رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کے زریعے اللہ کے عذابوں کو دعوت نہ دیجئے!

قرآن مجید میں اللہ رب العزت نے جن وانس کی تخلیق کا مقصد یوں بیان فرمایا ہے:

﴿وَما خَلَقتُ الجِنَّ وَالإِنسَ إِلّا لِيَعبُدونِ ﴿٥٦﴾... سورة الذاريات

کہ"میں نے جن وانس کو اپنی ہی عبادت کے لئے پیدا کیا ہے!"

چنانچہ انسان کو دنیا میں بسانے کے بعد اللہ رب العزت نے کم وبیش ڈیڑھ لاکھ پیغمبر مبعوث فرمائے،جو اپنے اپنے وقت میں اس کا پیغام اس کے بندوں تک پہنچاتے رہے۔۔۔ ان تمام بزرگ ہستیوں کی تعلیمات کا بنیادی نکتہ"لاالٰہ الااللہ" یعنی توحید الوہیت تھی۔۔۔تاہم یہ بتانے کےلئے کہ توحید الوہیت کے یہ تقاضے کیونکر پورے کیے جاسکتے ہیں،ہر نبی ورسول کے دور رسالت میں ،اس کلمہ"لاالٰہ الا اللہ" کے ساتھ اس نبی اور رسول کی نبوت ورسالت کااعلان بھی ضروری قرار دیا گیا۔،تاکہ عبادت الٰہی کے مفہوم ومعنی اس نبی کی تعلیمات جو وحی الٰہی پر مبنی تھیں۔کی روشنی میں متعین کیے جاسکیں۔۔۔چنانچہ کبھی اس کلمہ"لاالٰہ الاللہ"کے ساتھ"ادم صفى الله"کا اعلان ہوا،تو کبھی"ابراهيم خليل الله"کا۔۔۔کبھی اسے"موسى كليم الله" سے ملزوم ٹھہرایا گیا،تو کبھی "عيسىٰ روح الله "سے!سب سے آخر میں آنے والی اُمت کو جو کلمہ عطا ہوا،وہ"لاالٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ" ہے۔جو حلقہ،اسلام میں داخل ہونے کی شرط اولیں ہے۔اورجس کے کسی ایک جزو کا انکار بھی اس کلمہ کو جھٹلادینے کے مترادف ہے۔۔۔اس کلمہ کے اعلان کے بعد نہ صرف انبیاء ؑ ورسل ؑ کی بعثت کایہ سلسلہ ختم کردیا گیا،بلکہ"﴿اليَومَ أَكمَلتُ لَكُم دينَكُم وَأَتمَمتُ عَلَيكُم نِعمَتى وَرَ‌ضيتُ لَكُمُ الإِسلـٰمَ دينًا﴾"۔یعنی تکمیل دین اوراتمام نعمت خداوندی کی خوشخبری بھی آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اس آخری اُمت کو ملی۔چنانچہ اب کسی کو بھی یہ حق حاصل نہیں ہے کہ اس دین کو نامکمل سمجھتے ہوئے کوئی ٹانکا اس میں اپنی طرف سے لگائے۔۔۔نہ ہی کلمہ"لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ" کو چھوڑ کر کسی ایسے سابقہ کلمہ کو پڑھنے کی گنجائش موجود ہے۔جو اگرچہ اپنے وقت میں فلاح ونجات کا ذریعہ قرار دیا گیا تھا!۔۔۔اب یہ طے ہے عبادت تو حسب سابق صرف ایک اللہ کی ہوگی۔تاہم اس کے طریقے صرف اورصرف حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوۃ حسنہ میں تلاش کئے جاسکیں گے!۔۔۔یہ نکتہ جس قدر اہمیت کاحامل ہے۔اسی قدر نزاکت کا پہلو بھی اپنے اندر لئے ہوئے ہے۔۔۔چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ تو رات مقدس کے چند اوراق کے ساتھ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتے ہیں،تو رحمت ورافت کی صفت سے متصف ہونے کے باوجود فرطِ غضب سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک سرخ ہوجاتا ہے۔اسی عالم میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:

«لَوْ كَانَ موسى حَيًّا مَا وَسِعَهُ إِلَّا أَنْ يَتَّبِعَنِي»

کہ"(توراۃ چھوڑ آج) اگر (صاحب توراۃ) موسیٰ (علیہ السلام) بھی زندہ ہوتے،تو انہیں بھی میری اتباع کے بغیر کوئی چارہ کار نہ ہوتا!"

نیز فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے:

«لَوْ بَدَاَ لَكُمْ مُوسىٰ فَاتَّبَعْتُمُوهُ وَتَرَكْتُمُونِى لَضَلَلْتُمْ عَنْ سَوَاءِ السَّبِيْلِ»

کہ"(آج) اگر موسیٰ علیہ اسلام تمہارے سامنے موجود ہوں ،اور تم مجھے چھوڑ کر ان کی اتباع کرنے لگو،تو تم ضرور ہی سیدھے راستے سے بھٹک جاؤ گے!"

چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فوراً پُکار اٹھے:

« رضيت بالله رباً ، وبالإسلام ديناً ، وبمحمد صلى الله عليه وسلم نبياً »

"میں اللہ رب العزت کے رب ہونے پر،اسلام کے دین ہونے پر اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نبی ہونے پر راضی ہوگیا!"تب کہیں جا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا غصہ فرو ہوا"

اتباع سنت ر سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس قدر ا ہمیت معلوم ہونے کے بعد،ہماری حیرت کی انتہا باقی نہیں رہ جاتی،جب کچھ لوگ اس سے بے بہرہ ہوکر کسی امام کے قول کو وہی درجہ دے چکے ہیں،جو فرمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حاصل ہے،جبکہ یہ درجہ اب کسی سابقہ نبی کی اتباع کو بھی حاصل نہیں رہا۔۔۔چنانچہ کوئی فقہ حنفی کو شریعت سمجھنے پر مصر ہے تو کوئی فقہ شافعی کا پیرو۔۔۔کوئی امام احمدؒ کا مقلد ہے تو کوئی امام مالک ؒ کا!۔۔۔یہ حضرات اس راہ پر چلتے ہوئے اتنی دور نکل چکے ہیں کہ سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی،ان کی نظروں میں کوئی اہمیت ہی باقی نہیں رہی۔۔۔جبکہ آج کے حالات وواقعات نے یہ ثابت کردیا ہے کہ کوئی بھی فقہ ان مقلدین کے کام نہیں آسکتی،نہ دور حاضرہ کے تقاضوں کو پورا کرسکتی ہے۔اس سلسلہ میں"محدث" کے گزشتہ شمارہ کے فکرونظر کے صفحات کا حوالہ دینا بے جا نہ ہوگا،جن میں ہم نے یہ ثابت کیا تھا کہ امت محمدیہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے تمام مسائل کا حل صرف اور صرف کتاب وسنت میں مضمر ہے۔چنانچہ "ایوان وقت" کے ایک مذاکرہ میں فقہ حنفی کے مقلدین حضرات کو فقہ حنفی سے دستبردار ہوکر کتاب وسنت ہی کا سہارا لینا پڑا۔اورقصاص ودیت کے علاوہ قانون شہادت کے سلسلہ کی بے چینیوں کو بھی کتاب وسنت کی پابندی ہی میں عافیت میسر آئی۔لہذا یہ ضروری ہے کہ ہم کسی بھی وضعی دستور وآئین کی بجائے قرآن مجید کو اپنا دستور قرار دیتے ہوئے اس کی واحد متعین تعبیر سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا راہنما بنائیں۔۔۔لیکن اس کے ساتھ ہی ساتھ یہ تلخ حقیقت بھی ہمارے سامنے ہے کہ ہمارے سیاستدان جہاں قرآن مجید کو چھوڑ کر دیگر وضعی دساتیر کی پابندی کا حوالہ دے رہے ہیں،وہاں بعض"علماء" سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لوگوں کو دور رکھنے کی خاطر ایک شرمناک اور گھناؤنا کھیل کھیل رہے ہیں۔حتیٰ کہ اس کےلئے انہوں نے﴿يُحَرِّفُونَ الْكَلِمَ عَنْ مَّوَاضِعِه﴾ کی یہودیانہ روش کو اپنانے میں بھی کوئی باک محسوس نہیں کیا!

تفصیل اس اجمال کی یوں ہے کہ بہاول پور سے ہمارے ایک دوست نے ہمیں کچھ فوٹو اسٹیٹ ارسال کئے ہیں۔ یہ فوٹو شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ؒ کی مشہور زمانہ کتاب"حجۃ اللہ البالغہ" کے ہیں۔ایک فوٹو سٹیٹ میں اس کتاب (جلد سوم) کے عربی نسخہ (مطبوعہ مکتبۃ السلفیہ ،شیش محل روڈ۔لاہور) کے صفحہ 10 کی ایک عبارت ،شاہ صاحب کےقلم سے یوں نمایاں ہے:

«وَالَّذِى يَرْفَعُ اَحَبُّ اِلَىَّ مِمَّنْ لَّا يَرْفَعُ»

جس کا ترجمہ بالکل واضح ہے کہ:"وہ شخص جو رفع الیدین کرتا ہے،میرے نزدیک زیادہ پسندیدہ ہے،اس شخص کی نسبت جو رفع الیدین نہیں کرتا:"

پھر شاہ صاحب اس کی وجہ بیان فرماتے ہیں:

«فَاِنَّ اَحَادِيْثُ الرَّفْعِ اَكْثَرُ وَاَثْبَتُ»

"کیونکہ رفع الیدین کی احادیث اکثر اور زیادہ معتبر ہیں!"

۔۔۔جبکہ دوسرا فوٹو سٹیٹ اسی کتاب کے اردو ترجمہ(مطبوعہ دارالاشاعت ،مقابل مولوی مسافر خانہ کراچی نمبر1)کا ہے جس کے صفحہ 318 پر مذکورہ عربی عبارت نمبر1 کا ترجمہ یوں کیا گیا ہے:"اور جو شخص رفع یدین نہیں کرتا اچھا ہے!"

۔۔۔ہم یہ تسلیم کرنے کے لئے قطعاً تیار نہیں ہیں کہ "حجۃ اللہ البالغہ" کے اس فاضل مترجم جناب خلیل اشرف عثمانی صاحب کو اس عبارت کا درست ترجمہ معلوم نہ تھا۔۔۔طرفہ تماشایہ کہ اس کے معاً بعد کی عبارت کاترجمہ انہوں نے ٹھیک کیا ہے۔وہ لکھتے ہیں:

"کیونکہ ر فع یدین پر جو حدیثیں دلالت کرتی ہیں وہ زیادہ بھی ہیں اور ثابت بھی خوب ہیں!"

ہم فاضل مکرم جناب خلیل اشرف عثمانی صاحب سے یہ پوچھنا چاہتے ہیں کہ جب رفع الیدین پر دلالت کرنے والی حدیثیں زیادہ بھی ہیں اور ثابت بھی خوب ہیں تو پھر رفع الیدین نہ کرنے والا اچھا کیونکر ہوگیا؟۔۔۔کیا ان کے نزدیک صحیح حدیث پر عمل کرنے والا اچھا نہیں ہے؟۔۔۔اور کیا یہی فتویٰ وہ اپنے امام اعظم پر بھی لگائیں گے جن کا مشہور قول ہے کہ:«اذا صح الحديث فهو مذهبى»

"جب صحیح حدیث مل جائے تو یہی میرا مذہب ہے!"

آہ!۔۔۔«فر من المطر وقام تحت الميزاب»

۔۔۔"بارش سے بھاگا اور پرنالے کے نیچے جا کھڑا ہوا"۔۔۔الفاظ دیگر "آسمان سے گرا،کھجور میں اٹکا" والی مثال ان پر صادق آتی ہے۔۔۔معلوم ہوتا ہے،یہ لوگ اپنے دعوائے تقلید میں بھی مخلص نہیں ہیں۔کیوں نہ ہو،جسے خُدا اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی شرم دامن گیر نہیں،وہ خُدا کے بندوں سے حیا کیونکر کرے گا؟

۔۔۔تکرار اگر قارئین کرام کی طبع پر گراں نہ گزرے،تو ہم جناب عثمانی صاحب کے ترجمہ کو اکھٹا نقل کرتے ہیں۔آپ فرماتے ہیں:

"اور جو رفع الیدین نہیں کرتا،اچھا ہے۔کیونکہ رفع الیدین پر جو حدیثیں دلالت کرتی ہیں وہ زیادہ بھی ہیں اور ثابت بھی خوب ہیں!"

۔۔۔جناب عثمانی صاحب ،یہ بات کیا ہوئی؟۔۔۔اس "کیونکہ" کی یہاں کیا تُک ہے؟۔۔۔افسوس کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس سنت ثابتہ مطہرہ (رفع الیدین) کے تسلیم واعلان کے باوجود آپ اس کے خلاف مبینہ طور پر بغض کا اظہار کرنے سے باز نہیں رہے،اور آ پ نے ترجمہ بالکل الٹ کردیا۔۔۔پس اسے آپ کی سادگی پر محمول کیا جائے یا اسے﴿أَفَرَ‌ءَيتَ مَنِ اتَّخَذَ إِلـٰهَهُ هَوىٰهُ﴾ کی مکمل تصویر کہا جائے؟۔۔۔آپ کے اس کارنامہ کو"﴿إِنَّ الَّذينَ يَكتُمونَ ما أَنزَلَ اللَّهُ مِنَ الكِتـٰبِ وَيَشتَر‌ونَ بِهِ ثَمَنًا قَليلًا﴾ کی فہرست میں شامل کرکے﴿أُولـٰئِكَ ما يَأكُلونَ فى بُطونِهِم إِلَّا النّارَ‌ وَلا يُكَلِّمُهُمُ اللَّهُ يَومَ القِيـٰمَةِ وَلا يُزَكّيهِم وَلَهُم عَذابٌ أَليمٌ ﴿١٧٤﴾... سورةالبقرة" کا مصداق قرار دیا جائے یا اسے﴿يُخـٰدِعونَ اللَّهَ وَالَّذينَ ءامَنوا وَما يَخدَعونَ إِلّا أَنفُسَهُم وَما يَشعُر‌ونَ ﴿٩﴾... سورة القرة" کی سچی تفسیر کہا جائے؟۔افسوس کہ اس مبینہ دیدہ دلیری سے کام لیتے وقت آپ اس وعید قرآنی کو بھی بھول گئے کہ:

﴿فَليَحذَرِ‌ الَّذينَ يُخالِفونَ عَن أَمرِ‌هِ أَن تُصيبَهُم فِتنَةٌ أَو يُصيبَهُم عَذابٌ أَليمٌ ﴿٦٣﴾... سورةالنور

"ان لوگوں کو جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی مخالفت کرتے ہیں۔اس بات سے ڈرنا چاہیے کہ کہیں کوئی فتنہ اور (اللہ رب العزت کی طرف سے) کوئی دردناک عذاب انہیں اپنی لپیٹ میں نہ لےلے!"

چنانچہ فتنے تو ظاہر ہورہے ہیں۔۔۔انکار سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کراور کون سافتنہ ہوگا؟جس کو پھیلانے میں آپ نے بھی اپنا حصہ بانٹ لیا ہے۔یہی وجہ ہے کہ ترجمہ کرتے وقت نہ صرف عقل وخرد نے آپ کا ساتھ چھوڑ دیا بلکہ آپ اس بات سے بھی بیگانہ ہوگئے کہ آپ کی یہ سطور پڑھ کرلوگ آپ کے بارے میں کیا رائے قائم کریں گے؟

۔۔۔باقی رہا"﴿عَذَابٌ اَلِيْمٌ﴾" کامعاملہ ،تو ہم صدق دل سے دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ آپ کو اس سے محفوظ رکھے۔تاہم اس حرکت شنیعہ ودانستہ پر نہ صرف شرم وندامت ،بلکہ امت محمدیہ (صلی اللہ علیہ وسلم) سے ،جسے آپ نے دھوکا دینے کی انتہائی مذموم اور گھٹیا کوشش فرمائی ہے،تحریری معافی نامہ طلب کرنے کی توفیق ارزانی فرمائے،ورنہ آپ روزف محشر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سامنا بھی نہ کرسکیں گے!

یہ فوٹو سٹیٹ جن صاحب نے ہمیں ارسال فرمائے انہوں نے لکھا ہے کہ:"آپ خلیل اشرف عثمانی صاحب سے بذریعہ ٹیلی فون رابطہ قائم کرکے انھیں اپنی اس غلطی کاتحریری معافی نامہ لکھنے پر مجبور کریں۔ورنہ ان کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی جائے گی!"۔۔۔لیکن ہم ان سطور کے زریعے صرف اسی پر اکتفا کرتے ہیں کہ انہیں ان کی اس حرکت کابھر پور احساس دلایا جائے تاکہ وہ اللہ رب العزت کی بارگاہ میں تائب ہوں۔ورنہ اس کے نتائج وعواقب سے خبردار ہوجائیں۔کیونکہ! ﴿فَليَحذَرِ‌ الَّذينَ يُخالِفونَ عَن أَمرِ‌هِ أَن تُصيبَهُم فِتنَةٌ أَو يُصيبَهُم عَذابٌ أَليمٌ ﴿٦٣﴾... سورةالنور
ع شائد کہ اتر جائے ترے دل میں میری بات!

حاشیہ

۔(اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم)کیا آپ نے اس شخص کو دیکھا ہے ۔جس نے اپنی خواہشات کو اپنا معبود بنا لیا ہے؟"

۔3۔"وہ لوگ جو چھپاتے ہیں،جو کچھ کہ اُتارا ہے اللہ تعالیٰ نے کتاب سے اور مول لیتے ہیں بدلے اس کے مول تھوڑا،یہ لوگ نہیں بھرتے مگر اپنے پیٹوں میں آگ(کے انگارے۔چنانچہ)نہیں کلام کرے گا اللہ تعالیٰ ان سے روز قیامت ،نہ ہی انھیں پاک کرے گا اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے!"

۔دھوکا دیتے ہیں اللہ تعالیٰ کو اور ایمان داروں کو لیکن در حقیقت وہ اپنے آپ کو دھوکا دیتے ہیں۔مگرسمجھتے نہیں۔