیں۔
(5) جمع الجوامع یا الجامع الكبير
مصنف:حافظ جلال الدین ابوالفضل بن ابی بکر بن محمد بن سابق سیوطی (م911ھ)
تعدادِ احادیث: 46624
جمع الجوامع یا الجامع الکبیربھی امام جلال الدین عبدالرحمٰن بن ابی بکر سیوطی کی مایہ ناز تالیف ہےجس میں انہوں نے نبی ﷺ کی قولی وفعلی اَحادیث کو بالاستیعاب جمع کرنےکی انتھک کوشش کی ہے۔ان کی یہ کتاب تجمیع احادیث کا ایک عظیم شاہکار ہے جس میں تشنگانِ علم کی سرابی کا کافی سامان ہے اور ذخیرہ احادیث کا ایک بہت بڑا مجموعہ ہے۔ اس کتاب کی تصنیف علامہ سیوطی کی احادیث ِنبویہ سے قلبی لگاؤ اور خدمت حدیث کے بے پناہ جذبہ کی واضح دلیل ہے۔
اَحادیث کا طریقۂ انتخاب
مؤلف کتاب نے احادیث نبویہ کو دو حصوں میں تقسیم کیا ہے:
حصہ اوّل: قولی احادیث حصہ دوم: فعلی احادیث
(1) قولی احادیث: یہ حصہ فقط قولی احادیث پرمشتمل ہے۔
(2) فعلی احادیث : یہ حصہ محض فعلی احادیث پر مشتمل ہے اور فعلی احادیث کی تقسیم کی چار صورتیں بنتی ہیں:
1. محض فعلی احادیث مثلاً صحابی نبی کریمﷺکا یا راوی کسی صحابی کا فعل نقل کرے۔ جیسے صفوان نےعمر سے پوچھا :«کیف صنع رسول الله ‎ﷺ حین دخل الکعبة فقال: صلی رکعتین؟»
''رسول اللہ ﷺ جب کعبہ میں داخل ہوئے تو آپؐ نےکیا عمل کیا۔ عمرؓ نے کہا : آپؐ نےکعبہ میں داخل ہوکر دو رکعت نماز ادا کی۔''
2. احادیث جو آپؐ کے قول وفعل پر مشتمل ہیں۔
3. فعلی احادیث کی تیسری قسم ان احادیث کو شامل ہے۔ جس کے پس منظر میں کوئی سبب یا علت پنہاں ہے۔ اس کی مثال یہ حدیث ہے:
«قدم علی النبي ﷺ سبي فإذا امرأة من السبیّ تسعی، إذا وجدت صبیا في السبی أخذته فألصقته ببطنها ورضعته فقال لنا النبي ﷺ: أترون هذه طارحة ولدها في النار؟ قلنا: لا، وهي تقدر علي أن لا تطرحه، قال: الله ارحمه بعباده من هٰذه بولدها. ففعل المرأة هو سبب الحدیث.»
''نبیﷺ کے پاس کچھ قیدی لائے گئے تو ناگہاں ایک عورت (بچہ گم ہونے کی صورت میں اس کی تلاش میں)بھاگنے لگی پھر جب اس نے قیدیوں میں بچہ تلاش کیا تو اسے پکڑ کر اپنے سینے سے چپکا لیا او راسے دودھ پلانے لگی۔اس پر نبیﷺ نے ہمیں ارشاد کیا:کیا خیال ہے یہ اپنے بچے کو آگ میں ڈالے گی؟ ہم نے عرض کیا: نہیں، بشرطیکہ یہ اسےآگ میں نہ پھینکنے پر قادر ہو۔ آپؐ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس عورت کے اپنےبچے پر مہربان ہونےکی نسبت اپنے بندوں پر زیادہ مہربان ہے۔ چنانچہ مذکورہ عورت کا فعل آپؐ کی قولی حدیث کا سبب بنا ہے۔
4. وہ احادیث جو مراجعت و استشہاد کے طور پر مروی ہیں۔
قولی و فعلی اَحادیث کا طریقہ ترتیب
مؤلف ِکتاب نے تمام قولی احادیث کو حروفِ تہجی کے حساب سے جمع کیا اور قولی احادیث کو مسند صحابی کی طرز پر ترتیب دیا ہے اور صحابی سے مروی مرفوع و موقوف روایت کو ہرصحابی کی الگ مرویات میں جمع کیا ہے جس کی ترتیب حسب ذیل ہے:
اولاً :عشرہ مبشرہ صحابہؓ کو مقدم رکھا ہے اور ان کی مرویات اس ترتیب سےبیان کی ہیں:
(1) ابوبکر صدیقؓ (2) عمر بن خطابؓ (3) عثمان بن عفانؓ(4)علی بن ابی طالبؓ (5) سعد بن ابی وقاص ؓ(6) سعید بن زیدؓ (7) طلحہ بن عبیداللہؓ (8) زبیر بن عوامؓ (9) عبدالرحمن بن عوفؓ (10) ابوعبیدہ بن جراحؓ
ثانیاً : عشرہ مبشرہ کے بعد باقی صحابہ کے نام معجم کی ترتیب سے مرتب ہیں، پھر کنیت کے اعتبار سے، اس کے بعد مبہم رواۃ، پھر عورتوں کے اسما اسی ترتیب سے ہیں۔پھر مرسل احادیث کا بیان ہےجو ان کے راویوں کے ناموں اور کنیّتوں کی ترتیب سے مرتب ہیں۔
رموز کا استعمال
قولی اور فعلی احادیث کی تخریج کے لیے رموز استعمال کیےگئے ہیں جن کی توضیح درج ذیل ہے:
1. (ح) بخاری2. (م) مسلم 3. (د) ابوداؤد 4. (ت) ترمذی 5. (ن) نسائی6. (ہ) ابن ماجہ7. ( حم) مسنداحمد 8. (حب) صحیح ابن حبان 9. (ك) مستدرک حاکم 10. (ض) المختارۃ للضیاء المقدسی 11. (ط) مسندطیالسی12. (عم) زوائد المسند لعبداللہ یعنی احمدبن حنبل13. (عب) مصنف عبدالرزاق 14. (ش) مصنف ابن ابی شیبہ 15. (ص) سنن سعید بن منصور16. (ع)مسندابویعلیٰ 17. (طب) معجم طبرانی کبیر 18. (طس) معجم طبرانی اوسط 19. (طص) معجم طبرانی صغیر 20. (قط) سنن الدارقطنی (اگر روایت سنن میں ہو تو (قط) استعمال کرتے اور اگر کسی او رکتاب میں ہو تو کتاب کی صراحت کردیتے ہیں۔21. (حل) حلیۃ الاولیاء لأبی نعیم 22. (ق) سنن الکبریٰ للبیہقی (اگر روایت سنن بیہقی میں ہو تو (ق) رمز استعمال کرتے ہیں اور اگر امام بیہقی کی دوسری کتب میں روایت ہو تو توضیح کردیتے ہیں۔ 23. (ھب) شعب الایمان للبیہقی 24. (عق) الضعفاء للعقیلی 25. (عد) الکامل فی الضعفاء الرجال لابن عدی 26. (خط) تاریخ بغداد (27)(کر) تاریخ ابن عساکر
پھر کچھ کتب کے رموز مستعمل نہیں بلکہ اصل نام ذکر کردیئے گئے۔
اَحادیث کی تصحیح و تضعیف کا عجیب اُسلوب
امام سیوطی نے زیرتذکرہ کتاب میں فقط نبی ﷺ کی قولی اور فعلی احادیث ہی نقل نہیں کیں بلکہ احادیث کے صحت و ضعیف کےحکم کا اہتمام بھی کیا ہے۔لیکن ان کی تصحیح و تضعیف کا انداز یہاں بھی محدثانہ اُصولوں سے جداگانہ اور ان کی ذاتی اختراع کا شاخسانہ ہے۔ انہوں نے جمع الجوامع میں مذکور کتابوں کو صحت و ضعف کے لحاظ سے تین حصوں میں تقسیم کیا ہے:
قسم اوّل میں درج ذیل کتابوں کی احادیث صحیح ہیں اور جمع الجوامع میں ان کتب کی روایات کو صحت پر محمول کیا گیا ہے:
(1) صحیح بخاری (2)صحیح مسلم (3)مستدرک حاکم (البتہ بعض مقامات پر حاکم کے تساہل کے مؤاخذت کی وضاحت بھی کردی گئی ہے۔ (4) المختارۃ للضیاء المقدسی (5) صحیح ابن حبان (6) صحیح ابن خزیمہ (7) مؤطا امام مالک (8) مستخرج ابوعوانہ (9) الصحاح لابن السکن (10) المنتقیٰ لابن جارود (11) المستخرجات
قسم ثانی میں وہ کتب شامل ہیں جو صحیح،حسن اور ضعیف روایات پر مشتمل ہیں اور ضعیف حدیث کا سبب ِضعف غالبًا بیان کردیا جاتاہے او ریہ کتب درج ذیل ہیں:
(1) سنن ابی داؤد (2) جامع ترمذی(3) سنن نسائی (4) سنن ابن ماجہ (5) مسند ابی داؤد الطیالسی (6) مسنداحمد بن حنبل و زوائد مسند (7) مصنف عبدالرزاق (8) مصنف ابن ابی شیبہ (9) سنن سعید بن منصور (10) مسند ابی یعلیٰ (11) طبرانی کی تینوں معاجم: معجم کبیر، معجم اوسط، معجم صغیر (12) امام دارقطنی کی تالیفاتِ سنن دارقطنی و دیگر کتب (13) حلیۃ الأولیاء لأبی نعیم (14) سنن بیہقی (15)شعب الإیمان للبیہقی
مسند احمد کی احادیث کے متعلق بھی امام سیوطی کا موقف ائمہ حدیث سے جداگانہ ہے، مسنداحمد کی روایات کے متعلق اپنا نقطہ نظر ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں:
«کل ما في مسند أحمد فهو مقبول، فإن الضعیف الذي فیه یقرب من الحسن»
''مسنداحمد کی ہر حدیث مقبول ،قابل احتجاج ہے اور اس کتاب کی ضعیف روایت بھی حسن حدیث کے حکم کے قریب ہے۔''
قسم ثالث :امام سیوطی نے صحت و ضعف کے اعتبار سے تیسری قسم میں وہ کتب شامل کی ہیں، ان کےنزدیک جن میں تمام روایات ضعیف ہیں، وہ کتب مندرجہ ذیل ہیں:
(1) الضعفاء للعقیلی (2) الکامل فی الضعفاء الرجال لابن عدی (3) تاریخ بغداد (4)تاریخ دمشق لابن عساکر (5) نوادر الأصول للحکیم الترمذی (6) تاریخ نیسابور للحاکم (7)تاریخ ابن الجارود (8) مسند الفردوس للدیلمی
چنانچہ مؤلف ان کتب احادیث کی طرف احادیث کی نسبت کردینے کے بعد اسباب ضعف بیان کرنے سے خود کو بری الذمہ سمجھتے ہیں ،یعنی مؤلف کے نزدیک ان کتابوں کا حوالہ ہی حدیث کے ضعف کی طرف اشارہ سمجھا جائے۔
مصادرِ کتب
چونکہ امام سیوطی کا ارادہ تمام قولی و فعلی احادیث کو یکجا کرنا تھا، اس لیے انہوں نے بالاستیعاب تقریباً کئی متونِ احادیث کو کھنگالا اور ان سے قولی و فعلی احادیث منتخب کرنے کی حتیٰ الامکان پوری کوشش کی۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے دسیوں کتب احادیث کا مطالعہ کیا جن کی تعداد سو کتب کےلگ بھگ بنتی ہے۔
علامہ متقی ہندی نے کنزالعمال کے شروع میں جمع الجوامع کی تیاری میں امام سیوطی کے زیرمطالعہ تقریباً 80 کتب کا ذکر کیا ہے لیکن فی الواقع کتاب کا جائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ جمع الجوامع کے لیے احادیث کے انتخاب میں محولہ کتب کی تعداد80 سے زائد اور سو کتب کےلگ بھگ ہے۔ اتنی کتابوں سے احادیث کا انتخاب اور تحقیق و تدقیق علامہ سیوطی کے کثرتِ مطالعہ ، عمدہ ذوق ، حدیث ِرسولؐ‎ سے خاص قلبی لگاؤ اور اشاعت ِحدیث کے بے تحاشا جذبہ کا بین ثبوت ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کے اس خدمت ِحدیث کے عمل کو قبول کرے اور اُنہیں کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے۔ آمین
اَحادیث کی تعداد
امام سیوطی کا نقطہ نگاہ تمام احادیثِ نبویہ کو جمع کرنا تھا، لیکن تمام کوشش اوربساط بھرمحنت کے باوجود وہ اس مقصد میں کامیاب نہ ہوسکے او راُنہوں نے جمع الجوامع میں جو احادیث جمع کی ہیں ان احادیث کی کل تعداد 46624 ہے۔پھر ان کے بعد عبدالرؤف مناوی شافعی نے احادیث ِنبویہ کو جمع کرنےکا عزم کیا اور اُنہوں نے الجامع الأزهر من حدیث النبی الأنور میں جمع الجوامع سےبہت زیادہ روایات کا اضافہ کیا جو احادیث جمع الجوامع میں مذکور نہیں تھیں۔
نقائص وعیوب
الجامع الکبیر احادیث نبویہ کا وسیع ترین ذخیرہ ہے جس میں کسی بھی متعلقہ مسئلہ كی اطلاع پانا ، کسی بھی موضوع کے متعلق مواد حاصل کرنا اور معروف و غیر معروف روایات کی تلاش کرنا ممکن ہے، لیکن اس اہمیت و افادیت کےباوجود اس کتاب میں کچھ عیوب و نقائص ہیں جس کی وجہ سے کتابِ ہذا سے استفادہ کرنا کافی مشکل اور ماہر محقق اور پختہ کار عالم کے سوا اس کی احادیث کا سراغ لگانا آسان نہیں۔ذیل میں اس کتاب کی کچھ خامیوں کی طرف توجہ مبذول کرائی جاتی ہے:
1. قولی احادیث کی ترتیب ہجائی ہے جس وجہ سے قولی حدیث کوتلاش کرنا نہایت پیچیدہ مرحلہ ہے کہ جب تک قاری کو تمام حدیث یا حدیث کے ابتدائی کلمات یاد نہ ہوں گے ، حدیث کی تلاش انتہائی مشکل ہے۔
2. فعلی احادیث کی ترتیب مسند و معجم کی ترتیب پر ہے لہٰذا جب تک راوئ حدیث کا نام ذہن نشین نہ ہوگا، حدیث کی تلاش محال ہوگی اور انتہائی مغز ماری اور سر کھپائی کے بعد بھی آپ کورے کے کورے اور مطلوبہ نتائج سے بےبہرہ رہیں گے۔
3. احادیث کی ترتیب غیر فقہی ہونےکی وجہ سے ایک موضوع کی احادیث تلاش کرنا مشکل ترین کام ہے او راس کے لیے آپ کو تمام کتاب کھنگالنا پڑے گی جو انسانی ہمت سے بالا ہے۔
4. احادیث کی تحقیق اور ان پر حکم انتہائی غیر معیاری اور اُصول محدثین سے مختلف ہے لہٰذا بخاری، مسلم کے سوا باقی روایات کی صحت و ضعف تک رسائی حاصل نہیں کی جاسکتی ہے۔لہٰذا ان احادیث کی عدمِ تحقیق کی وجہ سے اُنہیں ضبط تحریر و تقریر میں لانا باعث اضطراب ہے۔ کیونکہ یہ کتاب رطب و یابس احادیث کا مجموعہ ہے جس میں صحیح، ضعیف اور موضوع روایات کی بھرمار ہے لہٰذا جب تک کوئی معروف محقق ،اسماء ورجال اور علل حدیث کا ماہر اس کتاب کی تحقیق نہ کر لے اور احادیث کا حکم نہ لگائے، اس وقت تک عام آدمی کے لیے اس کتاب سے استفادہ کرنا ناممکن ہے۔ تب تک اس کتاب کی احادیث کو بے دھڑک اور بلاتحقیق بیان کرنا درست نہیں۔
(6) كنز العمّال في سنن الأقوال والأفعال
مصنف:علامہ علی بن حسام الدین عبد الملک بن قاضی خان متقی ہندی(م975ھ)
مجلدات:18 تعدادِ احادیث:46624
یہ تالیف محدثِ شہیر علامہ علی بن حسام الدین عبدالملک بن قاضی خان متقی ہندی کا عظیم شاہکار اور ان کی شبانہ روز محنت کا ثمرہ ہے کہ اُنہوں نے اپنی علمی ، فنی اور تحقیقاتی صلاحیتوں کو کھپا کر ذخیرہ حدیث میں ایک گراں قدر اضافہ کیا جو تشنگانِ علم اور اصحاب ِتحقیق کے لیے بیش قیمت سرمایہ ہے۔یہ کتاب دراصل امام سیوطی کی تین کتب الجامع الکبیر، الجامع الصغیر اور زیادۃ الجامع کا مجموعہ ہے جسے مؤلف نے فقہی ترتیب پر بغیر کسی کمی بیشی کے مرتب کیا ہے:
كنز العمّال کی تالیف کا پس منظر
مؤلف اور دیگر علما کے نزدیک امام سیوطی کی کتاب الجامع الکبیر احادیث کا بہت بڑا مجموعہ تھا، جس میں ہزاروں احادیث او ر بے شمار آثار تھے لیکن اس کی ترتیب میں درج ذیل عیوب تھےجن کامؤلف نے تدارک کیا اور اسے مفاد عام کے لیے فقہی ترتیب پر مرتب کیا:
1. الجامع الکبیر: احادیث کا عظیم ذخیرہ تھا لیکن احادیث کی تلاش انتہائی جاں گسل تھی، کیونکہ اگر کسی حدیث کامفہوم ذہن میں ہے تو اس تلاش کرنا تقریباً ناممکن تھا۔ کیونکہ اگر وہ قولی حدیث ہے تو اس کے ابتدائی کلمات یاد ہونا ضروری ہیں اور اگر فعلی حدیث ہے تو اس کے صحابی اور راوی حدیث کے نام سے مطلع ہونا لازم ہے۔ ان دو صورتوں سے عدم واقفیت کی صورت میں اس کتاب کی کسی بھی حدیث کوتلاش کرنا انتہائی دشوار اور ناممکن ہے۔
2. الجامع الکبیر میں سے کسی بھی فقہی موضوع مثلاً نماز، زکاۃ اور بیع وغیرہ کے متعلقہ تمام روایات کا احاطہ کرنا او راطلاع پانا ناممکن ہے ، البتہ پوری کتاب کو کھنگالنے سے یہ مقصود حاصل ہوسکتا ہے جو تقریباً ناممکن اور نہایت مشکل کام ہے۔
3. اَحادیث کو کتب ، ابواب، فصول اور تراجم کے تحت ذکر کرنا حدیث کی شرح اور اس سے استدلال کے مترادف ہے جب کہ الجامع الکبیر ان تمام چیزوں سے بالکل عاری ہے۔
یہ اسباب و محرکات تھے، جن سے متاثر ہوکر اور الجامع الکبیر کو مفید ترین بنانے کے لیے مؤلف نے کنزالعمال کو ترتیب دیا او رکنز العمال کی تیاری کے لیے مؤلف نے پانچ مراحل طے کیے:
پہلا مرحلہ:علامہ متقی نے اولاً امام سیوطی کی کتابالجامع الصغیر و زیادته (قولی احادیث) کو جمع کیا ، اسے فقہی ابواب پر مرتب کیا او راس کا نام منهج العمّال في سنن الأقوال رکھا۔
دوسرا مرحلہ: دوسرے مرحلے میں الجامع الکبیر کی الجامع الصغیر کےعلاوہ بقیہ احادیث کو فقہی ابواب پر ترتیب دیا گیاہے اور اس کتاب کو الإکمال لمنهج العمال سے موسوم کیا گیا ہے۔
تیسرا مرحلہ: اس مرحلہ میں مؤلف موصوف نے گذشتہ دونوں کتابوں منهج العمّال اور الإکمال لمنهج العمال کو جمع کیا ہے، البتہ ان دونوں کتب کی اَحادیث میں بایں صورت امتیاز کیا ہے کہ وہ عنوان باندھنے کےبعد اس کے تحت اولاً 'منہج الأعمال' اس عنوان کےمتعلق احادیث ذکر کرتے ہیں پھر الاکمال کی احادیث نقل کرتے ہیں اور انہوں اس کتاب کو غاية العمّال في سنن الأقوال کا نام دیا ہے۔
چوتھا مرحلہ: اس مرحلہ میں علامہ متقی ہندی نے الجامع الکبیر کی فعلی احادیث کو فقہی ابواب پر مرتب کیا او راس کا نام مستدرك الأقوال بسنن الأفعال رکھا۔
پانچواںمرحلہ:اس مرحلہ میں مؤلف نے غاية العمّال في سنن الأقوال اور مستدرك الأقوال بسنن الأفعال کو ایک کتاب میں فقہی ترتیب پر جمع کیا ہے۔ پھر ہرکتاب میں پہلے اس موضوع کے متعلق غایة العمّال (قولی احادیث) سے احادیث نقل کرتے ہیں پھر اس موضوع کی مستدرك الأقوال(فعلی احادیث) سے احادیث ذکر کرتے ہیں۔
مثلاً کتاب الایمان من غایة العمّال (یعنی قولی احادیث)نقل کرتے ہیں پھر ان کے اختتام پر کتاب الایمان من المستدرك الأقوال (فعلی احادیث) بیان کرتے ہیں اور اس کتاب کو کنز العمّال فی سنن الأقوال والأفعالسے موسوم کیا گیا ہے۔
المختصر کنزالعمال في سنن الأقوال والأفعال، امام سیوطی کی تین کتب الجامع الصغير،الجامع الصغير،زيادة الجامع کامجموعہ ہے جسے فقہی ترتیب پر اس انداز سے مرتب کیاگیا ہے کہ اولاً فعلی احادیث اور اس کے بعد قولی احادیث نقل کی گئی ہیں اور یہ طریقہ ہر کتاب میں اختیار کیا گیاہے۔
طریقۂ ترتیب
علامہ متقی ہندی نے زیر نظر کتاب کنزالعمال کو فقہی ترتیب پرمرتب کیا ہے اور کتاب ہذا کی تقسیم کتب ،ابواب اور فروع کے لحاظ سے کی ہے۔ پھر کتب الف بائی ترتیب پر مرتب ہے اور ہرحرف کے تحت متعدد کتب لائیں گئی ہیں۔کتب، ابواب اور فروع کی تقسیم کاطریقہ کار جامع الأصول کے طریقہ کے مطابق ہے۔
ہرکتاب و باب کے تحت اولاً قولی احادیث پھر فعلی احادیث نقل کی گئی ہیں۔ یوں یہ کتاب فقہی ترتیب پرمرتب ہونے کی وجہ سےنہایت مفید ہے اور تحقیق و تخریج سے وابستہ اصحابِ علم کے لیے گراں قدر تحفہ ہے اور کسی بھی موضوع کے متعلق احادیث تلاش کرنا کافی آسان و سہل ہوگیا ہے۔
رموز الکتاب
مؤلف نے کنزالعمال کی احادیث کی تخریج کیلئےالجامع الصغیر اور الجامع الکبیر کے رموز ہی استعمال کیے ہیں ۔البتہ احادیث کی تخریج کو سمجھنے کے لیے دو نکات کی توضیح ضروری ہے:
منهج العمّال(قولی احادیث) میں 'ق' کا رمز متفق علیہ احادیث کے لیے استعمال کیا گیاہے اور الإکمال(فعلی احادیث) میں'ق' کا رمز سنن بیہقی کے لیے مستعمل ہے۔
بعض احادیث کی تخریج کے لیے 'ز' یا 'بز' رمز استعمال کیاگیا، لیکن امام سیوطی نے اس رمز کی وضاحت نہیں کی یاتو امام سیوطی خود اس رمز کی توضیح کرنابھول گئے ہیں یا عدم توضیح کا سبب کاتبوں کا سہو ہے۔ البتہ متقی ہندی نے کنزالعمال میں اس رمز کی وضاحت کی ہے کہ غالباً اس رمز سے مقصود ابوحامد یحییٰ بن بلال البزار ہیں۔
تحقیق احادیث
مؤلف کتاب نےاحادیث کی تخریج اور تحقیق میں امام سیوطی کی تخریج و تحقیق پر تکیہ کیا ہے۔اپنے طور سے نہ تو احادیث کی تخریج کی ہے نہ تحقیق بلکہ تحقیق کے مسئلہ میں جو سقم الجامع الکبیر میں موجود تھا اور احادیث کی تحقیق میں امام سیوطی نے ایک غیر معیاری اور اُصول محدثین کے خلاف طریقہ اختیار کیاتھا، صاحب ِکتاب نے اسی طریقہ کو اختیار کیا ہے اور تحقیق کے لحاظ سے جو تشنگی اور نقص الجامع الکبیر میں موجود تھا، وہی خامیاں اس کتاب میں بھی موجود ہیں۔ لہٰذا عام قارئین جب تک کنزالعمال کی بخاری و مسلم کے سوا دیگر احادیث کی تحقیق کے بارے کسی ماہر محقق سے پوچھ نہ لیں، اس کی صحت پر اعتماد نہ کریں بلکہ اگر کنزالعمال سے کسی حدیث کاحوالہ دینا ہوتو اس کی صحت و ضعف کی آگاہی حاصل کرنے کے بعد یہ اقدام کریں کیونکہ حدیث کی تحقیق و تدقیق اور صحت و ضعف کی شناخت کیے بغیر احادیث کو نبی ﷺ کی طرف نسبت کےبارے احادیث ِصحیحہ میں سخت وعید وارد ہوئی ہے۔
(7) الجامع الأزهر من حديث النبي الأنور
مصنف:عبد الرؤف بن تاج العارفین بن علی الحدادی المناوی(م1031ھ)
یہ کتاب امام حافظ عبدالرؤوف بن تاج الدین علی بن حدادی مناوی شافعی کی احادیث نبویہ پر ایک مایہ ناز کتاب ہے، جواحادیث نبویہ کابہت عظیم ذخیرہ اور غالباً سب سے بڑا مجموعہ ہے۔
سبب تالیف
کتاب ہذا کی تالیف کا سبب امام سیوطی کے اس دعویٰ کو غلط ثابت کرنا تھا، جو اُنہوں نے کتاب الجامع الکبیر کے مقدمہ میں کیا تھا یا ان کے مقدمہ سےمترشح ہوتا تھا کہ اُنہوں نےاس کتاب 'الجامع الکبیر' میں تمام احادیث نبویہ (قولی و فعلی) کا بالاستیعاب احاطہ کیا ہے اور یہ کتاب تمام احادیث ِنبویہ کو محیط ہے۔
امام سیوطی کا یہ دعویٰ حقیقت کے منافی ہونے کے ساتھ اہل علم و تحقیق کے لیے بھی نقصان دہ تھا، کیونکہ امام سیوطی کے اس پرزوردعویٰ کے سبب علما میں یہ بات راسخ ہوچکی تھی کہ جو حدیث الجامع الکبیر میں نہ ملے، وہ ذخیرۂ حدیث سے خارج او ربے اصل ہے۔اس خطرہ کے پیش نظر حافظ مناوی نے الجامع الکبیر پر مزید احادیث جمع کرکے امام سیوطی کےدعویٰ کو غلط ثابت کیا۔ دوسرا اُنھوں نے ہر حدیث پر صحت و ضعف کے حکم کا التزام کرنےکا دعویٰ کیا۔مؤلف اس کتاب کے سبب تالیف کو خود مقدمہ کتاب میں ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں:
«ومن البواعث علىٰ تالیف هذا الکتاب أن الحافظ الکبیر الجلال السیوطی ادعی أنه جمع في کتابه 'الجامع الکبیر' الأحادیث النبوية، مع أنه قد فاته الثلث فأکثر، وهٰذا فیما وصلت إليه أیدینا بمصر، وما لم یصل الینا أکثر وفي الأقطار الخارجة عنها من ذلك أکثر فاغتر بهذه الدعوٰی کثیر من الأکابر، فصار کل حدیث یسأل عنها، أو یرید الکشف علیه یراجع الجامع الکبیر، فاذا لم یجده فیه غلب على ظنّه أنه لا وجود له، فربّما أجاب بأنه لا أصل له فعظم بذلك الضرر، لکون النفس إلىٰ الثقة بزعمه الاستیعاب وتوهم أن ما زاد على ذلك لا یوجد في کتاب، فأردت التنبیه على بعض ما فاته في هذا المجموع، فما کان في الجامع الکبیر أکتبه بالمداد الأسود، ما کان من المزید فبالمداد الأحمر،أو أجعل علیه مدة حمراء»
''زیر نظر کتاب کی تالیف کے اسباب میں سے یہ سبب تھا کہ امام سیوطی نے دعویٰ کیا تھا کہ اُنہوں نے اپنی کتاب 'الجامع الکبیر' میں تمام احادیثِ نبویہ کو جمع کیا ہے حالانکہ اس کتاب میں احادیث نبویہ کا تہائی یا اس سے اکثر حصہ چھوٹ گیا ہے۔ یہ تناسب ان کتب کے اعتبار سے ہےجومصر میں ہمیں دستیاب ہیں۔ وہ کتب جوہمیں میسرنہیں یا بیرون دنیا میں ہے ،ان کے حساب سے تناسب زیادہ بنتا ہے۔ پھر اس دعویٰ سے کئی اکابر علما مغالطے کاشکار ہوئے اور بات یہاں تک جاپہنچی کہ ہر وہ حدیث جس کی تلاش کا سوال کیا جاتا یا کسی حدیث کی تخریج مطلوب ہوئی تو الجامع الکبیر کامراجعہ کیا جاتا اورجب محقق کو مطلوبہ حدیث نہ ملتی تو اس کے ذہن میں یہ بات راسخ ہوجاتی کہ اس حدیث کا وجود ہی نہیں اور بعض اوقات محقق یہ جواب دیتا کہ ایسی حدیث بے سروپا اور باطل ہے۔
اندریں حالت یہ نظریہ کہ کسی مستند عالم(سیوطی) کی اس بات پر اعتماد کہ اس نے تمام احادیث کا احاطہ کیا ہے، اس سے اس وہم میں مبتلا ہونا کہ اس کتاب کے سوا احادیث کتب احادیث میں موجود نہیں، نہایت تباہ کن تھا۔ اس خطرے کے پیش نظر میں نے بعض ان احادیث سے متنبہ کرنے کا ارادہ کیا، جو اس کتاب''الجامع الکبیر'' میں موجود نہیں تھیں۔ چنانچہ جو احادیث الجامع الکبیر میں موجود ہیں اُنہیں میں سیاہ روشنائی سے لکھتا ہوں اور جو احادیث اس سے اضافی ہیں، انہیں میں سرخ روشنائی سے لکھتا ہوں یااس پرسرخ خط کھینچ دیتا ہوں۔''
مؤلف کی اس تحریر سے عیاں ہوتا ہے کہ اُنہوں نے زیرتبصرہ کتاب میں الجامع الکبیر کی احادیث اور اس کے علاوہ دیگر کتب ِاحادیث سے روایات لی ہیں۔ البتہ کتاب کے مطالعہ سےمعلوم ہوتا ہے کہ بعض اوقات مؤلف بغیر کسی کمی بیشی کے الجامع الکبیر کی احادیث مکرر ذکر کردیتے ہیں۔بعض اوقات کچھ اضافی کلمات کے ساتھ تکرار ذکر کردیتے ہیں اورکبھی کچھ نقص کے ساتھ مکرر روایات درج کردیتے ہیں نیز اس کتاب میں مکرر روایات کثرت سے موجود ہیں اور اس کتاب کےبارے میں تھوڑی سی غوروخوض کے بعد کتاب بین پر یہ حقیقت عیاں ہوجاتی ہے۔
حافظ مناوی نے مقدمۃ الکتاب میں یہ دعویٰ کیا تھا کہ وہ ہر حدیث کے بعد راوئ حدیث کے احوال اور حدیث کی صحت و ضعف بیان کریں گے لیکن کتاب میں وہ اس دعویٰ پر پورا نہیں اُترے۔ اکثر روایات میں تو یہ وصف موجود ہے، لیکن بعض روایات میں حکم حدیث کو یکسر نظر انداز کردیا گیا ہے جس وجہ سے کتاب میں تحقیق احادیث کا پہلو کافی تشنہ ہے۔
نیز اُنہوں نے کتاب کے مقدمہ میں وضاحت کی ہے کہ وہ اس کتاب میں تقریباً ایک ہزار اضافی روایات لائے ہیں، حالانکہ کتاب میں اس سے کہیں زیادہ اضافی روایات ہیں۔
المختصر یہ انتہائی اہم او رنہایت موزوں کتاب ہے جو الجامع الکبیر سمیت کئی زائد احادیث پرمشتمل گراں مایہ مجموعہ حدیث ہے نیز راویوں پر جرح وتعدیل کا حکم اور احادیث کی جانچ پڑتال کی گئی ہے جس سےاس کی اہمیت دو چند ہوگئی ہے۔
ترتیب ِکتاب
مؤلف کتاب نےکتاب ہذا میں احادیث کی ترتیب ابجدی (حروفِ تہجی کے اعتبار سے) اختیار کی ہے ،چنانچہ احادیث کو تلاش کرنے کے لیے احادیث کے شروع والے الفاظ کو حروفِ تہجی کے اعتبارسے دیکھیں، پھر احادیث کو تلاش کرسکیں گے۔ پھر حروفِ تہجی کی ترتیب کےمتعلق کچھ اُمور سے آگاہی ضروری ہے جودرج ذیل ہیں:
1. حروف تہجی کے کسی حرف کے تحت درج احادیث کو نقل کرنے کے آخر میں اسی حرف کے متعلقہ وہ احادیث درج کی گئی ہیں جن کا آغاز الف لام سے ہوتا ہے۔ اور اُنہیں الگ عنوان، المحلی بأل کے تحت ترتیب دیا گیا ہے۔ مثلاً حرف با سے شروع ہونے والی احادیث کے اختتام پر حرف با سے شروع ہونے والی وہ احادیث لائی گئی ہیں جن کے شروع میں الف لام ہے۔ لیکن تمام حروف کے آخر میں یہ المحلی باَل کا التزام نہیں بلکہ بہت سے حروف ایسے ہیں جن کے آخر میں یہ عنوان سرے ہی سے متروک ہے۔
2. حرف قاف کے ضمن میں وہ احادیث لفظ قضیسے شروع ہوتی ہیں۔ یہ حروف کی ترتیب کے لحاظ سے اپنی ترتیب پرموجود نہیں بلکہ انہیں باب الأقضيةکے تحت علیحدہ ذکر کیا گیاہے او ران احادیث کو حرف قاف سے شروع ہونے والی احادیث اور حرف قاف کے ضمن میں وہ احادیث جن کے آغاز میں الف لام ہے ، کے درمیان میں درج کیا گیا ہے۔
3. حرف کاف کے ضمن میں وہ احادیث جو لفظ کان سےشروع ہوتی ہیں اور وہ شمائل مصطفیٰ پرمشتمل ہیں انہیں حرف کاف کے تحت درج احادیث کے بالکل آخر میں ذکر کیاگیا ہے البتہ ''کان'' پرمشتمل وہ روایات جو شمائل مصطفیٰ کے متعلق نہیں تھیں انہیں حرف کاف کی ترتیب کے تحت بیان کیا گیا ہے۔
4. حرف لام کے ضمن میں لائے نافیہ او رلائے ناھیہ کے تحت درج احادیث کو حرف لام کی ترتیب میں ذکر نہیں کیا گیا، بلکہ انہیں الگ عنوان 'اللام الألف' میں حروف واؤ کے بعد اور حرف یا سے قبل ذکر کیا گیا ہے۔
5. باب النون کے تحت وہ احادیث جن کے آغاز میں لفظ 'نہی' ہے۔ ترتیب حروف کے تحت درج نہیں بلکہ ان احادیث کو حرف نون کے آخر میں باب المناہی کے تحت الگ بیان کیاگیا ہے۔
رموز کا استعمال
مؤلف نے احادیث کی تخریج میں احادیث کی محوّلہ کتب کا نام بصراحت بیان کیاہے اور اس کے ساتھ احادیث کی صحت، ضعف اور راویوں پرکلام بھی مذکور ہے البتہ کچھ کتب کےرموز استعمال کیے گئے جن کی تعداد گیارہ ہے اور وہ درج ذیل ہیں:
1. طبرانی کبیر (طك) 2. طبرانی اوسط (طس) 3. طبرانی صغیر (طص) 4.طبرانی کبیر و اوسط (طكس) 5. طبرانی کبیر وصغیر (طکص) 6. طبرانی کبیر،اوسط، صغیر (طکسص) 7. مسنداحمد (حم) 8. زوائد مسنداحمد (عم) 9. مسند بزار (بز) 10. مسندابی یعلیٰ (ع) 11. مستدرک حاکم (ك)
نوٹ: یاد رہے کہ آخری چاروں کتب کا مرکزومحور امام جلال الدین سیوطی کی الجامع ہیں، ان کی الجامع کتب کو مرتب ومہذب کرنے کی کوشش میں یہ مجموعے مرتب ہوئے ہیں۔