رسالہ منطق۔از مولانا حافظ عبداللہ محدث غازی پوری ؒ ف1337ھ)

صفحات۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔88۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔قیمت8/۔

پتہ۔فاروقی کتب خانہ بیرون بوھر گیٹ ملتان شہر

محدث غازی پوری ؒ منطق شناس بھی تھے اور اس کو چٹکیوں میں سمجھانے کا خاص سلیقہ بھی رکھتے تھے۔یہ رسالہ منطق ان کی اس خوبی پر گواہ ہے۔اس قدرآسان پیرایہ بیان میں اسے پیش کیا ہے کہ ان مسائل کو بغیر استاذ کے بھی سمجھنا آسان کردیا ہے۔جن طلباء کے لئے یہ موضوع درد سر بنا ہوا ہے ان کو چاہیے کہ وہ اس رسالے کی طرف رجوع کریں ۔فاروقی کتب خانے کو اللہ جزائے خیر دے۔ جو درس نظامی کے طلباء کے لئے قیمتی اور نایاب مواد مہیا کررہا ہے۔

علم منطق یونان سے در آمد کیا گیا اور اس نے قدم رکھ کر ملت اسلامیہ کے ہونہار ذہنوں کا بہت وقت ضائع کیا اس میں کوئی شک نہیں کہ اس کے بہت سے پہلو بھی ہیں لیکن ﴿إِثمُهُما أَكبَرُ‌ مِن نَفعِهِما﴾ کے مصداق رہا ہے۔یونانی منطق اور فلسفہ نے علم کلام کو اپنا ہدف بنا کر اس کو خاصا بوجھل بنا کے رکھ دیا ہے۔پہلے امام غزالی ؒ نے اس پر تیز چلایا پھر امام تیمیہ ؒ نے آکر اس کی رہی سہی کسر پوری کردی۔

لیکن افسوس!!!ان مجددین کے وہ نوادرات جن کی وجہ سے علم منطق میں حک واضافہ کر کے اس کو بے ضرر بنایا جاسکتا تھا ان کو اپنے د رسیات میں داخل کرنے میں علماء نے کچھ زیادہ دیدہ وری کا ثبوت نہیں دیا۔

ہم چاہتے ہیں کہ علم منطق کی جو کتابیں درس نظامی میں داخل ہیں،امام غزالی ؒ اور امام ابن تیمیہؒ کے حسب ایماء متعلقہ کتابوں کے حواشی کے زریعہ ان کی ا صلاح کر دی جائے۔تاکہ نسل یونانی منطق کی کمزوریوں کے چرکوں سے محفوظ رہ سکے۔(عزیز زبیدی)

اسلام اور مسیحت محققین کی نظر میں

مؤلف:شیخ محمد اکرم قصوری

ضخامت:272صفحات کتابی سائز قیمت 24روپے

ملنے کاپتہ:شیخ محمد اکرم سودا گرچرم دین گڑھ قصور

آج کے اس دور میں جبکہ نت نئے فتنے سر اٹھا رہے ہیں چاہیے تو یہ تھا کہ علماء حضرات کتاب وسنت کی بنیادوں پر متحد ہوکر وقت کے ہر چیلنج کا مقابلہ کرتے لیکن یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ یہ مبلغین اسلام اپنی اپنی مذہبی پناہ گاہوں میں بیٹھ کر ایک دوسرے پر گولہ باری ہی کو عین خدمت اسلام قرار دے چکے ہیں۔ان کے باہمی انتشار وافتراق نے جہاں غیر مسلموں کو یہ سوچنے پر مجبور کردیا ہے۔ کہ جس دین کے ماننے والوں کی اپنی یہ حالت ہے۔ان کا دین کیونکر سچا ہوسکتا ہے؟۔۔۔وہاں غیر مسلموں میں تبلیغ اسلام کا فریضہ بھی ایک بھولی بسری داستان بن کر رہ گیا ہے!

ان حالات میں وہ لوگ انتہائی قابل قدر ہیں جو یہ فریضہ کسی نہ کسی صورت میں انجام دے رہے ہیں!

زیر نظر کتاب کے مؤلف اگرچہ بنیادی طور پر ایک تاجر ہیں تاہم یہ کتاب لکھ کر انہوں نے نہ صرف اس جذبہ تبلیغ اسلام کی تکمیل کی ایک بہترین کوشش فرمائی ہے۔بلکہ علمائے اسلام کو ان کی زمہ داریوں سے بھی آگاہ کیا ہے۔۔۔موصوف نے اس کتاب میں اسلام اور مسیحت کا تقابل اور موازنہ قرآن مجید اور موجودہ اناجیل کی روشنی میں پیش کیا ہے۔تفصیلی اور مستند حوالہ جات نیز بائیبل کے متعدد تضادات سے یہ ثابت کیا ہے کہ موجودہ اناجیل میں تحریف ہوچکی حتیٰ کہ انہیں مسخ کیاجاچکا ہے اس کے ساتھ ہی ساتھ انہوں نے قرآن مجید ۔اسلام اورداعی اسلام (صلی اللہ علیہ وسلم) کی تعریف وحقانیت کے ثبوت میں متعدد عیسائی راہنماؤں کی تحریروں کے اقتباسات بھی نقل کئے ہیں۔دعا ہے اللہ تعالیٰ موصوف کی اس کاوش کو مفید سے مفید تر بنائے آمین:سفید کاغذ۔کتابت وطباعت عمدہ تاہم قیمت 24 روپے کچھ زیادہ ہے۔

3۔دین میں غلو:از مولانا عبدالغفار حسن پروفیسر مدینہ یونیورسٹی

ضخامت: 36 صفحات

ناشر: رباط العلوم الاسلامیہ 278 عالمگیر روڈ کراچی نمبر 5

قیمت:درج نہیں

یہ کتابچہ در اصل حضرت مولانا عبدالغفار حسن صاحب کی ایک بصیرت افروز تقریر ہے جس کو افادہ عام کی غرض سے کتابی صورت میں پیش کردیا گیا ہے۔انہوں نے پہلے تو دین میں غلو کی قسمیں بیان فرمائی ہیں۔پھر اس کی لغوی اور معنوی تعریف کی ہے۔اس ضمن میں انہوں نے افراط وتفریط کی بحث چھیڑتے ہوئے اس کی کئی مثالیں بیان کی ہیں اور پھر اس افراط وتفریط کے درمیان راہ اعتدال اختیار کرنے کی تلقین فرمائی ہے۔یہ الگ بات ہے کہ غلو کے موضوع پر کی جانے والی اس تقریر میں راہ اعتدال تلاش کرتے کرتے مولانا کہیں کہیں خود بھی اعتدال میں غلو کاشکار ہوگئے ہیں جس کی زد سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی اہمیت پر بھی پڑتی ہے ۔مثلاً وہ فرماتے ہیں۔

"ایک گروہ کہتا ہے کہ رفع الیدین ضروری ہے اس کے بغیر نماز ہی نہیں ہوتی"۔۔۔دوسراگروہ کہتا ہے "رفع الیدین کرتے ہو کہ مکھیاں مارتے ہو"ہرگز وہ غلط ر وش پر قائم ہے جو رفع الیدین کرتا ہے وہ سنت سمجھ کر کرتا ہے۔اور جو نہیں کرتا اس کے پاس بھی کوئی دلیل ہے اگرچہ دوسرے لوگ کہتے ہیں کہ یہ دلیل کمزور ہے۔"

"شاہ اسماعیل شہید رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے رسالہ "تنویر العینین فی سنۃ رفع الیدین " میں لکھا ہے کہ جو رفع الیدین کو منسوخ کہتا ہے وہ غلط کہتا ہے لیکن اگر کوئی نہیں کرتا تو اس کی نماز ہوجاتی ہے۔«فَاِنْ تَرَكَهُ اَبْدًا»

خواہ وہ کبھی بھی نہ کرے ہمیشہ کےلئے ترک کردے۔ممکن ہے کوئی صاحب یہ کہیں کہ ہم شاہ اسماعیل شہید کے مقلد نہیں ہیں۔مگر انہوں نے جو مثالیں اوردلائل پیش کئے ہیں ان پر ٹھنڈے دل سے غور کیا جائے تو اختلافی مسائل میں معتدل موقف اختیارکیا جاسکتا ہے!"

شاہ اسماعیل شہید کی اس کتاب جس کا موضوع ہی سنت رفع الیدین ہے کا حوالہ درج کرنے کے باوجود رسول عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی اس سنت ثابتہ اور مطہرہ کو اختلافی مسئلہ کہہ کر گو ل کردینا خود ہی اہل سنت کا یہ اعتراض کہ "ہم شاہ اسماعیل شہید کے مقلد نہیں ہیں"زکر کرکے انہیں معتدل موقف اختیار کرنے کی تلقین کرنا لیکن اس سنت کے مخالفین کو خواہ کبھی بھی نہ کرے ہمیشہ کے لئے ترک کردے"کی خوش خبری سنانا راہ اعتدال تو نہیں ہے۔کیا سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اختلافی چیز ہے یا اس پر افراط وتفریط کالفظ بولا جاسکتا ہے؟سنت ہی تو عین راہ اعتدال ہے لیکن جس کی اہمیت پر اعتدال کی خاطر معمولی سی روشنی ڈالے بغیر گزرجانااعتدال میں غلو نہیں تو اور کیا ہے؟

اسی طرح کے کچھ اور مقامات بھی ہمیں کھٹکے ہیں۔مثلا ٹخنوں سے پائنچہ نیچے لٹکانے کے سلسلہ میں افراط کی مثال(حالانکہ یہ مسئلہ اختلافی نہیں) ۔۔۔جن کی تفصیل کا یہ موقع نہیں۔۔۔تاہم سنت ر سول صلی اللہ علیہ وسلم کی اس اہمیت کو جس کی طرف ہم نے اشارہ کیا ہے ملحوظ رکھتے ہوئے اس کتابچہ کامطالعہ بے حد مفید رہے گا اور یہ موضوع بھی انتہائی اہم ہے!