اُس کا خیال وعلم ملا ، آگہی ملی
میں مرچکا تھا پھر سے مجھے زندگی ملی
اس کی تجلیات بہت ہی لطیف ہیں
اس کے خیال سے بھی مجھے روشنی ملی
ہرحرف لگ رہا ہے گلستاں کھلا ہوا
اس کا کلام پڑھ کے تروتازگی ملی
اس راہِ کوئے یارپر چلنے سے پیشتر
جس راہ پہ بھی چلا مجھے بے راہروی ملی
مُجھ کو ادب راہ پر کتنے مقام پر
دانشوری کے بھیس میں بے دانشی ملی
جوشخص دور سے مجھے سورج لگا نعیم
اس کے میں جب قریب ہواتیرگی ملی!