ڈوبتے دل کا تموج میں سہارا تو ہے
مری سوچوں کے سمندر کا کنارا تو ہے
میں تو بیتاب ہوں گرداب میں قطرے کی طرح
راحتِ روح کی سمتوں کا اشارہ تو ہے
تیرے الطافِ مسلسل سے ہوں زندہ یا رب
میں ہوں بیمار مرے درد کا چارا تو ہے
کوئی بھی آنکھ نہیں جس نے کہ دیکھا ہو تجھے
پھر بھی حیرت ہے کہ ہر آنکھ کا تارا تو ہے
دیدہ و دل کا مکاں تیری ضیا سے روشن
حسنِ احساس ہے تو جان نظارا تو ہے
تو جو چاہے تو سرابوں سے بھی چشمے پھوٹیں
ظلمتِ یاس میں امید کا تارا تو ہے
کوئی زرد ہو یا راسخ بے مایہ ہو
سب پہ ہے تیرا کرم سب کا سہارا تو ہے