میرے پسندیدہ۔۔

اس صفحہ کو پسند کرنے کے لیے لاگ ان کریں۔

(ایک جائز تجارتی سکیم )


اسلام دین رحمت ہے اس نے زندگی کے تمام شعبوں کے لیے ایسے اصول وضوابط مقرر کیے ہیں کہ اگر ان پر عمل کیے جائے تو مسلمان زندگی کی دوڑمیں کبھی بھی پیچھے نہیںرہ سکتے۔ تجارت زندگی کا اہم ترین اور بہت با عزت پیشہ ہے،حضور اکرم ﷺ نے اور صحابہ اکرام نے پیشہ ء تجارت اپنایا اور ہمارے لیے بہترین نمونہ چھوڑا ،گویا تجارت مسلمانوں کی میراث ہے اور ہمیں اس میدان میں سب سے آگے ہونا چاہئے۔تجارت کے جواز اور اہمیت کے ساتھ ساتھ اسلام نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ نا جائز ذرائع سے دولت قطعاًنہ کمائی جائے،بلکہ ناجائز ذرائع سے کمائی ہوئی دولت کو حرام ،سُحت اور کسب ِخبیث فرمایا ہے ،چنانچہ چوری ، غصب ،رہزنی ،سود، قمار بازی ، ذخیرہ اندوزی ،کم تولنا گویا کمائی کی ہر ضررساں صورت کو حرام قرار دیا ہے ،ربوٰکو اسلئےحرام قرار دیا ہے کہ اس میں ایک فریق کو بلا کسی معاوضہ کے فائدہ اور دوسرے نقصان پہنچتا ہے اور اس کےمقا بلہ میں صرف ایسی تجارتی سکیمیں یا کارو با رجس میں ہر دو طرف کے افراد کو نفع یا نقصان میں شریک ہوں ،کو جائز قررا دیا ہے ۔اسلام کے اقتصاد ی نظام میں مشترکہ سرمایہ وار کمپنیوں کی بہت اہمیت ہے ۔امام الانبیاء ولمرسلین کے دور میں شراکتی کاروبار بہت مقبول تھے ،آپ نے شراکت ہی کے ذریعہ بے روزگار مہاجرین کو کاروبار پر لگایا تھا ،چنانچہ جب انصار نے مہاجرین سے کہا کہ محنت اپنے زمہ لو اور ہم میوے میں شریک کر لیںگے تو مہاجرین نے کہا کہ ہم نے مانا (۱)فقہی اصطلاح میں اگر شراکت زراعت کے متعلق ہو تو اسے مزار عت کہتے ہیں اور درختوں اور گلاب وغیرہ کی کیاریوں سے متعلق ہو تو اسے ''مساقاة''(۲)

سرکة العقود ۔۔۔اسلامی تعلیمات کی روشنی میں ایسی سرمایہ کاری یا تجارتی کاروبار جس میں دو یس دو سے زیادہ افراد مل کر سرمایہ فرہام کرتے ہیں اور نفع و نقصان میں باہم شریک ہوتے ہیں تو اسے ''شرکہ''العقود''کے نام سے یاد کیا جاتا ہے،یعنی ایسی شراکت جو معاہدہ کے ذیعہ عمل میں آتی ہے گویا اسے ہم partnership of contrect''''بھی کہ سکتے ہیں ۔

یہ تجارتی کاروبار دنیا کے دیگر حصوں کی طرح قبل ازاسلام بھی عربوں میں رائج تھا ،طلوعِ سلام کے بعد اسے برقرار رکھا گیا (۳)،اور رسول اکرم ﷺ کو بعد سے آج تک لوگ شرکت کے ذریعہ کاروبار کرتے آئےہیں (۴)کیوں کہ کسی بڑی تجارتی مہم کو سر انجام دینا کسی ایک فرد کا کام نہیں چنانچہ افراد مشترکہ سرمایہ اور محنت کے ساتھ اس مہم کو سر کرنے کا ارادہ کرتے ہیں ۔تمام علاءاسلام ایسی شرکت کے جواز کے قائل ہیں جس میں ہر ایک شریک دوسرے شریک ہی کی طرح اس قسم کا مال یعنی درہم دینار کا روبار پر لگا دیتا ہے اور انہیں اس طرح خلط ملط کر دیتا ہے کہ وہ مل کر ایک ہی مال بن جاتے ہیں او ر تمیز باقی نہیں رہتی کہ کس کامال فروخت ہوا اور کس کا مال سے تجارت کا سامان خریدا گیا ،اگر نفع میں حصہ رسدی ملتا ہےاگر نقصان ہو تو سب نقصان میں شریک ہوتے ہیں ۔(۵)

شراکت کی شرائط

۔۔شراکت کی شرائط درج ذیل ہیں:

۱۔شرکت ایک معاہدہ ہے لہٰذہ اس کے لیے ایجاب وقبول لازمی ہے(۶)۔ب۔معاہدہ شرکت درہم ،دینار اور رائج الوقت سکہ سے منعقد ہوتا ہے(۷)،لیکن امام ابو حنیفہ او ر قاضی ابو یوسف کی رائے یہ ہے کہ صرف دینار (سونے کے سکے )اوردرہم (چاندی کے سکے )سے ہی شرکت کا معاہدہو سکتا ہے،تانبے کے سکہ (فلوس)سے نہیں ہوتا ،کیونکہ ان کی قیمت ہر وقت بدلتی رہتی ہے اور ان کی نوعیت دوسرے سامان کی مثل ہو جاتی ہے(۸)۔ج۔اگر مال اشیاءکی شراکت کی شکل میں ہو تو شراکت کا کاروبار شروع کرنے سے پہلے اس کی قیمت کا تعین زر کی صورت میں ہونا ضروری ہے یا ایک شریک اپنا نصف مال دوسرے کے نصف سے تبادلہ کر لے اور اس طرح سامان ہی کو سرمایا قررا دیا جائے تو اس میں کوئی عذر باقی نہیں رہتا اور نہ مالیت کے متعلق جھگڑا ہو سکتا ہے۔

دستا ویز کی تحریر

۔شمس الائمہ علامہ سر خی شراکت کے معاہدے کے لیے دستاویز کا لکھا جانا ضروری قرار دیتے ہیں،شرکت ایک ایسا معاہدہ ہے جو ایک مدت تک جاری رہتا ہے لٰہذا اس کےلئے دستاویز کا لکھا جانا ضراوری ہے تاکہ کبھی جھگڑا ہوا جائے تا اس دستاویز کے ذیریعہ فیصلہ کیا جا سکتےاللہ تعالےخود ارشاد فرماتا ہے:

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا تَدَايَنتُم بِدَيْنٍ إِلَىٰ أَجَلٍ مُّسَمًّى فَاكْتُبُوهُ...٢٨٢﴾... سورة البقرة

''اے مسلمانوں !جب ایک مدت کے لئے قرض لو تو اس کو لکھ لیا کرو ''

نیزدستاویز کا مقصد تو ثیق اور احتیاط ہے،پس اس کے لئے ضراری اور لازمی ہے کہ دستاویز لکھی جا ئے تاکہ مستقبل میں کسی قسم کے جھگڑےاور شکوک و شبہات سے بچا جا سکے اور دستاویز کے الفاظ یو ہونے چاہیں :''هذاکتاب فیه ذکر ما اشترک علیه فالان وفلام''

''یہ وہ دستاویز ہے جس میں فلاں لاں شخص نے جو اشتراک کیا ہے اس کا تزکرہ ہے''۔ اسی طرح جب کبھی حضورﷺنے کوئی معاہدہ کیا تو با قاعدہ اس کو تحریر کیا ،جس طرح کہ آپ نے صلح حدیبیہ والے دن حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو صلح نامہ لکھنے کا حکم دیا کہ:''هذا ما اصطلح محمد بن عبدالله وسهیل بن عمرو علی اهل مکة''''یہ وہ صلح نامہ ہے جو محمد بن عبداللہ اور سہیل بن عمرو کے درمیان مکہ والوں کے لئے ہوا''دستاویز تحریر کرتے وقت اس میں سرمایہ کی مقدارکا ذکر کرنا بھی ضروری ہے تاکہ اس سے نفع کی مقدار معلوم ہو سکے اور بوقت ِنزاع اس کی طرف رجوع کیا جاسکے اور اس دستاویز میں یہ بھی تحریر کیا جا ئے کہ ''وذلک کلہ فی ایدیہعا''اور یہ سرمایایہ ان کے ہاتھ میں نقد مجود ہے''(۱۰)اور اسی طرح لکھنے سے اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ سر مایہ غائب نہیں ہے اور نہ قرض ہےبلکہ وہ زر ہے جو ان کے ہاتھ میں مجود ہے،پھر اس شرکت کی دستاویز میں ہر ایک کو ان کی مقدارِ سرمایہ کے مواقف جو نفع ملے گا اس کا تذکرہ کیا جائے نیز یہ بھی لکھا جائے کہ انہوں نے فلاں سال اور فالاح مہینے میں اشتراک کے تعین سے جھگڑے نہیں ہو پا تے اور نہ ہی ان میں سے کوئی ایک بات کا دعویٰ کر سکتا ہے کہ اس تاریخ سے پہلے اس نے مال خرید ا او ر اس میں اس کا حق ہے۔

شرکت کی اقسام

۔بلحاظ نوعیت اور سرما یہ فقہا ءِاسلام نے شرکت کی چار قسمیں بیان کی ہیں :

(۱)شرکةالمفاوضہ

(۲)شرکةالعنان

(۳)شرکةالصنائع

(۴)شرکةالوجوہ۔

ہر ایک کی وضاحت ذیل میں ملاحظہ فرمائیں :

شرکة المفاوضہ

دو یا دو سے زائد افراد مساوی سرمایہ کے ساتھ اور نفع و نقصان میں برابری کے اصول پر کسی کا روبارمیں شریک ہوں تو اسے شرکةالمفاوضہ کہتے ہیں (۱۱)۔شرکت کی اس قسم میں ہر شریک دوسرے کا وکیل بھی ہوتا ہے اور ضامن بھی ،کاروبار کے آغاز کےلئے ضروری ہے کہ سرکاءمالِ حاضر کے ساتھ شریک ہوں ،سٹاک یا واجب الوصل ثاثوںکے ساتھ شرکت المفاوضہ وجود میں نہیں آسکتی(۱۲)۔شرکة المفاوضہ میں کاروبار کا مالک کوئی بھی شریک رہن رکھ کر کاروبار کے لئے قرض لے سکتا ہے اور تما م کاروبار اس قرض کو ادا کرنے کا ذمہ دار ہوتا ہے اس طرح کوئی شریک مشترکہ کا روبارکا کوئی حصہ کسی بیرونی شخص کو مضاربت کے طور پر بھی دے سکتا یا پھر باہر سے کوئی سرمایہ اس اصول پر مشترکہ کا روبار کے لئے لے سکتا ہے ۔شرکةالمفاوضہ کی جملہ قسموں میں تما م شرکاءکو کاروبار چلانے کی مکمل آزادی ہوتی ہے ہر شریک کو امین تصور کیا جاتا ہے(۱۳)۔

شرکة العنان

شرکةالعنان میں دو یا دو سے زائد اشخاص غیر مساوی سرمایوں اورمساوی نفع و نقصان کی نسبتوں سے کاروبار کرنے کےلئے جمع ہو سکتے ہیں ۔اس میں ہر شریک دوسرے شریک کا وکیل ہوتا ہے ضامن نہیں ہوتا (۱۴)چنانچہ اگر ایک شریک دوسروے کی رضامندی کے بغیر کوئی ایسا عمل کرتا ہے جس سےکاروبار پر کوئی بوجھ آئے تو باقی شرکاءاس کے ذمہ دار نہ ہو ں گے۔ شرکة العنا ن میں چونکہ ہر شریک تو دوشرے کا وکیل تو ہوتا ہے کفیل نہیں ہوتا لٰہذا اگر کا روبار کے کسی واجب الوصول قرضے میں ایک شریک مہلت دے دیتا ہے یا کچھ چھوٹ دے دیتا ہے تو ودسروے شراکاءاس کے اس عمل میں بریَ الذمہ ہوں گے۔(دیکھیئےالسرخسی،المبسوط:۱۱ ۔ص۱۷۴)

شرکةالصنائع

اگر ہنر مندوں اور دستکاروں کا گروہ مل کر کاروبار اس طرح چلا نا چاہیں کہ لوگوں سے اپنے متعلقہ پیشہ کے سلسلہ میں کام لیا کریں اور جونفع ہو اسے باہم تقسیم کریں مثلاًدھوبیوںکا کوئی گروہ اگر چاہےتو واشنگ کمپنی بنا کر دھونے کے لئےلوگوں سے کپڑے لے سکتا ہے اور کمپنی کا جو نفع ہوگا وہ تقسیم ہوتا رہے گا ،اس کا دو سرانام شرکتِ تقبل یاشرکت ِااعمال اور شرکة''ابدان ہے''(۱۵)۔اس قسم کی شراکت میں شرکاء ایک دوسرے کے کفیل بھی ہوتے ہیں اور ضامن بھی ہوتے ہیں (۱۶)احناف کے نزدیک تو اس قسم میں اتنی وسعت ہے کہ دو مختلف پیشے یا ہنر والے جیسے درزی،رنگ ریز وغیرہ کا روبار

میں شرکت کرلیںاور اپنے اپنےپیشے کو مطابق کام کرکے نفع باہم بانٹ سکتے ہیں ،اسی طرح حنفی فقہاءنے بطور استحسان نہ شراکت بھی جائز قراردی کہ ایک آدمی دکان (سٹاک )وغیرہ کا مالک ہے ایک شخص کا ریگر ہے ،دونوں نفع و نقصان میں شریک ہیں تو یہ کا روبار جائزہے(دیکھیے:السر خسی،المبسوط:۱۱ ص۱۵۹)

شرکةالوجوہ

دو یا دو سے زائد افراد جو نہ کسی ہنر سے واقف ہوں اور نہ ان کےپاس سرمایہ ہو لیکن اپنی ساکھ اور اعتماد پر لوگوںسے مال لے کر باہمی کاروبار کر سکتے ہیں اور اس طریقے سے جو نفع ہو گا وہ آپس اور اعتماد پر لوگوں سے مال کر باہمی کا رو بار کر سکتے ہیں اور اس طریقے سے جو نفع ہو گا آپس میں بانٹ لیں گے ۔اسے شرکة''الوجوہ یا شرکة'' الناس کے نام سے تعبیر کیا جاتا ہے ۔۔(دیکھئےالسر خسی ،المبسوط ج۱۱ ص ۱۵۲)مذہبِ ما لکیہ کی مستند کتاب ''المدونہ''الکبریٰ''میںشراکتی کاروبار کی بہت سی مثالیں بیان کی ہیں ان میں سے چند ایک کا تذکرہ ذیل میں کیا جاتا ہے :

(۱)طبی شراکت۔

دو یا دو سے زائد ڈاکڑمل کر مشترکہ طور پر علاج معالجہ کے لئےدواخانہ قائم کر سکتے ہیں،مشترکہ سرمایہ سے ادویاتخرید کر ہسپتال چلا سکتے ہیں۔اخرجات کی کٹوتی کے بعد جو خالص آمدنی ہو اسے حسبِ تصفیہ باہم تقسیم کر لیں (۱۷)۔

(۲)تعلیمی شراکت ۔

طبی شراکت کی طرح دو یا دو سے زیادہ اساتذہ مل کر تعلیمی ادارے کھول کر آمدنی باہم تقسیم کرسکتے ہیں۔

(۳)مشترکہ کاشت ۔

امام مالک کے نذدیک مشترکہ سرمایہ سے مویشی ،آلات زراعت جیسے ٹریکٹر اور بیج وغیرہ خرید کر مشترکہ عمل سے زراعت کریں تو جائزہے(۱۸)۔

(۴)شراکتِ نقلو حمل(Transport Company)

دو یا دو سے زائد افراد مل کر نقل و حمل کی شراکت (ٹرانسپورٹ کمپنی )قائم کر سکتے ہیں (۱۹)اسی طرح مشترکہ سرمایہ سے بری ،بحری اور ہوائی کمپنیاں نقل و حمل کیلئے شراکتی کاروبار کیا جا سکتا ہے۔

انفساخِ شرکت ۔

درج ذیل صورتوں میں تمام قسم کے شرکتی کا روبار منسوخ ہو جائیں گے :(1)واضح ہونا چاہئے کہ ہر شریک کو شراکتی معاہدہ کے فسخ کا اختیار حاصل ہوتا ہے لٰہذا جب کو ئی شریک معاہدہ کو نسخ کرنے کا اختیاراستعمال کرتا ہے تو انفساخ تک جاری نہ ہوگا جب تک دیگر شرکاء کو اطلاع نہ دی جائے ۔(2)کسی شریک کے مرجانے پر معاہدئہ شراکت فسخ ہو جائیگا ۔ہاں اگر ورثاءچاہیں تو شریک کے معاہدے کی ازسرِتجدید کر سکتے ہیں ۔(3)اسی طرح اگر کوئی شریک مرتد ہو جاتا ہے تو بھی اس کا معاہدہ فسخ ہو جاتا ہے۔

ایک غلط فہمی کا ازالہ۔

یہ خیال انتہائی غلط ہے کہ مشترکہ سرمایہ دار کمپنیاں عہد جدید کی پیداوار ہیں بلکہ قدیم زمانہ سے اس کا رواج رہا ہے ۔زمانہ قبل اسلام میم میں بھی یہی رائج تھا چنانچہ عرب کے قدیم معاشی نظام کا اگر مطالعہ کریں تو پتہ چلتا ہے کہ قریش کے تجارتی قافلے مسترکہ سر مایہ سے چلتے تھے ۔البتہ عصرِ حاضر میں ان سے زیادا سے زیادہ فائدہ اٹھایا گیا اور متعلقہ قوانین میں وسعت اور لچک پیدا کی گئی ۔خلاصہ کلام ! اسلام کے نظام معشیت میں ہم نفع آور کارو بار جو اسلامی تعلیمات کی روشنی میں وہ جائز ہیں لیکن ساتھ ساتھ ہر ضررساں کارو بار اور بلخصوص ربا قطعی حرام ہے۔مساقاہ یا مزارعہ ،شرکہ ہو یا مضاربہ،سب اجتماع کاروبار کے دروازے اسلام کے نظام ِمعشیت میں کھلے ہیں ۔


حاشیہ جات

(۱)البخاری ،الجامعالصحیح،کتاب الشروط،باب الشروط فی المعالمہ:۳ / ۲۴۹ (۲)فقہ اور حدیث کی کتب میں شرکت کی طرح مزارعہ اور مساقہ سے علیدہ علیدہ باب پائے جاتے ہیں ۔

(۳)المر غنیانی،الہد ایہ ،کتاب الشرکہ،ج ۱۱ ،ص۱۵۱ ،مطبوعہ کراچی

(۴) السر خسی ،المبسوط،کتاب الشراکہ،ج۱۱،ص۱۵۱ ،مطبوع مکتبہ التجاریہ مکہ المکرمہ۔

(۵)ابن رشد ،بدایةالمتجہد،کتاب الشرکہ،ج۲ /ص۱۹۱،مطبوع المکتبہ العلمیہ لاہور

(۶)المر غیانی ،الہدایہ،کتاب الشرکہ ،ج۲ ۵۸۸/

(۷)ایضاً:ج۲ /ص ۵۹۱

(۸)ایضاً:ج۲ /ص ۵۹۱

(۹)سورةبقرہ :آیت۲۸۲

(۱۰)السر خسی ،''السر خسی ،''المسبوط''ص ۱۵۶

(۱۱)ایضا،ج ۱۱ /ص۱۵۲ ،المرغینانی :الہدایہ ،کتاب الشرکہ ،ج۲ / ص ۵۸۸ (۱۲)الکاسانی ،بد ائع :ج ۶ /ص۵۲ ،۶۰

(۱۳)السر خسی ،المبسو ط ،ج۱۱ /ص۱۵۷

(۱۴)ایضاً،ج۱۱ / ۱۷۴

(۱۵)الکاسانی ،بدائع الصنائع ،ج۶ /ص۵۶

(۱۶)السر خسی ،المبسوط ،ج۱۱ / ۱۵۵

(۱۷)امام مالک  بن انس ،المدونة الکبریٰ،جا۴ /ص۲۶ ،شرکةالاطباءوا المعلمین

(۱۸)المدونةالکبریٰ،ج۴ / ص۲۹ ،باب الشرکةفی الزرع

(۱۹) امام مالک﷫ المدونہ ،ج۴ /ص۲۷ ،شرکةالحمالین ۔