ان کا تعلق خزرج کے خاندان خدرہ سے تھا، شجرہ نسب یہ ہے:

مالک بن سنان بن عبید بن ثعبلہ بن الابجر (خدرہ) بن عوف بن حارث بن خزرج۔

ان کے والد سنان شہید کے لقب سے مشہور تھے۔ وہ اپنے قبیلے کے رئیس تھے اور مدینہ میں چاہ بصہ کے قریب قلعہ اجرد کے مالک تھے۔ انہوں نے اسلام سے پیشتر وفات پائی۔

حضرت مالک بن سنان رضی اللہ عنہ نے ہجرت نبوی سے پہلے قبول اسلام کا شرف حاصل کیا۔ اہلیہ انیسہ بنت ابی حارثہ رضی اللہ عنہا نے بھی شوہر کا ساتھ دیا۔ سرورِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت کے بعد مدینہ منورہ میں نزولِ اجلال فرمایا تو دونوں میاں بیوی شرفِ صحابیت سے بہرہ ور ہوئے۔ جلیل القدر صحابی حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ، حضرت مالک بن سنان رضی اللہ عنہ ہی کے فرزند ہیں۔ ہجرت کے بعد مسجدِ نبوی کی تعمیر کا آغاز ہوا تو حضرت مالک رضی اللہ عنہ نے اپنے گیارہ سالہ فرزند ابوسعید رضی اللہ عنہ کے ساتھ مل کر تعمیر کے کاموں میں شرکت کی۔ حضرت مالک رضی اللہ عنہ غزوہ بدر میں کسی وجہ سے شریک نہ ہو سکے البتہ غزوہ اُحد ممیں بڑے ذوق و شوق سے بیٹے کو ساتھ لے کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ کی عمر اس وقت تیرہ برس کی تھی۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم پندرہ برس سے کم عمر کے نوجوان کو لڑائی میں شریک ہونے کی اجازت نہیں دیتے تھے اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ کو بھی واپس جانے کی ہدایت فرمائی، اس موقع پر حضرت مالک رضی اللہ عنہ نے بیٹے کا ہاتھ پکڑ کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو دکھایا اور عرض کی "یا رسول اللہ اس کے ہاتھ تو پورے مرد کے ہیں۔"

تاہم سرورِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوسعید رضی اللہ عنہ کو لڑائی میں شریک ہونے کی اجازت نہ دی۔ خود حضرت مالک رضی اللہ عنہ بڑے جوش و خروش سے میدانِ رزم میں اترے اور دیر تک از خود رفتگی کے عالم میں دادِ شجاعت دیتے رہے۔ اسی اثناء میں انہوں نے دیکھا کہ سرورِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک زخمی ہو گیا ہے۔ دیوانہ وار آگے بڑھے، روئے انور سے بہتے ہوئے خون کو اپنے ہاتھوں پر لیا اور فرطِ عقیدت و ادب سے اس کو زمین پر پھینکنے کی بجائے پی گئے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر کوئی ایسے شخص کو دیکھنا چاہے جس کے خون میں میرا خون شامل ہے تو وہ مالک بن سنان رضی اللہ عنہ کو دیکھے۔

اس کے بعد حضرت مالک بن سنان رضی اللہ عنہ تلوار چلاتے ہوئے پھر مشرکوں کے ہجوم میں گھس گئے۔ غراب بن سفیان نامی ایک مشرک نے ان پر تاک کر حملہ کیا۔ اس کے وار سے زمین پر گر گئے اور اپنی جان جانِ آفرین کے سپرد کر دی۔

ابن اثیر رحمۃ اللہ علیہ نے "اسد الغابہ" میں لکھا ہے کہ حضرت مالک بن سنان رضی اللہ عنہ بڑے غیرت مند اور مستغنی المزاج تھے۔ کسی کے سامنے دستِ سوال پھیلانا ان کے لیے موجبِ ننگ و عار تھا۔ ایک مرتبہ تین دن تک بھوکے رہے لیکن کسی سے کچھ نہیں مانگا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ جس کسی کو عفیف المسالمہ شخص کو دیکھنا منظور ہو وہ مالک بن سنان رضی اللہ عنہ کو دیکھ لے