تعارف:

شراکت عربی کا لفظ ہے۔اسم ہے اور اسم کا مصدر یعنی مادہ شرک ہے ۔مطلب حصہ داری یا ساجھاہے جبکہ شراکت نامہ وہ ہوتا ہے۔کہ جس میں ساجھے کی کیفیت درج ہو اور اس صورت میں یہ مذکر کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔(فیروز اللغات ص448)

الشرکۃ معنی کمپنی ،حصہ داری،انجمن جبکہ شرکۃ کا مطلب شریک ہونا ہے۔حصہ لینا،شامل ہونا،ساجھاکرنا ہے۔(المعجم الاعظم 1528/3)

شرکت کے معنی ساجھا کے ہیں اور اس کا مادہ یعنی مصدر شرک ہے(مجموعہ لغات عربی ج 2ص8)

شرکت عبارت ہے عقدبین المتشارکین اصل یعنی راس المال اور منفعت میں۔اگر منفعت میں شرکت ہو نہ کہ راس المال میں،تو وُہ مضاربت ہے۔اور اگر راس المال میں شرکت ہو،نہ کہ منفعت میں ،تو وُہ بضاعت ہے۔رکن شرکت کا شرکت العین ہے یعنی مالوں کااختلاط ہونا ہے۔کہ ایک کی تمیز دوسرے سے متعذر یا متعسر ہو اوراختلاط کے معنی خلط ہے۔(غایۃ الاوطار ج2ص546)

شرکت کا لفظ شین کے زیر اور ر سے کے جزم کے ساتھ ہے۔کبھی شین کو زبر اور رے کے ساتھ بھی بولاجاتا ہے لیکن پہلی صورت زیادہ رواج پزیر ہے۔

تعریف: (1) جب دو یادو سے زیادہ افراد باہم مل کر اس شرط پر کاروبار شروع کریں کہ وہ نفع و نقصان میں یعنی دونوں میں شریک ہوں گے۔تو یہ معاہدہ شراکت کہلاتا ہے۔(اصول فقہ اسلام ص 108)

2۔اصل اور نفع میں شریک ہونے کا جومعاہدہ ہوتا ہے اسے شراکت کہتے ہیں۔( جواہرہ منیرہ ص 546 درمختار ج2)

3۔شرکت کہتے ہیں ایک سے زیادہ اشخاص کے کسی چیز کے ساتھ اختلاط وامتیاز کو۔(مجلۃ الاحکام العدلیہ دفعہ نمبر 1045)

4۔شرکت کے لغوی معنی شریک ہونے اور ملانے کے ہیں۔اس سے مراد یہ ہے کہ دو کا مال مل ک ایک ہوجاوے اور ہرشخص کی انفرادی حیثیت ختم ہوکراجتماعی حیثیت سامنے آجاوے۔نفع ونقصان میں دونوں شریک ہوں۔

ارکانِ شراکت:

ارکانِ شراکت حسب ذیل ہیں:

1۔الفاظ معاہدہ ہوں یعنی فریقین میں ایجاب وقبول ہو۔اگرایجاب وقبول نہ ہو تو شراکت ہوہی نہیں سکتی۔

2۔معاہدہ میں ایک سے زیادہ افراد ہوں جو کہ شرکت کریں۔ایک شخص شراکت کے نام سے کاروبار نہیں کرسکتا۔

3۔عمل معاہدہ ہو۔یعنی مال اور اعمال(سرمایہ ومحنت) ہو۔

4۔نفع ونقصان میں سرمائے اورخدمت کے تناسب سے ہر ایک کاحصہ متعین ہو۔

5۔اگر کسی شریک کو ایک مقررہ رقم دے دی جاوے تو وہ شریک تصور نہ ہوگا۔

اقسام شراکت:

اقسام شراکت حسب ذیل ہیں:یہ تقسیم قدوری کے مطابق ہے۔

1۔شرکت املاک

2۔شرکت عقود:( اس کی مزید اقسام ہیں)

(الف) شرکت مفاوضہ (ب) شرکت ِ عنان (ج) شرکت صنائع(5) شرکتِ وجوہ

شرکت املاک کی تعریف:

شرکت ِ املاک یہ ہے کہ دد آدمی یا کئی آدمی وراثت کے ذریعہ یا خریدنے کے سبب سے ایک چیز کے مالک ہوجائیں۔ان شریکوں کا حکم یہ ہے کہ ان میں سے ہرشریک اپنے شریک کے حصہ میں اجنبی ہوتا ہے۔لہذا ایک دوسرے کے حصہ میں دست اندازی ناجائز ہے۔وجہ شرکت وکالت نہیں ہے دوسرے کوحصہ دے سکتا ہے۔

2۔شرکت عقود کی تعریف:

اسے شرکتِ معاملہ بھی کہتے ہیں۔یہ بربنائے معاہدہ ہوتی ہے۔اور ضابطے کی پابندی کے ساتھ،عقد کے معنی باندھنے کے ہیں۔دوسرا شخص بطور وکیل سب کچھ کرسکتا ہے۔یہ ایجاب وقبول سے قائم ہوتا ہے۔اس کی مزید چار اقسام کی تعریف یہ ہے:

(الف) شرکتِ مفاوضہ:

مفاوضہ کے لغوی معنی برابری کے ہیں۔اس میں مال اور نفع میں مساوات کی شرط ہوتی ہے۔مساوی شراکت میں ہر شریک دوسرے کا ضامن اور کفیل ہوتا ہے۔ہر شریک کا فعل یا اقرار دوسرے شرکاء کو بھی پابند کردیتا ہے۔غلاموں کافروں یا غیر مسلم لوگوں کے ساتھ مفاوضہ جائز نہیں ہے۔

شرکت عنان:

عنان کے لغوی معنی لگام باگ ڈور راس کے ہیں۔ اس میں مال اور نفع کا ذکر تو ہوتا ہے لیکن مساوات نہیں ہوتی ۔شرکاء نفع ونقصان میں برابر کے حصہ دار نہیں ہوتے۔اس میں ہر ایک ددسرے کا وکیل تو ہوسکتا ہے کفیل نہیں ہوسکتا۔اس میں ہر رکن فقط اپنے ہی معاملات کا ذمہ دار ہوتا ہے دوسرے حصہ داروں سے فقط اپنے حصے کا مطالبہ کرسکتا ہے۔

(ج) شرکت صنائع:

اس کو شرکت الابدان یاشرکت التقبل بھی کہا جاتا ہے۔صنائع صنعت و صناعت کی جمع ہے۔مطلب کا ریگری ،ہنر مندی ہے۔اس میں مال اورنفع کا کوئی ذکر نہیں ہوتا۔بلکہ دونوں کسی عمل میں شریک ہوتے ہیں۔اور مال کسی دوسرے کا ہوتا ہے۔کاروبار کو سر انجام دینا اجتماعی فرض ہوتا ہے۔اگر ان میں سے کوئی ایک ہی رکن کام کرے تو بھی باقی ارکان منافع کے حصہ دار ہوتے ہیں ۔تاہم مالکیوں کے نزدیک کسی رکن کی طویل علالت کی صورت میں معاہدہ منسوخ ہوجاتا ہے۔

(د) شرکت ِ وجوہ:

وجوہ وجہ کی جمع ہے۔معنی اسباب کے ہیں۔اس شرکت میں ہر شخص اپنے اپنے کریڈٹ پر مال لے کر آتا ہے۔ اور دونوں یا تینوں فریق باہم مل کر کام کرتے ہیں۔یہ شرکت صرف حنفیوں کے نزدیک جائز ہے۔شافعہ صرف شرکت عنان کے قائل ہیں۔اس شرکت کی اجازت صرف ان چیزوں میں ہے جو اس قد ر مختلط ہوجائیں کہ جدا کرنا مشکل ہو۔(اردو دائرہ معارف اسلامیہ ص700۔701)

شراکت کی تقسیم ذیلعیؒ نے ایک دوسرے طریقہ سے کی ہے۔اور یہی تقسیم شرعیہ عبدالرحیم نے اپنی کتاب "اصول فقہ اسلام" میں کی ہے جو یُوں ہے:

(1) شراکت بالاموال(2)شراکت الاعمال(3) شراکت وجوہ۔

1۔شراکت بالاموال:

اس میں ہر شریک سرمایہ زر نقد کی صورت میں مہیا کرتا ہے اور تمام شرکاء اپنی محنت اور ہوشیاری صر ف کرتے ہیں۔شرط یہ ہوتی ہے کہ منافع باہم تقسیم ہوگا۔

2۔شراکت الاعمال:

اس میں تمام شرکاء کی محنت وصلاحیت ہی مشترک سرمایہ ہوتی ہے جیس دو درزی باہم مل کر کام کریں یا معمار عمارت تعمیر کریں۔

3۔شراکت الوجوہ:

اس میں تمام کے پاس کوئی سرمایہ نہیں ہوتا اور تمام شرکاء اس بات پر متفق ہوجاتے ہیں۔ کہ وہ قرض اشیاء لا کر فروخت کریں گے اور اس سے حاصل شدہ نفع باہم تقسیم ہوگا۔

سرمایہ اور سامان کے اعتبار سے مولانا منیب الرحمٰن نے شراکت کی تقسیم یوں کی ہے۔(اصول فقہ الاسلام مولانا منیب الرحمٰن ص109)

(1) شراکت اعمال(2) شرکت العمل(3) شرکت الوجود(4) شرکت المضاربت (5شرکت المزارعۃ(6) شرکت مساقاۃ۔

پہلی تین اقسام بیان کی جاچکی ہیں بقیہ تین کی تشریح حسب زیل ہے:

4۔شرکت المضاربت:

اگر معاہدہ شراکت اس بنیاد پر طے پایا ہوکہ ایک شریک سرمایہ فراہم کریگا اور دوسرا اپنی محنت وصلاحیت صرف کرے گا اور منافع باہم تقسیم ہوگا تو ایسی شرکت شرکت مضاربت کہلاتی ہے۔

5۔شرکت المزارعۃ:

اگر دو فریقین میں سے ایک شخص اپنی اراضی فراہم کرے اور دوسرا فریق اس پر اپنی محنت وصلاحیت صرف کرے یامحنت وصلاحیت سے اس سے استفادہ کرے تو یہ مزارعۃ کہلاتی ہے۔

6۔شرکت مساقاۃ:

اگر شرکت درختوں سے متعلق ہو اور دوسرا شخص اپنی محنت سے اس کی نگہداشت کرے تو یہ مساقاۃ کہلاتی ہے۔

شراکت کے اراکین کے اختیارات:

شراکت میں ہر شریک دوسرے کا شرعا ً مختار سمجھا جاتا ہے لیکن غیر مادی شراکت میں یہ اختیارات محدود معنی میں سمجھے جائیں گے۔اگر اس کے خلاف کوئی صریح شرط نہ ہوگئی ہو۔ایک شریک بلا اجازت قرض تو لے سکتا ہے لیکن وہ مشترکہ مال بطور رعایت دینے کا مجاز نہیں ہے۔غیر مادی شراکت میں ہر فریق اپنے سرمایہ کے تناسب سے نقصان کا ذمہ دار ہوگا بشرط یہ کہ اس کے برکس طے نہ پایا ہو۔مضاربت میں نقصان صرف سرمایہ دار کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔

فسخ شراکت:

شراکت اسی طرح فسخ ہوسکتی ہے۔

1۔جب اس کا کوئی رکن الگ ہونے کی خواہش ظاہر کرے۔

2۔اسلام سےمنحرف ہوجائے یا دارالحرب چلا جاوے۔

3۔مرجائے یا کسی دماغی عارضہ میں مبتلا ہوجاوے۔وارث نئے سرے سے شرکت کاعہد وپیمان کرکے ہی تجارتی ادارے کا کاروبار جاری رکھ سکتے ہیں یا رکھ سکتا ہے۔(کتاب الفقہ عبدالرحمٰن الجزیری ص124)