مکرمی مولانا محمد عطاءاللہ صاحب حنیف زید مجدکم السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!

مورخہ 16 اپریل سئہ 1982 کا پرچہ "الاعتصام" زیرِ نظر ہے۔ اس میں احکام و مسائل کے عنوان کے تحت سوال نمبر2 ہے۔ اس کے الفاظ حسب ذیل ہیں۔

اگر کوئی شخص اپنی زندگی میں اپنی جائیداد اپنے ورثاء میں تقسیم کر دے تو شرعا یہ جائز یا نہیں؟

اس کے جواب میں آپ نے تحریر فرمایا ہے:

"ہمارے زمانہ میں یہ نرواج عام ہوتا جا رہا ہے کہ زندگی میں اپنی جائیداد تقسیم کر دیتے ہیں لیکن صحابہ رضی اللہ عنھم، تابعین و ائمہ کے دور میں اس کا ثبوت نہیں ملتا ہے کہ کسی نے بھی اپنی زندگی میں جائیداد تقسیم کر دی ہو، بنا بریں صحیح طریقہ یہ ہے کہ شخص کے فوت ہونے کے بعد شرعی طریقہ پر اس کا مال تقسیم کیا جائے۔"

جہاں تک آپ کی رائے اور مشورہ کا تعلق ہے وہ اپنی جگہ پر ہے۔ "کتاب الام" کے جس باب سے آپ نے استدلال کیا ہے وہ محلِ نظر ہے، باب کے الفاظ یہ ہیں:

بَابُ مَنْ قَالَ لَا يُورِثُ اَحَدٌ حَتَّى يَمُوتُ

باب کا مطلب واضح ہے کہ کوئی شخص مورث نہیں بن سکتا جب تک وہ وفات نہ پا جائے۔ اسی طرح موت کے بغیر اس کے کسی قریبی کو اس کا وارث قرار دینا بھی صحیح نہیں اور نہ ہی زندگی میں مورث اور وارث کے اعتبار سے ان کے درمیان ورثہ منتقل ہو سکتا ہے۔ اس لیے کہ مورث اور وارث کا اطلاق موت کے بعد ہوتا ہے۔ موت سے پہلے نہیں ہوتا۔

باب کے ترجمہ میں امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے دو نہیں، بلکہ تین آیات اور ایک حدیث بیان کی ہے اور ان سے استدلال کیا ہے کہ موت کے بغیر کوئی شخص مورث نہیں ہو سکتا۔ یہ مفہوم اور معنیٰ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور لغتِ عرب سے منقول ہے۔ لہذا جو شخص زندہ رہتے ہوئے اپنی جائیداد اپنے اقرباء میں بحیثیت ان کے وارث ہونے کے ان کے درمیان تقسیم کرتا ہے وہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی مخالفت کرتا ہے۔ اس میں کسی کو اختلاف نہیں ہو سکتا مگر ہبہ کا مسئلہ اس سے مختلف ہے اگر کوئی شخص اپنی زندگی میں اپنے اقرباء کے درمیان جائیداد تقسیم کر دے جو اس کی موت کے بعد وارث ہونے کے اہل ہیں یا اہل نہیں تو شریعت کی طرف سے اس پر کوئی مواخذہ نہیں، بشرطیکہ ہبہ میں اس کی شرائط کو ملحوظ رکھا جائے۔ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے باب کا اطلاق اس پر نہیں ہوتا۔

نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کے والد بشیر نے جب اپنے ایک لڑکے کو غلام دے کر رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم کو گواہ بنانا چاہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا:

"اكل ولدك نحلت مثله"؟ یعنی "اس طرح باقی اولاد کو بھی عطیہ دیا ہے؟"

جواب ملا کہ "نہیں" آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جور و ظلم پر گواہ بننے سے انکار کر دیا اور فرمایا: "اعدلوا بين اولادكم" اور ایک روایت میں "سووا بين اولادكم" ہے یعنی "عطیہ کے وقت اولاد میں عدل اور برابری کرو۔"

اس حدیث سے دو باتیں معلوم ہوئین:

1۔ ہبہ اور وراثت کے احکام الگ الگ ہیں۔ ہبہ کا اطلاق زندگی میں اور وراثت کا اجراء موت کے بعد ہوتا ہے۔ نیز ہبہ اور وراثت کی تقسیم میں بھی جمہور ائمہ نے فرق بیان کیا ہے کہ ہبہ کی صورت میں لڑکی کا حصہ لڑکے کے حصہ کے برابر ہے۔ مگر وراثت کی صورت میں لڑکی کا حصہ لڑکے کے حصہ سے نصف ہے۔

2۔ نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کی حدیث سے جو دوسری بات واضح ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ انسان اپنی زندگی میں اولاد وغیرہ کے درمیان بصورتِ ہبہ جائیداد وغیرہ تقسیم کرنے کا مجاز ہے۔ شرط یہ ہے کہ اس کا مقصد کسی پر جور و ستم نہ ہو۔

حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بھی اپنی بیٹی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو کھجوروں کا ایک باغ ہبہ کیا تھا، یہ الگ بات ہے کہ قبضہ نہ کرنے کی بناء پر وفات سے پہلے، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے باگ کو واپس لے کر اپنی جائیداد میں شامل کر لیا تھا۔

ان واقعات کی روشنی میں اس بات سے انکار کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ انسان اپنی زندگی میں اپنی جائیداد اولاد وغیرہ میں بصورتِ ہبہ تقسیم کرنے کا مجاز ہے۔ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے باب کا تعلق ورثہ سے ہے، ہبہ سے نہیں ہے۔ آپ کے فتویٰ کی رو سے ہبہ کا انکار لازم آتا ہے جو احادیث کی روشنی میں درست نہیں۔