جرمِ قتلِ عمد سے متعلق نصوصِ شرعیہ

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

1 .﴿ وَمَن يَقتُل مُؤمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزاؤُهُ جَهَنَّمُ خـٰلِدًا فيها وَغَضِبَ اللَّهُ عَلَيهِ وَلَعَنَهُ وَأَعَدَّ لَهُ عَذابًا عَظيمًا ﴿٩٣﴾... سورةالنساء

"اور جو شخص کسی مسلمان کو عمدا قتل کرے تو اس کی سزا جہنم ہے جس میں وہ ہمیشہ پڑا رہے گا، اللہ کا اس پر غضب اور لعنت ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے بڑا عذاب تیار کر رکھا ہے۔"

2 .﴿ وَالَّذينَ لا يَدعونَ مَعَ اللَّهِ إِلـٰهًا ءاخَرَ‌ وَلا يَقتُلونَ النَّفسَ الَّتى حَرَّ‌مَ اللَّهُ إِلّا بِالحَقِّ وَلا يَزنونَ ۚ وَمَن يَفعَل ذ‌ٰلِكَ يَلقَ أَثامًا ﴿٦٨﴾... سورة الفرقان

"اور وہ لوگ جو اللہ کے ساتھ کسی دوسرے کو نہیں پکارتے اور نہ کسی ایسی جان کو مارتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے منع کر دی اور نہ ہی وہ بدکاری کرتے ہیں اور جو کوئی یہ کام کرے تو وہ گناہ میں جا پڑا، قیامت کے دن اسے دوگنا عذاب ہو گا اور وہ اس میں ذلیل و خوار پڑا رہے گا۔"

3 .﴿وَلا تَقتُلُوا النَّفسَ الَّتى حَرَّ‌مَ اللَّهُ إِلّا بِالحَقِّ ۚ ذ‌ٰلِكُم وَصّىٰكُم بِهِ لَعَلَّكُم تَعقِلونَ ﴿١٥١﴾... سورةالانعام

"اور کسی جان کو قتل نہ کرو جس سے اللہ تعالیٰ نے منع فرما دیا ۔۔۔ ہاں مگر حق کے ساتھ، یہ بات ہے جس کا تمہیں اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے تاکہ تم سمجھو"

4 .﴿ وَلا تَقتُلُوا النَّفسَ الَّتى حَرَّ‌مَ اللَّهُ إِلّا بِالحَقِّ ۗ وَمَن قُتِلَ مَظلومًا فَقَد جَعَلنا لِوَلِيِّهِ سُلطـٰنًا فَلا يُسرِ‌ف فِى القَتلِ ۖ إِنَّهُ كانَ مَنصورً‌ا ﴿٣٣﴾... سورةالاسراء

"اور کسی جان کو قتل نہ کرو جس سے اللہ تعالیٰ نے منع فرما دیا، ہاں مگر حق سے۔۔۔ اور جو شخص ظلم سے مارا جائے تو ہم اس کے وارث کو اختیار دیا ہے، سو وہ قتل میں حد سے نہ نکل جائے کہ بلاشبہ وہ (وارث) مدد دیا گیا ہے"

5 .﴿ وَلَكُم فِى القِصاصِ حَيو‌ٰةٌ يـٰأُولِى الأَلبـٰبِ لَعَلَّكُم تَتَّقونَ ﴿١٧٩﴾... سورة البقرة

"اور اسے عقل مندو، تمہارے لیے قصاص میں زندگی ہے تاکہ تم بچو"

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

6 .«لا تقتل نفس ظلما الا كان على ابن ادم الاول كفل من دمها لانه اول من سن القتل»(سنن ابن ماجه)

کہ "جو شخص بھی ظلم سے مارا جائے تو اس کے خون کا ایک حصہ پہلے ابنِ آدم کی گردن پر ہوتا ہے کیونکہ اسی نے یہ طریقہ رائج کیا"

7 .«ولا يزال الرجل فى فسحة من دينه مالم يصب دما حراما»

"جب تک کوئی شخص کسی ناحق قتل کا مرتکب نہیں ہوتا وہ اپنے ایمان کی چار دیواری میں رہتا ہے"

8 .«ان هذا الانسان بنيان الله ملعون من هدم بنيانه»

"بے شک یہ انسان اللہ کا گھر ہے۔ جس شخص نے اللہ کے گھر کو ڈھایا وہ ملعون ہے"

9 .«لزوال الدنيا اهون على الله من قتل مؤمن بغير حق والمؤمن اكرم على الله من الذين عنده»

"اللہ تعالیٰ کے ہاں دنیا کا فنا ہو جانا کسی مومن کے قتلِ ناحق سے کمتر درجہ رکھتا ہے۔ نیز یہ کہ مومن اللہ تعالیٰ کے ہاں فرشتوں سے زیادہ معزز ہے جو اس کے پاس رہتے ہیں"

10.«من لقى الله لا يشرك به شيئاولم يتندبدم حرام دخل الجنة»(سنن ابن ماجه)

"جو شخص اس حال میں اللہ تعالیٰ سے ملا کہ نہ تو اس نے شرک کیا اور نہ ہی کسی کے ناحق قتل کا مرتکب ہوا، وہ جنت میں داخل ہو گا۔"

11 .«اول ما يقضى بين الناس يوم القيامة فى الدم»(الجماعة الآيات داؤد)

"قیامت کے دن سب سے پہلے قتل کے مقدمات کا فیصلہ ہو گا۔"

12 .«ان من ورطات الامور التى لا مخرج لمن اوقع نفسه فيها سفك الدم الحرام بغير حق»

"جب کوئی شخص قتلِ ناحق کا مرتکب ہوتا ہے تو اس کا نفس ایک ایسے بھنور میں پھنس جاتا ہے جس سے نکلنے کا کوئی راستہ نظر نہیں آتا"

ان نصوص کو دیکھنے کے بعد یہ اندازہ بخوبی ہو جاتا ہے کہ قتل انتہائی گھناؤنا اور شنیع فعل ہے حتی کہ جمہور علماء کا خیال ہے کہ قصاص بھی قاتل کر جرم کا پوری طرح کفارہ نہیں بن سکتا۔ کیونکہ اس سے مقتول کو کچھ فائدہ نہیں پہنچتا ۔۔۔ اور بعض علماء تو یہاں تک کہتے ہیں کہ دانستہ قاتل کی توبہ قبول ہی نہیں ہوتی خواہ وہ کتنی ہی توبہ کیوں نہ کرے، کیونکہ یہ کام:

1۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک نیز مقتول، اسلامی معاشرہ اور انسانیت کے حق میں سب سے بڑا جرم ہے۔

2۔ نصوِصِ شرعیہ کے مطابق قاتلِ عمد کی سزا ہمیشہ کے لیے جہنم، اللہ کا غضب اور اس کی لعنت اور انتہائی دکھ دینے والا عذاب ہے۔

3۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں مومن کا مقام اتنا بلند ہے کہ وہ فرشتوں سے بھی سبقت لے گیا ہے۔

قولِ فیصل: لیکن ہم اس رائے سے اتفاق نہیں رکھتے۔ ہمارے خیال میں توبہ کا دروازہ قاتلِ عمد کے لیے بھی کھلا ہے اور عفو مشیت الہی کے تحت ہوتا ہے اگر چاہے تو اس کی توبہ قبول فرما لے اور چاہے تو رد کر دے اور مواخذہ کرے ۔۔۔ اس رائے کی تائید ان دلائل سے، جو روحِ شریعت سے قریب تر ہیں، ہوتی ہے:

ارشاد باری تعالیٰ ہے:

1. ﴿وَهُوَ الَّذى يَقبَلُ التَّوبَةَ عَن عِبادِهِ ...﴿٢٥﴾... سورة الشورىٰ

"اور وہی تو ذات ہے جو اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتا ہے"

2 .﴿إِنَّ اللَّهَ لا يَغفِرُ‌ أَن يُشرَ‌كَ بِهِ وَيَغفِرُ‌ ما دونَ ذ‌ٰلِكَ لِمَن يَشاءُ...﴿١١٦﴾... سورةالنساء

"اللہ تعالیٰ اس شخص کو نہیں بخشتا جو اس کے ساتھ شرک کرتا ہے، اس کے علاوہ باقی گناہوں کو، جسے وہ چاہے، بخش دیتا ہے"

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

3 . «لا تنقطع الهجرة حتى تنقطع التوبة، ولا تنقطع التوبة حتى تطلع الشمس من مغربها»(بخاري)

"جب تک توبہ کا دروازہ کھلا ہے، ہجرت کا عمل جاری رہے گا اور توبہ کا دروازہ کھلا رہے گا یہاں تک کہ سورج مغرب سے طلوع ہو۔"

4. «تبايعوننى على ان تشركوا بالله شيئا ولا تزنوا ولا تقتلوا النفس التى حرم الله الا بالحق فمن اصاب شيئا من ذلك فعوقب به فى الدنيا فهو كفارة له، ومن اصاب شيئا من ذلك فستره الله فهو الى الله ان شاءالله عفا وان شاء عذبه»

"تم مجھ سے اس بات پر بیعت کرتے ہو کہ تم اللہ کے ساتھ شریک نہ کرو گے، نہ زنا کرو گے اور نہ کسی شخص کو ناجائز قتل کرو گے، جسے اللہ نے حرام کیا ہے۔ پھر اگر کسی نے ان میں سے کوئی کام کیا تو اس کی سزا اسے دنیا ہی میں مل جائے گی جو اس کے لیے کفارہ ہو گی اور جس کے جرم کو اللہ نے پوشیدہ رہنے دیا تو یہ بات اللہ کی مرضی پر منحصر ہے، چاہے تو اسے معاف کر دے اور چاہے تو سزا دے۔"

5۔ اور حدیث میں یہ قصہ بھی مروی ہے کہ پہلی امتوں میں سے کسی شخص نے ننانوے آدمیوں کو قتل کیا تھا۔ اس نے اپنے زمانے کے کسی عالم سے پوچھا "کیا اس کے لیے بھی توبہ کی گنجائش ہے؟" عالم نے جواب دیا کہ "اس کے لیے توبہ کی کوئی گنجائش نہیں" اس پر وہ شخص پھر برہم ہوا اور اس عالم کو بھی قتل کر دیا اور سو قتل پورے کر دیے۔ پھر وہ کسی دوسرے عالم کے پاس گیا، اس سے بھی یہی بات پوچھی تو اس نے جواب دیا کہ اس کے اور توبہ کے درمیان کوئی چیز حائل نہیں اور اسے حکم دیا کہ وہ فلاں جگہ چلا جائے جہاں لوگ اللہ کی عبادت میں مصروف ہیں اور ان کے ساتھ مل کر عبادت کرے۔

یہ شخص ابھی نصف راستہ ہی طے کر پایا تھا کہ اسے موت نے آ لیا، اب رحمت اور عذاب کے فرشتے آپس میں جھگڑنے لگے۔ رحمت کے فرشتوں نے کہا، وہ تہ دل سے توبہ کر کے نکلا تھا (اس لیے اس کی روح کو ہم لے جائیں گے) اور عذاب کے فرشتوں نے کہا کہ: ابھی اس کا یہ نیکی کا عمل وقوع پذیر نہیں ہوا تھا (لہذا اس کی روح ہم لے جائیں گے)

اب ایک فرشتہ انسانی شکل میں ان کے پاس آیا جسے پہلے فرشتوں نے اپنا حکم تسلیم کر لیا۔ اس نے اپنا یہ فیصلہ دیا کہ دونوں فاصلوں کی پیمائش کر لی جائے (یعنی مقامِ روانگی سے جائے وقوعہ تک اور جائے وقوعہ سے منزلِ مقصود تک) پھر جونسا فاصلہ قریب ہو اس کے مطابق فیصلہ ہو گا، پیمائش کی گئی تو معلوم ہوا کہ جائے مقصود قریب تھی۔ لہذا اس کی روح رحمت کے فرشتوں نے قبض کی۔

پہلی رائے پر تنقید:

پہلی رائے کی تائید میں یہ آیت "﴿وَمَنْ يَّقْتُلْ مُؤمِنًا مُّتَعَمِّدًا﴾" ایک خاص واقعہ سے تعلق رکھتی ہے اور اس خاص واقعہ کا حکم دوسرے تمام واقعات پر منطبق نہیں ہوتا اور وہ خاص واقعہ یوں تھا کہ ایک شخص مقیس بن صبابہ نے اپنے بھائی ہشام کو قبیلہ بنو نجار میں مقتول پایا۔ یہ دونوں بھائی مسلمان تھے۔ مقیس نے اس واقعہ کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے ساتھ بنی فہر کا ایک آدمی روانہ کیا اور انہیں حکم دیا کہ مقیس کے بھائی کے قاتل کو ہمارے حوالہ کیا جائے۔ بنو نجار نے کہا: خدا کی قسم! ہم قاتل کو نہیں جانتے۔ البتہ ہم دیت ادا کر دیتے ہیں۔ چنانچہ انہوں نے مقیس کو سو اونٹ دے دیے اور وہ مدینہ کی طرف واپس ہوا۔ راستے میں مقیس نے اس فہری شخص کو تو قتل کر دیا اور خود اونٹ لے کر مکہ کی راہ لی اور کافر و مرتد ہو گیا۔ تب یہ آیت اس کے حق میں نازل ہوئی اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "میں اسے نہ حرم میں اور نہ ہی کسی دوسری حلال جگہ میں امان دے سکتا ہوں، چنانچہ فتح مکہ کے دن جبکہ وہ کعبہ کے پردوں سے لٹکا ہوا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے قتل کا حکم دیا۔ (جبکہ باقی تمام اہل مکہ کے لیے عفوِ عام کا اعلان ہو رہا تھا)

قرآن نے قصاص کا لفظ کیوں پسند فرمایا؟

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

﴿وَلَكُم فِى الْقِصَاصِ حَيٰوةٌ﴾

"تمہارے لیے قصاص میں زندگی ہے۔"

قرآن نے قصاص کا لفظ اس لیے پسند فرمایا ہے کہ اس کے معنی میں مماثلت، برابری اور عدل تینوں پائے جاتے ہیں۔ قصاص میں تاکید بھی پائی جاتی ہے، ردِ عمل بھی اور یہ بھی کہ جس طریق سے قاتل نے قتل کیا اسی طرح اسے بھی قتل کیا جائے۔ نیز یہ کہ قصاص (سزا دینا) معاشرتی قانون ہے۔ قرآن نے قصاص کی بجائے اقتصاص (انتقام لینا) کا لفظ پسند نہیں فرمایا کیونکہ یہ ایک انفرادی حکم ہے۔

اقتصاص کے علاوہ ان معنوں سے ملتے جلتے اور بھی کئی الفاظ ہیں جنہیں قرآن نے اختیار نہیں کیا۔ مثلا ثار، قتل اور قود۔ پہلے لفظ (ثار) میں (عداوت) کینہ، بے پناہ غصہ اور خون بہانے کی رغبت پائی جاتی ہے۔ کیونکہ ثار کی رو سے قاتل کے علاوہ قبیلہ کے کسی دوسرے فرد سے بھی انتقام لیا جا سکتا تھا۔ اسی لیے ایامِ جاہلیت میں وہ لوگ اپنے قبیلہ سے یوں کہتے تھے کہ فلاں شخص کا بدلہ فلاں قبیلہ سے لینا ہے۔

دوسرا لفظ قتل ہے جس کے معنی محض ایک جان کے بدلے دوسری جان لینا ہے۔ یہ دیکھیے بغیر کہ یہ قتل دانستہ تھا یا نادانستہ، سرکشی کی بناء پر تھا یا قصاص کی صورت میں، اور تیسرا لفظ قود، جس میں ذلت اور اہانت کا پہلو پایا جاتا تھا، گویا قاتل کو یوں ہانکا جائے جیسے کسی اونٹ کو۔ ان تینوں باتوں میں سے کوئی بھی بات شریعت کا مطمح نظر نہیں، بلکہ اس کا مطمح نظر محض عدل کا قیام اور امن کا استحکام ہے۔

قصاص سے زندگی کیسے ملتی ہے؟

دورِ جاہلیت میں لوگ مقتول کا بدلہ صرف قاتل تک محدود نہیں رکھتے تھے بلکہ انتقاما وہ کئی آدمیوں کو تہ تیغ کو ڈالتے تھے ۔۔۔ اور بسا اوقات وہ مقتول کا بدلہ قبیلہ کے سردار یا خاندان کے سربراہ یا قیدیوں کو قتل کر کے لیا کرتے تھے ۔۔۔ اور یوں بھی ہوتا کہ وہ عورت کے بدلے میں کسی مرد کو قتل کر ڈالتے۔ جس کا نتیجہ یہ ہوتا تھا کہ اس غیض و غضب کے ماحول اور انتقام کی بناء پر ان میں اکثر جنگ و جدال کا سلسلہ جاری رہتا جو بسا اوقات سالہا سال تک طول کھینچتا اور جس کے باعث سینکڑوں بے گناہ لوگ ناحق قتل ہو جاتے ۔۔۔انہی وجوہات کی بناء پر اللہ تعالیٰ نے قصاص کا حکم صادر فرمایا بلکہ قصاص کو زندگی قرار دیا:

﴿وَلَكُم فِى القِصاصِ حَيو‌ٰةٌ يـٰأُولِى الأَلبـٰبِ لَعَلَّكُم تَتَّقونَ ﴿١٧٩﴾... سورةالبقرة

کہ "اے عقل والو، تمہارے لیے قصاص میں بڑی زندگی ہے تاکہ تم بچو"

بلاشبہ اسلام ایک انتہائی انصاف پسند دین ہے جو مسلمان کی عقل اور نفس کی تربیت کرتے وقت انسانی جبلت کو بھی ملحوظ رکھتا ہے اور کسی انسان کو اتنی ہی تکلیف دیتا ہے جتنی وہ سہار سکتا ہے۔ شریعت تکلیف مالا یطاق کے لیے نہیں بلکہ آسانی پیدا کرنے اور آسانی کے ساتھ مضرت کو دور کرنے کے لیے آئی ہے۔ لہذا کسی کو ایسی تکلیف نہیں دی جا سکتی جس کی برداشت کی اس میں طاقت ہی نہ ہو۔ اور اگر ایسا ہوتا تو نہ تو شریعت کے احکام کی تعمیل ہو سکتی، نہ اس کی تعلیمات پر عمل ہو سکتا اور نہ ہی شریعت کا نفاذ ہو سکتا۔۔۔ اور ایسا ہو بھی کیونکہ سکتا ہے جبکہ یہ شریعت اس احکم الحاکمین کی شریعت ہے جو ارحم الراحمین بھی ہے اور جو مسلمانوں سے آسانی کا ارادہ رکھتا اور انہیں سلامتی کی راہوں پر چلاتا ہے۔

طبعی لحاظ سے دیکھا جائے تو کسی کی جان لینے کے بعد کوئی ایسی صورت نظر نہیں آتی جس سے روح کو دوبارہ اس کے جسم میں لوٹایا جا سکے۔ روح و جسم کی ایک ابدی جدائی محض اس مجرم کے اس فعل سے واقع ہوتی ہے جو اس نے ظلم اور سرکشی کی بناء پر عمدا اختیار کیا، لہذا اس فعل کی برائی لامحدود ہے ۔۔۔ اور یہی وجہ ہے کہ شریعت نے مقتول کے ورثاء کے دلوں کی سختی اور انتقام کی شدت کو درخور اعتناء نہیں سمجھا جبکہ وہ اپنے مقتول کی لاش کو اپنے درمیان ظلم و زیادتی سے تڑپتا اور پچھڑا ہوا دیکھتے اور زہر کے گھونٹ پیتے ہیں بلکہ اس کے بجائے صرف اس بے رحم قاتل کے خون پر زیادتی کرنے یا ان کی زندگی پر ہاتھ صاف کرنے سے باز رہیں۔

جرمِ قتل کے ارکان:

قتلِ عمد کے مندرجہ ذیل ارکان ہیں:

1۔ جرم کہاں واقع ہوا؟

2۔ واردات میں کون سا ہتھیار یا آلہ استعمال کیا گیا؟

3۔ مجرم کا ارادہ

جرم کا محل تو مقتول ہی ہوتا ہے جس کی جان لینے کا زندہ انسان ارادہ رکھتا ہے۔

اور آلہ جرم وہ وسیلہ ہے جس کے ذریعہ زندہ کی جان نکالی جاتی ہے۔

۔۔۔۔۔۔جبکہ ارادہ جرم وہ ہے جس سے یہ جرم ظہور پذیر ہوتا ہے۔

اگر وقت کی کمی ملحوظ نہ ہوتی تو ہم اس بحث کو اتنی تفصیل کے ساتھ لکھتے اور گناہ سے متعلق تشریعاتِ اسلامیہ کی ایسی تحقیق پیش کرتے کہ مجرم کے ارتکابِ جرم ، اس کے ردِ عمل اور اس کے برے نتائج سے متعلق سیرت حاصل پہلو سامنے آ جاتے۔

جرمِ قتل عمد کی شرائط اور قصاص کا وجوب: قتلِ عمد کی، جس کے عوض قصاص واجب ہوتا ہے، چند شرائط ہیں۔ ان میں سے کچھ تو قاتل سے متعلق ہیں اور کچھ مقتول سے ۔۔۔ جو قاتل سے تعلق رکھتی ہیں، وہ یہ ہیں کہ وہ مکلف ہو، معصوم ہو اور مقتول کا باپ نہ ہو۔

مکلف سے مراد بالغ و عاقل ہونا ہے، خواہ مرد ہو یا عورت

معصوم سے مراد وہ شخص ہے جسے کسی مسلمان حکومت نے اپنی مملکت میں آزادی سے رہنے کی اجازت دی ہو۔

اور وہ شرط جو مقتول سے متعلق ہے، صرف یہ ہے کہ وہ معصوم ہو۔

قتل شبہ عمد یا خطا:

قتلِ عمد کے ارکان میں سے کسی میں بھی اختلاف واقع ہو جائے تو قتلِ عمد، قتل شبہ عمد کی منزل پر آ جاتا ہے۔۔۔ مثلا رکنِ ثانی آلہ یا ہتھیار سے متعلق ہے یا تیسرا رکن مجرم کے ارادہ سے متعلق ہے، تو اگر کوئی ایسا آلہ یا ہتھیار استعمال نہ ہوا ہو جو قتل کے لیے مخصوص ہوتا ہے۔۔۔ یا اگر مجرم کا ارادہ قتل کا تو نہ ہو اور مقتول مر جائے تو یہ قتلِ شبہ یا قتلِ خطا ہو گا۔

اکثر علماء تو قتل کی یہی تین اقسام کرتے ہیں، یعنی قتل، عمد، قتلِ شبہ عمد اور قتلِ خطا، لیکن بعض علماء اس جرم کی دو ہی قسموں کے قائل ہیں۔ یعنی قتلِ عمد اور قتلِ خطا۔

قتل، شبہ اور قتلِ خطا میں قصاص ساقط اور دیت واجب ہو جاتی ہے، الا یہ کہ اولیائے میت معاف کر دیں۔۔۔ اس کے دلائل درج ذیل ہیں:

1 .﴿وَما كانَ لِمُؤمِنٍ أَن يَقتُلَ مُؤمِنًا إِلّا خَطَـًٔا ۚ وَمَن قَتَلَ مُؤمِنًا خَطَـًٔا فَتَحر‌يرُ‌ رَ‌قَبَةٍ مُؤمِنَةٍ وَدِيَةٌ مُسَلَّمَةٌ إِلىٰ أَهلِهِ إِلّا أَن يَصَّدَّقوا... ٩٢﴾... سورة النساء

کہ "کسی مسلمان کا یہ کام نہیں کہ وہ کسی دوسرے مسلمان کو قتل کرے مگر غلطی سے۔۔۔اور جو کسی کو غلطی سے قتل کر دے تو وہ ایک مسلمان کو آزاد کرے اور اس کے گھر والوں کو خون بہا ادا کرے، الا یہ کہ وہ معاف کر دیں۔"

2 .﴿وَإِن كانَ مِن قَومٍ بَينَكُم وَبَينَهُم ميثـٰقٌ فَدِيَةٌ مُسَلَّمَةٌ إِلىٰ أَهلِهِ وَتَحر‌يرُ‌ رَ‌قَبَةٍ مُؤمِنَةٍ... ٩٢﴾... سورة النساء

"اور اگر وہ مقتول ایسی قوم سے تعلق رکھتا ہے کہ تمہارے اور ان کے درمیان عہد ہے، تو اس کے گھر والوں کو خون بہا ادا کرے اور ایک مسلمان غلام کو آزاد کرے"

3۔ اور حدیث ۔۔۔ جس کے راوی عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ ہیں ۔۔۔ میں ہے کہ جنگِ احد میں حذیفہ بن الیمان رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جنگ میں شریک تھے، تو مسلمانوں نے ان کے باپ کو غلطی سے دشمن کا فرد سمجھ کر ان پر تلواروں سے حملہ کر دیا۔ حذیفہ رضی اللہ عنہ یہ کہتے ہی رہے کہ یہ میرے باپ ہیں لیکن وہ کچھ نہ سمجھے یہاں تک کہ انہیں تہ تیغ کر دیا۔ اس وقت حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا، اللہ تمہیں معاف فرمائے اور وہ ارحم الراحمین ہے" ۔۔۔ جب یہ خبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچی تو آپ کے ہاں حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کی قدر و منزلت بڑح گئی۔

لڑکے یا مجنون کا جرمِ قتل:

لڑکے سے مراد یہ کہ پندرہ سال سے کم عمر ہو، کیونکہ تکالیفِ شرعیہ کے لیے یہ کم سے کم عمر ہے اور مجنون سے مراد وہ شخص ہے جو عقل نہ رکھتا ہو اور اسے اس سے افاقہ نہ ہو۔

اگر کوئی لڑکا یا مجنون ، خواہ وہ معصوم ہو، اور اس نے آلہِ قتل کا استعمال بھی کیا ہو، اگر کسی کو قتل کر دے تو وہ قتل خطا ہی سمجھا جائے گا۔ وجہ یہ ہے کہ اس میں قتلِ عمد کے تیسرے رکن یعنی ارادہ قتل کے تقاضے پورے نہیں ہوتے۔

آلہ قصاص:

شریعت نے قصاص کے لیے تلوار کے استعمال کو بنیاد قرار دیا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

«لا قود الا بالسيف»(ابن ماجه)

کہ "تلوار سے ہی قصاص لیا جائے"

یہ آلہ اس لیے مناسب ہے کہ اس سے بہت جلد جان نکل جاتی ہے جو مقتول کے لیے تکلیف کی کمی کا سبب ہے ۔۔۔ اور اس لیے بھی کہ تلوار عوام کے لیے خوفناک، زندہ شخص کے لیے انتباہ اور وارثینِ مقتول کے غصہ کے لیے ٹھنڈک کا باعث ہے۔

شریعت قاتل کی بشریت کی بے حرمتی نہیں کرتی، نہ قصاص سے پہلے اور نہ اس کے بعد:

ضمنا یہ بھی سمجھ لیجئے کہ قاتل کے قصاص سے شریعت کا مقصد محض عدل ہے جو قصاص کے بعد پورا ہو جاتا ہے۔ قصاص کے بعد اس کے لاشے کو مارنے، اس کی بے حرمتی کرنے اور قصاص سے قبل اسے بامشقت قید میں ڈالنے یا بھوک پیاس کا دکھ دینے سے شریعت نے منع کیا ہے۔۔۔اور اس پر نماز جنازہ پڑھنے اور اسے مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنے کا حکم دیا ہے۔۔۔پھر یہ بھی حکم دیا ہے کہ آلہ قصاص (تلوار) کی دھار کو تیز کر لیا جائے اور یہ حکم محض مقتول کی راحت کے لیے ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

«ان الله كتب الاحسان على كل شئ فاذا قتلتم فاحسنوا القتلة فاذا ذبحتم فاحسنوا الذبحة وليحد احدكم شفرته وليرح ذبيحة»

کہ "اللہ تعالیٰ نے ہر چیز سے اچھا سلوک کرنے کو فرض قرار دیا ہے۔ سو جب تم قتل کرو تو بہتر طریقے سے کرو اور جب ذبح کرو تو بھی بہتر طریقے سے ذبح کرو، تم میں سے ہر ایک کو چاہئے کہ چھری وغیرہ کی دھار کو تیز کر لے اور اپنے ذبیحہ کو سکھ پہنچائے"

ہاں بعض علماء کا یہ خیال ہے کہ قاتل کو بھی اسی طرح قتل کرنا چاہئے جیسے اس نے قتل کیا تھا، ان کے دلائل یہ ہیں:

1.﴿وَإِن عاقَبتُم فَعاقِبوا بِمِثلِ ما عوقِبتُم بِهِ ۖ وَلَئِن صَبَر‌تُم لَهُوَ خَيرٌ‌ لِلصّـٰبِر‌ينَ ﴿١٢٦﴾... سورةالنحل

"اور اگر تم بدلہ لو تو اسی طرح لو جس طرح کہ تمہیں تکلیف پہنچائی گئی ہے"

2 .﴿فَمَنِ اعتَدىٰ عَلَيكُم فَاعتَدوا عَلَيهِ بِمِثلِ مَا اعتَدىٰ عَلَيكُم...﴿١٩٤﴾... سورةالبقرة

"پھر جس نے تم پر زیادتی کی تو تم اس پر زیادتی کرو، مگر ایسی ہی زیادتی جیسی کہ اس نے تم پر کی تھی"

3۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اس یہودی کا سر "پتھروں میں کچل دیا تھا، جس طرح اس نے انصار کی ایک لڑکی کا سر دو پتھروں میں کچل کر اسے مار دیا تھا۔

مملکت میں آلہ قصاص:

قصاص کے نفاذ کے لیے مملکتِ ہذا (سعودیہ) میں تلوار اور بندوق کو آلہ قصاص کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔

قصاص کب لیا جائے؟

قصاص کی تنفیذ کے لیے مندرجہ ذیل تین شرائط کا پورا ہونا ضروری ہے:

1۔ جس سے قصاص لیا جائے وہ اس کا مستحق بھی ہو اور مکلف بھی ۔۔۔ پھر اگر وہ لڑکا یا مجنون ہے تو سزا کے نفاذ میں تاخیر کی جائے گی اور اسے قید کیا جائے گا، تا آنکہ لڑکا بالغ ہو جائے یا مجنون کے حواس ٹھیک ہو جائیں۔

2۔ مقتول کے جملہ وارث۔۔۔ چھوٹے ہوں یا بڑے، عورتیں ہوں یا مرد ۔۔۔ سب قصاص پر متفق ہو جائیں۔ یہ جمہور علماء کی رائے ہے۔ لیکن علماء اسے محض مردوں کے اتفاق تک محدود کرتے ہیں کیونکہ یہ مسئلہ مردوں کے وقار اور ان کی عزت سے تعلق رکھتا ہے۔

3۔ کسی اشد ضرورت کے پورا ہونے تک اسے (قاتل کو) امام دی جائے۔ یعنی اگر عورت ہو اور حاملہ ہو، یا وجوبِ قصاص کے بعد حاملہ ہو جائے تو اس سے اس وقت تک قصاص نہیں لیا جائے گا جب تک وہ بچہ نہ جن لے، یا اس کا دودھ نہ چھڑا لے۔

مملکت میں قصاص کا نفاذ کب ہوتا ہے؟

مملکتِ ہذا میں مقدمات کا فیصلہ شرعی ججوں کے طریق پر ہوتا ہے۔

کچھ ایسے خصومات ہوتے ہیں جو جلد فیصلہ طلب ہوتے ہیں اور یہ عموما مال کی ایک معین مقدار (ہزار ریال) تک ہوتے ہیں اور ان کا ایسے گناہوں سے تعلق نہیں ہوتا جن کی سزا قطع ید یا قصاص یا حدود تک پہنچتی ہے۔ سو قاضی ان تمام مقدمات کو ایک نظر دیکھتا ہے جو اسے رئیس محکمہ کی طرف سے موصول ہوتے ہیں۔

قصاص کے مقدمات خصوصی توجہ طلب ہوتے ہیں۔ ان کی شرائط اور قانونی تقاضوں کا پورا ہونا، پھر ان کا ریکارڈ مرتب کرنا ضروری ہوتا ہے۔ پھر یہ ریکارڈ شناخت و تشخیص کمیٹی کو بھیجا جاتا ہے۔ پھر اگر یہ کمیٹی یا اس کے اکثر ارکان قصاص کا حکم دے دیں تو یہ ریکارڈ مجلسِ اعلیٰ کی ایک مستقل کمیٹی کو بھیجا جاتا ہے تاکہ وہ بھی اس میں پوری طرح غور و خوض کرے۔ پھر اگر اس کمیٹی کے ارکان یا ان کی اکثریت قصاص کا فیصلہ کرے تو یہ کاغذات جلالۃ الملک المعظم کی منظوری کے لیے بھیجے جاتے ہیں۔ پھر وہاں سے ان مخصوص اداروں کو یہ فائل بھیج دی جاتی ہے جہاں ان احکام پر عملدرآمد ہوتا ہے۔

اس طریق سے قاری کو اس بات کا بخوبی اندازہ ہو سکتا ہے کہ حکومت ایسے مقدمات کو کس قدر دقتِ نظر سے دیکھتی، عدل کے قانونی تقاضے پورے کرتی اور کسی فرد کی خواہشات، نادانی اور لغزشوں سے بچنے کے لیے کیا کچھ طریقے اختیار کرتی ہے؟

شرعی لحاظ سے قصاص کا نفاذ کون کرتا ہے؟

قصاص کا نفاذ خون کا وارث کر سکتا ہے۔ اگر وہ بہتر سلوک اور گرفت پر قادر ہو۔ ورنہ ہر وہ شخص جو ان اوصاف سے متصف ہو اور یہ بادشاہ اور اس کے اشراف ہوتے ہیں۔

مملکت میں قصاص کا نفاذ کیسے پورا ہوتا ہے؟

مملکت میں قصاص کا نفاذ احکامِ شریعت کے مطابق سر انجام پاتا ہے۔ حکمِ قصاص پر بادشاہ کی تصدیق کے بعد قاتل کو اطلاع دی جاتی ہے پھر اسے اس بات کا پورا موقع دیا جاتا ہے کہ وہ دین دنیا سے متعلق اپنی کسی ایسی خواہش کا اظہار کر سکے جسے پورا کیا جا سکتا ہو۔

اسی طرح مقتول کے وارثوں کو بھی اطلاع دی جاتی ہے کہ وہ قصاص کے وقت حاضر ہو سکیں۔ پھر قاتل کو قصرِ الامارت کے سامنے کھلے میدان میں لایا جاتا ہے اور صوبہ کے گورنر کے سامنے اس کا نفاذ ہوتا ہے۔ قصاص کے نفاذ سے پہلے قاتل کے نام مقتول کے نام اور مقدمہ کی مختصر روئیداد کا اعلان کیا جاتا ہے۔

پیشتر اس کے کہ اس موضوع کو ختم کیا جائے، یہ بھی بتلا دینا چاہتا ہوں کہ حکومتِ سعودیہ شریعت کی مطابقت میں قصاص کے نفاذ سے قبل ایسے بہتر موقعہ کی بھی کوشاں رہتی ہے کہ خون کے وارث دیت لے کر قاتل کو معاف کر دیں۔

اور معافی کے لیے سفارش کرنے والے بیشتر افراد آلِ سعود سے تعلق رکھتے ہیں۔ جو کسی کے کہنے کے بغیر ہی مملکت میں ایسے امور سر نجام دیتے ہیں۔ پھر اس قبیلے کے بعض افراد بھی اس معاملہ میں دلچسپی لیتے اور بہت سا مال بھی خرچ کرتے ہیں تاکہ قاتل کو قصاص سے بچایا جا سکے۔ پھر برض دفعہ ایسی سفارشات کامیاب ثابت ہوتی ہیں اور خون کے وارث اپنے اس حق کو چھوڑنے پر آمادہ ہو جاتے ہیں۔ اس طرح قصاص کا نفاذ نہیں ہوتا اور بعض دفعہ یہ سفارشات ناکام رہتی ہیں اور خون کے وارث قصاص پر بدستور اڑے رہتے ہیں۔ ایسی صورت میں قصاص شریعت کے مطابق نہایت منصفانہ طریقہ سے نافذ کر دیا جاتا ہے۔

جان کے علاوہ اطراف کا قصاص:

ضمنا یہ کہنا بھی ضروری ہے کہ شریعت نے اسلامی معاشرہ میں عدل، امن، اور مساوات کے تقاضے پورے کرنے کے لیے جان کے علاوہ بھی قصاص مقرر کیا ہے اور وہ "اطراف" جیسے ہاتھ، پاؤں، آنکھ، کان، ناک، دانت، ہونٹ اور انگلیوں کا قصاص ہے۔ اگر کوئی شخص زیادتی کر کے کسی دوسرے شخص کا کوئی عضو کاٹ دے، تو جس کا عضو کاٹا گیا ہے، اسے یہ حق پہنچتا ہے کہ وہ مجرم کے اسی عضو کو کاٹنے کا مطالبہ کرے۔

اطراف میں قصاص کب واجب ہوتا ہے؟

اطراف کے قصاص کے وجوب کے لیے تین شرطوں کا پورا ہونا ضروری ہے:

1۔ بدلہ لیتے وقت ظلم و زیادتی سے امن کی ضمانت۔

2۔ مماثلت، یعنی اگر مجرم نے داہنا کاتھ کاٹا ہے تو قصاص میں اس کا داہنا ہاتھ ہی کاٹا جائے گا۔

3۔ تندرستی اور کمال میں یکسانیت، یعنی کسی کے شل ہاتھ کے بدلے اس کا صحیح ہاتھ نہیں کاٹا جا سکتا، اسی طرح ناقص انگلیوں کے بجائے صحیح انگلیاں، بے نور آنکھ کے بدلے تندرست آنکھ یا گونگی زبان کے بجائے بولنے والی زبان کا قصاص نہیں ہو گا۔ (ایسی صورت میں قاضی اپنی صوابدید کے مطابق تعزیر لگائے گا)

آیا اس نوع کے جھگڑے مملکت میں ہوتے رہتے ہیں؟

اس قسم کے جھگڑے پیدا تو ہوتے رہتے ہیں مگر چونکہ قصاص میں زیادتی کی ضمانت مشکل ہوتی ہے لہذا یہ شرعی عدالتوں میں کم ہی آتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہم قصاص کے ایسے واقعات کم ہی مشاہدہ کر سکتے ہیں۔

دیت

دیت کی حکمت: دیت کو شریعت کی ایک رحم دلانہ پیشکش سمجھنا چاہئے جو اس امت کو عطا ہوئی۔ یہودیت میں قصاص واجب تھا اور قاتل کے لیے قصاص کے سوا کوئی چارہ نہ تھا، مسیحیت نے صرف دیت واجب کی۔ شریعتِ اسلامیہ چونکہ دائمی اور ابدی ہے۔ لہذا اس نے ان دونوں کے درمیان اعتدال کی راہ اختیار کی۔

شریعت اسلامیہ نے عدل (مقتول کے وارثوں سے انصاف) کو ملحوظ رکھتے ہوئے اور قاتل کے دل میں ارتکاب جرم کے جراثیم کو ختم کرنے کی غرض سے قصاص مقرر کیا ہے۔ تاہم حقیقت یہی ہے کہ شریعت نے مقتول کے وارث کو دیت لے کر معاف کر دینے کو ہی پسند فرمایا ہے اور اس سے اجرِ عظیم اور بڑے ثواب کا وعدہ کیا ہے۔

قصاص کے بجائے دیت کی پسندیدگی کے دلائل:

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

1 .﴿فَمَن عُفِىَ لَهُ مِن أَخيهِ شَىءٌ فَاتِّباعٌ بِالمَعر‌وفِ وَأَداءٌ إِلَيهِ بِإِحسـٰنٍ ذ‌ٰلِكَ تَخفيفٌ مِن رَ‌بِّكُم وَرَ‌حمَةٌ...﴿١٧٨﴾... سورةالبقرة

"پھر جس شخص کو اس کا بھائی کچھ معاف کر دے تو حسبِ دستور اس کی تابعداری کرنی چاہئے اور اس کو بہتر طریقے سے ادا کرنا چاہئے۔ یہ تمہارے رب کی طرف سے آسانی بھی ہے اور مہربانی بھی۔"

2 .﴿فَمَن تَصَدَّقَ بِهِ فَهُوَ كَفّارَ‌ةٌ لَهُ... ﴿٤٥﴾... سورة المائدة

"پھر جس نے معاف کر دیا تو وہ گناہ سے پاک ہو گیا۔"

3 .﴿وَاَنْ تَعْفُوا اَقْرَبُ لِلتَّقْوىٰ﴾... سورةالبقرة

"اور اگر تم معاف کر دو تو یہ بات پرہیز گاری سے قریب تر ہے۔"

4 .﴿وَالكـٰظِمينَ الغَيظَ وَالعافينَ عَنِ النّاسِ...﴿١٣٤﴾... سورة آل عمران

"اور غصہ کو پی جانے والے اور معاف کرنے والے لوگوں کو۔"

اور رسول اللہﷺ نے فرمایا:

5 .«ما عفا رجل عن مظلمة الا زاده الله بها عزا» مسلم ، احمد ، ترمذى

"جس نے کسی کی نا انصافی کو معاف کر دیا، تو اللہ تعالیٰ اس کے بدلے اس کی عزت زیادہ کرے گا۔"

6 .«وروى عن انس بن مالك رضي الله عنه قال مارأيت رسول الله ﷺ رفع اليه شئ فيه قصاص الا امر بالعفو فيه» ابوداؤد

"حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب کبھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کوئی ایسا قضیہ پیش آتا جس میں قصاص ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ اس کو معاف کرنے کا حکم دیتے تھے۔"

7 .«ما من رجل يصاب بشئ فى جسده فيتصدق به الا رفعه الله به درجة وحط به عنه خطيئة» ابن ماجه، ترمذى

"جس شخص کے بدن کو (کسی سے) کوئی تکلیف پہنچے پھر وہ معاف کر دے تو اس کی بناء پر اس کے درجے بلند کرتا اور اس کی خطائیں معاف فرما دیتا ہے۔"

مقتول کے ورثاء کے پاس عفو اور دیت کی سفارش: جس طرح شریعت نے قصاص کو معاف کرنے اور دیت کے لینے کو پسند فرمایا ہے۔ اسی طرح اس کام کی سفارش کرنے والے کو بھی پسند فرمایا اور اس کے لیے اجرِ عظیم کا وعدہ فرمایا ہے۔

دیت کی بنیاد: دیت میں اونٹ کو بنیاد قرار دیا گیا ہے اور اس کی تعداد 100 ہے۔

اور بعض علماء کہتے ہیں کہ دیت میں بنیاد سونا ہے اور سونے میں سے دیت کی مقدار ہزار دینار ہے اور جو علماء دیت میں چاندی کو بنیاد قرار دیتے ہیں ان کے ہاں دیت بارہ ہزار درہم ہے اور جو گائے کو بنیاد قرار دیتے ہیں ان کے ہاں دیت دو سو گائے ہیں اور جو بکری کو بنیاد سمجھتے ہیں ان کے ہاں دیت 6 ہزار بکریاں ہیں اور جو حلہ (ایک قیمتی پوشاک) قرار دیتے ہیں ان کے ہاں دیت سو 100 حلے ہے۔ ان اقوال کے اختلاف کا نتیجہ یہی ہے کہ یہ سب مصلحتِ وقت کی باتیں ہیں، ورنہ شریعت میں فقط اونٹ ہی کو اصل قرار دیا گیا ہے اور وہ لوگ جو دوسری رائے کی طرف گئے ہیں، وہ ان مذکورہ اصناف کو شرعی اندازہ ہی سمجھتے ہیں۔

سعودی عرب میں دیت کی بنیاد:

جمہور علماء شریعت اونٹ ہی کو اصل قرار دیتے ہیں۔ ہاں جب یہ نہ ملیں یا پورے نہ ہو سکیں تو ان کی قیمت کے برابر چاندی یا سونا ادا کیا جا سکتا ہے، مملکت میں اسی بات پر عمل ہے۔ اونٹ نہ ملنے کی صورت میں مال کی ایک مقررہ مقدار میں دیت ادا کی جا سکتی ہے اور دیت کی قیمت کا ہر وقت اور ہر زمانہ میں لحاظ رکھا جائے گا۔

ملک عبدالعزیز کے عہد میں دیت کی مقدار فرانسیسی آٹھ سو چاندی کے ریال تھے۔ پھر یہ مقدار تین ہزار عربی چاندی کے ریال ہوئے۔ پھر یہ مقدار آٹھ ہزار ریال تک جا پہنچی۔ اس کے بعد دس ہزار، بعد ازاں چوبیس ہزار ریال ہو گئی۔ میں یہ جانتا ہوں کہ بڑے بڑے علماء کی ایک کمیٹی نے یہ مقدار 45 ہزار ریال طے کی ہے۔ تاہم ابھی اس کا اعلان نہیں ہوا۔

دیت کی مقدار کیوں بڑھتی ہے؟ جوں جوں اونٹ کی قیمت بڑھتی جاتی ہے۔ اسی نسبت سے دیت میں مال کی مقدار بھی بڑھتی جاتی ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ 45 ہزار ریال بھی اونٹ کی انتہائی کم قیمت کے حساب سے تجویز ہوئی ہے ورنہ عملا اگر اونٹ خریدے جائیں تو یہ ایک لاکھ ریال ہونی چاہئے۔

کفارہ

کفارہ "کفر" سے مشتق ہے جس کے معنی ہیں چھپانا یا پردہ ڈالنا۔ کسی گناہ کے کفارہ سے یہ مراد ہے کہ ایسا پردہ جو کسی مرتکبِ جرم اور اس کی سزا کے درمیان حائل ہو جاتا ہے۔

کفارہ کی حکمت: امتِ مسلمہ کے لیے کفارہ دیت کے بعد دوسری رحمت ہے جو قتلِ خطا کے مرتکب پر ہے تاکہ اس کا نفس اور اس کا ضمیر اس جرم کے اثرات سے پاک و صاف ہو جائے اور یہ سزا اللہ تعالیٰ کے حق کے لیے ہے۔

شریعت نے کسی ایک گناہوں کے کئی ایک کفارے مقرر کیے ہیں۔ یہاں زیرِ بحث فقط قتل کا کفارہ ہے۔

کیا کفارہ قتلِ عمد کے لیے ہے یا قتلِ خطا کے لیے؟

بعض علماء نے کفارہ کو صرف قتلِ خطا کے ساتھ مختص کیا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ کفارہ گناہ کو دور کرنے کے لیے ایک پردہ ہے اور قتلِ عمد تو ایک کبیرہ گناہ ہے جس کے لیے وعید شدید ہے لہذا قتلِ عمد کے لیے کفارہ نہیں اور بعض علماء تو یہاں تک کہتے ہیں کہ قاتلِ عمد کو کفارہ بھی ادا کرنا چاہئے کیونکہ قتلِ خطا سے قتلِ عمد کے مجرم کو پردہ کی زیادہ ضرورت ہے۔

قتل کا کفارہ کیا ہے؟

قتلِ خطاء کا کفارہ ایک مومن غلام کو آزاد کرنا ہے۔ اگر اتنی توفیق نہ ہو تو دو ماہ کے لگاتار روزے رکھنا ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

﴿وَما كانَ لِمُؤمِنٍ أَن يَقتُلَ مُؤمِنًا إِلّا خَطَـًٔا ۚ وَمَن قَتَلَ مُؤمِنًا خَطَـًٔا فَتَحر‌يرُ‌ رَ‌قَبَةٍ مُؤمِنَةٍ وَدِيَةٌ مُسَلَّمَةٌ إِلىٰ أَهلِهِ إِلّا أَن يَصَّدَّقوا ۚ فَإِن كانَ مِن قَومٍ عَدُوٍّ لَكُم وَهُوَ مُؤمِنٌ فَتَحر‌يرُ‌ رَ‌قَبَةٍ مُؤمِنَةٍ ۖ وَإِن كانَ مِن قَومٍ بَينَكُم وَبَينَهُم ميثـٰقٌ فَدِيَةٌ مُسَلَّمَةٌ إِلىٰ أَهلِهِ وَتَحر‌يرُ‌ رَ‌قَبَةٍ مُؤمِنَةٍ ۖ فَمَن لَم يَجِد فَصِيامُ شَهرَ‌ينِ مُتَتابِعَينِ تَوبَةً مِنَ اللَّهِ ۗ وَكانَ اللَّهُ عَليمًا حَكيمًا ﴿٩٢﴾... سورةالنساء

"اور کسی مسلمان کے لیے لائق نہیں کہ وہ دوسرے مسلمان کو قتل کرے، مگر غلطی سے، اور جس نے کسی مسلمان کو غلطی سے قتل کر دیا تو پھر وہ مسلمان ایک غلام آزاد کرے اور مقتول کے گھر والوں کو خون بہا بھی پہنچائے، الا یہ کہ وہ معاف کر دیں۔اگر مقتول تمہاری دشمن قوم سے تعلق رکھتا ہے تو صرف ایک مسلمان غلام آزاد کرے اور اگر وہ ایسی قوم سے تعلق رکھتا ہے جس سے تمہارا معاہدہ ہے تو اس صورت میں بھی خون بہا اس کے گھر والوں کو پہنچائے اور ایک مسلمان غلام بھی آزاد کرے پھر جس کو اتنی توفیق نہ ہو تو وہ دو ماہ کے لگا تار روزے رکھے، اللہ تعالیٰ سے گناہ بخشوانے کو اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے۔"

یہ بات بھی ملحوظ رہنا چاہئے کہ کفارہ مسلم کے علاوہ اس غیر مسلم کے لیے بھی واجب ہے جو کسی اسلامی مملکت میں اس کی اجازت سے اقامت پذیر ہو۔
حاشیہ

موجودہ وقت (1402ھ) میں سعودی عرب میں دیت کی مقدار ایک لاکھ ریال ہے۔