Title-368-dec14

میرے پسندیدہ۔۔

اس صفحہ کو پسند کرنے کے لیے لاگ ان کریں۔

اتحاد، اتفاق، وحدت اور یکجہتی بڑے مؤثراورمعنیٰ خیز الفاظ ہیں۔ ان کا ایک مفہوم تو قرآن وسنت میں بیان ہوا ہے، تودوسری طرف ان کا ایک مفہوم عوام میں بھی رائج ہے۔ زیر نظر مضمون میں دونوں میں فرق پیش کرنے کے بعد،اتحاد کا اصل مفہوم اور اسکے ثمرات کا ذکر کیا جائے گا۔ ان شاء اللّٰہ

'اتحاد' کا عوامی مفہوم

اتحاد کا عوامی یا رائج مفہوم جسے میڈیا اور امن کمیٹیوں کے ذریعےپھیلایا جاتا ہے، یہ ہے کہ کسی کا نظریہ یا عقیدہ قرآن وسنت کی تعلیمات سے سو فیصد بھی مخالف ہو، وہ اس کا کھل کر پرچار کرے جبکہ کسی دوسرے کے نظریے یا عقیدے کے بارے میں کچھ نہ کہے، خواہ وہ غلط ہو یا صحیح۔ لوگ اگر کسی جگہ جمع ہوں تو صحیح اور غلط کا ایسا آمیزہ تیار کر لیں جو جانبین کو قبول ہو۔پنجاب پولیس اور امن کمیٹیوں کی طرف سے مشترکہ طور پر جو بڑے بڑے بورڈ آویزاں کیے گئے، ان پر بڑے واضح الفاظ میں ہر سال تقریباًیہی لکھا جاتا ہے کہ ''اپنا مسلک چھوڑو نہیں اور کسی کا مسلک چھیڑو نہیں۔'' اور اس کے اوپر آیت: ﴿وَاعتَصِموا بِحَبلِ اللَّـهِ جَميعًا وَلا تَفَرَّ‌قوا...١٠٣﴾... سورة آل عمران''اور اللّٰہ کی رسّی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ بازی مت کرو۔'' بڑے جلی الفاظ میں لکھی جاتی ہے۔ در اصل یہی وہ عوامی مفہوم ہے جو ملکی سطح تک پھیل چکا ہے۔ اس مفہوم کی روشنی میں حسبِ ذیل اُصول ونتائج سامنے آتے ہیں:

1. انسان اپنا عقیدہ جو مرضی رکھے اور جو مرضی عمل اختیار کرے، کوئی اُسے روک ٹوک نہیں سکتا۔

2. اتحاد واتفاق کا مفہوم یہ ہے کہ مختلف افکار واخیالات اور نظریات کے لوگ ایک جھنڈے، عنوان یا جماعت کے تحت جمع ہو جائیں اور باہمی اختلاف کی باتیں اپنے تک محدود رکھیں، ایک دوسرے سے ان کا اظہار نہ کریں۔

3. جس فورم پر متحد ہیں، علیٰ الاعلان باہمی اختلاف اور متنازعہ اُمور کو ہوا نہ دیں۔ جبکہ فورم سے دور ہوں تو کوئی پابندی نہیں، لہٰذا یہی شخص جب اپنے ہم نواؤں میں جاتا ہے تو دوسرے کمرے میں جن سے اتحاد کی باتیں کر رہا تھا، اب ان 'مخالفین' کی کھل کر مخالفت کرتا ہے۔ غرضیکہ یہ اتحاد ان لمحات تک محدود ہوتا ہے جب مختلف نظریات کے لوگ جمع ہوں۔

4. آج کل اسی اتحاد کی دعوت دی جاتی ہے، گویا یہ مفہوم رائج ہو چکا ہے کہ اجسام ایک جگہ نظر آئیں، چاہے اذہان وقلوب بکھرے ہوئے ہوں۔

5. اتحاد کے اس خودساختہ مفہوم کو اس قدر پھیلایا گیا ہے کہ عام ذہن اس نتیجے پر پہنچ چکا ہے کہ قرآن نے جس اتحاد واتفاق کا درس دیا ہے وہ یہی اتحاد ہے۔ اسے کم ازکم قرآن مجید کی معنوی تحریف قرار دیا جا سکتا ہے۔

6. جو شخص اس خود ساختہ اتحاد کے مفہوم سے سرموانحراف کرتا ہے، لوگ اسے امن کا دشمن،اتحاد کا مخالف سمجھتے ہیں اور اسے معاشرتی ناسور قرار دیتے ہیں۔

7. اس اتحاد کی دعوت دینےوالے اور اسے اختیار کرنیوالے عموماً دوغلی پالیسی یا منافقانہ کردار کے حامل ہوتے ہیں اور ایسے اتحاد کی دعوت دینے والے عموماً منافق قسم کے گروہ ہی ہوتے ہیں۔

8. اتحاد کی اس پالیسی کے تحت بہت سے لوگ اپنے غلط عقائد ونظریات کو درست سمجھ کر اسی پر جمے رہتے ہیں۔کیونکہ اُنہوں نے سمجھ لیا ہے کہ اپنا مسلک چھوڑنا نہیں ہے۔

9. ایک دوسرے کی اصلاح کا دروازہ اس غلط اُصول کی وجہ سے تقریباً بند ہو چکا ہے۔

10. اس اتحاد کی دعوت دینے والے دراصل خود اتحاد کے بہت بڑے مخالف ہوتے ہیں کیونکہ اُنہوں نے اپنے غلط نظریات کو اتحاد واتفاق کی چھتری تلے تحفظ دینا ہوتا ہے۔

اتحاد کےعوامی مفہوم کے دلائل اور ان کا جائزہ

جو لوگ مذکورہ اتحاد کے نقیب اور پیامبر ہیں، وہ متعدد دلائل بھی دیتے ہیں:

پہلی دلیل: امن قائم رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ اتحاد کی یہ صورت قائم رہے، وگرنہ فساد ہو گا اور لوگ ایک دوسرے کے خلاف محاذ آرا ہوں گے۔

جائزہ: کیا ایسا ممکن ہے کہ دو علیحدہ نظریات کے لوگ اپنے ہم نواؤں میں اپنے نظریے کا پرچار اور دوسرے کے نظریے پر بات نہ کریں؟ یہی وجہ ہے ے کہ اب تک اس اتحاد کی جتنی بھی کاوشیں ہوئی ہیں، وہ جزوقتی اور بےنتیجہ رہیں۔ کیا نبی ﷺ کے عہد اور بعد کے دور میں مسلمانوں کے باہمی اتحاد کی یہی صورت تھی...؟ مگر امن تو پھر بھی قائم تھا اور مثالی اُخوت ومحبت تھی۔

ایک دوسرے کے خلاف محاذ آرائی سے محفوظ رکھنے کی دعا نبیﷺ نے فرمائی تھی مگر اللّٰہ تعالیٰ نے اسے قبول1 نہ فرمایا۔ لہٰذا باہمی اتحاد کی کوشش تو کی جا سکتی ہے مگر ہر مسئلے کا حل اس خود ساختہ اتحاد کو سمجھ لینا کافی نہیں، اُمت میں دراڑ رہے گی اور یہ امت محمدیہ ٹکڑوں میں بٹی رہے گی۔

جو لوگ اس اتحادی قافلے کے سرخیل ہیں، جب ان کی طبع نازک پر کچھ گراں گزرتا ہے تو فوراً اس اتحاد سے ہاتھ کھینچ لیتے ہیں اور مفادات کی حد تک ساتھ منسلک رہتے ہیں۔

دوسری دلیل: اللّٰہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر ﷺ کو حکم فرمایا: ﴿قُل يـٰأَهلَ الكِتـٰبِ تَعالَوا إِلىٰ كَلِمَةٍ سَواءٍ بَينَنا وَبَينَكُم أَلّا نَعبُدَ إِلَّا اللَّـهَ وَلا نُشرِ‌كَ بِهِ شَيـًٔا...٦٤﴾... سورة آل عمران

''کہہ دیں! اے اہل کتاب آؤ اس کلمے کی طرف جو ہمارے اور تمہارے درمیان برابر ہے کہ ہم اللّٰہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں اور اس کا شریک کسی کو بھی نہ ٹھہرائیں۔''

مذکورہ اتحاد کے داعیوں کا کہنا ہے کہ جب غیر مسلموں سے مکالمے کی بات ہو سکتی ہے اور اُنہیں ایک نقطے ؍کلمہ پر جمع کیا جا سکتا ہے تو پھر مسلمانوں کو کیوں نہیں؟

جائزہ: آیتِ مذکورہ میں اہل کتاب کو دعوت ہے۔ جس شخص نے اسلام قبول کر لیا ہو یا مسلمان چلا آ رہا ہو تو اسے اپنا ذہن، سوچ ، فکر، عقیدہ اور نظریہ سب کچھ پہلے ہی سے اسلام کے تابع کرلینا چاہیے۔ اس سے مکالمے کی بات کیسی...؟

دوسرے یہ کہ آیتِ مذکورہ میں اللّٰہ تعالیٰ نے جس بات پر متفق ہونے کا کہا ہے، مسلمان تو پہلے ہی سے اس سے مکمل اتفاق کرتے تھے کہ محض اللّٰہ کی عبادت کی جائے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرایا جائے۔ یہاں تو عیسائیوں کو دعوت دی جا رہی ہے کہ وہ بھی یہی صحیح عقیدہ اختیار کر لیں۔ اس آیت کے ذریعے آپﷺ کو اپنے دین میں مداہنت کا درس نہیں دیا گیا۔ کیا اس آیت کا یہ مطلب ہے کہ عیسائی عیسائی رہیں اور ایک نقطے پر مسلمانوں سے متحد ہو جائیں۔جبکہ نبی مکرمﷺ کا واضح فرمان ہے : «وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، لَا يَسْمَعُ بِي أَحَدٌ مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ يَهُودِيٌّ، وَلَا نَصْرَانِيٌّ، ثُمَّ يَمُوتُ وَلَمْ يُؤْمِنْ بِالَّذِي أُرْسِلْتُ بِهِ، إِلَّا كَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّارِ»2

''قسم اس ذات کی، جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے ! میری اُمت میں کوئی یہودی اور نصرانی میرے بارے میں سن کر، اس حالت میں فوت ہوجائے کہ وہ مجھ پر ایمان نہ لایا ہو، تو وہ آگ والوں میں سے ہے ۔''

جبکہ ہمارے ہاں اس اتحاد کے دعوے کا مطلب ہی یہی ہے کہ کسی کا موقف درست بھی ہے تو وہ اسے اپنے تک رکھے، دوسروں کو اس کی دعوت نہ دے، حالانکہ آیت میں موجو د "تَعَالَوا" کا لفظ اس کی مکمل نفی کر رہا ہے۔

تیسری دلیل: نبی ﷺنے یہود سے معاہدے کیےتھے، ہمیں بھی ایک دوسرے سے امن کے معاہدے کرنے چاہئیں اور کامل اتحاد سے رہنا چاہیے۔

جائزہ: نبی ﷺ کے یہود سے معاہدوں کی نوعیت معاشرتی تھی۔ رہن سہن اور ایک دوسرے سے تعلقات کے متعلق تھی۔ دین کے حوالے سے تو قرآن مجید کی واضح تعلیمات ہیں: ﴿لَكُم دينُكُم وَلِىَ دينِ ﴿٦﴾... سورةالكافرون ''تمہارے لیے تمہارا دین اور میرے لیے میرا دین۔'' جبکہ مزعومہ اتحاد دین کو مسخ کر کے ہی قائم کیا جا سکتا ہے۔ دین کی تعلیمات، مثلاً امر بالمعروف ونہی المنکر بھی ہو اور یہ نام نہاد اتحاد بھی قائم رہے، ایسا ممکن ہی نہیں!

اس مزعومہ اتحاد کےلیے دلائل بھی وہ لیے جاتے ہیں جو یہود ونصاریٰ سے معاملات کی بابت آئے ہیں۔ کیا اُس عہد میں مسلمانوں میں اتحاد و اتفاق نہیں تھا؟ اس جیسی صفات کیوں نہیں پیدا کی جاتیں اور صحیح اسلامی اتحاد کی کوشش کیوں نہیں کی جاتی!! تاہم صحیح موقف کو زبردستی منوانے کی بھی ضرورت نہیں۔ بس احقاقِ حق ہونا چاہیے، باقی ہدایت تک پہنچانے کا معاملہ اللّٰہ کے ہاتھ میں ہے۔

چوتھی دلیل: سیدنا موسیٰ ، سیدنا ہارون کو بنی اسرائیل پر نگران بنا کر چنیدہ آدمیوں کو لے کر کوہِ طور پر گئے۔ جو بنی اسرائیل پیچھے رہ گئے تھے وہ سامری کے کہنے پر بچھڑے کی محبت میں پھنس گئے اور یہاں تک کہنے لگے: ﴿قالوا لَن نَبرَ‌حَ عَلَيهِ عـٰكِفينَ حَتّىٰ يَر‌جِعَ إِلَينا موسىٰ ﴿٩١﴾... سورةطه ''موسیٰ کی واپسی تک ہم اسی کے مجاور بنے رہیں گے۔'' موسیٰ آئے تو اُنہوں نے ہارون سے پوچھا:

﴿قالَ يـٰهـٰر‌ونُ ما مَنَعَكَ إِذ رَ‌أَيتَهُم ضَلّوا ﴿٩٢﴾ أَلّا تَتَّبِعَنِ ۖ أَفَعَصَيتَ أَمر‌ى ﴿٩٣﴾... سورةطه

''ہارون! جب تم نے دیکھا کہ وہ بھٹک گئے ہیں تو تمہیں کس چیز نے (اُنہیں روکنے سے) منع کیا تھا؟ کہ تم نے میری اتباع نہیں کی اور میری نافرمانی بھی کی۔''

سیدنا ہارون نے کچھ باتوں کے بعد یہ جواب دیا:

﴿إِنّى خَشيتُ أَن تَقولَ فَرَّ‌قتَ بَينَ بَنى إِسرٰ‌ءيلَ ...﴿٩٤﴾... سورة طه

''بےشک مجھے خدشہ تھا کہ آپ یہ نہ کہیں کہ تم نے بنی اسرائیل میں پھوٹ ڈال دی ہے۔''

اس واقعے سے مزعومہ اتحاد کے داعیان کا استدلال یہ ہے کہ ہارون نے اس خدشے سے کہ قوم پھٹ نہ جائے، اُنہیں بچھڑے کی عبادت کرنے دی، لہٰذا اتنے بڑے اورعظیم مقاصد کی خاطر اگر کچھ عقائد ونظریات دبا لیے جائیں اور ان کا اظہار نہ کیا جائے تو کوئی حرج نہیں۔

جائزہ: ہارون نے احقاقِ حق کیا اور انہیں روکا بھی اور ان سے کہا:

﴿يـٰقَومِ إِنَّما فُتِنتُم بِهِ ۖ وَإِنَّ رَ‌بَّكُمُ الرَّ‌حمـٰنُ فَاتَّبِعونى وَأَطيعوا أَمر‌ى ﴿٩٠﴾... سورةطه

''میری قوم! اس (بچھڑے) سے تمہاری آزمائش ہوئی ہے تمہارا ربّ تو رحمٰن ہے، لہٰذا تم میری اتباع کرو اور میرا حکم مانو۔''

مگر یہ اتحادی تو ایسا نہیں کرتے کیونکہ اس طرح ظاہری اتحاد کو دھچکا لگتا ہے۔اس دوران حضرت ہارون نے نہ تو حقیقی دعوت سے توقف کیا بلکہ دعوت توحید سے دائمی دستبرداری اختیار کرنے کے بجائے، اس کو سیدنا موسیٰ کی آمد تک موقوف کیا تاکہ بات پورے اعتماد اور وزن کی ساتھ کی جائے۔

پانچویں دلیل: 1400 سال ہو گئے ہیں ، یہ اختلافات حل نہیں ہوئے۔ کوئی کچھ کہتا ہے اور کوئی کچھ۔ ہم کسے صحیح کہیں اور کسے غلط۔ لہٰذا ہمیں ایسی بحث میں پڑنا نہیں چاہیے کیونکہ اس سے دوریاں پیدا ہوتی ہیں۔ لہٰذا اختلافی مسائل کو زیر بحث نہیں لانا چاہیے ۔ اوروہ توحید کوبھی ایک متنازعہ نظریہ کے طورپر سمجھ کر بھی بات نہیں کرنے دیتے۔

جائزہ: اختلافات رونما ہوتے رہتے ہیں۔ جس کی وجہ یہ ہے کہ لوگوں کے ذہن کی سطح اور ایمان وعلم کا معیار بھی ایک جیسا نہیں۔ ان اختلافات کو دبا کر رکھنا اور انہیں اپنی تحقیق وتجسس سے حل نہ کرنا ایسے ہی ہے جیسے راکھ میں ایک چنگاری سلگتی رہنے دی جائے، پھر جب اسے موقع ملتا ہے تو وہ بھڑک اُٹھتی ہے۔

اختلافات کو قرآن وسنت کی روشنی میں دبانے کی نہیں حل کرنے کی تلقین کی گئی ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿فَإِن تَنـٰزَعتُم فى شَىءٍ فَرُ‌دّوهُ إِلَى اللَّـهِ وَالرَّ‌سولِ...٥٩﴾... سورة النساء

''اگر تمہارا کسی معاملے میں اختلاف ہو جائے تو اس معاملے کو اللّٰہ اور رسول کی طرف لوٹا دو۔''

جس سے واضح ہوتا ہے کہ اختلافات حل کرنے چاہئیں، نہ یہ کہ دبائے جائیں۔ اختلاف کو حل نہ کرنا بلکہ دبا دینے سے ایک نقصان یہ بھی ہوتا ہے کہ ایک شخص زندگی بھر شک کی سی کیفیت میں مبتلا رہتا ہے کہ پتہ نہیں کونسا موقف درست ہے اور کونسا غلط...!!

دوریاں اور نفرتیں اختلافات حل کرنے سے ختم ہو تی ہیں، نہ کہ اختلافات دبانے سے۔

چھٹی دلیل: ﴿وَاعتَصِموا بِحَبلِ اللَّـهِ جَميعًا وَلا تَفَرَّ‌قوا...١٠٣﴾...سورة آل عمران

''اور اللّٰہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور ایک دوسرے سے جدا جدا نہ ہو۔''

جائزہ: اس آیت کا عمومی مطلب یہ لیا جاتا ہے کہ یہ تفرقہ بازی سے روکتی ہے اور یہ بات درست ہے مگر اللّٰہ تعالیٰ نے پہلے یہ فرمایا ہے کہ اللّٰہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو۔ جو قوم یا لوگ یہ کام کریں گے وہ جدا نہیں ہوں گے۔ یعنی آیت کے پہلے حصے میں تفرقہ بازی سے بچنے کا حل بتایا گیا ہے۔ اللّٰہ کی رسّی یعنی قرآن مجید کو تھاما جائے تو یہ ہمارا اختلاف برقرار نہیں رہ سکتا۔

یہ تو تھا اتحاد کے رائج الوقت مفہوم اس کے اثرات ونتائج اور دلائل کا جائزہ،اب ہم قرآن وسنت کی روشنی میں اتحاد کا شرعی مفہوم پیش کرتے ہیں:

اتحاد واتفاق پر چند آیات اور احادیث

پہلے ہم اتحاد کے موضوع پر چند آیاتِ مبارکہ اور احادیث ِنبویؐہ پیش کرتے ہیں:

1. ﴿إِنَّ الَّذينَ فَرَّ‌قوا دينَهُم وَكانوا شِيَعًا لَستَ مِنهُم فى شَىءٍ...﴿١٥٩﴾... سورة الانعام

''بے شک وہ لوگ جنہوں نے اپنے دین کو ٹکڑے کر لیا اور وہ گروہوں میں بٹ گئے۔ آپ کا ان سے کسی بھی چیز میں کوئی تعلق نہیں ہے۔''

2. ﴿وَاعتَصِموا بِحَبلِ اللَّـهِ جَميعًا وَلا تَفَرَّ‌قوا...١٠٣﴾... سورة آل عمران

''اللّٰہ کی رسّی کو مضبوطی سے تھام لو اور جدا جدا نہ ہو جاؤ۔''

3. ﴿وَالَّذينَ كَفَر‌وا بَعضُهُم أَولِياءُ بَعضٍ ۚ إِلّا تَفعَلوهُ تَكُن فِتنَةٌ فِى الأَر‌ضِ وَفَسادٌ كَبيرٌ‌ ﴿٧٣﴾... سورة الانفال

''اور وہ جو کافر ہیں وہ ایک دوسرے کے د وست ہیں۔ (اے مسلمانو!) اگر تم نے ایسا نہ کیا تو زمین پر فتنہ اور بہت بڑا فساد پھیل جائے گا۔''

4. ﴿وَاذكُر‌وا نِعمَتَ اللَّـهِ عَلَيكُم إِذ كُنتُم أَعداءً فَأَلَّفَ بَينَ قُلوبِكُم فَأَصبَحتُم بِنِعمَتِهِ إِخوٰنًا...١٠٣﴾... سورة آل عمران

''اور اپنے پر اللّٰہ کی نعمت کو یاد کرو جب تم ایک دوسرے کے دشمن تھے تو اس نے تمہارے دلوں میں اُلفت پیدا کر دی اور تم اس کی نعمت سے بھائی بھائی بن گئے۔''

5. ﴿وَأَلَّفَ بَينَ قُلوبِهِم ۚ لَو أَنفَقتَ ما فِى الأَر‌ضِ جَميعًا ما أَلَّفتَ بَينَ قُلوبِهِم وَلـٰكِنَّ اللَّـهَ أَلَّفَ بَينَهُم...﴿٦٣﴾...سورة الانفال

''اور اسی نے اُن کے دلوں میں اُلفت ڈالی ہے اور اگر آپ زمین کے تمام خزانے بھی خرچ کر دیں تو ان کے دلوں میں اُلفت نہیں ڈال سکتے اور لیکن اللّٰہ ہی نے ان میں الفت ڈالی۔''

6. ﴿وَلا تَكونوا كَالَّذينَ تَفَرَّ‌قوا وَاختَلَفوا مِن بَعدِ ما جاءَهُمُ البَيِّنـٰتُ ۚ...﴿١٠٥﴾... سورة آل عمران

''اور تم ان لوگوں کی طرح نہ ہو جانا جو آپس میں جدا جدا ہو گئے اور جب ان کے پاس واضح دلائل آ چکے تھے اس کے بعد وہ آپس میں اختلافات کرنے لگے۔''

7. ﴿وَما تَفَرَّ‌قوا إِلّا مِن بَعدِ ما جاءَهُمُ العِلمُ بَغيًا بَينَهُم...١٤﴾... سورة الشوريٰ

''اور وہ علم آ جانے کے بعد آپس کے ظلم وعناد کی وجہ سے جدا جدا ہو گئے۔''

8. ﴿إِنّى خَشيتُ أَن تَقولَ فَرَّ‌قتَ بَينَ بَنى إِسرٰ‌ءيلَ... ﴿٩٤﴾... سورة طه

''(ہارون موسیٰ سے کہنے لگے) بے شک مجھے ڈر تھا کہ آپ یہ نہ کہیں کہ تم نے بنی اسرائیل کو آپس میں پھاڑ دیا ہے۔''

اتفاق واتحاد سے متعلق احادیثِ مبارکہ

1. سیدنا ابن مسعودؓ سے روایت ہے کہ میں نے کسی شخص سے آیت سنی (جو کسی اور حَرف کے مطابق تھی) جبکہ میں نے آپﷺ سے کسی اور طرح سنی تھی۔ میں اس شخص کو آپﷺ کی خدمت میں لے آیا اور آپ کو بتایا۔ اس دوران میں نے آپﷺ کے چہرے پر ناپسندیدگی کے آثار دیکھے۔ آپ فرمانے لگے:

«كِلَا كُمَا مُحْسِنٌ، وَلَا تَخْتَلِفُوْا فَإِنَّ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمُ اخْتَلَفُوْا فَهَلَكُوْا»3

''تم دونوں ہی اچھے ہو اور دیکھو! آپس میں اختلاف نہ کیا کرو کیونکہ تم سے پہلے لوگ اختلافات کا شکار ہوئے توہلاک ہو گئے۔''

2. نبی کریمﷺ صفیں سیدھی کرواتے ہوئے فرماتے: «اِسْتَوُوْا وَلَا تَخْتَلِفُوْا فَتَخْتَلِفَ قُلُوْبُكُمْ» ''4برابر ہو جاؤ اور آگے پیچھے نہ ہونا اس سے تمہارے دل بھی دور ہو جائیں گے۔''

3. سیدنا جابر کہتے ہیں کہ رسول اللّٰہﷺ ہمارے پاس تشریف لائے تو ہمیں مختلف حلقوں میں بیٹھے دیکھا تو فرمانے لگے: «مَا لِيْ أَرَاكُمْ عِزِيْنَ»5

''مجھے کیا ہے کہ میں تمہیں مختلف گروہوں میں دیکھ رہا ہوں۔''

4. سیدنا ابو ثعلبہ خشنی کہتے ہیں کہ رسول اللّٰہﷺ جب کسی جگہ پڑاؤ ڈالتے تو صحابہ کرام وادیوں اور گھاٹیوں میں بکھر جاتے، چنانچہ آپ نے فرمایا: «وَإِنَّ تَفَرُّقَكُمْ فِيْ هٰذِهِ الشِّعَابِ وَالْأَوْدِيَةِ إِنَّمَا ذَلِكُمْ مِنَ الشَّيْطَانِ...»6

''یقیناً تمہارا ان گھاٹیوں اور وادیوں میں بکھر جانا شیطان کی طرف سے ہے۔''

اس فرمان کے بعد جب کبھی صحابہ کرام کہیں پڑاؤ ڈالتے تو آپس میں اس طرح جڑ کر بیٹھتے کہ یہ محاورہ صادق آتا کہ ان پر ایک چادر پھیلا دی جائے تو سب اس کے نیچے آ جائیں۔

فرمانِ نبویﷺہے:

«أَلاَ إِنَّ مَنْ قَبْلَكُمْ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ افْتَرَقُوا عَلَى ثِنْتَيْنِ وَسَبْعِينَ مِلَّةً وَإِنَّ هٰذِهِ الْمِلَّةَ سَتَفْتَرِقُ عَلَى ثَلاَثٍ وَسَبْعِينَ ثِنْتَانِ وَسَبْعُونَ فِى النَّارِ وَوَاحِدَةٌ فِى الْجَنَّةِ وَهِىَ الْجَمَاعَةُ»7

''خبردار! تم سے پہلےکے اہل کتاب 72 فرقوں میں بٹے اور یہ ملت 73 فرقوں میں تقسیم ہو گی۔ ان میں 72 جہنم میں جائیں گے اور ایک جنت میں۔ اور جنت میں جانے والے وہ ہیں جو (بٹے نہیں بلکہ) جماعت کی صورت میں ہوں گے۔''

یہ الجماعة کو ن ہے؟ مذکورہ حدیث کے دوسرے طریق میں اس کی وضاحت یوں آئی ہے :

«...وَتَفْتَرِقُ أُمَّتِي عَلَى ثَلاَثٍ وَسَبْعِينَ مِلَّةً، كُلُّهُمْ فِي النَّارِ إِلاَّ مِلَّةً وَاحِدَةً، قَالُوا: وَمَنْ هِيَ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: مَا أَنَا عَلَيْهِ وَأَصْحَابِي»8

''اورمیری امت تہتّر فرقوں میں بٹے گی،ایک کے سوا سب جہنمی ہوں گے۔ صحابہ نے پوچھا: اللہ کے رسول! وہ (جنت کے حق دار)کون ہیں؟ فرمایا: «مَا أَنَا عَلَيْهِ وَأَصْحَابِي» ''جس (طریقے) پر میں اور میرے صحابہ ہیں۔''

اتحاد کا شرعی مفہوم

مذکورہ آیات اور احادیث کا جائزہ لیں تو اتحاد و وحدت کا یہ مفہوم سامنے آتا ہے کہ ایک مسلمان کا دوسرے سے اُلفت ومحبت سے سرشار دِلی تعلق ہو۔ سب اپنے اپنے جھنڈوں اور اپنے اپنے بڑوں کو چھوڑ کر قرآن وسنت کے نیچے جمع ہو جائیں۔ سب کی ایک ہی سوچ ہو کہ محض قرآن وسنت کی اطاعت اور اتباع ہی کرنی ہے اور اختلافات کا حل بھی کتاب اللّٰہ اور رسول ہی سے کیا جا سکتا ہے اور سب اپنی اپنی رسّیاں چھوڑ کر اللّٰہ کی رسی کو تھام لیں۔ اللّٰہ عزّوجلّ کی رسی کو تھامنے کے لیے پہلے اپنے ہاتھ خالی کرنے ہوں گے، یعنی پہلے سے موجود عقائد ونظریات کو چھوڑنا پڑے گا۔

اگر کسی کا اجتہاد مختلف ہے تو اس سے مسلمانوں کی جمعیت پر کوئی اثر نہیں پڑتا اور اس کو اس کا اجتہاد سمجھ کر قبول کر لیا جاتا ہے۔صحیح اجتہاد کرنے والے کو دو اجر او راجتہاد میں خلوصِ نیت اور علم کے باوجود غلطی کرنے والے کو ایک اجر ملتا ہے۔ فہم کا اختلاف اپنی حد تک رہتا ہے، نہ یہ کہ اس کی وجہ سے علیحدہ علیحدہ مساجد اور جماعتیں وجود میں آتی ہیں۔

عہدِ صحابہ میں ایک دوسرے سے اختلاف کے باعث علیحدہ مساجد نہیں بنتی تھیں، نہ مسلک ومشرب وجود میں آتے تھے کیونکہ وہ اتحاد واتفاق کے مفہوم اور اس پر قرآن وسنت کی تعلیمات سے بخوبی آشنا تھے۔وہ علمی اختلاف کو فہم واستدلال تک محدود رکھتے، اس بنا پر تفرقہ بازی، تعصّب پروری، دوسرے کی توہین وتنقیص اور اپنے گروہ کے غلبہ وعظمت کے فساد کا شکار نہیں تھے۔

اتحاد کے شرعی مفہوم سے ماخوذ نکات

اتحاد کے شرعی مفہوم کے تحت حسبِ ذیل نکات آتے ہیں:

1. مذکورہ آیات میں الّف کے الفاظ ہیں۔ یہ لفظ 'تالیف'سے ہے جس کے معنیٰ جوڑنے کے ہیں۔جب اس کے ساتھ 'قلوب' کا لفظ آ ئے گا تو اس سے مراد یہ ہو گا کہ دل باہم جڑے ہوئے ہوں۔ دلوں میں نفرت نام کی چیز نہ ہو، اخوت کی جہانگیری اور محبت کی فراوانی ہو۔گویا وہ اتحاد اتحاد نہیں ہے جس میں دل جدا جدا ہوں کیونکہ جب دیواروں میں دراڑیں پڑ جائیں تو دیواریں گر جاتی ہیں اور دلوں میں دراڑیں آ جائیں تو دیواریں بن جاتی ہیں۔

2. 'اعتصموا' کا قرآنی لفظ بھی اپنے اندر بہت جامعیت رکھتا ہے۔ اس کا مفہوم یہ ہے کہ اللّٰہ کی رسّی کو ایسی مضبوطی سے تھام لیا جائے کہ گرنے کا یا راہ سے ہٹنے کا خدشہ نہ رہے کیونکہ اعتصام کے حقیقی معنیٰ رُک جانے اور بچ جانے کے ہیں۔

آپ اگر اپنے بچاؤ کےلیے کسی رسّی کو تھامتے ہیں تو اسے کس قدر مضبوطی سے پکڑیں گے!! آپ کے سر پر خطرہ منڈلاتا رہے گا کہ یہ رسی چھوٹی نہیں اور میں گرا نہیں۔ ایسے حالات میں لمحہ بھر کے لیے بھی آپ اس رسی کو چھوڑنا گوارا نہیں کرتے۔ اسی طرح فرقہ بندی کے گڑھے میں انسان اسی وقت گر سکتا ہے جب اس نے اللّٰہ کی رسی کو مضبوطی سے نہ تھاما ہو۔ انسان کے تحفظ اور بچاؤ کے لیے صرف ایک ہی رسی ہے اور وہ 'حبل اللّٰہ' ہے۔

اسے تھامنے کے لیے اپنے ہاتھ بالکل خالی کرنے پڑتے ہیں۔ اگر پہلے سے ہاتھ میں کچھ ہو گا تو اس رسّی پر گرفت اسی قدر کمزور ہوتی چلی جائے گی اور اس رسی کے چھوٹنے کا خدشہ بڑھ جائے گا اور اتحاد اسی صورت میں ممکن ہے جب سب لوگ اپنی اپنی رسیاں اور اپنے ہاتھ میں پکڑی ہوئی چیزیں چھوڑ کر، انہیں توڑ کر صرف اس رسّی کو تھام لیں گے۔ جو اس رسی سے منسلک ہو گیا وہ اتحاد کا داعی ہے اور امن کا خوگر ہے، جو اس سے وابستہ نہیں ہوا وہ لاکھ کہے مگر وہ اپنے دعوے میں سچا نہیں ہو گا۔ حدیث مبارکہ میں قرآنِ مجید کو واضح طور پر اللّٰہ کی رسی قرار دیا گیا ہے۔9

جو مسلمان اسے تھامے ہوئے ہیں، وہ دنیا کے کسی بھی خطے میں ہوں اور کسی بھی رنگ ونسل سے تعلق رکھتے ہوں وہ متحد سمجھے جائیں گے، خواہ ان پر کوئی لیبل نہ بھی لگا ہو، اس کے برعکس ظاہری طور پر ایک ہی جماعت سے منسلک لوگ اگر 'حبل اللّٰہ ' کو نہیں تھامتے تو قرآن کی رو سے وہ متحد نہیں ہیں بلکہ 'مفترق' (بکھرے ہوئے) ہیں۔

اس سے یہ بھی پتہ چلا کہ اتحاد برائے اتحاد کوئی شرعی تقاضا نہیں، کہ کسی بھی نظریاتی وحدت کے بغیر برائے نام اتحاد کرلیا جائے، بلکہ اس اتحاد کا ایک مرکزومحور ہے جو قرآن وسنت ، اللّٰہ کی شریعت، اور حبل اللّٰہ یعنی اللّٰہ کی رسی ہے۔اور یہی بات قرآن مجید اور نبی کریمﷺ نے فرمائی ہے جیسا کہ ﴿وَاعْتَصِمُوْا بحَبْلِ اللهِ﴾ سے واضح ہے۔

3. وہی شرعی اتحاد کہلائے گا جس میں «مَا أَنَا عَلَيْهِ وَأَصْحَابِي»9 کے ضابطے کا خیال رکھا جائے گا۔

4. سابقہ قوموں میں اختلاف اس وقت رونما ہوا جب اُنہیں علم سے نوازاگیا۔ اللّٰہ نے فرمایا: ﴿وَمَا تَفَرَّقُوْۤا اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَهُمُ الْعِلْمُ ﴾

''اور وہ آپس میں جدا جدا نہیں ہوئے مگر اس کےبعد جب ان کے پاس علم آ گیا۔''

ہونا تویہ چاہیے تھا کہ علم کی وجہ سے اختلاف وافتراق ختم ہو مگر راستے سے ہٹی قوموں نے اسے ہی افتراق و انتشار کا باعث بنا لیا اور اُمتِ مسلمہ بھی ان کی پیروی میں کسی سے کم نہیں۔گویا خود ساختہ ، انسانی نظریات مفادات کے سانچوں کے ڈھلے ہوتے ہیں، ان کی بنا پر کبھی حقیقی اتحاد نہیں ہوسکتا۔

5. قرآن مجید میں باہمی افتراق اور فرقہ بندی کے لیے 'تفرق' کا مادہ استعمال ہوا ہے جس کے معنیٰ ہیں جان بوجھ کر جدا جدا ہونا،جدا ہونے کے لیے کوشش کرنا،دلائل تلاش کرنا،عصبیت کو ابھارنا اور مختلف فیہ امور کو ہوا دینا۔ مگر آپﷺ کے سامنے جب بھی کوئی ایسی بات آئی جس میں گروہ بندی کا یا باہمی اختلاف کا خدشہ تھا تو آپﷺ نے سختی سے منع فرمایا۔ پیچھے گزر چکا ہے کہ سیدنا عبد اللّٰہ بن مسعودؓ نے کسی شخص سے قراءت سنی تو وہ اس سے مختلف تھی جو آپﷺ سے عبد اللّٰہ بن مسعودؓ نے خود سنی تھی۔ عبد اللّٰہ بن مسعودؓ نے اس شخص کو آپﷺ کی خدمت میں لے آئے۔ کہتے ہیں کہ میں نے یہ معاملہ آپ کے گوش گزار کیا تو آپ کے چہرہ انور پر ناپسندیدگی کے آثار نمایاں ہونے لگے اور فرمانے لگے:

«كِلَا كُمَا مُحْسِنٌ وَلَا تَخْتَلِفُوْا فَإِنَّ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمُ اخْتَلَفُوْا فَهَلَكُوْا»10

''تم دونوں ہی ٹھیک پڑھ رہے ہو اور آپس میں اختلاف نہ کیا کرو کیونکہ تم سے پہلے لوگوں نے بھی باہمی اختلاف کیا تو وہ ہلاکت سے دوچار ہو گے۔''

یہ تو الفاظ کا فرق تھا اور دونوں قراءتیں آپﷺ ہی نے پڑھائی تھیں، پھر بھی اس قدر متنبہ فرمایا تو کیا خیال ہے جو مفہوم کے فرق سے آپس میں جدا جدا ہو جاتے ہیں اور اسے ہوا دیتے ہیں اور نفرتوں کے بیج بوتے ہیں۔

6. آپ احادیث پڑھ چکے ہیں کہ نبی ﷺ نے صحابہ کرام کو وقتی طور پر بھی علیحدہ علیحدہ بیٹھنے کو مناسب نہیں سمجھا۔ ایک ہی مسجد ہے،ایک ہی ذہن کے لوگ ہیں اور ایک ہی عمل کو اختیار کرنے والے ہیں۔ درمیان میں کوئی دیوار نہیں کھڑی کی،ایک دوسرے کے خلاف محاذ آرائی نہیں ہے۔ نہ دلائل کا تبادلہ نہ مناظرے کا خیال، نہ مجادلہ کی کیفیت...!!!

لیکن آپﷺ نے فرمایا: «مَالِيْ أَرَاكُمْ عِزِيْنَ»11 ''مجھے کیا ہے کہ میں تمہیں بکھرا ہوا دیکھ رہا ہوں۔'' ہمارا فسادِ فکر ونظر یہ ہے کہ افتراق وانتشار پیدا کرنے والی ہر چیز کو سرفہرست رکھ کر اسے ہی عین اسلام سمجھا جانے لگا ہے۔

7. جب قرآن مجید کے بیان کردہ اتحاد واتفاق اور اخوت کے مفہوم میں دلوں کا ملنا ضروری ہے تو پھر دل سے متعلقہ تمام معاملات کا متفق ہونا ضروری ہے۔ مثلاً دل ایک ہے تو فکر بھی ایک ہو، سوچ بھی ایک ہو۔ یہ کوئی ایسا جمگھٹا یا ظاہری اکٹھ نہ ہو کہ لوگ تو ایک جگہ جمع نظر آئیں مگر افکار ونظریات ایک دوسرے کے مخالف ہوں۔قرآن مجید میں اللّٰہ تعالیٰ نے دوسری اقوام کے ذکر میں فرمایا ہے: ﴿بَأسُهُم بَينَهُم شَديدٌ ۚ تَحسَبُهُم جَميعًا وَقُلوبُهُم شَتّىٰ... ﴿١٤﴾... سورة الحشر

''انکی آپس میں شدید لڑائی ہے۔ آپ انہیں اکٹھا سمجھتے ہیں، جبکہ ان کے دل مختلف ہیں۔''

قرآنِ مجید بالکل عیاں طور پر ایسی جمعیت یا پلیٹ فارم کی نفی کر رہا ہے جو محض جسموں کو جمع کرنے کے لیے وجود میں آئے جبکہ ان کی فکر جدا جدا ہو۔

8. یہ دوریاں اورگروہ بندیاں بلاشبہ نبی کریمﷺ کی شدید ناراضی کا سبب اورشیطان کی طرف سے ہیں۔

9. گروہ بندی یا تفرقہ بازی کرنے والا وہ ہے جو صحیح اسلام سے ہٹ کر کوئی نیا تصور دیتا ہے اور نئی جماعت اور نیا پلیٹ فارم بناتا ہے۔ جو بغیر کسی لیبل کے اصل اسلام کو اپنائے ہوئے ہے، وہ گروہ بندی میں نہیں آتا۔اور اصل اسلام کی وضاحت گزشتہ احادیث میں گزر چکی ہے کہ جو نبی کریمﷺ اور صحابہ کرامؓ کے راستے پر گامزن ہیں، وہی الجماعۃ اورجماعتِ ناجیہ ہیں۔

بہت سے لوگ ایک خاص نقطہ نظر کے حامل اور خاص طریقے سے عمل کرنے والے ہوتے ہیں مگر وہ اپنے طور پر بڑے خوش ہوتے ہیں کہ ہم کسی گروہ میں نہیں۔ایسی سوچ ان کے راہ حق پر ہونے کی دلیل نہیں ہے، بلکہ جادہ حق ، کتاب وسنت کی اتباع ہی ہے۔

10.  فرقہ بندی عموماً دینی معاملات میں سامنے آتی ہے، اس لیے دین میں افتراق کو ناجائز کہا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ قطعاً نہیں کہ سیاسی وسماجی سطح پر جتنے مرضی گروہ بنا لیے جائیں۔ آپﷺ نے مسلمانوں کو چند لمحوں کے لیے بھی علیحدہ بیٹھنے کو نامناسب سمجھا ہے۔تاہم مختلف مقاصد کے لیے مختلف افراد متوجہ ویکسو ہوکر سماجی جدوجہد کرسکتے ہیں، اور ایسی تحریکوں کا باہمی تعلق ایک دوسرے کی تائید اور محبت واپنائیت کا ہونا چاہیے، وہ سب اللّٰہ کے راستے کے راہی اور حبل اللّٰہ سے منسلک ہیں، باہمی افتراق اور تعصّبات پراُنہیں کسی طور گامزن ہونے سے بچنا ہوگا۔

11. مسلمانوں کا باہمی تعلق محبت اخوت سے سرشار ہو۔ یہ نہ ہو کہ ایک طرف اتحاد بین المسلمین کے نعرے ہوں اور دوسری طرف اغیار کے ساتھ مل کر مسلمانوں کی بیخ کنی کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہوں۔اس رویے کو اہل اسلام کی دینی قیادت کے ساتھ ساتھ سیاسی قیادت یعنی حکمرانوں کو بھی اختیار کرنا ہوگا۔کہ وہ ملکوں کے نام پر ملت اسلامیہ کے مفادات کی بجائے اپنے اپنے مفادات کے اسیر بن جائیں اور اس طرح افتراق کو قائم کردیں، تو یہ رویے بھی سراسر غلط ہیں۔

12. افتراق کا زیادہ تر باعث باہمی عناد، ضد اورہٹ دھرمی بنتی ہے، مسلمان کو ہردم اپنی اصلاح کے لئے آمادہ ہونا چاہیے۔کسی کے پاس حق پر ہونے کی اس کے سوا کوئی دلیل نہیں کہ وہ قرآن وسنت پر قائم اور عمل پیرا ہو۔

13. اتحاد واتفاق اللّٰہ کی نعمت ہے، اسکے حصول کے تقاضے پوری یکسوئی سے پورے کرنے چاہئیں۔

اتحاد کے ثمرات

یہ وہ شرعی اتحاد ہے جس کے فوائد وثمرات حسبِ ذیل ہیں:

1. مسلمان کامل متحد ہوں تو ان کے خلاف کفار سازشیں ناکام ہوتی ہیں۔

2. اللّٰہ کی رحمت برستی اور برکت بسیرا کر لیتی ہے۔

3. مسلمان ایک طاقت بن جاتے ہیں جن کا مقابلہ کرنا کسی کے بس میں نہیں رہتا۔

4. اتحاد کی حقیقی کاوش کرنے سے ایک مسلمان ایک وقت میں بہت سی آیات اور احادیث پر عمل کر رہا ہوتا ہے۔ جس کا اجر اسے یقینی طور پر ملے گا، اسی طرح وہ قرآن وسنت کی مخالفت سے بھی بچ جاتا ہے۔

5. مسلمانوں کی ہر قسم کی صلاحیتیں اپنوں کے بجائے بیگانوں کے خلاف استعمال ہوتی ہیں۔

6. مسلم معاشرہ ایک مثالی معاشرہ بن جاتا ہے۔ امن وآشتی کی ہوائیں چلتی ہیں اور پیار ومحبت کی فضا قائم ہوتی ہے۔

7. مسلمان ایک دوسرے کے دست وبازو بن جاتے ہیں۔

8. ایثار کے جذبات پیدا ہوتے ہیں۔

اللّٰہ تعالیٰ ہم کو صحیح اسلامی اتحاد کے لیے کوششیں کرنے اور اس کے ثمرات سے فائدہ اٹھانے کی توفیق دے۔ آمین!

حوالہ جات

1. صحیح مسلم:2890

2. صحيح مسلم: حدیث نمبر 240، باب وجوب ايمان اہل الكتاب برسالۃ الاسلام

3. صحیح بخاری: 3289

4. صحیح مسلم: 1000

5. صحیح مسلم: 430

6. سنن ابی داؤد:2628

7. سنن ابی داؤد:4597

8. جامع ترمذی: 2641 ، باب ماجاء فی افتراق الامۃ قال الالبانی: حسن

9. صحیح مسلم: 2408

10. جامع ترمذی: 2641 ، باب ماجاء فی افتراق الامۃ قال الالبانی: حسن

11. صحیح بخاری: 3289

12. صحیح مسلم: 430