صفات کے سلسلے میں خطیب بغدادی کی اس بنیادی تحریر کو پیش نظر رکھنا چاہئے اور اسے اچھی طرح سمجھنا چاہئے، اس لیے کہ ہدایت و استقامت کی راہیں یہیں سے وا ہوتی ہیں۔ امام جوینی رحمۃ اللہ علیہ کو استواء نیز دیگر صفاتِ خداوندی میں جب مذہب سلف اپنانے کی توفیق و ہدایت ملی تو انہوں نے خطیب بغدادی رحمۃ اللہ علیہ کی انہی تحریروں پر اعتماد کیا تھا۔ علاوہ ازیں اس مسئلہ میں تمام اکابر محققین مثلا ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ اور ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ کے سرغنہ خطیب بغدادی ہی ہیں۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ رقمطراز ہیں:

حیاتِ خداوندی کے سلسلے میں شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ کا موقف:

"مسئلہ صفات میں وہی بات کہی جائے گی جو ذات کے سلسلے میں کہی جانی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات اور افعال میں اس کا نظیر کوئی نہیں ہے۔ جب اللہ تعالیٰ کی ایک ذاتِ حقیقی موجود ہے جو کسی بھی دوسری ذات کے مثل نہیں، تو پھر وہ ذاتِ بینظیر ایسی حقیقی صفات سے بھی متصف ہے جو دوسری ذاتوں کی صفات کی طرح نہیں۔"

اس لیے اگر کوئی یہ پوچھے کہ عرش پر اللہ کے استواء کی کیفیت کیا ہے؟ تو اسے وہی جواب دیا جائے گا جو امام ربیعہ رحمۃ اللہ علیہ اور امام مالک رحمۃ اللہ علیہ نے دیا تھا کہ "استواء کی ایک معلوم حقیقت ہے مگر اس کی کیفیت مجہول ہے، البتہ اس کی حقیقت پر ایمان لانا فرض ہے اور کیفیت سے متعلق پوچھ گچھ اور غور و فکر بدعت ہے اس لیے کہ یہ سوال ایک ایسی چیز سے متعلق ہے جو انسانی علم و ادراک کے حدود سے بالاتر ہے۔ اسی طرح اگر کوئی آسمانِ دنیا پر خدا کے نزول سے متعلق استفسار کرے تو اس سے کہا جائے گا کہ تم یہ بتاؤ کہ اللہ کی کیا کیفیت ہے؟ پھر جب وہ اس کے جواب میں کہے کہ ذاتِ خداوندی کی کیفیت کا علم ہمیں نہیں، تو ہمیں کہیں گے کہ اسی طرح اس کے نزول کی کیفیت کی بابت ہمیں کچھ پتہ نہیں، کیونکہ کیفیتِ صفت معلوم ہونے کے لیے، کیفیتِ موصوف کا علم ضروری ہے کہ صفت ذات کی فرع ہے اور جب ذاتِ خداوندی کی کیفیت کی بابت آپ کو کچھ علم نہیں تو پھر اس کے کان، آنکھ، استواء، نزول اور کلام کی کیفیت کے علم کی بابت آپ ہم سے کیوں مطالبہ کرتے ہیں؟ اور جب آپ یہ جانتے ہیں کہ اللہ کی ایک ذات ہے جو نفس الامر میں ثابت ہے اور صفات کمال کو مستلزم ہے۔ اس کی مانند کوئی چیز نہیں، تو پھر اسی طرح اللہ کا کان ، آنکھ، کلام اور نزول واستواء وغیرہ بھی نفس الامر میں ثابت نہیں اور اللہ ان صفات کمال سے متصف ہے جو مخلوق کے کان، آنکھ، کلام، نزول اور استواء وغیرہ کی مشابہت سے بالاتر ہیں۔"

اسی طرح شیخ الاسلام رحمۃ اللہ علیہ اپنے رسالہ "الحمویہ" کے صفحہ 99 پر مندرجہ بالا امور بالاختصار ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں:

"سلف کا مذہب تمثیل و تعطیل کے مابین ہے۔ جس طرح سلف اللہ کی ذات کو مخلوق کی ذات مانند نہیں مانتے، اس طرح اللہ کی صفات کو مخلوق کی صفات کے مثل نہیں گردانتے، ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کو یا رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے جن اوصاف سے متصف قرار دیا ہے، اس کی نفی کر کے اللہ کے اسمائے حسنیٰ اور صفاتِ عالیہ کی تعطیل بھی نہیں کرتے، نیز اللہ کے کلام میں تحریف اور نہ اللہ کے اسماء و آیات میں الحاد کے مرتکب ہوتے ہیں۔"

"معطلہ اور ممثلہ دونوں گروپ کے یہاں بیک وقت تعطیل و تمثیل موجود ہے، رہے معطلہ، تو ان کی عقل و فہم میں ایسے ہی اسماء و صفات آئے جن سے مخلوق متصف ہوتی ہے۔ اس لیے ان کی نفی و تعطیل شروع کر دی۔ اس طرح معطلہ نے گویا پہلے تمثیل کیا، پھر تعطیل کر کے دونوں جرائم کے مرتکب ہو گئے، کیونکہ ان لوگوں نے اللہ کے اسماء و صفات کے مفہوم کو مخلوق کے اسماء و صفات کے مفہوم سے تشبیہ دی اور اللہ تعالیٰ اپنی شان کے مطابق جن اسماء و صفات کا مستحق ہے، ان لوگوں نے ان اسماء و صفات سے اس کی تعطیل کر دی، مثلا اگر کوئی کہے کہ اللہ اگر عرش کے اوپر ہے تو لازما یا تو عرش سے بڑا ہو گا یا چھوٹا، یا پھر اس کے برابر ہو گا اور یہ تینوں صورتیں محال ہیں تو اس شخص نے عرش پر اللہ کے ہونے کا وہی مطلب سمجھا جو کسی جسم کے اوپر ہونے کا مطلب ہوتا ہے، اس لیے کہ اس طرح کے لوازمات اسی مفہوم کے تابع ہیں، رہا اللہ کے شایانِ شان مخصوص استواء تو اس سے ایسی باطل چیز لازم نہیں آتی جس کی نفی کرنی پڑے۔

بعینہ یہی حال ممثلہ کا ہے، یہ کہتے ہیں کہ جب دنیا کا ایک صانع اور کاریگر ہے تو وہ جوہر ہو گا یا عرض، اس لیے کہ ان کے علاوہ کوئی تیسری چیز سمجھ میں آہی نہیں سکتی۔ اسی طرح ممثلہ یہ کہتے ہیں کہ جب اللہ عرش پر مستوی ہے تو وہ استواء ایسے ہی ہے جیسے انسان چارپائی اور کشتی پر مستوی ہوتا ہے، اس لیے کہ استواء کا اس کے علاوہ کوئی دوسرا مفہوم نہیں معلوم، اس طرح سے دونوں گروہ (معطلہ، ممثلہ) نے بیک وقت اللہ کے اسماء و صفات کی تمثیل بھی کی اور تعطیل بھی البتہ فرق یہ ہے کہ معطلہ نے استواء کی بالکلیہ نفی کر دی اور ممثلہ وہ استواء ثابت مانتے ہیں جو مخلوق کے اوصاف و خصائص سے متعلق ہے۔

مگر صحیح موقف معتدل گروہ کا ہے جس کا خیال ہے کہ الہ عرش پر یوں مستوی ہے جو اس کے شایانِ شان ہے اور اس کے ساتھ خاص ہے جیسے اللہ ہر چیز کا علم رکھنے، ہر چیز پر قدرت رکھنے اور سمیع و بصیر ہونے سے متصف ہے مگر اللہ کے ان اوصاف قدرت و علم وغیرہ کے ثبوت کے لیے ان اعراض و خصائص کا اثبات جائز نہیں جو مخلوق کے اوصافِ قدرت و علم وغیرہ کے لئے ضروری ہوتے ہیں۔ اسی طرح اللہ عرش کے اوپر ہے، ساتھ ہی اللہ کی فوقیت کے لیے وہ خصائص و لوازمات ثابت نہ ہوں گے جو خصائص مخلوق پر مخلوق کی فوقیت کے ہوتے ہیں۔ اور معلوم ہونا چاہئے کہ عقلِ سلیم اور نہ ہی نقلِ صحیح میں سلفی مکتبِ فکر کی خلاف ورزی کی کوئی گنجائش موجود ہے۔" (کلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ ختم شد)

رہا صحیح نقلی دلائل کا معاملہ تو حافظ ذہبی رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب "العلو للعلی الغفار" کا موضوع ہی یہی ہے جس میں وہ نقلی دلائل فراہم ملیں گے جن سے آپ کو یقین ہو جائے گا کہ قرآن و حدیث کے نصوص نیز آثارِ سلف، سب کے سب عرش پر اللہ کے بذاتہِ مستوی ہونے، اپنی مخلوقات سے جداگانہ ہونے نیز اس کے علم کا اس کے ساتھ ہمہ وقت ہونے پر متفق ہیں۔ حافظ ذہبی رحمۃ اللہ علیہ کی اس کتاب میں دیکھیں گے کہ رائج مذاہب کے ائمہ، ان کے معتقدین پیروکار اور چھٹی صدی ہجری تک ان کے نقشِ قدم پر چلنے والے سبھی کے فتاویٰ اور افعال اس بات پر متفق ہیں کہ اللہ عرش کے اوپر مستوی ہے۔ یہ مسئلہ جس طرح متواتر احادیث سے ثابت ہے اسی طرح ائمہ سلف یعنی محدثین، فقہاء، مفسرین اور ائمہ لغت وغیرہ کا بھی اس پر اجماع ہے۔ ان ائمہ کے اسماء گرامی اور اس سلسلے میں ان سے مروی صحیح اقوال "مختصر العلو اللعلی الغفار" میں ملاحظہ کیے جا سکتے ہیں جن کی تعداد تقریبا دو سو ہے۔ جبکہ حقیقت میں ان کی تعداد کئی سینکڑوں تک جا پہنچتی ہے، مگر حافظ ذہبی رحمۃ اللہ علیہ صرف تقریبا دو سو ہی اقوال جمع کر سکے۔ لیکن پھر بھی اگر کوئی مخلص، طالبِ حق ان ائمہ کے یہ اقوال دیکھے تو اسے یقین ہو جائے گا کہ ان ائمہ سلف کا غلط چیز پر اجماع محال ہے، اور سمجھ جائے گا کہ ان کے موقف کی خلاف ورزی کرنے والا ہی گمراہی کا شکار ہے۔ حافظ ذہبئ رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب "صفات رب العالمین" (187/1-2) میں بعض آثارِ سلف ذکر کرنے کے بعد کیا ہی عمدہ بات کہی ہے، لکھتے ہیں:

"اگر ہم اثباتِ صفات کے سلسلے میں تمام ائمہ کرام سے منقول اقوال ذکر کرنے لگیں تو دفتر کے دفتر بھر جائیں اور جب مخالف کو ان مذکورہ ائمہ سلف سے ہدایت نہ مل سکے کہ وہ اقرار کرے کہ ان صفات کے بلا تاویل اثبات پر اجماع ہے یا پھر مؤلف کے نقل کرنے کی تصدیق ہی نہ کرے، بصورت دوم اللہ ہدایت نہ دے، بخدا اس شخص میں خیر نہیں، جو امام زہری متوفی سئہ 124ھ، مکحول متوفی سئہ 113ھ، اوزاعی متوفی 157ھ، سفیان ثوری متوفی 161ھ، لیث بن سعد متوفی 175ھ، مالک بن انس متوفی 179ھ، سفیان بن عیینہ متوفی 198ھ، عبداللہ بن مبارک متوفی 181ھ، محمد بن حسن متوفی 189ھ، امام شافعی متوفی 204ھ، حمیدی متوفی 219ھ، ابوعبیدالقاسم بن سلام متوفی 224ھ، احمد بن حنبل متوفی 241ھ، ابوعیسی ترمذی متوفی 279ھ، ابن سریج متوفی 306ھ، ابن جریر طبری متوفی 310ھ، ابن خزیمہ متوفی 311ھ، زکریا الساجی متوفی 307ھ، اور ابوالحسن اشعری متوفی 324ھ جیسے جلیل القدر ائمہ سلف کی تردید و تکذیب کر دے یا انہی ائمہ کی طرح اجماع کے قائلین ائمہ جیسے خطابی متوفی 388ھ ، ابوبکر اسماعیلی متوفی 371ھ، ابوالقاسم طبرانی متوفی 360ھ اور ابواحمد عسال متوفی 349ھ، نیز شیخ عبدالقادر جیلانی متوفی 562ھ کی تردید کرے جو لوگ کہ اصل مغز اور خلاصہ ہیں۔"

مذہب سلف عقل کی میزان پر:

ان جلیل القدر ائمہ اور ان کی تائید میں قرآن و سنت کے جو نصوص ہیں، ان کی صحت و حقانیت کی گواہی عقلِ سلیم بھی دیتی ہے، تفصیل ذیل کی سطور میں ملاحظہ فرمائیں۔

تمام مسلمانوں کا اتفاق ہے کہ اللہ ازل سے موجود تھا، اس کے ساتھ کوئی چیز نہیں تھی، نہ کرسی، نہ عرش، نہ زمین نہ آسمان، بعد ازاں اللہ نے مخلوق کو پیدا کیا جیسا کہ عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کی حدیث میں آئے گا۔

اور جب صورت حال یوں تھی، تو بلاشبہ اللہ نے یا تو مخلوق کو اپنی ذات کے اندر پیدا کیا ہے تو گویا مخلوق اللہ کی ذات کے اندر حلول پذیر ہے اور اللہ مخلوق کے اندر، اور یہ نظریہ سراسر کفر ہے، جو کوئی مسلمان نہیں مانتا، اگرچہ جہمیہ اور غالی قسم کے صوفیاء (جو کہتے ہیں کہ "اپنی آنکھ سے جو کچھ دیکھتے ہو وہ اللہ ہے") کے مسلک کا لازمی نتیجہ یہی ہوتا ہے۔

اور جب یہ کفر ہے تو اللہ کی مخلوق اللہ سے جدا ہو گی، مخلوق کا خدا سے اختلاط نہ ہو گا، اور اس صورت میں یا تو اللہ اپنی مخلوق کے اوپر ہو گا یا پھر مخلوق اللہ کے اوپر ہو گی اور یہ دوسری شکل بداہتا باطل اور غلط ہے تو اب صرف پہلی شکل باقی ہے یعنی اللہ مخلوق کے اوپر ہے۔۔۔ اور یہی مطلوب ہے۔۔۔ اور یہی نقطہ نظر کتاب و سنت، آثارِ سلف اور بعد کے ائمہ (مذاہب و اختصاصات کے اختلاف کے باوجود) کے اقوال سے قطعی الثبوت ہے، جیسا کہ حافظ ذہبی رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب "العلو للعلی الغفار" میں بالتفصیل ملاحظہ کر سکتے ہیں۔

منکرین استواء کے دو فریق:

اب یہاں جہمیہ اور ان سے متاثر اہل کلام کی ضلالت اور گمراہی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے جو اللہ کے مخلوق کے اوپر ہونے کے منکر ہیں۔۔۔ پھر یہ لوگ دو مذاہب میں تقسیم ہو گئے ہیں۔

پہلا مذہب:

جہمیہ کا ہے، ان کا مسلک یہ ہے کہ اللہ ہر مخلوق مکان میں ہے امام احمد بن حنبل نے ان لوگوں سے بڑے اچھے انداز میں مناقشہ کیا ہے اور ان کے معایب کی پردہ دری کی ہے۔

امام موصوف اپنے رسالہ "الرد علی الجہمیہ" میں لکھتے ہیں:

"اگر آپ اللہ کے سلسلے میں جہمیہ کے قول (اللہ ہر جگہ موجود ہے، یہ نہیں ہو سکتا کہ ایک جگہ ہو دوسری جگہ نہ ہو) کا بطلان و کذب معلوم کرنا چاہیں تو ان سے کہیں کہ کیا صرف اللہ ازل میں موجود تھا اور کوئی چیز نہیں تھی؟ تو جہمیہ اس کا جواب اثبات میں دیں گے، پھر آپ کہیں کہ اللہ نے جب شئی کو پیدا کیا تو اس شے کو اپنے نفس کے اندر پیدا کیا یا اپنے نفس سے خارج؟ اس کے جواب میں لا محالہ تین باتوں میں سے ایک بات کہیں گے:

1۔ (ا) یا تو یہ کہیں گے کہ اللہ نے مخلوق کو اپنے نفس کے اندر پیدا کیا، تو پھر وہ کافر ہوں گے، کیونکہ اس قول کے بموجب انسان، جنات، شیطان اور ابلیس سب کے سب اللہ کی ذاتِ اقدس کے اندر ہیں۔

(ب) یا پھر کہیں گے کہ اللہ نے مخلوق کو اپنے نفس سے خارج پیدا کیا ہے، پھر اللہ مخلوق کے اندر داخل ہو گیا، تو بھی کافر قرار پائیں گے، کیونکہ اس قول کے مطابق اللہ ہر گندی اور ناپاک جگہ میں پایا جاتا ہے۔

(ج) ورنہ پھر یہ کہیں گے کہ اللہ نے مخلوق کو اپنے نفس سے خارج پیدا کیا ہے اور پھر اللہ مخلوق میں داکل بھی نہیں ہوا۔ اس صورت میں جہمیہ گویا اپنے موقف سے کلی طور پر رجوع کر لیے، اس لیے کہ یہی اہل سنت کا موقف ہے۔

دوسرا مذہب:

علی کی غلو آمیز نفی کرنے والوں کا طبقہ ہے، یہ لوگ کہتے ہیں، اللہ اوپر ہے نہ نیچے، دائیں ہے نہ بائیں، آگے ہے نہ پیچھے، عالم کے اندر ہے نہ باہر۔

اس طبقہ کے بعض فلاسفہ اس کا بھی اضافہ کرتے ہیں کہ "نہ عالم سے متصل ہے، نہ عالم سے منفصل۔" (کلام امام احمد ختم شد)

اس نفی و انکار کا مطلب تو یہ ہوا کہ اللہ موجود ہی نہیں، اور یہی دراصل تعطیلِ مطلق اور تجد اکبر ہے۔ایسے ہی لوگوں سے محمود بن سبکتگین نے کیا ہی بہترین سوال کیا تھا کہ "ایسے اللہ اور معدوم کے درمیان فرق کر کے ذرا بتلاؤ۔"

اور امرِ واقعہ تو یہ ہے کہ اللہ کا عرش پر ہونے (یعنی صفتِ علو) کے جملہ منکرین کے لیے مندرجہ بالا دونوں مذاہب میں سے کسی ایک میں شمول لازم آ جاتا ہے۔ جیسا کہ مندرجہ بالا سطور میں بیان کیا گیا ہے۔

جہمیہ کا نظریہ اور آج کے مسلمان:

بڑے افسوس کا مقام ہے کہ پہلا مذہب آج بھی لوگوں کی زبان پر چڑھا ہوا ہے، کسی بھی ایسی محفل میں آپ جائیں جہاں اللہ کا ذکر ہو رہا ہو تو بہت سے لوگوں کو یہ کہتے ہوئے پائیں گے کہ "اللہ ہر جگہ موجود ہے" اللہ ہر وجود میں موجود ہے" چونکہ اس کلام میں اللہ کی طرف ایک ناجائز چیز کا انتساب ہے یعنی اللہ کا مخلوق کے لیے مظروف ہونا، ساتھ ہی عرش کے اوپر اللہ کے استواء کے بھی خلاف ہے۔ اس لیے جب آپ اس کلام یا جملہ کی تردید شروع کریں گے تو اس جملہ کی تاویل کی جائے گی کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ "اللہ کا علم ہر جگہ موجود ہے" گویا ان کا وہ جملہ قرآن کی کوئی آیت یا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی حدیث ہے جس کی تاویل ضروری ہے، یہ نہیں سوچتے کہ یہ جہمیہ اور معتزلہ کا قول ہے، جو لوگ اس کے ظاہری مفہوم پر بلا کسی تاویل کے عقیدہ و ایمان رکھتے ہیں ان حضرات سے یہ تاویل سن کر اچھائی کا گمان پیدا ہو گا مگر یہ خوش فہمی جلد ہی زائل ہو جائے گی، جب آپ انسان کا ایمان و معرفت الہی معلوم کرنے سے سلسلے میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول وہ سوال کریں گے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لونڈی سے پوچھا تھا کہ "بتاؤ، اللہ کہاں ہے؟" تو اس نے جواب دیا کہ "آسمان کے اوپر" پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، "اسے آزاد کر دو کیونکہ یہ مومنہ ہے۔" تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب اس انداز کا سوال ان عوام و خواص سے کریں گے تو ان کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جائیں گی اور لاعلمی کا اظہار کریں گے، گویا انہیں معلوم ہی نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی نے ہمیں سوال کا یہ انداز سکھلایا ہے، ساتھ ہی حیران و ششدر ہوں گے کہ کیا جواب دیں؟جیسے شریعتِ اسلامیہ میں اس مسئلہ کے بیان و توضیح سے تعرض ہی نہیں کیا گیا ہے۔ نہ قرآن میں نہ حدیث میں، حالانکہ قرآن و حدیث میں آسمان کے اوپر اللہ کے ہونے کی بے شمار دلیلیں موجود ہین۔ اسی ناتے جب اس باندی نے جواب میں کہا کہ "آسمان کے اوپر ہے" تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے ایمان کی شہادت دے دی، کیونکہ اس نے جواب میں وہی کہا تھا جو قرآن و حدیث میں معروف و مشہور ہے۔ پس ہلاک و برباد ہوں وہ لوگ، جن کے ایمان کی شہادت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نہ دیں، اور وہ لوگ جو اس چیز سے ناواقف ہوں کہ جسے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایمان کی علامت اور دلیل قررا دیا ہو۔ بخدا مسلمانوں کے لیے سب سے بڑا المیہ یہی ہے کہ مسلمان اپنے صحیح عقائد سے منھرف ہو گئے ہیں۔ وہ اس طرح کہ انہیں یہ پتہ ہی نہیں کہ ان کا وہ پالنہار کہاں ہے جس کی یہ پرستش کرتے ہیں اور جس کے سامنے اپنی جبینِ نیاز خم کرتے ہیں، آیا وہ اپنی مخلوق کے اوپر ہے یا نیچے؟ بلکہ یہ بھی نہیں جانتے کہ اللہ ان کے اندر موجود ہے یا ان کے باہر؟ حتی کہ بعض متقدمین کا یہ قول (ان لوگوں نے اپنا معبود ضائع کر دیا) ان مسلمانوں پر فِٹ ہونے لگا، مگر ان کے باوجود ان مسلمانوں کی ضلالت و گمراہی ان لوگوں سے فروتر ہے جو اللہ کے سلسلے میں یہ کہہ کر کہ نہ اوپر ہے نہ نیچے،نہ دائیں ہے نہ بائیں، نہ آگے ہے نی پیچھے، اس پر معدوم ہونے کا حکم لگا دیتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے بارے میں کچھ لوگوں کا یہ قول صادق آتا ہے کہ "معطلہ معدوم چیز کی پرستش کرتے ہیں اور مجسمہ بت کی پرستش کرتے ہیں" ان سے مراد نفی و تعطیل کرنے والے جہمیہ اور تمثیل کرنے والے وہ مجسمہ ہیں جو الہی صفات کو تمثیل و تجسیم کے ساتھ ثابت کرتے ہیں۔ حق مذہب دونوں کے درمیان ہے۔

اس اعتقادی مسئلہ کی اہمیت اور سنگینی، نیز ایک طرف اہل سنت کے مابین شدید اختلاف اور دوسری جانب جہمیہ اور معتزلہ وغیرہ منکرینِ صفات کے ساتھ اختلافات، یہاں تک کہ حافظ ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ نے "الجیوش الاسلامیہ" میں لکھا ہے:

"بلکہ اصحابِ حدیث اور جہمیہ کے درمیان جنگ، لشکرِ کفر و اسلام کے درمیان جنگ سے بھی اہم اور سخت ہے۔" (ص 96)

اسلامی عقائد اور عصرِ حاجر کے داعیان:

ان سب چیزوں کے باوجود عصر حاضر میں اسلامی دعوت کے اکثر و بیشتر علمبردار مسئلہ علو اور اس طرح کے دیگر اعتقادی مسائل کو کوئی اہمیت نہیں دیتے اور نہ ان مسائل کی کوئی پرواہ کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان داعیوں کے عام لیکچروں اور خصوصی مجلسوں میں ان مسائل کا ذکر سننے میں نہیں آتا، بلکہ لوگوں کے لیے صرف ایمان مکمل کافی سمجھتے ہیں۔ مثال کے طور پر رسالہ "باظن الاثم" کے مقدمہ میں محترم ڈاکٹر صاحب کو ملاحظہ فرمائیں۔ موصوف انتشار و افتراق کی شکار مسلم قوم کے لیے بزعمِ خویش علاج تجویز کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

"ہمارا خیال ہے کہ ہم سب مسلمان اللہ پر ایمان رکھتے ہیں کہ وہ تنہا معبود ہے، جس کا کوئی شریک نہیں، اس کے ہاتھ میں اختیار و بادشاہی ہے اور بری ہر چیز پر قادر ہے۔"

یقینا ہم سب مسلمان اللہ پر ایمان رکھتے ہیں۔ مگر مسلمانوں کے ایمان میں باہم شدید اختلاف ہے۔ اس کی واضح اور نمایاں مثال "مسئلہ علو" ہے۔ تو اگر محترم ڈاکٹر صاحب سلف کے طریقِ کار کے مطابق تشبیہ و تعطیل کے بغیر صفتِ علو پر عقیدہ رکھتے ہیں تو جن مسلمانوں کے سامنے موصوف یہ رسالہ پیش کر رہے ہیں، وہ مسلمان اس اعتقاد میں ان کے ساتھ متفق نہیں ہیں اور اگر محترم موصوف اس اعتقادی مسئلہ میں خود سلف کے ساتھ نہیں ہیں تو پھر ایسے ایمان سے کیا فائدہ ہو گا جو شریعت، خداوندی کے مخالف ہو، امام جوینی نے اللہ کی بعض صفات مثلا کان، آنکھ، کلام اور ہاتھ کا ذکر کرنے کے بعد اسی حقیقت کی طرف اپنے رسالہ "الاستواء والفوقیۃ" کے مقدمہ میں اشارہ کیا ہے:

"اللہ عرش پر مستوی ہے، پس وہ اپنی مخلوق سے الگ تھلگ ہے۔ اس سے مخلوق کی کوئی چیز پوشیدہ نہیں، علمِ وحی جملہ مخلوق کو محیط ہے، اس کی آنکھ سب کو دیکھ رہی ہے، اللہ کی ذات و صفات میں کوئی مخلوق اس کی مثل نہیں اور نہ اعضاء و جوارح سے اس کی تشبیہ دی جائے گی بلکہ تمام صفاتِ خداوندی، اس کی شان و عظمت کے مناسبِ حال ہیں۔ ان صفات کی کیفیت ہمارے خیال و گمان سے بالاتر ہے۔ نیز ان صفات کو دنیا میں انسانی آنکھیں دیکھ بھی نہیں سکتیں، بلکہ ان صفات کے حقائق اور ان کے ثبوت نیز رب تعالیٰ کا اُن سے متصف ہونے پر ہم ایمان رکھتے ہیں، ہم ان صفات کے سلسلے میں تاویل کرنے والوں کی تاویلات، منکرین کی تعطیل اور مشبہ ہونے کی تشبیہ و تمثیل کی سراسر نفی کرتے ہیں۔۔۔ تبارک اللہ احسن الخالقین۔"

"تو ہم اسی رب پر ایمان رکھتے ہیں اور اسی کی پرستش کرتے ہیں اور اسی کے لیے نماز پڑھتے ہیں اور اسی کے آگے سر جھکاتے ہیں لیکن اگر کسی کی عبادت کے پیش نظر وہ معبود ہو جس کی یہ صفات نہ ہوں تو ایسا شخص غیراللہ کی پرستش کرتا ہے اور اس کا وہ معبود اللہ نہیں ہو سکتا۔"

امام جوینی رحمۃ اللہ علیہ نے یہ بات اپنی جانب سے نہیں کہی ہے اور نہ منکرینِ صفات، الہیہ کی بابت یہ عادلانہ فیصلہ ازخود صادر کیا ہے بلکہ ائمہ سلف کے یہاں سے اخذ کیا ہے۔ حافظ ذہبی کی کتاب "العلو للعلی الغفار" میں عبداللہ بن مبارک رحمۃ اللہ علیہ متوفی سئہ 181ھ کے تذکرہ کے ضمن میں جہمیہ سے متعلق ان کا یہ قول موجود ہے:

"جہمیہ کا کہنا ہے کہ تمہارا وہ معبود جو آسمان میں ہے وہ کوئی چیز نہیں ہے۔"

اسی طرح عباد بن عوام رحمۃ اللہ علیہ متوفی 185ھ کے تذکرے کے ضمن میں ان کا یہ قول ہے:

"ان لوگوں (یعنی جہمیہ وغیرہ) کے نقطہ نظر کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ان کے بقول عرش کے اوپر کوئی چیز نہیں۔"

اسی طرح کے اقوال ائمہ سلف عبداللہ بن مہدی متوفی 198ھ، وہب بن جریر متوفی 206ھ، تعنبی 221ھ، ابومعمر القطیعی متوفی 236ھ وغیرہ سے بھی منقول ہیں، لیکن یہ ائمہ صفات سے لاعلمی کی صورت میں کسی کی تکفیر نہیں کرتے بلکہ صفاتِ الہیہ کا علم ہونے کے بعد ہی اس کی نوبت آتی ہے۔

اختلافی مسائل کے سلسلے میں دورِ حاضر کے علماء کا موقف:

اسی وجہ سے میں دورِ حاضر کے ان مسلم اربابِ قلم۔۔۔ الا ماشاءاللہ۔۔۔ پر سخت تنقید کرتا رہتا ہوں جو اسلام کی بابت، سلفی عقائد اور منہج محمدی کے علاوہ سب کچھ لکھتے ہیں۔ خاص طور سے وہ حضرات جو نئی نسل کی تعلیم و تربیت کا بیڑا اٹھائے ہوئےہیں، یہ لوگ قطعا یہ کوشش نہیں کرتے کہ اسلامی کے اختلافی امور و مسائل میں اپنے معانی و مفاہیم میں اتحاد پیدا کر لیں نہ کہ جس طرح بعض مغفل اور مغفل بننے والوں کا خیال ہے کہ مسلمانوں کے اختلافات اور فروعی مسائل تک محدود ہیں، اصولیات میں نہیں ہیں کیونکہ اصولیات اور عقائد میں اختلافات کی بے شمار مثالیں پائی جاتی ہیں جو مسلمان فرقوں یا موجودہ دور کے مسلمانوں کے افکار و نظریات کے واقف کار سے ہرگز مخفی نہیں۔ اس وقت مثال کے طور پر یہی مسئلہ علو کافی ہے جو ہمارے زیرِ بحث چل رہا ہے ہم لوگ تو سلف کا اتباع کرتے ہوئے صفتِ علو کے اعتبار پر قطعی ایمان رکھتے ہیں۔ مگر دوسرے لوگ اس کے منکر ہیں، یا پھر متکلمین سے متاثر ہو کر شک کا شکار ہیں جبکہ شک ایمانِ قطعی کے منافی ہے لیکن اس کے باوجود محترم ڈاکٹر صاحب کے کہنے کے مطابق ہم تمام مسلمان اللہ پر ایمان رکھتے ہیں۔۔۔ تو پھر حقیقی مومن کہاں ہیں؟ اس کا جواب ہرگروہ جماعت کی نظر میں معلوم و معروف ہے۔ اس وقت اس کا جواب دینا ہمارے زیرِ بحث نہیں ہے۔ جبکہ ہمارا مقصد تو یہ ہے کہ صرف فروع میں اختلاف ہونے کی بات کو باطل قرار دے دیا جائے اور مسلمان نوجوانوں کو دین کے اصول و فروع میں کتاب و سنت اور سلفِ صالح کے طریق کار کی روشنی میں تربیت دی جائے۔

میں تادمِ حیات وہ مناقشہ فراموش نہیں کر سکتا جو تقریبا دس سال پہلے مدینہ منورہ میں میرے اور ایک ایسے خطیب اور وعظ کے درمیان ہوا تھا جو صاحب صدر مجلس بن کر خود کلامی کے شوقین تھے۔ ایک مرتبہ جب کہ ہم لوگوں کا ایک شب سلفی طلباء کے ساتھ اجتماع تھا، موصوف تشریف لائے مگر مالک مکان کے علاوہ کسی نے اُن کی آمد پر تعظیما قیام نہ کیا۔ شیخ نے تمام شرکاء اجتماع سے دائیں جانب سے یکے بعد دیگرے مصافحہ کیا، مجھے یہ ادا بڑی پسند لگی۔ یہاں تک کہ میرے پاس پہنچے (میں سب سے اخیر میں بیٹھا تھا) تو میں نے شیخ موصوف کی پیشانی پر قیام نہ کرنے کی وجہ سے تکدر اور شکن محسوس کیا اس لیے میں نے مناسب سمجھا کہ موصوف کے اس تاثر پر ایک لطیف اشارہ کس دوں تو میں نے مصافحہ کرتے وقت شیخ سے ازراہِ مذاق کہا: "عَزِيْزٌ بِدُوْنِ قِيَامٍ يَا اُسْتَاذ" یعنی "قیامِ تعظیمی کے بغیر ہی آپ معزز ہیں استاذ" یہ جملہ اس طرح کی تقریبوں میں ہمارے یہاں شام میں کہا جاتا ہے، اس پر موصوف نے بیٹھتے ہوئے جبکہ غصہ و ناراضگی کے آثار موصوف پر نمایاں تھے، فرمایا:

"یقینا آنے والے کی تعظیم میں قیام کرنا بالکل خلافِ سنت ہے اور میں بھی اس مسئلہ میں تمہارا ہمنوا ہوں مگر ہم لوگ ایسے دور سے گزر رہے ہیں جس میں مسلمانوں کو ہر چہار جانب سے مختلف فتنوں نے آگھیرا ہے، ایسے فتنے جو ڈائریکٹ ایمان و عقیدہ پر اثر انداز ہو رہے ہیں، پھر شیخ موصوف نے اس کی تشریح میں لمبی چوڑی تقریر کی اور ملحدین، کمیونسٹوں اور نیشنلسٹوں وغیرہ کا ذکر کیا اور فرمایا کہ ضروری ہے کہ ہم لوگ اس دور میں ان ملحدوں کے مقابلہ کے لیے، ان کی جانب سے پیدا ہونے والے خطرات کو مسلمانوں سے دفاع کریں اور قیامِ تعظیمی نیز وسیلہ وغیرہ اختلافی مسائل میں بحث و مباحثہ ترک کر دیں۔"

اس پر میں نے کہا: "ذرا ٹھہرئیے محترم شیخ! ہر موقعہ و محل کے لیے کچھ موزوں کلام ہوتے ہیں۔ اس وقت ہم آپ کے ساتھ اس خوشگوار مجلس میں کسی خاص بحث کے لیے جمع ہوئے ہیں اور نہ ہی کمیونسٹ وغیرہ کی تردید جیسے اہم مسائل کے علاج کا پلان بنانے کی خاطر اکٹھا ہوئے ہیں،جبکہ آپ ابھی بیٹھے ہی نہیں ہیں پھر آپ کا اختلافی مسائل پر بحث نہ کرنے کا مطالبہ میرے خیال سے علی الاطلاق نہ ہو گا کیونکہ مسلمانوں کے اختلافات اعتقادی مسائل یہاں تک کہ "شہادۃ ان لا الہ الا اللہ" کے مفہوم میں بھی ہیں۔ آپ سے مخفی نہیں کہ اس دور کے اکثر علماء و مشائخ غیراللہ سے استغاثہ اور مُردوں سے مرادین مانگنا جائز قرار دیتے ہیں، جبکہ یہ چیزیں ہم سب کے نزدیک شہادتِ توحید کے مفہوم کے منافی ہیں۔ تو کیا آپ کا مطلب یہ ہے کہ ہم لوگ "شہادۃ ان لا الہ الا اللہ" کے معنی کی تصحیح کی بابت بھی بحث و مباحثہ نہ کریں؟

اس کے جواب میں شیخ نے فرمایا: "ہاں ، ہاں مسلمانوں کی منتشر ٹولیوں میں اجتماعیت پیدا کرنے اور کلمۃ المسلمین کے اتحاد کی خاطر اس پر بھی بحث و مباحثہ ترک کرنا ضروری ہے تاکہ خطرِ اکبر یعنی الحاد و بے دینی کا دفاع کیا جا سکے۔

پھر میں نے عرض کیا: "اس طرح کا تجمع، جو اقامتِ توحید اور شرک کے استیصال کی بنیاد پر نہ ہو، اگر حاصل بھی ہو جائے تو اس سے کیا فائدہ حاصل ہو گا؟ جبکہ آپ کو معلوم ہے کہ جاہلی دور میں عرب لوگ اللہ کی خالقیت پر ایمان رکھتے تھے، البتہ صرف اللہ کے معبودِ حق ہونے کے منکر تھے : ﴿إِنَّهُم كانوا إِذا قيلَ لَهُم لا إِلـٰهَ إِلَّا اللَّهُ يَستَكبِر‌ونَ ﴿٣٥﴾... سورةالصافات" (یعنی جب اُن سے کہا جائے کہ صرف اللہ ہی معبودِ برحق ہے تو تکبر و غرور کرتے ہیں) مگر کفارِ مکہ کا خالقیت خداوندی پر ایمان کچھ بھی مفید نہ ثابت ہو سکا اور نہ ہی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی محاربت سے انہیں نجات دلا سکا۔"

پھر موصوف فرمانے لگے: "اس وقت ہم، مسلمانوں کو کلمہ لا الہ الا اللہ کے جھنڈے تلے صرف جمع کرنا چاہتے ہیں۔"

میں نے کہا: "اگرچہ اس کے غلط مفہوم کے ساتھ؟"

تو کہنے لگے: "ہاں، ہاں اگرچہ غلط مفہوم ہی کے ساتھ کیوں نہ ہو۔"

دورِ حاضر کے داعیوں کی دعوت پر ایک نظر:

اس گفتگو سے موجودہ دور کے بہت سے مسلمان داعیوں کی حقیقتِ حال کا اندازہ ہوتا ہے اور دین فہمی میں مسلمانوں کے افتراق و انتشار کے سلسلے میں ان داعیوں کے منفی موقف کا پتہ چلتا ہے۔ یہ داعیانِ اسلام ان لوگوں کو جو ان کے ساتھ ہو جائیں، انہیں ان کے افکار و نظریات پر آزاد چھوڑ دیتے ہیں بغیر اس کے کہ انہیں کتاب و سنت کے علوم و دلائل کی روشنی میں۔۔۔ افکار و نظریات میں وحدت پیدا کرنے نیز غلط عقائد و نظریات کی تصحیھ پر آمادہ کریں، ان کی تمام تر توجہ صرف اس پر ہے کہ مسلمانوں کو اسلامی اخلاق کی طرف توجہ دلائیں اور کچھ دوسرے داعیان ہیں جن کا کام اپنے متبعین کی صرف سیاسی اور اقتصادی تربیت ہے۔ آج کل کے اکثر اہل قلم کی دعوت کا محور اسی انداز کی چیزیں ہیں، ان لوگوں میں کتنے بے نمازی ملیں گے مگر اس کے باوجود یہ سب لوگ اسلامی معاشرہ کی تشکیل اور حکومت الہیہ کے قیام کی کوشش کرتے ہیں، مگر صد افسوس کہ اس طرح کا اسلامی معاشرہ معرضِ وجود میں نہیں آ سکتا۔ جب تک اس کی تشکیل کے داعیان دعوت کا آغاز کتاب و سنت کے مطابق اس طرح سے نہ کرین جس طرح کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعوت الی اللہ سے آغاز کیا تھا۔

اور یہ بدیہی بات ہے کہ اس انداز کی اسلامی دعوت کا قیام ناممکن ہے جبکہ حدیث کے نام پر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف اور تاویل کے نام پر تفسیرِ قرآن کے خلاف مکر و سازش کے راستے سے بہت سی وہ چیزین اسلامی دعوت میں داخل ہو گئیں جن کا قطعا کوئی تعلق اسلام سے نہیں۔ لہذا ان دونوں سرچشموں (تفسیر، حدیث) کے تصفیہ کے لیے زبردست علمی اہتمام کی ضرورت ہے تاکہ اسلام کو اسلامی فرقوں میں مختلف افکار و نظریات اور منتشر عقائد سے پاک کیا جا سکے، مجھے یقین ہے کہ جو بھی دعوت تصفیہ کی اس صحیح بنیاد پر قائم نہ ہو گی (اسے اللہ کے سمردی دین کے شایانِ شان کامرانی نصیب نہ ہو گی)
حوالہ جات

1.التدمریہ ص19

2.آں حضرت سے مسئلہ استواء کے متواتر ثبوت کی تصریح حافظ ذہبی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب "صفات رب العالمین" (1/175/2) میں کی ہے

3.اس کتاب کا پورا نام "الاربعین فی صفات رب العالمین" ہے، اس کے پہلے جزء کا قلمی نسخہ ظاھریہ لائبریری دمشق میں موجود ہے۔ تفصیل کے لیے ملاحظہ فرمائیں۔ (ا) بشار عواد: الذہبی و نہجہ فی کتابہ، تاریخ الاسلام ، صفحہ 145-146 (ب) محمد ناصر الدین الالبانی: فہرست مخطوطات دارالکتب الظاہریہ، صفحہ 280 (ع)

4.امام ابوالحسن اشعری نے "مقالات الاسلامیین" کے صفحہ 212 میں بعض معتزلیوں کا بھی یہی مسلک بتایا ہے اور اپنی کتاب "الابانۃ" میں اپنے آپ کو اس مسلک سے بری قرار دیا ہے اور یقین و اذعان سے بتلایا ہے کہ اللہ اپنے عرش پر مستوی ہے جبکہ امام اشعری کی طرف آپ کو منسوب کرنے والوں کا عقیدہ اس کے برخلاف ہے۔

5.اجتماع الجیوش الاسلامیہ ص76،80، المعفۃ، مصنفہ شیخ عبدالکریم رفاعی۔

6.ملاحظہ فرمائیں "الجوہرۃ کے صفحہ 58 پر حاشیہ، بعض علماء کو منبر پر جمعہ کے دن جب کہ مسلمانوں کو ایمان باللہ کی تعلیم دے رہے تھے، یہی بات کہتے ہوئے میں نے خود سنا ہے۔

7.یعنی ڈاکٹر سعید رمضان البوطی ، جو ایک متشدد اور متعصب حنفی عالم ہیں۔ تقلید شخصی نہ کرنے کو اسلام کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھتے نہیں۔ (ع)