قیامِ زیست کا حاصل کہاں ہے
جنوں کا جلوہ پرور دل کہاں ہے
عطا وہ کر تو دین کونین لیکن
سزاوارِ کرم سائل کہاں ہے؟
تمہاری جلوہ سامانی ہو جس میں
سراسر عرش ہے وہ دل کہاں ہے؟
نظر الجھی ہوئی ہے وسعتوں میں
نہیں معلوم کچھ محمل کہاں ہے؟
نہیں منزل کوئی اس کی مقرر
"خدا جانے مقامِ دل کہاں ہے؟
ہوئے ہیں معتکف اس نقشِ پا کے
حدیث جادہ و منزل کہاں ہے؟
ہیں تاریکی میں گم سارے مسافر
قدم شائستہ منزل کہاں ہے؟
تمہارے حسن کا ایما اگر ہو
تو جاں دینا بہت مشکل کہاں ہے؟
جلا کر آنِ واحد میں جو رکھ دے
وہ برقِ آفتِ باطل کہاں ہے؟
اگر جذبہ ہو صادق دل کا تیرے
تو پردہ درمیاں حائل کہاں ہے؟