(1)
بعض روایتوں میں ان کا نام "جلبیب" رضی اللہ عنہ بھی آیا ہے۔ سلسلہ نسب اور خاندان کا حال معلوم نہیں لیکن اربابِ سیر کے نزدیک یہ بات مسلم ہے کہ وہ مدینہ منورہ کے رہنے والے تھے اور انصار کے کسی قبیلے سے تعلق رکھتے تھے۔ اگرچہ پست قد اور کم رو تھے لیکن پاک باطنی، نیک طنیتی، شجاعت، اخلاص فی الدین اور حبِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لحاظ سے اپنی مثال آپ تھے۔ اسی لیے رحمتِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت مھبوب تھے۔ مسند احمد بن حنبل میں حضرت ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جلبیب رضی اللہ عنہ کی طبیعت میں مزاح بہت تھا، یہاں تک کہ خواتین سے بھی مزاح کی باتیں کر جاتے تھے جو بعض طبائع کو ناگوار گزرتی تھیں، تاہم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے حسنِ کردار پر پورا اعتماد تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان پر بڑی شفقت فرماتے تھے۔ انصار کا معمول تھا کہ جب ان کی کوئی خاتون بیوی ہو جاتی تو وہ اس کا دوسرا نکاح حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیے بغیر نہ کرتے۔ ایک دفعہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک انصاری سے فرمایا کہ "اپنی بیوی بیٹی کا نکاح مجھے کرنے دو۔" انہوں نے عرض کیا، " یا رسول اللہ یہ تو آپ کا بڑا کرم اور انعام ہو گا۔" حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، "میں خود اس سے نکاح کا ارادہ نہیں رکھتا۔" انصاری نے عرض کیا، یا رسول اللہ! پھر آپ کس کے ساتھ میری بیٹی کا رشتہ کرنا چاہتے ہیں؟"

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، جلبیب کے ساتھ"

انصاری نے عرض کیا، "یا رسول اللہ، میں اپنی بیوی کے ساتھ مشورہ کر لوں" حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، "ہاں، اس میں کوئی حرج نہیں"

انصاری نے اپنی اہلیہ سے اس بارے میں مشورہ کیا تو وہ کچھ تو حضرت جلبیب رضی اللہ عنہ کی کم روئی کی وجہ سے اور کچھ ان کی مزاحیہ طبیعت کی وجہ سے رشتہ دینے میں متذبذب ہوئیں۔ لڑکی نہایت زیرک اور مخلص مومنہ تھی، اس کو یہ بات معلوم ہوئی تو اس نے والدین کو اللہ کا یہ حکم یاد دلایا کہ "جب اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کسی بات کا فیصلہ کر دیں تو کسی مسلمان کو اس میں چون و چرا کی گنجائش نہیں" پھر کہا، " آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کو رد کرنا چاہتے ہیں، ایسا ہرگز نہیں ہو گا۔ آپ مجھے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے کر دیں، وہ مجھے کبھی ضائع نہ ہونے دیں گے۔ میری مرضی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی مرضی کے تابع ہے اور مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد بسر و چشم منظور ہے"

لڑکی کے والد نے بارگاہِ رسالت میں حاضر ہو کر سارا واقعہ عرض کیا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم لڑکی کی سعادت مندی پر بہت مسرور ہوئے اور اس کے حق میں یہ دعا مانگی:

"الہی اس (بیوہ) لڑکی پر خیر کی بوچھاڑ کر دے اور اس کی زندگی کو گدلا اور مکدر نہ کر"

پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت جلبیب رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ فلاں لڑکی سے تمہارا نکاح کرتا ہوں۔ انہوں نے عرض کیا: "یا رسول اللہ میرے ماں باپ آپ پر قربان، آپ مجھے کھوٹا پائیں گے۔"

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، "نہیں، تم خدا کے نزدیک کھوٹے نہیں ہو"

اس کے بعد آپ نے حضرت جلبیب رضی اللہ عنہ کا نکاح اس لڑکی سے کر دیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کا یہ اثر ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کی گھریلو زندگی کو جنت بنا دیا اور وہ نہایت آسودہ حال ہو گئے۔ اہلِ سیر نے لکھا ہے کہ انصار میں کوئی عورت اس خاتون سے زیادہ تونگر اور شاہ خرچ نہ تھی۔
(2)

حضرت ابوبرزہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک غزوہ پر تشریف لے گئے (کتبِ سیر میں اس غزوہ کی تصریح نہیں کی گئی) حضرت جلبیب رضی اللہ عنہ بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمرکاب تھے۔ جب اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فتح عطا کی اور مالِ غنیمت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنھم سے پوچھا "ہمارے کون کون سے آدمی لاپتہ ہیں"؟

صحابہ رضی اللہ عنھم نے کچھ آدمیوں کے نام بتائے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ اور سہ بارہ یہی سوال کیا۔ صحابہ رضی اللہ عنھم چند آدمیوں کا نام لے دیتے، جلبیب رضی اللہ عنہ کی طرف کسی کا خیال ہی نہ گیا۔ اب حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"مجھے جلبیب رضی اللہ عنہ نظر نہیں آتا۔"

صحابہ کرام رضی اللہ عنہ ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سن کو چونک پڑے اور اسی وقت حضرت جلبیب رضی اللہ عنہ کی تلاش میں نکل کھڑے ہوئے۔ تھوڑی دور جا کر دیکھا کہ سات مشرک مقتول پڑے ہیں اور قریب ہی جلبیب رضی اللہ عنہ بھی خاک و خون میں آغشتہ پڑے ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع ملی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود وہاں تشریف لائے۔ یہ عجیب منظر دیکھ کر طبع مبارک بہت متاثر ہوئی۔ حضرت جلبیب رضی اللہ عنہ کے جسمِ اطہر کے پاس کھڑے ہو کر فرمایا:

«قَتَلَ سَبْعَةً ثُمَّ قَتَلُوهُ هٰذَا مِنِّى وَاَنَا مِنْهُ : هٰذَا مِنِّى وَاَنَامِنْهُ»

"سات کو قتل کر کے قتل ہوا، یہ مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں، یہ مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں۔"

صحیح مسلم میں ہے کہ اس کے بعد سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت جلبیب رضی اللہ عنہ کے جسدِ اطہر کو اپنے ہاتھوں پر اٹھایا اور قبر کھدوا کر اپنے دستِ مبارک سے ان تدفین فرمائی اور غسل نہیں دیا۔

جس شہید راہِ حق کے لیے رحمتِ دو عالم فخرِ جن و انس، سیدِ کونین صلی اللہ علیہ وسلم نے بتکرار فرمایا ہو کہ "یہ مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں" اور پھر جس کے جسدِ خاکی کو ساقری کوثر صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مقدس ہاتھوں پر اٹھا کر جائے شہادت سے آغوشِ لحد تک پہنچایا ہو۔ اس کے علوِ مرتبت کا اندازہ کون کر سکتا ہے؟
بنا کردند خوش رسمے بخاک و خون غلطیدن
خدا رحمت کند ایں عاشقانِ پاک طینت را