نو تشکیل شدہ اسلامی نظریاتی کونسل نے صدرِ مملکت کے استصواب پر مورخہ 13 جون سئہ 1981ء کو "اسلامی نظامِ مملکت متعلقہ عام انتخابات" پر غور کیا اور اس سلسلے میں وقتا فوقتا کونسل کے جو اجلاس منعقد ہوئے، ان میں اس موضوع پر تفصیلی اظہارِ خیال کے بعد بعض مقدمات بطور راہنما اصول طے کئے گئے ۔۔۔ بعد ازاں اس سلسلہ میں حسب ذیل سوالات مرتب کیے گئے:

1۔ اس وقت بالغ رائے دہی کی جو صورت دنیا میں رائج ہے، اسلامی نقطہ نظر سے قابلِ قبول ہے یا نہیں؟

2۔ کیا غیر مسلموں پر بھی اس کا اطلاق ہو گا؟

3۔ کیا عورتوں پر بھی اطلاق ہو گا؟

4۔ ازروئے اسلام عام حقِ رائے دہی پر کوئی پابندی عائد کی جا سکتی ہے یا نہیں؟

5۔ اگر پابندی عائد کی جا سکتی ہے تو وہ کیا پابندیاں ہوں گی؟

6۔ منتخب کیے جانے والے افراد، اربابِ حل و عقد کے اوصاف اور شرائطِ اہلیت کیا ہوں گے؟

7۔ رئیسِ مملکت کا طریقہ انتخاب کیا ہو گا؟

مندرجہ بالا سوالات پر غور کرنے کے بعد موضوع سے متعلق عام بحث کے دوران حسب ذیل اکیس نکات مرتب کیے گئے۔

1۔ اسلامی ریاست کی غرض و غایت اور اس کے مقاصد

2۔ بالغ رائے دہی

3۔ ووٹر (رائے دہندگان) کی عمر

4۔ عورتوں کا حق رائے دہی

5۔ غیر مسلموں کا حقِ رائے دہی

6۔ مجلسِ شوریٰ کی حیثیت

7۔ شرائطِ اہلیت مجلسِ شوریٰ

8۔ پارٹی سسٹم اور استخابات

9۔ یک ایوانی مقننہ یا دو ایوانی مقننہ؟

10۔ شرائط اہلیتِ صدر

11۔ صدر کا انتخاب براہِ راست یا بالواسطہ؟

12۔ شرائط نمائندگان

13۔ شرائط رائے دہندگان

14۔ نمائندگان کی عمر

15۔ جداگانہ انتخاب

16۔ انتخابی کالج (علاقہ واری، پیشہ ورانہ حلقہ رائے دہی)

17۔ کیا صدر شوریٰ کے فیصلوں کا پابند ہو گا؟

18۔ کیا صدر کی نامزدگی برائے انتخاب کے لیے کوئی ادارہ مختص کیا جائے؟

19۔ صدر کا انتخاب ایک مخصوص مدت کے لیے ہو گا یا تا حیات؟

20۔ نامزدگی صدر کے بعد انتخاب کا اختیار ایوان ہائے مرکزی و صوبائی کو ہو گا یا براہِ راست عوام کو ہو گا؟

21۔ امیدوار کا خود کو اپنےآپ کو پیش کر کے اپنے لیے کنویسنگ کرنا۔

کونسل اپنی حد تک ان نکات پر غور و خوض کر چکی تھی، جن کو رپورٹ کی شکل میں مرتب کر کے دسمبر سئہ 1981ء میں پیش کرنا طے کیا گیا تھا کہ مورخہ 12 نومبر سئہ 1981ء کو صدر صاحب نے کونسل کے ممبران سے خطاب کرتے ہوئے کونسل کو ہدایت کی کہ وہ اس مسئلہ میں اپنی سفارشات کو آخری شکل دینے سے پہلے ماہرین آئین، دانشور اور علماء حضرات سے بھی مشورہ کرے۔

چنانچہ کونسل نے اس سلسلہ میں علماء سے رابطہ قائم کیا اور ان کو یہ سوالنامہ مع نکات، پہنچانے کے ساتھ ساتھ ان سے یہ درخواست بھی کی کہ وہ اس سلسلہ میں اپنی رائے کونسل کو 31 جنوری سئہ 1982 تک پہنچا دیں۔

یہ سوالنامہ ادارہ "محدث" کو بھی موصول ہوا تھا، جس کے جواب میں مشہور محقق، اہل قلم مولانا عبدالرحمن کیلانی نے ان نکات پر کتاب و سنت کی روشنی میں انتہائی مفید اور سیر حاصل بحث کی ۔۔۔ ہم نے یہ مسودہ کونسل کو اس کی متعینہ تاریخ تک روانہ کر دیا تھا اور اب قارئین کے استفادہ کے لیے انہیں "محدث" کے فکر و نظر کے صفحات میں بھی جگہ دے رہے ہیں ۔۔۔ فالحمدللہ علی ذلک

واضح رہے کہ یہ جوابات کتاب و سنت ہی کی روشنی میں لکھنے کی ہدایت کی گئی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ (ادارہ)

(1)اسلامی ریاست کی غرض و غایت اور اس کے مقاصد

اسلام میں سیاسی تنظیم ایک اخلاقی بنیاد رکھتی ہے۔ یہاں ریاست کا قیام اصل مقصود نہیں بلکہ یہ کسی دوسرے عظیم مقصد کے حصول کا ذریعہ ہے۔ مثلا ایک غیر اسلامی ریاست کے قیام کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ پولیس اور عدالت کے ذریعہ امن بحال رکھا جائے، انتظامیہ کے ذریعہ کاروبارِ حکومت چلایا جائے اور فوج کے ذریعہ سرحدوں کی حفاظت کی جائے۔ ایک اسلامی ریاست یہ تمام ذمہ داریوں بھی پورا کرتی ہے اور یہ اس کا ثانوی فریضہ ہے، اس کے قیام کے اولین مقاصد یہ ہیں:

﴿الَّذينَ إِن مَكَّنّـٰهُم فِى الأَر‌ضِ أَقامُوا الصَّلو‌ٰةَ وَءاتَوُا الزَّكو‌ٰةَ وَأَمَر‌وا بِالمَعر‌وفِ وَنَهَوا عَنِ المُنكَرِ‌...﴿٤١﴾... سورةالحج

"وہ لوگ کہ جب ہم انہیں زمین میں حکومت عطا کریں تو وہ نماز قائم کرتے، زکوۃ ادا کرتے، نیک کاموں کا حکم کرتے اور برے کاموں سے روکتے ہیں۔"

مندرجہ بالا ارشاد ربانی میں نظامِ صلوۃ کو معاشرہ میں تقویٰ پیدا کرنے کے لئے، زکوۃ کو معاشی ناہمواریاں دور کرنے کے لیے، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کو معاشرہ سے فحاشی ختم کرنے، امن اور نظامِ عدل قائم کرنے، نیز معاشرہ کو اخلاقی بنیادوں پر استوار کرنے کے لیے تجویز فرمایا گیا ہے۔

اب بعض دوسرے احکامِ قرآنی بھی ملحوظ رکھے جائیں تو مختصرا ایک اسلامی ریاست کے اغراض و مقاصد مندرجہ ذیل سامنے آتے ہیں:

1۔ نماز اور زکوۃ کا نظام نافذ کیا جائے۔

2۔ ملک سے ظلم و جور ختم کر کے اسلامی عدل و انصاف قائم کیا جائے۔

3۔ فحاشی، بے حیائی اور بے ہودہ کاموں کی روک تھام کی جائے۔

4۔ اور جو باتیں اس نظام میں رکاوٹ کا سبب بنتی ہیں ان کو دور کیا جائے اور اسی کا نام جہاد ہے۔

5۔ اسلام کے پیغام کو دوسروں تک پہنچا کر انسانیت کی تعمیر اور عالمی نظامِ امن کے لیے تگ و دو کی جائے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نے حکومت کے انتظام و انصرام کو وہ اہمیت نہیں دی جو اخلاقی اقدار کو دی ہے۔ یہی اخلاقی بنیاد اسلامی طرزِ حکومت کو دوسری تمام اقسامِ حکومت سے ممتاز کرتی ہے۔ بالفاظِ دیگر جو ریاست مندرجہ بالا امور کو بُروئے کار نہیں لاتی۔ وہ اگرچہ نام کے لحاظ سے اسلامی ہو، وہ اسلامی کہلانے کے مستحق نہیں ہوتی۔

2۔ بالغ رائے دہی

اسلامی نقطہ نظر سے بالغ رائے دہی کا تصور موجودہ جمہوری تصور سے یکسر مختلف ہے۔ اس اختلاف کے مختلف پہلو درج ذیل ہیں:

ووٹ حق ہے یا ذمہ داری؟

موجودہ تصور کے لحاظ سے ووٹ ایک حق ہے جسے آدمی جس طرح چاہے استعمال کر سکتا ہے۔ کسی دوسرے کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ اس حقدار سے یہ پوچھے کہ تم نے اس حق کو کس چیز کی بنیاد قرار دے کر استعمال کیا؟ مثلا کسی حلقہ میں دس امیدوار کھڑے ہیں۔ ایک ووٹر اپنی مرضی سے کسی ایک نمائندہ کو اپنا ووٹ دے دیتا ہے تو کوئی شخص اس سے یہ نہیں پوچھ سکتا کہ اس نے اپنا ووٹ اسے کیوں دیا ہے، لیکن اسلام اس رائے دہی کو ایک ذمہ داری قرار دیتا ہے۔ نمائندہ کی اہلیت و صلاحیت بتلا کر ووٹر سے مطالبہ کرتا ہے کہ جس شخص میں وہ دیانتداری سے یہ یہ صفات دیکھے اور ان صفات میں وہ دوسروں سے آگے ہو، صرف اسے ہی ووٹ دیا جائے۔ ارشادِ باری ہے:

﴿إِنَّ اللَّهَ يَأمُرُ‌كُم أَن تُؤَدُّوا الأَمـٰنـٰتِ إِلىٰ أَهلِها...٥٨﴾... سورةالنساء

"اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں اس کے مستحق کے حوالے کرو۔"

اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

«المستشار مؤتمن»(متفق عليه)

"جس سے مشورہ طلب کیا جائے اسے امانتداری سے مشورہ دینا چاہئے"

ووٹر کی حیثیت بھی مستشار کی ہوتی ہے۔ وہ کسی ایک نمائندہ کو ووٹ دے کر اس بات کی عملی شہادت پیش کرتا ہے کہ واقعی وہی شخص اس امانت کی سپردگی کا اہل تھا۔ چونکہ اس لحاظ سے ووٹر کی دیانت کا امتحان ہوتا ہے لہذا یہ حق نہیں بلکہ ایک بھاری ذمہ داری بن جاتی ہے۔

2۔ ہر ووٹ کی یکساں قیمت

موجودہ تصور رائے دہی میں ہر رائے کی قیمت یکساں قرار دی گئی ہے۔ یہ نظریہ بھی اسلامی نقطہ نظر سے باطل ہے۔ ارشاد باری ہے:

﴿هَلْ يَسْتَوِى الَّذِيْنَ يَعْلَمُوْنَ وَالَّذِيْنَ لَا يَعْلَمُوْنَ﴾... سورة الزمر

"کیا عالم اور جاہل برابر ہو سکتے ہیں؟"

دوسرے مقام پر فرمایا:

﴿هَلْ يَسْتَوِى الْاَعْمىٰ وَالْبَصِيْرُ﴾... سورةالرعد

"کیا نابینا اور بینا برابر ہیں؟"

اور رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگِ بدر کے قیدیوں کے متعلق جب مجلسِ مشاورت قائم کی کہ ان کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی رائے یہ تھی کہ انہیں فدیہ لے کر چھوڑ دیا جائے، اور اکثر صحابہ رضی اللہ عنھم حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ہمنوا تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس رائے سے اختلاف کیا اور کہا کہ میری رائے یہ ہے کہ ان سب کو تہ تیغ کر دیا جائے۔ چند صحابہ اس رائے کے بھی ہمنوا تھے۔ خود رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی رائے بھی وہی تھی جو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی تھی لیکن اس کے باوجود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو مخاطب کر کے فرمایا:

«لَوِاجْتَمَعْتُمَا مَا عَصَيْتُكُمَا»(در منثور ج3 ص202)

"اگر تم دونوں اس رائے پر متفق ہو جاتے تو میں اس کے خلاف نہ کرتا۔"

اس سے واضح ہوتا ہے کہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر میں ان دو اصحاب رضی اللہ عنھم کی رائے باقی صحابہ رضی اللہ عنھم کے مقابلہ میں زیادہ قدر و قیمت رکھتی تھی۔

3۔ ہر بالغ کا حق رائے دہی: موجودہ دور میں ہر بالغ کو یہ حق دیا جاتا ہے۔ اگر کسی بالغ کا نام فہرست رائے دہندگان میں چھپنے سے رہ جائے تو وہ قانونی طور پر اس پر گرفت کر سکتا اور اس حق کا مطالبہ کر سکتا ہے۔ اسلامی نقطہ نظر سے یہ تصور بھی یکسر باطل ہے کیونکہ قرآنِ کریم نے بے شمار مقامات پر معاشرہ کی اکثریت کو جاہل، ظالم اور فاسق قرار دیا ہے، جن سے رائے لینا یا ان آراء پر عمل پیرا ہونا ایک گمراہ کن امر ہے۔ ارشاد باری ہے:

﴿وَإِن تُطِع أَكثَرَ‌ مَن فِى الأَر‌ضِ يُضِلّوكَ عَن سَبيلِ اللَّهِ...﴿١١٦﴾... سورةالانعام

"اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم! اگر آپ لوگوں کی اکثریت کے پیچھے لگیں گے تو وہ آپ کو اللہ کی راہ سے بہکا دیں گے۔"

اس آیت نے معاشرہ کی اکثریت کو حق رائے دہی سے خارج قرار دے دیا ہے۔

اب اگر عقلی لحاظ سے دیکھا جائے تو بھی یہ ہر بالغ کے حق رائے دہی کا اصول باطل ثابت ہوتا ہے۔ اگر آپ اپنے کسی ذاتی معاملہ میں مشورہ کرنا چاہیں تو ہرکس و ناکس سے رائے نہیں لیتے۔ بلکہ صرف اس شخص کو مشورہ کا مستحق سمجھتے ہیں، جو معاملہ فہم اور سمجھدار ہو اور یہ تو ظاہر ہے کہ کسی بھی معاشرہ میں ذی شعور اور دانشمندانہ طبقہ کی تعداد قلیل ہی ہوا کرتی ہے اور یہی لوگ فی الحقیقت رائے دینے کے اہل ہوتے ہیں۔ ارشاد باری ہے:

﴿إِنَّ اللَّهَ يَأمُرُ‌كُم أَن تُؤَدُّوا الأَمـٰنـٰتِ إِلىٰ أَهلِها...﴿٥٨﴾... سورةالنساء

"اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں اس کے اہل کے حوالے کرو۔"

اب اگر کسی ووٹر کو یہ شعور ہی نہ ہو کہ نمائندہ کی اہلیت کیا ہے تو اسے ووٹ یا رائے دینے کا حق کیونکر دیا جا سکتا ہے؟

یہی وجہ ہے کہ خلفائے راشدین کے انتخاب میں موجودہ مقصود بالغ رائے دہی مفقود نظر آتا ہے۔

عموما یہ کہہ دیا جاتا ہے کہ عہدِ نبوی یا خلفائے راشدین رضی اللہ عنھم میں براہ، راست یا بالواسطہ انتخاب کا کوئی باضابطہ نظام موجود نہ تھا، لہذا مدینہ میں موجود بزرگ صحابہ رضی اللہ عنھم ہی (جو تمام عرب قبائل کے نمائندہ کی حیثیت رکھتے تھے) خلیفہ کے انتخاب میں حصہ لیتے رہے۔

یہ بات بھی حقیقت کے خلاف ہے۔ مسلمانوں کی باقاعدہ مردم شماری کا رواج تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں پڑ چکا تھا جیسا کہ مندرجہ ذیل حدیث سے واضح ہے:

«عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ قَالَ النَّبِىُّ صَلَى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اُكْتُبُوْالِى مَنْ تَلَفَّظَ بِالِاسْلَامِ مِنَ النَّاسِ- فَكَتَبْنَا لَهُ اَلْفاً وَخَمْسَ مِائَةٍ»(بخارى)

"حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں، ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ " ہر وہ شخص جس نے اسلام کا کلمہ پڑھا ہے ان کے نام لکھ کر مجھے دئیے جائیں۔" سو ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے فہرست تیار کی تو ایک ہزار پانچ سو ہوئے۔"

اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں تو مردم شماری کا الگ محکمہ بھی قائم ہو گیا تھا۔ اگر بالغ رائے دہی فی الواقع کوئی پسندیدہ چیز تھی تو کسی بھی دور میں ان رجسٹروں سے کیوں نہ کام لیا گیا جبکہ انتخابی فہرستیں پہلے ہی موجود تھیں؟

4۔ رائے دہی اور کثرت رائے

موجودہ دور میں کسی امر کے فیصلہ کا طریقِ کار یہ ہوتا ہے کہ ہر ووٹر یا ممبر سے ووٹ لیا جائے، ان سب ووٹوں کی قیمت یکساں سمجھی جائے، بعد میں گنتی کی جائے، جس طرف ووٹ زیادہ ہوں اس کے حق میں فیصلہ کر دیا جائے۔ اب یہ معاملہ خواہ صدرِ مملکت کے انتخاب سے تعلق رکھتا ہو یا کسی اور عہدہ کے انتخاب سے، خواہ کسی انتظامی معاملہ سے تعلق رکھتا ہو یا قانون سازی سے، ہر جگہ یہی اصول کارفرما نظر آتا ہے۔ اسلامی نقطہ نظر سے کثرتِ رائے سے فیصلہ کا اصول ایک ثانوی یا اضطراری حیثیت رکھتا ہے، صدرِ مملکت یا کسی دوسرے عہدیدار کے انتخاب کے وقت کثرتِ رائے کی بجائے اس شخص کی اہلیت کو مدِ نظر رکھا جاتا ہے۔ انتظامی امور اور ذیلی قانون سازی کے وقت "دلیل کی تلاش" کی جاتی ہے اور اس کی بہت سی مثالیں ہم اپنی کتاب "خلافت و جمہوریت" کے "حصہ دوم" میں پیش کر چکے ہیں۔

اب اگر کسی معاملہ کے دو یا دو سے زیادہ پہلو ہوں اور دلائل کا وزن ہر طرف یکساں ہو، یا کسی طرف کوئی بھی دلیل نہ ہو تو اس وقت کثرتِ رائے کے اصول پر فیصلہ کرنے کا سہارا لیا جاتا ہے۔ کثرتِ رائے سے فیصلہ کا فائدہ صرف یہ ہے کہ اس سے نزاع کا فیصلہ ہو جاتا ہے لیکن وضوحِ حق سے اس کا کچھ تعلق نہیں ہوتا، اس کی مثال بالکل ایسے ہی سمجھیے جیسے کسی نزاع کا فیصلہ قرعہ اندازی سے کرایا جاتا ہے۔

غیر مسلم اقوام کی مجبوری یہ ہے کہ ان کے پاس سرے سے دلیل یا اس کے ماخذ اپنی اصلی صورت میں موجود ہی نہیں یا وہ ان سے باغی ہو چکے ہیں لیکن مسلمانوں کے پاس بحمداللہ کتاب و سنت اپنی اصلی شل میں موجود ہیں، اور یہی دلیل کے ماخذ ہیں۔ پھر مسلمان ان سے بحمداللہ باغی بھی نہیں ہے۔ تو پھر آخر بالغ رائے دہی کے ذریعہ کثرتِ رائے پر فیصلہ کے اصول کو کیوں اپنایا جائے؟

5۔ فیصلہ کے وقت میر مجلس کے اختیارات

موجودہ دور میں فیصؒہ کثرتِ رائے کے اصول پر ہوتا ہے۔ میر مجلس محض بے اختیار ہوتا ہے، یا زیادہ سے زیادہ اس کی رائے کی قیمت دو آراء کے برابر قرار دی جاتی ہے۔ اسلامی نقطہ نظر سے یہ اصول بھی غلط ہے۔ اللہ تعالیٰ نے رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مسلمانوں سے مشورہ کا حکم دیا تو فرمایا:

﴿وَشاوِر‌هُم فِى الأَمرِ‌ ۖ فَإِذا عَزَمتَ فَتَوَكَّل عَلَى اللَّهِ...﴿١٥٩﴾... سورة آل عمران

"اور اپنے کاموں میں ان سے مشورہ لیجئے، پھر جب کام کا عزم کر لیں تو اللہ پر بھروسہ رکھیے"

اس آیت میں " عَزَمتَ " کے الفاظ سے یہ بالکل واضح ہے کہ آخری فیصلہ کا اختیار آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا گیا ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں فیصلہ میر مجلس کے بجائے کثرتِ رائے کی بنیاد پر درست ہوتا تو آیت مذکورہ کے الفاظ مندرجہ ذیل دو صورتوں میں سے کسی ایک طرح پر نازل ہونے چاہئے تھے:

﴿ وَشاوِر‌هُم فِى الأَمرِ‌ ۖ فَإِذا عَزَمُوْا فَتَوَكَّل عَلَى اللَّهِ ﴾

"ان مسلمانوں سے اپنے کام میں مشورہ کیجئے۔ پھر جب وہ کام کا عزم کر لیں تو اللہ پر بھروسہ کیجئے۔"

یا

﴿وَشَاوِرْهُمْ فِى الْاَمْرِ وَاتَّبِعَ اَكْثَرَهُمُ وَتَوَكَّلْ عَلَى اللهِ﴾

"ان مسلمانوں سے اپنے کام میں مشورہ کیجئے، پھر کثرتِ رائے کو تسلیم کیجئے اور اللہ پر بھروسہ کر کے کام کر ڈالیے۔"

بلکہ اس سے آگے مجھے یہ کہنے میں بھی باک نہیں کہ اگر کثرتِ رائے ہی معیارِ حق ہوتا تو انبیاء علیھم السلام کی بعثت یا نزولِ وحی کی ضرورت ہی نہ تھی۔ مشورہ میں اقرب الی الحق کی تلاش کی جاتی ہے۔ اب ایسی دلیل اگر اقلیت کے پاس ہو تو فیصلہ اسی کے مطابق ہونا چاہئے۔ جنگِ بدر کے قیدیوں کے متعلق آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشورہ کے بعد فیصلہ اپنے طبعی رجحان اور کثرت رائے کے مطابق دیا تو اس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے گرفت ہوئی کیونکہ ان حالات میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی رائے اقرب الی الحق تھی۔ اس واقعہ سے دو باتیں ثابت ہوتی ہیں۔

1۔ فیصلہ کے وقت اللہ کی منشا یا دلیل کی تلاش کرنا چاہئے، اسے کثرتِ رائے پر نہ چھوڑنا چاہئے۔

2۔ اگر میر مجلس کسی وقت غلط فیصلہ بھی کر دے تو بھی اسی سے آخری فیصلہ کا اختیار چھینا نہیں جا سکتا۔

اقلیت تو در کنار اگر تمام تر کثرت کے مقابلہ میں صرف ایک آدمی کی رائے ہی اقرب الی الحق ہو تو میر مجلس اسی کے مطابق فیصلہ کرنے کا پورا اختیار رکھتا ہے۔ اس کی مثال حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا مرتدین سے نپٹنا اور جیشِ اسامہ رضی اللہ عنہ کو روانہ کرنا ہے۔ جس کی تفصیل ہم مذکورہ بالا کتاب میں پیش کر چکے ہیں۔

3۔ ووٹرز (رائے دہندگان) کی عمر

ووٹر کے لیے عمر کی کوئی قید نہیں الا یہ کہ وہ بالغ ہو۔ کچھ آدمی جلد بالغ ہو جاتے ہیں۔ کچھ ذرا دیر سے ہوتے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی عمر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے وقت صرف تیرہ یا چودہ سال تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ رائے تو درکنار فتویٰ بھی دیا کرتے تھے۔ حکومتِ وقت اگر انتظامی امور کا لھاظ رکھتے ہوئے اور لوگوں کی عمرِ بلوغت کی اوسط کا لحاظ رکھتے ہوئے کوئی حد مقرر کر بھی دے تو اس میں چنداں مضائقہ نہیں۔

پھر جب انسان بڑھاپے کی وجہ سے حواس کھو بیٹھے اور ذہول کا شکار ہو جائے تو اس سے رائے لینے کی کوئی معقول وجہ نظر نہیں آتی۔ اگر ایسی صورت تا حینِ حیات واقع نہ ہو تو اس سے رائے لینے میں کوئی حرج نہیں۔

4۔ عورتوں کا حقِ رائے دہی

یہ تو سب اہل علم خوب جانتے ہیں کہ اسلام نے عورت کو سیاست و امارت کی ذمہ داریوں سے سبکدوش کر دیا ہے اور عورت و مرد کا دائرہ کار الگ الگ مقرر کر دیا ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ اور فاطمہ رضی اللہ عنہا کے درمیان گھریلو کاموں کی سر انجام دہی کے سلسلہ میں جھگڑا پیدا ہوا تو رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فیصلہ فرمایا تھا کہ گھر کے اندر کے کام تو فاطمہ رضی اللہ عنہا سر انجام دے اور گھر کے باہر کے کام علی رضی اللہ عنہ۔ عورتوں سے جہاد کی فرضیت کو بھی ساقط قرار دیا گیا ہے۔ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے ایک استفسار کے جواب میں یہی فرمایا تھا کہ "عورتوں کا جہاد حج ہے۔" (بخاری) اہلِ فارس نے کسریٰ کی بیٹی پوران دخت کو، جو نوشیرواں کی بیٹی اور شیرویہ کی بہن تھی، اپنا بادشاہ بنا لیا، جب رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خبر پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "وہ قوم کیسے فلاح پا سکتی ہے جس نے ایک عورت کو اپنا سر براہ بنا لیا ہے؟" (بخاری) ایک دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں بھی فرمایا کہ:

«إِذَا كَانَ أُمَرَاؤُكُمْ خِيَارُكُمْ وَأَغْنِيَاؤُكُمْ سُمَحَاءُكُمْ وَأَمْرُكُمْ شُورَى بَيْنَكُمْ فَظَهْرُ الْأَرْضِ خَيْرٌ لَكُمْ مِنْ بَطْنِهَا ، وَإِذَا كاَنَ أُمَرَاؤُكُمْ شِرَارَكُمْ وَأَغْنِيَاؤُكُمْ بُخَلاءَكُمْ وَأُمُورُكُمْ إِلَى نِسَائِكُمْ فَبَطْنُ الْأَرْضِ خَيْرٌ لَكُمْ مِنْ ظَهْرِهَا »(ترمذى-باب تغير الناس)

"جب تمہارے حکمران اچھے لوگ ہوں اور تمہارے دولت مند سخی ہوں اور تمہارے معاملات باہمی مشورے سے طے پائیں تو تمہارے لیے زندگی موت سے بہتر ہے، مگر جب تمہارے حکمران بدکردار ہوں اور دولت مند بخیل ہوں اور تمہارے معاملات بیگمات کے حوالے ہوں تو تمہاری موت تمہاری زندگی سے بہتر ہے۔"

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ان سب ارشادار سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام نے عورت کو سیاست و امارت کے میدان میں نکلنے کی اجازت نہیں دی۔ یہ وجہ ہے کہ ہمیں دورِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم یا خلفائے راشدین میں ایک بھی مثال ایسی نہیں ملتی کہ کسی عورت کو سربراہِ مملکت تو درکنار کسی کلیدی آسامی پر بھی فائز کیا گیا ہو، اور اس کی وجوہ درج ذیل ہیں:

1۔ اسلام نے عائلی نظام پر بھرپور توجہ دی ہے، لہذا عورت کی اصل ذمہ داری، بال بچوں کی صحیح تربیت قرار دی گئی ہے۔

2۔ عورت کو حمل اور وضع حمل، حیض اور نفاس کے مراحل سے گزرنا پڑتا ہے۔ ان ایام میں اس کے احساسات و جذبات کا اعتدال پر رہنا ناممکن ہوتا ہے۔ وہ مہمات امور کی طرف توجہ دینے سے قاصر ہوتی ہے۔

3۔ عورت فطری طور پر بھی انفعال پذیر واقع ہوئی ہے۔ وہ کسی اہم معاملہ میں اعتدال پر رہنے کی بجائے فوری اثر قبول کر جاتی ہے۔

4۔ جسمانی ساخت کے لحاظ سے عورت مرد کی نسبت کمزور واقع ہوئی ہے۔ اس کی طبیعت، شجاعت اور تہور کی بجائے رحم و کرم کی طرف زیادہ مائل ہوتی ہے۔

اب مشکل یہ آن پڑی ہے کہ عہدِ حاضر نے ہر میدان میں عورت کو مرد کے برابر لا کھڑا کیا ہے عورتوں کو زیادہ سے زیادہ حقوق دینے پر زور دیا جا رہا ہے اور ان کے عالمی سال اور ہفتے منائے جا رہے ہیں۔ ان کے حسن کی نمائش کے مقابلے برپا کیے جا رہے ہیں۔ کھیلوں کے میدان میں انہیں برابر کا شریک کیا جا رہا ہے۔ گھر کی چار دیواری کو ظالمانہ قید سے تشبیہ دے کر مخلوط ادارے قائم کیے جا رہے ہیں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ عورت کو سیاسی لحاظ سے صرف ووٹ دینے کا ہی مساوی حق نہیں بخشا گیا بلکہ وہ ہر قسم کی کلیدی آسامی حتی کہ صدرِ مملکت کی کرسی پر براجمان بھی ہو سکتی ہے۔

ان حالات میں ہمیں سنجیدگی سے غور کرنا ہے کہ اسلام نے گھر سے باہر عورت کو کیا کچھ کرنے کی اجازت دی ہے؟

1۔ عورت کام کاج کے سلسلے میں باہر جا سکتی ہے لیکن پردہ کے ساتھ۔ تبرجِ جاہلیت کی یہاں کوئی گنجائش نہیں۔

2۔ اگر مردوں کی کمی ہو تو عورتوں کو میدانِ جہاد میں شریک بھی کیا جا سکتا ہے اور وہ خود بھی شریک ہو سکتی ہیں، لیکن ان کا کام زخمیوں کی مرہم پٹی، مریضوں کی تیماداری، فوجیوں کے لیے خوراک کی تیاری اور سامان کی فراہمی تک ہی محدود رہے گا، وہ باقاعدہ لڑائی میں حصہ نہیں لیں گی۔ جیسا کہ غزوہ احد کے دوران بعض واقعات ملتے ہیں (بخاری) اگر مردوں کی کمی نہ ہو تو اس صورت میں عورت کی جہاد میں شمولیت کو ناپسند کیا گیا ہے۔ جنگِ خیبر کے دوران از خود ہی چند عورتیں شریکِ سفر ہو گئیں۔ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو علم ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کو ناگوار محسوس فرمایا، انہیں بلا کر ان سے شرکت کی وجہ پوچھی گئی تو انہوں نے کہا، "ہم نے سوت کات کر کچھ رقم اکٹھی کی اور ہمارا ارادہ تھا کہ جہاد میں شامل ہو کر زخمیوں کی مرہم پٹی اور تیماداری کریں گی۔" آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں واپس نہیں کیا بلکہ اموالِ غنیمت میں سے بھی تھوڑا بہت حصہ انہیں دے دیا۔ (ابوداؤد)

3۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے انتخاب کے دوران حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے بھی مشورہ لیا تھا۔ ایسے ہی کئی صحابہ رضی اللہ عنہم حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے دینی مسائل پوچھتے تھے اور ان سے اپنے امور میں مشورہ بھی لیتے تھے، تاہم یہ یاد رہنا چاہئے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کسی وقت بھی مجلسِ شویٰ کی ممبر نہیں بنائی گئیں۔

4۔ عورتوں کے مخصوص معاملات میں ان کی رائے یا شہادت پر انحصار کیا جا سکتا ہے۔ بچہ کی پیدائش کے معاملہ میں دایہ کی شہادت کسی دوسرے مرد کے مقابلہ میں زیادہ وقیع سمجھی جائے گی۔

5۔ چھوٹے بچوں کی تربیت کا فریضہ عورت مرد کی نسبت بہتر طور پر سر انجام دے سکتی ہے۔

6۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے جنگِ جمل میں ایک فریق کے طور پر حصہ لیا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان کے متعلق فرمایا:

«فانّك خرجت غاضبة للَّه و لرسوله تطلبين أمرا كان عليك موضوعا ، ما بال النساء و الحرب و الاصلاح بين الناس»

"آپ اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم (کے احکام یعنی قصاص حضرت عثمان رضی اللہ عنہ) کے لیے غضبناک ہو کر ایک ایسے معاملہ کے لیے نکلی ہیں جس کی ذمہ داری سے آپ سبکدوش تھیں۔ بھلا عورتوں کا جنگ اور لوگوں میں مصالحت سے کیا تعلق"؟

گویا حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بھی یہ بات بخوبی معلوم تھی کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا اس شمولیت سے مقصد سیاسی امور میں شرکت نہیں تھا بلکہ محض قصاصِ عثمان رضی اللہ عنہ کا مطالبہ تھا۔ اس کے باوجود حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کے اس طرح گھر سے باہر نکلنے اور لڑائی میں حصہ لینے کو پسند نہیں فرمایا۔

اور حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ جو اس جنگ میں غیر جانب دار تھے اور جنہیں خود رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نیک بخت کہہ کر پکارا تھا (بخاری، کتاب المناقب) کی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی جنگ میں شمولیت کے متعلق یہ رائے تھی:

«ان بيت عائشة خير لها من هو دجها»

"حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا گھر ان کے لیے ہودج سے بہتر تھا۔"

یہ ہیں وہ واقعات جن سے ہم زیادہ سے زیادہ عورتوں کے حقوق کی گنجائش نکال سکتے ہیں اور وہ ہمارے خیال میں یہ ہیں:

1۔ انتخابِ امیر میں ووٹ کا حق تو اسلام نے سب مردوں کو بھی نہیں دیا، عورتوں کو کیسےدیا جا سکتا ہے؟

2۔ جن عورتوں میں مشورہ دینے کی صلاحیت موجود ہو؟ ان سے رائے لی جا سکتی ہے لیکن انہیں پولنگ سنٹر پر حاضر ہونے کی تکلیف نہیں دی جائے گی، بلکہ ان کے گھر پر ان سے مشورہ کا انتظام کیا جائے گا۔

3۔ ایسے ادارے جن کا تعلق عورتوں یا بچوں کے مسائل سے ہو، مثلا "بہبود اطفال و نسواں" کلی طور پر عورتوں کی تحویل میں دیے جا سکتے ہیں۔ جہاں وہ آپس میں انتخاب بھی کر سکتی ہیں۔ اسی طرح تعلیم کے لیے عورتوں کے الگ ہسپتال بھی بنائے جا سکتے ہیں خواہ یہ ادارے حکومت کی تحویل میں ہوں یا نجی طور پر کام کر رہے ہوں۔

4۔ کسی بھی میدان میں عورتوں اور مردوں کے اکتلاط کو برداشت نہیں کیا جا سکتا۔

ان نتائج کی روشنی میں ہمیں عورت کے ووٹ کے اس حق کی کوئی ضرورت نظر نہیں آتی، جو موجودہ انتخابات میں پائی جاتی ہے۔

عموما یہ بھی کہا جاتا ہے کہ مسلمانوں میں بھی کئی ایسی حکمران عورتیں ہیں جنہوں نے کاروبارِ حکومت کو نہایت خوبی سے سر انجام دیا ہے۔ مثال کے طور پر چاند بی بی، رضیہ سلطانہ اور نور جہاں کا نام لیا جاتا ہے اور نیز یہ کہ آج کل بھی کئی عورتیں سربراہِ مملکت ہیں اور اپنے کام بہت اچھی طرح ادا کر رہی ہیں۔ ان واقعات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ عورتوں میں بھی حکمرانی کی صلاحیت موجود ہے تو پھر ان کے حق کو کیونکر دبایا جا سکتا ہے؟

ہم یہ عرض کریں گے کہ ایسے واقعات کی تعداد دنیا کی تاریخ میں شاید ایک فی صد سے زیادہ نہ ہو گی اور انہیں مستثنیات میں شمار کیا جائے گا اور مستثنیات سے اصول نہیں بدلا کرتے ہیں، مثلا یہ ایک اصول ہے کہ عورت جسمانی لحاظ سے مرد کی نسبت کمزور ہوتی ہے مگر ہم دیکھتے ہیں کہ بعض عورتیں ایسی طاقتور اور دلیر ہوتی ہیں جنہوں نے دو تین ڈاکوؤں کا مقابلہ کیا اور ان پر غالب آ گئیں تو ایسے شاذ و نادر واقعات سے یہ اصول نہیں بدل سکتا کہ عورت جسمانی لحاظ سے مرد سے کمزور ہوتی ہے۔ بالکل یہی صورت عورت کی حکمرانی کی ہے۔ اسلام نے اصول بیان کر دیا ہے کہ عورت میں مہمات امور کے سر انجام دینے کی اہلیت نہیں ہوتی۔ کسی نابغہ (Genus) کا مستثنیات میں شمار ہو گا جس کا بالعموم لحاظ نہیں رکھا جاتا۔

رہا عصرِ حاضر کے تقاضوں یا ان کے چڑھتے ہوئے سیلاب کا مسئلہ تو ہمارے خیال میں ایک مردِ مومن کو
زمانہ با تونہ سازد تو بازمانہ بساز
کی پالیسی اختیار کرنے کے بجائے
زمانہ باتو نہ سازد تو بازمانہ ستیز

کی پالیسی پر عمل پیرا ہونا چاہئے کیونکہ اس کے ایمان کا یہی تقاضا ہے۔

5۔ غیر مسلموں کا حقِ رائے دہی، 15 جداگانہ انتخاب

امورِ مملکت میں غیر مسلموں کو شریک کرنے یا انتخاب کے سلسلہ میں ووٹ کا حق دینے کی ہمارے خیال میں کوئی گنجائش نہیں۔

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا بِطَانَةً مِّن دُونِكُمْ لَا يَأْلُونَكُمْ خَبَالًا ...﴿١١٨﴾... سورةآل عمران

"اے ایمان والو! اپنے سوا کسی دوسرے کو اپنا راز دار نہ بناؤ کیونکہ وہ تمہاری خرابی میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھیں گے۔"

ایک دوسرے مقام پر فرمایا:

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا عَدُوِّي وَعَدُوَّكُمْ أَوْلِيَاءَ تُلْقُونَ إِلَيْهِم بِالْمَوَدَّةِ وَقَدْ كَفَرُ‌وا بِمَا جَاءَكُم مِّنَ الْحَقِّ...﴿١﴾... سورة الممتحنة

"اے ایمان والو! تم اپنے اور میرے دشمنوں کو دوست نہ بناؤ، تم انہیں دوستی کا پیغام بھیجتے ہو، حالانکہ وہ (دین) حق سے، جو تمہارے پاس آیا ، منکر ہیں۔"

ان آیات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ایک مسلمان ریاست کی اسمبلی یا مجلسِ شوری میں غیر مسلم ممبر نہیں ہو سکتا۔

ایک دوسرے مقام پر غیر مسلموں کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

﴿لَا يَرْ‌قُبُونَ فِي مُؤْمِنٍ إِلًّا وَلَا ذِمَّةً ۚ وَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْمُعْتَدُونَ ﴿١٠﴾ فَإِن تَابُوا وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ فَإِخْوَانُكُمْ فِي الدِّينِ...﴿١١﴾... سورةالتوبة

"یہ لوگ کسی مومن کے حق میں نہ تو رشتہ داری کا پاس کرتے ہیں نہ عہد کا۔ یہ لوگ حد سے تجاوز کرنے والے ہیں۔ پھر اگر یہ لوگ توبہ کر لیں اور نماز پڑھنے اور زکوۃ دینے لگیں تو وہ دین میں تمہارے بھائی ہیں۔"

چونکہ اسلامی ریاست ایک نظریاتی ریاست ہوتی ہے۔ لہذا ووٹر اور نمائندہ دونوں کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ وہ مسلمان ہوں۔ پھر ایک اسلامی مملکت میں شہریت کے حقوق حاصل کرنے کے لیے صرف مسلمان کہلانا ہی کافی نہیں، بلکہ نماز اور زکوۃ کی ادائیگی بھی لازمی ہے۔ آیت مذکورہ بالا میں ایک اسلامی مملکت کے شہری کے فرائض کو واضح طور پر بیان فرما دیا گیا ہے۔ بالفاظِ دیگر ہم یوں کہہ سکتے ہیں کہ ایک اسلامی مملکت میں نہ صرف یہ کہ غیر مسلم کو ووٹ دینے کا حق نہیں، بلکہ ایسے نام کے مسلمانوں کو بھی یہ حق نہیں دیا جا سکتا جو نماز اور روزہ کے پابند نہ ہوں۔ پھر جب ایک غیر مسلم کو ووٹ کا حق بھی نہیں تو وہ نمائندہ منتخب ہو کر اسمبلی یا مجلسِ شوری میں کیونکر شامل کیا جا سکتا ہے؟

6۔ مجلسِ شوری کی حیثیت

مجلس شوری دراصل ایک ایسا ادارہ ہے جو نئے پیش آمدہ مسائل پر غور و خوض کرنے میں امیرِ مملکت کا مشیر ہوتا ہے۔ الجھے ہوئے معاملات میں امیرِ مملکت کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ وہ اس ادارہ کی طرف رجوع رکھے، پیش آمدہ مسئلہ ان کے سامنے پیش کیا جائے تاکہ ہر شخص اس پر آزادی سے اپنی رائے دے سکے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اہلِ شوری کو مخاطب کرتے ہوئے مجلسِ شوری کے قیام کا مقصد یوں بیان فرمایا تھا:

«انى لم ازعجكم الا ان تشركوا فى امانتى فيما حملت من اموركم فانى واحد كاحدكم ولست اريد ان تتبعوا هذا الذى هو هواى»(كتاب الخراج- امام ابويوسف)

"میں نے تمہیں صرف اس لیے تکلیف دی ہے کہ تم میرے اس بارِ امانت میں شریک ہو جو تمہارے ہی امور سے متعلق ہیں۔ میں بھی تم ہی جیسا ایک فرد ہوں اور نہیں چاہتا کہ تم لوگ میری رائے یا خواہش کے پیچھے لگو۔"

حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے اس ارشاد سے مندرجہ ذیل باتوں کا پتہ چلتا ہے۔

1۔ دورانِ مشورہ آزادی رائے کے لحاظ سے امیرِ مملکت اور مشیروں میں کوئی فرق نہیں ہوتا وہ سب ایک ہی سطح پر ہوتے ہیں۔

2۔ امیرِ مملکت کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ جبرا اپنی رائے یا خواہش کو مشیروں پر ٹھونسنے یا بغیر دلیل کے کوئی بات ان سے منوائے۔

3۔ امیرِ مملکت کا فریضہ یہ ہے کہ وہ مشیروں کو پوری آزادی سے اظہار رائے کا موقعہ دے چونکہ امیر کا انتخاب ﴿ان اكرمكم عندالله اتقاكم﴾ کے اصول کے تحت ہوتا ہے لہذا مشیروں کی آراء اور دلائل کا موازنہ کرنے کے بعد اقرب الی الحق راستہ انتخاب کرنے کا حق امیر کو دیا گیا ہے۔ مجلسِ شوری کا کام یہ نہیں ہوتا کہ ملک کے لیے قانون سازی کے فرائض انجام دے۔ قانون سازی کا حق تو صرف اللہ کو ہے اور وہ سب کتاب و سنت میں موجود ہے۔ اب شوری کا کام فقط یہ رہ جاتا ہے کہ وہ شرعی قوانین کے نفاذ کے سلسلہ میں پیش آمدہ رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے ذیلی قوانین (Bye Laws) وضع کرے جو اصل قوانینِ شرعیہ کی حدود کے اندر ہوں۔ دورِ فاروقی میں جب ایران فتح ہو گیا تو یہ مسئلہ سامنے آیا، کہ اہلِ ایران جو مجوسی یا آتش پرست تھے ان سے اہلِ کتاب کا سا سلوک کیا جائے یا مشرکین کا سا؟ مؤرخ بلاذری نے اس کا نقشہ یوں کھینچا ہے:

«كان للمهاجرين مجلس فى المسجد فكان عمر يجلس معهم فيه ويحدثهم عما يتنبى اليه من امر الافاق فقال يوما- ماادرى كيف اصنع المجوس»

"حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں مہاجرین پر مشتمل مسجدِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں ایک مجلس تھی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ ان کے ساتھ بیٹھتے اور سلطنت کے اطراف سے آنے والی خبروں پر گفتگو کرتے۔ ایک دن فرمایا: مجھے یہ سمجھ نہیں آ رہا کہ مجوسیوں کے ساتھ کیسے معاملہ کیا جائے؟

اس الجھن کی وجہ یہ تھی کہ اہلِ ایران گو بظاہر آتش پرست اور مشرک تھے مگر وہ ایک الہامی کتاب "ژند" کو بھی مانتے تھے۔ اس مجلس نے بالآخر انہیں اہل کتاب کا درجہ دینے کا فیصلہ کیا، اور ان پر جزیہ عائد کر کے انہیں ذمیوں کے سے پورے حقوق کی منظوری دے دی۔

شوری کا کام محض ذیلی قوانین بنانا نہیں ہوتا بلکہ وہ خالص انتظامی امور مین صدرِ مملکت کی اپنی آراء سے رہنمائی کرتی ہے اور اس کو یہ حق ہے کہ اگر امیرِ مملکت اس سے مشورہ کیے بغیر کوئی ایسا کام کرتا ہے جو اس کی نظروں میں مستحسن نہیں تو اس سلسلہ میں از خود امیر کو مشورہ دے کر اس کی صحیح رہنمائی کرے۔

عراق پر لشکر کشی کے دوران حضرت عمر رضی اللہ عنہ خود سپہ سالار بن کر روانہ ہو چکے تھے۔ مدینہ میں اپنا قائم مقام حضرت علی رضی اللہ عنہ کو مقرر کر دیا تھا۔ جب چشمہ صرار تک پہنچ گئے اور وہاں قیام فرمایا، تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے، جو شوری کے ایک ممبر تھے، حاضر ہو کر عرض کیا کہ "مجھے آپ کا خود عراق کی طرف جانا مناسب معلوم نہیں ہوتا۔"

اتنی سی بات پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جلسہ عظیم کا انعقاد کر کے اس میں یہ مسئلہ پیش کیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی سپہ سالاری کی وجہ سے فوج میں بڑا جوش پیدا ہو گیا تھا، لہذا کثرتِ رائے خلیفہ وقت کے ارادے کے موافق معلوم ہوئی۔ تو اب حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے، یہ بھی شوری کے ممبر تھے، یہ اعتراض کر دیا کہ خلیفہ وقت کا مدینہ سے باہر جانا خطرہ سے خالی نہیں۔ اگر کسی دوسرے سالارِ لشکر کو جنگ میں ہزیمت ہو تو خلیفہ وقت اس کا بآسانی تدارک کر سکتے ہیں۔ لیکن خدانخواستہ خلیفہ وقت کو کوئی چشم زخم پہنچے تو پھر مسلمانوں کے کام کا سنبھلنا دشوار ہو جائے گا۔" اب اب یہ مسئلہ پھر شوری میں پیش ہوا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ، یہ بھی شوری کے ممبر تھے، کو مدینہ سے بلایا گیا اور تمام اکابر صحابہ رضی اللہ عنھم سے، جو شوری کے ممبر تھے مشورہ کیا گیا تو شوری نے عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی رائے کو پسند کیا۔

فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ نے دوبارہ اجتماع عام کو مخاطب کر کے فرمایا کہ "میں خود تمہارے ساتھ جانے کو تیار تھا، لیکن صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے تمام صاحب الرائے میرے جانے کو پسند کرتے ہیں، لہذا میں مجبور ہوں۔" (طبری ج3 ص480 تا 482 کی تلخیص)

یہ واقعہ شوریٰ کی حیثیت پر پوری روشنی ڈالتا ہے اور یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ عوام کی اکثریت کی رائے پر اصحاب الرائے یا شوری کے چند ممبروں کی رائے کو کتنی فوقیت حاصل ہے۔

شوری کی حیثیت کو پورے طور پر اجاگر کرنے کا دوسرا واقعہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا انتخاب ہے، جو عامیہ دباؤ کے تحت ہوا تھا جس میں اہل شوری کے تھوڑے سے افراد نے حصہ لیا تھا۔ کچھ ایسے بھی تھے جنہیں غنڈہ عناصر نے مجبور کر کے ان سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی جبری بیعت لی تھی۔ انتخاب میں اہل شوری کی عدم شرکت ہی کا یہ نتیجہ تھا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے دور میں حکومت کو استحکام نصیب نہ ہوا۔ جب بھی آپ رضی اللہ عنہ سے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے قصاص کا مطالبہ کیا جاتا تو آپ رضی اللہ عنہ کہہ دیتے کہ جب تک مسلمان اپنے اس امرِ خلافت پر متحد نہ ہو جائیں، یہ مطالبہ کیونکر پورا کیا جا سکتا ہے، حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خلافت کی اس حیثیت کا احساس ان حضرات کو بھی تھا جو آپ رضی اللہ عنہ کے قریبی رشتہ دار اور مصاحب تھے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے مقرر کردہ عاملین کو معزول کرنا چاہا تو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے انہیں مشورہ دیا کہ فی الحال ان عاملین کو معزول نہ کرنا چاہئے جس کی ایک وجہ یہ بھی بیان کی کہ "ممکن ہے وہ لوگ آپ رضی اللہ عنہ کی خلافت ہی کو چیلنج کر دیں اور کہیں کہ یہ خلافت ہی شوری کے بغیر حاصل ہوئی ہے" (طبری ج4 ص439)

7۔ شرائط اہلیت مجلس شوری

10 ۔ شرائط اہلیت صدر

11۔ شرائط رائے دہندگان

12۔ شرائط نمائندگان

14۔ نمائندگان کی عمر

مندرجہ بالا نکات کی ترتیب ہمارے خیال میں یوں ہونی چاہئے۔ 1۔ شرائط یا اہلیت رائے دہندہ 2۔ شرائط اہلیت نمائندگان یا ممبرِ شوری 3۔ شرائط اہلیتِ صدر 4۔ نمائندگان کی عمر۔ ہم اسی ترتیب سے ان کے جوابات سپردِ قلم کریں گے۔

1۔ شرائط ووٹر یا رائے دہندہ

ہم پہلے وضاحت سے بتلا چکے ہیں کہ ایک اسلامی مملکت کے امورِ ریاست و سیاست میں مشورہ دینے کے لیے کم از کم دو بنیادی شرائط کا پایا جانا ضروری ہے۔

(1)یہ کہ وہ مسلمان ہو اور

(2) یہ کہ وہ نماز اور زکوۃ ادا کرتا ہو۔ یہ دو بنیادی شرائط پوری کرنے پر وہ مملکت کا شہری اور رائے دینے کا حقدار بن سکتا ہے۔ اب ان دو شرائط کے علاوہ باقی شرائط درج ذیل ہیں:

3۔ بصیرت

ارشاد باری ہے:

﴿إِنَّ اللَّـهَ يَأْمُرُ‌كُمْ أَن تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَىٰ أَهْلِهَا...٥٨﴾... سورةالنساء

"اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں اس کے مستحق کے حوالے کرو۔"

تو یہ اسی صورت میں ممکن ہے جب کہ رائے دہندہ اسلامی نقطہ نظر کو ملحوظ رکھتے ہوئے کسی نشست یا منصب کے مختلف امیدواروں میں سے بہتر کا انتخاب کر سکتا ہو۔

4۔ امانت

ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے:

"المستشار مؤتمن" (متفق علیہ) یعنی جس سے مشورہ طلب کیا جائے، اسے امانتداری سے مشورہ دینا چاہئے ورنہ وہ اس امانت کی خیانت کا مرتکب ہو گا۔ اگر یہ مشورہ کوئی راز کی بات ہے تو اس کو ظاہر کرنا بھی خیانت ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ کسی شخص کا مسلمان ہونا یا نماز اور زکوٰۃ ادا کرنا تو ہر ایک کو معلوم ہو سکتا ہے لیکن بصیرت یا امانت تو ایسی باطنی صفات ہیں جو بظاہر معلوم نہیں ہو سکتیں۔ پھر کسی مسلمان کے متعلق سوء ظن کرنا بھی ناجائز ہے۔ لہذا اسلامی نقطہ نظر سے زیادہ سے زیادہ یہی گنجائش دی جا سکتی ہے کہ ہم ہر بالغ اور عاقل کو صاحبِ بصیرت بھی تصور کر لیں اور امین بھی اور ہر اس عاقل، بالغ شہری مرد کو رائے دہی کا حق دے دیں جو مسلمان ہو اور نماز اور زکوۃ کا پابند ہو۔

یہ تو ایک ووٹر کی ایجابی اہلیتیں تھیں۔ اب کچھ ایسی نا اہلیتیں بھی ملاحظہ فرمائیے جن کی وجہ سے ووٹر کا حق رائے دہی سلب ہو جاتا ہے۔

یہ تو واضح ہے کہ ووٹ ایک عملی شہادت ہے جس کے ذریعہ ایک ووٹر اپنے قلبی اطمینان او یقین کے ساتھ اس بات کی شہادت دیتا ہے کہ موجودہ امیدواروں میں سے فلاں امیدوار اس کے نزدیک اہل تر ہے۔ لہذا ہر وہ شخص جس کی شہادت ازروئے اسلام ناقابلِ قبول ہو گی رائے دینے کا بھی نا اہلِ قرار پائے گا۔ اور ایسے اشخاص درج ذیل ہیں:

1۔ فاسق کی شہادت

ارشاد باری ہے:

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِن جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا...﴿٦﴾... سورةالحجرات

"اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو اس کی تحقیق کر لیا کرو۔"

معلوم ہوا کہ فاسق کی شہادت معتبر نہیں ہے، لہذا کسی فاسق کو ووٹ کا اہل قرار نہیں دیا جا سکتا۔

فاسق کی مختلف اقسام بیان کرتے ہوئے فقہاء نے مندرجہ ذیل قسم کے افراد کی شہادت کو ناقابلِ قبول قرار دیا ہے:

1۔ نماز، روزہ وغیرہ کا تارک، 2۔ یتیم کا مال کھانے والا 3۔ زانی 4۔ لواطت کا مرتکب 5۔ چور اور ڈاکو 6۔ ماں باپ کی حق تلفی کرنے والا 7۔ خائن اور خائنہ

2۔ قاذف کی شہادت

ارشاد باری ہے:

﴿وَالَّذِينَ يَرْ‌مُونَ الْمُحْصَنَاتِ ثُمَّ لَمْ يَأْتُوا بِأَرْ‌بَعَةِ شُهَدَاءَ فَاجْلِدُوهُمْ ثَمَانِينَ جَلْدَةً وَلَا تَقْبَلُوا لَهُمْ شَهَادَةً أَبَدًا...﴿٤﴾... سورةالنور

"اور جو لوگ پاکدامن عورتوں پر بدکاری کی تہمت لگائیں پھر ان پر چار گواہ نہ لا سکیں تو ان کو اسی کوڑے مارو اور کبھی ان کی شہادت قبول نہ کرو۔"

3۔ چھوٹی گواہی دینے والے کی شہادت

جھوٹی گواہی دینا کبیرہ گناہ ہے جو ایمان کے منافی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مومنوں کی ایک صفت یہ بھی بیان فرمائی ہے:

﴿وَالَّذِينَ لَا يَشْهَدُونَ الزُّورَ ﴾"اور وہ لوگ جو جھوٹی گواہی نہیں دیتے۔"

«الاشراك بالله وعقوق الوالدين وقتل النفس وشهادة الزور»(بخارى، كتاب الشهادات)

:خدا سے شرک کرنا، والدین کی نافرمانی، کسی کو قتل کرنا اور جھوٹی گواہی دینا۔

لہذا ایسا شخص جس کی جھوٹی گواہی ثابت ہو جائے آئندہ اس کی شہادت قابلِ قبول نہیں ہوتی۔ حضرت معمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

«عن معمر ان رسول الله ﷺ رد شهادة رجل فى كذبة كذبها»(القضاء لابى عبيد)

"معمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کی گواہی مردود قرار دی جو پہلے کسی معاملہ میں جھوٹی گواہی دے چکا تھا۔"

جھوٹی گواہی دینا ایک قابلِ تعزیر جرم ہے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ ایسے جھوٹے گواہوں کو کئی طرح کی سزائیں دیتے تھے۔ کبھی طویل عرصہ کے لیے مقید کیا جاتا، کبھی کوڑے لگائے جاتے اور کبھی سر مونڈ کر چہرہ پر سیاہی لگا دیتے اور یہ سب سزائیں جھوٹی شہادت کی مناسبت سے دی جاتی تھیں۔

4۔ قریبی تعلق داروں کی شہادت

باپ کی گواہی بیٹے کے حق میں اور اسی طرح بیٹے کی گواہی باپ کے حق میں، بیوی کی گواہی خاوند کے حق میں اور اسی طرح خاوند کی گواہی بیوی کے حق میں، غلام کی گواہی آقا کے حق میں اور اسی طرح آقا کی گواہی غلام کے حق میں ناقابلِ قبول ہیں۔ (بیہقی)

آج بحمداللہ غلامی کا دستور نہیں رہا جو عہدِ نبوی میں تھا۔ تاہم موجودہ دور میں کسی کارخانہ یا فیکٹری کے مزدوروں کی تقریبا وہی حیثیت ہے جو اس دور میں نجی غلاموں کی تھی۔ لہذا ہم تصریحات بالا سے یہ نتیجہ نکال سکتے ہیں کہ کسی امیدوار کے حق میں اس کی بیوی، بیٹوں اور ملازموں یا مزدوروں کا ووٹ قابلِ قبول نہیں ہے۔

اب ہم عصرِ حاضر کا لحاظ رکھتے ہوئے مختصرا ایک نمائندہ کی اہلیت اور نا اہلیت کی شرائط بیان کرتے ہیں:

1۔ ووٹر کے لیے مسلمان ہونا ضروری ہے۔

2۔ عملی طور پر وہ نماز، زکوۃ اور روزہ کا پابند ہو ورنہ اسے رائے دینے کا کوئی حق نہ ہو گا۔

3۔ اس کا نمائندہ سے قریبی تعلق نہ ہو جس کی وضاحت پہلے گزر چکی ہے۔

4۔ جس شخص کی جھوٹی گواہی پہلے ثابت ہو چکی ہو اسے بھی رائے دینے کا حق نہیں۔

5۔ کسی اخلاقی جرم میں سزا یافتہ نہ ہو، نہ ہی کسی پر تہمت لگانے کا مرتکب ہو چکا ہو۔ بستہ (الف) یا (ب) سے تعلق نہ رکھتا ہو، بالفاطِ دیگر فاسق و فاجر نہ ہو بلکہ اچھی شہرت رکھنے والا ہو۔ بری شہرت کا فیصلہ دو معتبر شہادتوں کی بناء پر کیا جا سکتا ہے اور اس کی تحقیق کے لیے دوسرے ذرائع بھی اختیار کیے جا سکتے ہیں۔

6۔ عاقل بالغ ہونے کے ساتھ کم از کم معمولی لکھنا پڑھنا بھی جانتا ہو۔ اتنی سیاسی سوجھ بوجھ بھی رکھتا ہو کہ نمائندہ یا حاکم کے لیے کن اوصاف سے متصف ہونا ضروری ہے۔

مندرجہ بالا شرائط کو ہم مزید اختصار سے بیان کرنا چاہیں تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ ایک ووٹر کے لیے مسلمان، بالغ، عاقل اور متقی ہونا ضروری ہے۔

ان تصریحات سے آپ بخوبی اندازہ کر سکتے ہیں کہ اسلامی نقطہ نظر سے پاکستان میں کتنے فیصد ایسے لوگ رہ جاتے ہیں جو صحیح معنوں میں رائے دہی کے مستحق سمجھے جا سکتے ہیں۔

شرائط اہلیت (نمائندہ برائے) مجلسِ شوری

مجلسِ شوری کے ممبروں کا کام مملکت کے داخلی اور خارجی امور کے متعلق صدر کو مشورہ دینا یا ذیلی قوانین بنانا ہے ایسے مشورہ میں چونکہ کتاب و سنت کی مذکورہ حدود کے اندر رہ کر اقرب الی الحق راستہ کی تلاش ہوتی ہے لہذا اس شوری کے ممبر کے لیے رائے دہندہ کی تمام شرائط پوری کرنے کے علاوہ مندرجہ ذیل دو شرائط کا پورا کرنا بھی ضروری ہے:

1۔ یہ کہ وہ کتاب و سنت کا عالم ہو اور

2۔ کتاب و سنت سے استنباط یا نتائج اخذ کرنے کا ملکہ رکھتا ہو۔

یہ دونوں صفات مجلسِ شوری کے ممبروں کے علاوہ عدلیہ اور انتظامیہ کے حکام کے لیے بھی ضروری ہیں۔ ارشاد باری ہے:

﴿وَإِذَا جَاءَهُمْ أَمْرٌ‌ مِّنَ الْأَمْنِ أَوِ الْخَوْفِ أَذَاعُوا بِهِ ۖ وَلَوْ رَ‌دُّوهُ إِلَى الرَّ‌سُولِ وَإِلَىٰ أُولِي الْأَمْرِ‌ مِنْهُمْ لَعَلِمَهُ الَّذِينَ يَسْتَنبِطُونَهُ مِنْهُمْ...﴿٨٣﴾... سورة النساء

"اور جب ان کے پاس امن یا خوف کی کوئی خبر پہنچتی ہے تو اسے مشہور کر دیتے ہیں اور اگر اس کو پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم اور اپنے حاکموں کے پاس پہنچاتے تو تحقیق کرنے والے اس کی تحقیق کر لیتے۔"

3۔ صدر کی اہلیت:

اولی الامر سے مراد وہ حکامِ بالا ہیں جو کلیدی آسامیوں پر فائز ہوتے ہیں۔ خواہ یہ مقننہ (شوری) سے تعلق رکھتے ہوں یا عدلیہ سے یا انتظامیہ سے۔ اہل شوری کی صفات تو ہم بیان کر چکے ہیں۔ انتظامیہ کے اور بالخصوص فوج کے اولی الامر کے لیے کتاب و سنت کا عالم ہونے کے علاوہ صحت مند، مضبوط جسم کا مالک ہونا ضروری ہے۔ ارشاد باری ہے:

﴿إِنَّ اللَّـهَ اصْطَفَاهُ عَلَيْكُمْ وَزَادَهُ بَسْطَةً فِي الْعِلْمِ وَالْجِسْمِ...﴿٢٤٧﴾... سورةالبقرة

"اللہ تعالیٰ نے طالوت کو بادشاہت کے لیے منتخب کیا ہے اور اسے علم اور جسم (طاقت) میں وافر حصہ عطا فرمایا ہے۔"

اور عدلیہ کے اولی الامر کے لیے صاحبِ بصیرت ہونے کے علاوہ قوتِ فیصلہ کا مالک ہونا بھی ضروری ہے۔ ارشاد باری ہے:

﴿ وَآتَيْنَاهُ الْحِكْمَةَ وَفَصْلَ الْخِطَابِ ﴿٢٠﴾... سورةص

"ہم نے داؤد (علیہ السلام) کو حکمت اور فیصلہ کن بات کرنے کی صلاحیت دی"

عدلیہ کے اولی الامر کے لیے چند اور شرائط بھی ضروری ہیں، مثلا وہ حلیم، محتاط اور حق و انصاف کے معاملہ میں مضبوط ہونا چاہئے لیکن اس کی تفصیل کا یہ موقعہ نہیں۔

اب دیکھئے، صدر کا ان تینوں طرح کی صفات سے مجملا متصف ہونا ضروری ہے۔ ایسے انسان تو کم ہی ہوتے ہیں جو ہر لحاظ سے جامع صفات ہوں، تاہم صدارت کا مستحق وہی شخص ہو سکتا ہے جس میں مندرجہ بالا صفات زیادہ سے زیادہ پائی جاتی ہوں۔

مندرجہ بالا تصریحات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ تقویٰ ایک ایسی جامع صفت ہے جس کا رائے دہندہ، نمائندہ، اولی الامر اور صدر سب میں پایا جانا ضروری ہے۔ تقویٰ سے مراد ہر معاملے میں عنداللہ مسؤلیت کا تصور ہے اور یہ تصور ہر معاملہ میں اور ہر مقام پر انسان کی راہِ راست کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔ متقی شخص مشیر ہو تو غلط مشورہ نہیں دے سکتا۔ قاضی ہو تو غلط فیصلہ نہیں کر سکتا اور افسر ہو تو ظلم و جور نہیں کر سکتا۔ پھر تقویٰ کے بھی مختلف درجات ہیں۔ لہذا اگر محض تقویٰ کی بنیاد پر ہی اولی الامر اور صدر کا انتخاب کیا جائے تو ہمارے خیال میں یہ بھی درست ہو گا۔ ارشادِ باری ہے:

﴿اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَاللهِ اَتْقَاكُمْ﴾

"اللہ کے نزدیک تم میں سے معزز وہ ہے جو زیادہ پرہیز گار ہے۔"

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

«رأس الحكمة مخافة الله»

"اصل دانائی خدا کا خوف ہے۔"

بالفاطِ دیگر ووٹر یا رائے دہندہ صرف متقی شخص ہو سکتا ہے اور اولی الامر وہ اشخاص ہوں گے جو تقویٰ کے بلند مقام پر ہوں گے اور صدر وہ شخص ہو گا جو تقویٰ میں ان سب سے بڑھ کر ہو گا۔

4۔ نمائندہ کی عمر

نمائندہ اور اسی طرح دوسرے اولی الامر کے لیے پختہ عقل (Matured) ہونا ضروری ہے۔ قرآن کریم کی ایک آیت سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ انسان چالیس سال کی عمر تک پہنچ کر پختہ عقل ہوتا ہے۔ ارشاد باری ہے:

﴿حَتَّىٰ إِذَا بَلَغَ أَشُدَّهُ وَبَلَغَ أَرْ‌بَعِينَ سَنَةً...١٥﴾... سورةالاحقاف

"یہاں تک کہ جب انسان بھرپور جوان ہوتا اور چالیس سال کی عمر کو پہنچتا ہے۔"

اور اس رائے کی عملی شہادت یہ ہے کہ انبیاء علیھم السلام کو بالعموم نبوت چالیس سال یا اس کے بعد ہی عطا ہوئی، اسی طرح خلفائے راشدین رضی اللہ عنہ میں کوئی بھی ایسا نہیں کہ جب وہ منصبِ خلافت پر فائز ہوا ہو تو اس کی عمر چالیس برس سے کم ہو۔

تاہم چالیس سال کی شرط ایسی نہیں جس کا استثناء نہ ہو۔ اصل شرط پختہ عقل ہونا ہے۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز جب خلیفہ منتخب ہوئے تو آپ کی عمر 37 سال تھی اور جب شہید ہوئے تو 39 سال کے تھے، حالانکہ ان کا شمار خلفائے راشدین میں ہوتا ہے۔ جس طرح بلوغت حالات، زمانہ اور علاقہ کے تحت الگ الگ ہے اسی طرح پختہ عقل ہونے کی عمریں بھی الگ ہو سکتی ہیں۔ اسی طرح بعض انسان پیدائشی طور پر ذہین ہتے ہیں وہ چھوٹی عمر میں ہی ایسے پختہ عقل ہوتے ہیں کہ بڑے بزرگ ان کی باتوں سے دنگ رہ جاتے ہیں۔

ان حالات میں محض عمر کی قید لگانا مشکل ہے اور اگر کوئی شرط عائد کرنا ہی ہو تو ہمارے خیال میں چالیس سال کی شرط ہی بہتر ہے۔

11۔ صدر کا انتخاب براہِ راست ہو یا بالواسطہ؟

18۔ کیا صدر کی نامزدگی برائے انتخاب کے لیے کوئی ادارہ مختص کیا جائے؟

صدر کے براہِ راست انتخاب، جسے آج کی زبان میں بالغ رائے دہی کی بنیاد پر انتخاب کہا جاتا ہے، کی کوئی مثال ہمیں تاریخِ اسلام میں نہیں ملتی۔ جو اصحاب خلیفہ منتخب ہوئے یا نامزد کئے گئے، سب اہل شوری سے تعلق رکھتے تھے۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شوری کے معزز رکن تھے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ دورِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم اور صدیقی میں شوری کے معزز رکن رہے، جنہیں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نامزد کیا تھا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی وفات کے دوران جن چھ حضرات کا انتخابی بورڈ بنا کر فرمایا کہ ان میں سے کسی کو خلیفہ بنا لیا جائے، یہ سب اصحاب مجلس شوری کے ارکان تھے۔ شہادت عثمان رضی اللہ عنہ کے بعد باغی گروہ نے جن تین حضرات کو خلافت کا مستحق سمجھا، یعنی حضرت علی رضی اللہ عنہ، حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ اور حضرت زبیر رضی اللہ عنہ، یہ بھی اہل شوری تھے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ جب باغی عنصر نے عوام کو ساتھ ملا کر حضرت علی رضی اللہ عنہ کو خلافت کے لیے مجبور کر دیا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا:

"یہ اہل شوری اور اہلِ بدر کا کام ہے جسے وہ منتخب کریں وہی خلیفہ ہو گا۔ ہم جمع ہوں گے اور اس معاملہ پر غور کریں گے۔" (ابن قتیبہ۔ الامامۃ والسیاسۃ ج1 ص41)

تصریحاتِ بالا سے دو باتیں سامنے آتی ہیں:

1۔ خلفائے راشدین کے آخری دور تک براہِ راست انتخابِ خلیفہ کا کوئی تصور موجود نہیں تھا، بلکہ انتخابِ صدر کا کام صرف مجلس شوری کے ذمہ تھا۔

2۔ مجلس شوری اپنے میں سے ہی کسی ایک کو خلیفہ منتخب کرتی تھی۔ مجلس شوری سے باہر خلیفہ کا انتخاب کبھی عمل میں نہیں آیا۔

ان حقائق کی روشنی میں ہم پورے وثوق سے کہہ سکتے ہیں کہ اسلامی نقطہ نظر سے بالواسطہ انتخاب ہی صحیح صورت ہے۔

17۔ کیا صدر شوری کے فیصلوں کا پابند ہو گا؟

ہم پہلے بالغ رائے دہی کی شق نمبر 5 "فیصلہ کے وقت میر مجلس کے اختیارات" کے تحت تفصیل سے لکھ آئے ہیں کہ میرِ مجلس یا صدر شوری سے مشورہ کرنے کا پابند ضرور ہے لیکن وہ فیصلہ میں کثرتِ آراء کا پابند نہیں۔ اگر وہ مناسب سمجھتا ہو تو تمام شوریٰ کے متفقہ فیصلہ کے خلاف بھی فیصلہ دے سکتا ہے۔ جیسا کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جیشِ اسامہ رضی اللہ عنہ اور مانعینِ زکوۃ کے سلسلہ میں کیا۔ اس سلسلہ میں جمہوریت نوازوں کی طرف سے جتنے اعتراض کیے جاتے ہیں ان کا جائزہ ہم اپنی کتاب "خلافت و جمہوریت" کے صفحہ 145 تا صفحہ 155 میں بڑی تفصیل سے پیش کر چکے ہیں۔ ممکن ہے بعض حضرات صدر کے اس اختیار کو ڈکٹیٹر شپ (آمریت) کا نام دیں۔ لیکن یہ بات حقیقت کے خلاف ہے۔ صدر بھی دلیل کے بغیر اپنی مرضی کو دوسروں پر ٹھونس نہیں سکتا۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے صحابہ رضی اللہ عنہم کے بھرے مجمعے میں مانعین زکوۃ سے جہاد کے لیے یہ دلیل پیش کی تھی:

«ان الله لم يفرق بين الصلوة والزكوة ثم جمعهما»(كنزالعمال ج3ص142)

"اللہ تعالیٰ نے نماز اور زکوۃ میں کوئی فرق نہیں فرمایا، بلکہ دونوں کو اکٹھا ہی ذکر کیا ہے۔"

حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عراق کی زمینوں کو قومی تحویل میں لینے کا ارادہ کیا تو جب تک قرآن سے دلیل سمجھ میں نہیں آئی، آپ رضی اللہ عنہ معترضین کے ہاتھوں سخت بے چین رہے۔ اس کی تفصیل بھی ہم مذکورہ کتاب کے صفحہ 138 تا 141 پر پیش کر چکے ہیں۔

اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ اسلامی نقطہ نظر سے ایک عام شخص بھی دلیل سے صدر کے کسی حکم کو چیلنج کر سکتا ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے خطبہ کے دوران لوگوں کو ہدایت کی کہ وہ حق مہر زیادہ نہ باندھا کریں، اور اس کی حد چار سو درہم مقرر کی تو ایک عورت اٹھ کر کہنے لگی "تم یہ پابندی لگانے والے کون ہوتے ہو، جبکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:

﴿اِنْ اٰتَيْتُم اِحْدٰهُنَّ قِنْطَارًا﴾

"اگرچہ تم ان عورتوں میں کسی ایک کو خزانہ بھر بھی (بطورِ حق مہر) دے چکے ہو۔"

یہ بات سن کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ بے ساختہ پکار اٹھے، "پروردگار! مجھے معاف فرما، ہر شخص عمر رضی اللہ عنہ سے زیادہ فقہیہ ہے۔" پھر منبر پر چڑھتے اور کہا۔ "لوگو! میں نے تمہیں چار سو درہم سے زیادہ حق مہر مقرر کرنے سے روکا تھا۔ میں اپنی رائے واپس لیتا ہوں۔ تم میں سے جو جتنا چاہے مہر میں دے۔"

یہی وہ فرق ہے جو خلافت کو آمریت سے ممتاز کرتا ہے۔ آمر بغیر کسی دلیل کے محض اپنی مرضی سے شوری یا مشیروں کی رائے کو رد کر سکتا ہے لیکن خلافت میں یہ بات ممکن نہیں۔ اسی طرح ایک آمر اپنی کسی پالیسی یا حکم پر تنقید برداشت نہیں کر سکتا۔ خواہ وہ دلیل سے ہو یا بلا دلیل، جبکہ خلافت میں تنقید کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔

حیرت کی بات تو یہ ہے کہ ہمارے موجودہ دستور نے بھی، جو خالص جمہوری قدروں پر ترتیب دیا گیا ہے، سربراہِ مملکت کو مشورہ قبول کرنے کا پابند قرار نہیں دیا ہے۔ یہاں ہم "تحریک آزادی و دستورِ پاکستان" مؤلف فاروق اختر نجیب کے چوتھے ایڈیشن سے چند اقتباس پیش کرتے ہیں:

1۔ "وزراء کا کام حکومت کی پالیسی کی تشکیل میں صدر کو مشورے دینا ہے۔ اس سلسلہ میں صدر جب چاہے ان سے مشورہ طلب کر سکتا ہے مگر وہ ان کے مشورے کو قبول کرنے کا پابند نہیں۔" (ص 444)

2۔ "صدر سپریم کورٹ کے چیف جسٹس اور اس کے مشورے سے دوسرے ججوں کا تقرر کرتا ہے اسی طرح وہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس اور متعلقہ صوبہ کے گورنر کے مشورہ سے ہائی کورٹوں کے چیف جسٹس ۔۔۔ اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹس، متعلقہ صوبہ کے گورنر اور متعلقہ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کے مشورہ سے ہائیکورٹ کے ججوں کا تقرر کرتا ہے۔ گویا متذکرہ افراد سے وہ صرف مشورہ کرنے کا پابند ہے، اس مشورہ کو قبول کرنے کا پابند نہیں۔" (ص434)

بعینہ ایک اسلامی مملکت کا صدر اہم معاملات میں شوری سے مشورہ کرنے کا پابند ضرور ہے مگر ان کا مشورہ قبول کرنے کا پابند نہیں۔ تمام شوری کے دلائل سننے کے بعد آخری فیصلہ کا اختیار صدر ہی کو حاصل ہے۔

18۔ صدر کی نامزدگی برائے انتخاب کے لیے مختص ادارہ

نامزدگی صدر کے بعد انتخاب کا اختیار

ہمارے خیال میں شوری ہی وہ ادارہ ہے جسے صدر کی نامزدگی کا حق دیا گیا ہے۔ انتخاب حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے وقت حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے خلافت کے لیے حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کا نام پیش کیا۔ یہ تینوں حضرات شوری کے ممبر تھے۔ پھر جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی موجودگی میں خلیفہ بننے کو ناپسند کیا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا نام پیش کیا پھر بیعت بھی کر لی۔ تو اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صدر کو نامزد کرنے اور پھر اسے منتخب کرنے کا کام دراصل اسی شورائی ادارہ کی ذمہ داری ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو خلافت کے لیے جب مجبور کیا گیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے بھی یہی جواب دیا تھا کہ خلیفہ کا انتخاب دراصل اہل شوری اور اہلِ بدر کا کام ہے۔" اور یہ تو ظاہر ہے کہ انتخاب سے پہلے نامزدگی ضروری ہوتی ہے۔

اس کی دوسری صورت یہ ہے کہ اسی شوری میں سے چند اہل افراد کی ایک کمیٹی تشکیل دی جائے جیسا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے صدر کی نامزدگی اور انتخاب کے لیے ایک چھ رکنی کمیٹی تشکیل دی تھی۔

اور اس کی تیسری صورت یہ بھی ہو سکتی ہے کہ صدر کے انتخاب کا کام سابقہ صدر کی کابینہ کے سپرد کر دیا جائے۔ ہمارے اس خیال پر موجودہ دور میں دو قسم کے اعتراضات وارد ہو سکتے ہیں۔

1۔ اگر کابینہ کو یہ حق دیا جائے تو سابقہ صدر جس پارٹی سے تعلق رکھتا ہے وہی پارٹی ہمیشہ کے لیے ملک پر مسلط ہو جائے گی تو اس کا جواب یہ ہے کہ اسلامی نقطہ نظر سے شوری میں جس سے صدر اپنی کابینہ کو نامزد کرتا ہے، حزب اختلاف کی کوئی گنجائش نہیں۔ نہ ہی کسی ایسی پارٹی کی گنجائش ہے جس کے نظریات اسلام سے متصادم ہوں۔ اگر یہ دو باتیں ختم ہو جائیں تو کابینہ کو صدر نامزد کرنے کا کوئی خطرہ باقی نہیں رہتا۔

2۔ جمہوری ملک میں کوئی سرکاری ملازم اس وقت تک اپنا نام صدارت یا اسمبلی کے لیے پیش نہیں کر سکتا جب تک وہ ملازمت سے استعفی نہ دے دے۔ بعد میں وہ خواہ منتخب ہو یا نہ ہو، لیکن اسلام میں ایسی کوئی پابندی نہیں۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو نامزد کیا۔ جبکہ آپ مجلس شوری کے رکن بھی تھے اور منصبِ قضاء پر مامور بھی تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی وفات کے وقت فرمایا کہ اگر ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ زندہ ہوتے تو میں انہیں خلافت کے لیے نامزد کر دیتا۔ حضرت ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ مجلس شوری کے رکن بھی تھے اور دورِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیت المال کے انچارج بھی چلے آ رہے تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے خلیفہ کی نامزدگی اور انتخاب کے لیے جو چھ رکنی کمیٹی مقرر کی اس میں ایک حضرت علی رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ شوری کے ممبر بھی تھے اور عہدہ قضا پر بھی مامور تھے۔ ان واقعات سے ظاہر ہے کہ سرکاری ملازمین ملازمت کے دوران صدارت کے لیے نامزد کیے جا سکتے ہیں لہذا اگر صدر کی نامزدگی کا کام کابینہ ہی کے سپرد کر دیا جائے تو بھی ہمارے خیال میں چنداں مضائقہ نہیں۔

19۔ صدارت کے لیے مدت

جمہوری ممالک میں پارلیمنٹ کی ممبر شپ اور ملک کی صدارت ایک سیاسی حق ہے۔ کچھ حضرات تو یہ "حق" وصول کر لیتے ہیں۔ اب باقی "حقدار" اس انتظار میں رہتے ہیں کہ انہیں یہ حق کب نصیب ہوتا ہے۔ ان "باقی حقداروں" کی داد رسی کے لیے منصب کی مدت معین کرنا ضروری ہوتا ہے۔ لیکن اسلام میں شوری کی ممبر شپ یا مملکت کی صدارت ایک عظیم ذمہ داری ہے۔ ان لوگوں کو خدا کے سامنے جواب دہی کے تصور کو سامنے رکھ کر اپنا فریضہ سر انجام دینا ہوتا ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جس قدر ایثار اور جانکاہ کوششوں سے اسلام کی خدمت کی وہ سب جانتے ہیں، لیکن اس کے باوجود آپ رضی اللہ عنہ نے وفات کے وقت یہ فرمایا تھا کہ "خلافت کے مقدمہ میں برابر برابر پر چھوڑ دیا جاؤں تو میں یہ غنیمت سمجھتا ہوں، نہ مجھے ثواب ملے نہ عذاب ہو۔" (بخاری، کتاب الاحکام، باب الاستخلاف)

پھر کسی نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ "اپنے بیٹے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کو خلافت کے لیے نامزد کر دیجئے" آپ رضی اللہ عنہ نے ناراضی کا اظہار فرمایا اور کہنے والے کو سکٹ سست کہا اور فرمایا:

"اگر یہ حکومت اچھی چیز تھی تو اس کا مزہ ہم نے چکھ لیا اور اگر یہ بری چیز تھی تو عمر کے خاندان کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ کل کو خدا کے سامنے ان میں سے صرف ایک ہی آدمی سے حساب لیا جائے۔" (طبری، ج4 ص227،228)

غور فرمائیے اگر کسی شخص کو صحیح معنوں میں اس ذمہ داری کا احساس ہو تو وہ کسی منصب کی آرزو کر سکتا ہے؟ کون اس بات پر تیار ہو گا کہ سابقہ ذمہ دار کو سبکدوش کر کے اس ذمہ داری کا بوجھ خود اٹھا لے؟ یہی وجہ ہے کہ اسلام میں صدارت کے لیے کوئی مدت مقرر نہیں، وہ تا حینِ حیات صدر رہے گا۔ خلفائے راشدین کے دور میں ہمیں تعین مدت کی کوئی گنجائش نظر نہیں آتی۔ تعیینِ مدت کی ضرورت صرف اسی صورت میں پیش آتی ہے جب احساسِ ذمہ داری ختم ہو جائے اور منصب کو ایک حق سمجھ لیا جائے۔

9۔ پارٹی سسٹم اور انتخابات

اس موضوع کو سمجھنے کے لیے مندرجہ ذیل نکات کو ملحوظِ خاطر رکھنا ضروری ہے:

1۔ ایک اسلامی مملکت میں بنیادی طور پر دو ہی قسم کی پارٹیاں ہو سکتی ہیں۔ ایک وہ جو اسلامی نظریات کی حامل اور اس کے فروغ کے لیے کوشاں ہو۔ یہ پارٹی حزب اللہ ہے اور دوسری وہ جو اسلام دشمن ہو، خواہ وہ غیر مسلموں پر مشتمل ہو یا ایسے مسلمانوں پر جو اسلامی نظریات سے متضاد نظریات رکھتے ہوں۔ قرآن کی اصطلاح میں یہ پارٹی "حزب الشیطان" ہے۔

2۔ حزب الشیطان نہ انتخاب میں حصہ لے سکتی ہے اور نہ کاروبارِ حکومت میں۔

3۔ حزب اللہ میں بھی اسلامی احکام کے نفاذ اور ملک کا نظم و نسق چلانے کے سلسلے میں فروعی اختلافات ہو سکتے ہیں اور ایک سے زیادہ پارٹیاں وجود میں آ سکتی ہیں، تاہم یہ چند ایک ہی ہو سکتی ہیں۔

4۔ صدرِ مملکت کا انتخاب اگر اسی طرح ضروری ہو تو اس کا طریقہ یہ ہونا چاہئے کہ یہ جماعتیں خود صدارت کے لیے اپنے نمائندوں کے نام پیش کریں اور ان کی اہلیت اور تجربہ سے متعلق کنویسنگ کرنا ناجائز ہے۔ نیز ان کی موجودہ املاک کا اعلان بھی کر دیں تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ ان کے سامنے اس منصب سے دنیوی مال و متاع سمیٹنا مقصود نہیں ہے۔

5۔ انتخاب کے لیے ایک دن مقرر کر دیا جائے اور سپریم کورٹ کا چیف جسٹس عارضی طور پر صدر کے فرائض سر انجام دے اور الیکشن کرائے۔

6۔ الیکشن میں صرف وہ اشخاص حصہ لیں جو ووٹر کی شرائط پوری کرتے ہیں جن کی تفصیل پہلے گزر چکی ہے۔

7۔ جس پارٹی کا امیدوار سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرے گا وہی صدر منتخب ہو گا۔

مجلسِ شوری اور کابینہ کی تشکیل: فرض کیجئے کہ الیکشن میں چار جماعتوں نے حصہ لیا ہے تو اب منتخب شدہ صدران چاروں جماعتوں کے حاصل کردہ ووٹوں کی نسبت سے اپنی شوری اور اسی طرح اپنی کابینہ تشکیل دے گا اور اس کابینہ کی شکل مخلوط ہرگز نہ ہو گی بلکہ یہ ایک قومی کابینہ ہو گی جس کے تمام وزراء قرآنی ارشاد کے مطابق ایک بنیان مرصوص کی طرح کام کریں گے۔ ایسی ہی کابینہ کو بعد میں ہونے والے صدر کے انتخاب کا حق دیا جا سکتا ہے۔

9۔ یک دیوانی مقننہ یا دو ایوانی مقننہ؟

دورِ نبوی یا دورِ خلفائے راشدین میں بعض معاملات تو ایک ہی مجلس میں حل ہو جاتے تھے، اور بعض معاملات کے فیصلہ کے لئے کئی کئی مجالس منعقد کرنا پڑتیں اور بعض اوقات یہ مجالس پہلے اصحاب سے مختلف دوسرے اصحاب پر مشتمل ہوتی تھیں۔ طاعون زدہ علاقوں میں داخل ہونے، یا وہاں سے نکلنے کے متعلق حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے پہلے مپاجرین اولین کو بلا کر ان سے مشورہ کیا پھر انصار کو بلا کر ان سے مشورہ کیا پھر بزرگ قریشی مہاجرین کو بلا کر ان سے مشورہ کیا اور انہی کی رائے پر آپ رضی اللہ عنہ نے فیصلہ دیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی نقطہ نظر سے دو ایوانی مقننہ کی بھی گنجائش ہے تاہم یہ ضروری بھی نہیں۔

21۔ امیدوار کا خود کو پیش کرنا اور کنویسنگ کرنا

اسلامی نقطہ ںظر سے امارت یا اور کوئی منصب طلب کرنا، یا اس کی آرزو کرنا یا اس کے لیے کنویسنگ کرنا ایک مذموم فعل ہے۔ (تفصیل کے لیے دیکھئے مذکورہ کتاب ، ص31 تا 33 اور صفحہ 108 تا 113)