زبور میں نام ِ دلنواز حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہے"حاط حاطؐ"خالد !
معہ ستارہ ہیں جس طرح آسماں کے لئے
ہجوم لالہ وگل صحن گلستان کے لئے
دل ِ گداختہ جیسے غم نہاں کے لئے
"بنے ہیں مدحت سلطان دو جہاں کے لئے
سخن زبان کے لئے اور زبان وہاں کے لئے"
وہ جس کی پاکی سیرت کی چار دانگ میں دُھوم
وہ جس کی ذات ہے سرچشمہ فنون وعلوم
وہ جس سے لیتے ہیں خیرات روشنی کی نجوم
"وہ چاند جس سے ہوئی ظلمت جہاں معدوم
رہا نہ تفرقہ ء روز وشب زماں کے لئے"
ہے اس کا شیوہ عفاف وعدالت وانصاف
پیام اس کا ہے انس واخوت وایلاف
ہے اس کی شان کریمی کا ہر کوئی وصاف
"وہ لحظہ لحظہ تفقد، وہ دم بدم الطاف
رضائے خاطر یاران جانفشان کے لئے"
وہ بے نیازی کا برتاؤ اہل جاہ کے ساتھ
برابری کا سلوک اہل اشک وہ آہ کے ساتھ
وہ کرنا سلب گناہوں کا اک دعاء کے ساتھ
"صفائے قلب حسودان کینہ خواہ کے ساتھ
دعائے خیر بد اندیش وبدگماں کے لئے"
ہر اک پر فرض ہے پاس حقوق ھمسایہ
ہوا زمانے میں صالح معاشرہ پیدا
شریک حال ہے جس کا خدائے نادیدہ
"مدینہ مرجع وماوائے اہل مکہ ہوا
مکیں سے رتبہ یہ حاصل ہوا مکان کے لئے"
زبان پر لائے نہ جو غیر زکر،حرف دگر
ہمیشہ نام ہے اللہ کا جس کے ہونٹوں پر
عیاں حقائق اشیا ہیں جس پہ سر تاسر
" بس اب نہ ہول کاکھٹکا،نہ راہزن کاخطر
ہوا وہ قافلہ سالار کا ر واں کے لئے"
ہر ایک طرز عمل اس کا زندگی آموز
ہے اس کی دید بہر زاویہ نظر افروز
ہے اس کا ہر کلمہ جامع وخرد اندوز
"شفاعت نبوی ؐہے وہ برق عصیاں سوز
کہ حکم حق ہے جہاں کفر دو جہاں کے لئے"
اسی کی ذات کتاب معارف واسرار
اسی کا نام ہے جس پر نثار عزووقار
اسی کا کام ہے حاصل جسے ثبات واقرار
"اسی کادیں ہے کہ ہے گلشن ہمیشہ بہار
وگرنہ ہر گل وگلزار ہے خزاں کےلئے"
نہیں ہے اس سا کوئی سرور وکرم گستر
ہر ایک امت گم کردہ راہ کارہبر
کیافراخی ہفت آسماں میں اس نے سفر
"عبور لجہ عصیاں سے کس طرح ہواگر
وہ ناخدا نہ ہو اس بحر بیکراں کے لئے"
ہے نخلبندی الفاظ کا ثمر حسرت
نصیب اہل بیاں ہے خجالت وخفت
کہ ہے بضاعت مزجات علم کی دولت
"نہ حرف وصوت میں وسعت نہ کام ولب میں سکت
حقیقت شب معراج کے بیاں کے لئے"
کرے نہ عاشق رمز آشنا کبھی فریاد
بقدر حوصلہ واجب ہے مال وجاں کاجہاد
یہی ہے رہرو ملک وفا کا توشہ وزاد
اسی سے ہوتا ہے ظاہرعیاراستعداد
محک ہے حُب نبیؐ دل ک امتحاں کے لئے
لحمد میں پیش نظر اس کا رُوئے انور ہو
اُسی کے نورسے تربت مری منور ہو
رہِ عدم میں اسی کا خیال رہبر ہو
"اگر بقیع میں گز بھر زمیں میسر ہو
کروں نہ طول امل روضہ جناں کے لئے
اصول عدل وجہانبانی وتدبر میں
شعور وحکمت وآگاہی وتفکر میں
وہ لا مثال ہے جانبازی وتہور میں
"سمایا اس کا جو نقش قدم تصور میں
ہجوم عشق میں بوسے کہاں کہاں کےلئے
ہے گو سخن پہ ابھی عالم جواں سالی
یہی ہے میرا بھی خالد بیان اقبالی
نہ کام آئے یہاں ندرت ہنر خالی
"حریف نعت پیمبرؐ نہیں سخن حالی
کہاں سے لایئے اعجاز اس بیاں کےلئے"
لہو کی موج رگوں میں رواں رہے جب تک
چمن میں مرغ چمن نغمہ خواں رہ جب تک
بساطِ خاک نہ آسماں رہے جب تک
"نبیؐ کا نام ہو وردِ زباں رہے جب کہ
سخن زباں کے لئے اور زباں وہاں کےلئے"