مولانا ابوبکر غزنوی کا شمار موجودہ دور کے ان علما اور دانشوروں میں ہوتا تھا جن کی نظر مسائل کےفطری پہلو کےساتھ عملی پہلو پر بھی ہوتی ہے اور جو دینی مصلحتوں سے آگاہ ہیں۔ہر چند اس دور میں علماء کی کمی نہیں اور جدید اصطلاحی دانشوروں کی قلت کا احساس بھی نہیں ہوتا لیکن ایسے حضرات کی ہمیشہ کمی رہی ہے اور اب تو قحط کی سی کیفیت ہے جو علم وفضل کے ساتھ نکتہ رس طبیعت بھی رکھتے ہوں اور ہربات کی تہہ تک پہنچ جانا ان کے لیے آسان ہو اللہ تعالیٰ نے سید موصوف کو جہاں علم وفضل اور کردار وعمل کی خوبیوں سے نواز تھا اور صاف ستھر اوراجلا ادبی ذوق بخشا تھا وہاں نکتہ رس طبیعت بھی عطا کی تھی جس کی بدولت وہ بہت جلد ایک خاص مقام بر فائز ہوگئے اور خدمت دین اورخدمت خلق کے جذبہ سے بیتاب رہنے لگے..... واحسرتا کہ ان کے فضل وکمال سے ملک وقوم نے استفادے کا آغاز ہی کیا تھا کہ ان کی شمع حیات لودے گئی اور اس دیار میں داعئی اجل نے ان کو آن پکارا جس کی دانش وتہذیب کے جلوے ان کی نگاہ کو کبھی خیرہ نہ کرسکے تھے اور جن کی مرعوبیت کو ختم کرنا انھوں نے اپنا مقصد حیات بنالیا تھا۔

پروفیسر موصوف برعظیم پاک وبھارت کے ایک ایسے گھرانے سے تعلق رکھتے تھے جو اپنےعلمی عملی اور اصلاحی کا رناموں کے بدولت منفر د جو ممتاز حیثیت رکھتا ہے اور جس کی دینی وسیاسی خدمات اس سرزمین میں مسلمانوں کے تاریخ کا ایک زریں باب ہیں۔اس خطہ ارضی میں ان کے مورث اعلی حضرت عبداللہ غزنوی اپنے علم وفضل اور زہد وتقوی کی وجہ سے وقت کے امام مانے جاتے تھے اور لوگ بلا امتیاز عقیدہ ومسلک کا احترام کرتے تھے۔ ان کے والد ماجد مولانا سید داؤد غزنوی کی عملی وسیاسی زندگی کا حال ظفر علی خان نے اپنے مخصوص انداز میں اس طرح بیان کیا ہے۔
قائم ہے ان سےملت بیضا کی آبرو
اسلام کاوقار ہیں داؤد غزنوی
رجعت پسند کہنے لگے ان کودیکھ کر
آیا ہے سومنات میں محمودغزنوی

پھر سب سے بڑھ کر سید ابوبکر غزنوی خود ایک ثقہ عالم دین تھےنکتہ رس طبیعت پائی تھی۔اور دین کےمزاج شناس تھے ۔ظاہر ہے جس شخص کی ذات میں اتنی خوبیاں جمع ہوجائیں۔ علم دین کے گھر انے میں ان کی پیدائش ہوئی ہو۔علم دین کے ماحول میں اس نے آنکھیں کھولی ہوں۔

علم دین کے زیر تربیت پروان چڑھا ہو اور پھر علم دین نے اپنی رفاقت وخدمت کے لیے اسے چن لیا ہوا اس کے فضل وکمال کا کیا عالم ہوگا اور کیسے کیسے نیک اور اعلیٰ جذبات اس کے نہان خانہ دل میں کرٹیں لیتے ہوں گے۔

مولانا سید غزنوی فطرتا علم دوست مطالعہ پسند اور کم آمیز قسم کےآدمی تھے۔جن لوگوں نے ان کا بچپن دیکھا ہے وہ جانتے ہیں کہ کتال ومطالعہ سے ان کا کتنا گہرا دلی تعلق تھا۔ابھی ان کا ابتدائی تعلیمی زمانہ ہی تھا کہ ان کا کتاب سے شغف اورمطالعہ کا شوق دیکھ کر یہ خیال پیدا ہوتا تھا۔
ابھی سےشوخیاں ان کی بلائیں لیتی ہیں
جو کمسنی ہے قیامت شباب کیا ہوگا!

چینیانوالی مسجد کا ماحول ہوتا تھااورسید ابوبکر غزنوی اور کتاب ہوتی تھی۔ اگرچہ وہ اردو فارسی اورانگریزی زبان پر بھی پوری دسترس رکھتے تھے اور ان زبانوں میں بھی انھیں اہل زبان کی سی مہارت حاصل تھی تاہم عربی زبان نے کئی وجوہ سے اپنی محبت کا اسیر اور اپنے دام وفا کا نچیر بنالیا تھا اور اس میں انھوں نے خاص قابلیت واستعداد بہم پہنچائی تھی۔بچپن ہی میں عربی سے ان کا ربط وعلاقہ کا یہ عالم تھا اہل زبان کواپنی زبان دانی سے متاثر کرنے اور دادو انعام پانے لگے تھے۔پھر جب انھوں نے پنجاب یونیورسٹی میں ایم اے عربی کا امتحان دیا توصوبہ بھر میں اول رہے۔اس طرح محبوب کائناتﷺ اور اپنے دین کے اصل ماخذ زبان سے محبت کا حق ادا کردیا۔

پروفیسر ابوبکر غزنوں نے اپنی تدریسی زندگی کا آغاز اسلامیہ کالج ریلوے روڈ میں عربی کے لیکچر کی حیثیت سے کیا۔اس کے تھوڑے ہی عرصے بعد اسلامیہ کالج سول لائنز کو ڈگری کالج کی حیثیت حاصل ہوگئی تو موصوف شعبہ عربی کے صدر بن وہاں منتقل ہوگئے ۔اس زمانے میں یونیورسٹی اورنٹیل کالج میں عربی کےخصوصی لیکچر بھی دیتےتھے۔ اس کے بعد جلد ہی انجینیرنگ یونیورسٹی لاہور نے اپنے دروازے ان کے کھول دیے اور شعبہ اسلامیات کے صدر کی حیثیت سے وہاں اٹھ گئے یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ انجینیرنگ یونیورسٹی میں ان کا تقرر سے پہلے بعض تعلیمی حلقوں میں یہ مسئلہ زیر بحث تھا کہ آیا فنی درسگاہوں میں اسلامی تعلیمات کا شعبہ ہونا چاہیے یا نہیں اور کچھ سرے سے اس کے مخالف تھے کہ کسی فنی درسگا ہ میں اسلامیات کاشعبہ کھولا جائے لیکن پروفیسر ابوبکر غزنوی نے ایک فنی درسگاہ کے طلبہ کےلیے اسلامیات کا ایسا نصاب مرتب کیا اور اس انداز سےپڑھائی شروع کی کہ تعلیمی حلقے حیران رہ گئے اور معلوم ہواکہ اسلامیات کامطالعہ فنی طالب علموں کےلیے بھی اسی قدر ضروری اور آسان ہے جس قدر آرٹس کے طلبا ء کے لیے ضروری اور سہل ہے ۔اس کے بعد بہالپور یونیورسٹی میں وائس چانسلر کے طور پر ان کا تقرر ہوا اور ابھی وہ یونیورسٹی کےاصلاح وترقی کے پرگراموں پر عمل کراہی رہےتھے اور یونیورسٹی کامعیار بلند ہورہا تھا کہ موت آگئی اور وہ اللہ کو عزیز ہوگئے۔

مولانا سید ابوبکر غزنوی ﷫ کی ذات متعدد اورصاف فاضلہ کامجوعہ تھی وسعت مطالعہ معلومات کی فروانی نے جہاں ان کے اندر صحت مند تنقید وتفریظ کا ملکہ راسخیہ پیدا کردیا تھاوہاں بعض مسائل میں اعتماد محقق کی طرح اپنی انفرادی رائے بھی رکھتے تھے۔وسعت مطالعہ کا یہ عالم تھا کہ ابھی ہیگل کا فلسفہ اور مارکس کی معاشیات پر گفتگو ہورہی ہے اور ایسے مضبوط دلائل کا ساتھ دوزنوں نظریات کی تردید کررہے ہیں کہ معقولات ومنقولات کا دفتر کھلا ہوا ہے اور معا تفسیر حدیث اور فقہ کےمسائل پر بولنے لگے ہیں اور ابن کثیر زمخشری اور رازی کےحوالے دے رہے ہیں اور امام احمد بن حنبل امام ابن تیمیہ اور شاہ والی اللہ کے ارشادات پیش کرہے ہیں اور اس کے ساتھے ہی اسلامیان ہند کی مذہبی معاشرتی اور سیاسی ومعاشی زندگی موضوع گفتگو بن رہی ہے اور شواہد کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں ۔سب سے بڑھ کر یہ کہ کوئی سنی سنائی بات نہیں ہورہی بلکہ گہرا مطالعہ ہے جو بول رہا ہے اور علم کی گرہیں کھول رہا ہے۔

آج کل ہمارے ہاں حدیث اورسیرت وتاریخ کے واقعات کے بیان میں جس طرح بے احتیاطی کامظاہرہ کیا جاتا ہے وہ انتہائی قابل افسوس ہے۔سیدابوبکر غزنوی اس بے احتیاطی اور اس کے نتائج سے کماحقہ آگاہ تھے اور جانتے تھے کہ اس لیے پس پردہ دشمنوں کی سفارش کار فرما ہے اسی لیے وہ جب کوئی حدیث بیان کرتے تو پوری تحقیق اور چھان بین کےبعد جب سیرت وتاریخ کوئی واقعہ ان کی زبان پر آتا پوری صحت اور تاریخی یقین کے ساتھے ادا ہوتا تھا۔

سید موصوف کے خاندان کا انفرادی اور امتیازی کارنامہ یہ ہے کہ انھوں نے بدعت وضلالت کے خلاف ایک محاذ قائم کیا اور اپنے علم وفضل اورکردار اورعمل سے دین خالص کی تبلیغ مجاہدانہ انداز سے کی۔فجزاهم الله احسن الجزاء

سيد ابوبكر غزنوي بھی اپنے خاندان روایت پر عمل روایت عمل پیرا رہے اور اسلام کے گہرے مطالعے کا تقاضا بھی ان سے یہی تھا لیکن انھوں نے اس سلسلہ میں جو طریق کار اختیار کیا اور وقتی تقاضوں کے تحت جس جادہ اعتدال پر گامزن رہے اسی کا نتیجہ تھا کہ ان کے انتقال کےبعد لوگ یہ سوچنے لگے کہ موصوف کیا مسلک رکھتے تھے اور مسلمانوں کے کی مکتب فکر کی رہنمائی کا فریضہ انجام دیتے تھے حالانکہ واقعہ یہ ہے کہ ان کی تقریروں اور تحریروں میں اگر محبت واخوت کی باتیں محبت واخوت کی داستانیں اور محبت واخوت کےمحاسن کابیان ہوتا تھا تو اس لیے نہیں کہ انھوں نے اپنے آبائی مسلک چھوڑ دیاتھا وہ اپنے عمیق اور گہرے اسلامی مطالعہ کے بعد حق سمجھتے تھے بلکہ یہ اس لیے تھا کہ مسلمانوں کی زبوں حالی اور نکبت وادبار کا علاج اس دور میں ان کے نزدیک یہی تھا کہ مسلما ن پھر سے محبت واخوت کے رشتے میں منسلک ہوجائیں اور لاتفرقو پر عمل پیرا ہوکر اتحاد وواتفاق کی دولت سے مالامال ہوجائیں وگرنہ جہاں تک ان کے مسلک کا تعلق تھا وہ ان کی تقریروں تحریروں اور ان کی گفتگو کے دوران دلائل وحوالہ جات سے دیکھا جاسکتا تھا کہ خدا تعالیٰ اور رسولﷺاور صحابہ کرام کے بعد کن لوگوں کو قابل استاذ سمجھتے تھے اور اپنی باتوں کو ان کے ارشادات وملفوظات سے آراستہ کرتے تھے۔امام احمد بن حنبل ﷫ امام ابن تیمیہ حافظ ابن قیم ﷫ علامہ ابن کثیر اور شاہ ولی اللہ وغیرہم حضرات کے علمی مباحث سے ان کا خصوصی تعلق تھا اور زیادہ تر مسائل انہیں حضرات کی کاوشوں سے متاثر تھے۔

سید ابوبکر غزنوی کے نمایاں اورصاف میں ایک نمایاں وصف تھا کہ تبلیغ اسلام کے سلسلہ میں نمود نمائش کو سخت ناپسند کرتے تھے اور ان اجر الاعلى الله

كی راہ پر گامزن رہنا ہی اسلام کی صحیح خدمت سمجھتے تھے۔علماء حق اور پاکستان کی کی ممتاز علمی شخصیتوں سے ان کو خصوصی محبت تھے اور ان کی محفل میں بیٹھنا اور مسائل شرعیہ کے سلسلے میں ان سے رابطہ رکھنا ان کے لیے باعث افتخار تھا۔علم ومطالعہ کی وسعت کے ساتھے اللہ تعالیٰ نے خود داری اوراعتماد کی دولت بے پایاں بھی ان کے لیے ارزاں کردی تھی۔چنانچہ جب وہ کسی مسئلے پر تقریر کرتے یا اسے حیطہ تحریر میں لاتے تویہ دونوں خوبیاں ظاہر ہوتیں اور ایسا محسوس ہوتا کہ بولنے یالکھنے کے ساتھ وہ بھی یہ کہہ رہے ہیں۔
مستندہے میرا فرمایا ہوا

پروفیسر سید ابوبکرغزنوی ایک ریسرچ سکالر ہونے کی حیثیت سے جلوت سے زیادہ خلوت پسند واقع ہوئے تھے لیکن جب جلوت میں ہوت تو علمی موتی بکھیرنا اور اہل محفل کی فکری وعملی اصلاح وتربیت کی طرف توجہ دینا ان کے پیش نظر ہتا تھا تاہم پیوست وخشکی کا سایہ بھی ان پر نہیں پڑا تھا۔شائستہ لطائف وظرائف سے محظوظ ہونا اور دوسرے کو مخطوظ کرنابھی انہیں خوب آتا تھالیکن ہلکی باتوں سے نفوذ رہتے تھے۔

سیدابوبکر غزنوی ایسےلطیف الطبع اور نفاست پسند واقع ہوئے تھےکہ ان کو دیکھ کر ان کی محفل میں بیٹھنے اور ان کی گفتگو سننے کاشوق پیدا ہوتا تھا۔اسلام نے جس اعلیٰ درجے کی طہارت وپاکیزگی کی تعلیم اپنے ماننے مالوں کو دی ہے موصوف اس کا عملی نمونہ تھے۔چنانچہ لندن میں حادثہ پیش آنے کے بعد وہ ہسپتال میں داخل ہوئے توسب سے زیادہ جس بات کی طرف ان کی توجہ رہی ہے وہ یہی طہارت وپاگیزگی ہے۔وفات سے کچھ عرصہ قبل انھوں نے اپنے اس ذہنی کرب اور دلی تکلیف کا اظہار بھی کیا تھا کہ وہ اس حالت میں طہارت وپاگیزگی کا وہ معیار قائم نہیں رکھ سکتے جس کے وہ عادی ہیں اور جسے قائم رکھنا ان کی نزدیک ازبس ضروری ہے۔

آج مولانا سید ابوبکر غزنوی بہ نفس نفیس ہم موجود نہیں اور حیات فانی کی دیوار پھلانگ گئے لیکن ان کے علمی وادبی کارنامےایک حد تک محفوظ ہیں جن سے بہت کچھ استفادہ کیا جاسکتا ہے اور قلب ونظر کو روشنی کا سامان بہم پہچایاجاسکتا ہے۔ وفات سے چند ماہ قبل انھوں نے اپنےوالد گرامی مولانا سید داؤد غزنوی پر سید ی دابی کے نام سے ایک مرتب کرکے شائع کی تھے ۔اس میں سیدی وابی کےعنوان س ان اپنامضمون علم وادب کے حسین امتزاج کا نمونہ ہے اس کے علاوہ ملکی اخبارات خصوصا نوائے وقت میں مختلف موضوعات پر ان کے شائع ہونے والے مضامین حال ہیں میں منعقد ہونے الی سیرت کانگرس میں مقالہ اورشام ہمدرد میں کی جانے والی تقریروں سےآج بھی بہت سے علمی وادبی جواہر حاصل کیے جاسکتے ہیں اور سید ابوبکر غزنوی کی سیرت وزندگی کی جھلکیاں دیکھی جاسکتی ہیں۔