انسان ہر دور میں اپنے علم میں اضافے کا خواہاں رہا ہے۔حصول علم کے مختلف زرائع ہیں اور وہ ان سے اپنی سہولت کے مطابق بھر پور استفادہ کرنے کی کوشش کرتاہے۔اس سلسلے میں کتب ورسائل بڑا اہم کردار ادا کرتے ہیں۔دنیا کے مختلف نظاموں میں اسلام وہی وہ واحد دین ہے جو اپنے تمام ماننے والوں کے لئے خواہ کسی بھی طبقہ گروہ اور نسل سے تعلق رکھتے ہوں علم حاصل کرنے کو فرض قرار دیتا ہے۔اس سلسلے میں اس نے مردوزن کی تفریق بھی روا نہیں رکھی ہے۔بلکہ مردوں اور عورتوں پر علم حاصل کرنے کو فرض قرار دیا ہے۔عام افراد میں دینی شعور پھیلانے اور اُن کی ذہنی واخلاقی تربیت میں دینی رسائل اہم کردار ادا کرتے ہیں۔لیکن افسوس کے آج کے دور میں سب سے زیادہ خراب حالت انہی دینی رسائل کی ہے اور وہ گوناگوں مسائل سے دو چار ہیں۔مسائل کی اس کشمکش میں بہترین رسائل دم توڑ چکے ہیں۔کچھ سخت جان رسائل ابھی باقی ہیں تاہم ان کا جاری رہنا اس بات کی ضمانت ہے۔ کہ اب بھی معاشرے کے کسی نہ کسی طبقے میں دین سے محبت بلکہ اسے ایک نظام حیات کے طور پر اپنانے کی تڑپ ولگن موجود ہے۔

یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ موجودہ مادیت پرستانہ دور میں محض مغرب کی نقالی میں ہم اپنے اخلاقی معاشرتی احساسات تک سے بے حس ہوتے جارہے ہیں۔ہمارے ذہنوں میں ایک آرام دہ زندگی کا تصور اتنا گہرا ہوچکا ہے کہ ہم اپنی اخلاقی ودینی ذمہ داری تک کو بھلا بیٹھے ہیں۔ ایک زمانہ وہ تھا جب نجی محفلوں میں چھوٹے اپنے بزرگوں کی علی واخلاقی بحثیں سنا کرتے تھے اورآج صورت حال یہ ے کہ دینی گفتگو تو کجا،بڑے اور چھوٹے سبھی اس تصور پر بات کرنے کی بھی روادا نہیں۔علاوہ ازیں گزشتہ دور حکومت میں ادب وثقافت کے نام پر جو کھیل شروع ہوا۔بچوں ،جوانوں،بوڑھوں اور خواتین تک کو سپنس اور مافوق الفطرت قصے کہاانیوں کے زریعے بڑی چابکدستی سے دینی راہ سے ہٹا کر بے مقصدیت کی راہ پر لگایا گیا۔یہ ایک المیہ سے کم نہیں۔اس سلسلے میں ڈائی جسٹوں نے اہم ترین رول ادا کیا۔ڈائجسٹوں کے اس ر ول سے نہ صرف ہماری نسل نو کے اخلاق تباہ ہوئے بلکہ جرائم میں بکثرت اضافہ ہوا ہے۔اور یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔صرف وقت گزاری کے لئے بے مقصد لٹریچر کی اشاعت سے کتنے گھر ویران ہوئے؟کتنے ذہن صرف الفاظ ی لذت کشی میں برباد ہوئے۔کتنی خواتین کی زندگیوں میں زہر گھولا گیا؟کتنے معصوم ذہنوں کو دینی شعائر سے بے گانہ بنایا گیا؟آخر کسی کے گھر زندگی اور نئی نسل کو تباہ کرکے انہیں کیا ملا؟اپنی چند معاشی ضروریات کے لئے معاشرے کے سکون کو تبارہ کرکے کیا حاصل ہوا؟یہ وہ سوال ہے جس پر ہر درد مند مسلمان کو خلوص دل سے سوچنا چاہیے ظاہر ہے خلاق کی یہ تباہی اس لئے ہے کہ ہم مادیت کے سیلاب میں بہہ گئے ہیں۔ہماری معاشرتی اقدار تبدیل ہوگئی ہیں۔دینی شعائر کو چھوڑا تو رُسوائیاں ہمارا مقدر قرار پائیں ۔آج کسی بھی فرد سے ملئے،وہ معاشرتی اقدار کے زوال پر نوحہ خواں نظر آئے گا لیکن کچھ کرنے پر آمادہ نہیں۔اگر ہم میں سے ہر شخص اپنی جگہ بھر پور کوشش کرے دینی رسائل کو پھیلانے میں اپنا کردار ادا کرے، خود بھی دینی مسائل کا مطاعلہ کرے اور ان کو دوسروں تک پہنچانے کی کوشش کرے تو کوئی وجہ نہیں کہ یہ جمود توڑا نہ جاسکے۔ ایک دوسرے کی طرف سے دیکھنے سے یہ مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ہر فرد آگے بڑھ کر اپنی ذمہ داری ادا کرے۔ان شاء اللہ کامیابی وکامرانی ہمارا مقدر قرار پائے گی ۔دینی رسائل کی وسیع پیمانے پر اشاعت سے جہاں ہم اپنے اخلاقی معاشرتی معاشی مسائل پو غور فکر کی راہیں وسیع پائیں گے۔وہیں جرائم میں کمی بھی ممکن ہے۔معاشرے کی تمام تر بے حسی کے باوجود آج ملک کی اکثریت دین سے والہانہ محبت رکھتی ہے۔اور اس کا فہم وادراک بھی پس ہمیں اس ضمن میں اپنے اوپر عائد ذمہ داری کو پورا کرنا ہوگا۔اگر آج کے نوجوانوں کی دینی معلومات کا جائزہ لیا جائے۔ تو افسوس ناک صورت حال نظر آتی ہے۔دینی رسائل کے پھیلاؤ سے ہم اس صورت میں تبدیلی لاسکتے ہیں۔اوراس تبدیلی کا لانا ہماری ناگزیر ضرورت بھی ہے۔ورنہ اس کے بغیر ہم نئی نسل کی تباہی کی ذمہ داری سے بچ نہیں سکتے۔

ہماری نظر میں دینی رسائل کے مسائل کوحل کرنے کےلئے مندرجہ زیل اقدامات کئے جاسکتے ہیں:

1۔دینی رسائل کو نیوز پرنٹ کے حصول میں شدید دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔حکومت دینی رسائل کو نیوز پرنٹ حاصل کرنے کے لئے خصوصی سہولتیں مہیا کرے،بالخصوص ایسے رسائل وجرائد جو فرقہ واریت سے بلند ہوکر دینی شعور اور خدمات کا اچھا ریکارڈ رکھتے ہوں،ان کی معاونت کرے تاکہ وہ اپنا کردار مؤثر انداز میں ادا کرسکیں۔

2۔دینی رسائل کو زندہ رکھنے اور وسیع پیمانے پر ان کی اشاعت کی ذمہ داری ان کے قارئین پر بھی عائد ہوتی ہے۔قارئین کا وسیع حلقہ موجود نہ ہو تو کوئی رسالہ خواہ کتنا ہی مفید کیوں نہ ہو،اپنی اشاعت وسیع نہیں کرسکتا۔لہذا قارئین کو چاہیے کہ انہیں اپنے اپن حلقے میں متعارف کراکر ان کی توسیع اشاعت میں خاص دلچسپی لیں۔اشتہارت کے بغیر کوئی رسالہ چل ہی نہیں سکتا۔اس اعتبار سے اگر دینی رسائل کا جائزہ لیا جائے تو وہ سخت قسم کی دشواریوں میں مبتلا ہیں۔ ایک طرف تو ان کی اشاعت بہت کم ہے،دوسری طرف انہیں سرکاری اشتہارات نہیں ملتے۔فنڈ کی اس کمی کی بنا ء پر یہ رسائل نہ تو ضروری عملہ ترتیب دے سکتے ہیں۔ اور نہ ہی اس عملے کے ضروری نجی اخراجات پورے ہوتے ہیں۔لہذا وہ اس میں خاطر خواہ دلچسپی نہیں لے سکتا۔دینی رسائل،عامیانہ قسم کے اشتہارات تو شائع کر نہیں سکتے لہذا ضروری ہے کہ اس سلسلے میں حکومت اپنی ذمہ داریاں کو پورا کرے۔تمام دینی رسائل کی فہرست مرتب کرائے اور ان میں سے ایسے رسائل جو دینی تعلیمات اور فہم کو مشینری اسپرٹ سے پھیلارہے ہوں،ان کے لئے خصو صی اشتہارات کا کوٹہ مقرر کرے کیونکہ یہ رسائل نہ تو دولت سمیٹنے کا ذریعہ ہیں اور نہ ہی یہ کمرشل بنیادوں پر چلائے جاتے ہیں بلکہ یہ تو ایک مقدس مشن کی تکمیل کے لئے اپنی مقدور بھر کوشش کررہے ہیں۔دوسری طرف نیم سرکاری ادارے اور مخیر تاجر حضرات بھی اشتہارات کے ذریعے ان رسائل کی مالی امداد کرکے انہیں بروقت اپنی اشاعت مارکیٹ میں لانے میں مدد دے سکتے ہیں۔

تیسری طرف وہ صاحب حیثیت افراد ہیں ۔جنھیں اللہ تعالیٰ نے بہترین مادی وسائل سے نوازا ہے۔ ان کی یہ اخلاقی ذمہ داری ہے۔کہ وہ ان رسائل کی دامے،درمے خصوصی معاونت کریں اس طرح وہ اپنی دولت نیک کاموں میں صرف کریں گے۔جس کا اجر بہرحال انھیں مل کررہے گا۔آخر ہمارے ملک کے بڑے بڑے ادارے لاکھوں روپیہ صرف کرکے اپنے ناظرین کو تفریح کا سامان بھی تو مہیا کرتے ہیں،اگر ان اخراجات کا چوتھائی حصہ بھی دینی رسائل کی طرف منتقل کردیا جائے ۔تو کوئی وجہ نہیں کہ وہ اپنی مشکلات پر قابو نہ پاسکیں۔دینی رسائل ہماری انہیں کوتاہیوں اور نظر انداز کرنے والی پالیسی کی بناء پر بے پناہ مسائل میں گھر ہوئے ہیں اور وہ باقاعدگی سے مارکیٹ میں نہیں پہنچ پاتے۔ان مسائل کے حل کےلئے ہم سب کو مل کر کوشش کرنا ہوگی۔تب کہیں جا کر یہ رسائل معاشرے کی بہتری میں بطریق احسن اپنی ذمہ داریاں پوری کرسکیں گے۔لیکن اگر اس ضمن میں کوئی قدم نہیں اٹھایا جاتا اور موجودہ صورت حال برقرار رہتی ہے تو اس کا جو نتیجہ نکل سکتا ہے اس کا اندازہ ہر زی شعور وخود ہی کرسکتا ہے۔