احیاء علم کی تائید میں علماء کی چند آرا:

حافظ زید الدین العراقی صاحب "الفیہ"(م806ھ) جنہوں نے "احیاء علوم الدین" کی احادیث کی تخریج یعنی راوی اور حدیث کادرجہ اور اس کی حیثیت بیان کی ہے کہتے ہیں کہ امام غزالی ؒ کی احیاء العلوم اسلام کی اعلیٰ تصنیفات سے ہے۔عبدالغافر فارسی جو امام غزالی ؒ کے معاصر اور امام الحرمین کے شاگردتھے۔کہتے ہیں۔ کہ احیاء العلوم کے مثل کوئی کتاب اس سے پہلے تصنیف نہیں ہوئی۔شیخ محمد گارزونی کا دعویٰ تھا کہ اگر دنیا کے تمام علوم مٹا دیئے جائیں تو میں امام غزالی کی احیاء العلوم کی مدد سے ان تمام کو دوبارہ زندہ کردوں گا۔"(تعریف الاحیاء بفضائل الاحیاء از شیخ عبدالقادر الحسنی)

مولانا شبلی کہتے ہیں:

"احیاء العلوم میں عام خصوصیت یہ ہے کہ اس کے پڑھنے سے دل عجیب اثر ہوتا ہے ہر فقرہ نشتر کی طرح دل میں چبھ جاتا ہے ہر بات جادو کی طرح تاثیر کرتی ہے ہر لفظ پر وجد کی کیفیت طاری ہوتی ہے۔الخ"(الغزالی مصنفہ شبلی نعمانی ص33)

مولانا ابو الحسن علی الندوی صاحب کہتے ہیں:

"حافظ ابن الجوزی ؒ نے بھی بعض باتوں سے اختلاف کے باوجود اس کتاب کی تاثیر اور مقبولیت کااعتراف کیا ہے اور اس کا خلاصہ "منہاج القاصدین" کے نام سے لکھا ہے۔" (تاریخ دعوت وعزیمت،مصنفہ ابو الحسن علی الندوی ج1ص 147۔184)

شیخ الاسلام حافظ ابن تیمیہ ؒ نے احیاء العلوم کی اجمالی تعریف کی ہے اور لکھا ہے:

"كلامه فى الاحياء غالبه جيد"

یعنی"احیاء میں عموماً ان کا کلام اچھا ہے۔"(فتاویٰ شیخ الاسلام حافظ ابن تیمیہ ؒ)

ایک مقام پر حافظ ابن تیمیہ ؒ لکھتے ہیں:

" وفيه مع ذلك من كلام المشايخ الصوفية العارفين المستقيمين في أعمال القلوب الموافق للكتاب والسنة ، ما هو أكثر مما يرد منه ، فلهذا اختلف فيه اجتهاد الناس وتنازعوا فيه "

"یعنی ان تمام خامیوں کے باوجود احیاء میں ان مشائخ صوفیہ کا جو صاحب معرفت واستقامت تھے۔اعمال قلوب کے بارہ میں بہت سا ایسا کلام ہے جو کتاب وسنت کے موافق ہے اور جس کا اکثر حصہ قابل قبول ہے ۔اسی بناء پر اس کتاب کے بارہ میں علماء کی مختلف آراء ہیں اور سب اس کے مخالف نہیں ہیں۔"مولانا ابوالحسن علی الندوی ایک مقام پر لکھتے ہیں:

"احیاء العلوم نری تنقیدی کتاب نہیں ہے ۔وہ اصلاح وتربیت کی ایک جامع اور مفصل کتاب ہے۔اس کے مصنف نے ایک ایسی کتاب تالیف کرنے کی کوشش کی ہے جو ایک طالب حق کے لئے اپنی اصلاح وتربیت اور دوسروں کی تعلیم وتبلیغ کے لئے تنہا کافی ہوسکے۔اور بڑی حد تک ایک وسیع اسلامی کتب خانہ کی قائم مقامی کرسکے اور دینی زندگی کا دستور عمل بن سکے۔اس لئے یہ کتب عقائد وفقہ تذکیہ نفس وتہذیب اخلاق اور حصول کیفیت احسانی(جس کے مجموعہ کا نام تصوف ہے)تینوں شعبوں کی جامع ہے۔اس کتاب کی ایک نمایاں صفت اس کی تاثیر ہے۔۔۔ان حالات وکیفیات کا پڑھنے والوں پر بعض اوقات یہ اثر پڑتا ہے کہ دل دُنیا سے بالکل اچاٹ ہوجاتا ہے۔زہد وتقشف کا ایک شدید اور بعض اوقات غیر معتدل رجحان پیدا ہوتا ہے۔خوف وہیبت کی ایسی کیفیت طاری ہوجاتی ہے جو کبھی کبھی صحت ومشاغل پر اثر انداز ہوتی ہے۔یہ اس کانتیجہ ہے کہ خود مصنف پر اس کتاب کی تصنیف کے زمانہ میں ہیبت کاغلبہ تھا اس لئے بہت سے مشائخ مبتدیوں کو اس کتاب کے مطالعہ کا مشورہ نہیں دیتے۔"(تاریخ دعوت وعزیمت مصنفہ ابوالحسن علی الندوی ج1ص 167)

ایک اور مقام پرمولانا ابوالحسن علی الندوی کتاب"احیاء العلوم" کے متعلق لکھتے ہیں:

"احیاء العلوم اس موضوع (اخلاق اسلامی اور فلسفہ اخلاق) پر بھی ان کا ایک کارنامہ ہے۔امراض قلب اورکیفیات نفسانی پر انہوں نے جو کچھ لکھا ہے وہ ان کی وقت نظر اور سلامت فکر کا نمونہ ہے۔الخ" تاریخ دعوت وعزیمت مصنفہ ابوالحسن علی الندوی ج1ص 168)

احیاء العلوم کے ناقدین کے چند اقوال:

حافظ امام ابن الجوزی ؒ اپنی مشہورتصنیف "تلبیس ابلیس" میں لکھتے ہیں:

"ابو حامد غزالی نے آکر قوم صوفیہ کے طریقہ پرکتاب احیاء العلوم تصنیف کی اور اس کو باطل حدیثوں سے بھر دیا جن کا بطلان وہ خود نہیں جانتے اور علم مکاشفہ میں گفتگو کی اور قانون فقہ سے باہر ہوگئے۔"(تلبیس ابلیس مصنفہ حافظ ابن الجوزی ؒ ترجمہ مولانا عبدالحق ص255 مطبع فاروقی دہلی وکذافی المنتظم ج9 ص 169۔170)

حافظ ابن الجوزی ایک اور مقام پر لکھتے ہیں:

" میں نے امام غزالی کی کتاب"الاحیاء" میں ایسی تاریخی فروگزاشتیں اوراغلاط دیکھیں جن سے مجھے سخت حیرت ہوئی کہ انہوں نے کس طرح مختلف واقعات اور تواریخ کو آپس میں ملادیا ہے میں نے ان تمام تاریخی اغلاط کو ایک مستقل کتاب میں جمع کیا ہے۔"(صید الخاطر لامام ابن الجوزی ؒ ج3 ص 604 وکذا فی المنتظم ج9س169۔170)

اسی باعث مولانا ابوالحسن علی الندوی اعتراف کرتے ہیں کہ امام غزالی ؒ کی نظر حدیث کی طرح تاریخ پر بھی بہت کم تھی۔"( تاریخ دعوت وعزیمت مصنفہ ابوالحسن علی الندوی ج1مطبوعہ لکھنو)

حافظ ابن تیمیہ ؒ نے احیاء العلوم کی چار خامیوں پر خاص طور سے تنقید فرمائی ہے ان کی پہلی تنقید اس پر ہے کہ اس میں فلاسفہ کے بہت سے ایسے اقوال آگئے ہیں جو روح اسلام سے بعید ہی نہیں بلکہ اس کے منافی ہیں۔توحید نبوت اور معاد سے متعلق بھی فلاسفہ کے خیالات وبیانات شامل ہوگئے ہیں۔

دوسری تنقید یہ ہے کہ اس میں بعض ایسے کلامی مباحث آگئے ہیں جو کتاب وسنت کی روح ک مطلقاً مطابق نہیں ہیں۔تیسری تنقید یہ ہے کہ اس میں اہل تصوف کے متشددانہ ومنحرفانہ اقوال اور مغالطے موجود ہیں۔چوتھی تنقید کے لائق چیز یہ ہے کہ احیاء میں بہت سے ضعیف احادیث وآثار بلکہ موضوع روایات تک موجود ہیں۔(فتاویٰ شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ ج2 ص194 مختصراً والتاج المکلل۔مصنفہ نواب صدیق حسن خاں مرحوم ص388)

استاذ محمود مہدی استنابولی "احیاء العلوم "کے متعلق لکھتے ہیں:

"(امام) غزالی کی کتاب الاحیاءبھی احادیث ضعیفہ وموضوعہ سے خالی نہیں ہے۔بلکہ اس میں تو خاص مسئلہ توحید میں شریعت سے خروج پایا جاتا ہے۔مگر بعض بشری امراض نفس کے علاج کے سلسلہ میں ان کے علم کا اعتراف لازم ہے۔"(ابن تیمیہؒ بطل الاصلاح الدینی مصنفہ استاذ محمود مہدی ص253)

بعض ناقدین کے نذدیک"احیاء العلوم" میں امام صاحب نے صوفیاء سے متعلق بہت سی حکایات نقل کردی ہیں۔جو باعث عبرت واصلاح ہونے کے بجائے نہایت حیرت انگیز اور کہیں کہں تو مضحکہ خیز بھی ہیں۔جہاں تک ان الم علم قصے کہانیوں کا تعلق ہے۔ان سب کو ماننے یا ان سے عبرت حاصل کرنے کا امت مسلمہ میں سے کسی کو مکلف نہیں ٹھرایا گیا ہے۔خود قرآن وسنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں انسان کے لئے سامان عبرت وافر مقدار میں موجود ہے جس کا ہمیں شرعا پابند اور مکلف نہیں ٹھرایا گیا ہے ۔چنانچہ بقول صاحب المنتظم حافظ امام ابن الجوزی ؒ نے احیاء العلوم کی بعض ان عبارات کو بھی ہدف تنقید بنایا ہے۔جن میں امام غزالی ؒ نے امراض قلب وغیرہ کے علاج کے سلسلہ میں اور نفس کشی اور اصلاح باطن کے لئے صوفیہ کے بعض ایسے واقعات واقوال نقل کردیئے ہیں جو کسی طرح قابل تقلید نہیں ہیں۔اور فقہی حیثیت سے ان کا جواز ثابت ہونا بھی مشکل ہے۔"(المنتظم ج9 ص169)

احیاء العلوم کا جلایا جانا اور سلطنت اندلس کا زوال:

احیاء العلوم کی مذکورہ بالاخامیوں کے باوجود چونکہ یہ ایک مؤثر اور انقلابی کتاب تھی۔اس لئے اس نے ہر حلقہ میں ایک تہلکہ مچادیا۔ کچھ نے آنکھیں بند کرکے اس کی تائید کی کچھ نے اس کی خامیوں پر علمی تنقید کی اور خاموش ہورہے اور کچھ نے آنکھیں بند کرکے اسکی مخالفت میں اپنا تمام ذور بازو صرف کردیا۔لہذا کتاب کی شہرت ومقبولیت کے ساتھ ساتھ جا بجا محاذ آرائی کی کیفیت بھی رونما ہوئی۔

استاذ محمود مہدی استنابولی لکھتے ہیں:

" اس کی خامیوں کے باعث علمائے خراسان وعراق ومراکش(للمغرب) کی ایک جماعت نے اس پر سخت کلام کیا اور بعض نے حد سے زیادہ ناراضگی کے اظہار کے طور پر اسے جلا ڈالا۔"(ابن تیمیہ ؒ بطل الاصلاح الدینی لمحمود مہدی ص137)

مولانا شبلی نعمانی کی تحقیق ا س سے چنداں مختلف ہے ۔وہ احیاء العلوم کے جلائے جانے کا سبب اس طرح بیان کرتے ہیں:

"امام صاحب کو ان باتوں پر تسلی نہ تھی وہ دیکھتے تھے کہ موجودہ سلطنتوں کا سرے سے خمیر ہی بگڑ گیا ہے۔اس لئے جب تک اسلامی اصول کے موافق ایک نئی سلطنت نہ قائم کیجائے اصل مقصد نہیں حاصل ہوسکتا لیکن امام صاحب کو ریاضت مجاہدہ اور مراقبہ سے اتنی فرصت نہ تھی کہ ایسے بڑے کام میں ہاتھ ڈال سکتے۔ اتفاق یہ کہ جب احیاء العلوم شائع ہوئی اور وہ 501ھ میں اسپین پہنچی تو علی بن یوسف بن تاشفین نے جو اسپین کا بادشاہ تھا۔تعصب اور تنگدلی سے اس کتاب کے جلانے کا حکم دیا اور نہایت بیدردی سے اس حکم کی تعمیل کی گئی ۔امام صاحب کو اس واقعہ کی اطلاع ہوئی تو سخت رنج ہوا۔"(الغزالی مصنفہ شبلی نعمانی)

بہرحال اس اثناء میں اسپین سے ایک شخص امام صاحب کی خدمت میں تحصیل علم کے لئے آیا جس کانام محمد بن عبداللہ تومرت تھا۔یہ ایک نہایت معزز خاندان کا آدمی تھا۔۔۔امام صاحب کی خدمت میں رہ کر اس نے تمام علوم میں نہایت کمال پیدا کیا اور اپنے ذاتی حوصلہ یا امام صاحب کی فیض صحبت سے یہ ارادہ کیا کہ اسپین میں علی بن یوسف کی سلطنت کو مٹا کر ایک نئی سلطنت کی بنیاد ڈالے۔یہ خیال اس نےامام صاحب کے سامنے پیش کیا۔اور امام صاحب چونکہ خود ایک عادلانہ سلطنت کے خواہش مند تھے ۔اسلئے اس رائے کو پسند کیا لیکن پہلے دریافت کیا کہ اس مہم کے انجام دینے کے اسباب بھی مہیا ہیں یا نہیں؟محمد بن عبداللہ نےاطمینان دلایا تو امام صاحب نے بڑی خوشی سے اجازت دے دی۔"(الغزالی للشبلی ومقدمہ ابن خلدون وطبقات الشافعیہ لابن السبکی)

بعض لوگوں کا گمان ہے کہ خود امام غزالی نے اپنے شاگرد محمد بن عبداللہ بن تو مرت کو علی بن یوسف بن تاشفین کی سلطنت کی بیخ کنی کے لئے آمادہ کیا تھا۔اور تحصیل علم سے فراغت کے بعد اسے اسپین بھیجا تا کہ وہ وہاں بغاوت کے لئے ایک خفیہ محاذ تیار کرے۔چنانچہ محمد بن عبداللہ بن تو مرت کی خفیہ کوششوں کے نتیجہ میں حکومت کا ایک باغی گروہ پیدا ہوگیا جس کے ہاتھوں علی بن یوسف بن تاشفین کی حکومت کا بصورت انقلاب خاتمہ ہوا۔(واللہ اعلم بالصواب)

امام غزالی اورمسئلہ نبوت:

اس موضوع پر امام غزالی کی ایک کتاب"مدارج القدس فی مدراج معرفۃ النفس ملتی ہے۔استاد فیض الرحمٰن نے نبوت کے موضوع پر اپنی کتاب کے ایک مقام پر امام غزالی کا موقف بیان کیا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ نبوت کے متعلق امام غزالی کی فکر وہی ہے۔جو فلسفی ابن سینا کی تھی۔(PROPHECY IN ISLAM)(النبوۃ فی السلام)

مؤلفہ ڈاکٹر فیض الرحمٰن طبع لندن 1958۔ڈاکٹر سلیمان دنیا نے بھی امام غزالی کی کتاب "معارج القدس فی مدارج معرفۃ النفس" سے کئی صفحات نقل کرنے کے بعد اسطرح تعاقب فرمایا ہے:امام غزالی کی نظر میں یہ نبوت کے خاص ہیں۔ انہوں نے بھی انھیں تینوں خواص کا ذکر کیا ہے،اور اس میں کوئی اضافہ نہیں کیا ہے۔بالکل اسی طرح جس طرح کہ ابن سینا بیان کرچکا ہے۔اصح ہے کہ جس طرف رائے یا معنی میں وہ گیا ہے۔امام غزالی نے اُس کے ساتھ اتفاق کیا ہے۔مجھے پسند نہیں کہ میں ان تمام باتوں کا زکر کروں جس میں (ابن سینا اور امام غزالی) کااتفاق پایا جاتا ہے۔کیونکہ وہ بحث دس لفظوں تک پہنچتی ہے۔الخ" (حقیقۃ فی نظر الغزالی الدکتور سلیمان الدینا)استاد فیض الرحمٰن کا قول ہے کہ" بے شک امام غزالی نے معارج القدس میں ابن سینا کی مطابقت کی ہے۔"(النبوۃ فی الاسلام مؤلفہ دکتور فیض الرحمٰن ص95۔96)یونانی فلسفیوں بالخصوص ابن سینا کے نبوت کے متعلق موقف کو حافظ ابن تیمیہ ؒ نے یوں بیان فرمایا ہے:

"یونانی فلسفی نبوت کے مفہوم سے نا آشنا تھے اور انسان کی اصلاح کے لئے صرف ایک برتر ہستی کے قائل تھے۔ان کےفلسفے کا سب سے بڑا ترجمان بو علی سینا تھا جو نبی کے تین اوصاف پر بحث کرتے ہوئے کہتا ہے کہ نبی کا علم آسمان سے نہیں آتا بلکہ اس کے باطن سے ابھرتا ہے وہ غیر محسوس اشیاء کو دیکھ سکتا ہے۔اورعناصر میں تصرف کرکے معجزات دکھاتا ہے۔"

امام ابن تیمیہ ؒ نے ان تمام تصریحات کو باطل اورجاہلانہ قراردیتے ہوئے ان کی تردید فرمائی ہے۔(ملاحظہ ہو کتاب النبوات لابن تیمیہؒ ص240)

امام غزالی ؒ سے عقیدت رکھنے والے حضرات "معارج القدس"نامی کتاب کو امام غزالی کی طرف منسوب کرنے پرشک کااظہار کرتے ہیں مگر محققین کا اصرار ہے کہ یہ امام غزالی کی ہی تصنیف ہے۔چنانچہ ڈاکٹر عبدالرحمٰن البدوی لکھتے ہیں:

"اس کتاب کو صحت ونسبت (امام غزالی کی طرف کرنے میں جوتشکیک ہے وہ لایعنی ہے۔"(مولفات الغزالی تالیف ڈاکٹر عبدالرحمٰن البدوی ص245)طبع المجلس الاعلیٰ الرعایۃ الغنون والاداب والعلوم الاجمتاعیہ القاہرہ 1380ھ)

ڈاکٹر عبدالرحمٰن البدوی ایک اور جگہ لکھتے ہیں:

"اس کتاب میں جو کچھ ہے وہ(امام) غزالی کی تمام دوسری کتب میں وارد شدہ باتوں سے کسی طرح کا اختلاف نہیں رکھتا ہے۔"(مولفات الغزالی البدوی ص244)

ڈاکٹر غیمان الدینا نے امام غزالی کی مختلف کتب خصوصا "معارج القدس"کےدرمیان تشابہ کی وجہ ان کی فصول کامختلف ہونا بیان کی ہے(الحقیقۃ فی نظر الغزالی الدکتور سلیمان الدینا ص93۔95)ڈاکٹر عبدالرحمان البدوی نے کتاب "المعارج القدس"کی صحت نسبت پر اعتراض کرنے والوں کی تردید فرمائی ہے۔اور انکی بھی جوامام صاحب کی کتاب المعارج القدس اوردوسری کتب بالخصوص جن پر اکثر باحثین متفق ہیں۔مثلاً الاحیاء الاقتصاد فی الاعتقاد اور میزان العمل وغیرہ کے درمیان تشابہ کی وجہ پر اعتماد کرتے ہیں۔(مولفات الغزالی للبدوی ص202)(جاری ہے)
حواشی

۔ استاذ محمود مہدی استانبولی کہتے ہیں"امام ابن الجوزی نے اپنی کتاب"منہاج القاصدین" میں امام مقدسی نے اپنی کتاب"مختصر منہاج القاصدین" میں اور شیخ جمال الدین قاسمی نے اپنی کتاب"موعظۃ المومنین" میں "احیاء العلوم" کا خلاصہ پیش کیا ہے،اور خلاصے کے ساتھ یہ کوشش بھی کی ہے کہ اس میں موجود اضعیف وموضوع احادیث نیز منحرف صوفیاء کی خرافات اور واہیات باتوں سے اس کو پاک کردیا جائے۔"فلله الحمد والمنة"(ابن تیمیہ بطل الاصلاح الدینی ص 253مطبوعہ مکتبہ دارالمعرفۃ بدمشق)

۔گویا امام صاحب کی نظر میں اسلامی مملکت کے قیام اور شریعت اسلامیہ کے باقاعدہ نفاذ کی کوشش کے بجائے ریاضت ومجاہدہ ومراقبہ میں ڈوبے رہناززیادہ بہتر وافضل تھا۔

۔ابن سینا نے نبوت کے تین قویٰ اور خاص بیان کئے ہیں:اولاً قوت قدسیہ یہ قوت عقل نظری کے تابع ہوتی ہے اس سے بنی دفعہ واحدہ میں حد اول کے ادراک پر متمکن ہوتا ہے۔ثانیاً،قوت خیالیہ یاقوت مخلیہ یا قوت تخیل وحسن الباطن اس قوت سے نبی علم پاتا ہے۔اپنے نفس کے زریعہ سے پس وہ اس کودیکھتا اور سنتا ہے۔اس کو اپنے نفس کے اندر نورانی صورتیں دیکھائی دیتی ہیں۔یہ ملائکہ ہوتے ہیں وہ آوازیں سنتا ہے۔یہ کلام اللہ ہوتا ہے یا س کی وحی۔یہ تمام چیزیں ا س جنس کے متعلق ہیں۔ جو سونے والے کوخواب کی حالت میں حاصل ہوتی ہیں ۔اور اس جنس سے بھی جو بعض لوگوں کوبسبب ریاضات روحیہ حاصل ہوتی ہیں اور اس جنس سے بھی جو بعض مجانین (پاگلوں)کو حاصل ہوجاتی ہیں۔ثالثاً قوت نفسانیہ اس قوت سے بنی مادہ عالم صفت میں تاثیر پر متمکن ہوتا ہے۔اور ا س سے خوارق العادات چیزیں معجزات ظہور میں آتے ہیں۔(کتاب الشفاء لابن سینا مختصراً) شیخ الاسلام حافظ ابن تیمیہؒ نے فلسفیوں متکلمین اور صوفیوں کی بیان کردہ اس نبوت پرشریعت کی روشنی میں سخت تنقید فرمائی ہے۔اور فلسفیوں کے مذہب اور اہل سنت والجماعۃ کے مذہب کے درمیان فرق کو واضح فرمایا ہے۔فجزاہ اللہ۔اگرچہ آں موصوف رحمہ اللہ کی اس تنقید کو ان کی تصانیف میں جا بجا دیکھاجاسکتا ہے۔لیکن خاص اس موضوع پرآپ کی دو کتابیں قابل زکر ہیں۔"الصفربہ اور کتاب النبوات"الصفدیہ میں آپ نے ان لوگوں کی تردید فرمائی ہے۔جن کادعویٰ ہے کہ معجزات انبیاء ؑ قویٰ نفسانیہ سے ہوتے ہیں۔اس کتاب میں فلسفیوں کی آراء کو پیش کرکے ان کی تردید کی گئی ہے۔(الصفریہ مخطوط) کتاب النبوات"میں آپ نے متکلمین کی آراء کو رد فرمایا ہے۔اور یہ واضح فرمایا ہے کہ"نبوت کے مسئلہ میں فلسفیوں کا اصل مذہب صابۃ اور باطنیہ جن میں سے اخوان الصفاء اور ابن سینا گزرے ہیں سے مستمد ہے۔"النبوات لابن تیمیہ ؒ ص127،128۔

۔یہاں دس لفظوں سے مرادابن سیناکی کتاب"الاشارات والتنبیہات ہے۔

۔ان لوگوں میں ڈاکٹر عثمان امین(ملاحظہ ہومقالہ فی مہرجان الغزالی بدمشق ص134۔135)ڈاکٹر محمد ثابت الفندی(ملاحظہ ہو مقالہ فی مہرجان الغزالی بدمشق 106۔108)ڈاکٹر محمود قاسم (ملاحظہ ہو ان کی تالیف کردہ"کتاب فی النفس والعقل لفاسفہ الا غریق والسلام ص145۔203۔209)ڈاکٹر عبدالکریم عثمان(ملاحظہ ہو مقالہ فی مہرجان الغزالی ص 661۔665)اورڈاکٹر محمد غلاب (ملاحظہ ہو ان کی کتاب"المعرفۃ عند مفکری المسلمین " ص327۔338 کے نام قابل ذکر ہیں۔