''مین حلفا ً بیان کرتا ہوکہ میں نے اس عورت (مونیکا ) کے ساتھ جنسی تعلق قائم نہیں کیا۔ میں نے کبھی کسی کو جھوٹ کے لئے نہیں کہا ،کبھی نہیں ۔یہ میرے خلاف جھوٹا الزام ہے ،جس کا مقصد میری ساکھ کو نقصان پہنچا نا ہے''سی این جی پر(27جنوری ) امریکی صدر بِل کلنٹن کو جب راقم نے تفتیشی کے سامنے یہ الفاظ بے حد خشو خضو سےادا کرتے سنا تو دنیا کے طاقتور ترین شخص کی اس بے بسی اور لا چارگی پر افسوس اور امریکی سماج کی منافقت پر مبنی اخلاق قدرو ں کے دو ہرے معیارات پر سخت تعجب ہوا ۔ وہ امریکی معاشرہ جہا ں جنسی بے را ہردی کو''مذہب'' کا درجہ حاصل ہے وہاں ریاست کا سر براہ محض اس بناء پر کی دہلیز پر پہنچا ہوا ہے کہ اس کے بعض ماہ جبنیوں کے ساتھ جنسی روابط رہے ہیں ۔مشرقی اخلاقی قدروں اور اسلامی معاشرت پر یقین رکھنے والوں کو امریکہ کی سر زمین پر قدم رکھنے کے فوراً بعد ہی جس پریشان کن کا مشاہدہ کرنا پرتا ہے،وہامریکی نو جوان جوڑوں کی عین ائر پورٹ پر بوس وکنا ر کےطویل رائونڈ میں مصروف ہونی کی حرکت ہے ۔بعض امریکہ پلٹ احباب سے سن کر تعجب ہواہے کہ یسے ''محبت '' کرنے والے جوڑوں کو گھور کر دیکھنا وہاں ''غیر اخلاقی'' سمجھا جات اہے امریکہ جہا ں کےساحلوں پر مادر پد آزاد ننگے خواتین و حضرات کی خوب'' رونق '' لگی رہتی ہے،وہاں کے صدرِ مملکت کو عدالتی کٹہرے میں ملزم کی حیثیت سے کھڑے ہو کر مبینہ جنسی جرائم کے بارے میں اپنی صفائی پیش کرنا بادئ المن'ظر میں بے حد مضحکہ خیز اور سماجی منافقت کی بد ترین مثال کہا جا سکتا ہے۔جنسی شہوت رانیوں کو ''انسانی حقوق '' کا درجہ دینے والی مغربی تہذیب فکری تضادات کاعجب کباڑ خانہ ہے۔مغربی معاشرے میں جو پذیر ائی فرائڈکی جنسی جبلتوں کو بھرپور اظہار کا مو قع دینے کی ''تعلیمات ''کو ملی ہے وہ کسی بھی عمرانی یا سیاسی مفکر کو نصیب نہیں ہوئی ۔امریکہ دانشور 1960ءکے عشرےکو ''جنسی انقلاب '' کا عشرہ کہتے ہیں ۔جس کےدوران شرم و حیاء شائستگی اور دو شیزگی محض"" اضافی قدروں '' کی صورت اختیار کر گئیں ۔

مغربی تہذیب کی سب سے بڑی خامی یہ ہے کہ اسکی کھوکلی عمارت کی بنیاد جن نظریات پر اٹھائی گئی،وہ انسانی فطر ت سے قطعاً مطابقت نہیں رکھتے ۔فرائڈ کا ۔لیکن ہر چیز کی کوئی حد ہوتی ہے۔امریکی مردوں میں جنسی راہ روی کے بڑھتے رجان نے وہا ں کے راست فکر افراد کو سخت تشویش میں مبتلا کر دیا ہے ۔ ان مسائل پر بحث و تمحیص ہو رہی ہے ،مضامین و کتب لکھی جا رہی ہیں ۔امریکہ مصنف رابرٹ وائٹ کی اس مو ضو ع پر لکھی جانے والی کتاب ''اخلاقی حیوان ''(Moral Animal )کو بے پناہ پذیر ائی ملی ہے۔1995ءکے آخری مہینوں میں یہ کتا ب منظر عام پر آئی تھی ، اب تک اس کے متعد ایڈیشن شائع ہو چکے ہیں ۔رابرٹ وائٹ نے امریکی معاشرے میں جنسی بے راہ روی خطر ناک رجحان کا انسانی جبلت ک تقاضوں کی روشنی میں جائزہ لیا ہے ۔امریکی مردوں کی طرف سے عورتوں میں جنسی حملوں میں اضافے کے رجحان اور ان میں جابجا تخم ریزی کے شرم ناک رویے کی بنیادی وجہ ،اس کے خیال میں ''یک زوجی ''(Monogamy )ہے اس کا حل وہ یہ تجویز کرتا ہے کہ ''امریکی مردوں کو ایک سے زیادہ بیوی کھنے کی اجا زت دے دی جائے ''اس کی کتاب کا بنیادی نقطہ یہ ہے کہ ''بے وفائی inidelty))مردوں کی سر شت (Genes) میں شامل ہے ''رابرٹ وائٹ کی کتاب کو امریکی ذرائع ابلاغ اور پریس نے بے حد احمیت دی ۔اگست 1994ءمیں ہفت روزہ ''ٹائم '' نے اسے ''ٹائٹل سٹوری ''کے طور پر چھاپا ۔مغرب کے دانشور اسلام کو اس بنیادی پر شدید تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں کہ اس میں کثرت ِ ازواج کی اجازت ہے ۔آج تباہی کے کنارے پر پہنچی مغربی تہذیب کے بعض دانش ور تہذیبی امراض کا علاج وہی تجویز کر رہے ہیں ،جو اسلامی تعلیمات کے عین مطابق ہے۔ ان شاءاللہ انے والے دور ہر شعبے میں اسلامی تعلیمات کی حقانیت کو باطل پرستوں پر واضح و منکشف کرے گا ۔ضرورت اس بات کی ہے کہ مغرب تعصب کی عینک اتارا کر اسلامی نظام کا مطالعہ کرے تو اس عالمگیر مذہب کی صد ا قت کو محسوس کرنا بہت مشکل نہیں ہے۔

اخبار ی رپوٹر کے مطابق امریکی صدر بل کلنٹن اپنے ''گناہوں کا بوجھ ''کم کرنے کے لئے چرچ پر حاضری بھی دے آئے ہیں ،وہاں انہیں پادری صاحب کی طرف سے بھی سر زنش اور لعن طعن سننے کی محفت کو گزرنا پڑا ۔مسیحی علم نے انہیں یہ کہہ کر شرممندہ کیا کہ''طبقہ اشرافیہ ''سے تعلیق رکھنے والے ایک شخص کے متعلق ایسی ''اطلاعات'' کا پھیلنا بے حد شرم ناک ہے ،اسے یہ ہر گز یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ غیر عورتوں سے جنسی تعلقات قائم کرے'' ۔پادری صاحب کے بیان سےظاہر ہوتا ہے کہ ان کے ہاں ''عوام ''اور ''خواص کے لئے شخصی طہارت کے الگ الگ معیارت ہیں ۔جو بات ایک عام امریکی کے لئے قابل فرد گزاشت ہے وہی بات امریکی کے لئے نا قابل معانی ہے ۔امریکی آئین کے مطابق ریاست کے تمام شہری بلا ا متیاز رنگ و نسل و علا قہ ''مساومی ''حثیت رکھتے ہیں قانون کی نگاہ میں سب سے برابر ہیں کیو نکہ وہاں قانون کی حاکمیت مسلمہ ہے ۔لیکن امریکی قانون ''جنسی بے راہ ردی '' کے جرم کا اطلاق محض وائٹ ہائوس تک ہی کرتا ہے ۔دیگر علاقوں اور طبقات کے اس کے نفاذ سے گویا چھوٹ عطا کی گئی ہے۔امریکی معاشرہ تو دو ہرے معیارات پر عمل کرت ہے لیکن اسلام عوام و خواص کی اس تفریح کو قبول کرتا ۔اس کے جرم و سزا کے قوانین چھوٹے بڑے سب پر لاگو ہو تے ہیں ۔پیغبر اسلام ﷺ واضح علان فرماتے ہیں :خدا کی قسم میری بیٹی فاطمہ رضی اللہ عنہا بھی چوری کی مرتکب تو اس کا بھی ہاتھ کاٹ دیتا ''صدر کلن نے کسی ''نرالے جرم ''کا ارتکاب نہیں کیا ۔امریکی قوم کے جد امجد جارج واشنگٹن سے لے کر رونالڈریگن تک جتنے بھی قبل ذکر امریکی صدر گزرے ہیں ،ان کے معاشقوں کی داستانیں اور ماہ جبینوں سے خصوصی تعلقات کے قصے امریکی پریس بے حد مزےلے لے کر بیان کر رہا ہے ۔امریکی صدر میں سے ایک صاحب تو واقعی ''امامالعاشقین''کے اعزاز کے مستحق ہیں ،جو ایک برفانی رات میں محبوب کے وصال کے لئے وائٹ ہائوس سے پیدل چل کر محبوب کے درِ اُلفت پر حاضری دینے میں تو کامیاب ہوگئے لیکن واپسی پر نمونیہ کا شکار ہو کر جان ہار بیٹھے اور ''شہیدِ محبت ''کے مرتبے پر فائز ہوئے ۔دراصل کلنٹن او ر اس کے بھرے دلوں کے مالک پیش روئو ں کے حالات میں فرق پیدا ہو گیا ہے۔ اس سے پہلے امریکی پریس اس قدر ''تماش بین '' نہیں تھا ،اور نہ ہی وائٹ ہائوس کے جلوئو ں سے مستفید ہونے والی عورتوں میں وہ حوصلہ تھا کہ وہ امر یکی صدر سے جنسی تعلقات کا بر سرعام کر سکیں ۔'' آزاد ئ نسواں ''کے علم بر دار کے لئے یہ امر ''خوش ائندہ ہو نا چاہئے ،کہ دنیا کے طاقتور ترین مرد کو ناکو ں چنے چبوا سکتی ہیں ۔

امریکی قوم بھی عجب قوم ہے ۔یہ اپنے صدر کے متعلق کسی غیر عورت سے میل ملا پ کی خبر سن کر اس قدر شور و غوغا اور طوفان کھڑا کر دیتی ہے کہ اس کے ذرائع ابلاغ اور اخبارات میں اس خبر کے علاوہ کچھ او نہیں چھپتا ۔ایک بظاہر معمولی سے مسلے پر اس قدر شدید عمل کا اظہار کیا جاتا ہے ۔ لیکن یہی قوم انسانیت کی تباہی پر منتج ہونے والی امریکی صدر کے سفاکانہ احکامات کو ''قوی مفاد ''سمجھ کر نظر انداز کر یتی ہے۔ وہ امریکہ قوم جو آج صدر کلنٹن کو مواخذے کی تہریک لانے کا مطالبہ محض اس لئے کر رہی ہے کہ اس پر الزام ہے کہ اس نے 24 سالہ مونیکا کو جھوٹ بولنے کےلئے آمادہ کیا تھا ، جنگ عظیم کے دوران ہیرو شیما اور ناگا ساکی پر بم گرا کر انہیں ہولناک تباہی سے دو چار کرنے کو اس نے نہ تو ''انسانیت کے خلاف جرم ''قرار دیا تھا اور نہ ہی اس وقت کے امریکی صدر کے مواخذ ے کا مطالبہ داغا گیا تھا ۔ایک امریکی صدر کےحکم پر امریکی جارح افواج ویت نام میں لاکھوں بے گناہ شہریوں کو دس سال تک ہلاک کرتی رہیں ،اس سارے عرصے کے دوران امریکہ صدر بھی قائم رہے اور ان کا ضمیر بھی ''ذندہ '' رہا خلیج کی جنگ فرد واحدصدام حسین کے مز عومہ جرم کی سزا عراق کے لاکھوں نہتے عوام کو دی گئی ۔دودھ پیتے بچوں پر بم گرائے گئے ،شہری آبادیوں کو وحشانیہبمباری کا نشانہ بنایا گیا ،اج تک عراقی عوام اور بے گناہ شہریوں پر خوراک کے دروازے بند کر کے انہیں فاقوں پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ لیکن امریکی قوم کا ضمیر کسی خلش میں مبتلا ہوا،نہ امریکی صدر کے دل پر کسی کا بوجھ کا نزول ہوا ۔امریکہ اور عراق کا مقابلہ ایک ہاتھی اور بلی کے مقبلہ کے برابر ہے۔لیکن عراق جیسے چھوٹے سے ملک کا بھرکس نکال کر جس طرح'' جشن فتح '' منایا گیا وہ امریکی قوم کی مریضانہ اَنا پرستی کا واضح ثبوت ہے۔دنیا جہاں کےممالک کے خلاف انسانی حقوق کا پامالی کا بد ترین مظاہرہ کیا جا رہا ہے ۔امریکی صدر بے گناہ عراقی عوام کو خوفناک جنگ میں جھونکنے کی رعونت سے بھرپوردھمکی دو درہے ہیں ''، شرفِ انسانی '' کے تحفظ کے دعیدار ایک قوم کی اجتماعی تذیلی بے حد دھڑلے سے کر رہے ہیں ، امریکی پریس کلنٹن کو درس انسانیت نہین دیتا اور نہ ہی انسانی قتل و غارت کے منصوبوں پر مواخذے کی تحریک کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔امریکی صدر پر الزام ہے کہ انہوں نے آوارہ اور بدقماش لڑکی کو جنسی ہر اس کا نشانہ بنایا ہے ۔ادھر بو سنیا میں ظالم سربوں نے پوری قوم کو ''نسلی صفائی کے عذاب میں مبتلا کر دیا ہے ۔میں زندگی بھر بو سنیا کی اس مظلوم و مجبور مسلمان کڑکی کی اس دل دہلادینے والی فریاد کو نہیں بھول سکوں گا م،جس نے بوسنیا کا دورہ کرنے والے مسلمان ملک کے وفد کے مسلم ارکان سے مسلم ممالک کی بے حسی کا گلہ یوں کیا تھا '' اگر ہمارے مسلمان بھائی اس قدر مجبور ہیں کہ ہماری مدد کو نہیں آسکتے ،تو انہیں کم ازکم ہمیں ''کنڈوم ''تو ضرور بھجوانے چاہئیں تاکہ ہم ناجائز حمل اٹھانے کی ذلت سے تو بچ سکیں ''ایسی مظلومعوتوں کے حقوق کے تحفظ کےلئےآزاد نسواں کے علمبر دار کیوں بیدار نہیں ہوتا ۔امریکی قوم آخر دوہرے معیارت کا شکار کیوں ہے؟''انسانی حقوق ''کے امتیاز ی تصور سے باہر وہ کب نکلے گی ؟

پاکستان میں ایک طبقہ جو امریکی تہذیب کو آئیڈیل سمجھتا ہے،کلنٹن کے خلاف سیکںسکینڈل منظر عام پر آنے کے بعد یہ کہتے ہوئےبھی سنا گیا ہے ''ہم سے تو امریکی اچھے ہیں کہ وہ کم از اکم اپنی قیدت کو تو باکر دار دیکہ نا چاہتے ہیں''وہ ذرا گہرائی میں جا کے دیکھیں تو انہیں اندازہ ہو گا کہ یہ سب اممریکی پریس کی شغل بازی اور جنون خیزی ہے اس میں سنجیدہ احتساب کو ذرا بھر دخل نہیں ہے ۔امریکی پریس پر یہودیوں کا غلبہ ہے ،وہ ذرائع ابلاغ کی قوت کے ذریعے امریکی حکومت پر دبائو ڈالتے رہتے ہیں ۔27جنوری 1998ء کو جن خطرات سے سی این این پر صدر بل کلنٹن کو اپنی صفائے دیتے دیکھا ہے،وہ ذرائع ابلاغ کے اس پاگل پن کو بخوبی سمجھ چکے ہیں ،ہر دو منٹ کے بعد اس ''شاٹ'' کو بدل بدل کر مختلف زادیوں سے وہ کھا رہے تھے ۔ایسی خبروں کے تکرار کا مقصد لوگوں میں ''جنوں''پیدا کرنے کے علاوہ کچھ نہیں ہوتا ۔گذشتہ کئی برسوں سے بل کلنٹن کی جنسی بے اعتدالیوں کے واقعات خبروں کا مر کز بنےرہے ہیں ۔لیکن اب جس طرح سیکس سکینڈل کو اچھالا جا رہا ہے ۔اس کے پس پشت یہودی لابی کی سازش کا ر فر ما نظر آتی ہے ۔مان لیا یہ ایک بڑی خبر ہے ،لیکن ''ٹائم ''اور''نیوز ویک ''پورے شمارے کو اسی ''سکینڈل ''سے بھر دینے کا کوئی جواز نہیں ہے''کلنٹن سکینڈل''کو ایسے وقت میں ''فوکس''میں لایا گیا ہے جب ا مر یکی صدر نے اسرائیلی وزیر اعظم کی با ت ماننے سے انکار کر دیا ہے۔اسی کئے جو لوگ اس ''سیکنڈل''کی کڑیاں یہوسی سازش سے ملاتے ہیں ،ان کے خدشات بے جا نہیں ہیں ۔

دوہرے معیا رات اور پیچیدہ سیاسی افکار کی حامل امریکی قوم کی تاریخ میں اب تک صر ف ایک صدر اینڈریو جانسن کے کلاف 1868ء میں تحریک مواخذہ پیس کی گئی تھیں جو سینٹ میں صرف ایک ووٹ سے ناکام ہو گئی تھی ۔اور صدرجانسن نے اپنی صدارتی مدت پوری کی تھی ۔1974ء میں صدر چرڈنکسن تحریک مواخذہ پیش ہونے سے پہلے ہی مستعفی ہو گئے تھے ۔صدرکلنٹن یہودی لابی کے اس وار سے بچ نکلنے میں کامیاب ہو گئے یا نہیں ؟اس کا فیصلہ تو چند روز میں ہو جائے گا ۔لیکن بہر حال امریکی معاشرے کے دوغلے پن اور تہذیب مغرب کی دورخی تو مسلم ٹھہری ہے اور اسلام کی عظمت اورآفا قیت نے ایک بار پھر دنیا کو چیلنج کر دیا ہے۔
قلب ِمومن ہے گلستانِ حدیث
اللہ اللہ عظمت و شان ِ حدیث
جاری و ساری ہے فیضان
قول و فرمان رسول ِمحترم
کیوں نہ پھر ہو جائیں قربان ِ حدیث
جس سے قرآن کا ملا فہم وشعور
اے خوشا وہ دہستان ِ حدیث
اس نے سمجھائےہیں قرآن کے رموز
یہ حقیقت میں ہے احسان ِ حدیث
نورِقرآن سے ہے مومن مُستنیر
قلب مومنن ہے گلستانِ حدیث