میرے پسندیدہ۔۔

اس صفحہ کو پسند کرنے کے لیے لاگ ان کریں۔

کتابوں کے لیے مخصوص کمروں میں دیوار سے لگی ہوئی الماریاں قدِ آدم ہوتی تھیں تاکہ اوپر کے حصے میں سے کتابیں نکالنے کے لیے خطرناک سیڑھیاں لگانے کی ضرورت نہ پڑے۔ ان تمام الماریوں میں ڈھکن لگے ہوتے تھے جو بعض دروازوں کی طرح تھے اور بعض اوپر سے نیچے کھینچ کر مقفل کر دیے جاتے تھے۔ اس طرح گرد و غبار سے کتابیں بچ جاتی تھیں۔ کہیں تازہ ہوا کا گزر نہ ہونے کی وجہ سے دیمک ان کو چاٹ جاتی تھی۔

کتابوں کی جمع آوری

عہدِ حاضر میں طباعت کے فن نے بہت ترقی کر لی ہے۔ اس طباعت کے ترقی یافتہ دور میں اندازہ کرنا بہت مشکل ہے کہ اس زمانے میں کتابیں کیسے جمع کی جاتی تھیں جبکہ چھاپے خانے ابھی ایجاد نہ ہوئے تھے اور کتابوں کو ہاتھ سے لکھنا پڑتا تھا؟ کہا جاتا ہے کہ سب سے پہلے چین میں پی سنگ نے 1041 میں ٹائپ ایجاد کیا، مگر چینیوں کے پیچیدہ رسم الخط کے باعث عام نہ ہو سکا۔ اس کے بعد پندرھویں صدی عیسوی کے وسط میں چھاپے خانے کی ایجاد یورپ (جرمنی) میں ہوئی۔ مسلمانوں نے کتابوں کی قلت کے زمانے میں بہت سے طریقے اختیار کیے جن کی وجہ سے کتابیں ان کے کتب خانوں میں جمع ہوتی رہتی تھیں۔

حاجی محمد زبیر کتابوں کی فراہمی کے بارے میں رقم طراز ہیں:

1۔ بادشاہوں کے پاس ہدیوں اور تحفوں میں کتابیں آتی تھیں۔

2۔ تاجروں سے کتابیں خرید لی جاتی تھیں۔

3۔ نقل نویسوں سے کتابوں پر نقلیں کروائی جاتی تھیں (اس مقصد کے لیے باقاعدہ کاتب مقرر ہوتے تھے جو شب و روز کتابت کرنے میں مصروف رہتے تھے۔ بعض اوقات کئی کاتب مل کر ایک کتاب کے کئی نسخے کم وقت میں تیار کرتے تھے۔

4۔ غیر زبانوں کی کتابیں حاصل کر کے ان کے ترجمے کروائے جاتے تھے۔

5۔ فتوحات کے موقع پر کتابیں بطور مالِ غنیمت دستیاب ہوتی تھیں۔

6۔ سفیر و سیاح اپنے مالک کی کتابیں لاتے اور تبادلے میں لے کر جاتے تھے۔

7۔ حاجیوں کے ذریعے کتابیں منگوائی جاتی تھیں۔

مذکورہ بالا ذرائع کے علاوہ چند اور طریقوں سے بھی کتابیں کتب خانوں میں آتی رہتی تھیں۔ مثلا اہل علم اکثر پبلک کتب خانوں میں اپنی کتابوں کے ذخیرے وقف کرنے لگے۔ یہ ذخیرے عموما انہی کے نام سے منسوب ہوتے تھے۔ موجودہ بڑے بڑے کتب خانوں کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات معلوم ہو گی کہ بہت سے صاحبانِ علم مخیر حضرات نے اپنے ذاتی کتب خانے ان کتب خانوں میں عطیہ کے طور پر جمع کروا دئیے۔ مثلا پنجاب یونیورسٹی لائبریری میں ذخیرہ مولوی محبوب عالم، ذخیرہ حکیم عبدالمجید عتیقی، ذخیرہ پروفیسر شیخ محمد اقبال اور چند دیگر ذخیرے اسی طرح سے لائبریری میں جمع ہوئے۔

ان اوقاف کے علاوہ ایک صورت یہ ہوتی تھی کہ اکثر مصنفین اپنی تصنیفات کو ان کتب خانوں میں داخل کراتے تھے جو یقینا ایک ایسے زمانے میں حیرت انگیز بات ہے جبکہ پریس ایکٹ نہ تھا اور نہ خاص خاص سرکاری کتب خانوں کے لیے کتابوں کے چند نسخے داخل کرانے کی ناشرین پر پابندی عائد کی گئی تھی۔

کتابوں کی ترتیب و تنظیم

کتابیں جب لائبریری میں جمع ہو جاتی ہیں تو پھر ان کی ترتیب و تنظیم Organization کا مرحلہ آتا ہے۔ اسی مقصد کے لیے جماعت بندی (Classification) کے ضابطے اور فہرست سازی کے اصول (Cataloguing Rules) بنائے گئے۔ کتب خانوں میں ذخیرہ کتب کو تنظیم سے رکھنے کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ قارئین اس کو آسانی کے ساتھ استعمال کر سکیں اور اس سے زیادہ مؤثر طریقے سے استفادہ کر سکیں۔

قرون، وسطیٰ میں کتابیں لکڑی اور پتھر کی بنی ہوئی الماریوں میں عموما فن وار (Classified) رکھی جاتی تھیں۔ یہ اوپر تلے رکھی جاتی تھیں اور چھوٹی کتابوں کے اوپر بڑی کتابیں نہیں رکھتے تھے کیونکہ اس میں گرنے کا احتمال ہوتا تھا۔

(ان کو) رکھنے کا طریقہ یہ تھا کہ بجائے اس کے کتابوں کا پشتہ باہر کی طرف ہو جیسا کہ آج کل ہوتا ہے، اوراق باہر کی طرف ہوتے تھے۔ کتابوں اور مصنفین کے نام اوراق کے سب سے نیچے والے سرے پر لکھے جاتے تھے یا اس بکس پر لکھے جاتے تھے جن میں بیش قیمت کتابیں رکھی جاتی تھیں۔ چنانچہ جب کسی شخص کو کسی کتاب کی ضرورت ہوتی تو اسے آسانی سے پتہ چل جاتا تھا۔ مصر کے دارالکتب میں ایسی کتابیں اب تک موجود ہیں جو اس عہدِ کہن سے اسی طرح رکھی چلی آ رہی ہیں اور ان کے نام اور مصنفین کے نام اسی طرح لکھے ہوتے ہیں جیسے کہ پہلے زمانے میں لکھے جاتے تھے۔

کتابوں کی الماریاں کھلی ہوتی تھیں اور ہر شخص اپنی ضرورت کی کتاب لے سکتا تھا۔ بعض الماریاں مقفل رہتی تھیں کیونکہ ان میں بیش قیمت کتابیں یا مسودات رکھے جاتے تھے۔ ان میں سے کسی کتاب سے استفادہ کرنے کے لیے مجلسِ منتظمہ سے اجازت لینی پڑتی تھی۔

فہرست سازی (Cataloguing)

ذخیرہ کتب کو تنظیم سے رکھنے کا ایک اہم حصہ فہرست سازی کا ہے۔ کتب خانے کی فہرست وہ کلیہ ہے جو کتب خانے کے خزانے کو کھولتی ہے۔ عصر حاضر میں تمام کتب خانے کارڈ کیٹیلاگ (Card Catalogue) مرتب کرتے ہیں۔ کتابی صورت میں بھی فہرستیں شائع کی جاتی ہیں تاکہ معلوم ہو سکے کہ لائبریری کے ذخیرے میں موجود وسائل کیا ہیں اور وہ کون سے انمول موتی ہیں، جو اس زمانہ میں پڑے ہوئے ہیں۔ مسلمانوں نے اس طرف خاص توجہ دی۔ چنانچہ ابن الندیم کا نام سب سے پہلے مسلمان فہرست نگار کی حیثیت سے سامنے آتا ہے جس نے "الفہرست" کو مرتب کر کے ہمیں اپنے اسلاف کے علمی، ادبی اور ثقافتی ورثے سے متعارف کرایا۔

ڈاکٹر احمد شلبی کہتے ہیں کہ بڑے کتب خانے کے ساتھ ۔۔۔ ایک فہرست بھی ہوتی تھی جس کی مدد سے پڑھنے والے کتب خانہ سے استفادہ کرتے تھے۔ علاوہ ازیں الماری کے ہر خانے کے باہر اس کے اندر والی کتابوں کے نام لکھے ہوئے لٹکے رہتے تھے۔ اس کاغذ پر یہ تفصیل بھی درج ہوتی تھی کہ کون سی کتاب نا مکمل ہے یا کوئی حصہ غائب ہے۔

بڑے بڑے کتب خانوں کی فہرستیں کئی کئی جلدوں میں ہوتی تھیں۔ بغداد، شیراز اور مصر کے کتب خانوں کی بڑی بڑی اور مفصل فہرستیں تیار کی گئی تھیں۔ شیراز میں عضدالدولہ کے کتب خانہ کی فہرست دو جلدوں میں تھی، جن میں کتابوں کے نام لکھے ہوئے تھے۔ قاہرہ میں العزیز کے کتب خانہ کی فہرست اس کے وزیر ابوالقاسم نے تیار کروائی تھی۔ رے کے کتب خانہ کی ایک فہرست یاقوت نے دیکھی تھی جو دس جلدوں میں تھی۔ بعض اہلِ علم نے اپنے ذاتی کتب خانوں کی فہرستیں تیار کی تھیں۔

علی بن موسیٰ الکاؤس (589ھ-664ھ) نے اپنے ذخیرہ کتب میں سے انتخاب کر کے چیدہ کتابوں کی ایک فہرست تیار کی تھی جس کا نام انہوں نے "لا بانة فى معرفة اسماء كتب الخزانة" رکھا تھا۔ اس کے علاوہ انہوں نے ایک مفصل فہرست تیار کی تھی جو انہوں نے 651ھ میں اپنی اولاد پر وقف کی تھی۔ اس فہرست کا نام "سعد السعود" تھا جو بڑے پیمانہ پر لکھی گئی تھی۔ اس میں کتابوں کے متعلق بڑی تفصیلی معلومات دی گئی تھیں۔ یہ بالکل ہمارے زمانہ کے علمی فہرستوں کی طرز پر مرتب کی گئی تھی۔

کتب خانے کا عملہ:

کتابوں کی جمع آوری ، ترتیب و تنظیم اور ان کا استعمال کرانے کے لیے ضروری ہے کہ ایسا عملہ رکھا جائے جو باصلاحیت ہو۔ موجودہ دور میں عملے کی تنخواہوں پر کل لائبریری بجٹ کا 60 فیصد تک بھی خرچ کیا جاتا ہے۔ دراصل لائبریری کا عملہ کتاب اور قاری کے درمیان ایک واسطے کی حیثیت رکھتا ہے۔ عصرِ حاضر میں یہ کوشش کی جاتی ہے کہ لائبریرین تربیت یافتہ ہو اور علمی لحاظ سے بھی اعلیٰ تعلیم یافتہ ہو۔

اسلامی کتب خانوں کے خازن (لائبریرین) وہ لوگ ہوتے تھے جن کا علمی مرتبہ بہت بلند ہوتا تھا۔ خازنوں کے سلسلے میں اکثر مشہور علماء، فضلاء ، ادباء اور مورخین کا نام آتا ہے۔ مثلا ازیر ابن العمید الرازی کے کتب خانہ کے خازن مشہور مورخ اور فلسفی ابن مسکویہ (م 241ھ) تھے۔ مشہور ادیب علامہ ابوزکریا تبریزی کتب خانہ نظامیہ کے لائبریرین تھے۔ محدث، مورخ اور فلسفی علامہ ابن الفواطی (م 642ھ) کتب خانہ مستنصریہ کے خازن تھے۔ ابو منصور محمد بن علی (م 418ھ) دارالعلم بغداد کے کتب خانہ میں لائبریرین تھے۔ برصغیر پاک و ہند میں بھی ہمیں ایسی مثالیں ملتی ہیں۔ جلال الدین خلجی کے شاہی کتب خانے کی عظمت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ امیرخسرو جو اس وقت کے سب سے بڑے مصنف اور عالم تھے۔ اس کتب خانہ کے مہتمم کی حیثیت سے فرائض سر انجام دیا کرتے تھے۔

لائبریرین کے فرائض کے بارے میں ڈاکٹر احمد شلبی لکھتے ہیں:

"مہتمم اپنے کتب خانے کے انتظامی اور ذہنی معاملات کا ذمہ دار ہوتا تھا۔ وہ نئی نئی کتابیں مہیا کرتا تھا۔ فہرستوں کی تیاری اس کی نگرانی میں ہوتی تھی اور مطالعہ کرنے والوں کو ہر قسم کی سہولت اور مشورہ دیتا تھا۔ کتابیں مستعار دیتے وقت اس کی منظوری کی ضرورت ہوتی تھی۔

لائبریرین کی مدد کے لیے دیگر عملہ بھی ہوا کرتا تھا جن میں مشرف (نگران) نقل نویس (کاتب) جلد ساز و طلا کار، کتابوں کی تصحیح کرنے والے، اور خدمت گار آتے ہیں۔

قارئین کے لیے خدمات (Readers Services)

لائبریری میں موجود کتابوں اور دیگر مطالعاتی مواد (Reading Material) کو منظم طریقے سے رکھنے کا مقصد ہی یہ ہوتا ہے کہ قارئین اس سے آسانی سے فائدہ اٹھا سکیں۔ کتب خانے کا بھرپور استعمال کرانے کے لیے ایسے بہت سے اقدامات کئے جاتے ہیں جن کی وجہ سے قارئین موثر طریقے سے کتب خانے میں موجود مواد سے استفادہ کر سکتے ہیں۔ اس سلسلے میں لائبریری مختلف قسم کی خدمات (سروسز) مہیا کرتی ہے۔

قرونِ وسطیٰ کے اسلامی کتب خانوں میں بھی قارئین کو بہت سی خدمات فراہم کی جاتی تھیں۔

(ا)استعارہ کتب

کتب خانوں میں کتابیں مطالعہ کے لیے دی جاتی تھیں اور صرف یہی نہیں بلکہ انہیں مستعار بھی دیا جاتا تھا۔ بقول اولگا پنٹو علماء او طلباء کی سہولت کے لیے پبلک کتب خانوں سے دور دراز مقامات تک کتابیں بھیجی جاتی تھیں۔ اس کے لیے کبھی کبھی کوئی رقم ضمانت کے طور پر جمع کرالی جاتی تھی۔ مگر مشہور و معروف اہلِ قلم کو اس سے مستثنیٰ بھی کر دیا جاتا تھا۔ جب کسی کتاب کو مستعار لینے کے لیے ایک سے زیادہ خواہش مند ہوتے تو ان میں جو غریب ہوتا اسے ترجیح دی جاتی تھی۔

استعارہ کتب کے لیے کچھ قواعد و ضوابط بھی مقرر کر دئے گئے تھے۔ مثلا مستعار لی ہوئی کتاب حفاظت سے رکھی جائے، اس پر کچھ لکھا نہ جائے، اسے کسی اور شخص کو مستعار نہ دیا جائے، وہ کہیں بطورِ ضمانت نہ رکھی جائے، کتاب واپس کرنے میں غفلت نہ کی جائے، تقاضے پر کتاب فورا واپس کر دی جائے۔

بعض حالات میں وقت کا تعین کر دیا جاتا تھا۔ ابنِ خلدون نے اپنی تصنیف "کتاب العبر" کا نسخہ۔۔۔ جامعۃ القیردان کے کتب خانے کو عطا کر دیا تھا۔ یہ ضابطہ بنا دیا تھا کہ وہ کتاب صرف قابلِ اعتماد اور بھروسے کے آدمیوں کو زیادہ سے زیادہ دو ماہ کے لیے معقولزرِ ضمانت جمع کرنے پر دی جائے گی۔

(ب) حوالہ جاتی خدمات (Reference Services)

حوالہ جاتی خدمت بہت اہم سروس ہے، جو آج کل کتب خانوں میں قارئین کو فراہم کی جاتی ہے۔ قاری کوئی مسئلہ یا استفسار لے کر لائبریری میں آتا ہے اور کتب خانے کا عملہ اس کے حل کرنے میں اس کی مدد کرتا ہے۔ اسلامی کتب خانوں میں اس سروس کی نشاندہی بھی ہوتی ہے۔ لائبریرین کا ایک فرض یہ ہوتا تھا کہ وہ علمی کاموں میں قارئین کی رہنمائی کرے اور انہیں مشورہ دے۔ ڈاکتر احمد شلبی نے ابو سعید العقیلی کے وہ شعر نقل کیے ہیں جو الصولی کے بارے میں ہیں:
انما الصولى شيخ
اعلم الناس خزانه
كلما جئنا اليه
نبتغى منه ابانه
قال يا غلمان هاتوا
رزمة العلم فلانه

"یعنی ابوسعید کہتا ہے کہ جب کبھی ہم الصولی کے پاس جاتے ہیں جن کے پاس نہایت اعلیٰ درجے کا کتب خانہ ہے۔ تو ہمارا مقصد کسی مسئلے کی گتھی سلجھانا ہوتا ہے، وہ اپنے خدمت گاروں کو چند خاص کتابیں لانے کا حکم دیتے ہیں۔ جدید اصطلاح میں اس قسم کی خدمت "ریفرنس سروس" میں آتی ہے۔

دیگر سہولتیں

کتب خانوں میں ایسی سہولتیں فراہم کی جاتی ہیں جن کی وجہ سے قارئین آسانی سے کام کر سکیں۔ تحقیق کرنے والوں کے لیے ایسا ماحول فراہم کیا جاتا ہے جس میں وہ اطمینان کے ساتھ تحقیق کا کام کر سکیں۔ اسلامی کتب خانوں میں قارئین کے لیے کتب خانہ کے اندر مطالعہ کی سہولتیں اور آسانیاں فراہم کی جاتی تھیں۔ ان کے آرام و سکون کا بڑا خیال رکھا جاتا تھا۔ ان کے دارالمطالعوں میں عمدہ اور آرام دہ فرش بچھائے جاتے تھے اور بعض کتب خانوں میں تو اتنی اعلیٰ پیمانہ پر سہولتیں فراہم کی جاتی تھیں جن کی نظیر آج کل کے کتب خانوں میں بھی نہیں ملتی۔ مثلا فاطمی خلیفہ الحاکم کے کتب خانہ (قاہرہ) میں قارئین کو قلم دوات اور کاغذ بھی مہیا کیا جاتا تھا۔ ابو علی بن سوار کے کتب خانہ (بصرہ) میں جو طلباء وغیرہ کتابیں مطالعہ کرنے یا نقل کرنے جاتے۔ ان کے لیے بانی کتب خانہ کی طرف سے کھانے کا انتظام کیا جاتا تھا۔ یہ ایسی سہولتیں ہیں جو آج کل کے ترقی یافتہ دور کے کتب خانوں میں موجود نہیں، قصہ پارینہ ہی معلوم ہوتی ہیں:
تازہ خواہی داشتن گرداغہائے سینہ را
گاہے گاہے بازخواں ایں قصہ پارینہ را

کتابیات:

1۔ ابن الطقطقی، محمد بن علی بن طباطبا، تاریخ الدول الاسلامیہ (کتاب الفخری) بیروت ۔۔۔ 1960ء

2۔ ابن الطقطقی، محمد بن علی بن طبا طبا، الفخری، اصول ریاست و تاریخ، ترجمہ محمد جعفر پھلواری لاہور، ادارہ ثقافت اسلامیہ 1962ء

3۔ احمد شلبی، تاریخِ تعلیم و تربیتِ اسلامیہ، ترجمہ محمد حسین خان زبیری، لاہور، ادارہ ثقافت اسلامیہ 1962ء

4۔ اختر، قاضی احمد میاں جوناگڑھی، "عہد اسلامی میں کتب خانوں کا نظم و نسق" روئداد اجلاس سوم، ادارہ معارف اسلامیہ منعقدہ 26۔27۔28 دسمبر 1938، لاہور۔ مجلس، عاملہ ادارہ معارفِ اسلامیہ، 1942، ص137 تا 169)

5۔ اختر، قاضی احمد میاں جوناگڑھی، "مسلمانانِ سلف اور جمع و مطالعہ کتب کا شوق"۔ روئداد ادارہ معارفِ اسلامیہ اجلاس دوم منعقدہ لاہور 10،11،12 اپریل 1936، لاہور ، مجلس عاملہ ادارہ معارفِ اسلامیہ 1938ء، ص: 65 تا 92۔

6۔ پنٹو اولگا (ڈاکٹر) اسلامی کتب خانے (عہد عباسیہ میں) ترجمہ قاضی احمد میاں اختر جوناگڑھی، لکھنؤ، دارالناظر پریس، 1932ء۔

7۔ رئیس احمد صمدانی۔ کتب خانے تاریخ کی روشنی میں۔ کراچی، قمر کتاب گھر، 1977ء

8۔ شبلی نعمانی "اسلامی کتب خانے" رسائل شبلی، امرت سر، روز بازار سٹیم پریس 1911ء ص: 25-56

9۔ شیا۔جے۔ایچ۔ لائبریرین شپ کی عمرانی بنیادیں۔ ترجمہ و تلخیص سید جمیل احمد رضوی ، لاہور، پاکستان۔ لائبریری ایسوسی ایشن (پنجاب کونسل) 1980ء)

10۔ محمد زبیر ۔ اسلامی کتب خانے۔ کراچی، ایچ۔ایم سعید کمپنی (1978ء)

11۔ محمد جعفر پھلواروی۔ مجمع البحرین۔ (یعنی شیعہ و سنی کی متفق علیہ روایات) لاہور، ادارہ ثقافت اسلامیہ 1969ء
حوالہ جات

اولگا پنٹو۔ اسلامی کتب خانے (عہد عباسی میں) ص 21،23

محمد زبیر اسلامی کتب کانے ص64

تفصیل کے لیے دیکھئے، قاضی احمد میاں اختر جوناگڑھی "عہد اسلامی میں کتب خانوں کا نظم و نسق" (طبع دوم) روئیداد اجلاس سوم ادارہ معارف اسلامیہ منععقدہ دہلی

احمد شلبی (ڈاکٹر) تاریخ تعلیم و تربیت اسلامیہ، مترجم محمد حسین خان زبیری ص 69

احمد شلبی (ڈاکٹر) تاریخ تعلیم و تربیت اسلامیہ، مترجم محمد حسین خان زبیری ص 69

احمد شلبی (ڈاکٹر) تاریخ تعلیم و تربیت اسلامیہ، مترجم محمد حسین خان زبیری ص 69

ایضا ص70

قاضی احمد میاں اختر جوناگڑھی۔ "عہد اسلامی میں کتب خانوں کا نظم و نسق" ص153،54

رئیس احمد صمدانی، کتب خانے تاریخ کی روشنی میں، ص70-71

احمد شلبی (ڈاکٹر) تاریخ تعلیم و تربیتِ اسلامیہ (اردو ترجمہ) ص73

محمد زبیر۔ اسلامی کتب خانے ص68-69

محمد زبیر۔ اسلامی کتب خانے ص68-69

احمد شلبی (ڈاکٹر) تاریخ تعلیم و تربیت اسلامیہ (اردو ترجمہ) ص72

ایضا ص80

محمد زبیر۔ اسلامی کتب خانے ص69