ترے جلووں کی اصلا کیف سامانی نہیں جاتی
دل پر شوق کی بیتاب حیرانی نہیں جاتی
نگاہوں میں سماتے بھی نہیں لیکن یہ عالم ہے
نگاہِ ناز کی دل پر نگہبانی نہیں جاتی
تجلی حسن کی نیرنگیاں کیا کیا دکھاتی ہیں
ہجومِ شوق کی دل پر ستم رانی نہیں جاتی
نگاہیں فرشِ رہ رکھتا ہے ہر دم شوق بیجا کے
دلِ ناداں کی ہرگز کفر سامانی نہیں جاتی
مچلتا ہے الجھنے کے لیے پیچاکِ الفت میں
تیرے صدقے میں اس کی پاک دامانی نہیں جاتی
گریباں چاک کر لیتا ہوں شوقِ دید میں لیکن
وہ پہچانی ہوئی صورت بھی پہچانی نہیں جاتی
جلا کر خاک کر ڈالے حجابات نظر اس نے
دلِ آتش بجاں کی شعلہ سامانی نہیں جاتی
نمودِ حُسن ہی بے تاب رہتی ہے مچلنے کو
کمالِ پردہ داری میں بھی عریانی نہیں جاتی
الجھ کر رہ گئیں اسرار نظریں ان کے جلووں میں
کسی ناصح کی ہم سے بات اب مانی نہیں جاتی