''پشاور میں سول سوسائٹی کے نام پر'شغل سوسائٹی'کے کارندے آپے سے باہر ہو گئے۔ احتجاج کی کوریج کے دوران نشے میں دُھت افراد نے دنیا نیوز کی ٹیم کو وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنا ڈالا۔''

خبر کی تفصیل میں بتایا گیا کہ

''امن کمیٹی کے روپ میں بد امنی پھیلانے والے ایکشن فورم کے ارکان نے آج (۳۱؍دسمبر ۲۰۱۴ء) پشاور پریس کلب کے سامنے سانحۂآرمی پبلک سکول کے خلاف احتجاج کی کوریج کے دوران دنیا نیوز کی ٹیم کو لاتوں، گھونسوں اور تھپڑوں سے وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا۔ تشدد سے دنیا نیوز کے رپورٹر یاسر حسین، ناصر داوڑ، عمران یوسفزئی اور کیمرہ مین کامران پراچہ شدید زخمی ہو گئے۔ بدامنی پھیلانے والے 'ایکشن فورم' کے افراد نے میڈیا اور اخبار نویسوں کے خلاف غلیظ زبان بھی استعمال کی۔ شراب کے نشے میں دھت ان افراد سے شراب کی بوتلیں بھی برآمد ہوئیں۔ پولیس نے موقع پر پہنچ کر دو افراد کو حراست میں لے لیا۔ تشدد کرنے والوں کا سربراہ ڈاکٹر عمران اپنے آپ کو سول سوسائٹی کا رکن ظاہر کرتا ہے۔''1

روزنامہ 'نئی بات' کی خبر میں بتایا گیا کہ

''آرمی پبلک سکول پر حملے کے خلاف '۱۲؍ ۱۶.. ایکشن فورم' کے زیر اہتمام احتجاج کے دوران شراب کے نشے میں دھت کارکنوں نے نجی ٹی وی کی ڈی ایس این جی پر حملہ کر دیا اور رپورٹر اور کیمرہ مین کو تشدد کا نشانہ بنایا جبکہ بیچ بچاؤ کرانے والے متعدد صحافیوں پر بھی بدترین تشدد کیا۔ این جی اوز نے سول سوسائٹی کے نام پر اپنی ہڑتال اور احتجاج کو کامیاب بنانے کے لیے نوجوان کارکنوں کو شراب پلا کر احتجاج میں شامل کیا۔ مظاہرین نے صدر روڈ، خیبر بازار، امن چوک، گورا قبرستان، جی ٹی روڈ، یونیورسٹی روڈ، چار سدہ روڈ اور دیگر روٹس پر ٹائر جلا کر اور دھرنے دے کر سڑکیں بلاک کر دیں۔ پولیس نے مظاہرین کو روڈز کھولنے کو کہا تو اُنہوں نے انکار کر دیا جس پر پولیس نے لاٹھی چارج کیا اور فورم کے ممبران ثنا اعجاز، ڈاکٹر سیّد عالم محسود، گل نواز مہمند، تیمور کمال، طارق افغان، وقاص بونیری، محمد سلطان، محمد روم اور دیگر افراد کو گرفتار کر کے حوالات میں بند کر دیا... پولیس نے بعد ازاں تمام افراد کو رہا کر دیا جنہوں نے امن چوک میں جلسے کا انعقاد کیا اور پشاور پریس کلب پہنچے۔ جہاں مظاہرین سرِ عام شراب نوشی کر رہے تھے اور ہاتھوں میں ڈنڈے بھی پکڑ رکھے تھے۔ اس موقع پر اخبارات اور نجی چینلوں کے نمائندے بھی موجود تھے۔ شراب کے نشے میں دھت ڈاکٹر عمران اورکزئی اور دیگر غنڈے اُنہیں کوریج سے روکنے کے لیے اُن پر پل پڑے جس کے نتیجے میں سینئر رپورٹر ناصر داوڑ، کیمرہ مین کامران پراچہ اور انجینئر وقار احمد شدید زخمی ہو گئے جنہیں علاج کے لیے ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔''2

یا لَلعجَب! اسلامی جمہوریہ پاکستان میں یوں سر عام 'سول سوسائٹی' کی طرف سے شراب نوشی کا مظاہرہ اور وہ بھی معصوم طالب علموں کے قتل عام پر احتجاج کے نام پر۔ یہ طلبہ اور ان کے اساتذہ کے قتل پر سوگ اور احتجاج کا مظاہرہ تھا یا شراب نوشی کا جشن منا کر شہداکے ورثا کے زخموں پر نمک چھڑکنے کی قبیح حرکت تھی؟ اس بھدّے اور بے حیا مظاہرے سے سول سوسائٹی کی انسان دوستی کا بھرم کھل گیا۔ان لوگوں کی مغربی سرمائے سے چلنے والی تنظیموں اور ان کی مذموم حرکات کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے!

آئیے دیکھتے ہیں یہ سول سوسائٹی اصل میں ہے کیا اور یہ کس طرح ہمارے معاشرے میں اپنے ابلیسی پنجے گاڑتی چلی جا رہی ہے۔ اصطلاحی طور پر سول سوسائٹی کے معنی ہیں: ''غیر سرکاری تنظیموں اور اداروں کا مجموعہ جس سے شہریوں کے مفادات اور عزم کا اظہار ہوتا ہے۔'' ایک اور توضیح کی رو سے ''سول سوسائٹی معاشرے کے ان افراد اور تنظیموں پر مشتمل ہوتی ہے جو حکومتی انتظامیہ سے آزاد ہوں۔''جبکہ کولنز انگلش ڈکشنری کے مطابق ''سول سوسائٹی آزادئ تقریر اور آزاد عدلیہ جیسے عناصر پر مشتمل ہوتی ہے جو ایک جمہوری معاشرے کی تشکیل کرتے ہیں۔''

ارسطو سے سول سوسائٹی تک

سول سوسائٹی کا تصور مغرب یا یورپ کی دین ہے۔ اس کا اوّلین تصور یونانی شہری ریاست (Polis) سے اُبھرا جس میں ''آزاد شہری قانون کی حکمرانی کے تحت مساوی سطح پر رہتے تھے۔'' اپنی تصنیف Politics (سیاست) میں ارسطو نے سول سوسائٹی کے لیے دراصل Koinonia Politics (سیاسی مقننہ) یا کمیونٹی (برادری) کی اصطلاح استعمال کی تھی۔ اس کا مقصد 'عوام کی بہبود' بتایا گیا۔ جبکہ اس یونانی فلسفی نے انسان کی تعریف اس طرح کی تھی کہ ''یہ Zoon Politikon (سیاسی یا سماجی جانور) ہے۔'' حالانکہ اللہ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا ہے مگر اہل مغرب نے ارسطو سے بہیمانہ اصطلاح 'سماجی جانور' (Social Animal)لے کر شرف انسانی کی توہین کی ہے۔ ارسطو کے تراجم لاطینی میں ہوئے تو سسرو نے ارسطو کی اصطلاح کا ترجمہ Societas Civilis (شہری مجلس) کیا جس نے انگریزی میں'سول سوسائٹی ' کا روپ دھار لیا۔ یاد رہے ارسطو افلاطون کا شاگرد اور سکندرِ اعظم کا اُستاد تھا۔ یہ سب صنم پرست تھے، البتہ افلاطون (Plato) کے استاد سقراط(Socratese) کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ مؤحد تھا۔

ہیومنزم ، روشن خیالی اور سیکولرزم

قرونِ وسطیٰ میں جو یورپ کا زمانۂ جاہلیت (Dark Ages) تھا، کلاسیکل سول سوسائٹی کا تصور غائب ہو گیا اور اس کی جگہ 'منصفانہ جنگ' نے لے لی۔ یہ دور یورپ میں صد سالہ، سی سالہ اور ہفت سالہ جنگوں سے عبارت تھا۔ صد سالہ جنگ فرانس اور انگلستان کے درمیان ۱۳۳۷ء سے ۱۴۵۱ء تک لڑی گئی۔ یہ دراصل جنگوں کا ایک طویل سلسلہ تھا۔ اسی طرح سی (۳۰) سالہ جنگ وسطی یورپ میں لڑی گئی اور معاہدہ ویسٹ فالیا (جرمنی ۱۶۴۸ء) پر منتج ہوئی۔

سی سالہ جنگ میں جو مظالم ڈھائے گئے، ان کے نتیجے میں Humanism (انسانیت نوازی)، سائنسی انقلاب اور Enlightenment (روشن خیالی) کے نعروں نے جنم لیا تھا۔ تھامس ہوبس نے Civility (سول آداب) اور Rationality (عقلیت پرستی) پر زور دیا جبکہ انگریز مفکر جان لاک کا کہنا تھا کہ ''ریاست کو سول اور فطری قوانین کی حدود میں رہ کر کام کرنا چاہیے۔'' دونوں کا نظریہ تھا کہ ''شہری خوبیاں (Civic Virtues) اور حقوق (Rights) فطری قوانین سے اخذ کیے جائیں۔''

یوں 'فطری قوانین' کی آڑ میں لادینیت یا سیکولرزم کی بنیاد رکھ دی گئی۔

مغرب میں دین اور دنیا کی علیحدگی

یہ دور یورپ میں ریاست کی کلیسا یا مذہب سے علیحدگی کا دور تھا جس کا اظہار 'ریشنالٹی 'یا عقلیت پرستی اور 'نیچرل لاز' یا فطری قوانین کی شکل میں ہوا۔ پاپائیت کے انسانیت کُش جبر کے نتیجے میں مذہب کو ریاست سے باہر کر دیا گیا اور سیکولرزم (لادینیت) کا دور دورہ ہوا حتیٰ کہ جمہوریت اور سیکولرزم لازم و ملزم ٹھہرے، اور لادینیت کی بنیاد پرسول سوسائٹیاں فروغ پانے لگیں۔ الہامی مذاہب یا الہامی قوانین سے قطع تعلق کر کے'فطری' یا حیوانی قوانین کے اطلاق کے نتیجے میں زنا کاری، اَغلام بازی، عریانی اور فحاشی کو فروغ ملا اور یہ اخلاقی برائیاں تہذیبِ مغرب یا سول سوسائٹی کا طرۂ امتیاز ٹھہریں۔ انسانی اخلاق معاشرے کی مادی ضرورتوں کے تابع قرار پائے، چنانچہ اخلاقیات سے عاری یورپ کی مسیحی اقوام مغربی افریقہ سے سیاہ فام مسلمانوں اور دیگر لوگوں کو غلام بنا کر براعظم امریکہ میں غلاموں کی منڈیوں میں بیچنے لگیں۔

یورپی سامراج کی فتوحات

اٹھارویں صدی سے مسلح یورپی قزاقوں نے تاجروں کے بھیس میں ایشیا اور افریقہ پر یلغار کی۔ شرق الہند کے جزائر پر پرتگالیوں، ہسپانویوں، ولندیزیوں (ڈچ) اور انگریزوں نے قبضہ جما لیا۔ ملائی اور انڈونیشی مسلمان ان یورپی مسیحی اقوام کے غلام بن گئے۔ برصغیر کا وسیع خطہ اس زمانے میں اپنی دولت و حرفت کی بنا پر 'سونے کی چڑیا' کہلاتا تھا۔ اس پر قابض ہونے کے لیے انگلستان اور فرانس میں کشمکش رہی۔ آخر کار انگریزوں نے فرانسیسیوں کو ہندوستان کے ساحلوں سے بھگا دیا۔ انگریزوں نے یہاں سازشوں کا جال بچھایا اور ایک سو برس میں مسلم حکمرانوں سے بتدریج ہندوستان کا اقتدار چھین لیا۔ ۱۷۵۷ء میں بنگال، ۱۷۹۹ء میں میسور، ۱۸۰۳ء میں دہلی اور ۱۸۴۳ء میں سندھ پر قبضہ جما لیا۔ ۱۷۹۹ء سے پنجاب پر اور ۱۸۱۹ء سے پشاور پر سکھ قابض تھے، اُنہیں ۱۸۴۹ء میں شکست دے کر انگریزوں نے پنجاب و سرحد کو برطانوی ہند کا حصہ بنا لیا اور پھر ۱۸۵۷ء کی جنگِ آزادی ناکام بنا کر آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کی برائے نام بادشاہی ختم کر کے انگریز پورے ہندوستان کے مالک بن گئے۔ آخر میں ۱۸۷۶ء میں کوئٹہ برطانوی ہند میں شامل ہوا ۔ اسی دور میں یورپ کی یونیورسٹیوں میں استشراق یا 'مطالعۂ مشرق'کے ادارے قائم ہوئے جن میں عیسائی پادری اور یہودی حاخام پیش پیش تھے۔ ان میں دین اسلام ومسلمانوں کے بارے میں شکوک وشبہات پھیلانے کا کام ہوتا رہا۔

دوسری طرف فرانس الجزائر (1830ء) اور تیونس (1881ء) پر اور برطانیہ مصر( 1882ء) پر قابض ہو چکا تھا۔ پھر۱۸۸۵ء کی برلن کانگرس میں برطانیہ، فرانس، جرمنی، اٹلی، سپین اور بلجیم نے پورے براعظم افریقہ کی بندر بانٹ کر کے اسے محکوم بنا لیا۔ ادھر پہلی جنگِ عظیم کے اختتام تک برطانیہ خلیجی ریاستوں، جنوبی یمن، عراق، اُردن اور فلسطین پر جبکہ فرانس لبنان و شام پر قبضہ جما چکا تھا۔ ان تمام محکوم ممالک میں یورپی زبانوں کی تعلیم کے واسطے سے یورپی طرز کی سول سوسائٹیاں تشکیل پاتی چلی گئیں۔

مشنری ادارے ، لارڈ میکالے اور کالے انگریز

ایشیا اور افریقہ کو غلام بنانے کے ساتھ ساتھ یورپ کے مشنری ادارے یہاں پنجے گاڑنے لگے۔ اُنہوں نے یہاں شفا خانے اور تعلیمی ادارے قائم کیے جن میں یورپی زبانوں کی تعلیم کے ذریعے عیسائیت کا فروغ ان کا مقصود تھا۔ عیسائیت کے ساتھ ساتھ مغرب کے سیکولر نظریات، اباحیت، لادینیت اور نام نہاد روش خیالی کو فروغ ملا۔ ۱۸۳۵ء میں لارڈ میکالے نے ہندوستان کے لیے جس نظامِ تعلیم کا خاکہ برطانوی پارلیمنٹ میں پیش کیا، اس کا اہم نکتہ فارسی و عربی کے بجائے یہاں انگریزی کو تعلیمی و سرکاری زبان کی حیثیت سے رائج کرنا تھا۔ میکالے نے پارلیمنٹ میں تقریر کرتے ہوئے کہا تھا کہ ''میری اس تعلیمی اسکیم کے نتیجے میں ایسے لوگ تیار ہوں گے جو اوپر سے تو کالے ہوں گے مگر ان کے دل انگریزوں کی طرح سفید ہوں گے، چنانچہ ۱۱۲ برس بعد جب 1947ء میں ہندوستان 'آزاد' ہوا اور پاکستان وجود میں آیا تو یہاں خاصی بڑی تعداد 'کالے انگریزوں' کی جنم لے چکی تھی جو بتدریج اُمورِ حکومت، سول و فوجی افسر شاہی اور ذرائع ابلاغ پر چھاتے چلے گئے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ پاکستان جو نفاذِ اسلام اور نفاذِ اُردو کے نام پر بنا تھا، یہاں 'کالے انگریزوں' یا یوں کہہ لیں کہ 'سول سوسائٹی' نے مسلط ہو کر نہ اسلام نافذ ہونے دیا اور نہ اُردو کے بطورِ تعلیمی و دفتری زبان نفاذ کی نوبت آنے دی ہے۔

پاکستان میں سول سوسائٹی

پاکستان اپنے قیام کے ساتھ ہی مغربی ابلیسی نظریات کی آما ج گاہ بنا ہوا ہے۔ ۱۹۵۰ء، ۱۹۶۰ء اور ۱۹۷۰ء کی دہائیوں میں سیکولرزم کے دوش بدوش یہاں سوشلزم (اشتراکیت) اور کمونزم (اشتمالیت) کے غیر اسلامی نظریات کا خوب پرچار ہوا۔ 'کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان' نے ۱۹۵۱ء میں یہاں کمیونسٹ انقلاب برپا کرنے کی ناکام کوشش کی جسے 'راولپنڈی سازش کیس' کہا جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں کمیونسٹ پارٹی خلافِ قانون قرار پائی، تاہم ۱۹۶۷ء میں جب ذوالفقار علی بھٹو نے پاکستان پیپلز پارٹی قائم کر کے سوشلزم کا پرچم تھاما تو کمیونسٹ اور سیکولر نظریات رکھنے والے اور سول سوسائٹی کے بیشتر لوگ ان کے ہم نوا بن گئے۔ اُنہیں سیکولر ذہن کے جاہ پرست جرنیلوں کی حمایت بھی حاصل ہو گئی اور ان سب کی ملی بھگت کے نتیجے میں وطن عزیز دسمبر ۱۹۷۱ء میں دولخت ہو گیا۔

'نئے پاکستان' میں پی پی پی نے سیکولرزم اور سوشلزم کی خوب پذیرائی کی۔ ایوبی مارشل لا (۶۹- ۱۹۵۸ء) اور بھٹو دور (۷۷۔ ۱۹۷۱ء) میں سول سوسائٹی اور سیکولر عناصر پروان چڑھتے رہے، البتہ محبِ اسلام صدر جنرل ضیاء الحق کے دور میں سول سوسائٹی کا کاروبار قدرے مندا رہا۔ پی ٹی وی پر آنے والی خواتین پر سر ڈھانکنے کی پابندی لگی اور حدود آرڈیننس نافذ ہوا تو مہتاب راشدی جیسی برہنہ سر عورتیں ٹی وی سے نکل گئیں۔

پاکستان میں سول سوسائٹی کے ادارے

اس وقت پاکستان میں سول سوسائٹی اور غیر سرکاری تنظیموں (NGOs) کی تعداد ۴۶۶۰۰ ہے۔ ان میں سے بعض ادارے تو مثبت کام کر رہے ہیں مگر بیشتر مغرب سے فنڈ وصول کر کے اس کے اسلام دشمن ایجنڈے کو کسی نہ کسی طرح آگے بڑھا رہے ہیں۔

سول سوسائٹی کے چند مشہور ادارے درج ذیل ہیں:

ایمنیسٹی انٹرنیشنل (ایمنسٹی) آغا خاں فاؤنڈیشن (AKF)

آغا خاں رورل سپورٹ پروگرام (AKRSP) امریکن ریفیوجی کمیٹی آف پاکستان

عورت فاؤنڈیشن آزاد فاؤنڈیشن

بیداری فاؤنڈیشن بہبود فاؤنڈیشن

انصار برنی ٹرسٹ آگاہی

آغاز آہنگ

کئیر انٹرنیشنل فاؤنڈیشن (پاکستان) چائلڈ کئیر فاؤنڈیشن (پاکستان)

کیتھولک ریلیف سروس (کراچی، اسلام آباد، کوئٹہ) سالویشن آرمی (پاکستان)

کیتھولک سوشل سروس (پاکستان) پاپولیشن کونسل (پاکستان)

ینگ مین کرسچین ایسوسی ایشن (YMCA) امریکن نیشنل سکول

کرسچین سوشل اپ لفٹ آرگنائزیشن (CSUO) بلوم فیلڈز ہائی سکول

پاکستان پاورٹی ایسوسی ایشن فنڈ (PPAF) ایف سی کالج یونیورسٹی (لاہور)

پلان ویل (Planwell) یونیورسٹی (کراچی) ویمن ایکشن فورم (WEF)

رہنما فیملی پلاننگ (پاکستان) شرکت گاہ

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (HRCP) کتھیڈرل چرچ اینڈ سکول (لاہور)

پاکستان سنٹر فار فلن تھراپی (PCP) کاوش

ایف سی کالج جیسے مشنری تعلیمی ادارے جو بھٹو دور میں قومیا لیے گئے تھے، بعد میں مغربی مشنری اداروں کو واپس کر دیے گئے اور اب وہ سول سوسائٹی اور سیکولرزم کی نرسریاں بن چکے ہیں۔ ایف سی کالج نے یونیورسٹی کی شکل اختیار کر لی ہے۔

سول سوسائٹی ، پرنٹ میڈیا اور شوبز

قیام پاکستان کے ساتھ ہی لاہور سے پروگریسو پیپرز کے تحت روزنامہ امروز اور پاکستان ٹائمز (انگلش) شائع ہونے لگے۔ یہ دونوں اخبارات سول سوسائٹی اور سیکولرزم اور سوشلزم وکمیونزم کے پرچارک بن گئے اور اسلام اور پاکستان کے خلاف عناصر ان کی آڑ میں اپنے گمراہ کن نظریات پھیلانے لگے۔ ایوبی مارشل لاء میں یہ دونوں اخبارات سرکاری ادارے 'نیشنل پریس ٹرسٹ' کا حصہ بن گئے مگر ان کے کام اور طریق کار میں کوئی تبدیلی نہ آئی۔ بھٹو دور میں آزاد، مساوات اور الفتح اور دھنک جیسے اخبارات و جرائد نے بھی یہی کام کیا۔ امروز، مشرق اور پاکستان ٹائمز تو ۱۹۹۶ء کی دہائی میں بند ہو گئے مگر ان کے تربیت یا فتگان آج ہمارے بیشتر اخبارات و جرائد پرچھائے ہوئے ہیں اور ان میں زیادہ پبلسٹی سول سوسائٹی والوں اور غیر اسلامی نظریات و افکار کے پرچارکوں کو ملتی ہے۔ اخبارات نے پورے پورے صفحے ہالی وڈ اور ممبئی کی حیاباختہ اداکاراؤں،فحاشی پھیلانے والے شوبز کے لیے وقف کر رکھے ہیں۔

سول سوسائٹی اور الیکٹرانک میڈیا

برطانوی دور میں مسلمانوں کے کوٹے میں ایک خاص گروہ آل انڈیا ریڈیو میں بھرتی ہوا اور زیادہ تر وہی لوگ ریڈیو پاکستان میں چلے آئے۔ ۱۹۶۴ء میں پاکستان ٹیلی ویژن (PTV) کا اجراہوا تو وہ اس میں بھی دخیل ہو گئے۔ کراچی کے ادیب سلیم احمد کے بقول پی ٹی وی کے پہلے ڈائریکٹر جنرل زیڈ اے بخاری نے ایک اساسی اجلاس میں صاف کہا تھا کہ ''ملک میں ٹی وی کے اجراسے ہمارا مقصد اس مولوی کو باہر نکالنا ہے جو لوگوں کے ذہنوں میں گھسا ہوا ہے۔''

اور آج پی ٹی وی سمیت بیسیوں چینل جن افکار و نظریات اور مادر پدر آزاد تہذیب کو فروغ دے رہے ہیں اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مولوی کا نام لے کر اسلام کے خلاف سر گرم عمل عناصر اپنے منفی عزائم میں بڑی حد تک کامیاب رہے ہیں۔ اکثر چینل عریانی اور بے حیائی پرمبنی کھیل اور پروگرام دن رات دکھاتےہیں اور مسلم قوم کے نونہال اور پیر و جواں اُنہیں شوق سے دیکھتے ہیں۔

سول سوسائٹی اور اسلامی اقدار و شرعی قوانین کی مخالفت

یوں لگتا ہے کہ سول سوسائٹی کے نام پر اسلامی نظریات اور اسلامی قوانین بالخصوص حدود آرڈیننس کی مخالفت کرنے والے عناصر نے ایکا کر رکھا ہے اور ان کی سرپرستی کے لیے نام نہاد اقوامِ متحدہ، یورپی یونین اور اُن کا سرگروہ امریکہ اور مغربی میڈیا موجود ہیں۔ ننکانہ (پاکستان) کی ایک دیہاتی مسیحی عورت نے توہین رسالت کا ارتکاب کیا اور اس پر مقدمہ قائم ہوا تو پورے مغرب نے پاکستان اور اسلام کے خلاف پروپیگنڈہ شروع کر دیا۔ ادھر ملک کے اندر سیکولر حضرات حرکت میں آئے حتیٰ کہ گورنر پنجاب سلمان تاثیر اس عورت کو چھڑانے کے لیے سرگرم عمل ہو گئے اور شیخو پورہ جیل میں جا کر اس سے ملاقات کی۔ یہی نہیں انہوں نے حدود آرڈیننس کو ' کالا قانون' تک کہہ ڈالا۔ ان کی اس جسارت پر رنجیدہ ممتاز قادری نے جواُن کی حفاظتی گارڈ میں شامل تھے، اسلام آباد میں سلمان تاثیر پر فائرنگ کر کے اُنہیں ہلاک کر دیا، اور اس کیس میں اب ممتاز قادری جیل میں بند ہیں۔

گزشتہ بارہ ربیع الاول کو گلبرگ، لاہور میں سول سوسائٹی کی طرف سے موم بتیاں روشن کر کے سلمان تاثیر کی یاد منائی جا رہی تھی کہ محبانِ ممتاز قادری نے دھاوا بول کر اُن کی تقریب درہم برہم کر دی۔ نوبت بہ ایں جارسید کہ ملک میں سیکولرزم کے شیدائیوں کی طرف سے مساجد گرانے اور جلانے کی باتیں بھی ہونے لگی ہیں جس پر امیر جماعت اسلامی جناب سراج الحق نے ان عناصر کو خبردار کیا ہے کہ ایسی باتیں کرنے والے ابرہہ کا انجام یاد رکھیں! ایک کالم نگار نے ملک ریاض کو کراچی میں مسجد بنانے کے بجائے ایک عالمی پائے کی یونیورسٹی قائم کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

سول سوسائٹی اور جنرل مشرف کی روشن خیالی

جنرل پرویز مشرف نے برسر اقتدار آکر سیکولرزم اور نام نہاد 'روشن خیالی' کو خوب بڑھاوا دیا جیسا کہ اُنہوں نے شروع ہی میں بغلوں میں دو 'کتورے' (پلے) اُٹھا کر اپنے سیکولر ایجنڈے کا اظہار کر دیا تھا۔ وہ ترکی کو سیکولرزم کی راہ پر ڈالنے والے مصطفی کمال کے بڑے مداح تھے۔ اُنہوں نے اپنے مغربی آقاؤں کے زیر ہدایت تعلیمی اداروں کے نصاب سے اسلامی موضوعات کو چن چن کر نکالا اور سکولوں میں لازمی عربی ختم کر دی، پاکستان کے آئینی اداروں میں عورتوں کے لیے ایک تہائی نشستیں مخصوص کر دیں اور ساتھ ہی اسمبلیوں کی اُمیدواری کے لیے گریجوایٹ ہونے کی شرط عائد کر دی۔ اس کے نتیجے میں اسمبلیوں اور سینیٹ میں نوجوان، کنواری، بے پردہ عورتیں (اکثر انگلش میڈیم) کثرت سے پہنچ گئیں۔ یہ مغرب کا دیا ہوا ایجنڈا ہے کہ عورتوں کو بے پردگی کی خوگر بنا کر اُنہیں گھروں سےباہر لے آؤ تاکہ وہ دفاتر میں اور اداروں میں مردوں کے دوش بدوش بیٹھیں۔ پرویز مشرف تو چلے گئے مگر ان کا سیکولر ایجنڈا بدستور زور شور سے زیر عمل ہے اور اس میں بیشتر سیاستدان، صحافی، سیکولر دانشور، ادیب اور اُستاد اپنا اپنا حصّہ ڈال رہے ہیں جبکہ محبانِ اسلام 'ٹک ٹک دیدم، دم نہ کشیدم' کی تصویر بنے ہوئے ہیں۔

سول سوسائٹی کے بھارت نواز کارندے

بھارت پاکستان کا ازلی دشمن ہے، اس نے پاکستان کی شہ رگ جموں وکشمیر پر غاصبانہ قبضہ کر رکھا ہے اور پاکستان کے حصے کے دریائی پانیوں کو ہڑپ کرنے کے منصوبوں پر عمل پیرا ہے۔ اس کے باوجود سول سوسائٹی کے نام نہاد 'روشن خیال' بھارت نوازی اور بھارت دوستی کی روش اپنائے ہوئے ہیں۔ پاکستان اور بھارت کی اساسی پالیسیوں میں کوئی قدرِ مشترک نہیں، اس کے باوجود سول سائٹی کا ایک نمایندہ سلمان عابد اپنے کالم میں لکھتا ہے:

''ہمیں اس وقت بھارت اور افغانستان کی ریاست؍حکومت سے دہشت گردی کے خاتمے میں ایک بڑے اینٹی ٹیررازم میکانزم کی ضرورت ہے۔یہ کام پاکستان، افغانستان اور بھارت کے ساتھ بہتر تعلقات اور ایک دوسرے کی انٹیلی جینس مدد سے ممکن ہو گا۔'' (ایکسپریس)

قارئین کرام! ذرا سوچیے کیا بھارتی 'را' کی 'مدد' سے پاکستان کا کوئی بھلا ہو سکتا ہے؟ مگر پاکستانی سول سوسائٹی کے بقراطوں کا جواب اثبات میں ہے کیونکہ وہ اپنی ٹیڑھی عقل اور ذہنی ساخت کی بنا پر بھارت دوستی اور امن کی آشا کے گیت گانے پر مجبور ہیں۔

سول سوسائٹی اور دینی مدارس

چونکہ سول سوسائٹی والوں کو اسلامی نظریات اور دینی اَقدار سے کدہے، اس لیے وہ روز افزوں دہشت گردی کو مغرب کی عینک سے دیکھتے ہیں۔ وہ اس پر تو دھیان نہیں دیتے کہ اس دہشت گردی کے اسباب میں مغرب کے پالتو غنڈے اسرائیل کی فلسطین میں خونریز دہشت گردی، امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے افغانستان پر ظالمانہ حملے اور پاکستان، یمن، صومالیہ وغیرہ پر ڈرون حملے سرفہرست ہیں، لیکن مدارس اور دینی اداروں کے خلاف مغربی پروپیگنڈے کی جگالی کرتے رہنے میں اُنہیں کوئی عار نہیں۔ محبِّ اسلام اور محبِ پاکستان دانشور او رمؤرخ ڈاکٹر صفدر محمود لکھتے ہیں:

''کچھ حضرات اس خوف، صدمے اور خطرات کی فضا سے فائدہ اٹھا کر مذہب کو نشانہ بنا رہے ہیں، گویا مذہب ہی اس دہشت گردی کا ذمہ دار ہے اور یہ کہ سارے مسئلے کی جڑ پاکستان کو اسلامی جمہوریہ قرار دینا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ ہمارے مدرسے جہادی پیدا کرتے ہیں اور خود کش حملوں سے لے کر دہشت گردی تک مذہبی برین واشنگ کا نتیجہ ہیں۔ کچھ دانشوروں کا فتویٰ ہے کہ اگر پاکستان کو اسلامی جمہوریہ کے بجائے صرف جمہوریہ قرار دے دیا جائے، تو مذہبی شدت پسندی کا مسئلہ حل ہو جائے گا ... ان حضرات کو چاہیے کہ ترقی یافتہ یورپی اور دوسرے ممالک کے دساتیر پڑھیں جن میں کسی نہ کسی مذہب یا مذہبی مسلک کو سرکاری مذہب قرار دیا گیا ہے ... دہشت گردی کے طوفان کو جنم لیتے اور عذاب بنتے جنرل پرویز مشرف کے دور میں دیکھا، جب نائن الیون کا سانحہ پیش آیا ورنہ افغان جہاد کے غیر ملکی مجاہدین فاٹا کے علاقوں میں آباد ہو کر نارمل زندگی گزار رہے تھے۔''

''آج کل دوسرا آسان ٹارگٹ مدرسے بنے ہوئے ہیں۔ مجھے بے شمار مدارس دیکھنے کا موقع ملا ہے اور میرے مشاہدے کے مطابق مدرسوں کی بہت بڑی تعداد خدمت سر انجام دے رہی ہے، جہاں غریب ویتیم بچوں کو رہائش اور کھانا وغیرہ مہیا کر کے مفت تعلیم دی جاتی ہے۔ یہ مدرسے مقامی چندوں پر زندہ ہیں۔ اُنہیں نہ بیرونِ ملک سے امداد ملتی ہے، نہ کسی این جی او سے ... نوے فیصد مدرسے عام دینی تعلیم دیتے ہیں۔ ان کی بڑی تعداد رجسٹرڈ ہے جبکہ پاکستان کی شرح خواندگی میں عام مدارس کا حصّہ خاصا اہم ہے۔''3

سول سوسائٹی اور جامعہ حفصہ

اس کے برعکس سول سوسائٹی کے ڈالر خور نائن الیون کے بعد دہشت گردی کا سبب افغانستان وعراق پر مغربی صلیبی حملوں اور امریکی وحشیانہ ڈرون حملوں کا بھول کر بھی ذکر نہیں کرتے اور مغربی میڈیا کی ہم نوائی میں یک طرفہ طور پر دینی مدارس پر شیلنگ کرتے رہتے ہیں۔ ان دنوں اسماعیلی شخصیت صدر الدین ہاشوانی کا اخبار 'ایکسپریس' سول سائٹی کے ترجمان سیکولر اور سوشلسٹ عناصر کا گڑھ بنا ہوا ہے۔ گزشتہ دسمبر میں سول سوسائٹی کی منہ جھاڑ سر پھاڑ قسم کی عورتوں اور ان کے حامیوں نے جامعہ حفصہ (اسلام آباد) کے سامنے مظاہرہ کرتے ہوئے نازیبانعرے لگائے اور فریقین میں تصادم کی کیفیت پیدا ہو گئی جسے پولیس نے بمشکل روکا۔ یہ صورتِ حال ملکی سلامتی اور استحکام کے لیے بڑی تشویش ناک ہے۔

سول سوسائٹی اور نسوانی بے حیائی

سول سوسائٹی نسوانی بے حیائی کو اپنا حق قرار دے کر اسے فروغ دے رہی ہیں، آٹھ دس سال پہلے تک مغربی ممالک میں 'کیٹ واک' کے نام پرنسوانی بے پردگی اور بے حیائی کے مظاہرے ہوتے تھے، لیکن مشرف دور میں پاکستان میں 'کیٹ واک' کا حیا سوز سلسلہ شروع ہو گیا اور اب آئے دن کراچی، لاہور، اسلام آباد میں فیشن شو کے نام پر کیٹ واک کا انعقاد ہوتا ہے جس میں بے حیائی کے مظاہرے تمام حدود پھاند رہے ہیں۔ سرکاری تائید وحمایت سے ایسی حرکات اسلامی جمہوریہ پاکستان کے مقاصدِ قیام کی سراسر نفی کرتی ہیں، جس کے بانیوں نے اس خطۂ زمین میں اسلامی قوانین کی عمل داری اور مسلمانوں کو اسلام کے مطابق زندگی بسر کرنے کے مواقع فراہم کرنے کے وعدے کیے تھے۔
حوالہ جات

1. روزنامہ 'دنیا '، یکم جنوری ۲۰۱۵ء

2. روزنامہ 'نئی بات ' یکم جنوری ۲۰۱۵ء

3. روزنامہ جنگ،لاہور... 13 جنوری 2015ء