کی تقسیم اور بعض اعجازی پہلو

قرآنی سورتوں کی ابتدا میں جو الفاظ آئےہیں ، اُنہیں اصطلاح میں 'فواتح السُّوَر' کہا جاتا ہے۔ اگر ان افتتاحی کلمات کی نوعیت اور حقیقت پر غور کیا جائے تو انکی دس اقسام بن جاتی ہیں جو حسب ِذیل ہیں:

1. وہ سورتیں جن کا آغاز اللّٰہ تعالیٰ کی حمد وثنا سے ہوتا ہے۔

2. وہ جن کے شروع میں حروف تہجی (یا حروفِ مقطعات) وارد ہوئے ہیں۔

3. وہ جن کی ابتدا حروفِ ندا سے ہوئی ہے۔

4. وہ جو جملہ خبریہ سے شروع ہوتی ہیں۔

5. وہ جن کا آغاز قسم سے ہوا ہے۔

6. وہ جن کے شروع میں حروف شرط إذَا آیا ہے۔

7. وہ جن کی ابتدا فعل امر سے ہوئی ہے۔

8. وہ جو کسی حرفِ استفہام سے شروع ہوتی ہیں۔

9. وہ جس کا آغاز لِـَ (لام تعلیل یا لامِ تعجب) سے ہوا ہے۔

اب ان سب کی تفصیل بیان کی جاتی ہے:

1۔ وہ سورتیں جن کا آغاز اللّٰہ تعالیٰ کی حمدوثنا سے ہوتا ہے

جن سورتوں کی ابتدا اللّٰہ تعالیٰ کی حمد وثنا اور تسبیح وتنزیہ سے ہوتی ہے، ان کی تعداد چودہ(14)ہے: الفاتحہ، الانعام، بنی اسرائیل، الکہف، الفرقان، سبا، فاطر، الحدید، الحشر، الصّف، الجمعہ، التغابن، الملک، الاعلیٰ

مذکورہ سورتوں کے آغاز میں یہ خاص حکمت نمایاں طور پر نظر آتی ہے کہ ان میں سے نصف تعداد یعنی سات سورتوں میں اللّٰہ تعالیٰ کی صفات کا ایجابی اور اثباتی پہلو موجود ہے اور باقی سات میں سلبی اور تنزیہی صفاتِ الٰہیہ کاذکر ہے۔ پہلی قسم کی سات سورتیں وہ ہیں جو "الحمد لله" يا "تبارك" کے الفاظ سے شروع ہوتی ہیں اور ان میں اللّٰہ تعالیٰ کی صفات کو مثبت انداز میں پیش کیا گیا ہے کہ اللّٰہ سبحانہ کی ذات حمد وثنا کے لائق ہے، یا یہ کہ وہ بابرکت ہے۔

الف) "الحمد لله" سے شروع ہونے والی سورتیں یہ ہیں:

1۔ الفاتحہ: ﴿الحَمدُ لِلَّـهِ رَ‌بِّ العـٰلَمينَ ﴿٢﴾... سورة الفاتحة

2۔ الانعام: ﴿الحَمدُ لِلَّـهِ الَّذى خَلَقَ السَّمـٰوٰتِ وَالأَر‌ضَ...١﴾... سورة الانعام

3۔ الکہف: ﴿الحَمدُ لِلَّـهِ الَّذى أَنزَلَ عَلىٰ عَبدِهِ الكِت...﴿١﴾... سورة الكهف

4۔ سبا: ﴿الحَمدُ لِلَّـهِ الَّذى لَهُ ما فِى السَّمـٰوٰتِ وَما فِى الأَر‌ضِ ...﴿١﴾... سورةسبا

5۔ فاطر: ﴿الحَمدُ لِلَّـهِ فاطِرِ‌ السَّمـٰوٰتِ وَالأَر‌ضِ...١﴾... سورة فاطر

ب) لفظ تبارك سے دو سورتوں کا آغاز ہوتا ہے:

1۔ الفرقان: ﴿تَبارَ‌كَ الَّذى نَزَّلَ الفُر‌قانَ عَلىٰ عَبدِهِ...﴿١﴾... سورة الفرقان

2۔ الملک: ﴿تَبـٰرَ‌كَ الَّذى بِيَدِهِ المُلكُ ...﴿١﴾... سورةالملك

دوسری قسم کی سات سورتیں جن میں صفاتِ الٰہیہ کا سلبی وتنزیہی پہلو ظاہر ہوا ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ ہر عیب ونقص سے پاک ہے۔ وہ لفظ سُبْحٰن (مصدر)، سَبَّحَ(فعل ماضی) یُسَبِّحُ (فعل مضارع) اور سَبِّحْ(فعل امر) سے شروع ہوتی ہیں:

1۔ لفظ سُبْحٰن سے سورۃ بنی اسرائیل کا آغاز ہوا ہے: ﴿سُبحـٰنَ الَّذى أَسر‌ىٰ بِعَبدِهِ...١﴾... سورة الإسراء

سَبَّحَ(فعل ماضی) سے تین سورتوں: الحدید، الحشر اور الصّف کی ابتدا ہوتی ہے۔ ﴿سَبَّحَ لِلّٰهِ مَا فِي السَّمٰوٰتِ ﴾ کے الفاظ سے مذکورہ تینوں سورتوں کا آغاز ہوا ہے۔

يُسَبِّحُ (فعل مضارع) سے دو سورتیں: الجمعہ اور التغابن شروع ہوتی ہیں۔ ﴿يُسَبِّحُ لِلّٰهِ﴾ کے الفا ظ کے ساتھ۔

سَبِّحْ (فعل امر) سے ایک ہی سورت الاعلیٰ کا آغاز یوں ہوتا ہے: ﴿سَبِّحِ اسمَ رَ‌بِّكَ الأَعلَى ﴿١﴾... سورةالاعليٰ" پھر مذکورہ سورتوں کی اس الہامی ترتیب میں یہ خاص حکمت پوشیدہ ہے کہ پہلے لفظ سُبحٰن استعمال ہوا جو کہ مصدر ہے اور اصل شے ہے، پھر سَبَّحَ کا فعل ماضی آ گیا، پھر يُسَبِّحُ کافعل مضارع اور آخر میں سَبِّحْ کا فعل امر مستعمل ہوا۔ گویا اس ترتیب نے ہر اعتبار اور ہر جہت سے بلکہ زمان ومکان کے ہر لمحے اور گوشے میں صفاتِ الٰہیہ کا سلبی اور تنزیہی پہلو اُجاگر کر دیا ہے۔ کلامِ الٰہی کا یہی وہ اعجاز ہے جس کے آگے انسانی کلام کی فصاحت وبلاغت سرنگوں ہے۔

2۔ وہ سورتیں جن کے شروع میں حروفِ تہجی (یا حروفِ مقطعات) آئے ہیں

جن سورتوں کے آغاز میں حروفِ تہجی یا حروفِ مقطعات آئے ہیں، ان کی تعداد اُنتیس ہے اور ان کی تفصیل یہ ہے:

حروفِ تہجی یا حروف مقطعات وہ سورتیں جن کی ابتداء میں یہ وارد ہوئے

الم البقرۃ، آل عمران، العنکبوت، الروم، لقمان، السجدة

المص الاعراف

الر یونس، ہود، یوسف، ابراہیم، الرعد، الحجر

طٰهٰ طہٰ

طٰس النمل

طسم الشعراء، القصص

حم المؤمن، حم السجدہ (فصلت)، الزخرف، الدخان، الجاثیہ، الاحقاف

حم عسق الشوریٰ

ق ق

ن القلم

ص ص

یس یس

كهيعص مریم

اس طرح کل انتیس (29) سورتوں کے شروع میں تیرہ (13) قسم کے حروفِ مقطعات وارد ہوئے ہیں اور اگر ان میں مکرّر حروف کو الگ کر دیا جائے تو کل چودہ (14) حروف مستعمل ہوئے ہیں جن کا مجموعہ یہ ہے: نص حکیم قاطع له سر.

ان حروف مقطعات پر اور جن سورتوں کے آغاز میں یہ آئے ہیں ان پر غور کیا جائے تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ہر سورت جس کے آغاز میں یہ حروف آئے ہیں ان کے بعد قرآن مجید کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔ جیسے سورۃ البقرۃ کا آغاز : ﴿الم ﴿١﴾ ذٰلِكَ الكِتـٰبُ لا رَ‌يبَ ۛ فيهِ...٢﴾... سورةالبقرة" اسی طرح سورۃ آل عمران کا آغاز: ﴿الم ﴿١﴾ اللَّـهُ لا إِلـٰهَ إِلّا هُوَ الحَىُّ القَيّومُ ﴿٢﴾ نَزَّلَ عَلَيكَ الكِتـٰبَ بِالحَقِّ...٣﴾... سورة آل عمران" اور: ﴿طه ﴿١﴾ ما أَنزَلنا عَلَيكَ القُر‌ءانَ لِتَشقىٰ ﴿٢﴾... سورة طه"اور ان حروف مقطعات کے بعد قرآن مجید کا ذکر یہ بتاتا ہے کہ یہ قرآن مجید انہی حروف سے مل کر بنتا ہے۔ یہ حروف تمہارے ہاں بھی موجود ہیں مگر تم انہیں جوڑ کر قرآن مجید جیسا نمونہ نہیں لا سکتے اور قرآن مجید نے جن سورتوں میں اپنی جیسی کوئی سورت یا دس سورتیں لانے کا چیلنج دیا ہے وہ وہی سورتیں ہیں جن کا آغاز حروف مقطعات سے ہوتا ہے، یعنی سورۃ البقرۃ اور سورہ ہود۔

3۔ وہ سورتیں جن کی ابتدا حرفِ ندا سے ہوتی ہے

جن سورتوں کا آغاز حرفِ ندا "يا أيّها" سے ہوتا ہے، ان کی تعداد دس(10)ہے:

الف: ﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا ﴾ سے تین (3) سورتیں شروع ہوئی ہیں:

1۔المائدۃ: ﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اَوْفُوْا بِالْعُقُوْدِ ﴾

2۔ الحجرات: ﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تُقَدِّمُوْا بَيْنَ يَدَيِ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ ﴾

3۔ الممتحنہ: ﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْا عَدُوِّيْ وَ عَدُوَّكُمْ اَوْلِيَآءَ ﴾

ب: ﴿ يٰۤاَيُّهَا النَّبِيُّ ﴾ سے بھی تین (3) سورتوں کا آغاز ہوا ہے:

1۔ الاحزاب: ﴿ يٰۤاَيُّهَا النَّبِيُّ اتَّقِ اللّٰهَ وَ لَا تُطِعِ الْكٰفِرِيْنَ وَ الْمُنٰفِقِيْنَ﴾

2۔الطّلاق: ﴿ يٰۤاَيُّهَا النَّبِيُّ اِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ ﴾

3۔ التحریم: ﴿ يٰۤاَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَاۤ اَحَلَّ اللّٰهُ لَكَ﴾

ج: ﴿ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ ﴾ کے الفاظ سے دو (2) سورتیں شروع ہوتی ہیں:

1۔ النساء: ﴿ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمُ الَّذِيْ خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ ﴾

2۔ الحج: ﴿ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمْ١ۚ ﴾

د۔ ایک سورۃ المزمل کا آغاز ﴿ يٰۤاَيُّهَا الْمُزَّمِّلُۙ﴾ سے ہوا ہے۔

ھ۔ ایک سورۃ المدثر کی ابتدا﴿يٰۤاَيُّهَا الْمُدَّثِّرُۙ﴾ سے ہوئی ہے۔

4۔ وہ سورتیں جو جملہ خبریہ سے شروع ہوتی ہیں

جن سورتوں کی ابتدا کسی جملہ خبریہ سے ہوئی ہے وہ تعداد میں تئیس (23) ہیں:

1۔ الانفال: ﴿ يَسْـَٔلُوْنَكَ عَنِ الْاَنْفَالِ﴾

2۔ التوبہ: ﴿ بَرَآءَةٌ مِّنَ اللّٰهِ ﴾

3۔ النحل: ﴿ اَتٰۤى اَمْرُ اللّٰهِ فَلَا تَسْتَعْجِلُوْهُ۠﴾

4۔ الانبیاء: ﴿ اِقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُهُمْ ﴾

5۔المؤمنون: ﴿ قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَۙ﴾

6۔النور: ﴿ سُوْرَةٌ اَنْزَلْنٰهَا وَ فَرَضْنٰهَا ﴾

7۔الزمر: ﴿ تَنْزِيْلُ الْكِتٰبِ ﴾

8۔محمد: ﴿ اَلَّذِيْنَ كَفَرُوْا ﴾

9۔الفتح: ﴿ اِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِيْنًاۙ﴾

10۔القمر: ﴿ اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَ انْشَقَّ الْقَمَرُ﴾

11۔الرحمٰن: ﴿ اَلرَّحْمٰنُۙ﴾

12۔المجادلۃ: ﴿ قَدْ سَمِعَ اللّٰهُ قَوْلَ الَّتِيْ ﴾

13۔الحاقۃ: ﴿ اَلْحَآقَّةُۙ﴾

14۔ المعارج: ﴿ سَاَلَ سَآىِٕلٌۢ بِعَذَابٍ وَّاقِعٍۙ﴾

15۔ نوح: ﴿ اِنَّاۤ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰى قَوْمِهٖۤ ﴾

16۔ القيامۃ: ﴿ لَاۤ اُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيٰمَةِۙ﴾

17۔ البلد: ﴿ لَاۤ اُقْسِمُ بِهٰذَا الْبَلَدِۙ﴾

18۔ عبس: ﴿ عَبَسَ وَ تَوَلّٰۤىۙ﴾

19۔ القدر: ﴿ اِنَّاۤ اَنْزَلْنٰهُ فِيْ لَيْلَةِ الْقَدْرِۚۖ﴾

20۔ البينۃ: ﴿ لَمْ يَكُنِ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ ﴾

21۔ القارعۃ: ﴿ اَلْقَارِعَةُۙ﴾

22۔ التکاثر:﴿ اَلْهٰىكُمُ التَّكَاثُرُۙ﴾

23۔ الکوثر: ﴿ اِنَّاۤ اَعْطَيْنٰكَ الْكَوْثَرَ﴾

5۔ وہ سورتیں جن کا آغاز قسم سے ہوا ہے

جن سورتوں کا آغاز قسم سے ہوا ہے، ان کی تعداد پندرہ (15) ہے:

1۔ الصافات: ﴿ وَ الصّٰٓفّٰتِ صَفًّاۙ﴾

2۔ الذاریات: ﴿ وَ الذّٰرِيٰتِ ذَرْوًاۙ﴾

3۔الطور:﴿ وَ الطُّوْرِۙ﴾

4۔النجم: ﴿ وَ النَّجْمِ اِذَا هَوٰى ۙ﴾

5۔ المرسلات:﴿ وَ الْمُرْسَلٰتِ عُرْفًاۙ﴾

6۔ النازعات: ﴿ وَ النّٰزِعٰتِ غَرْقًاۙ﴾

7۔ البروج: ﴿ وَ السَّمَآءِ ذَاتِ الْبُرُوْجِۙ﴾

8۔ الطارق: ﴿ وَ السَّمَآءِ وَ الطَّارِقِۙ﴾

9۔ الفجر: ﴿ وَ الْفَجْرِۙ﴾

10۔ الشمس: ﴿ وَ الشَّمْسِ وَ ضُحٰىهَا﴾

11۔ اللیل: ﴿ وَ الَّيْلِ اِذَا يَغْشٰى ۙ﴾

12۔ الضحیٰ: ﴿ وَ الضُّحٰىۙ﴾

13۔ التین: ﴿ وَ التِّيْنِ وَ الزَّيْتُوْنِۙ﴾

14۔ العادیات: ﴿ وَ الْعٰدِيٰتِ ضَبْحًاۙ﴾

15۔ العصر: ﴿ وَ الْعَصْرِۙ﴾

6۔ وہ سورتیں جن کی ابتدا حرفِ شرط 'اذا' سے ہوئی ہے

حرفِ شرط اذا سے شروع ہونے والی کل سات(7) سورتیں ہیں:

1۔ الواقعہ: ﴿ اِذَا وَقَعَتِ الْوَاقِعَةُۙ﴾

2۔ المنافقون: ﴿ اِذَا جَآءَكَ الْمُنٰفِقُوْنَ ﴾

3۔ التکویر: ﴿ اِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ﴾

4۔ الانفطار: ﴿ اِذَا السَّمَآءُ انْفَطَرَتْۙ﴾

5۔ الانشقاق: ﴿ اِذَا السَّمَآءُ انْشَقَّتْۙ﴾

6۔ الزلزال: ﴿ اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ زِلْزَالَهَاۙ﴾

7۔ النصر: ﴿ اِذَا جَآءَ نَصْرُ اللّٰهِ وَ الْفَتْحُۙ﴾

7۔ ایسی سورتیں جو فعل امر سے شروع ہوتی ہیں

جو سورتیں فعل امر سے شروع ہوتی ہیں، تعداد میں چھ (6) ہیں:

1۔ الجن: ﴿ قُلْ اُوْحِيَ ﴾

2۔ العلق: ﴿ اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَۚ﴾

3۔ الکافرون: ﴿ قُلْ يٰۤاَيُّهَا الْكٰفِرُوْنَۙ﴾

4۔ الاخلاص: ﴿ قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌۚ﴾

5۔ الفلق: ﴿ قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِۙ﴾

6۔ الناس: ﴿ قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِۙ﴾

8۔ وہ سورتیں جو کسی حرف استفہام سے شروع ہوتی ہیں

حرفِ استفہام (سوالیہ حروف) سے شروع ہونے والی سورتوں کی تعداد بھی چھ (6) ہے:

1۔ الدهر: ﴿ هَلْ اَتٰى عَلَى الْاِنْسَانِ ﴾

2۔ النبا: ﴿ عَمَّ يَتَسَآءَلُوْنَ۠ۚ﴾

3۔ الغاشيۃ: ﴿ هَلْ اَتٰىكَ حَدِيْثُ الْغَاشِيَة﴾

4۔ الانشراح: ﴿ اَلَمْ نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَۙ﴾

5۔ الفيل: ﴿ اَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِاَصْحٰبِ الْفِيْلِ﴾

6۔ الماعون: ﴿ اَرَءَيْتَ الَّذِيْ يُكَذِّبُ بِالدِّيْنِ﴾

9۔ جن سورتوں کی ابتدا میں کوئی بد دعا آئی ہے

ایسی سورتوں کی تعداد تین (3) ہے:

1۔ المطفّفین: ﴿ وَيْلٌ لِّلْمُطَفِّفِيْنَۙ﴾

2۔ الہمزہ: ﴿ وَيْلٌ لِّكُلِّ هُمَزَةٍ لُّمَزَةِۙ﴾

3۔ اللہب: ﴿ تَبَّتْ يَدَاۤ اَبِيْ لَهَبٍ وَّ تَبَّ﴾

10۔ وہ سورت جس کا آغاز 'لِ' یعنی حرف تعلیل یا لام تعجب سے ہوا ہے:

یہ سورہ قریش ہے جو ﴿ لِاِيْلٰفِ قُرَيْشٍ﴾ سے شروع ہوتی ہے۔

الغرض! قرآن مجید کی تمام سورتیں جن کی تعداد ایک سو چودہ (114) ہے، اپنے افتتاحی کلمات (فواتح السور) کے اعتبار سے دس (10) اقسام میں منقسم ہو جاتی ہیں۔ البتہ قرآنی سورتوں کی اس تقسیم میں کچھ ترمیم ممکن ہے۔ مثلاً یہ دعا کے الفاظ سے شروع ہونے والی سورتوں کو بھی جملہ خبریہ والی قسم میں شمار کیا جا سکتا ہے۔ اسی طرح اللّٰہ تعالیٰ کی حمد وثنا والی قسم کو بھی جملہ خبریہ والی قسم کے تحت لایا جا سکتا ہے، سوائے' سَبِّحْ' یعنی فعل امر سے شروع ہونے والی سورت کے۔ اس کے علاوہ سبحان کو جو فعل امر بھی ہو سکتا ہے اور خبر بھی ہو سکتی ہے کو فعل امر والی قسم میں یا جملہ خبریہ والی قسم میں شمار کیا جا سکتا ہے۔