سلف کا عقیدہ ان کے اقوال کی روشنی میں

ہم یہاں اسماء و صفات کے متعلق اسلاف سے منقول بعض نصوص پیش کر رہے ہیں:

1۔ ولید بن مسلم کا بیان ہے کہ میں نے اوزاعی، مالک بن انس، سفیان ثوری اور لیث بن سعد سے صفات میں وارد احادیث کے بارے میں سوال کیا تو سب نے ایک ہی بات کہی، یہ تمام احادیث اپنے حقیقی معانی پر کیفیات سے تعرض کیے بغیر محمول کی جائیں گی۔

2۔ ربیعہ اور مالک کا قول ہے: "استواء غیر مجہول ہے اور اس کی کیفیت سمجھنے سے انسانی عقل قاصر ہے مگر استواء پر ایمان لانا واجب ہے۔"

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ نے "الفتویٰ الحمویۃ" کے ص 109 میں لکھا ہے:

"ربیعہ اور مالک کے قول (استواء غیر مجہول سے، اور اس کیفیت ۔۔۔الخ) کا مطلب وہی ہے جو باقی دیگر علماء سلف کے قول"امروها كماجاءت بلا كيف" کہ "صفات جس طرح وارد ہوئی ہیں، کیفیت سے تعرض کیے بغیر اسی پر محمول رکھو" کا ہوتا ہے اس لیے کہ ان لوگوں نے کیفیت جاننے کی نفی کی ہے، نہ کہ صفتِ الہی جاننے کی اور اگر سلف اللہ کے شایانِ شان معنی سمجھے بغیر محض لفظ پر ایمان کے قائل ہوتے تو استواء ان کے نزدیک معلوم چیز نہ ہوتا بلکہ حروف معجم کی طرح مجہول ہوتا۔

اور اگر لفظ کا کوئی مفہوم پیش نظر نہ ہوتا تو پھر کیفیت کے علم کی نفی کرنے کی کوئی ضرورت نہ پڑتی، کیفیت کی نفی کی ضرورت ہی اس وقت پیش آئی جب کہ صفات کو ثابت مانا گیا۔

کیونکہ جو شخص صفات کا جزئی طور پر یا علی الاطلاق انکار کرتا ہو، اسے علمِ کیفیت کی نفی کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔

اسی طرح سلف کے قول (نصوصِ صفات کو جیسے وارد ہیں ویسے ہی باقی رکھو، کیفیت سے تعرض نہ کرو) کا بھی تقاضا ہے کہ ان نصوصِ صفات کو ان کے اصل مدلول ہی پر باقی رکھا جائے، اس لیے کہ اسماء و صفات ایسے الفاظ کی شکل میں وارد ہیں جو معانی پر دلالت کرتے ہیں، لہذا اگر اسلاف ان الفاظ کے مدلول کا انکار کرتے تو یوں کہتے:

"نصوصِ صفات کے الفاظ کو جیسے وارد ہیں باقی رکھو، اس اعتقاد کے ساتھ کہ ان کا کوئی مفہوم مراد نہیں ہے، یا بالفاطِ دیگر یوں کہتے (کہ نصوصِ صفات کے الفاظ کو جیسے وارد ہوں ویسے باقی رکھو، مگر یہ اعتقاد رکھو کہ ان نصوص کے حقیقی مدلول سے اللہ متصف نہیں) اور اسلاف کیفیت سے تعرض نہ کرنے کی بات نہ کہتے۔ کیونکہ جو چیز خود ہی ثابت نہ ہو اس کی کیفیت کی نفی و تردید لغو بات ہو گی۔"

امام خطابی کا قول ہے:

"صفات کے باب میں کیفیت اور تشبیہ کی نفی کے ساتھ، صفات کا اثبات اور ظاہر پر ان نصوص کو محمول کرنا سلف کا شیوہ ہے"

حافظ ابن عبدالبر رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے:

"قرآن و حدیث میں وارد صفاتِ الہی کے اقرار، اور انہیں ان کی حقیقت، نہ کہ مجاز پر محمول ماننے پر اہلِ سنت والجماعۃ کا اجماع ہے۔ ہاں لیکن ان لوگوں نے ان میں سے کسی صفت کی کیفیات کی حد بندی نہیں کی ہے۔ رہے جہمیہ، معتزلہ اور خوارج، تو یہ سب صفاتِ الہی کے منکر ہیں، اور کسی بھی صفت کو حقیقت پر محمول نہیں کرتے اور فرماتے ہیں کہ جو ان صفات کو ثابت مانے گا وہ اللہ کو مخلوق کے مشابہ بتلانے والا شمار کیا جائے گا، لیکن صفات کے قائلین (اہل سنت والجماعۃ) کی نظر میں یہ حضرات (جہمیہ، معتزلہ و خوارج) سرے سے معبود ہی کے منکر ہوں گے۔"

مندرکہ بالا تمام اقوال اس بات کی متفقہ گواہی دے رہے ہیں کہ سلف آیاتِ صفات سمجھتے اور ان کی تفسیر کرتے ہیں اور خدا کے شایانِ شان ان کے معنی متعین کرتے ہیں۔

تو کیا کوثری وغیرہ کی نظر ان اقوال پر نہیں پڑتی اور یوں ہی برابر یہ رٹ لگاتے پھر رہے ہیں کہ جناب سلف تو نصوصِ صفات سمجھتے ہی نہیں بلکہ تدبر او معنی بیان کیے بغیر صرف زبان سے ان صفات کے الفاظ کا اقرار کر لیتے ہیں۔

کوثری وغیرہ کے سلسلے میں زیادہ سے زیادہ یہ کہا جا سکتا تھا کہ یہ لوگ امام جوینی رحمۃ اللہ علیہ کی مانند ہون گے جو کسی دور میں اپنے مشائخ سے متاثر تھے مگر چونکہ امام جوینی اللہ کی ذات و صفات جاننے کے سلسلے میں پورے طور پر نیک نیت اور مخلص تھے اس لیے اللہ نے ان کی عقیدہ سلف کی طرف ہدایت فرما دی جیسا کہ ار شاد ہے:

﴿وَالَّذينَ جـٰهَدوا فينا لَنَهدِيَنَّهُم سُبُلَنا ۚ وَإِنَّ اللَّهَ لَمَعَ المُحسِنينَ ﴿٦٩﴾... سورةالعنكبوت

"جو ہماری خاطر جدوجہد کرتے ہیں ہم انہیں ضرور اپنا راستہ دکھائیں گے۔"

لیکن کیا محدثین اور سلف کی مسلسل طعن و تشنیع کرنے والے جناب کوثری وغیرہ بھی نیک نیت اور مخلص ہیں؟

ائمہ سلف اور علمبردارانِ توحید سے کوثری صاحب کی تمام تعلیقات میں شدید دشمنی اور برابر اسلاف پر، خاص طور پر شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ پر، ان لوگوں کی جانب سے تشبیہ و تجسیم کا تہام دیکھتے ہوئے مندرجہ بالا سوال کے اثبات میں جواب دینا بڑا دشوار ہے۔ باوجودیکہ ابن تیمیہ نے اپنی تمام کتابوں، رسالوں میں مجسمہ وغیرہ پر زور دار نقد کیا ہے، یہاں تک کہ جہاں کہیں معطلہ کی تردید کرتے ہیں تو مجسمہ پر بے لاگ تنقید کرتے ہوئے نظر آتے ہیں جو کہ تالیفاتِ ابن تیمیہ کا مطالعہ کرنے والے سے مخفی نہیں ہے۔ مجسمہ پر ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ کے تنقیدی مباحث کا ایک نمونہ (الفتوی الحمویہ ص160 سے) ہم یہاں پیش کر رہے ہیں ۔۔۔

شیخ الاسلام رحمۃ اللہ علیہ رقمطراز ہیں:

"اگر کوئی کہے کہ علم اور ہاتھ سے وہی علم و ہاتھ سمجھ میں آتا ہے جو ہمارے ذہن میں ہے تو اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ تو پھر تمہاری عقل میں ایسی ذات کیسے آ جاتی ہے جو مخلوق کی ذات سے یکسر مختلف اور مغائر ہے جب کہ ذہنِ انسانی میں صرف مخلوق کی ہی ذات کا تصور رہتا ہے؟ ۔۔۔ اور یہ واضح ہے کہ ہر موصوف کی صفات، اس موصوف کی ذات اور حقیقت کے مطابق و مناسب ہوں گی، تو جو شخص اللہ رب العالمین ۔۔۔ جس کے مانند کوئی نہیں، کی صفات سے مخلوق ہی کے شایانِ شان صفات سمجھتا ہے، ایسا شخص اپنے دین او مذہب اور عقل کے معاملہ میں گمراہ ہے۔"

یہ تو شیخ الاسلام رحمۃ اللہ علیہ کے ان علمی مباحث کا ایک نہایت معمولی حصہ ہے، جو قطعی طور پر دلالت کرتے ہیں کہ آپ اللہ کی تنزیہ کرتے ہیں نہ کہ تشبیہ و تجسیم، جیسا کہ کوثری وغیرہ اتہام لگاتے ہیں۔

عقائد ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ کے سلسلے میں ابوزہرہ صاحب کے خیالات کا ایک جائزہ:

محمد زاہد کوثری کے دوست جناب ابو زہرہ صاحب نے اپنی کتاب "ابن تیمیہ" میں صفات الہی سے متعلق ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ کے قیمتی مباحث سے بہت سارا اقتباس نقل کیا ہے، بعد ازاں موصوف نے ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ کے عقائد کی بڑی عمدہ تلخیص کی ہے جس میں کسی طرح کی حملہ آوری یا ہجوم نہیں ہے، بلکہ کوثری صاحب نے جن چیزوں سے شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ کو مہتم کیا ہے، ان سب سےبَری قرار دیتے ہوئے شیخ ابوزہرہ نے صفحہ 264 میں فرمایا ہے:

"ان اقتباسات میں کوئی ایسی چیز نہیں ہے جو خدا کی تنزیہ یا توحید کے مخالف ہو، یا جس سے اللہ اور مخلوق کے درمیان کسی طرح کی تشبیہ ثابت ہو رہی ہو۔"

پھر آگے چل کر صفحہ 266 میں لکھا ہے:

"بلاشبہ یہی نتیجہ برآمد ہوتا ہے کہ ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ اللہ تعالیٰ کے لیے استواء اور ید وغیرہ صفات ثابت مانتے ہیں، لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ ساری صفات اللہ کے شایانِ شان ہیں، ان کی حقیقت و کیفیت ہمیں نہیں معلوم، مگر ان پر ایمان لانا ہمارے لیے واجب ہے۔"

مگر اس کے بعد ابوزہرہ ابن جوزی کی کتاب "رد شبہ التشبیہ" سے ایک عبارت نقل کرتے ہیں، جس میں ابن جوزی نے تاویل کی حمایت کی ہے اور جو لوگ اربابِ تاویل پر تشبیہ کا الزام لگاتے ہیں اس کی تردید کی ہے، اسے نقل کرنے کے بعد شیخ ابوزہرہ صفحہ 276 میں فرماتے ہیں:

"اور یہ ہے ان لوگوں کی بحث کا خلاصہ اور نتیجہ، اب کتنی بھی نفی تشبیہ کی کوشش کریں تو بیکار ہے، بہرحال تشبیہ سے ان لوگوں کا دامن داغدار ہی رہے گا، ایک صدی سے زیادہ کا عرصہ بیت جانے کے بعد ابن تیمیہ اگر آ کر کہیں کہ اس سے صرف اسم میں اشتراک مقصود ہے نہ کہ حقیقت میں، تو اگر یہ لوگ استواء کی ظاہر لفظ کے مطابق تفسیر کرتے ہیں تو اس کے معنی اقتعاد و جلوس (بیٹھنا) ہو گا، ایسی صورت میں لامحالہ تجسیم لازم آئے گی اور اگر غیر محسوس سے اس کی تفسیر کریں تو پھر یہ تاویل ہو جائے گی جس سے یہ لوگ خود روکتے ہیں۔"

مگر ہم عرض کرتے ہیں کہ ٹھہرئیے جناب! آپ سے مخفی نہیں کہ ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ استواء کی تفسیر آپ کے بیان کردہ (اقتعاد و جلوس یا غیر محسوس) سے نہیں کرتے ہیں، بلکہ علو اور بلندی میں ہونے سے کرتے ہیں، ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ کی کتابیں اس سے بھری پڑی ہیں، تو پھر آپ قارئین کو خلافِ حقیقت کا وہم دلانے کی کیوں کوشش کر رہے ہیں؟ کیا آپ عقائد ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ کی تشریح کرتے وقت ان کے اقوال کے نقل میں اپنے طریقِ کار پر نہ چلے ہیں یا صحیح نقل کے التزام سے تنگ آ کر دست کشی کر لی؟

اس لیے آپ نے غلط باتوں کا انتساب شروع کر دیا، کہیں اشارہ و کنایہ کے انداز میں جیسا کہ مندرجہ بالا اقتباس میں، مثلا آپ نے اپنی دوسری تصنیف میں "المذاہب الاسلامیہ" کے ص 230 میں "سلفیت اور ابن تیمیہ" کے زیر عنوان فرمایا ہے:

"اور اس طرح ابن تیمیہ، قرآن و حدیث میں اوصافِ خداوندی کے سلسلے میں جو کچھ وارد ہے، اسے ثابت مانتے ہیں، اور عرش پر اللہ کے مستقر ہونے کو ثابت مانتے ہیں۔"

آخر آپ نے امام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ کو کہاں دیکھا کہ انہوں نے عرش پر اللہ کے مستقر ہونے کی بات کہی ہے، جب کہ یہ معلوم ہے کہ استقرار علو کے مفہوم پر ایک زائد چیز کا اضافہ ہے جو کہ شریعت میں وارد نہیں، اسی لیے ہم حافظ ذہبی رحمۃ اللہ علیہ کو دیکھتے ہیں کہ صفتِ علو کے ان قائلین کی تردید کرتے ہیں، جو لوگ اسے استقرار سے تعبیر کرتے ہیں۔ ملاحظہ ہو"العلو للعلى العظيم"۔ ترجمہ نمبر 158 فقرہ نمبر 323

ابوزہرہ صاحب اپنی اس کتاب کے صفحہ 322 میں رقمطراز ہیں:

"ابن تیمیہ، قرآن میں جو کچھ وارد ہے مثلا اللہ کا فوق میں ہونا، تحت میں ہونا، عرش پر مستوی ہونا، سب کو ثابت ماننا سلف کا مذہب بتلاتے ہیں۔"

اسی طرح صفحہ 321 میں لکھا ہے:

"ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ اس معنی کا بار بار ذکر کرتے ہیں، پھر بتاکید کہتے ہیں کہ اللہ عرش سے اترتا ہے اور فوق نیز تحت میں ہوتا ہے، مگر ان سب کی کیفیت ہمیں نہیں معلوم۔"

شیخ ابوزہرہ سے ہمارا سوال ہے کہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ نے اللہ کے تحت میں ہونے کی بات کہاں کہی ہے؟ غالب گمان یہ ہے کہ موصوف نے احادیثِ نزول سے تحت ہونے کا مفہوم سمجھ کر اسے ابن تیمیہ کی جانب منسوب کر دیا ہے، حالانکہ ان چیزوں کی یہ نسبت ابن تیمیہ کی طرف غلط ہے جو کسی بھی مؤلفات ابن تیمیہ کا بنظر غائر مطالعہ کرنے والے سے ہرگز مخفی نہیں، ہاں ایسے لوگوں سے مخفی ہو سکتی ہے جو ابن تیمیہ کی سوانح حیات میں نقل کرنے کی خاطر یوں ہی سرسری مطالعہ کئے ہوں۔

ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ کی جانب اس طرح کے غلط انتسابات دیکھ کر محسوس ہوا کہ ابوزہرہ صاحب ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ کو اچھی طرح سمجھ سکے اور نہ ان کے عقائد و افکار کو، بلکہ شاید ابوزہرہ نے جن مسائل پر قلم اٹھایا ہے، انہی کے بارے میں ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ کی تمام مطبوعہ بحوث و رسائل مثلا "المکتب الاسلامی" بیروت سے شائع شدہ "شرح حدیث النزول لابن تیمیہ" کو بھی وقت سے نہیں پڑھا ہے۔ چہ جائیکہ ان کتابوں کو پڑھتے جو ہنوز شیورِ طبع سے آراستہ نہ ہو سکی ہیں بلکہ مخطوطات کی شکل میں پائی جاتی ہیں۔ شیخ الاسلام رحمۃ اللہ علیہ نے "شرح حدیث النزول" میں یہ ثابت کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے عرش سے اترنے سے یہ نہیں لازم آتا کہ اس وقت عرش اللہ کے اوپر اور اللہ عرش کے نیچے ہو جاتا ہے اس لیے کہ نزول اور اترنے کا یہ مفہوم مخلوق کے سلسلے میں ہے۔ رہا اللہ تو اس کے مثل کوئی نہیں۔ حافظ ذہبی رحمۃ اللہ علیہ کی اس کتاب میں امام اسحق بن راہویہ کی سوانح کے ضمن میں فقرہ نمبر 211 پر تعلیق لگاتے ہوئے اس مسئلہ کی جانب ہم نے اشارہ کیا ہے لیکن شیخ الاسلام نے تو "منہاج السنۃ" کی جلد دوم صفحہ 248 میں یہاں تک فرمایا ہے:

"جو نادان سوچتے ہیں کہ اللہ جب آسمانِ دنیا پر اترتا ہوگا، جیسا کہ حدیث میں ہے، تو اس وقت عرش اللہ کے اوپر اور اللہ عالم کے دو طبق کے درمیان محصور ہو جاتا ہو گا۔ اس طرح کا خیال اجماعِ سلف کے علاوہ قرآن و حدیث کے بھی خلاف ہے۔ جیسا کہ دوسری جگہ پر یہ بحث تفصیل سے آچکی ہے۔"

ابوزہرہ کے سلسلے میں شیخ الاسلام کو نہ سمجھنے کی جو بات کہی ہے اس کی تائید اس تلخیص سے بھی ہوتی ہے جو موصوف نے اپنی کتاب "ابن تیمیہ" کے صفحہ 276 میں ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ کے سلسلے میں کی ہے، یعنی:

"ابن تیمیہ کا خیال ہے کہ ید، نزول، قدم، وجہ اور استواء کے الفاظ اپنے ظاہر پر محمول کیے جائیں گے، لیکن ان معانی کے ساتھ جو اللہ کی ذات مقدس کے شایانِ شان ہوں، جیسا کہ گزشتہ صفحات میں ہم نے اس مفہوم کے اقتباسات کو نقل کیا ہے۔"

اس تلخیص پر موصوف نے اکتفا نہ کیا جو فی الواقع حقِ صریح ہے، بلکہ جناب نے ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ کے اس نظریہ کی خواہ مخواہ تردید شروع کر دی، فرماتے ہیں:

"ہم یہاں تھوڑی دیر ٹھہرتے ہیں، یقینا یہ تمام الفاظ فی الحقیقۃ انہیں معانی کے لیے وضع کیے گئے ہیں جو ہم جانتے اور محسوس کرتے ہیں اور ان محسوس معانی کے علاوہ کسی بھی دوسرے معنی پر ان الفاظ کو محمول کرنا علی وجہ الحقیقۃ نہ ہو گا، لہذا جب یہ الفاظ اپنے غیر معانی پر محمول کیے گئے خواہ وہ معانی معلوم ہوں یا مجہول، بہرحال وہ غیر حقیقی ہی ہوں گے۔ ایسی صورت میں کبھی بھی نہیں کہا جائے گا کہ یہ الفاظ اپنے ظاہری معنی پر محمول کیے گئے ہیں بلکہ یہی کہا جائے گا کہ ان الفاظ کی تاویل کی گئی ہے۔ اس طرح سے ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ اگر ایک تاویل سے بچ نکلے تو دوسری تاویل میں جا پھنسے، ایک مجازی تفسیر سے بچنے کی کوشش کی تو دوسری مجازی تفسیر اختیار کرنا پڑی۔"

محترم ناظرین! خدا کے واسطے سے آپ خود ہی فیصلہ کر لیں۔ کیا ابوزہرہ جیسا کوئی عالم امام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ کے سلسلے میں اس انداز کی بات کہہ سکتا ہے جس نے خود بارہا شیخ الاسلام کے اقوال نقل کیے ہوں اور اس کے مفاہیم سمجھتا بھی ہو، مثلا ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ کا کہنا ہے کہ نام میں اشتراک سے حقیقت میں اشتراک لازم نہیں آتا، جیسا کہ ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ کے رسالہ "تدمُریہ" کے صفحہ 12 سے ابوزہرہ صاحب کی نقل کردہ مندرجہ ذیل عبارت سے پتہ چلتا ہے:

"جب بدیہی طور پر یہ معلوم ہے کہ وجود میں خود دو قسمیں ہیں، ایک تو وہ وجود جو قدیم واجب بنفسہ ہے، دوسرا وہ جو محدث اور ممکن ہے، بالفاظِ دیگر جو وجود و عدم دونوں کو قبول کرتا ہے، حالانکہ دونوں قسمیں وجود ہی کے قبیل سے ہیں مگر مسمئی وجود میں دونوں کے مشترک ہونے کی وجہ سے یہ نہیں لازم آتا ہے کہ دونوں کا وجود ایک ہی درجہ کا ہے۔ بلکہ قدیم واجب بنفسہ کا وجود اُس کی ذات کے ساتھ مخصوص ہے اور ممکن الوجود کا وجود اس کے ساتھ خاص ہے، دونوں یعنی قدیم الوجود اور ممکن الوجود کے عام وجود میں اشتراک کا ہرگز یہ مقتضیٰ نہیں کہ دونوں اس اسم کے مسمیٰ میں بھی اضافت،تخصیص اور تقیید کے وقت بھی مشترک اور مساوی ہوں۔ لہذا اگر کسی صاحبِ خرد سے کہا جائے کہ سے کہا جائے کہ عرش موجود چیز ہے اور مچھر موجود چیز ہے تو وہ نہیں کہے گا کہ دونوں کا وجود ایک ہی طرح کا ہے، اس لیے کہ دونوں پر شے اور وجود کا اطلاق ہوتا ہے۔ بلکہ جب کہا جائے گا کہ عرش موجود ہے اور مچھر بھی موجود ہے تو دونوں کا وجود اپنے اپنے ساتھ مخصوص ہو گا کوئی غیر ان کے وجود میں ان کا شریک نہ ہو گا، حالانکہ اسم وجود دونوں میں حقیقت ہی ہے۔"

اس عبارت پر شیخ ابوزہرہ صاحب توضیحی نوٹ لگانے کے بعد فرماتے ہیں: "اسی وجہ سے ابن تیمیہ اس مقام پر فرماتے ہیں، اور "یخرج الحی میں "الحی" مخلوق کا نام ہے جو مخلوق کے ساتھ مخصوص ہے۔" اللہ نے اپنا نام حی (زندہ) رکھا ہے، ارشاد خداوندی ہے:

﴿اَللهُ لَا اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الْحَىُّ الْقَيُّومُ﴾

یعنی "اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں، وہ حی اور قیوم ہے۔"

اسی طرح اپنی بعض مخلوقات کا بھی "حی" نام رکھا ہے، مثلا ارشاد ہے:

﴿يُخرِ‌جُ الحَىَّ مِنَ المَيِّتِ وَمُخرِ‌جُ المَيِّتِ مِنَ الحَىِّ﴾

یعنی "اللہ مُردے سے زندہ کو اور زندہ سے مردہ کو نکالتا ہے۔"

حالانکہ یہ (مخلوق) حی، اس (اللہ) حی کی طرح نہیں۔ اس لیے کہ فرمانِ خداوندی (الحی القیوم) میں "الحی" اللہ کا اسم ہے جو اس کی ذات کے ساتھ مخصوص ہے، البتہ جب تخصیص سے "حی" کو آزاد کر دیا جائے تو دونوں یعنی اللہ اور مخلوق حی کے اطلاق میں متفق ہوں گے"

اب قارئینِ کرام سے سوال ہے کہ کیا ان عبارتوں میں تاویل کا کوئی شائبہ نظر آتا ہے؟ جیسا کہ ابوزہرہ صاحب کو ابنِ تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ کی ان اسماء و صفات کی تفسیر میں محسوس ہوتا ہے۔ یا یہ کہ ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ کھلے طور پر فرماتے ہیں کہ یہ تمام کے تمام حقائق ہیں جو اپنی ذات کے ساتھ مناسب طور پر رہتے ہیں اور ذات کے اختلاف سے حقائق میں بھی اختلاف پیدا ہو جاتا ہے۔ بات صرف اتنی ہے، جو چیزیں ان میں محسوس ہیں، ان کی حقیقت و کیفیت ہم جان سکتے ہیں۔ برخلاف ان چیزوں کے جو ہماری محسوسات کے دائرہ سے خارج ہیں، مثلا صفات باری تعالیٰ، جنت و جہنم وغیرہ۔ ان چیزوں کی کیفیت و حقیقت ہماری دسترس سے باہر ہے۔ ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ نے مختلف مثالوں کے ذریعہ یہ پیچیدہ موضوع اچھی طرح واضح کر دیا ہے جس سے عدمِ واقفیت "صفات کے باب میں سلف کے طریقِ کار سے لوگوں کے انحراف کا" سب سے بڑا سبب تھا۔ مثلا ہم لوگ کہتے ہیں ، "اللہ موجود ہے" اور "مخلوق موجود ہے" حالانکہ دونوں کا وجود وہ حقیقت ہیں جو اپنی اپنی ذات کے لیے مناسب ہیں۔ اسی طرح ہم کہتے ہیں "اللہ زندہ ہے" اور "میں زندہ ہوں"۔ حالانکہ دونوں کا زندہ ہونا حقیقت ہے جو اپنی اپنی ذات کے مناسب حال ہے۔ اسی طرح تمام اسماء و صفاتِ خداوندی میں یہی قاعدہ جاری کیا ہے، جس سے ہر عقلمند شیخ الاسلام کا کلام پوری طرح واضح اور کافی سمجھتا ہے۔

جب ابوزہرہ صاحب ابن تیمیہ کی بات نہ سمجھ سکے اور اس نافہمی کی بنیاد پر جناب نے شیخ الاسلام کی جانب غلط طور پر تاویل کو منسوب کر دیا، مگر پھر بھی اس سنگین غلطی کے بمقابل ہلکی ہے جو ابوزہرہ نے اپنے مذکورہ بالا کلام میں کی ہے، یعنی ابوزہرہ صاحب کا یہ خیال ہے کہ یقینا یہ الفاظ فی الحقیقت انہی معانی کے لیے وضع کئے گئے ہیں جنہیں ہم محسوس کرتے ہیں، ان محسوس معانی کے علاوہ کسی بھی دوسرے معنی پر ان الفاظ کا محمول کرنا علی وجہ الحقیقۃ نہ ہو گا، اور جب یہ الفاظ اپنے غیر حقیقی معنی پر محمول کیے گئے خواہ وہ معانی معلوم ہوں یا مجہول، بہرحال وہ غیر حقیقی ہی ہوں گے ۔۔۔ الخ۔

اگر شیخ ابو زہرہ کا عقیدہ یہ ہے، جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ مخلوق کا وجود، زندگی، علم اور استواء وغیرہ سب کے سب تو حقیقت ہیں مگر خالق تعالیٰ کا وجود، حیات، علم و استواء وغیرہ سب کے سب مجاز ہیں، حقیقت نہیں ہیں، جس کا لازمی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اللہ موجود ہے نہ زندہ۔ اس کے پاس علم ہے اور نہ وہ عرش پر مستوی ہے وغیرہ وغیرہ۔ دراصل یہ سب وہ معروف اسالیب ہیں جن کا استعمال فلاسفہ اور ان سے متاثر معتزلہ اور علماء کلام کرتے ہیں۔ ہم کہتے ہیں کہ آخر ابوزہرہ صاحب کا یہی تو خیال ہے کہ "یہ تمام الفاظ انہی معانی کے لیے موضوع ہیں، جن کا ادراک ہماری حس کرتی ہے" اور اللہ کا وجود و حیات اور اس کی تمام صفات ہماری حس کے ادراک سے خارج ہیں۔ اس بناء پر تو شیخ ابوزہرہ کے قول کے بموجب خدا پر ان تمام صفات کا اطلاق مجاز نہ ہو گا، کیا شیخ ابوزہرہ کو محسوس ہوا کہ ان کی بات نے انہیں کسی ہلاکت میں پھنسایا، اگر اب بھی سمجھ میں بات نہ آئی ہو تو ہم عرض کرتے ہیں کہ جس وجود، حیات، علم اور استواء کا تعلق ہماری محسوسات سے ہے ان کے معنی تو ہمیں معلوم ہیں مگر جب ان چیزوں کی نسبت اللہ تعالیٰ کی جانب۔۔۔ جو ہمارے حواس کے دائرہ ادراک سے بالاتر ہے۔۔۔کی جائے تو ان کے معنی کیا ہوں گے؟ اس کا جواب شیخ ابوزہرہ کے قول کے بموجب یہی ہو گا کہ تب ان کے کوئی معنی نہ ہوں گے، بلکہ یہ سب محض اللہ کے نام ہوں گے جیسا کہ معتزلہ کا خیال ہے اور جسے خود ابوزہرہ صاحب نے معتزلہ سے نقل کیا ہے۔

"المذہب الاسلامیہ" کے صفحہ 303 میں ابوزہرہ صاحب رقم طراز ہیں:

"معتزلہ صفات کا انکار کرتے ہیں جیسا کہ ہم ذکر کر چکے ہیں اور اشعری حضرات صفات کو ثابت مانتے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ صفات، ذات سے جداگانہ چیزیں ہیں۔ یہ لوگ اللہ کے لیے قدرت، ارادہ، علم، زندگی، کان، آنکھ اور کلام ثابت مانتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ ساری صفات ذاتِ خداوندی کے علاوہ چیزیں ہیں مگر معتزلہ کہتے ہیں کہ اللہ صرف ذات ہے۔ ذات کے علاوہ کوئی چیز نہیں ۔ رہا قرآن میں علیم و خبیر، حکیم و بصیر اور سمیع وغیرہ کا ذکر تو وہ سب صرف اللہ کے نام ہیں۔"

یعنی یہ تمام اسماء بے معنی ہیں محض مترادف اعلام کے مانند ہیں۔ اسی لیے اس پر علماء اسلام نے معتزلہ پر زبردست نکتہ چینی اور گرفت کی ہے اور انہیں معطلہ گردانا ہے جیسا کہ شیخ الاسلام رحمۃ اللہ علیہ کی تالیفات میں اس کی تفصیل ہے۔

اب ہمارا سوال ہے کہ کیا شیخ ابوزہرہ اپنے مندرجہ بالا قول کے بموجب نظریہ تعطیل کے قائل ہیں جسے انہوں نے خود معتزلہ کے سلسلے میں بیان کیا ہے، مگر اس طرح تو موصوف خود ہی معتزلہ کی طرح، قرآن و حدیث سے ثابت صفاتِ خداوندی کے منکر ہو جائیں گے۔

یا یہ کہ شیخ موصوف اسے زبان کی لغزش پر محمول کر کے اپنے اس سنگین قول سے رجوع فرمائیں گے اور پھر شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ کی تشریح کردہ مسلک کی پیروی کریں گے (جس تشریح و بیان پر ان اعتقادی مسائل میں، جن کے ضمن میں استواء بھی داخل ہے ۔۔۔ استدراک اور اضافہ آسان نہیں) اور پھر ابوزہرہ صاحب استواء پر ذاتِ خداوندی کے شایانِ شان صفت ہونے کی حیثیت سے ایمان لائیں گے۔ جس طرح کہ یہ بہتر ہے کہ دیگر صفات مثلا علم و کلام پر بھی اسی طرح ایمان لے آئیں اور مجاز پر ان صفات کو محمول کر کے نظریہ تعطیل کا شکار نہ ہوں۔ میرا خیال تھا کہ شیخ ابوزہرہ کے مندرجہ بالا قول کو ان کی سبقت لسانی پر محمول کیا جائے مگر اچانک مجھے اپنا یہ خیال بدلنا پڑا۔ جب دیکھا کہ شیخ موصوف (استواء) کی تفسیر میں مجاز یعنی "سلطانِ کامل" اور (نزول) کی تفسیر میں مجاز یعنی "نعیم الہیہ" کی طرف مائل ہیں۔ بغیر اس کے کہ شیخ اس طرح کی مجازہ تشریح کے لازمی نتیجہ پر غور کرنے کی زحمت کرتے جس کا ڈنڈا معاذاللہ کفر کی سرحدوں سے جا ملتا ہے اس لیے کہ آسمان، دنیا پر خدا کے نزول سے متعلق جو حدیث ہے اس میں یہ بھی ہے کہ:

«فَيَقُولُ: هَلْ مِنْ دَاعٍ اَسْتَجِيْبُ لَهُ الخ»

پھر (اترنے والا) کہے گا کیا کوئی پکارنے والا ہے جس کی پکار میں سنوں؟ ۔۔۔الخ

اب اگر اللہ آسمانِ دنیا پر نہیں اترتا ہے بلکہ اس کی نعمتیں اترتی ہیں تو سوال یہ ہے کہ کیا وہ نعمتیں ہی دعائیں سنتی اور قبول کرتی، نیز مغفرت کرتی ہیں یا وہ اللہ جس کا ان امور میں کوئی شریک نہیں؟

شیخ ابوزہرہ رحمۃ اللہ علیہ نے شیخ الاسلام رحمۃ اللہ علیہ کے جو اقوال و اقتباسات نقل کیے ہیں، اس سلسلے میں مختصرا عرض ہے کہ موصوف کا ارادہ یہی تھا کہ شیخ الاسلام رحمۃ اللہ علیہ کے معاملہ میں اپنے رفیق محترم جناب کوثری صاحب کے موقف سے متاثر ہوئے بغیر ایک پاکباز ادیب کی حیثیت سے رہیں مگر افسوس کہ رفاقت اور صحبت نے اپنا اثر دکھا ہی دیا جس کے نتیجہ میں ابوزہرہ صاحب نے شیخ السلام کے عقائد پر ہجول شروع کر دیا۔ اگرچہ اپنے دوست کی طرح جو امام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ کی جانب غلط باتوں کے انتساب میں کوئی باک نہیں محسوس کرتے، صراحت کا انداز نہیں اختیار کیا ہے بلکہ یہ سارا کام اشارہ و کنایہ کی زبان میں کیا ہے۔ میں یہ تو نہیں کہہ سکتا کہ ابوزہرہ صاحب نے کوثری صاحب کی طرح عمدا یہ فریضہ انجام دیا ہے بلکہ شیخ الاسلام کی تحریوں میں ان کی غلط فہمیوں سے ایسا ہوا ہے۔ اس کی تائید خود ابوزہرہ صاحب کی اس تحریر سے ہوتی ہے جو انہوں نے شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ کو تاویل کا شکار بتلانے کے بعد صفحہ 277 میں لکھی ہے، فرماتے ہیں:

"پھر کیا انجام اور نتیجہ برآمد ہوتا ہے اسماء و صفات کی ظاہری تفسیر سے؟ کیا اس ظاہری تفسیر سے ان اسماء و صفات کی حقیقت معلوم ہو جاتی ہے یا اس سے صرف دوسری بھول بھلیوں میں پھنس جانا پڑتا ہے؟ ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ کا کہنا ہے کہ حقیقت غیر معروف ہے، اس لیے کہتے ہیں کہ اللہ کے پاس چہرہ ہے مگر اس کی ماہیت غیر معروف ہے۔ اللہ مستوی ہے مگر اس کے استواء کی اہمیت معروف نہیں ۔۔۔ وغیرہ وغیرہ۔۔۔"

پھر ابوزہرہ صاحب رقم طراز ہیں:

"اب اگر ہم ان الفاظ اسماء و صفات کی وہ تفسیر کریں جس سے ہم ان الفاظ کو مجہول چیزوں پر محمول کرنے سے بچ جائیں تو یہ تفسیر زیادہ قابلِ قبول ہے جبکہ لغت میں بھی اس تفسیر کی گنجائش ہے اور مجاز اس میں خوب واضح ہے۔ مثلا ہد (ہاتھ) کی تفسیر قوت و طاقت اور عذاب، استواء کی تفسیر سلطانِ کامل اور نزول خداوندی کی تفسیر الہی نعمتوں کے فیض و بخشش سے، پھر اس تفسیر کے سلسلے میں یہ اعتراض بجا نہیں کہ اس میں تو ظاہری معنی ہیں ہی نہیں کیونکہ ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ وغیرہ نے جو معنی اختیار کیا ہے اس میں بھی ظاہر پر نہیں محمول کیا گیا ہے۔"

یہ ہیں ابوزہرہ صاحب کے فرمودات، اگر ہم ان تحریروں کے پسِ پشت پنہاں سنگین غلطیوں کی نشاندہی کرنا شروع کریں گے تو سلسلہ کلام کافی طویل ہو جائے گا جس کا مقدمہ کتاب متحمل نہیں لیکن شیخ ابوزہرہ صاحب سے ہم مختصرا عرض کریں گے کہ حضرت! کیا بطور نتیجہ اتنا کافی نہیں ہے کہ آپ استواء کو صفتِ نزول کے علاوہ اللہ کی ایک مستقل صفت سمجھیں، اسی طرح استواء اور نزول کو تسلطِ کامل اور انعام کی صفات سے جداگانہ تصور فرمائیں۔ جیسے کہ یہ کافی ہے کہ آپ میرے خیال سے عقیدہ رکھیں کہ سمع (سننا) کی صفت، بصر (دیکھنا) کی صفت سے مختلف اور صفاتِ سمع و بصر علم کی صفت سے جداگانہ ہیں اور صفات سمع و بصر کی تعطیل کریں اور نہ تاویل کر کے ان کے وجود کا منکر بنیں، جس تاویل کا نتیجہ بالآخر یہی نکلتا ہے کہ سمع و بصر سے مراد علم ہے جیسا کہ بعض معتزلہ کا خیال ہے، اگرچہ اکثر معتزلہ تمام صفات کا انکار کرتے ہیں جیسا کہ گذشتہ صفحات میں ہم نے ذکر کیا ہے۔

یقینا غرض و غایت اور انجام و نتیجہ کے لیے یہ کافی ہے ورنہ پھر سلف کے اتباع میں ان صفات کی ہماری ظاہری تفسیر (اس اعتقاد کے ساتھ کہ ان کی حقیقت کا علم صرف اللہ کو ہے) اور آپ کے استواء باری تعالیٰ کے انکار و بقیہ صفات مثلا حیات قدرت، ارادہ اور حکمت وغیرہ کی ہماری تفسیر (کہ یہ صفات باری اپنے ظاہری معنی پر بغیر کسی تاویل کے محمول ہیں اور ان کی حقیقت صرف اللہ کو معلوم ہے) پر آپ کے ایمان (جیسا کہ ہمارا خیال ہے) کے درمیان کیا فرق ہے؟ مجھے یقین ہے کہ اہلِ علم کا دانشمندانہ طبقہ ضرور تسلیم کرے گا کہ دونوں کے مابین ہرگز کوئی فرق نہیں۔ کیونکہ سبھی اس پر ایمان رکھتے ہیں۔ بعینہ یہی چیز اس ذات کی صفات کے سلسلے میں بھی ہونی چاہئے اور جب صورتِ معاملہ یوں ہے تو ابوزہرہ صاحب یا تو صفاتِ الہی۔۔۔ جن میں استواء بھی داخل ہے، کے حقائق پر ایمان لائیں ورنہ پھر ان تمام صفات کی تاویل کریں۔ دوسری شکل میں وجود، الہی کا انکار لازم آئے گا کیونکہ اللہ کے وجود جو (جو اللہ کی ایک صفت ہے) کی کہنہ و حقیقت غیر معروف ہے اور استواء کے مانند جس صفت کی بھی کہنہ و حقیقت غیر معروف ہو گی تو شیخ ابوزہرہ لا محالہ اس کی تاویل کریں گے۔ یہی چیز ہے جس کا شکار باطنیہ اور بہت سے فلاسفہ ہو گئے، تقریبا یہی حال معتزلہ اور ان سے متاثر اہلِ کلام کا ہوا۔ جس کی تفصیل شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ کی متعدد کتابوں میں موجود ہے۔ فجزاہ اللہ

مسئلہ صفات میں خطیب بغدادی رحمۃ اللہ علیہ کا نقطہ نظر: یہاں اس سلسلے میں مناسب ہو گا کہ ہم بعض علماء سلف کے اقوال پر مشتمل ایک دلچسپ حصہ بعض مخطوط کتابوں سے نقل کر دیں جو ہنوز میرے علم کے مطابق، زیورِ طبع سے آراستہ نہ ہو سکی ہیں۔ یہ اقوال دراصل مشہور مورخ و محدث خطیب بغدادی رحمۃ اللہ علیہ (متوفی سئہ 463ھ) کے ہیں ۔۔۔ جن کا کچھ حصہ حافظ ذہبی رحمۃ اللہ علیہ (متوفی 748ھ) نے اپنی کتاب "العلو للعلى العظيم" میں خطیب کے سوانح حیات کے ضمن میں ذکر کیا ہے۔ تو میرا خیال ہے کہ خطیب کی وہ عبارتیں نقل کردوں تاکہ اہل کلام پر اتمامِ حجت ہو جائے جن کا ایک بہت بڑا طبقہ اس وہم میں مبتلا ہے کہ اللہ کے شایانِ شان صفات کے حقائق و معانی پر ایمان لانا صرف ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ اور ان کے متبعین کا مسلک ہے اور اس چیز سے بے خبر ہیں کہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ (متوفی 728ھ) فراہم کرنے نیز اس سلسلے میں جو شبہات پیدا کئے گئے تھے ان کے ازالہ و استیصال میں شیخ الاسلام کو دیگر علماء سلف پر تفوق حاصل ہے ورنہ فی الواقع امام ابن تیمیہ سلفی العقیدہ ہیں۔ اور سچ تو یہ ہے کہ ہر مسلمان کو منہجِ سلف ہی اپنانا چاہئے۔ اسی مقصد کے تحت ہم حافظ ذہبی کی یہ کتاب "العلو للعلى العظيم" شائع کر رہے ہیں تاکہ سلفی عقائد سے متعلق بہت سے امور جو ہنوز پردہ خفا میں تھے، طشت ازبام ہو کر حامۃ الناس کے سامنے آ جائیں جن امور کا مخفی رہنا دراصل سلفی عقیدہ و طریقہ محمدی سے لوگوں کے انحراف و ابتعاد کے بنیادی اسباب میں سے ہے۔

مشہور محدث خطیب بغدادی رحمۃ اللہ علیہ رقم طراز ہیں:

"رہی صفات کی بحث، تو احادیث صحیحہ میں جو کچھ مروی ہے، سلف کا مسلک یہ ہے کہ انہیں ثابت مانا جائے اور ان نصوص کو ان کے ظاہر پر محمول کیا جائے۔ ساتھ ہی ان صفات کی تشبیہ اور کیفیت بیانی سے احتراز کیا جائے۔ بعض فرقوں نے ایک طرف صفات کی نفی کر کے اللہ کی ثابت کردہ صفات کا ابطال کر دیا تو دوسری طرف صفات کو ثابت کرنے والوں میں کچھ لوگوں نے ان صفات کی حقیقت و کیفیت اس طرح بتلائی کہ تشبیہ و تکییف میں مبتلا ہو گئے، حالانکہ راہِ اعتدال یہ ہے کہ افراط و تفریط کے مابین کا راستہ اپنایا جائے۔"

"زیر بحث مسئلہ میں بنیادی چیز یہ ہے کہ صفات کے سلسلے میں بحث، کلام فی الذات کی فرع ہے۔ ذاتِ خداوندی کے سلسلے میں جو بات ہم کہتے ہیں وہی بات صفاتِ الہی کے بارے میں کہی جائے گی اور جب معلوم ہے کہ رب العالمین کی ذات کے اثبات سے اس کے وجود کا اثبات مقصود ہوتا ہے نہ کہ اس کی کیفیت کا اثبات، اسی طرح صفاتِ الہی کے اثبات سے مقصود ان کے وجود کا اثبات ہو گا نہ کہ ان کی کیفیات و حدود کا اثبات۔"

"تو جب ہم اللہ کے لیے ہاتھ، کان اور آنکھ ہونے کی بات کہتے ہیں تو ان سب سے وہ صفات مراد ہوتی ہیں جنہیں اللہ نے خود اپنے لیے ثابت گردانا ہے، نہ یہ کہتے ہیں کہ اللہ کے ہاتھ سے مراد اس کی قدرت ہے اور نہ یہ کہتے ہیں کہ سمع و بصر سے مراد علم ہے (یعنی تاویل نہیں کرتے) اور نہ ہی انہیں اعضاء و جوارح مانتے ہیں (یعنی اللہ کے لیے جسم نہیں مانتے) اور نہ ہی ایسے ہاتھ و کان و آنکھ کی طرح مانتے ہیں جو کہ جوارح اور ادواتِ فعل ہیں (یعنی تشبیہ نہیں کرتے) بلکہ ہمارا نقطہ نظر یہ ہے کہ ان صفات کا اثبات واجب ہے اس لیے کہ قرآن و حدیث میں یہ صفات وارد ہیں۔ اسی طرح فرمانِ خداوندی﴿لَيسَ كَمِثلِهِ شَىءٌ ۖ وَهُوَ السَّميعُ البَصيرُ‌ ﴿١١﴾... سورةالشورىٰ یعنی "اللہ کے مانند کوئی چیز نہیں اور وہ سننے دیکھنے والا ہے۔" اور﴿وَلَم يَكُن لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ ﴿٤﴾... سورةالاخلاص یعنی " کوئی اللہ کے برابر نہیں۔" کے بموجب تشبیہ کی نفی بھی ضروری ہے۔"

"مگر جب اربابِ بدعت، صفات کے متعلق احادیث کی روایت کرنے پر محدثین کی عیب جوئی پر تُل گئے اور کم علم لوگوں کو اپنے دامِ تلبیس میں لے لیا کہ یہ محدثین ایسی حدیثیں روایت کرتے ہیں جو توحید کے منافی اور دین کے خلاف ہیں، اسی طرح یہ بہتان بھی تراشا گیا کہ اہل حدیث لوگ مشبہ کو کافر اور معطلہ کو جاہل و احمق کہتے ہیں، تو جوابا عرض کیا گیا کہ قرآن میں محکم آیتیں ہیں جن کا مقصود و مطلوب اسی وقت سمجھ میں آئے گا جبکہ انہیں ان کے ظاہر پر محمول کیا جائے۔ رہیں متشابہ آیات تو ان کا مفہوم و معنی بھی اسی وقت سمجھ میں آ سکتا ہے جبکہ انہیں محکم آیات کی جانب لوٹایا جائے اور تمام قرآنی آیات پر ایمان لانا نیز ان کی تصدیق کرنا واجب ہے۔ یہی طریقِ کار احادیثِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں بھی اختیار کیا جائے گا یعنی متشابہ احادیث کو محکم احادیث کی طرف لوٹا کر سبھی کو قبول کیا جائے گا۔"

صفات کے سلسلے میں مروی احادیث کی تین قسمیں ہیں:

ثابت احادیث، جن کی صحت پر ان کی کثرت اور راویوں کی عدالت کے پیشِ نظر محدثین کا اتفاق ہے، اس لیے ان احادیث کو قبول کرنا نیز ان پر ایمان لانا واجب ہے۔ اس طرح سے قلب و ضمیر ایسے عقائد سے محفوظ ہو جو مخلوق سے اللہ کی تشبیہ یا جوارح و ادوات فعل نیز تغیر و حرکات سے اللہ تعالیٰ کی توصیف کے متقاضی ہوں جو سراسر شانِ خداوندی کے منافی ہیں۔

2۔ ساقط و ناقابلِ اعتبار احادیث جن کی سند بالکل کمزور ہے نیز ان کے الفاظِ متن بھی شفاعت سے خالی نہیں ہیں اور علماء حدیث ان روایتوں کے بطلان پر متفق ہیں، ایسی روایتوں سے اشتغال اور ان پر اعتماد کرنا جائز نہیں۔

3۔ ایسی روایتیں جن کے راویوں سے متعلق محدثین میں اختلاف ہے، یعنی بعض محدثین کی نظر میں مقبول ہیں بعض کے یہاں مردود۔ ایسی حدیثوں میں اجتہاد اور غور و فکر واجب ہے تاکہ ان مختلف فیہ روایتوں کو مقبول احادیث کے ضمن میں شمار کر لیا جائے یا پھر باطل و مردود روایتوں کے ٹوکرے میں ڈال دیا جائے۔" (کلامِ خطیب ختم شد)